سخت مصیبت میں کون لوگ مبتلا ہوتے ہیں
وعن سعد قال : سئل النبي صلى الله عليه و سلم : أي الناس أشد بلاء ؟ قال : الأنبياء ثم المثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه فإن كان صلبا في دينه اشتد بلاؤه وإن كان في دينه رقة هون عليه فما زال كذلك حتى يمشي على الأرض مال ذنب . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت سعد فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون شخص (محنت و مصیبت کی) زیادہ بلاء میں مبتلا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء۔ پھر وہ لوگ جو انبیاء سے بہت زیادہ مشابہ ہوں پھر وہ لوگ جو ان سے بہت زیادہ مشابہ ہوں۔ (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) انسان اپنے دین کے مطابق (مصیبت میں) مبتلا کیا جاتا ہے، چناچہ اگر کوئی شخص اپنے دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کی مصیبت بھی ہلکی ہوتی ہے، (لہٰذا اپنے دین میں سخت شخص اسی طرح ہمیشہ) مصیبت و بلاء میں گرفتار رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کی مغفرت ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمین کے اوپر اس حال میں چلتا ہے کہ (اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام مصیبت و بلاء میں سب سے زیادہ مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بلاء و مصیبت میں اسی طرح لذت محسوس کرتے ہیں جس طرح کے عام انسان نعمت و راحت میں لذت محسوس کرتے ہیں، پھر ان کے بعد وہ لوگ مصیبت و سختی میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان کے مشابہ ہوتے ہیں یعنی اولیاء اللہ اور صلحاء انہیں بھی مصیبت و تکلیف کی سخت آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثواب کے مستحق ہوں مگر ان کی مصیبت و بلاء کی سختی انبیاء کی مصیبت و بلاء کی سختی سے کم ہوتی ہے اس کے بعد ان لوگوں کا نمبر آتا ہے جو مرتبہ اور درجہ کے اعتبار سے اولیاء اللہ سے کم ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ کلیہ بیان فرمایا جا رہا ہے کہ جو شخص اپنے دین پر سختی سے قائم رہتا ہے اور کسی مرحلہ پر بھی اس کے قدم میں لغزش نہیں آتی اس کی مصیبت و بلاء بھی بڑی سکت ہوتی ہے کیونکہ وہ صاحب یقین ہوتا ہے چناچہ جب وہ اپنی مصیبت کی سختی پر صبر کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے گناہوں کی وجہ سے اسی کا اہل ہوں تو اس کی وجہ سے اس کا ایمان کامل ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق مضبوط تر ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے گناہ دور ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو شخص اپنے دین میں نرم رو ہوتا ہے اس کی بلاء و مصیبت کی سختی بھی کم ہوتی ہے۔ تاکہ وہ بےصبری کا مظاہرہ نہ کرسکے اور اپنے ایمان وتعلق باللہ کے قوی نہ ہونے کی وجہ سے دین کے دائرہ سے نہ نکل جائے۔
اخروی بھلائی موت کی سختی میں ہے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : ما أغبط أحدا بهون موت بعد الذي رأيت من شدة موت رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه الترمذي والنسائي
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے رسول کریم ﷺ کی موت کی سختی کو دیکھا ہے کسی کے لئے موت کی آسانی کی دعا نہیں کرتی۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
حضرت عائشہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو میں موت کی آسانی کی آرزومند رہا کرتی تھی۔ مگر جب میں نے آنحضرت ﷺ کی موت کی سختی دیکھی وہ آرزو باقی نہ رہی بلکہ اب میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اخروی سعادت و بھلائی موت کی سختی میں ہے موت کی آسانی میں نہیں ہے۔
سکرات الموت میں آنحضرت ﷺ کا عمل
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم وهو بالموت وعنده قدح فيه ماء وهو يدخل يده في القدح ثم يمسح وجهه ثم يقول : اللهم أعني على منكرات الموت أو سكرات الموت . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ سکرات الموت میں مبتلا تھے آپ ﷺ کے پاس ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا آپ ﷺ پیالہ میں اپنا ہاتھ ڈبوتے پھر اپنے چہرہ مبارک پر پھیرتے اور یہ فرماتے تھے۔ دعا (اللہم اعنی علی منکرات الموت او سکرات الموت)۔ اے اللہ موت کی سخت دور کرنے کے ساتھ میری مدد فرما۔ موت کی سختی کے بجائے موت کی شدت فرماتے۔
تشریح
سکرات الموت میں آپ ﷺ اپنے ہاتھ کو پانی میں تر کر کے چہرہ مبارک پر اس لئے پھیرتے تھے تاکہ موت کی سختی اور شدت کی وجہ سے جو حرارت اور گرمی پیدا ہوگئی تھی اس میں تخفیف ہوجائے۔ آنحضرت ﷺ کی موت کی سختی اور شدت کے بارے میں علماء نے کئی وجہیں بیان کی ہیں ان میں سے ایک توجیہ یہ آپ ﷺ پر سکرات الموت کی یہ کیفیت اس لئے طاری ہوئی تاکہ امت کے لوگ اس کے سبب سے اپنی موت کے بارے میں زیادہ پریشان اور ہراساں نہ ہوں جب امتی یہ دیکھیں گے کہ آنحضرت ﷺ نے کس طرح جسد مبارک سے جدائی حاصل کی تو وہ اپنے بارے میں صبر کے دامن کو پکڑے رہیں گے جس کی وجہ سے ان کی جان کنی میں آسانی ہوگی۔
دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے بہتر ہے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أراد الله تعالى بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا وإذا أراد الله بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يوافيه به يوم القيامة . رواه الترمذي
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کے گناہوں کی سزا جلد ہی دنیا میں دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندہ کی برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔
تشریح
دنیا کی سزا بہر صورت آخرت کی سزا سے بہتر ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو جو کسی گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں دنیا ہی میں مصیب و تکلیف یا بیماری وغیرہ کی صورت میں سزا دیتا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کا عذاب ہلکا ہوتا ہے بایں طور کہ دنیا کی مدت کم ہوتی ہے جو کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتی ہے۔ ہاں وہ لوگ جو اللہ کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے اللہ کا غضب مول لیتے ہیں اور آخرت کی بدبختی میں مبتلا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں سزا نہیں دیتا بلکہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ انہیں آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا جائے جو دنیا کے عذاب سے کہیں دردناک اور شدید ہوگا۔
بلا ومصیبت میں راضی برضا رہنا چاہئے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن عظم الجزاء مع عظم البلاء وإن الله عز و جل إذا أحب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بڑی مصیبتوں کے بدلہ بڑا اجر ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو پسند کرتا ہے تو اسے (مصیبتوں میں) مبتلا کردیتا ہے چناچہ جو (مصائب و بلاء میں) راضی رہا تو اس کے لئے (اللہ تعالیٰ کی) رضا ہے اور جو شخص (مصیبت کے ابتلاء سے) ناراض رہا تو اس کے لئے (اللہ کی) ناراضگی ہے (ترمذی وابن ماجہ)
تشریح
اللہ تعالیٰ جب کسی شخص سے خوش ہوتا ہے تو اسے مصیبت و بلاء میں مبتلا کردیتا ہے اسی طرح جب کسی شخص سے ناراض و ناخوش ہوتا ہے تو اسے بھی مصیبت میں مبتلا کرتا ہے اگرچہ اس دوسرے جزو کو حدیث میں بظاہر ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن حدیث کے الفاظ فمن رضی الخ سے یہ جزو بھی مفہوم ہوتا ہے۔ گویا حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ بندہ کی خوشی و ناخوشی حق تعالیٰ کی خوشی و ناخوشی کی علامت ہے جو شخص مصیبت و بلاء میں راضی برضا رہتا ہے وہ اللہ کا پسندیدہ و محبوب ہوتا ہے بایں طور کہ اللہ بھی اس سے راضی و خوش رہتا ہے اور جو شخص مصیبت و بلاء کی سختیوں پر زبان شکایت دراز کرتا اور ناراضگی و ناخوشی کا اظہار کرتا ہے وہ راندہ درگاہ الٰہی ہوتا ہے بایں طور کہ اللہ اس سے خوش و راضی نہیں رہتا۔ چناچہ منقول ہے کہ صحابہ ؓ آپس میں یہ سوال کرتے تھے کہ کس طرح معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کس بندہ سے خوش و راضی ہے اور کس بندہ سے ناخوش و ناراض ہے؟ پھر یہ جواب دیتے تھے کہ اگر بندہ اللہ سے خوش و راضی ہے تو سمجھا جائے کہ اللہ اس بندہ سے خوش و راضی ہے اور اگر بندہ اللہ سے ناخوش و ناراض ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اللہ اس سے ناراض و ناخوش ہے۔
اہل ایمان دنیا میں ہمیشہ مصیبت میں مبتلا رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آخرت کی دائمی راحت پالیتے ہیں
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال البلاء بالمؤمن أو المؤمنة في نفسه وماله وولده حتى يلقى الله تعالى وما عليه من خطيئة . رواه الترمذي وروى مالك نحوه وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مؤمن مرد یا مؤمن عورت کی جان، اس کے مال اور اس کی اولاد کو ہمیشہ مصیبت و بلاء پہنچتی رہتی ہے یہاں تک کہ (جب) وہ (مرنے کے بعد) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے تو اس پر (یعنی اس کے نامہ اعمال میں) کوئی گناہ نہیں ہوتا (کیونکہ مصیبت و بلاء کی وجہ سے اس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں) امام ترمذی (رح) نے اس روایت کو نقل کیا اور امام مالک نے (رح) نے بھی اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ نیز امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابتلاء ومصیبت سعادت کے اس مرتبہ پر پہنچا دیتی ہے جو اعمال سے حاصل نہیں ہوتا
وعن محمد بن خالد السلمي عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا سبقت له من الله منزلة لم يبلغها بعمله ابتلاه الله في جسده أ في ماله أو في ولده ثم صبره على ذلك يبلغه المنزلة التي سبقت له من الله . رواه أحمد وأبو داود
حضرت محمد بن خالد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (یعنی اپنے والد مکرم) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے (جنت میں) جو عظیم درجہ مقدر ہوتا ہے اور وہ اسے اپنے عمل کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اس کے بعد یا اس کے مال یا اس کی اولاد کو (مصییبت میں) مبتلا کردیتا ہے اور پھر اسے صبر کی توفیق عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ اسے اس درجہ تک پہنچا دیتا ہے جو اس کے لے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقدر تھا (احمد، ابوداؤد )
تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بندہ مصیبت و بلا پر صبر کرنے کی وجہ سے اخروی سعادت کے اس عظیم درجہ و مرتبہ کو پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی عبادت و اطاعت کے ذریعہ سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔
دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے عیش کدہ
وعن عبد الله بن شخير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل ابن آدم وإلى جنبه تسع وتسعون منية إن أخطأته المنايا وقع في الهرم حتى يموت . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت عبداللہ بن شخیر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابن آدم اس حال میں پیدا کیا گیا ہے کہ اس کے پہلو میں (یعنی اس کے قریب) ننانوے مہلک بلائیں ہیں اگر وہ بلائیں اسے نہیں پہنچتیں تو بڑھاپے میں مبتلا ہوتا ہے یہاں تک کہ مرجاتا ہے ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ انسان جب عدم سے وجود میں آتا ہے تو اس کے چاروں طرف بلاؤں کا ایک جال سا پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ ایسی ایسی بلاؤں اور مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے جن سے خلاصی نہیں ہوتی اور اگر اتفاقا کوئی شخص ان بلاؤں اور مصیبتوں سے نجات پائے رہتا ہے تو آخر میں بڑھاپے کے جال میں پھنس جاتا ہے اور بڑھاپا بھی ایسا جو درد بےدوا اور بلائے بےانتہا ہوتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا مومن کے لئے ایک قید کانہ اور کافر کے لئے عیش کدہ ہے۔ لہٰذا مسلمان کو لازم آتا ہے کہ وہ دنیا کی ہر مصیبت و بلاء کے موقع پر صبر کے دامن کو ہاتھ سے پکڑے رہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے مقدر میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر راضی اور صابر رہیں کہ اخروی فلاح وسعادت کی یہی ضمانت ہے۔ ایک حدیث قدسی میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے جو بندہ میری اتاری ہوئی مصیبت و بلاء پر صبر نہ کرے میری دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرے اور میرے فیصلہ سے راضی نہ رہے تو وہ میرے علاوہ کوئی دوسرا رب ڈھونڈ لے سوچئے کہ ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کتنی شدید ہے۔ جو صبر و شکر کی راہ پر گامزن نہ ہو اور اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ رہے۔ دعا (اللہم احفظنا منہ و وفقنا للصبر والشکر والرضاء)۔
دنیا میں راحت وسکون سے رہنے والوں کی قیامت کے دن تمنا
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يود أهل العافية يوم القيامة حين يعطى أهل البلاء الثواب لو أن جلودهم كانت قرضت في الدنيا بالمقاريض . رواه الترمذي
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب مبتلائے مصیب و بلاء بہت زیادہ اجر وثواب سے نوازے جائیں گے تو اہل عافیت (یعنی وہ لوگ جو دنیا میں مصیبت و بلاؤں سے محفوظ رہے اور ان کی زندگی بڑے عیش و عشرت میں گزری) یہ تمنا کریں گے کہ کاش! دنیا میں ان کے بدن کی کھال قینچیوں سے کاٹی جاتی (تاکہ جس طرح مبتلائے مصیبت آج اتنے زیادہ اجر وثواب سے نوازے جا رہے ہیں اسی طرح ہمیں بھی بہت زیادہ ثواب ملتا) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وعن عامر الرام قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الأسقام فقال : إن المؤمن إذا أصابه السقم ثم أعفاه الله منه كان كفارة لما مضى من ذنوبه وموعظة له فيما يستقبل . وإن المنافق إذا مرض ثم أعفي كان كالبعير عقله أهله ثم أرسلوه فلم يدر لم عقلوه ولم يدر لم أرسلوه . فقال رجل يا رسول الله وما الأسقام ؟ والله ما مرضت قط فقال : قم عنا فلست منا . رواه أبو داود
حضرت عامر رامی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک مرتبہ) بیماریوں کا ذکر کیا، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن جب کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے نجات دیتا ہے تو وہ بیماری (نہ صرف یہ کہ) اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے (بلکہ) زمانہ آئندہ کے لئے باعث نصیحت (بھی) ہوتی ہے۔ یعنی بیماری اسے متنبہ کرتی ہے۔ (چنانچہ وہ آئندہ گناہوں سے بچتا ہے) اور جب منافق بیمار ہوتا ہے اور پھر اسے بیماری سے نجات دی جاتی ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے مالک نے باندھا اور پھر چھوڑ دیا اور اونٹ نے یہ نہ جانا کہ مالک نے اسے کیوں باندھا تھا اور کیوں چھوڑ دیا؟ (یہ سن کر) ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بیماری کیا چیز ہے؟ میں تو کبھی بھی بیمار نہیں ہوا! آپ ﷺ نے فرمایا! ہمارے پاس سے اٹھ کھڑے ہو! تم ہم میں سے نہیں ہو!
تشریح
مؤمن بیماری سے صحت پانے کے بعد متنبہ ہوجاتا ہے چناچہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے گناہوں کی وجہ سے بیماری میں مبتلا ہوا تھا اس لئے وہ نہ صرف یہ کہ اپنے گزشتہ گناہوں پر نادم شرمسار ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے بلکہ آئندہ گناہوں سے بھی بچتا ہے اس کے برعکس منافق کا حال یہ ہے کہ جب بیماری سے صحت یاب ہوتا ہے تو اس کی مثال بالکل اس اونٹ کی سی ہوتی ہے کہ جسے اگر اس کا مالک باندھ دے تو یہ نہ جانے کہ مجھے باندھا کیوں ہے اور اگر چھوڑ دے تو یہ نہ سمجھے کہ مجھے چھوڑا کیوں ہے۔ چناچہ منافق بیماری کی وجہ سے متنبہ نہیں ہوتا نہ تو وہ نصیحت و عبرت پکڑتا ہے اور نہ گناہوں پر نادم و شرمسار ہو کر توبہ کرتا ہے اسی لئے اس کی بیماری نہ تو اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اور زمانہ آئندہ میں اس کے لئے باعث نصیحت و عبرت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے بچ سکے ؓ (فاولئک کالانعام بل ھم اضل اولئک ھم الغافلون)۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی تم ہم میں سے نہیں ہو کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمارے اہل طریقہ میں سے نہیں ہو، کیونکہ جس طرح ہم بیماری اور بلاؤں میں مبتلا ہوئے ہیں اس طرح تم مبتلا نہیں ہوئے ہو۔
عیادت کے وقت مریض کی دلداری کرو
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخلتم على المريض فنفسوا له في أجله فإن ذلك لا يرد شيئا ويطيب بنفسه . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب
حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم مریض کے پاس (اس کا حال پوچھنے کے لئے) جاؤ تو اس کی زندگی کے بارے میں اس کا غم دور کرو (یعنی تسلی و تشفی دلاؤ کہ فکر و غم نہ کرو تم جلد ہی صحت یاب ہوجاؤ گے اور تمہاری عمر دراز ہوگی) اس لئے کہ یہ (تسلی و تشفی اگرچہ) کسی چیز کو (یعنی مقدر کے لکھے کو) ٹال نہیں سکتی (مگر) مریض کا دل (ضرور) خوش ہوتا ہے (ترمذی ابن ماجہ) امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
بعض علماء نے لکھا ہے کہ جب وقت نزع قریب ہو تو مریض کے لئے مستحب ہے کہ وہ مسواک کرے چناچہ صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے انتقال کے وقت مسواک فرمائی تھی اور اس کی حکمت بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اس سے رواح کا نکلنا آسان و سہل ہوجاتا ہے اسی طرح اس وقت فرشتوں کی خاطر خوشبو لگانا مستحب ہے، نیز پاکیزہ کپڑے پہننا، نماز پڑھنا اور نہانا بھی مستحب ہے۔
پیٹ کی بیماری میں مرنے والا قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا
وعن سليمان بن صرد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قتله بطنه لم يعذب في قبره رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت سلیمان ابن صرد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص پیٹ کی بیماری (مثلاً دست و استسقاء وغیرہ) میں مرگیا تو اسے اس کی قبر کے عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا۔ (احمد و ترمذی) امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
پیٹ کے مرض میں مرنے والے کے لئے سعادت اس لئے ہے کہ اس مرض کی سختی کی وجہ سے گناہ دور ہوجاتے ہیں اور یہ شہید مرتا ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا جا چکا ہے اور شہید کے بارے میں صحیح مسلم میں یہ حدیث منقول ہے کہ شہید کے تمام گناہ علاوہ دین (یعنی بندوں کے حقوق) کے بخش دئیے جاتے ہیں۔
عن أنس قال : كان غلام يهودي يخدم النبي صلى الله عليه و سلم فمرض فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده فقعد عند رأسه فقال له : أسلم . فنظر إلى أبيه وهو عنده فقال : أطع أبا القاسم . فأسلم . فخرج النبي صلى الله عليه و سلم وهو يقول : الحمد لله الذي أنقذه من النار . رواه البخاري
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا تو نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے چناچہ آپ ﷺ نے اس کی عیادت کی اور اس کے سر کے قریب بیٹھ گئے اور اس سے فرمایا کہ تم مسلمان ہوجاؤ لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا اس کے باپ نے کہا ابوالقاسم (یعنی آنحضرت ﷺ کا حکم مانو۔ چناچہ وہ لڑکا مشرف بہ اسلام ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ یہ فرماتے ہوئے باہر نکلے کہ حمد و ثنا اس اللہ کی جس نے اس لڑکے کو (اسلام کے ذریعہ) آگ سے نجات دی۔ (بخاری)
تشریح
حدیث کے الفاظ فقعد عند راسہ سے معلوم ہوا کہ عیادت کے وقت مریض کے سر کے پاس بیٹھنا مستحب ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کافر ذمی سے خدمت لینی اور اگر کوئی کافر ذمی بیمار ہو تو اس کی عیادت کے لئے جانا جائز ہے۔ کتاب خزانہ میں لکھا ہے کہ یہود کی عیادت کے لئے جانے میں کئی مضائقہ نہیں ہے۔ ہاں مجوسیوں کی عیادت کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ اسی طرح فاسق کی عیادت کے بارے میں بھی اگرچہ علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن صحیح تر یہ ہے کہ فاسق کی عیادت کے لئے جانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ حدیث نابالغ کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی تائید کرتی ہے۔ کیونکہ حضرت امام موصوف فرماتے ہیں کہ نابالغ کا اسلام قبول کرنا صحیح ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہاں حدیث میں جس یہودی لڑکے کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کا نام عبدالقدوس ہے۔
عیادت کے لئے پیادہ پا جانا افضل ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عاد مريضا نادى مناد في السماء : طبت وطاب ممشاك وتبوأت من الجنة منزلا . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے تو پکارنے والا (یعنی فرشتہ) آسمان سے پکار کر کہتا ہے کہ خوشی ہو تمہیں دنیا و آخرت میں اچھا ہو چلانا تیرا (آخرت میں یا دنیا میں) اور حاصل ہو تجھے بہشت کا ایک بڑا درجہ و مرتبہ (ابن ماجہ) شریح اصل مقصد تو عیادت کے لئے مریض کے پاس پہنچنا ہے۔ خواہ کسی بھی طرح اور کسی بھی ذریعہ سے پہنچا جائے لیکن علماء لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ عیادت کے لئے پیادہ پا جانا افضل ہے۔
مریض کے حال کی اطلاع دینے کا طریقہ
وعن ابن عباس قال : إن عليا خرج من عند النبي صلى الله عليه و سلم في وجعه الذي توفي فيه فقال الناس : يا أبا الحسن كيف أصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : أصبح بحمد الله بارئا . رواه البخاري
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت جب کہ آنحضرت ﷺ مرض الموت میں مبتلا تھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ (جب) نبی کریم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر باہر تشریف لائے تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ ابوالحسن (یہ حضرت علی ؓ کی کنیت تھی) آنحضرت ﷺ پر صبح کیسی گزری؟ انہوں نے فرمایا اللہ کا شکر ہے آپ ﷺ نے بیماری سے اچھے ہونے والے کی طرح صبح گزاری (یعنی شکر ہے کہ آپ ﷺ آج اچھے ہیں) (بخاری)
تشریح
جب لوگوں نے حضرت علی ؓ سے آنحضرت ﷺ کی صحت کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی ؓ نے ان الفاظ کے ذریعہ جواب دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب آپ ﷺ قریب بصحت ہیں۔ حضرت علی ؓ کا یہ جواب یا تو ان کے اپنے گمان کے مطابق تھا کہ وہ یہ ہی سمجھ رہے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ جلد ہی صحت یاب ہونے والے ہیں یا پھر یہ کہ حضرت علی ؓ نے آنحضرت ﷺ کی بیماری کی شدت کے احساس اور صحت سے مایوسی کے باوجود یہ جواب نیک فال کے طور پر دیا۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ جب کسی عیادت کرنے والے تیمار دار سے مریض کا حال پوچھا جائے تو اگرچہ بیمار کی حالت مایوس کن ہو مگر اس بارے میں ادب اور طریقہ یہی ہے کہ فال نیک کے طور پر اس طرح سے امید افزاء اور خوش کن جواب دینا چاہئے۔
وعن عطاء بن أبي رباح قال : قال لي ابن عباس رضي الله عنه : ألا أريك امرأة من أهل الجنة ؟ فقلت : بلى . قال : هذه المرأة السوداء أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : إني أصرع وإني أتكشف فادع الله تعالى لي . قال : إن شئت صبرت ولك الجنة وإن شئت دعوت الله تعالى أن يعافيك فقالت : أصبر فقالت : إني أتكشف فادع الله أن لا أتكشف فدعا لها
حضرت عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت ابن عباس ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھلاؤں؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! ( ضرور دکھلائیے) انہوں نے فرمایا کہ یہ کالی عورت (پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ) یہ عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! میں مرگی کے مرض میں مبتلا ہوں (جب مرگی اٹھتی ہے) تو میں ڈرتی ہوں کہ کہیں حالت بےخودی میں) میرا ستر نہ کھل جائے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے (کہ میری بیماری جاتی رہے) آپ ﷺ نے فرمایا اگر چاہو تو صبر کرو تاکہ تمہیں جنت ملے اور اگر چاہو تو میں دعا کروں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شفا دے۔ عورت نے عرض کیا کہ میں صبر ہی کروں گی اور پھر کہنے لگی کہ مگر میں ستر کھل جانے سے ڈرتی ہوں، آپ اللہ سے بس یہ دعا کر دیجئے کہ (مرض کی شدت اور حالت بیخودی میں) میرا ستر نہ کھلے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی (بخاری ومسلم)
تشریح
اس عورت کا نام سعیرہ یا سقیرہ اور یا سیکرہ تھا، ایک روایت کے مطابق یہ عورت ام المؤمنین حضرت حدیجہ الکبریٰ ؓ کی کنگھی کرنے والی تھی۔ اس حدیث سے اس طرف اشارہ ہے کہ مصیبت و بلاء پر صبر کرنے اور رضا بتقدیر رہنے کے پیش نظر دوا اور دعا کو ترک کردینا جائز ہے۔ بلکہ حدیث کا ظاہری مفہوم تو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صبر و رضا کے ساتھ ہمیشہ مرض میں مبتلا رہنا صحت مند اور عافیت میں رہنے سے بہتر ہے لیکن بہ نسبت بعض افراد کے یعنی یہ اس شخص کے لئے افضل ہے جس کا مرض مخلوق اللہ کی نفع رسانی کے تعطل کا باعث نہ بنے۔ نیز حدیث کا ظاہر مفہوم اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ علاج و معالجہ کا ترک کردینا افضل ہے اگرچہ علاج و معالجہ کرنا ابوداؤد کی حدیث کے مطابق سنت ہے جس میں مروی ہے کہ صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا ہم (بیماری میں) دوا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں دوا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی مرض ایسا پیدا نہیں کیا جس کی دوا بھی پیدا نہ کی ہو۔ علاوہ بڑھاپے کے۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں علاج معالجہ توکل کے منافی نہیں کیونکہ علاج و معالجہ صرف اسباب کے درجہ میں ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود بھی علاج و معالجہ کو اختیار فرمایا تھا حالانکہ آنحضرت ﷺ متوکلین کے سردار ہیں لیکن اس کے باوجود از راہ توکل علاج و معالجہ ترک کرنا جیسا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ترک فرمایا تھا، باعث فضیلت ہے۔
مبتلائے مرض ہو کر مرنا بہتر ہے
وعن يحيى بن سعيد قال : إن رجلا جاءه الموت في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رجل : هيئا له مات ولم يبتل بمرض فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويحك وما يدريك لو أن الله ابتلاه بمرض فكفر عنه من سيئاته . رواه مالك مرسلا
حضرت یحییٰ بن سعید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کو (اچانک) موت نے آدبوچا۔ ایک دوسرے شخص نے کہا کہ اسے موت مبارک ہو، اس طرح مرا کہ کسی مرض میں مبتلا نہ ہوا! یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ افسوس ہے تم پر تمہیں کیا معلوم؟ (یعنی بغیر مرض و بیماری کے اچانک مرجانے کو اچھا نہ سمجھو) اگر اللہ تعالیٰ اسے مرض مرض کے ساتھ موت دیتا تو (مرض کے بعد بدلہ میں) اس کی خطائیں دور کردیتا (یہ روایت امام مالک نے بطریق ارسال نقل کی ہے)
وعن شداد بن أوس والصنابحي أنهما دخلا على رجل مريض يعودانه فقالا له : كيف أصبحت قال أصبحت بنعمة . فقال له شداد : أبشر بكفارات السيئات وحط الخطايا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل يقول إذا أنا ابتليت عبدا من عبادي مؤمنا فحمدني على ما ابتليته فإنه يقوم من مضجعه ذلك كيوم ولدته أمه من الخطايا . ويقول الرب تبارك وتعالى : أنا قيدت عبدي وابتليته فأجروا له ما كنتم تجرون له وهو صحيح . رواه احمد
شداد بن اوس اور حضرت صنابحی ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ یہ دونوں ایک بیمار شخص کے پاس گئے اور اس کی عیادت کی، چناچہ دونوں نے مریض سے پوچھا کہ تم نے صبح کیسی گزاری؟ مریض نے کہا کہ میں نے (رضاء و تسلیم اور صبر و شکر کی) نعمت کے ساتھ صبح کی (یعنی مرض و تکلیف کی وجہ سے میں کبیدہ خاطر نہیں ہوں بلکہ رضاء بتقدیر اور صبر کے دامن کو پکڑے ہوئے ہوں جس کی وجہ سے میرا دل خوش و مطمئن ہے) حضرت شداد نے فرمایا کہ گناہوں کے جھڑنے اور خطاؤں کے دور ہونے کی بشارت سے خوش ہو، کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے کہ جب میں اپنے بندوں میں سے کسی بندہ مؤمن کو (بیماری و مصیبت میں) مبتلا کرتا ہوں اور وہ بندہ اس ابتلاء پر (دل گیر و ناخوش نہیں ہوتا بلکہ) میری تعریف کرتا ہے تو وہ اپنے بستر علالت سے ایسا (گناہوں سے پاک صاف ہو کر) اٹھتا ہے جیسا کہ وہ اس دن گناہوں سے پاک صاف تھا جس روز اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ نیز پروردگار بزرگ و برتر (فرشتوں سے) فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندہ کو قید میں ڈالا ہے اور اس آزمائش میں مبتلا کیا تھا، لہٰذا تم (اس کے نامہ اعمال) وہ (نیک) اعمال لکھنا جاری رکھو جو تم اس کے زمانہ تندرستی میں لکھنا جاری رکھتے تھے۔ (احمد)
مصیبت گناہوں کی زیادتی کو ختم کرتی ہے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كثرت ذنوب العبد ولم يكن له ما يكفرها من العمل ابتلاه الله بالحزن ليكفرها عنه . رواه أحمد
حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب (کسی) بندہ کے گناہ بہت زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے اعمال میں ایسا کوئی نیک عمل نہیں ہوتا جو ان کے گناہوں کو دور کرے تو اللہ تعالیٰ اسے غم و حزن میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ اس بندہ کے گناہوں کو دور کر دے۔ (احمد)
تشریح
ایک روایت میں جسے طبرانی اور حاکم نے نقل کیا ہے۔ یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قلب غمگین کو دوست رکھتا ہے۔
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عاد مريضا لم يزل يخوض الرحمة حتى يجلس فإذا جلس اغتمس فيها . رواه مالك وأحمد
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص کسی بیمار کے پاس جاتا ہے اور اس کی عیادت کرتا ہے تو جب تک وہ بیٹھتا نہیں دریائے رحمت میں داخل رہتا ہے اور جب بیمار کے پاس بیٹھتا ہے تو دریائے رحمت میں ڈوب جاتا ہے۔ (احمد، مالک)