گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت
وعن زاهر الأسلمي قال : إني لأوقد تحت القدور بلحوم الحمر إذ نادى منادي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهاكم عن لحوم الحمر . رواه البخاري
اور حضرت زاہر اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) میں اس ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا، جس میں گدھے کا گوشت ( پکنے کے لئے رکھا ہوا) تھا کہ اچانک رسول کریم ﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرماتے ہیں۔ ( بخاری )
وعن أبي ثعلبة الخشني يرفعه : الجن ثلاثة أصناف صنف لهم أجنحة يطيرون في الهواء وصنف حيات وكلاب وصنف يحلون ويظعنون . رواه في شرح السنة
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ بطریق مرفوع نقل کرتے ہیں کہ ( آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنات کی تین قسمیں ہیں، ایک تو وہ جن کے پر ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں، دوسری قسم وہ ہیں جو سانپ اور کتے ( کی شکل میں نظر آتے ہیں اور تیسری قسم وہ ہیں جو منزل پر اترتے اور کوچ کرتے ہیں۔ ( شرح السنۃ )
عقیقہ عق سے مشتق ہے، لغت میں عق کے معنی ہیں چیرنا، پھاڑنا اصلاح میں عقیقہ ان بالوں کو کہتے ہیں جو نوزائیدہ کے سر پر ہوتے ہیں۔ ان بالوں کو عقیقہ اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہ بال ساتویں دن مونڈے جاتے ہیں اور اس مناسبت سے عقیقہ اس بکری کو بھی کہتے ہیں جو بچے کے سر مونڈنے کے وقت ذبح کی جاتی ہے۔ عقیقہ کی شرعی حیثیت عقیقہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں، ائمہ ثلاثہ یعنی حضرت امام احمد، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کے نزدیک عقیقہ سنت ہے اور اکثر احادیث سے بھی اس کا سنت ہونا معلوم ہوتا ہے حضرت امام احمد سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ عقیقہ واجب ہے۔ جہاں تک حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک عقیقہ سنت نہیں ہے بلکہ مستحب ہے جو سنت سے ثابت ہے۔ مشہور حنفی مجتہد حضرت امام محمد نے اپنی کتاب مؤطا میں یہ لکھا ہے کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ عقیقہ ( اصل میں) زمانہ جاہلیت کی ایک رسم تھی جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی رائج رہی مگر پھر قربانی نے ہر اس ذبح ( کے وجوب) کو منسوخ قرار دیا جو قربانی سے پہلے رائج تھا، رمضان کے روزوں نے ہر اس روزے ( کے وجوب) کو منسوخ قرار دیا جو اس سے پہلے رائج تھا، غسل جنابت نے ہر اس غسل ( کے وجوب کو) منسوخ قرار دے دیا جو اس سے پہلے رائج تھا، زکوٰۃ نے ہر اس صدقہ ( کے وجوب) کو منسوخ قرار دے دیا جو اس سے پہلے رائج تھا۔ عقیقہ کے احکام جو احکام و شرائط قربانی کے سلسلے میں منقول و معتبر ہیں وہی احکام و شرائط عقیقہ کے بارے میں بھی مقبول و معتبر ہیں۔
عن سلمان بن عامر الضبي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مع الغلام عقيقة فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى . رواه البخاري
حضرت سلمان بن عامر ضبی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کرنا ( مسنون یا مستحب) ہے لہٰذا اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے ایذاء ( یعنی اس کے سر کے بال اور میل کچیل) دور کرو )۔ ( بخاری )
وعن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يؤتى بالصبيان فيبرك عليهم ويحنكهم . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ( نو زائیدہ) بچے لائے جاتے چناچہ آپ ﷺ ان کے لئے برکت کی دعا کرتے یعنی ان کے سامنے فرماتے، بارک اللہ علیک اللہ تعالیٰ تجھ پر برکت و رحمت نازل فرمائے) اور ان کے تحنیک کرتے۔ ( مسلم )
تشریح
تحنیک یہ ہے کہ کھجور یا کسی اور میٹھی چیز کو چبا کر بچے کے تالو میں لگایا جائے چناچہ یہ تحنیک ایک مسنون عمل ہے اور بہتر یہ ہے کہ تحنیک کرنے والا کوئی نیک اور صالح آدمی ہو۔
وعن أسماء بنت أبي بكر أنها حملت بعبد الله بن الزبير بمكة قالت : فولدت بقباء ثم أتيت به رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعته في حجره ثم دعا بتمرة فمضغها ثم تفل في فيه ثم حنكه ثم دعا له وبرك عليه فكان أول مولود ولد في الإسلام
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ مکہ میں عبداللہ ابن زبیر ؓ ان کے پیٹ میں آئے، حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں کہ قباء کے مقام پر میرے ولادت ہوئی تو میں ان ( عبداللہ) کو لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور ان کو آنحضرت ﷺ کی گود میں دے دیا آنحضرت ﷺ نے کھجور منگائی اور اس کو چبایا، پھر اپنا آب دہن ان کے منہ میں ڈالا یعنی آپ ﷺ نے، اس کھجور کو جو آپ ﷺ کے لعاب مبارک کے ساتھ مخلوط ہوگئی تھی، عبداللہ کے منہ میں رکھا اور پھر وہ کھجور ان کے تالو میں لگائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کے لئے دعا کی اور برکت چاہی ( یعنی یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر برکت نازل فرمائے) چناچہ عبداللہ بن زبیر ؓ پہلے شخص تھے، جو اسلام ( کے عہد) میں پیدا ہوئے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
قبا مدینہ شہر سے جنوب مغربی سمت تقریبا ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک آبادی ہے۔ مکہ سے مدینہ کے لئے سفر ہجرت میں آنحضرت ﷺ کی یہ آخری منزل تھی، جہاں آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے اترے اور تین دن یا چار دن قیام فرمایا جس جگہ آپ ﷺ نے قیام فرمایا تھا اس جگہ آپ ﷺ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی، جس کو مسجد قبا کہتے ہیں، قبا اگرچہ مدینہ منورہ سے باہر ہے، لیکن اس کا تعلق ایک طرح سے ایسا ہی ہے جیسا کہ محلہ کا ہوتا ہے۔ اس جگہ بڑی شادابی ہے۔ اور مختلف پھلوں اور میووں کے باغات ہیں، اسی قبا میں بئراریس نامی کنواں ہے، جہاں آپ ﷺ نے چند صحابہ کو جنت کی بشارت دی تھی اور جس میں حضرت عثمان ؓ کے عہد میں آنحضرت ﷺ کی وہ انگوٹھی گرگئی تھی، جس سے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین مہر لگایا کرتے تھے، اس کنویں کا پانی بہت کھارا تھا کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنا لعب دہن شامل فرمایا جب سے اس کا پانی میٹھا ہے، مگر اب یہ کنواں خشک ہوگیا ہے۔ عبداللہ بن زبیر ؓ پہلے شخص تھے الخ کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مہاجرین میں جو سب سے پہلا بچہ پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ؓ تھے، مہاجرین کی قید اس لئے لگائی گئی کہ ہجرت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی پیدائش سے بھی پہلے مدینہ میں مسلمانوں کے یہاں سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ نعمان بن بشیر انصاری ؓ تھے۔
عقیقہ کے جانوروں کی تعداد
عن أم كرز قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أقروا الطير على مكناتها . قالت : وسمعته يقول : عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة ولا يضركم ذكرانا كن أو إناثا . رواه أبو داود وللترمذي والنسائي من قوله : يقول : عن الغلام إلا آخره وقال الترمذي : هذا صحيح
حضرت ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں قرار دو، ام کرز ؓ کہتی ہیں کہ۔ اور میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ ( عقیقہ میں) لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے اور اس میں تمہارے لئے کوئی نقصان نہیں ہے کہ وہ ( بکری) نر ہو یا مادہ، یعنی اس بات کا لحاظ ضروری نہیں کہ لڑکے کے عقیقہ میں بکرے ذبح کئے جائیں اور لڑکی کے عقیقہ میں بکری ذبح کی جائے ( ابوداؤد، ترمذی) نسائی کی روایت میں یقول عن الغلام سے آخر تک ہے۔ نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
تشریح
مکنات میم کے زبر اور کاف کے زیر اور زبر کے ساتھ ہے اور مشکوٰۃ کے ایک نسخہ میں کاف کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اس کے معنی مکان کے ہیں۔ اس ارشاد گرامی پرندوں کو ان کے کھونسلوں میں قرار دو کا مطلب یہ ہے کہ ان ( پرندوں) کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو اڑاؤ نہیں۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مکنات اصل میں جمع ہے مکنۃ کی جس کے معنی سو سمار ( گوہ) کے انڈے کے ہیں، لیکن یہاں یہ لفظ مطلق انڈوں کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، اس صورت میں اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر پرندے انڈوں پر بیٹھے ہوں تو ان کے گھونسلوں کو ہلا کر ان کو ستاؤ مت۔ یا پھر اس ارشاد گرامی کا تعلق تطیر اور فال بد لینے کی ممانعت سے ہے، جیسا کہ عرب میں لوگوں کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کام کا قصد کرتا، یا کہیں کا سفر کرنے کا ارادہ کرتا، تو پرندے کے گھونسلے پر آتا اور اس کو چھیڑ کر اڑاتا، اگر وہ پرندہ داہنی طرف اڑتا تو مبارک جان کر اور فال نیک سمجھ کر اس کام کو کرتا، یا سفر پر روانہ ہوجاتا اور اگر وہ پرندہ بائیں طرف اڑتا تو اس کو منحوس سمجھ کر اس کام یا سفر سے باز رہتا، اس کو تطیر کہتے ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ پرندہ جہاں ہو اس کو وہیں رہنے دو کہ اس کو مت اڑاؤ اور نہ اس سے بد فالی لو۔
وعن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي لكن في روايتهما رهينة بدل مرتهن وفي رواية لأحمد وأبي داود : ويدمى مكان : ويسمى وقال أبو داود : ويسمى أصح
اور حضرت حسن بصری ؓ حضرت سمرہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر ( بچہ) اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ( اس کی پیدائش کے) ساتویں دن اس کے ( عقیقہ کے) لئے ( جانور) ذبح کیا جائے ( ساتویں ہی دن) اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے۔ اس روایت کو احمد، ترمذی، نسائی نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد نسائی کی روایت میں مرتھن کے بجائے رھینۃ ہے اور احمد و ابوداؤد کی ایک روایت میں یسمی کے بجائے و یدمی ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ لفظ یسمی ہی زیادہ صحیح ہے۔
تشریح
ظاہر ہے کہ بچہ چونکہ مکلف نہیں ہے کہ اگر اس کا عقیقہ نہ کیا جائے تو اس کے ماخوذ و معتوب ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا، اس صورت میں بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر عقیقہ کے عوض بچے کے گروی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ چناچہ حضرت امام احمد نے تو اس ارشاد گرامی ﷺ کا مطلب یہ بیان کیا ہے، کہ جس بچے کا عقیقہ نہیں ہوتا اور وہ کم سنی میں مرجاتا ہے تو اس کو اپنے والدین کی شفاعت کرنے سے روک دیا جاتا ہے کہ جب تک والدین اس کا عقیقہ نہ کردیں وہ اس کے حق میں شفاعت کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔ بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جب تک والدین بچہ کا عقیقہ نہیں کرتے اس کو بھلائیوں سلامتی آفات اور بہتر نشو نما سے باز رکھا جاتا ہے اور پھر اس کے جو برے نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ حقیقت میں والدین کے مواخذہ کا سبب بنتے ہیں کہ ترک عقیقہ انہوں نے ہی کیا ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ گروی ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ بچہ اپنے بالوں وغیرہ کی گندگی و اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے۔ فامیطوا عنہ الاذی ( بچے کو اذیت سے ہٹاؤ) یعنی اس کے بال میل کچیل اور خون وغیرہ صاف کرو) لہٰذا جب بچہ کا عقیقہ ہوتا ہے تو وہ گویا سر کے بال وغیرہ صاف ہوجانے سے اس اذیت سے نجات پا جاتا ہے۔ لفظ یدمی۔ یا کے پیش دال کے زبر اور میم مفتوحہ کی تشدید کے ساتھ تدمیہ سے مشتق ہے جس کے معنی، خون آلود کرنے۔ کے ہیں۔ لہٰذا ایک روایت میں ویسمی ( اور اس کا نام رکھا جائے) کی جگہ ویدمی ہے۔ لیکن جیسا کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس جگہ لفظ ویسمی ہی ہونا چاہئے۔ تاہم قتادہ نے ویدمی کی تشریح یہ کی ہے کہ جب عقیقہ کے جانور کو ذبح کیا جائے تو اس کے تھوڑے سے بال لے کر اس کی گردن کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ وہ ( بال) اس کے خون سے آلودہ ہوجائیں جو ذبح کے وقت اس جانور کی گردن کی رگوں سے نکلے اور پھر وہ خون آلودہ بال اس بچے کی چندیا پر اس طرح رکھ دیا جائے کہ خون اس کی چندیا پر ایک لکیر کی صورت میں بہے اور اس کے بعد بچہ کا سر دھو کر منڈوا دیا جائے۔ سفر السعادۃ کے مصنف نے لکھا ہے کہ یہ ( تدمیہ) نہ کیا جائے کیونکہ روایت میں لفظ یدمی دراصل کسی روای کی طرف سے تحریف ہے جس کا آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ آنحضرت ﷺ سے تدمیہ ثابت ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت امام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ کا عقیقہ کیا، لیکن یہ عملی ( تدمیہ) نہیں کیا تھا، نیز یہ بھی لکھا ہے کہ یہ عمل دراصل زمانہ جاہلیت کی ایک رسم تھی جس کو منسوخ قرار دیا گیا ٫ جیسا کہ اس باب کی تیسری فصل میں آنے والی حدیث سے واضح ہوگا۔ علماء نے لکھا ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں لفظ یدمی کا منقول ہونا حدیث کے ایک راوی ہمام کا وہم ہے اور قتادہ نے اس لفظ کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے وہ منسوخ ہے، خطابی نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے بچے کے بدن سے اذیت اور سوکھی پلیدی کو دور کرنے کا حکم فرمایا تو اس کے سر کو تر خون سے آلودہ کر کے نجس کرنے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے، تاہم بعض علماء نے بچے کے سر کو خون سے آلودہ کرنے کے بجائے خلوق اور زعفران جیسی خوشبوؤں سے لتھیڑنا نقل کیا ہے۔
لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا مسئلہ
وعن محمد بن علي بن حسين عن علي بن أبي طالب قال : عق رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحسن بشاة وقال : يا فاطمة احلقي رأسه وتصدقي بزنة شعره فضة فوزناه فكان وزنه درهما أو بعض درهم . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب وإسناده ليس بمتصل لأن محمد بن علي بن حسين لم يدرك علي بن أبي طالب
حضرت محمد بن علی بن حسین ؓ ( یعنی حضرت امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین شہید ؓ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا رسول کریم ﷺ نے ( اپنے نواسے اور میرے بچے) حسن کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کی تھی اور فرمایا کہ فاطمہ ؓ! اس ( حسن ؓ کا سر مونڈو اور اس کے بال کے ہم وزن چاندی صدقہ کردو۔ چناچہ ہم نے ان بالوں کا وزن کیا تو وہ ایک درہم یا ایک درہم سے کم وزن کے تھے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور اس کی اسناد متصل یعنی مسلسل نہیں ہے۔ کیونکہ محمد بن علی بن حسین نے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری یا بکرا بھی ذبح کیا جاسکتا ہے، نیز ابوداؤد نے بھی حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی طرف سے عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح کیا، یہ حدیث آگے آرہی ہے۔ لیکن نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے دو دو مینڈھے روایت کئے ہیں اور حضرت بریدہ ؓ نے مطلق نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کی طرف سے عقیقہ کیا۔ سفر السعادۃ کے مصنف نے لکھا ہے کہ اگرچہ ایک بکری کی روایت بھی صحیح ہے۔ لیکن زیادہ مضبوط اور زیادہ صحیح وہی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں ذبح کی جائیں، کیونکہ اس روایت کو صحابہ کی ایک پوری جماعت نے نقل کیا ہے نیز لڑکے کے عقیقہ میں دو بکری کو ذبح کرنے کو ترجیح دینے کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ایک بکری ذبح کرنا آپ ﷺ کے عمل سے ثابت ہے۔ اور دو بکریاں ذبح کرنا آپ ﷺ کے ارشاد سے ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز قول سے ثابت ہو وہ فعل سے کہیں زیادہ مضبوط اور کہیں زیادہ مکمل سمجھی جاتی ہے، کیوں کہ فعل کے بارے میں یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ وہ کسی مخصوص حالت سے متعلق ہو، جب کہ قول میں عمومیت واکملیت ہوتی ہے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ فعل تو محض جواز پر دلالت کرتا ہے اور قول سے جواز کے ساتھ استحباب بھی ثابت ہوتا ہے، ترمذی نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جن صحابہ کی روایتیں منقول ہیں، وہ یہ ہیں، حضرت علی ؓ عنہ، حضرت عائشہ ؓ، حضرت ام کرز ؓ، حضرت بریدہ ؓ عنہ، حضرت سمرہ ؓ عنہ، حضرت ابوہریرہ ؓ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ عنہ، حضرت انس ؓ عنہ، حضرت سلمان بن عامر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ۔ اور ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے، احتمال ہے کہ لڑکے کے حق میں استحباب کا کم سے کم درجہ ایک بکری ہو اور کمال استحباب دو بکری ہو جس حدیث میں ایک بکری یا ایک منڈھے کا ذکر ہے اس کے بارے میں احتمال ہے کہ یہ حدیث کم سے کم درجہ پا اکتفا کرنے کے جواز کو ظاہر کرنے کے لئے ہو یا یہ کہ یہ حدیث دراصل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ لازم اور ضروری نہیں ہے کہ لڑکے کے عقیقہ میں جو دو بکری یا جو دو منڈھے ذبح کئے جاتے ہیں، وہ دونوں ساتویں ہی دن ذبح ہوں، لہٰذا ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حسن و حسین ؓ کی طرف سے ایک ایک بکری یا ایک ایک مینڈھا تو ان کی پیدائش کے دن ہی ذبح کردیا ہو اور دوسری بکری یا دوسرے منڈھے کو ساتویں دن ذبح کیا ہو اس تاویل و توضیح کی صورت میں تمام روایتوں کے درمیان مطابقت و یکسانیت پیدا ہوجائے گی اور کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا، یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ہی مینڈھا یا ایک بکری کے ذریعہ عقیقہ کیا اور اس کے ساتھ حضرت علی ؓ یا حضرت فاطمہ ؓ کو حکم فرمایا کہ دوسرا مینڈھا یا دوسری بکری وہ ذبح کردیں، لہٰذا جس روایت میں ایک بکری یا ایک منڈھے کا ذکر ہے اس میں تو گویا آنحضرت ﷺ کی طرف یہ نسبت کہ آپ ﷺ نے ایک بکری یا ایک منڈھے کے ذریعہ عقیقہ کیا حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ اور جس روایت میں آپ ﷺ کی طرف دو بکری یا دو دنبے کو ذبح کرنے کی نسبت کی گئی ہے وہ مجاز ہے۔ اس کا سر مونڈو۔ یہ حکم یا تو حقیقۃ تھا کہ فاطمہ ؓ تم اپنے ہاتھ سے اس کا سر مونڈو، یا یہ مطلب تھا کہ کسی دوسرے شخص کو حکم دو کہ اس کا سر مونڈ دے۔ یہ امر ( یعنی آنحضرت ﷺ کی طرف سے سر مونڈنے کا حکم دیا جاتا، استحباب کے طور پر ہے۔ اسی طرح بالوں کو وزن کرنے کا حکم بھی بطریق استحباب کے ہے۔
لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنے کا مسئلہ
وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا . رواه أبو داود وعند النسائي : كبشين كبشين
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ؓ کے عقیقہ میں ایک ایک مینڈھا ذبح کیا۔ ( ابوداؤد، نسائی )
بچے کو عقوق سے بچانے کے لئے اس کا عقیقہ کرو
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن العقيقة فقال : لا يحب الله العقوق كأنه كره الاسم وقال : من ولد له ولد فأحب أن ينسك عنه فلينسك عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا۔ گویا آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو لفظ عقیقہ سے موسوم کئے جانے کو ناپسند فرمایا۔ اور پھر فرمایا کہ جس شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہو اس کو چاہئے، کہ وہ اس لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ (ابوداؤد و نسائی)
تشریح
اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا لڑکا بڑی عمر میں پہنچ کر والدین کے حق میں عاق نہ ہو یعنی والدین کی نافرمانی کرنے والا نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کی چوٹی عمر میں عقیقہ (کا جانور) ذبح کرے، کیونکہ والدین کا عقوق ( یعنی والدین کا اپنے بچے کا عقیقہ نہ کر کے گویا ایک طرح کی نافرمانی کرنا) دراصل لڑکے کے عقوق ( یعنی لڑکے کے نافرمانبردار ہوجانے) کا باعث ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی حالت میں پسند نہیں کرتا۔ اس اعتبار سے حدیث کے الفاظ گویا من ولد لہ ( جس شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہو الخ) کی تمہید کے طور پر ہیں۔ گویا آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو لفظ عقیقہ سے موسوم کئے جانے کو ناپسند فرمایا۔ روایت کے یہ الفاظ کسی راوی کے اپنے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے عقیقہ کو عقیقہ کے لفظ سے موسوم کئے جانے کو پسند نہیں فرمایا۔ تاکہ یہ گمان نہ ہو کہ یہ عقیقہ عقوق سے مشتق ہے، جس کے معنی والدین سے سرکشی اور ان کی نافرمانی کرنا ہیں) جب کہ آپ ﷺ نے یہ پسند فرمایا کہ اس کو اس سے بہتر نام جیسے ذبیحہ یا نسی کہ سے موسوم کیا جائے ( نہایہ) لیکن تور پشی نے کہا ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ کی طرف اس بات کی نسبت کہ ( گویا آپ ﷺ نے عقیقہ کہے جانے کو ناپسند فرمایا) غیر موزوں ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے کتنے ہی ارشادات میں عقیقہ ہی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اگر آپ ﷺ کے نزدیک یہ لفظ ناپسندیدہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس کا ذکر کیوں فرماتے، لیکن اس سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ کہ یہ احتمال ہے کہ سوال کرنے والے نے یہ گمان کیا ہو کہ مادہ اشتقاق میں عقیقہ اور عقوق کا مشترک ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ حکم کے اعتبار سے عقیقہ کی زیادہ اہمیت نہ ہو۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اپنے جواب کے ذریعہ یہ واضح کردیا کہ امر واقعی اس کے خلاف ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے نہایہ کی مذکورہ بالا وضاحت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ جن احادیث میں آنحضرت ﷺ کا عقیقہ کا لفظ ذکر کرنا منقول ہے وہ اس کراہت سے پہلے کی ہوں گی۔
بچے کے کان میں اذان دینا مسنون ہے
وعن أبي رافع قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أذن في أذن الحسن ابن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة . رواه الترمذي وأبو داود . وقال الترمذي : هذا حيث حسن صحيح
اور حضرت ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے حسن بن علی ؓ کے کان میں اذان دی، جب کہ حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں ان کی ولادت ہوئی اور وہ اذان نماز کی اذان کی طرح تھی۔ ( ترمذی، ابوداؤد، ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دینا سنت ہے۔ مسند ابولیلی موصلی میں حضرت حسین ؓ نے بطریق مرفوع ( یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد) نقل کیا ہے کہ جس شخص کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان دے اور بائیں کان میں تکبیر کہے، تو اس کو ام الصبیان سے ضرر نہیں پہنچے گا۔ نیز امام نووی کے کتاب الروضہ میں لکھا ہے کہ بچے کے کان میں یہ الفاظ کہنے بھی مستحب ہے۔ آیت (انی اعیذھا بک وذریتھا الشیطن الرجیم)۔