جنازوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 23 · 75 hadiths · Page 2 of 4

1519Mishkaat-al-Masabih

مؤمن اور منافق کی زندگی کی مثال

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمن كمثل الزرع لا تزال لاريح تميله ولا يزال المؤمن يصبيه البلاء ومثل المنافق كمثل شجرة الأرزة لا تهتز حتى تستحصد

حضرت ابوہریرہ ؓ علیہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مؤمن کی مثال کھیتی کی سی ہے کہ (جس طرح) ہوائیں اسے ہمیشہ جھکائے رہتی ہے (اسی طرح) مؤمن کو ہمیشہ بلائیں اپنی لپیٹ میں لئے رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے۔ کہ اگرچہ وہ ہواؤں کے دباؤ سے ہلتا بھی نہیں مگر (آخرکار جڑ ہی سے) اکھڑ جاتا ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ منافق دنیاوی زندگی میں مصائب و تکلیف سے زیادہ دوچار نہیں ہوتا اور نہ بلاء آلام اس پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں تاکہ یہاں کی مصیبتوں کے بدلہ میں اس کے لئے اخروی زندگی کا عذاب ہلکا نہ ہوجائے جب کہ مسلمان کا دنیا میں مصائب و آلام میں مبتلا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اسے آخرت میں بڑی پرسکون اور پر مسرت زندگی حاصل ہوگی۔

1520Mishkaat-al-Masabih

بیماری کو برانہ کہو

وعن جابر قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على أم السائب فقال : مالك تزفزفين ؟ . قالت : الحمى لا بارك الله فيها فقال : لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد . رواه مسلم

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ حضرت ام صائب ؓ کے پاس (جو تپ ولرزہ میں مبتلا تھیں) تشریف لائے اور (ان کی حالت دیکھ کر) کہ یہ تمہیں کیا ہوا جو کانپ رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بخار کو برا مت کہو کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اسی طرح دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو صاف کردیتی ہے۔ (مسلم) تشریح ایک روایت میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کی تمام خطائیں اس کے ایک رات کے بخار کی وجہ سے دور فرما دیتا ہے اسی طرح ابوداؤد کی ایک روایت میں منقول ہے کہ ایک رات کا بخار ایک برس کے گناہ دور کردیتا ہے۔

1521Mishkaat-al-Masabih

زمانہ بیماری کے فوت شدہ اور اودونوافل کا ثواب ملتا ہے

وعن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مرض العبد أو سافر كتب له بمثل ما كان يعمل مقيما صحيحا رواه البخاري

حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر میں جاتا ہے (اور اس کی بیماری یا سفر کی وجہ سے اس کے اور ادو نوافل فوت ہوجاتے ہیں) تو (اس کے نامہ اعمال میں اتنے عمل لکھ دیئے جاتے ہیں جو وہ حالت قیام اور زمانہ تندرستی میں کیا کرتا تھا۔ (بخاری)

1522Mishkaat-al-Masabih

طاعون میں مرنے والے کی فضیلت

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الطاعون شهادة لكل مسلم

حضرت انس راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا طاعون (میں مرنا) ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس علاقہ میں جہاں طاعون کی بیماری پھیل جاتی ہے جو مسلمان صبر و برداشت کے دامن کو نہیں چھوڑتا اور بیماری سے ڈر کر کسی دوسری جگہ بھاگتا نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ کر کے وہیں پڑا رہتا ہے اور اگر وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مرجاتا ہے تو اسے شہید کے اجر سے نوازا جاتا ہے۔ طاعون ایک عام بیماری اور وباء کا نام ہے جس علاقہ میں یہ بیماری پیدا ہوتی ہے وہاں کی آب و ہوا، عام مزاج اور انسانوں کے جسم تمام ہی چیزیں اس بیماری کے جراثیم اور اس کے فساد سے متاثر ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ طاعون اس بیماری کو کہتے ہیں جس میں بدن کے نرم حصوں پر زخم ہوجاتے ہیں۔ جیسے بغل وغیرہ اور ان زخموں کے گرد سیاہی، سبزی یا سرخی ہوتی ہے۔

1523Mishkaat-al-Masabih

شہید کا ثواب پانے والے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشهداء خمسة المطعون والمبطون والغريق وصاحب الهدم والشهيد في سبيل الله

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شہداء پانچ ہیں (١) طاعون زدہ (٢) پیٹ کی بیماری (یعنی دست اور استسقاء میں مرنے والا (٣) پانی میں بےاختیار ڈوب کر مرجانے والا (٤) دیوار یا چھت کے نیچے دب کر مرجانے والا۔ (٥) اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔ (بخاری ومسلم) تشریح پانی میں ڈوب کر مرجانے والے۔ اس شخص کو شہادت کا ثواب ملے گا جو بےاختیار و بلا قصد پانی میں ڈوب گیا ہو یعنی بارادہ خود پانی میں نہ ڈوبے۔ اس طرح اگر دریا میں کشتی ڈوب جائے یا ٹوٹ جائے تو سب لوگ یا کچھ لوگ دریا میں ڈوب جائیں تو ان میں سے اسی ڈوبنے والے کو شہادت کا ثواب ملے گا جو کسی گناہ و معصیت کے ارادہ سے کشتی میں نہ بیٹھا ہو۔ اس حدیث میں پانچ قسم کے شہیدوں کا تذکرہ کیا گیا۔ لہٰذا اس سلسلہ میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ حقیقی شہید صرف وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دے۔ شہیدوں کی دیگر قسمیں حکمی ہیں یعنی وہ مرنے والے حقیقی شہید تو نہیں ہوتے ہاں اس کی بےکسی و بےبسی کی موت کی بناء پر انہیں شہادت کا ثواب ملتا ہے۔ اس موقع پر اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہاں اس حدیث میں چار قسم کے حکمی شہیدوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ حکمی شہیدوں کی اور بھی بہت زیادہ قسمیں جن کے بارے میں دیگر مشہور احادیث میں ذکر کیا گیا۔ چناچہ بعض علماء مثلاً سیوطی (رح) وغیرہ نے ان کو ایک جگہ جمع کیا ہے۔ اس حدیث میں جو شہداء حکمی ذکر کئے گئے ہیں ان کے علاوہ دوسرے حکمی شہداء یہ ہیں۔ ذات الجنب (یعنی نمونیہ کی بیماری) میں مرنے والا، جل کر مرجانے والا، حالت حمل میں مرجانے والی عورت یا باکرہ مرجانے والی عورت، وہ عورت جو حاملہ ہونے کے بعد سے بچہ کی پیدائش تک یا بچہ کا دودھ چھٹانے تک مرجائے، سل یعنی دق کے مرض میں مرنے والا، حالت سفر میں مرنے والا، سفر جہاد میں سواری سے گر کر مرجانے والا، مرابط یعنی اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظ کے دوران مرجانے والا، گڑھے میں گر کر مرجانے والا، درندوں یعنی شیر وغیرہ کا لقمہ بن جانے والا اپنے مال اپنے اہل و عیال اپنے دین اپنے خون اور حق کی خاطر قتل کیا جانے والا، دوران جہاد اپنی موت مرجانے والا اور وہ شخص جسے شہادت کی پر خلوص تمنا اور لگن ہو مگر شہادت کا موقع اسے نصیب نہ ہو اور اس کا وقت پورا ہوجائے اور شہادت کی تمنا دل میں لئے دنیا سے رخصت ہوجائے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ جس شخص کو حاکم وقت ظلم و تشدد کے طور پر قید خانہ میں ڈال دے اور وہ وہیں مرجائے تو وہ شہید ہے جو شخص مظلومانہ طریقہ پر زد و کو ب کیا جائے اور وہ زد و کو ب کے نتیجے میں بعد میں مرجائے تو وہ شہید ہے اور جو شخص توحید کی گواہی دیتے ہوئے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر دے تو وہ شہید ہے۔ حضرت انس ؓ سے بطریق مرفوع روایت ہے کہ تپ (بخار) شہادت ہے، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ روایت کرتے ہیں میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! شہداء میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بافضلیت شہید کون ہے آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اچھا اور نیک کام کرنے کا حکم دے اور برے کام سے روکے اور وہ حاکم اس شخص کو مار ڈالے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جس شخص کو گھوڑا یا اونٹ کچل اور روند ڈالے اور وہ مرجائے یا زہریلے جانور کے کاٹنے سے مرجائے تو شہید ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس شخص کو کسی سے عشق ہوگیا اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنے عشق میں پاکباز و متقی رہا بلکہ اس نے اپنے عشق کو چھپایا بھی اور اسی حال میں اس کا انتقال ہوگیا تو وہ شہید ہے۔ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے کہ جو شخص کشتی میں بیٹھا ہوا درد سر اور قے میں مبتلا ہو تو اسے شہید کا اجر ملتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے لئے غیرت و خود داری لازم رکھی ہے اور مردوں کے لئے جہاد ضروری قرار دیا ہے لہٰذا عورت میں سے جس عورت نے اپنی سوکن کی موجودگی میں صبر و ضبط کے دامن کو پکڑے رکھا تو اسے شہید کا اجر ملے گا۔ حضرت عائشہ ؓ بطریق مرفوع روایت کرتی ہیں کہ جو شخص روزانہ دن میں پچیس مرتبہ یہ دعا (اللہم بارک لی فی الموت وفیما بعد الموت) پڑھے اور بستر مرگ پر اس کا انتقال ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اسے شہید کا ثواب عنایت فرماتے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جو شخص ضحی (یعنی اشراق و چاشت) کی نماز پڑھے اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھے اور وتر کی نماز نہ حالت سفر میں چھوڑے نہ حالت قیام میں تو اس کے لئے شہید کا اجر لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح امت میں عوامی طور پر اعتقادی و عملی گمراہی کے وقت سنت پر مضبوطی سے قائم رہنے والا اور طلب علم میں مرنے و الا شہید ہے طلب علم میں مرنے والے سے وہ شخص مراد ہے جو حصول علم اور درس و تدریس میں مشغول ہو یا تصنیف و تالیف میں مصروف ہو اور یا محض کسی علمی مجلس میں حاضر ہو، جس شخص نے اپنی زندگی اس طرح گزار دی ہو کہ لوگوں کی مہمانداری و خاطر و تواضع اس کا شیوہ رہا ہو تو وہ شہید، مرتث یعنی وہ شخص جو میدان کارزار میں زخمی ہو کر فوراً نہ مرجائے بلکہ کم سے کم اتنی دیر تک زندہ رہے کہ دنیا کی کسی چیز سے فائدہ اٹھائے تو وہ بھی شہید ہے۔ جو شخص مسلمانوں تک غلہ پہنچائے اور جو شخص اپنے اہل و عیال اور اپنے غلام و لونڈی کے لئے کمائے وہ شہید ہے۔ ایسے وہ جنبی جسے کافر میدان کارزار میں مار ڈالیں اور شریق یعنی وہ شخص جو گلے میں پانی پھنس جانے اور دم گھٹ جانے کی وجہ سے مرجائے وہ شہید ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو مسلمان اپنے مرض میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی یہ دعا (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین) چالیس مرتبہ پڑھے اور اسی مرض میں انتقال کرے تو اسے شہید کا ثواب دیا جاتا ہے اور اگر اس مرض سے اسے چھٹکارا مل جائے تو وہ اسحال میں صحت مند ہوتا ہے کہ اس کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔ یہ بھی حدیث میں وارد ہے کہ سچا اور امانتدار تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا اور جو شخص جمعہ کی شب میں مرتا ہے وہ شہید ہے۔ نیز حدیث میں یہ بھی منقول ہے کہ بلا اجرت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اذان دینے والا مؤذن اس شہید کی مانند ہے جو اپنے خون میں لت پت تڑپتا ہو، نیز وہ مؤذن جب مرتا ہے تو اس کی قبر میں کیڑے نہیں پڑتے۔ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرماتا ہے۔ جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر سو مرتبہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور جو شخص مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان براۃ یعنی نفاق اور آگ سے نجات لکھ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ رکھے گا۔ منقول ہے کہ جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم اور سورت حشر کی آخری تین آیتیں پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے اور اس کے لئے شام تک بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ اور وہ شخص اگر اس دن مرجاتا ہے تو اس کی موت شہید کی موت ہوتی ہے اور جو شخص یہ شام کو پڑھتا ہے وہ بھی اسی اجر کا مستحق ہوتا ہے۔ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو وصیت کی کہ جب تم رات میں سونے کے لئے اپنے بستر پر جاؤ تو سورت حشر کی آخری آیتیں پڑھ لو اور فرمایا کہ اگر تم (رات میں یہ پڑھنے کے بعد سوئے اور اسی رات میں) مرگئے تو شہید کی موت پاؤ گے۔ منقول ہے کہ جو شخص مرگی کے مرض میں مرجاتا ہے وہ شہید ہوتا ہے، جو شخص حج اور عمرہ کے دوران مرتا ہے شہید ہوتا ہے جو شخص با وضو مرتا ہے شہید ہوتا ہے اسی طرح رمضان کے مہینہ میں، بیت المقدس میں، مکہ یا مدینہ میں مرنے والا شخص شہید ہوتا ہے، دبلاہٹ کی بیماری میں مرنے و الا شخص شہید ہوتا ہے، جو شخص کسی آفت و بلا میں مبتلاء ہو اور وہ اسی حالت میں ضرر و بلا پر صبر و رضا کا دامن پکڑے ہوئے مرجائے تو شہید ہے۔ جو شخص صبح و شام مقالید السماوات والارض الخ جس کے پڑھنے کی فضیلت کا تذکرہ ایک حدیث میں کیا گیا ہے پڑھے تو وہ شہید ہے۔ منقول ہے کہ جو شخص نوے برس کی عمر میں یا آسیب زدہ ہو کر مرے یا اس حال میں مرے کہ اس کے ماں باپ اس سے خوش ہوں اور یا نیک بخت بیوی اس حال میں مرے کہ اس کا خاوند اس سے خوش راضی ہو تو وہ شہید ہے۔ نیز وہ مسلمان بھی شہید ہے جو کسی ضعیف مسلمان کے ساتھ کلمہ خیر یا اس کی کسی طرح کی مدد کر کے بھلائی کا معاملہ کرے۔ واللہ اعلم۔

1524Mishkaat-al-Masabih

طاعون زدہ علاقہ میں صبروثبات کی فضیلت

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الطاعون فأخبرني : أنه عذاب يبعثه الله على من يشاء وأن الله جعله رحمة للمؤمنين ليس من أحد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا محتسبا يعلم أنه لا يصيبه إلا ما كتب الله له إلا كان له مثل أجر شهيد . رواه البخاري

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے طاعون کی حقیقت دریافت کی تو آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ (ویسے تو) یہ عذاب ہے جسے اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بھیجتا ہے (لیکن) اللہ تعالیٰ نے اسے (ان) مؤمنین کے لئے (باعث) رحمت قرار دیا ہے (جو اس میں ابتلاء کے وقت صبر کرتے ہیں) اور جس شہر یا جس جگہ طاعون ہو اور (کوئی مؤمن) اپنے اس شہر میں ٹھہرا رہے اور صبر کرنے والا اور اللہ سے ثواب کا طالب رہے (یعنی اس طاعون زدہ علاقہ میں کسی اور غرض و مصلحت سے نہیں بلکہ محض ثواب کی خاطر ٹھہرا رہے) نیز یہ جانتا ہو کہ اسے کوئی چیز (یعنی کوئی اذیت و مصیبت) نہیں پہنچے گی مگر صرف وہی جو اللہ نے (اس کے مقدر میں لکھ دی اور جس سے کہیں مفر نہیں) تو اس مؤمن کو شہید کے مانند ثواب ملے گا (بخاری)

1525Mishkaat-al-Masabih

طاعون زدہ علاقہ کے بارے میں واضح ہدایت وضابطہ

وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الطاعون رجز أرسل على طائفة من بني إسرائيل أو على من كان قبلكم فإذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه

حضرت اسامہ بن زید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا طاعون عذاب ہے جو بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر بھیجا گیا تھا یا فرمایا کہ ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے (یعنی راوی کو شک ہوگیا ہے کہ آپ ﷺ نے پہلا جملہ ارشاد فرمایا تھا یا دوسرا) لہٰذا جب تم کسی علاقہ کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو وہاں مت جاؤ اور جس طاعون زدہ علاقہ میں تم (پہلے سے) موجود ہو تو وہاں سے نکل مت بھاگو۔ (بخاری ومسلم) تشریح بنی اسرائیل کی ایک جماعت سے مراد وہ جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ ادخلوا الباب سجدا (یعنی داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے) مگر انہوں نے سرکشی اور نافرمانی کا مظاہرہ کیا چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آیت (فانزلنا علیہم رجزا من السماء) یعنی پس ہم نے ان کی سرکشی و نافرمانی کی وجہ سے) ان پر آسمان سے عذاب اتارا۔ ابن مالک فرماتے ہیں کہ وہ آسمانی عذاب طاعون تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اس بدبخت و سرکش قوم پر نازل فرمایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس عذاب و بلا میں مبتلا ہو کر اس قوم کے چوبیس ہزار بڑے بڑے بوڑھے آناً فاناً موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اس حدیث میں طاعون زدہ علاقہ کے بارے میں دو ہدایتیں دی جا رہی ہیں ایک تو یہ کہ جس علاقہ میں طاعون پھیلا ہوا ہو اور تم وہاں پہلے سے موجود نہ ہو تو اب طاعون پھیلنے کی وجہ سے اس علاقہ میں نہ جاؤ۔ اس سے منع فرمایا جا رہا ہے تاکہ اپنی جان کو جانتے بوجھتے ہلاکت میں ڈالنا لازم نہ آئے۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ جس علاقہ میں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب محض طاعون پھیلنے کی وجہ سے اس علاقہ سے نکل کر کسی دوسری جگہ نہ بھاگ جاؤ۔ کیونکہ اس طرح کی تکلیف و پریشانی کے خوف سے اور موت کے ڈر سے بھاگنے کا مطلب ہوگا کہ تقدیر کے لکھے ہوئے فیصلہ سے فرار اختیار کرنا جو لا حاصل ہے۔ لہٰذا کسی عام وبا پھیلنے کے وقت کے بارے میں شریعت اسلامی کا یہی ضابطہ ہے کہ جس طرف وبا پھیلی ہوئی ہو وہاں جائے نہیں اور جس جگہ پہلے سے موجود تھا اور وہاں وبا پھیل گئی تو پھر وہاں سے بھاگے نہیں جو شخص بھاگے گا وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب اور راندہ درگاہ الٰہی ہوگا ہاں وبا کے علاوہ دوسرے بعض مواقع پر جہاں ہلاکت کا ظن غالب ہو بھاگنے کی اجازت ہے مثلاً کوئی شخص گھر میں ہو اور زلزلہ آجائے یا گھر میں آگ لگ جائے یا اسی طرح کسی ایسی دیوار کے نیچے بیٹھا ہوا ہو جس کے گرنے کا خطرہ ہو تو جان بچانے کے لئے وہاں سے بھاگنا جائز ہے۔

1526Mishkaat-al-Masabih

بینائی سے محرومی اور اس پر صبر اخروی سعادت کی نشانی

وعن أنس قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله سبحانه وتعالى : إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه ثم صبر عوضته منهما الجنة يريد عينيه . رواه البخاري

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کی دونوں پیاری چیزوں میں مبتلا کردیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں ان دونوں کے بدلہ میں اسے جنت دیتا ہوں (راوی کہتے ہیں کہ اس کی دونوں پیاری چیزوں سے) آنحضرت ﷺ کی مراد اس کی دو آنکھیں ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح اللہ جل شانہ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو میں اندھا کردیتا ہوں تو اس کو اس کی دونوں آنکھوں کے بدلہ میں بہشت دیتا ہوں، یعنی اسے نجات پائے ہوئے لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل کروں گا، یا یہ کہ اسے جنت میں مخصوص مراتب و درجات عطا کروں گا۔ لہٰذا جب کوئی شخص اپنی بینائی سے محروم ہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ نہ تو اس کی وجہ سے اپنی زبان شکایت کو دراز کرے اور نہ دل میں کوئی تنگی اور تکدر پیدا کرے بلکہ ایسی صورت میں صبر و شکر کی راہ پر گامزن رہے اور جانے کہ اندھا ہونا غضب خداوندی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ گناہوں کے دور ہونے، درجات کے بلند ہونے اور نگاہ بد سے بچانے کے لئے حق تعالیٰ نے آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ ایک بزرگ کے بارے میں منقول ہے کہ جب عمر کے آخری حصہ میں اندھے ہوگئے تو فرمایا کرتے تھے کہ وہ خلوت جسے میں تمام عمر چاہا کرتا تھا اب میسر آئی ہے۔

1527Mishkaat-al-Masabih

عیادت کا اجر

عن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من مسلم يعود مسلما غدوة إلا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح وكان له خريف في الجنة . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان (دوسرے بیمار) مسلمان کی دن کے پہلے حصہ میں یعنی دوسرے پہر سے پہلے پہلے عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لئے شام ہونے تک رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور جو مسلمان دن کے آخری حصہ میں یعنی زوال کے بعد عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لئے صبح ہونے تک رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور بہشت میں اس کے لئے ایک باغ مقرر کردیا جاتا ہے (ترمذی، ابوداود)

1528Mishkaat-al-Masabih

آنکھوں کی بیماری میں عیادت کرنے کا مسئلہ

وعن زيد بن أرقم قال : عادني النبي صلى الله عليه و سلم من وجع كان يصيبني . رواه أحمد وأبو داود

حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے میری عیادت فرمائی جب کہ میری آنکھوں میں درد تھا۔ (احمد، ابوداؤد ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس شخص کی عیادت کرنا سنت ہے جو آنکھیں دکھنے یا آنکھ کی دوسری بیماری میں مبتلا ہو جب کہ ایک روایت کا جو جامع صغیر میں منقول ہے یہ مفہوم ہے کہ تین بیماریاں ایسی ہیں جن میں بیمار کی عیادت نہ کی جائے (١) آنکھیں دکھنے میں (٢) داڑھ کے درد میں (٣) دنبل (پھوڑے) میں۔ چونکہ ان دونوں حدیثوں میں تعارض ہے اس لئے ان دونوں میں اس تاویل کے ذریعہ تطبیق پیدا کی جائے گی کہ ان بیماریوں میں بیمار کی عیادت وہ لوگ نہ کریں جن کے لئے بیمار کو تکلیف کرنا پڑے یا ان کا آنا بیمار کے لئے گراں ہو کیونکہ اگر وہ لوگ ایسے بیمار کی عیادت کے لئے جائیں گے تو آنکھ دکھنے یا آنکھ کی دوسری بیماری کی شکل میں بیمار کو اپنی آنکھ کھولنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یا داڑھ دکھنے کی صورت میں اسے گفتگو کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہوگی اسی طرح اگر دنبل ہوگا تو وہ ان کی وجہ سے ٹھیک طریقہ سے بیٹھنے پر مجبور ہوگا اور ظاہر ہے پھوڑے کے وجہ سے اس کے لئے کسی ایک اور ٹھیک ہئیت پر بیٹھنا بہ زیادہ تکلیف کا باعث ہوگا۔ ہاں اگر ایسے لوگ عیادت کے لئے جائیں جن کی وجہ سے بیمار کو تکلیف نہ کرنا پڑے یا ان کا جانا بیمار پر گراں نہ گزرے تو ان بیماریوں میں بھی عیادت کے لئے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہاں جو حدیث نقل کی جا رہی ہے وہ آخری صورت پر محمول ہوگی اور جامع صغیر کی روایت پہلی صورت پر محمول کی جائے گی۔

1529Mishkaat-al-Masabih

عیادت کے واسطے جانے کے لئے وضو کرنا سنت ہے

وعن أنس : قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من توضأ فأحسن الوضوء وعاد أخاه المسلم محتسبا بوعد من جهنم مسيرة ستين خريفا . رواه أبو داود

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے وضو کیا اور اچھا (یعنی پورا) وضو کیا ور پھر (حصول) ثواب کے ارادے سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کی تو اس کو دوزخ سے ساٹھ برس (کی مسافت) کی بقدر دور رکھا جاتا ہے۔ ( ابوداؤد )

1530Mishkaat-al-Masabih

عیادت کے وقت بیمار کے لئے دعا

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يعود مسلما فيقول سبع مرات : أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك إلا شفي إلا أن يكون قد حضر أجله . رواه أبو داود والترمذي

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمای جب کوئی مسلمان کسی بیمار مسلمان کی عیادت کرتا ہے اور سات مرتبہ یہ کہتا ہے کہ دعا (اسأل اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک) یعنی میں اللہ بزرگ و برتر سے جو عرش عظیم کا مالک ہے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے شفا دیتا ہے بشرطیکہ اس کا وقت نہ آگیا ہوں (یعنی اس کا مرض لاعلاج نہ ہو)۔ ( ابوداؤد، ترمذی)

1531Mishkaat-al-Masabih

بخار اور درد کی دعا

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم : كان يعلمهم من الحمى وم الأوجاع كلها أن يقولوا : بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب لا يعرف إلا من حديث إبراهيم بن إسماعيل وهو يضعف في الحديث

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کو سکھلایا کرتے تھے کہ وہ (یعنی بیمار لوگ) بخار بلکہ ہر درد (سے شفا) کے لئے اس طرح دعا کیا کریں دعا (بسم اللہ الکبیر اعوذ باللہ العظیم من شر کل عرق نعار ومن شر حر النار) یعنی میں برکت چاہتا ہوں اللہ بزرگ و برتر کے نام سے اور پناہ چاہتا ہوں اللہ بزرگ و برتر کی، ہر رگ جوش مارنے والی کی برائی (یعنی تکلیف) سے اور آگ کی برائی سے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے کیونکہ ہم اس حدیث کو ابراہیم ابن اسماعیل کے علاوہ اور کسی دوسرے ذریعہ سے نہیں جانتے اور وہ (یعنی ابراہیم) روایت حدیث کے بارے میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ تشریح ہر رگ جوش مارنے والی سے مراد وہ خون ہے جو رگ میں جوش مارتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس خون سے پناہ چاہے جو رگ میں جوش مارتا ہے کیونکہ جب خون غالب آجاتا ہے تو تکلیف پہنچاتا ہے بایں طور کہ اس سے بخار اور دوسرے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ حدیث ابن شیبہ، ترمذی، ابن ماجہ، ابن ابی الدنیا، ابن سنی اور حاکم نے روایت کی ہے اور بیہقی نے دعوات کبیر میں اس کی صحت کی تصدیق کی ہے۔

1532Mishkaat-al-Masabih

بیماری میں کیا دعا پڑھی جائے

وعن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أشتكى منكم شيئا أو اشتكاه أخ له فليقل : ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما أن رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع . فيبرأ . رواه أبو داود

حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو کوئی بیماری ہو یا اس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو اسے چاہئے کہ یہ دعا پڑھے۔ ہمارا پروردگار اللہ ہے، ایسا اللہ جو آسمان میں ہے (تمام نقصانات سے) تیرا نام پاک ہے، تیری حکومت آسمان و زمین (دونوں) میں ہے، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی تو اپنی رحمت زمین پر نازل فرما، تو ہمارے چھوٹے اور بڑے گناہ بخش دے تو پاکیزہ لوگوں کا پروردگار ہے (یعنی ان کا محب اور کا رساز ہے اور تو اپنی رحمت میں سے (جو ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے رحمت عظیمہ) نازل فرما اور اس بیماری سے اپنی شفا عنایت فرما (اس دعا کے پڑھنے سے انشاء اللہ بیمار) اچھا ہوجائے گا۔ ( ابوداؤد ) تشریح جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آسمان میں تو تیری رحمت ہر ہر جگہ ہے اور وہاں کے ہر ہر رہنے والے پر ہے۔ بخلاف زمین اور زمین کے رہنے والوں کے کہ یہاں تو رحمت خاص بعضوں پر ہوتی ہے اور بعضوں پر نہیں ہوتی یعنی رحمت خاص صرف مؤمن ہی فیضیاب ہوتے ہیں نہ کہ کافر اگرچہ رحمت عام سب کے لئے یکساں ہے خواہ مؤمن ہو یا کافر جیسا کہ ارشاد ربانی ہے آیت (رحمتی وسعت کل شئی)۔ میری رحمت ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ پاکیزہ لوگوں سے مؤمن مراد ہیں جو شرک سے پاک ہوتے ہیں یا وہ متقی مسلمان مراد ہیں جو برے افعال اور فاسد و لا یعنی اقوال سے بچتے ہیں۔

1533Mishkaat-al-Masabih

عیادت کے وقت کی دعا

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا جاء الرجل يعود مريضا فليقل ك اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة رواه أبو داود

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص کسی مریض کے پاس عیادت کے لئے آئے تو اسے یہ دعائیہ الفاظ کہنے چاہئیں۔ آیت (اللہم اشف عبدک ینکالک عدوا او یمشی لک الی جنازۃ)۔ یعنی اے اللہ! اپنے بندہ کو شفا دے تاکہ وہ تیرے بندہ کو ایذاء پہنچائے (یعنی دشمان دین سے جنگ وجدال کر کے انہیں زخمی اور قتل کرے) یا تیری خوشی و رضا کی خاطر جنازہ کی طرف (یعنی نماز جناہ کے لئے) چلے (ابو داؤد)

1534Mishkaat-al-Masabih

تکلیف ومصیب مسلمان کے لئے گناہوں کا کفارہ

عن علي بن زيد عن أمية أنها سألت عائشة عن قول الله تبارك وتعالى : ( إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله ) وعن قوله : ( من يعمل سوءا يجز به ) فقالت : ما سألني عنها أحد منذ سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : هذه معاتبة الله العبد فيما يصيبه من الحمى والنكبة حتى البضاعة يضعها في يد قميصه فيفقدها فيفزع لها حتى إن العبد ليخرج من ذنوبه كما يخرج التبر الأحمر من الكير . رواه الترمذي

حضرت علی ؓ بن زید (بصری تابعی) امیہ سے روایت کرتے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے معنی پوچھے اگر وہ چیز جو تمہارے دلوں میں ہے ظاہر کردو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2۔ البقرۃ 284) اور اس آیت کے معنی بھی پوچھے آیت (ومن یعمل سوء یجز بہ) یعنی جو شخص برا عمل کرے گا (یعنی خواہ صغیرہ گناہ کرے خواہ کبیرہ گناہ) تو اس کی جزاء (یعنی اس کی سزا دنیا یا آخرت میں) دی جائے گی۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جیسا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا تھا ویسا کسی نے مجھ سے اس مسئلہ کے بارے میں نہیں پوچھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے (میرے دریافت کرنے پر) فرمایا کہ یہ (یعنی محاسبہ اور سزا جو دونوں آیتوں میں مذکور ہیں) اللہ تعالیٰ کا عتاب ہے جس میں بندہ بخار و رنج (کی تکلیف) کی صورت میں مبتلا ہوتا یہاں تک کہ کوئی بندہ اپنا کچھ مال اپنے کرتہ کے آستین (یا جیب) میں رکھتا ہے اور (پھر وہ مال گم ہوجاتا ہے جسے) وہ نہیں پاتا چناچہ وہ اس مال کے نہ ملنے سے غمگین ہوتا ہے (تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ دور کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ یہی سلسلہ جاری رہتا ہے کہ بندہ کسی تکلیف اور رنج میں مبتلا رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ بندہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسا کہ سونا اور چاندی بھٹی سے (آگ میں پڑنے کی وجہ سے) سرخ نکلتا ہے۔ (ترمذی) تشریح ان دونوں آیتوں کے معنی پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ پہلی آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بندوں سے ان کے دلوں کے خطرات و وسو اس اور برے خیالات پر محاسبہ کیا جائے گا اور دوسری آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندوں کو ہر برے عمل پر سزا دی جاتی ہے خواہ وہ عمل چھوٹا ہو یا بڑا، تھوڑا ہو یا زیادہ۔ چناچہ اس سے صحابہ ؓ پریشان ہوئے کہ کیا کریں کیونکہ ان سے بچنا ممکن نہیں چناچہ حضرت امیہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے ان آیات کا مطلب پوچھا تو انہوں نے ان آیات کی وضاحت کی جس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مؤمنین کو ان کے دل کی تمام باتوں اور ان کے تمام چھوٹے بڑے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے گا بلکہ آیات میں محاسبہ اور سزا کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کو ان سے سرزد ہوئے گناہوں کی وجہ سے دنیا میں اپنے عتاب میں مبتلا کرتا ہے بایں طور کہ کسی کو بیماری کی تکلیف میں اور کسی کو دوسرے رنج و غم میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ یہ چیزیں ان کے گناہوں کا کفار ہوجائیں۔ عتاب کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنے کسی دوست سے اس کی کسی غلط روی اور بےادبی کی وجہ سے بظاہر اس پر اپنے غصہ کا اظہار کرے مگر دل میں اس کی محبت بدستور باقی رہے۔

1535Mishkaat-al-Masabih

تکلیف ومصیب مسلمان کے لئے گناہوں کا کفارہ

وعن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يصيب عبدا نكبة فما فوقها أو دونها إلا بذنب وما يعفو الله عنه أكثر وقرأ : ( وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير ) رواه الترمذي

حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ کو جو معمولی ایذاء پہنچتی ہے یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے خواہ وہ اس سے کم ہو یا زیادہ ہو، یہ اس کے گناہوں کا ثمرہ ہوتا ہے اور وہ گناہ جنہیں اللہ تعالیٰ (بغیر سزا دئیے) دنیا و آخرت میں بخش دیتا ہے ان گناہوں سے بہت زیادہ ہوتے ہیں جن پر وہ سزا دیتا ہے آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر) اور از قسم مصیبت جو چیز تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں پیدا کی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ بہت سے (گناہوں یا گناہ گاروں) کو معاف فرما دیتا ہے۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو بھی مصیبت و تکلیف اور بیمار وغیرہ پہنچتی ہے وہ سب تمہاری بداعمالیوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ گویا یہاں گنہ گاروں کو مخاطب کیا جا رہا ہے کہ اپنی بداعمالیوں اور غلط کاریوں سے باز آجاؤ اور نیک راستہ پر چلنے ہی کو اپنی دینی و دنیوی راحت و سکون کا ذریعہ جانو، ہاں جب وہ لوگ کسی مصیب و تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں جو گناہ گار نہیں ہوتے تو اس سے ان کی آزمائش و امتحان مقصود ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے درجات میں بلندی ہوتی ہے، اگرچہ اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندے کسی معمولی سی تکلیف اور پریشانی میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے عجز و بیچارگی کے احساس کی وجہ سے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ ہماری شامت اعمال کی وجہ سے ہے۔ چناچہ ایک بزرگ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ چوہے نے ان کے جوتے کے تسمہ کو کتر لیا تو وہ اتنا متاثر ہوئے کہ روتے جاتے تھے کہ آہ! نامعلوم میں کس گناہ میں مبتلا ہوگیا تھا جس کی سزا میں نے یہ پائی ہے۔

1536Mishkaat-al-Masabih

حالت بیماری میں زمانہ تندرستی کے اعمال نیک لکھ دیئے جاتے ہیں

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا كان على طريقة حسنة من العبادة ثم مرض قيل للملك الموكل به : اكتب له مثل عمله إذا كان طليقا حتى أطلقه أو أكفته إلي

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بندہ عبادت کے نیک راستہ پر ہوتا ہے اور پھر بیمار ہوجاتا ہے (اور اس عبادت کے کرنے پر قادر نہیں رہتا) تو اس فرشتہ سے جو اس بندہ پر (اس کے نیک اعمال لکھنے پر) متعین ہوتا ہے کہا جاتا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) کہ اس بندہ کے لئے (اس کے نامہ اعمال میں) اس عمل کے مثل لکھو جو وہ تندرستی کی حالت میں کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اسے تندرستی عطا کروں، یا اسے (اپنے پاس) بلا لوں۔

1537Mishkaat-al-Masabih

حالت بیماری میں زمانہ تندرستی کے اعمال نیک لکھ دیئے جاتے ہیں

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا ابتلي المسلم ببلاء في جسده قيل للملك : اكتب له صالح عمله الذي كان يعمل فإن شفاه غسله وطهره وإن قبضه غفر له ورحمه . رواهما في شرح السنة

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان جسمانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اس بندہ کی نیکی لکھنے والے) فرشتہ سے فرماتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں تم وہی نیک عمل لکھتے رہو جو یہ (اس بیماری سے پہلے) کرتا تھا چناچہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس مسلمان کو شفا دی تو اس کے گناہوں کو دھوتا ہے اور پاک کرتا ہے۔ اور اگر اسے اٹھا لیتا ہے تو اس کو بخشتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے یہ دونوں روایتیں بغوی نے شرح السنۃ میں نقل کی ہیں۔

1538Mishkaat-al-Masabih

راہ اللہ میں شہادت کے علاوہ شہادت کی اور اقسام

وعن جابر بن عتيك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله : المطعون شهيد والغريق شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد والمبطون شهيد وصاحب الحريق شهيد والذي يموت تحت الهدم شهيد والمرأة تموت بجمع شهيد . رواه مالك وأبو داود والنسائي

حضرت جابر ابن عتیک راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس شہادت کے علاوہ جو اللہ کی راہ میں ہو شہادت کی اور سات قسمیں ہیں (١) جو شخص طاعون میں مرے شہید ہے (٢) جو شخص ڈوب کر مرجائے شہید ہے (٣) جو شخص ذات الجنب میں مرے شہید ہے (٤) جو شخص پیٹ کی بیماری (یعنی دست اور استسقاء) میں مرجائے شہید ہے (٥) جو شخص جل کر مرجائے شہید ہے۔ (٦) جو شخص دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مرجائے (٧) اور وہ عورت جو حالت حمل میں یا باکرہ مرے شہید ہے (مالک، ابوداؤد، نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ حقیقی شہید تو وہی ہے جو کے راستہ میں دین کے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کام آئے اس کے علاوہ سات قسم کے اور شہید ہیں جو حقیقی شہید تو نہیں لیکن حکم میں شہید ہی کے ہیں بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی قسمیں ہیں جو مختلف احادیث میں مذکور ہیں اور جن کو تفصیل کے ساتھ پچھلے صفحات میں ذکر کیا گیا ہے۔ ذات الجنب ایک مشہور بیماری ہے اس بیماری سے پہلو کے اندر دل اور سینہ کے قریب پھنسیاں ہوجاتی ہیں اور اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ مریض کا سانس رکتا ہے اور بخار اور کھانسی رہتی ہے۔