غیر مسلم کے برتن میں کھانے پینے کی مشروط اجازت
وعن أبي ثعلبة الخشني قال : قلت : يا رسول الله إنا أهل سفر تمر اليهود والنصارى والمجوس فلا نجد غير آنيتهم قال : فإن لم تجدوا غيرها فاغسلوها بالماء ثم كلوا فيها واشربوا . رواه الترمذي
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ! ہم ( اکثر) سفر کرنے والے لوگوں میں سے ہیں، ہمارا گزر یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں ( کی آبادیوں) پر سے ( بھی) ہوتا ہے، اس وقت ان کے برتنوں کے علاوہ اور برتن ہمارے پاس نہیں ہوتے ( تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن دستیاب نہ ہوں تو ان کے برتنوں کو پانی سے دھو مانج لو اور پھر ان میں کھاؤ پیو۔ ( ترمذی )
تشریح
غیر مسلم کے برتن میں کھانے پینے کے سلسلے میں الفصل الاول میں بھی حدیث گزری ہے اور اس موقع پر اس مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
غیر مسلموں کے ہاں کا کھانا حلال ہے
وعن قبيصة بن هلب عن أبيه قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن طعام النصارى وفي رواية : سأله رجل فقال : إن من الطعام طعاما أتحرج منه فقال : لا يتخلجن في صدرك شيء ضارعت فيه النصرانية . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت قبیصہ ؓ بن ہلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عیسائیوں کے کھانوں کے بارے میں دریافت کیا ( کہ ہم لوگ کھائیں یا نہیں؟ ) اور ایک رویت میں یوں ہے کہ ( اس بارے میں) ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے مسئلہ پوچھا، چناچہ اس نے عرض کیا کہ کھانوں میں سے ایک کھانا ( یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کا کھانا) ایسا ہے جس سے میں پرہیز کرتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے دل میں کسی چیز یعنی شک و شبہ کی کھٹک نہ پیدا ہونی چاہئے، تم نے اپنے اس عمل کے ذریعہ عیسائیت کی مشابہت اختیار کی ہے۔ ( ترمذی ابوداؤد )
تشریح
تم نے اپنے اس عمل کے ذریعہ عیسائیت کی مشابہت اختیار کی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے سائل پر یہ واضح کیا کہ تمہارا عیسائیوں کے تیار کئے ہوئے کھانے سے پرہیز کرنا ایک ایسا عمل ہے جس نے تمہیں عیسائیوں کے مشابہ کردیا ہے کیونکہ یہ عیسائیوں ہی کا شیوہ ہے کہ انہوں نے کھانے پینے کے معاملہ میں اپنے اوپر بےجا پابندیاں عائد کرلی ہیں اور ان کے پادریوں نے دین میں سختی پیدا کردی ہے چناچہ اگر ان کے دل میں کسی بھی اچھے خاصے اور حلال کھانے کے بارے میں یہ کھٹک پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ حرام ہے یا مکروہ ہے تو وہ بلا سوچے سمجھے اس سے پرہیز کرنے لگتے ہیں۔ لہٰذا تم بلا دلیل شک و شبہ میں پڑ کر ان کے کھانے سے پرہیز نہ کرو، تم مسلمان ہو اور تمہارا دین نہایت سیدھا سادا اور آسان ہے اس میں سختی اور دشواری کا نام نہیں ہے، تمہیں اپنے عمل سے اپنے دین کی نرمی اور آسانی کو ظاہر کرنا چاہئے، اگر تم بلا تحقیق کسی کھانے کو حرام سمجھنے لگو گے تو یہ اپنے اوپر بےجا قسم کی پابندی عائد کرنے اور اپنے دین کو سخت ظاہر کرنے کے مرادف ہی نہیں ہوگا بلکہ عیسائیت کی مشابہت اختیار کرنے کے برابر بھی ہوگا۔ بعض حضرات نے حدیث کے آخری جزو کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ تمہارے دل میں کوئی خدشہ اس بات کا نہ گزرے کہ عیسائیوں کا کھانا کھانے سے تم ان کے مشابہ ہوگئے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کسی کھانے کو محض اس لئے اپنے اوپر حرام نہ کرلو کہ وہ کسی غیر مسلم کا تیار کیا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے اس غیر مسلم کی مشابہت لازم آئے گی کیونکہ کھانے پینے کی چیزوں میں کسی قوم کی مشابہت ضرر نہیں کرتی بشرطیکہ تشبیہ کی نیت نہ ہو۔ اس ارشاد گرامی میں عیسائیت کی تخصیص محض اس بنیاد پر ہے کہ سوال کرنے والے صحابی حضرت عدی بن حاتم ؓ تھے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے عیسائیت کے پیرو تھے۔ بہر حال! حدیث سے یہ واضح ہوا کہ جب تک کسی کھانے کی حرمت کا یقین نہ ہو محض شک کی وجہ سے اس سے پرہیز کرنا یا اس کو کھانے میں تردد کرنا مناسب نہیں ہے، غیر مسلم اقوام کی طرح اسلام میں کھانے پینے کا پرہیز نہیں ہے کہ ذرا کسی کا ہاتھ لگ گیا تو وہ کھانا چھوت ہوگیا، بلکہ مسلمانوں کو اجازت ہے کہ وہ ہر قوم کا پکا ہوا کھانا کھا سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ یقین نہ ہو کہ اس کھانے میں کوئی حرام چیز ملائی گئی ہے یا وہ نجس برتنوں میں پکایا گیا ہے۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی غیر مسلم کوئی حرام چیز پکائے مثلا غیر مذبوحہ گوشت یا مردار یا سؤر اور یا کھانے میں شراب ملائے تو اس کو بھی کھالیا جائے۔
وعن أبي الدرداء قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكل المجثمة وهي التي تصبر بالنبل . رواه الترمذي
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجثمہ کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اور مجثمہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کو باندھ کر نشانہ کی مانند کھڑا کیا جائے اور پھر اس پر تیر مارا جائے۔ ( ترمذی )
تشریح
روایت میں مجثمہ کی وضاحت کے لئے جو الفاظ منقول ہیں وہ کسی راوی کے ہیں۔ یہ جاہل اور بےرحم لوگ کیا کرتے ہیں، کہ بےزبان پرندوں اور جانوروں کو بانتدھ کر ان کو نشانہ بناتے ہیں، شریعت نے اس عمل سے بھی منع کیا ہے اور ایسے جانور کا گوشت کھانا بھی ممنوع قرار دیا ہے کیونکہ اس طرح قتل کئے جانے سے ذبح کا مقصد اور مفہوم حاصل نہیں ہوتا اور جب وہ جانور شرعی طور پر ذبیحہ نہیں ہوگا تو اس کا کھانا بھی حرام ہوگا۔
وہ جانور جن کا کھانا حرام ہے
وعن العرباض بن سارية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى يوم خيبر عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير وعن لحوم الحمر الأهلية وعن المجثمة وعن الخليسة وأن توطأ الحبالى حتى يضعن ما في بطونهن قال محمد بن يحيى : سئل أبو عاصم عن المجثمة فقال : أن ينصب الطير أو الشيء فيرمى وسئل عن الخليسة فقال : الذئب أو السبع يدركه الرجل فيأخذ منه فيموت في يده قبل أن يذكيها . رواه الترمذي
اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کے دن ان جانوروں کو کھانے سے منع فرمایا کچلی والا درندہ، پنجہ والا پرندہ، گھر کے پالتو گدھوں کا گوشت، مجثمہ اور خلیہ۔ نیز آپ نے ( جہاد میں پکڑی گئی) ان لونڈیوں سے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا جو حاملہ ہوں جب تک کہ وہ اس بچہ کو نہ جن لیں جو ان کے پیٹ میں ہے۔ حضرت محمد بن یحیٰی ( جو امام ترمذی کے شیخ و استاد ہیں اور حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ ( میرے شیخ و استاد) حضرت ابوعاصم سے مجثمہ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ( مجثمہ کا مطلب یہ ہے کہ) کسی پرندہ یا چرندہ کو ( باندھ کر) کھڑا کیا جائے اور پھر اس پر تیر مارا جائے۔ اسی طرح حضرت عاصم سے خلیہ کے معنی دریافت کئے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ( اس کا مطلب یہ ہے کہ) بھیڑیے یا کسی اور درندے نے کسی جانور کو پکڑ لیا ہو اور پھر کوئی شخص اس ( درندے) سے وہ جانور چھین لے اور وہ جانور ذبح کئے جانے سے پہلے ہی اس ( شخص) کے ہاتھ میں مرجائے۔ ( ترمذی )
تشریح
خیبر کے دن سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مذکورہ چیزوں کی ممانعت کا حکم اس سال جاری فرمایا جس میں خیبر فتح ہوا تھا، یا عین خیبر کی فتح کے وقت جاری فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جن دنوں میں خیبر میں جہاد جاری تھا انہی دنوں میں سے کسی ایک دن یہ حکم جاری فرمایا گیا۔ ذی ناب اس درندے کو کہتے ہیں جس کے کچلی یعنی نوکدار دانت ہوں اور اپنی کچلی کے ذریعہ ( جانور وغیرہ) کو پھاڑتا ہو جیسے شیر، بھیڑیا، چیتا، ریچھ، سؤر، لومڑی اور بجو وغیرہ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر لومڑی اور بجو درندوں میں شامل نہیں ہیں تو وہ حلال ہیں۔ ذی مخلب اس پرندے کو کہتے ہیں جو اپنے پنجے سے شکار کرتا ہے، جیسے باز، بحری شکرہ، چرغ، الو، چیل اور گدھ وغیرہ۔ گھر کے پالتو گدھوں سے مراد وہ گدھے ہیں جو بستی میں رہتے ہیں، چناچہ جنگلی گدھے کا گوشت حلال ہے، حدیث میں مذکورہ ممانعت سے پہلے پالتو گدھے کا گوشت بھی حلال تھا۔ لونڈیوں سے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا الخ یہ حکم ان لونڈیوں کا ہے جو حاملہ ہونے کی حالت میں کسی کے شرعی قبضہ و تسلط میں آئی ہوں اور جو لونڈی ایسی حالت میں کسی کے شرعی قبضہ و تسلط میں آئی ہو کہ وہ حاملہ نہ ہو تو اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس کے ساتھ اس وقت تک ہم بستری نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے۔
وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن شريطة الشيطان . زاد ابن عيسى : هي الذبيحة يقطع منها الجلد ولا تفرى الأوداج ثم تترك حتى تموت . رواه أبو داود
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شریطہ شیطان سے منع فرمایا ہے۔ ابن عیسیٰ ( حدیث کے ایک راوی) نے یہ مزید بیان کیا کہ شریطہ شیطان یہ ہے کہ جانور ( کے حلق کے اوپر) کی کھال کاٹ دی جائے اور اس کی پوری رگیں نہ کاٹی جائیں اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
زمانہ جاہلیت میں مشرک ایسا کرتے تھے کہ جانور حلق کے اوپر کی ٹھوڑی کی کھال کاٹ کر چھوڑ دیتے تھے چونکہ ان کی رگیں پوری نہیں کٹتی تھیں اس لئے وہ آسانی کے ساتھ مرنے کی بجائے بڑی سختی کے ساتھ تڑپ تڑپ کر مرجاتا تھا۔ اس کو شریط اس سبب سے فرمایا گیا ہے کہ شرط جو شرط حجام سے ماخوذ ہے، کے معنی نشتر مارنے کے ہیں، یا شرط علامت کے معنی میں ہے اور اس کی نسبت شیطان کی طرف اس اعتبار سے کی گئی ہے کہ اس فعل شنیع کا باعث وہی ( شیطان) ہے اور وہ اس طرح کا ذبیحہ کرنے والے سے بہت خوش ہوتا ہے۔
ذبیحہ کے پیٹ کے بچہ کا حکم
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ذكاة الجنين ذكاة أمه . رواه أبو داود والدارمي
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ماں کا ذبح کرنا اس کے پیٹ کا بھی ذبح کرنا ہے۔ ( ابوداؤد، دارمی )۔ ترمذی نے اس روایت کو حضرت ابوسعید ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
حدیث کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ ماں کا ذبح ہونا اس کے پیٹ کے بچہ کے حلال ہونے کے لئے کافی ہے، مثلا کسی شخص نے اونٹنی کو نحر کیا یا بکری کو ذبح کیا اور اس کے پیٹ سے مرا ہوا بچہ نکلا تو اس کو کھانا جائز ہے، چنانچھ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہ مسلک ہے لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک تو اس بچہ کا کھانا ہر حال میں درست ہوگا، خواہ اس کے جسم پر بال ہوں یا نہ ہوں اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس بچہ کو کھانا اسی صورت میں جائز ہوگا جب کہ اس کی جسمانی ساخت مکمل ہوچکی ہو اور اس کے بدن پر بال نکل چکے ہوں۔ ان تینوں ائمہ کے برخلاف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس بچہ کو کھانا حلال نہیں ہے ہاں اگر وہ بچہ ماں کے پیٹ سے زندہ نکلے اور پھر اس کو ذبح کیا جائے تو اس صورت میں اس کو کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ حنفیہ میں سے امام زفر اور حضرت امام حسن ابن زیاد کا بھی یہی قول ہے، ان حضرات کی طرف سے اپنے مسلک کی دلیل کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر شکار ( گولی یا تیر وغیرہ کھا کر) پانی میں گرپڑے اور پھر اس میں سے مردہ نکلے تو اس کو کھانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ وہ شکار پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے مرا ہو۔ جب آنحضرت ﷺ نے جان نکلنے کے سبب میں شک واقع ہوجانے کی وجہ سے اس شکار کو کھانا حرام قرار دیا تو چونکہ وہی چیز یعنی جان نکلنے کے سبب میں شک کا واقع ہونا، ذبیحہ کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچہ کے بارے میں بھی موجود ہے اس لئے وہ بھی حرام ہوگا کیونکہ جس طرح پانی میں گرجائے اور شکار کی موت کا سبب معلوم نہیں ہوسکتا اسی طرح اس مردہ بچہ کی موت کا سبب بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ آیا وہ اپنی ماں کے ذبح کئے جانے کے سبب سے مرا ہے یا دم گھٹنے کی وجہ سے مرگیا ہے۔ جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو حضرت امام اعظم کے نزدیک اس حدیث کے صحیح ہونے میں کلام کیا گیا ہے۔
ذبیحہ کے پیٹ کے بچہ کا حکم
وعن أبي سعيد الخدري قال : قلنا : يا رسول الله ننحر الناقة ونذبح البقرة والشاة فنجد في بطنها جنينا أنلقيه أم نأكله ؟ قال : كلوه إن شئتم فإن ذكاته ذكاة أمه . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ جب ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں یا گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں تو ( بسا اوقات) ہم اس ذبیحہ کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں، آیا ہم اس بچہ کو پھینک دیا کریں یا کھالیا کریں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کو کھالیا کرو کیونکہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس بچہ کا بھی ذبح کرنا ہے۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ )
تشریح
مفہوم کے اعتبار سے یہ روایت بھی وہی ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے۔ اور اس سلسلے میں ائمہ کے جو اختلافی اقوال ہیں ان کو بھی اوپر ہی ذکر کیا جا چکا ہے۔ نحر اور ذبح کی تفصیل پہلے صفحات میں بتایا گیا تھا کہ ذبح کرنے کی دو قسمیں ہیں ایک تو اختیاری اور دوسری اضطراری، پھر اختیاری کی بھی دو صورتیں ہیں ایک تو نحر اور دوسری ذبح چناچہ نحر تو یہ ہے کہ اونٹ کے سینہ میں نیزہ مارا جائے ( یعنی اس کے سینے کو نیزہ سے چیرا دیا جائے) اور اونٹ میں مستحب نحر کرنا ہے اگرچہ اس کو ذبح کرنا جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ اور ذبح یہ ہے کہ جانور کی حلق کی رگ کو کاٹا جائے، ذبح کی صورت میں جانور کی حلق کی جو رگیں کاٹی جاتتی ہیں وہ چار ہیں۔ ایک تو نرخڑہ کہ جس کے ذریعہ سانس کی آمدورفت ہوتی ہے، دوسری مری یعنی وہ رگ جس سے منہ سے پانی جاتا ہے اور دو شہ رگیں جو نر خرہ کے دائیں بائیں ہوتی ہیں۔ ان چاروں رگوں کو کاٹنا ہی شرعی طور پر ذبح کہلاتا ہے، اگر ان چاروں میں سے تین ہی رگیں کٹ جائیِں تب بھی ذبح درست ہے اور اس جانور کا کھانا حلال ہے اور اگر دو ہی رگیں کٹیں تو وہ جانور مردار ہوجائے گا جس کا کھانا حلال نہیں ہوگا۔ جس طرح اونٹوں میں نحر کرنا مستحب ہے اسی طرح گائے اور بکریوں وغیرہ میں ذبح کرنا مستحب ہے لیکن اگر کسی نے ان کو نحر کرلیا تب بھی جائز ہوگا مگر کراہت کے ساتھ۔ اگر کسی شخص نے بکری وغیرہ کو گدی کی طرف سے ذبح کیا تو اگر وہ اتنی دیر تک زندہ رہی کہ اس شخص نے اس کی رگیں کاٹ دیں تو اس کا کھانا جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ کیونکہ اس طرح ذبح کرنا سنت کے خلاف ہے اور اگر وہ رگوں کے کٹنے سے پہلے ہی مرگئی تو اس کا کھانا جائز نہیں۔ اگر کسی شخص نے کسی جانور مثلا مرغی کو ذبح کرتے ہوئے چھری کو حرام مغز تک پہنچا دیا اور سر کٹ کر جدا ہوگیا تو اس کا کھانا جائز ہے اور مکروہ بھی نہیں ہے لیکن اتنا زیادہ ذبح کرنا یا اس طرح ذبح کرنا کہ سر جدا ہوجائے مکروہ ہے۔
بلا وجہ کسی جانور وپرندہ کو مار دینا ناجائز ہے
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل عصفورا فما فوقها بغير حقها سأله الله عن قتله قيل : يا رسول الله وما حقها ؟ قال : أن يذبحها فيأكلها ولا يقطع رأسها فيرمي بها . رواه أحمد والنسائي والدرامي
اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص کسی چڑیا یا اس سے چھوٹے بڑے کسی اور جانور و پرندہ کو ناحق مار ڈالے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے اس ( ناحق مارنے) کے بارے میں باز پرس کرے گا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اور اس ( چڑیا وغیرہ) کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ اس کو ذبح کیا جائے ( کسی اور طرح اس کی جان نہ ماری جائے) اور پھر اس کو کھایا جائے، یہ نہیں کہ اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے۔ ( احمد، النسائی، دارمی )
تشریح
اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ کی اس وسیع کائنات میں ہر جاندار اپنی جان کی حفاظت کا حق رکھتا ہے خواہ وہ اشرف المخلوقات انسان ہو یا حیوان، جس طرح کسی انسان کی جان کو ناحق مارنا شریعت کی نظر میں بہت بڑا گناہ اور بہت بڑا ظلم ہے، اسی طرح کسی حیوان کی جان ناحق ختم کرنا بھی ایک انتہائی غیر مناسب فعل اور ایک انتہائی بےرحمی کی بات ہے۔ اگر قادر مطلق نے انسان کو طاقت و قوت عطا کر کے حیوانات پر تسلط و اختیار عطا کیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنی اس طاقت اور اپنے اس اختیار کے بل پر محض اپنا شوق پورا کرنے کے لئے یا محض تفریح طبع کی خاطر بےزبان جانوروں کو اپنا تختہ مشق بنائے۔ اور ان کی جانوں کو کھلونا بنا کر ان کو ناحق مارتا رہے۔ جس جانور کے گوشت کو حق تعالیٰ نے انسان کے لئے حلال قرار دیا ہے اگر وہ اس جانور کو بطور شکار مار کر یا اس کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھاتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے اختیار کا جائز استعمال کرتا ہے اور اگر محض لہو و لعب اور تفریح طبع کے لئے اس جانور کی جان ناحق یعنی بلا فائدہ ختم کرتا ہے اور اس کے گوشت وغیرہ سے کوئی نفع حاصل کئے بغیر اس کو مار کر پھینک دیتا ہے تو اس طرح نہ صرف وہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتا ہے بلکہ ایک جاندار پر ظلم کرنے والے کے برابر ہوتا ہے اس لئے حدیث میں ایسے شخص کو آگاہ کیا گیا ہے کہ تمہارا یہ فعل ( یعنی جانوروں اور پرندوں کو ناحق مارنا) بارگاہ احکم الحاکمین میں قابل مواخذہ ہے۔ اور کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سے اس بارے میں سخت باز پرس کرے گا اور تمہیں عتاب و عذاب میں مبتلا کرے گا۔ طیبی کہتے ہیں کہ کسی جانور کا حق، اس سے منتفع ہونے سے عبارت ہے، جس طرح کہ بلا مقصد اس کا سر کاٹ کر پھینک دینا، اس کا حق ضائع کرنے سے عبارت ہے، لہٰذا کہا جائے گا کہ حدیث کے یہ الفاظ ولا یقطع رسھا فیرمی بھا ما سبق کی عبارت کی گویا تاکید و توثیق کے طور پر ہے
زندہ جانور کے جسم سے کاٹا گیا کوئی بھی حصہ مردار ہے
عن أبي وافد الليثي قال : قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة وهم يجبون أسنمة الإبل ويقطعون أليات الغنم فقال : ما يقطع من البهيمة وهي حية فهي ميتة لا تؤكل . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ( مکہ سے ہجرت فرما کر) مدینہ تشریف لائے تو اس وقت مدینہ کے لوگ ( ایسا کرتے تھے کہ) اونٹ کے کوہان اور دنبوں کی چکتیاں کاٹ لیا کرتے تھے ( اور پھر اس کو کھاتے تھے) چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو چیز بھی کہ ایسے جانور کے جسم سے کاٹی جائے جو زندہ ہو تو وہ ( کاٹی گئی چیز) مردار ہے، اس کو نہ کھایا جائے۔ ( ترمذی، ابوداؤد )
تشریح
زمانہ اسلام سے قبل چونکہ جاہلیت نے انسانی عقل و طبائع کو ماؤف کر رکھا تھا اس لئے اس وقت کے انسان ایسے ایسے طور طریقوں میں مبتلا تھے جن سے انسانیت بھی پناہ مانگتی تھی، انھی طور طریقوں میں ایک رواج مدینہ والوں میں یہ بھی جاری تھا کہ وہ جب چاہتے اپنے زندہ اونٹوں کے کوہان، زندہ دنبوں کی چکتیاں کاٹ لتیے تھے اور ان کو بھون پکا کر کھالیتے تھے۔ یہ جانوروں کے تئیں ایک انتہائی بےرحمانہ طریقہ ہی نہیں تھا بلکہ طبع سلیم کے منافی بھی تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو اس مذموم فعل سے باز رکھا اور ان پر واضح کیا کہ زندہ جانور کے جسم سے جو بھی عضو کاٹا جائے گا وہ مردار ہوگا اور اس کا کھانا حرام ہوگا۔
ذبح کی اصل، جراحت کے ساتھ خون کا بہنا ہے
عن عطاء بن يسار عن رجل من بني حارثة أنه كان يرعى لقحة بشعب من شعاب أحد فرأى بها الموت فلم يجد ما ينحرها به فأخذ وتدا فوجأ به في لبتها حتى أهراق دمها ثم أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمره بأكلها . رواه أبو داود ومالك وفي روايته : قال : فذكاها بشظاظ
اور حضرت عطاء بن یسار ؓ قبیلہ بنی حارثہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ( ایک دن) اونٹنی کو جو بیانے کے قریب تھی احد پہاڑ کے ایک درہ میں چرا رہا تھا کہ اس نے اونٹنی میں موت کے آثار پائے یعنی اس نے دیکھا کہ اونٹنی کسی وجہ سے مرا ہی چاہتی ہے، ( اس وقت) اس کو کوئی ایسی چیز دستیاب نہیں ہوسکی جس کے ذریعہ وہ اونٹنی کو نحر کرتا، آخر کار اس نے ایک میخ اٹھائی اور اس کو نوک کی طرف سے) اس کو اونٹنی کے سینے میں گھونپ دیا، تاآنکہ اس کا خون بہا دیا، پھر اس نے ( اس واقعہ کو) رسول کریم ﷺ سے بیان کیا ( اور اس کے گوشت کے بارے میں دریافت کیا کہ اس صورت میں اس کا کھانا کیسا ہے؟ ) آنحضرت ﷺ نے اس کو اس ( کے گوشت) کے کھانے کی اجازت دی ( ابوداؤد، مالک) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آخر کار اس نے ایک دھار دار لکڑی سے ذبح کردیا۔
تشریح
وتد لکڑی کی اس میخ یا کھونٹی کو کہتے ہیں جو زمین یا دیوار میں گاڑی جاتی ہے۔ اور شظاظ اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے دونوں کنارے نوکدار ہوتے ہیں اس کو دونوں تھیلوں کے درمیان اڑا کر اونٹ پر لادتے ہیں تاکہ وہ دونوں تھیلے الگ الگ ہو کر گریں نہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شرعی طور پر ذبح یا نحر کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جراحت کے ساتھ خون بہایا جائے اور یہ بات جس چیز سے بھی حاصل ہوجائے اس کے ذریعہ جانور کو ذبح یا نحر کیا جاسکتا ہے خواہ وہ لوہے کی چھری وغیرہ ہو، یا کوئی دھار دار اور نوکدار لکڑی وغیرہ ہو۔
دریائی جانوروں میں سے صرف مچھلی حلال ہے
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من دابة إلا وقد ذكاها الله لبني آدم . رواه الدارقطني
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا پانی کا ایسا کوئی جانور نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لئے ذبح نہ کردیا ہو۔ ( دارقطنی)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دریائی جانوروں کو بغیر ذبح کئے ہوئے کھانا حلال ہے، ان کو محض شکار کرلینا اور پانی میں سے زندہ نکال لینا ذبح کا حکم رکھتا ہے۔ اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام دریائی جانور حلال ہیں، خواہ وہ خود سے مرجائیں اور خواہ ان کا شکار کیا جائے۔ لیکن جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے وہ یوں نہیں ہے، بلکہ مچھلی کے حلال ہونے پر تو تمام علماء کا اتفاق ہے اور مچھلی کے علاوہ دوسرے جانوروں کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ چنانچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ دریائی جانوروں میں سے مچھلی کے علاوہ اور کوئی جانور حلال نہیں ہے اور وہ مچھلی بھی حلال نہیں ہے جو سردی و گرمی کی آفت کے بغیر خود بخود مر کر پانی کے اوپر آجائے اور الٹی تیرنے لگے۔ اور جو مچھلی سردی و گرمی کی آفت سے مر کر پانی کے اوپر آجائے تو وہ حلال ہے۔ ذبیحہ سے متعلق چند مسائل جو جانور اور جو پرندے شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں یا ان کی غذا صرف گندگی ہے، ان کا کھانا جائز نہیں ہے جیسے شیر، بھیڑیا، گیدڑ، بلی، کتا، بندر، شکرا، باز اور گدھ وغیرہ اور جو جانور اس طرح کے نہ ہوں جیسے طوطا، مینا، فاختہ، چڑیا، پیڑ، مرغابی، کبوتر، نیل گائے، ہرن، بطخ اور خرگوش وغیرہ ان کا کھانا جائز ہے۔ بجو، گوہ، کچھوا، خچر اور گدھا، گدھی کا گوشت کھانا اور گدھی کا دودھ پینا جائز نہیں ہے، جو حلال جانور ( بغیر ذبح کئے ہوئے) خود بخود مرجائے گا وہ مردار ہوگا اس کا کھانا حرام ہے۔ اگر کسی چیز میں چیونٹیاں گر کر مرجائیں تو ان چیونٹیوں کا نکالے بغیر اس چیز کو کھانا درست نہیں ہے، اگر قصدا ایک آدھ چیونٹی کو بھی حلق کے نیچے جانے دیا تو مردار کھانے کا گناہ ہوگا۔ مسلمان کا ذبح کرنا ہر حالت میں درست ہے چاہے عورت ذبح کرے اور چاہے مرد، اسی طرح خواہ پاک ہو یا ناپاک، ہر حال میں اس کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حلال ہے۔ کافر یعنی مرتد، آتش پرست اور بت پرست وغیرہ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا حرام ہے۔ اگر کوئی کافر گوشت بیچتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں نے مسلمان سے ذبح کرایا ہے تو اس سے گوشت خرید کر کھانا درست نہیں، البتہ جس وقت مسلمان نے ذبح کیا ہے اگر اسی وقت سے کوئی مسلمان اس گوشت کے پاس برابر بیٹھا رہا ہے، یا وہ جانے لگا تو کوئی دوسرا مسلمان اس کی جگہ بیٹھ گیا ہے، تب اس گوشت کا کھانا درست ہوگا۔ اگر کسی ایسے جانور کو ذبح کیا گیا جس کا کھانا حلال نہیں ہے تو اس کی کھال اور گوشت پاک ہوجاتے ہیں ( کہ ان کو کھانے کے علاوہ کسی اور استعمال میں لانا بلا کراہت درست ہوتا ہے) علاوہ آدمی اور سؤر کے کہ ان دونوں میں ذبح کرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا، آدمی کی کھال کا ناپاک ہونا تو اس کی عزت و حرمت کی وجہ سے ہے اور سور کی کھال وغیرہ کا ناپاک ہونا اس کے نجس ہونے ہی کی وجہ سے ہے کہ وہ پاک کرنے سے بھی ہرگز پاک نہیں ہوسکتی۔ جو مرغی، گندی اور پلید چیزیں کھاتی پھرتی ہو، اس کو تین دن بند رکھ کر ذبح کرنا چاہئے، اس کو بغیر بند کئے ذبح کر کے اس کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ جانور کو کند چھری سے ذبح کرنا مکروہ اور ممنوع ہے کیونکہ اس میں جانور کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح ذبح کے بعد ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال کھینچنا، ہاتھ پاؤں توڑنا کاٹنا اور ذبح میں جن چار رگوں کو کاٹنا چأہئے ان کے کٹ جانے کے بعد بھی گلا کاٹے جانا، یہ سب مکروہ ہے۔ ٹڈی کو کھانا جائز ہے اور مچھلی کی طرح اس کو بھی ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے اور جن کا نہیں کھایا جاتا، شکار دونوں کا کرنا جائز ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ شکار کا مقصد محض لہو و لعب اور تفریح طبع نہ ہو بلکہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی نیت ہو، جو جانور حلال ہیں ان کا گوشت کھانا ہی ان سے سب سے بڑا نفع حاصل کرنا ہے، ہاں جو جانور حلال نہیں ہیں انکا شکار اگر اس مقصد سے کیا جائے کہ ان کی کھال وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جائے گا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ حاصل یہ کہ جانوروں کی جان کی بھی قدر کرنی چاہئے، ان کو خواہ مخواہ کے لئے مار ڈالنا اور بلا ضرورت و بلا مقصد کے ان کا شکار کرتے پھرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ذبح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کا منہ قبلہ کی طرف کر کے تیز چھری ہاتھ میں لے کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے اس کے گلے کو کاٹا جائے، یہاں تک کہ چاروں رگیں کٹ جائیں۔
کتے سے متعلق احکام کا بیان
اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے کتوں سے متعلق احکام معلوم ہوں گے کہ کن مقاصد کے لئے اور کون سا کتا پالنا جائز ہے اور کون سا ناجائز ہے اور یہ کہ کس کتے کا مارنا جائز ہے اور کس کا مارنا جائز نہیں ہے۔
بلا ضرورت کتا پالنا، اپنے ذخیرہ ثواب میں کمی کرنا ہے
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اقتنى كلبا إلا كلب ماشية أو ضار نقص من عمله كل يوم قيراطان
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتے اور شکاری کتے کے علاوہ کوئی کتا پالتا ہے اس کے اعمال ( کے ثواب) میں سے روزانہ دو قیراط کے برابر کمی کردی جاتی ہے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
قیراط اصل میں ایک وزن کا نام ہے جو آدھے دانگ، یا بقول بعض، دینار کے ٤/٦ اور بقول بعض دینار کے دسویں حصے کے آدھے حصے کے برابر ہوتا ہے اور ایک دانگ چھ رتی کے وزن، یا ایک درم کے چھٹے حصے کے برابر ہوتا ہے، لیکن حدیث میں قیراط کا اسعتمال اس مقدار کے لئے کیا گیا ہے جس کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اگرچہ بعض احادیث میں اس مقدار کو احد پہاڑ کے برابر بتایا گیا ہے، اس بنیاد پر اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ شریعت نے جن مقاصد کے لئے کتوں کو پالنے کی اجازت دی ہے جیسے مویشیوں ( یا گھر، کھیت) کی حفاظت اور شکار، ان کے علاوہ محض تفریح طبع اور شوق کی خاطر اگر کوئی شخص کتا پالے گا تو اس نے جو نیک اعمال کئے ہیں اور حق تعالیٰ نے ان اعمال کی بناء پر اپنے فضل و کرم سے اس کے نامہ اعمال میں اجر وثواب کے جو ذخیرے رکھے ہیں، ان میں سے روزانہ اس مقدار میں کمی آتی رہے گی کہ اگر اس مقدار کو جسم تصور کیا جائے تو وہ دو احد پہاڑ کے برابر ہو! یا یہ کہ دو قیراط سے مراد اس شخص کی نیکیوں کے حصول میں سے دو حصے کی کمی و نقصان ہے۔ بہر حال دو قیراط سے کچھ ہی مراد لیا جائے، حدیث کا اصل منشاء تو صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ بلا ضرورت شرعی، کتا پالنا اپنے اعمال کے اجرو ثواب کے ایک بہت بڑے حصے سے ہاتھ دھو نا ہے، جہاں تک اس سبب کا تعلق ہے جو کتے پالنے کی وجہ سے ثواب اعمال میں کمی کی بنیاد ہے تو اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ چنانچہ بعض حضرات کے نزدیک اس کمی و نقصان کا سبب ملائکہ رحمت کا گھر میں نہ آنا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ جس گھر میں کتا ہوتا ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اور بعض حضرات نے یہ سبب بیان کیا ہے کہ وہ شخص ( کتا پال کر) دوسرے لوگوں کو ایذاء پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ کمی و نقصان اس سبب سے ہے کہ جب گھر میں کتا پلا ہوا ہوتا ہے تو وہ گھر والوں کی بیخبر ی میں کھانے پینے کے برتن باسن میں منہ ڈالتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ گھر والے چونکہ بیخبر ہوتے ہی اس لئے وہ ان برتنوں کو دھوئے مانجے بغیر ان میں کھاتے پیتے ہیں۔
بلا ضرورت کتا پالنا، اپنے ذخیرہ ثواب میں کمی کرنا ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اتخذ كلبا إلا كلب ماشية أو صيد أو زرع انتقص من أجره كل يوم قيراط
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مویشیوں کی حفاظت کرنے والے شکار پکڑنے والے اور کھیت کھلیان کی چوکسی کرنے والے کتے کے علاوہ کوئی کتا پا لتا ہے تو اس کے ثواب میں سے ہر روز ایک قیراط کے برابر کمی کردی جاتی ہے۔ ( بخاری و مسلم )
تشریح
مضمون و مفہوم کے اعتبار سے یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس حدیث میں اس کتے کے استثناء کو بھی ذکر کیا گیا ہے جو کھیت کھلیان کی حفاظت کرنے کے لئے پالا جاتا ہے، نیز اس حدیث میں ایک قیراط کا ذکر ہے جب کہ پہلی حدیث میں دو قیراط کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ یہ فرق کتوں کی مختلف اقسام کی بنیاد پر ہے کہ بلا ضرورت پالے جانے والے کتوں میں بعض کتے ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کو کم ایذاء پہنچاتے ہیں، ان کو پالنے کی صورت میں ایک قیراط کے برابر کمی کی جاتی ہے یا یہ فرق مقام و جگہ کے اعتبار سے ہے کہ بعض جگہ تو بلا ضرورت کتے پالنے کی وجہ سے ثواب میں دو قیرط کے برابر کمی کی جاتی ہے۔ جیسے مکہ اور مدینہ کہ دونوں مقدس شہر اپنی عظمت و بزرگی کے لحاظ سے ایسے ہیں کہ اگر ان کی حدود میں رہنے والا کوئی شخص بلا ضرورت کتا پالتا ہے تو وہ زیادہ گنہگار ہوتا ہے اس لئے اس کے ذخیرہ ثواب میں روزانہ دو قیراط کے برابر کمی ہوجاتی ہے جب کہ ان دونوں مقدس شہروں کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں کتا پالنے والا نسبتا کم گنتہگار ہوتا ہے، اس لئے اس کے ثواب میں دو قیراط کے برابر کمی ہوتی ہے اور جو لوگ جنگل و بیابان میں کتا پالتے ہیں ان کے ثواب میں ایک قیراط کی کمی ہوتی ہے کیونکہ آبادی میں کتے پالنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایذاء پہنچانے کا ذریعہ پیدا ہو جب کہ جنگل و بیابان میں یہ صورت نہیں ہوتی۔ اور یا یہ فرق اختلاف زمانہ کے سبب سے ہے کہ پہلے تو ایک ہی قیراط کے برابر کم ہونے کے ساتھ تنبیہ کی گئی تھی، مگر جب بعد میں لوگوں نے کتوں کو زیادہ پالنا شروع کردیا اور ان کے ساتھ رہن سہن اختیار کیا، نیز ان کی طرف زیادہ رغبت و شوق رکھنے لگے تو شریعت کی طرف سے زجر و تنبیہ میں بھی زیادتی اور شدت اختیار کی گئی اور ثواب میں روازانہ دو قیراط کے برابر کمی ہوجانے کی وعید بیان فرمائی گئی۔
وعن جابر قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتل الكلاب حتى إن المرأة تقدم من البادية بكلبها فتقتله ثم نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتلها وقال : عليكم بالأسود البهيم ذي النقطتين فإنه شيطان . رواه مسلم وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بقتل الكلاب إلا كلب صيد أو كلب غنم أو ماشية
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں ( مدینہ کے) کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا چناچہ ( ہم مدینہ اور اطراف مدینہ کے کتوں کو مار ڈالتے تھے) یہاں تک کہ جو عورت جنگل سے آتی اور اس کا کتا اس کے ساتھ ہوتا تو ہم اس کو بھی ختم کردیتے تھے، پھر بعد میں آنحضرت ﷺ نے عام کتوں کو مار ڈالنے سے منع فرما دیا اور یہ حکم دیا کے خالص سیاہ کتے کو جو دو نقطوں والا ہو مار ڈالنا تمہارے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ( مسلم )
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ کتوں کو مار ڈالنے کا حکم صرف مدینہ منورہ کے ساتھ مخصوص تھا کیونکہ وہ شہر مقدس محض اسی اعتبار سے تقدیس کا حامل نہیں تھا کہ اس میں سرکار دو عالم ﷺ اقامت پذیر تھے بلکہ اس اعتبار سے بھی اس کو پاکیزگی کی عظمت حاصل تھی کہ وہ وحی کے نازل ہونے اور ملائکہ کی آمدورفت کی جگہ تھا، لہذا یہ بات بالکل موزوں اور مناسب تھی کہ اس کی سر زمین کو کتوں کے وجود سے پاک رکھا جاتا۔ عورتوں کی تخصیص یا تو اس وجہ سے ہے کہ جو عورتیں جنگل میں بود وباش رکھتی تھیں ان کو ( مویشیوں وغیرہ کی حفاظت کے لئے) کتوں کی زیادہ ضرورت ہوتی تھی اور جب وہ شہر میں آتیں تو اس وقت بھی ان کا کتا ان کے ہمراہ ہوتا تھا۔ یا یہ کہا جائے کہ یہاں عورت کی قید محض اتفاقی ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کتوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جاتا تھا جو جنگل سے شہر آجاتے تھے خواہ وہ کسی عورت کے ساتھ آتے یا کسی مرد وغیرہ کے ساتھ۔ جو دو نقطوں والا ہو یعنی وہ کالا بھجنگ کتا جس کی دونوں آنکھوں پر دو سفید نقطے ( ٹپکے) ہوتے ہیں۔ اس قسم کا کتا چونکہ انتہائی شریر اور لوگوں کے لئے سخت تکلیف اور ایذاء پہنچانے والا ہوتا ہے اس لئے اس کو شیطان فرمایا گیا ہے۔ اس کو شیطان کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا کتا نہ نگہبانی کے کام کا ہوتا ہے اور نہ شکار پکڑنے کے مصرف کا، چناچہ اسی سبب سے حضرات امام احمد و اسحق نے یہ کہا ہے کہ سیاہ کتے کا پکڑا ہوا شکار حلال نہیں کیونکہ وہ شیطان ہے۔ حضرت امام نووی فرماتے ہیں کہ عقور یعنی کٹ کھنے کتے کو مار ڈالنے پر تو علمار کا اتفاق ہے اگرچہ وہ سیاہ رنگ کا نہ ہو لیکن اس کتے کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں جو نقصان و ضرر پہنچانے والا نہ ہو۔ امام حرمین کہتے ہیں کہ کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کی اصل صورت حال یہ ہے کہ پہلے تو نبی کریم ﷺ نے ہر قسم کے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا، بعد میں اس حکم کی عمومیت منسوخ کر کے اس کے صرف یک رنگ سیاہ کتے تک محدود کردیا گیا اور پھر آخری طور پر ان تمام کتوں کو مار ڈالنے کی ممانعت نافذ ہوئی جو نقصان و ضرر پہنچانے والے نہ ہوں، یہاں تک کہ یک رنگ سیاہ کتے کو بھی اس حکم میں شامل کردیا گیا اگر اس سے نقصان و ضرر پہنچنے کا خطرہ نہ ہو تو اس کو بھی ختم نہ کیا جائے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو ( سارے کتوں کے یا مدینہ کے) کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، لیکن شکاری کتوں اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں اور مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کو مستثنی رکھا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح او ماشیۃ ( اور مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتے) یہ جملہ تعمیم بعد تخصیص کے طور پر ہے۔ یعنی استثناء کے سلسلے میں پہلے تو خاص طور پر بکریوں کو حفاظت کرنے والے کتوں کا ذکر کیا پھر اور بعد میں عمومی طور پر تمام جانوروں کی حفاظت کرنے والے کتوں کا ذکر کردیا، لہٰذا اس صورت میں حرف او تنویع کے لئے ہوگا جیسا کہ ماقبل کی عبارت میں ہے۔ یا یہ کہ او ماشیۃ میں حرف او راوی کے شک کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی اس کے ذریعہ حدیث کے راوی نے بتانا چاہا ہے کہ مجھے صحیح یاد نہیں ہے کہ اس موقع پر الا کلب صید او کلب کے بعد غنم فرمایا گیا تھا یا ما شیۃ۔
سارے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دینے کی علت
عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها كلها فاقتلوا منها كل أسود بهيم . رواه أبو داود والدارمي وزاد الترمذي والنسائي : وما من أهل بيت يرتبطون كلبا إلا نقص من عملهم كل يوم قيراط إلا كلب صيد أو كلب حرث أو كلب غنم
حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے ( بھی) گروہوں میں سے ایک گروہ ہیں تو میں یقینا یہ حکم دے دیتا کہ ان سب کو مار ڈالا جائے پس ان میں جو ( بھی) کتا خالص سیاہ رنگ کا ہو اس کا مار ڈالوں ( ابوداؤد، دارمی) اور ترمذی و نسائی نے یہ عبارت مزید نقل کی ہے کہ اور جو گھر والے بلا ضرورت کتا پالتے ہیں ان کے عمل ( کے ثواب میں سے روازانہ ایک قیراط کے بقدر کمی کردی جاتی ہے، ہاں شکاری کتا اور کھیت کی حفاظت کرنے والا اور ریوڑ کی چوکسی کرنے والا کتا اس سے مستثنٰی ہے۔
تشریح
کتے ( بھی) گروہوں میں سے ایک گروہ ہیں الخ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے گویا قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ فرمایا آیت (وَمَا مِنْ دَا بَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰ ى ِرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّا اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ) 6۔ الانعام 38)۔ اور جتنی قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنی قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤوں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح گروہ نہ ہوں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسان ایک امت اور ایک جنس ہیں اسی طرح جانور بھی ایک امت اور ایک جنس ہیں، خواہ وہ زمین پر چلنے والے ہوں یا فضا میں اڑنے والے ہوں، جس طرح انسان اپنے مختلف نام اور اپنے مختلف انواع کے ذریعہ ایک دوسرے سے پہچانے جاتے ہیں، اسی طرح جانوروں کے بھی مختلف نام اور مختلف نوع ہیں جن کے ذریعہ ایک دوسرے کے درمیان فرق امتیاز کیا جاتا ہے۔ اور جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہیں۔ کہ ہر شخص کو اپنے اپنے مقدر کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملتا ہے، اسی طرح جانوروں کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے رزق ملتا ہے، نیز یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی خاص مصلحت و حکمت کی بناء پر پیدا کیا ہے اسی طرح جانوروں کو بھی مصلحت و حکمت ہی کے مطابق پیدا کیا ہے، اس اعتبار سے جس طرح انسان کی جان کی اہمیت ہے، اسی طرح جانوروں کی جان کی بھی اہمیت ہے کہ ان کو بلا ضرورت اور بلا مقصد مار ڈالنا تخلیق الٰہی کی مصلحت و حکمت کے منافی ہے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے ارشار فرمایا کہ اس آیت کریمہ کے بموجب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ سارے کتوں کو مار ڈالا جائے کیونکہ مخلوق الٰہی میں جتنے گروہ اور جتنی جماعتیں ہیں ان میں ایک گروہ اور ایک جماعت کتے بہی ہیں اور کسی جماعت کے گروہ کے فنا کردینا اللہ تعالیٰ کی اس حکمت و مصلحت کے بالکل منافی ہے جو ہر جاندار کی تخلیق میں کار فرما ہے، البتہ ان کتوں میں جو کتے خالص سیاہ رنگ کے ہوں ان کو مار ڈالنا چاہئے کیونکہ اس قسم کے کتے نہایت شریر اور سخت خطرناک ہوتے ہیں جن سے لوگوں کو سوائے تکلیف و ایذاء کے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور باقی دوسری قسم کے کتے چونکہ کھیت کھلیان اور مویشیوں کی چوکسی کرنے وغیرہ کے کام میں آتے ہیں اور وہ ایک طرح سے انسان کی خدمت کرتے ہیں اس لئے آیت کریمہ کی تعلیم کے علاوہ یوں بھی مفاد عامہ کے پیش نظر ان کو زندہ رکھنا ہی زیادہ بہتر اور فائدہ مند ہے۔ حدیث میں لفظ فاقتلوا ترکیب نحوی کے اعتبار سے جواب ہے شرط محذوف کا، گویا آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ جب مذکورہ سبب (آیت کریمہ کے بموجب) تمام کتوں کو مار ڈالنے کا کوئی راستہ نظر آتا تو کم سے کم ان کتوں کو مار ڈالو جو خالص سیاہ رنگ کے ہوں۔
جانوروں کو لڑانے کی ممانعت
وعن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التحريش بين البهائم . رواه الترمذي
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جانوروں کو ایک دوسرے پر ابھارنے ( یعنی ان کو آپس میں لڑانے سے) منع فرمایا ہے۔ ( ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اونٹوں، ہاتھیوں، مینڈھوں، بیلوں، بھینسوں اور ان کے علاوہ دوسرے چوپایوں کو آپس میں لڑانا نہیں چاہئے، اسی طرح پرند جانوروں کا بھی یہی حکم ہے۔ مرغیوں اور بیٹروں وغیرہ کا بھی آپس میں لڑانا ممنوع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب جانوروں کو لڑانے کی ممانعت ہے تو آدمیوں کو آپس میں لڑانا بطریق اولی ممنوع ہوگا۔
جن جانوروں کا کھانا حلال ہے اور جن جانوروں کا کھانا حرام ہے ان کا بیان
واضح رہے کہ جس چیز کا حرام ہونا کتاب اللہ ( یعنی قرآن مجید) سے ثابت ہے وہ اول تو میتہ یعنی مردار ہے۔ دوم دم مسفوح یعنی بہتا ہوا خون ہے، سوم سؤر کا گوشت ہے اور چہارم اس جانور کا گوشت ہے جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو چناچہ اس آیت کریمہ سے یہی ثابت ہے۔ ا یت (قُلْ لَّا اَجِدُ فِيْ مَا اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُه اِلَّا اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّه رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِه) 6۔ الانعام 145) ( اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ جو احکام ( بذریعہ وحی) میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے مگر یہ کہ وہ مردار ( مرا ہوا جانور) ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو ( جانور) شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو۔ اس کے بعد سنت نبوی ﷺ نے ان حرام چیزوں میں کچھ اور جانوروں کا اضافہ کیا جیسے ذی ناب، ذی مخلب اور گھر کے پلے ہوئے گدھے وغیرہ۔ چناچہ جن جانوروں کا احادیث نبوی کے ذریعہ حرام قرار پانا ثابت ہے ان میں سے بعض جانور تو بسبب قطعیت احادیث کے متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک حرام ہیں اور بعض جانوروں کے بارے میں ائمہ حضرات کے اختلافی مسلک ہیں کیونکہ ان کے سلسلے میں احادیث بھی مختلف منقول ہیں بعض جانوروں کے سلسلے میں اس آیت کریمہ کی بناء پر بھی علماء کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ا یت ( وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَ بٰ ى ِثَ ) 7۔ الاعراف 157)۔ اور وہ ( رسول کریم ﷺ پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔ چنانچہ حنفی علماء نے اسی آیت کی بنیاد پر مچھلی کے علاوہ پانی کے اور تمام جانوروں کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ ان حضرات کے نزدیک مچھلی کے علاوہ پانی کا اور جو بھی جانور ہے وہ خبیث یعنی گندا ہے۔ بایں دلیل کہ خبیث سے مراد وہ چیز ہے جس کو طبیعت سلیم، طیب کی ضد یعنی گندی اور گھناؤنی جانے اور پانی میں مچھلی کے علاوہ جو بھی جاندار چیز ہوتی ہے اس کو طبیعت سلیم گھناؤنی جانتی ہے؟ ہدایہ میں لکھا ہے کہ حضرت امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ پانی کے تمام جانور مطلق حلال ہیں لیکن ان میں سے بعض علماء نے دریائی سور، دریائی کتے اور دریائی انسان کا استثناء کیا ہے۔ حضرت امام شافعی کے نزدیک مطلق دریا کے جانور حلال ہیں۔ ان کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُه) 5۔ المائدہ 96)۔ تمہارے نزدیک دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ نیز وہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے بھی استدلال کرتے ہیں جو آپ ﷺ نے دریا کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہو الطھور ماؤہ والحل میتتہ۔ اس ( دریا) کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل ذي ناب من السباع فأكله حرام . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ درندوں میں جو جانور کچلی والا ہو ( یعنی جو دانت سے اپنا شکار پکڑتا ہو جیسے شیر اور بھیڑیا وغیرہ) اس کا کھانا حرام ہے ( مسلم )
ذی مخلب پرندہ کا گوشت کھانا حرام ہے
وعن ابن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہر اس درندے ( کے گوشت) کو کھانے سے منع فرمایا ہے جو کچلی والا ہو اور ہر اس پرندے ( کا گوشت کھانے) سے منع فرمایا ہے جو چنگل گیر ہو یعنی جو اپنے پنجہ سے شکار کرتا ہو جیسے باز وغیرہ۔ ( مسلم )