شکار کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 135 · 92 hadiths · Page 1 of 5

3969Mishkaat-al-Masabih

کتے اور تیر کے ذریعہ کئے گئے شکار کا مسئلہ

وعن أبي ثعلبة الخشني قال : قلت : يا نبي الله إنا بأرض قوم أهل كتاب أفنأكل في آنيتهم وبأرض صيد أصيد بقوسي وبكلبي الذي ليس بمعلم وبكلبي المعلم فما يصلح ؟ قال : أما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها وما صدت بقوسك فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك المعلم فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك غير معلم فأدركت ذكاته فكل

اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم ایک ایسی قوم کے درمیان سکونت پذیر ہیں جو اہل کتاب ہے، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں اور ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہیں میں اپنی کمان ( یعنی تیر) اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار مارتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں تو میرے لئے کون سی چیز درست ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو تم نے اہل کتاب کے برتنوں کے بارے میں پوچھی ہے تو ( ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ) اگر ان برتنوں کے علاوہ اور برتن مل سکیں تو پھر ان کے برتنوں میں مت کھاؤ پیو اور اگر دوسرے برتن نہ مل سکیں تو ( پہلے) ان کو دھو مانج لو اور پھر ان میں کھا پی لو۔ رہی شکار کی بات تو جس جانور کو تم نے اپنے تیر سے شکار کیا ہے اور ( تیر چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے اس کو کھالو اسی طرح جس جانور کو تم نے تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ شکار کیا ہے اور ( اس کتے کو چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے تو اس کو بھی کھا سکتے ہو۔ (بخاری و مسلم) تشریح ان کے برتنوں میں مت کھاؤ یہ حکم احتیاط کے پیش نظر ہے اور اس کے کہی سبب ہیں ایک تو یہ کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے دع ما یریبک الی مالا یریبک دوسرے اس بات سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ حتی الامکان ان کے مستعمل برتنوں میں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے اگرچہ ان کو دھو لیا گیا ہو۔ اور تیسرے مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ راسخ کرنا بھی مقصود ہے کہ مسلمانوں کے سامنے ان کا یہ ملی تقاضہ بہر صورت رہنا چاہئے کہ وہ ان ( اہل کتاب) کے ساتھ رہن سہن اور باہمی اختلاط رکھنے سے نفرت کریں۔ تاہم یہ حکم کہ ان کے برتنوں میں مت کھاؤ دراصل تقوی کی راہ ہے اور اس بارے میں جو کچھ فتوی ہے وہ خود حدیث نے آگے بیان کردیا ہے۔ ان کو دھو مانج لو یہ حکم اس صورت میں تو بطریق وجوب ہوگا جب کہ ان برتنوں کے نجس و ناپاک ہونے کا ظن غالب ہو اور اس صورت میں بطریق استحباب ہوگا جب کہ ان کی نجاست کا ظن غالب نہ ہو۔ برماوی نے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ان ( اہل کتاب) کے برتنوں کے علاوہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں تو اس صورت میں ان کے برتنوں کو دھو کر بھی اپنے کھانے پینے کے استعمال میں نہیں لانا چاہئے۔ جب کہ فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ ان کے برتنوں کے دھو لینے کے بعد استعمال کرنا بہر صورت جائز ہے۔ خواہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں یا نہ مل سکتے ہوں۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث سے جو کراہت ثابت ہوتی ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جن میں وہ لوگ سور کا گوشت پکاتے کھاتے ہوں یا جن میں شراب پینے کے لئے رکھتے ہوں، لہذا ایسے برتن چونکہ ایمانی نقطہ نظر سے بےحد گھناؤ نے ہوتے ہیں، اس لئے ان کو اپنے استعمال میں لانا مکروہ ہے خواہ ان کو کتنا ہی دھو مانج کیوں نہ لیا جائے اور فقہاء نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جو سور کے گوشت جیسی نجاستوں اور ناپا کیوں میں زیادہ مستعمل نہیں ہوتے۔

3970Mishkaat-al-Masabih

بدبودار گوشت کا حکم

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رميت بسهمك فغاب عنك فأدركته فكل ما لم ينتن . رواه مسلم

اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ( اللہ کا نام لے کر کسی شکار پر) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ ( شکار تیر کھا کر تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ ( یعنی کسی ایسی جگہ گر کر مرجائے جو اس وقت تمہیں نہ مل سکے) اور پھر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائے ( اور تم اس میں اپنے تیر کا نشان دیکھ کر یہ یقین کرلو کہ یہ تمہارے اس تیر کے لگنے سے مرا ہے) تم اس کو کھا سکتے ہو جب تک کہ اس ( کی بو) میں تغیر پیدا نہ ہوجائے۔ ( مسلم) تشریح حنفی علماء لکھتے ہیں جب تک کہ اس میں تغیر پیدا نہ ہوجائے کا حکم بطریق استحباب ہے، ورنہ تو گوشت میں بو کا پیدا ہوجانا اس گوشت کے حرام ہونے کو واجب نہیں کرتا۔ چناچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا گوشت کھایا ہے جس میں بو پیدا ہوچکی تھی۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ بد بودار گوشت کھانے کی ممانعت، محض نہی تنزیہہ پر محمول ہے نہ کہ نہی تحریم پر، بلکہ یہی حکم ہر اس کھانے کا ہے جو بد بودار ہوگیا ہو الاّ یہ کہ اس کو کھانے کی وجہ سے کسی تکلیف و نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

3971Mishkaat-al-Masabih

بدبودار گوشت کا حکم

وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال في الذي يدرك صيده بعد ثلاث : فكله ما لم ينتن . رواه مسلم

اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شکاری کے حق میں کہ جو اپنے شکار کو تین دن کے بعد پائے فرمایا ( اس کو کھالو تاوقتیکہ اس میں بو پیدا نہ ہوگئی ہو۔ ( مسلم )

3972Mishkaat-al-Masabih

مشتبہ ذبیحہ کا حکم

وعن عائشة قالت : قالوا : يا رسول الله إن هنا أقواما حديث عهدهم بشرك يأتوننا بلحمان لا ندري أيذكرون اسم الله عليها أم لا ؟ قال : اذكروا أنتم اسم الله وكلوا . رواه البخاري

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ( ایک مرتبہ) صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! یہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے شرک کا زمانہ بہت قریب کا ہے ( یعنی وہ نو مسلم جنہوں نے اسلام کے احکام اور دینی مسائل پوری طرح ابھی نہیں سیکھے ہیں) وہ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اور ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ آیا انہوں نے اس کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ( تو کیا ان کا لایا ہوا گوشت ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے لیا کرو اور اس کو کھالیا کرو ( بخاری) تشریح تم اللہ کا نام لے لیا کرو الخ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بسم اللہ پڑھ کر اس گوشت کو کھالو تو اس وقت تمہارا بسم اللہ پڑھنا ذبح کرنے والے کے بسم اللہ پڑھنے کے قائم مقام ہوجائے گا بلکہ ذراصل اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے، کہ کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو گوشت تمہارے پاس لایا گیا ہے اس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ آیا وہ اس ذبیحہ کا ہے جو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کردیا گیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس گوشت کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کو ذبح کرنے والا ان میں سے ہو جن کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا شرعا جائز ہے اور یہ جواز اس حسن ظن کی بنیاد ہے جو ایک مسلمان کی حالت و کیفیت کو صلاح و نیکی ہی پر محمول کرنے کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا اگر اس طرح کا کوئی شخص تمہیں گوشت دے جائے تو تم یہی حسن ظن رکھو کہ وہ چونکہ بہر حال مسلمان ہے اس لئے اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لیا ہوگا۔

3973Mishkaat-al-Masabih

غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ہے

وعن أبي الطفيل قال : سئل علي : هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ؟ فقال : ما خصنا بشيء لم يعم به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا فأخرج صحيفة فيها : لعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من سرق منار الأرض وفي رواية من غير منار الأرض ولعن الله من لعن والده ولعن الله من آوى محدثا . رواه مسلم

اور حضرت ابوطفیل کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول کریم ﷺ نے آپ ( اہل بیت) کو کسی چیز کے ذریعہ خصوصیت و امتیاز عطا کیا ہے یعنی کیا یہ صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آپ لوگوں کو جو اہل بیت رسول ﷺ ہیں کچھ ایسے احکام دیئے ہیں جو اور دوسرے لوگوں کو نہیں دیئے ہیں؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا ( نہیں! ) آنحضرت ﷺ نے ہمارے لئے کوئی ایسی چیز مخصوص نہیں کی ہے جو اور دوسروں کے لئے عام نہ کی گئی ہو، علاوہ اس چیز کے جو میری تلوار کی نیام میں ( چند احکام کے مجموعہ کی صورت میں) موجود ہے ( لیکن ان احکام کے بارے میں بھی، میں یہ نہیں جانتا کہ وہ احکام آیا محض ہم اہل بیت کے لئے خاص ہیں یا ان کا تعلق عمومی طور پر پوری امت سے ہے) پھر حضرت علی ؓ نے ( اپنی تلوار کی نیام میں سے) ایک کاغذ نکالا جن میں یہ احکام درج تھے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کا نشان چرائے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ( اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو) جو زمین کے نشان میں تغیر و تبدل کرے۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ پر لعنت کرے اور اس شخص پر لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے۔ ( مسلم ) تشریح زمین کے نشان سے مراد وہ علامتی پتھر وغیرہ ہے جو زمین کی حدود پر نصب ہوتا ہے اور جس کے ذریعہ ایک دوسرے کی زمین کے درمیان فرق و امتیاز کیا جاتا ہے۔ اور اس نشان کو چرانے یا اس میں تغیر و تبدل کرنے کا مطلب یہ ہے، کہ وہ شخص بزور و زبردستی اپنے ہمسایہ کی زمین دبا لینا چاہتا ہو۔ جو اپنے باپ پر لعنت کرے یعنی یا تو اپنے باپ پر خود صریحا لعنت کرے یا کسی دوسرے شخص کے باپ پر لعنت کرے اور وہ شخص انتقاما اس کے باپ پر لعنت کرے، اس دوسری صورت میں اس نے اگرچہ اپنے باپ پر خود صریحا لعنت نہیں کی ہے مگر اس لعنت کا سبب چونکہ وہی بنا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ گویا اس نے اپنے باپ پر لعنت کی ہے۔ جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے بدعتی اس شخص کو کہتے ہیں جو دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جس کی کچھ اصل موجود نہ ہو اور وہ بات شریعت کے خلاف اور سنت میں تبدیلی پیدا کرنے والی ہو۔ ایسے شخص یعنی بدعتی کو ٹھکانا دینا اس کی عزت و تعظیم کرنا اور اس کی مدد و حمایت کرنا۔ شریعت کی نظر میں قابل مواخذہ ہے۔

3974Mishkaat-al-Masabih

جو چیز بھی خون بہا دے اس سے ذبح کرنا جائز ہے

وعن رافع بن خديج قال : قلت : يا رسول الله إنا لاقوا العدو غدا وليست معنا مدى أفنذبح بالقصب ؟ قال : ما أنهر الدم وذكر اسم الله فكل ليس السن والظفر وسأحدثك عنه : أما السن فعظم وأما الظفر فمدى الحبش وأصبنا نهب إبل وغنم فند منها بعير فرماه رجل بسهم فحبسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش فإذا غلبكم منها شيء فافعلوا به هكذا

اور حضرت رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کل دشمن ( یعنی کفار) سے ہمارا مقابلہ ہونے والا ہے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ( یعنی ہوسکتا ہے کہ جنگی ہنگاموں کی وجہ سے ہمارے پاس چھریاں موجود نہ رہیں اور ہمیں جانوروں کو ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس صورت میں) کیا ہم کھپچ ( کھپچی) سے ذبح کرسکتے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس چیز سے خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اس کو کھا سکتے ہو ( یعنی اس جانور کو کھانا جائز ہے جو کسی بھی ایسی چیز سے ذبح کیا گیا ہو جس سے خون بہہ جائے خواہ وہ لوہا ہو یا کوئی اور چیز) مگر دانت اور ناخن کے ذریعہ ( ذبح کرنا جائز نہیں ہے اور میں تمہیں ان دونوں کے بارے میں بتاتا ہوں ( کہ ان کے ذریعہ ذبح کرنا کیوں جائز نہیں ہے) تو ( سنو کہ) دانت تو ہڈی ہے اور جہاں تک ناخن کا تعلق ہے تو وہ حبشیوں کی چھری ہے۔ ( حضرت رافع ؓ کہتے ہیں کہ دشمن کے) کچھ اونٹ اور بکریاں لوٹ میں ہمارے ہاتھ آئیں، ان میں سے ایک اونٹ ( بھڑک کر) بھاگ نکلا، لیکن ( ہم میں سے) ایک شخص نے تیر مار کر اس کو روک دیا ( یعنی وہ اونٹ تیر کھا کر زمین پر ڈھر ہوگیا) آنحضرت ﷺ نے ( یہ دیکھ کر) فرمایا ان اونٹوں میں بعض اونٹ بھی اس طرح انسانوں سے بھڑکنے والے ہوتے ہیں جس طرح جنگلی جانور۔ انسانوں سے بھڑکتے ہیں، لہٰذا اگر ان اونٹوں میں سے کوئی اونٹ تمہارے قبضے سے نکل بھاگے تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح دانت تو ہڈی ہے یعنی دانت چونکہ ہڈی ہے اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں ہے اس لئے دانت کے ذریعہ ذبح کیا ہوا جانور کھانا جائز نہیں ہوگا۔ شیخ ابن صلاح کہتے ہیں کہ اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق و تفتیش اور غور و فکر کے باوجود میں یہ جاننے میں ناکام رہا ہوں کہ ہڈی کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا وجہ ہے! شیخ عبدالسلام سے بھی اس طرح کی بات منقول ہے، جہاں تک حدیث کا تعلق ہے اس میں بھی صرف یہی فرمایا گیا ہے کہ دانت سے ذبح کرنا اس لئے درست نہیں کہ وہ ہڈی ہے اس کے علاوہ اور کسی ظاہری علت و سبب کی طرف اشارہ نہیں ہے لیکن حضرت امام نووی نے ہڈی سے ذبح کرنے کی ممانعت کی یہ علت بیان کی ہے کہ اگر ہڈی سے ذبح کیا جائے گا تو وہ ہڈی، ذبیحہ کے خون سے نجس ہوجائے گی اور ہڈی کو نجس و ناپاک کرنے کی ممانعت منقول ہے کیونکہ ( ) ( ہڈی) کو جنات کی خوراک بتایا گیا ہے۔ وہ حبشیوں کی چھری ہے یہ گویا ناخن سے ذبح کرنے کی علت ہے، یعنی اگر ناخن کے ذریعہ ذبح کیا جائے گا تو اس میں حبشیوں کی مشابہت اختیار کرنا لازم آئے گا کیونکہ ناخن کے ذریعہ جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھانا حبشیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ حبشی غیر مسلم ہیں، جب کہ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے طور طریقوں کو اختیار نہ کریں بلکہ ان کے خلاف کریں! واضح رہے کہ دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت تینوں آئمہ کے نزدیک مطلق ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ ان دانتوں اور ناخنوں سے ذبح کرنا تو جائز نہیں ہے جو اپنی جگہ پر یعنی منہ اور انگلیوں میں ہوں ہاں جو دانت اور ناخن اپنی جگہ سے اکھڑ کر ( منہ اور انگلیوں سے) الگ ہوچکے ہوں ان کے ذریعہ ذبح کرنا جائز ہے لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے تاہم اس ذبیحہ کا گوشت کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ تینوں آئمہ کی دلیل مذکورہ حدیث ہے جس میں دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کسی قید اور کسی استثناء کے بغیر منقول ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ انھر الدم بما شئت اور وافر الاوداج۔ اور جہاں تک حضرت رافع ؓ کی اس روایت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں حضرت امام اعظم کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث بغیر اکھڑے ہوئے دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے پر محمول ہے کیونکہ حبشیوں کا یہی طریقہ تھا۔ تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر کا پالتو کوئی جانور جیسے اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ بھاگ کھڑا ہو تو وہ ذبح کے معاملہ میں وحشی جانور کے شکار کی مانند ہوگا کہ جس طرح وحشی جانور پر بسم اللہ پڑھ کر مثلا تیر چلایا جائے تو وہ تیر اس جانور کے جسم کے جس حصہ پر بھی لگ کر اس کو ختم کر دے گا وہ ذبیحہ کے حکم میں ہوجائے گا، اسی طرح اس بھاگنے والے پالتو جانور کا سارا جسم اور اس کے سارے اعضاء بھی ذبح کی جگہ ہوں گے، چناچہ بسم اللہ پڑھ کر اس پر چلایا جانے والا تیر اس کے جسم کے جس حصے میں لگ کر اس کو ختم کر دے گا اس کا گوشت حلال ہوگا۔ اور یہی حکم اس صورت میں ہے جب کہ اونٹ وغیرہ کنوئیں یا اس طرح کے کسی اور کھڈ وغیرہ میں گرپڑیں! یہاں خاص طور پر صرف اونٹ کا ذکر شاید اس لئے کیا گیا ہو کہ اس میں تو حش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذبح کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم تو اختیاری ہے اور دوسری قسم اضطراری ہے اختیاری کی ایک صورت تو جانور کے لیہ اور لحیتین کے درمیان کسی دھار دار چیز جیسے چھری وغیرہ سے جراحت کے ساتھ رگوں کو کاٹنے کی ہوتی ہے اور دوسری صورت نحر کے ساتھ یعنی اونٹ کے سینے میں نیزہ وغیرہ مارنے کی ہوتی ہے اور اضطراری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جانور کے جسم کے کسی بھی حصے کو زخمی کر کے مار دیا جائے۔

3975Mishkaat-al-Masabih

پتھر کے ذریعہ ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے

وعن كعب بن مالك أنه كان له غنم ترعى بسلع فأبصرت جارية لنا بشاة من غنمنا موتا فكسرت حجرا فذبحتها به فسأل النبي صلى الله عليه و سلم فأمره بأكلها . رواه البخاري

اور حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان ( کعب) کے پاس ( بکریوں کا) ایک ریوڑ تھا جو مدینہ کی ایک پہاڑی سلع پر چرا کرتا تھا، ( ایک دن) ہماری ایک لونڈی نے ایک بکری کو دیکھا کہ وہ مرا ہی چاہتی ہے تو اس نے ایک پتھر کا ٹکڑا توڑا اور اس ٹکڑے کے ذریعہ اس بکری کو ذبح کردیا، پھر ( کعب نے) نبی کریم ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ( اس صورت میں اس بکری کا گوشت کھانا حلال ہے یہ نہیں؟ ) آنحضرت ﷺ نے اس کو اس بکری ( کے گوشت) کو کھانے کا حکم دے دیا )۔ ( بخاری )

3976Mishkaat-al-Masabih

ذبح کئے جانے والے جانوروں کو خوبی ونرمی کے ساتھ ذبح کرو

وعن شداد بن أوس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تبارك وتعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته . رواه مسلم

اور حضرت شداد بن اوس ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آب ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنے کو لازم کیا ہے یعنی حق تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کو حسن و خوبی اور نرمی کے ساتھ انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ سزاء کسی کو قتل کرنے یا جانوروں کو ذبح کرنے میں بھی مہربانی و نرم دلی اور خوبی و نرمی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے) لہٰذا جب تم ( کسی شخص کو قصاص یا حد کے طور پر) قتل کرو تو اس کو نرمی و خوبی کے ساتھ کرو ( تاکہ اس کو ایذاء نہ ہو جیسے تیز تلوار استعمال کرو اور قتل کرنے میں جلدی کرو) اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرو لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ( جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو ( خوب تیز کرلے اور ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام دے۔ ( مسلم ) تشریح آرام دے کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد اس جانور کو چھوڑ دے تاکہ اس کا دم نکل جائے اور وہ ٹھنڈا ہوجائے! گویا اوپر کی عبارت اور یہ جملہ اصل میں ذبح کرنے میں احسان کرنے کی توضیح ہے کہ خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کو تیز چھری سے ذبح کرے اور جلدی ذبح کر ڈالے نیز ذبح کے بعد اس کو اچھی طرح ٹھنڈا ہوجانے دے۔ حنفی علماء فرماتے ہیں کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال اتارنا اس وقت تک مکروہ ہے جب تک کہ وہ اچھی طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے! نیز مستحب یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جانے والا ہے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے، اگر ایک سے زائد جانور ذبح کئے جانے والے ہیں تو ان کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح نہ کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانور کے پاؤں پکڑ کر کھینچتے ہوئے ذبح کی جگہ نہ لے جایا جائے،

3977Mishkaat-al-Masabih

جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے کی ممانعت

وعن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى أن تصبر بهيمة أو غيرها للقتل

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کسی چوپایہ وغیرہ کو مارنے کے لئے باندھ کر اس پر نشانہ لگایا جائے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح اس کے یا تو یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو باندھ کر پھر اس کو تیروں پتھروں یا گولیوں سے مارنا ممنوع ہے یا یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو بغیر دانے پانی کے بند کر ڈالنا ممنوع ہے۔

3978Mishkaat-al-Masabih

جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے کی ممانعت

وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم لعن من اتخذ شيئا فيه الروح غرضا

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ لگائے۔ ( مسلم )

3979Mishkaat-al-Masabih

جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے کی ممانعت

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا . رواه مسلم

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی جاندار چیز کو ( باندھ کر) نشانہ نہ بناؤ۔ ( مسلم ) تشریح یہ ممانعت نہی تحریم کے طور پر ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جس شخص نے ایسا کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس فعل کے ذریعہ نہ صرف ذی روح ( جانور) کو اذیت و تکلیف میں مبتلا کرنا ہے بلکہ مال کا ضائع کرنا بھی ہے۔

3980Mishkaat-al-Masabih

منہ پر مارنے یا منہ کو داغنے کی ممانعت

وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الضرب في الوجه وعن الوسم في الوجه . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے منہ پر مارنے اور منہ پر داغ دینے سے منع فرمایا ہے یعنی کسی آدمی یا جانور کے منہ پر طمانچہ یا کوڑا وغیرہ نہ مارا جائے اور نہ کسی کے منہ پر داغ دیا جائے۔ ( مسلم )

3981Mishkaat-al-Masabih

منہ پر مارنے یا منہ کو داغنے کی ممانعت

وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم مر عليه حمار وقد وسم في وجهه قال : لعن الله الذي وسمه . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک گدھا گزرا جس پر داغ دیا گیا تھا آپ ﷺ نے ( اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے۔ ( مسلم ) تشریح اگر یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ آنحضرت ﷺ نے اس گدھے کے منہ پر داغ دینے والے پر لعنت فرمائی حالانکہ مسلمانوں پر لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہوسکتا ہے کہ داغنے والا مسلمان نہ رہا ہو یا منافقین میں سے ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ کا یہ لعنت کرنا بد دعا کے طور پر نہ ہو بلکہ اخبار بالغیب کے طور پر ہو یعنی آپ ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ گویا یہ خبر دی کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں لعنت کا مستوجب قرار پا گیا ہے۔ جاننا چاہئے کہ کسی بھی جاندار کے منہ پر داغ دینا متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک ممنوع ہے، خواہ آدمی ہو یا کوئی بھی جانور و حیوان! جانور کے منہ کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصہ پر داغ دینے کا مسئلہ یہ ہے کہ امتیاز و تعین کے مقصد سے زکوٰۃ اور جزیہ کے جانوروں کو داغنے کو تو بعض علماء نے مستحب کہا ہے اور ان کے علاوہ دوسرے جانوروں کو داغنا بھی محض جائز ہے۔ جہاں تک آدمیوں پر داغ دینے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں آنحضرت ﷺ اور صحابہ وغیرہ کے مختلف اخبار و آثار قولا اور فعلا منقول ہیں۔ بعض اقوال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کوئی اچھا فعل نہیں ہے، بعض اقوال مدح ترک پر دلالت کرتے ہیں اور بعض اقوال صریح ممانعت کو ثابت کرتے ہیں، جب کہ آنحضرت ﷺ کا یہ عمل جواز پر دلالت کرتا ہے آپ ﷺ نے ایک طبیب کو حضرت ابی بن کعب ؓ کے پاس بھیجا جس نے ان کی فصد کھولی اور داغا، نیز حضرت جابر ؓ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ زخمی ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے ان پر داغ دینے کی اجازت دی، بلکہ جب ورم ہوا تو ان پر اور داغ دیا گیا، نیز حضرت جابر ؓ اور حضرت ابوذرارہ ؓ کے جسم پر داغ دیا جانا بھی منقول ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جن اقوال میں انسانی جسم کو داغنے کی ممانعت مذکور ہے ان کا تعلق قصدا بلا ضرورت و امتیاج داغنے سے ہے، ہاں اگر کسی مرض وغیرہ کے سلسلے میں داغ دینے کی ضرورت ہو تو جائز ہے۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ( علاج کی نیت سے) انسانی جسم کے کسی حصہ کو داغنا، اسباب و ہم یہ میں سے ہے کہ اس کو اختیار کرنا جذبہ توکل و اعتماد علی اللہ کے اعتبار سے مناسب نہیں ہے جب کہ دوسرے علاج اسباب طنیہ میں سے ہونے کی وجہ سے توکل کے قطعا منافی نہیں ہیں، ہاں اگر اس بات کا ظن غالب ہو کہ داغنا، مرض کے دفعیہ کے لئے ایک سود مند علاج ہوگا تو اس صورت میں اس کو اختیار کرنا غیر مناسب نہیں ہوگا۔ چناچہ اہل فتویٰ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے کہ داغنا بذاتہ مکروہ تحریمی ہے مگر ظن غالب حاصل ہونے کی صورت میں بایں طور کہ طبیب حاذق یہ کہہ دے کہ مرض کے دفعیہ کا انحصار صرف داغنے پر ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا علاج نہیں ہے تو داغنا مکروہ تحریمی نہیں ہوگا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ داغنے کی ممانعت اس بنیاد پر ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اس بات کا پختہ عقیدہ رکھتے تھے کہ داغنا مرض کے دفعیہ کے لئے ایک قطعی اور یقینی علاج ہے، ظاہر ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ایک باطل عقیدہ تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا تاکہ وہ اس کو اختیار کرنے سے شرک خفی کے جال میں نہ پھنس جائیں۔

3982Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کو کسی ضرورت ومصلحت کی وجہ سے داغنا جائز ہے

وعن أنس قال : غدوت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعبد الله بن أبي طلحة ليحنكه فوافيته في يده الميسم يسم إبل الصدقة

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں ( ایک دن) صبح کے وقت عبداللہ بن ابوطلحہ ؓ کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لے گیا تاکہ آپ ﷺ کھجور چبا کر اس کے تالو میں لگا دیں، چناچہ اس وقت میں نے آپ ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ ﷺ کے دست مبارک میں داغنے کا آلہ تھا جس کے ذریعہ زکوٰۃ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح عبداللہ بن طلحہ ؓ ماں کی طرف سے حضرت انس ؓ کے بھائی تھے یعنی ماں کی طرف سے حقیقی بھائی تھے اور باپ کی طرف سے سوتیلے بھائی تھے اور ابوطلحہ ؓ عنہ، حضرت انس ؓ کی ماں کے دوسرے خاوند تھے جن سے عبداللہ پیدا ہوئے تھے کھجور چبا کر اس کا لعاب بچے کے تالو میں لگانا سنت ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ان اونٹوں کو داغنا کسی خلجان کا باعث نہیں بننا چاہئے کیونکہ آپ ﷺ منہ کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں پر داغ دے رہے تھے اور داغنے کی جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق خاص طور پر منہ سے ہے، یا بلا ضرورت داغنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جب کہ زکوٰۃ کے اونٹوں کو اس ضرورت کے تحت داغا جا رہا تھا کہ ان کے اور دوسرے اونٹوں کے درمیان فرق و امتیاز کیا جاسکے۔

3983Mishkaat-al-Masabih

جانوروں کو کسی ضرورت ومصلحت کی وجہ سے داغنا جائز ہے

وعن هشام بن زيد عن أنس قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو في مربد فرأيته يسم شاء حسبته قال : في آذانها

اور حضرت ہشام ین زید، حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ ﷺ جانوروں کے باڑے میں تھے، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ بکریوں وغیرہ کے کسی عضور پر داغ دے رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت انس ؓ نے یہ بیان کیا تھا کہ ( آپ ﷺ ان بکریوں وغیرہ کے کان پر ( داغ دے رہے تھے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ منہ یعنی چہرہ میں کان شامل نہیں ہے، کیونکہ ( چہرہ) پر داغ دینے سے تو منع فرمایا گیا ہے اگر کان کا تعلق بھی چہرہ سے ہوتا تو آپ ﷺ کان پر داغ کیوں دیتے۔

3984Mishkaat-al-Masabih

جو چیز خون بہا دے اس کے ذریعہ ذبح کرنا درست ہے

عن عدي بن حاتم قال : قلت يا رسول الله أرأيت أحدنا أصاب صيدا وليس معه سكين أيذبح بالمروة وشقة العصا ؟ فقال : أمرر الدم بم شئت واذكر اسم الله . رواه أبو داود والنسائي

اور حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص ( کسی جانور کا) شکار پکڑے اور اس وقت اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ کسی پتھر کے ٹکڑے یا کسی لکڑی کی کھپچ سے اس شکار کو ذبح کرسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم جس چیز سے چاہو بسم اللہ پڑھ کر خون بہا دو۔ ( ابوداؤد، نسائی )

3985Mishkaat-al-Masabih

ذبح اضطراری کا حکم

وعن أبي العشراء عن أبيه أنه قال : يا رسول الله أما تكون الذكاة إلا في الحلق واللبة ؟ فقال : لو طعنت في فخذها لأجزأ عنك . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي وقال أبو داود : وهذه ذكاة المتردي وقال الترمذي : هذا في الضرورة

اور حضرت ابوالعشراء اپنے والد محترم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا ( شرعی) ذبح کا تعلق حلق اور سینہ کے سرے کے درمیانی حصے سے ہے؟ یعنی کیا شرعی طور پر ذبح صرف اسی کو کہا جائے گا کہ جانور کے حلق اور سینے کے سرے کے درمیان جراحت کے ساتھ خون بہایا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم شکار کی ران میں بھی جراحت پہنچا دو گے تو تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ( ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یہ ( یعنی حدیث میں مذکورہ ذبح کی اجازت دینا، اس جانور سے متعلق ہے جو کنویں میں گرپڑا ہو یعنی یہ ذبح اضطراری کی صورت کا حکم ہے اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ ضرورت کی حالت کا حکم ہے۔ تشریح امام ترمذی نے گویا امام ابوداؤد کی وضاحت کو اور زیادہ توسع کے ساتھ بیان کیا تاکہ اس حکم میں بھاگے ہوئے اونٹ کو ذبح کرنے کی صورت بھی شامل ہوجائے۔

3986Mishkaat-al-Masabih

اگر تربیت یافتہ کتے وغیرہ کا پکڑا ہوا شکار مر بھی جائے تو اس کا کھانا جائز ہے

وعن عدي بن حاتم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما علمت من كلب أو باز ثم أرسلته وذكرت اسم الله فكل مما أمسك عليك . قلت : وإن قتل ؟ قال : إذا قتله ولم يأكل منه شيئا فإنما أمسكه عليك . رواه أبو داود

اور حضرت عدی ابن حاتم ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس جانور کو تم نے سکھلایا خواہ وہ کتا ہو یا باز اور پھر تم نے ( ان میں سے) کسی کو شکار پر چھوڑا اور ( چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا تو تم اس جانور کو کھالو جس کو اس ( کتے یا باز نے) تمہارے لئے پکڑا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگرچہ اس نے اس ( شکار) کو مار ڈالا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب کہ وہ کتا یا باز شکار کو مار ڈالے اور خود اس میں سے کچھ نہ کھائے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ اس نے اس شکار کو تمہارے ( ہی) لئے پکڑ رکھا ہے۔ ( ابوداؤد )

3987Mishkaat-al-Masabih

تیر کے شکار کا حکم

وعنه قال : قلت : يا رسول الله أرمي الصيد فأجد فيه من الغد سهمي قال : إذا علمت أن سهمك قتله ولم تر فيه أثر سبع فكل . رواه أبو داود

اور حضرت عدی ابن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں شکار پر اپنا تیر چلاتا ہوں اور پھر اگلے دن ( جب وہ شکار کہیں پڑا ہوا مجھے ملتا ہے تو) اس میں میں اپنا تیر پاتا ہوں ( کیا میں وہ شکار کو کھا سکتا ہوں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں اگر تم یہ جانور کہ اس شکار کو تمہارے ہی تیر نے مار ڈالا ہے اور اس ( شکار) میں تم کسی درندے کا کوئی نشان نہ پاؤ تو اس کو کھا سکتے ہو ( اور اگر اس شکار میں کسی درندے کے دانت یا پنجے وغیرہ کوئی نشان پاؤ یا کسی دوسرے کے تیر کی علامت پاؤ تو اس صورت میں اس کو مت کھاؤ۔ ( ابوداؤد ) جس غیر مسلم کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال نہیں، اس کا کتے وغیرہ کے ذریعہ پکڑا ہوا شکار بھی حلال نہیں

3988Mishkaat-al-Masabih

تیر کے شکار کا حکم

وعن جابر قال : نهينا عن صيد كلب المجوس . رواه الترمذي

اور حضرت حابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کا پکڑا ہوا شکار کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ ( ترمذی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شکار کو مجوسی اپنے کتے یا کسی مسلمان کے کتے کے ذریعہ پکڑے اس کو کھانا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ شکار زندہ ہاتھ لگے اور اس کو ذبح کرلیا جائے تو اس صورت میں اس کو کھانا جائز ہوگا اور اسی طرح اگر مسلمان نے مجوسی کے کتے کے ذریعہ شکار مارا ہے تو اس کو کھانا بھی جائز ہوگا اور اگر کتے چھوڑنے یا تیر چلانے میں مسلمان اور مجوسی دونوں شریک ہوں اور وہ شکار مارے تو وہ شکار بھی حلال نہیں ہوگا۔