جنازوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 23 · 75 hadiths · Page 1 of 4

1499Mishkaat-al-Masabih

جنازے کا بیان

جنائز جنازہ کی جمع ہے، لفظ جنازہ لغت کے اعتبار سے جیم کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ مستعمل ہوتا ہے لیکن زیادہ فصیح جیم کے زیر کے ساتھ ہی ہے۔ جنازہ میت یعنی مردے کو جو تخت پر ہو کہتے ہیں۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ لفظ جنازہ یعنی جیم کے زبر کے ساتھ میت کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے اور جنازہ یعنی جیم کے زیر کے ساتھ تابوت اور اس تخت یا چار پائی کو کہتے ہیں جس پر مردہ کو رکھ کر اٹھاتے ہیں، بعض حضرات نے اس کے برعکس کہا ہے یعنی جنازہ تابوت یا تخت کو کہتے ہیں اور جنازہ میت کو کہا جاتا ہے۔

1500Mishkaat-al-Masabih

بیمار کی عیادت کرنی چاہئے

عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطعموا الجائع وعودوا المريض وفكوا العاني . رواه البخاري

حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بھوکے (یعنی مضطر و مسکین اور فقیر) کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو (دشمن کی قید سے) چھڑاؤ (بخاری) تشریح اس حدیث میں تین باتوں کا حکم دیا جا رہا ہے یہ وجوب علی الکفایۃ کے طور پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص بھی ان احکام کو پورا کرلے تو بقیہ دوسرے لوگوں کے لئے انہیں پورا کرنا ضروری نہیں ہے تاہم سب کے لئے ان احکام پر عمل کرنا سنت اور باعث ثواب ضرور ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ان احکام کو پورا نہ کرے تو پھر سب ہی لوگ نافرمانی کے گناہ میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے لکھا ہے کہ بھوکے کو اس صورت میں کھانا کھلانا سنت ہے اگر وہ حالت اضطرار میں نہ ہو یعنی اس بھوکے کی یہ کیفیت نہ ہو کہ اگر اسے کھانا نہ کھلایا گیا تو مرجائے۔ مگر اس شکل میں اسے کھانا دینا فرض ہے کہ وہ حالت اضطرار کو پہنچ چکا ہو۔ اسی طرح کوئی بھوکا کسی ایسے مقام پر ہو جہاں ایک نہ ہو بلکہ کئی آدمی ذی مقدور ہوں یعنی اس بھوکے کو کھانا کھلانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو ان سب ذی المقدور لوگوں پر بھوکے کو کھانا کھلانا فرض کفایہ ہوگا کہ اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی بھوکے کو کھانا کھلا دیا تو سب لوگ بری الذمہ ہوجائیں گے۔ ہاں اگر بھوکا کسی ایسی جگہ ہو جہاں صرف ایک ہی آدمی ذی مقدور ہو اور بقیہ سب لوگ مفلس و قلاش ہوں تو اس ذی مقدور پر بھوکے کو کھانا کھلانا فرض عین ہوگا ایسے ہی اس بیمار کی عیادت اور مزاج پرسی سنت ہے جس کا کوئی خبر گیر اور تیمار دار ہو اور اس بیمار کی عیادت و مزاج پرسی واجب ہے جس کا کوئی خبر گیر و تیمار دار نہ ہو۔

1501Mishkaat-al-Masabih

مسلمان کے مسلمان پر حقوق

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حق المسلم على المسلم خمس : رد السلام وعيادة المريض واتباع الجنائز وإجابة الدعوة وتشميت العاطس

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (ایک) مسلمان کے (دوسرے) مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ (١) سلام کا جواب دینا (٢) بیمار کی عیادت کرنا (٣) جنازہ کے ساتھ جانا (٤) دعوت قبول کرنا (٥) چھینکنے والے کا جواب دینا۔ (بخاری و مسلم) تشریح مذکورہ بالا پانچوں چیزیں فرض کفایہ ہیں۔ سلام کرنا سنت ہے اور وہ بھی حقوق اسلام میں سے ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا۔ مگر سلام کرنا ایسی سنت ہے جو فرض سے بھی افضل ہے کیونکہ اسے کرنے سے نہ صرف یہ کہ تواضع و انکساری کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ اداء سنت واجب کا سبب بھی ہے۔ بیمار کی عیادت اور جنازہ کے ساتھ جانے کے حکم سے اہل بدعت مستثنیٰ ہیں۔ یعنی روافض وغیرہ کی نہ تو عیادت کی جائے اور نہ ان کے جنازہ کے ساتھ جایا جائے۔ دعوت قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی مدد کے لئے بلائے تو اس کی درخواست قبول کی جائے اور اس کی مدد کی جائے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ دعوت قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مہمانداری اور ضیافت کے لئے مدعو کرے تو اس کی دعوت کو قبول کر کے اس کی طرف سے دی گئی ضیافت میں شرکت کی جائے بشرطیکہ ضیافت کسی بھی حیثیت سے ایسی نہ ہو جس میں شرکت گناہ کا باعث ہو جیسا کہ حضرت امام غزالی فرماتے ہیں کہ جو ضیافت محض از راہ مفاخرت اور نام و نمود کی خاطر ہو اس میں شرکت نہ کی جائے چناچہ سلف یعنی صحابہ ؓ اور پہلے زمانہ کے علماء کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایسی ضیافت کو ناپسند کرتے تھے۔ چھینکنے والے کا جواب دینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہا جائے شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اسلام کے ان تمام حقوق کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے خواہ نیک مسلمان ہوں یا بد۔ یعنی ایسے مسلمان ہوں جو گنہگار تو ہوں مگر مبتدع (بدعتی) نہ ہوں اس احتیاط اور امتیاز کو مدنظر رکھا جائے کہ بشاشت یعنی خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا اور مصافحہ کرنا صرف نیک مسلمان ہی کے ساتھ مختص ہونا چاہئے فاجر یعنی ایسے بد اور گنہگار مسلمان کے ساتھ جو علی الاعلان معصیت و گناہ میں مبتلا رہتا ہے بشاشت و مصافحہ ضروری نہیں ہے۔

1502Mishkaat-al-Masabih

مسلمان کے مسلمان پر حقوق

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حق المسلم على المسلم ست . قيل : ما هن يا رسول الله ؟ قال : إذا لقيته فسلم عليه وإذا دعاك فأجبه وإذا استنصحك فانصح له وإذا عطس فحمد الله فشمته وإذا مرض فعده وإذا مات فاتبعه . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (ایک) مسلمان کے (دوسرے) مسلمان پر چھ حق ہیں۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ فرمایا (١) جب تم مسلمان سے ملاقات کرو تو اسے سلام کرو (٢) جب تمہیں کوئی (اپنی مدد کے لئے یا ضیافت کی خاطر) بلائے تو اسے قبول کرو۔ (٣) جب تم سے کوئی خیر خواہی چاہے تو اس کے حق میں خیر خواہی کرو (٤) جب کوئی چھینکے اور الحمد للہ کہے تو (یرحمک اللہ کہہ کر) اس کا جواب دو (٥) جب کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو (٦) جب کوئی مرجائے تو ( نماز جنازہ اور دفن کرنے کے لئے) اس کے ساتھ جاؤ (مسلم) تشریح واذا مرض الخ کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو اس کی عیادت کے لئے جانا چاہئے اور اس کی مزاج پرسی کرنی چاہئے اگرچہ عیادت اور مزاج پرسی ایک ہی مرتبہ کیوں نہ کی جائے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ رہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات میں بیمار کی عیادت نہ کی جائے تو اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اس حدیث میں اسلام کے چھ حقوق بتائے گئے ہیں جب کہ گزشتہ حدیث میں حقوق کی تعداد پانچ بیان کی گئی تھی، گویا اس حدیث میں خیر خواہی کا مزید ذکر کیا گیا ہے۔ تو اس بارے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ احادیث میں حقوق کی جو تعداد ذکر کی گئی ہے وہ حصر کے طور پر نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت زیادہ حقوق ہیں جن کو بتدریج مختلف احادیث میں تھوڑا تھوڑا کر کے بیان کیا گیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ احکام بذریعہ وحی آپ کے پاس اسی طرح بتدریج نازل ہوئے ہوں گے یعنی پہلے تو پانچ حقوق کا حکم نازل کیا گیا ہو پھر چھ حقوق کے احکام نازل کئے گئے۔

1503Mishkaat-al-Masabih

مسلمان کے مسلمان پر حقوق

وعن البراء بن عازب قال : أمرنا النبي صلى الله عليه و سلم بسبع ونهانا عن سبع أمرنا : بعيادة المريض واتباع الجنائز وتشميت العاطس ورد السلام وإجابة الداعي وإبرار المقسم ونصر المظلوم ونهانا عن خاتم الذهب وعن الحرير والإستبرق والديباج والميثرة الحمراء والقسي وآنية الفضة وفي رواية وعن الشرب في الفضة فإنه من شرب فيها في الدنيا لم يشرب فيها في الآخرة

اور حضرت براء ابن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہیں۔ (١) بیمار کی عیادت کرنا (٢) جنازہ کے ہمراہ جانا (٣) چھینکنے والے کو جواب دینا (٤) سلام کا جواب دینا (٥) بلانے والے کی دعوت قبول کرنا (٦) قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کرنا (٧) اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور جن چیزوں سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہیں (١) سونے کی انگوٹھی پہننے سے (٢) ریشم کے کپڑے پہننے سے (٣) اطلس کے کپڑے استعمال کرنے سے (٤) لاہی (دیباج) کے کپڑے پہننے سے (٥) سرخ زین پوش استعمال کرنے سے (٦) قسی کے کپڑے پہننے سے (٧) اور چاندی کے برتن استعمال کرنے سے۔ ایک روایت کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چاندی کے برتن میں پینے سے (بھی منع فرمایا ہے) کیونکہ جو شخص چاندی کے برتن میں دنیا میں پئے گا آخرت میں اسے چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم تشریح قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پیش آنے والی بات کے بارے میں قسم کھائے اور تم اس کی قسم پوری کرنے پر قادر ہو اور اس میں کوئی گناہ بھی نہ ہو تو تمہیں اس کی قسم پوری کرنی چاہئے مثال کے طور پر کوئی شخص تمہیں مخاطب کرتے ہوئے قسم کھائے کہ میں تم سے جدا نہیں ہوں گا جب تک کہ فلاں کام نہ کروں، پس اگر تم اس کام کے کرنے پر قادر ہو تو وہ کام کر ڈالو تاکہ اس کی قسم نہ ٹوٹے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو یہ قسم دلائے کہ تمہیں اللہ کی قسم تم یہ کام کرو۔ تو اس شخص کے لئے مستحب ہے کہ وہ پروردگار کے نام کی تعظیم کی خاطر وہ کام کرلے اگرچہ واجب نہیں ہے۔ مظلوم کی مدد کرنا کی تشریح میں علماء لکھتے ہیں کہ مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے اور اس حکم میں مسلمان اور ذمی دونوں برابر کے شریک ہیں یعنی جس طرح ایک مظلوم مسلمان کی مدد کرنا واجب ہے اسی طرح اس مظلوم کافر (ذمی) کی مدد کرنا بھی واجب ہے جو اسلامی ریاست کا تابعدار شہری بن کر رہتا ہو اور جزیہ (ٹیکس) ادا کرتا ہے پھر مدد بھی عام ہے اگر لسانی مدد کی ضرورت ہو تو زبان و قول سے مدد کی جائے اور فعلی مدد کی ضرورت ہو تو فعل، عمل کے ذریعہ مدد کی جائے۔ میثرہ) اس زین پوش کو کہتے ہیں جس میں روئی بھری ہوئی ہوتی ہے اور اسے گھوڑے وغیرہ کی سواری کی زین پر ڈال کر اس پر بیٹھتے ہیں اسے نمد زین بھی کہتے ہیں دنیا داروں کی عادت ہے کہ وہ اس زین پوش کو از راہ تکبر و رعونت حریر و دیباج وغیرہ سے بناتے ہیں۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ زین پوش حریر کا ہو تو خواہ وہ کسی بھی رنگ کا ہو حرام ہے۔ ہاں اگرچہ حریر کا نہ ہو مگر سرخ رنگ کا ہو تو اس کا استعمال مکروہ ہے۔ اگر سرخ رنگ کا نہ ہو تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ قسی ایک کپڑے کا نام تھا جو ریشم اور کنان سے بنا جاتا تھا اور قس کی طرف منسوب تھا جو مصر کے ایک علاقہ کا نام ہے۔ حدیث میں چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح سونے کے برتن کا استعمال بھی ممنوع ہے بلکہ سونے کے برتن میں استعمال کرنا چاندی کے برتن استعمال کرنے سے بھی زیادہ گناہ ہے اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے ان کا تعلق صرف مردوں سے ہے عورتوں سے نہیں ہے ہاں چاندی سونے کے برتن کے استعمال کی ممانعت مرد و عورت دونوں کے لئے ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ آخرت میں اسے چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا کی صحیح وضاحت یہ ہے کہ جس شخص نے ندیا میں چاندی کا برتن استعمال کیا اسے آخرت میں اس وقت تک کہ اس کے عذاب کی مدت ختم نہ ہوجائے۔ چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا۔ یا وقف اور حساب کے وقت اسے چاندی کے برتن میں پینا نصیب نہ ہوگا یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی وہ کچھ عرصہ تک اس سے محروم رہے گا پھر بعد میں یہ پابندی اس سے ختم کردی جائے گی، یہی مراد اس حدیث کی ہے جس میں (مردوں کے لئے) ریشم پہننے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ من لبسہ فی الدنیا لم یلبسہ فی الآخرۃ (یعنی جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا اسے آخرت میں ریشم پہننا نصیب نہیں ہوگا) اسی طرح اس حدیث کی بھی یہی وضاحت ہے جس میں شراب کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ من شربہا فی الدنیا لم یشربھا فی الآخرۃ (یعنی جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں شراب پینا نصیب نہ ہوگا۔

1504Mishkaat-al-Masabih

عیادت کا ثمرہ

وعن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسلم إذا عاد أخاه المسلم لم يزل في خرفة الجنة حتى يرجع . رواه مسلم

اور حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان جو اپنے کسی (بیمار) مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو (گویا) وہ بہشت کی میوہ خوری میں (مصروف) رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (عیادت سے) واپس نہ آجائے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے کسی بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو جب تک کہ بیمار کی عیادت اور مزاج پرسی سے فارغ ہو کر نہ آجائے برابر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہوتا رہتا ہے جس کا ثمرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس انسانی اور اخلاقی ہمدردی و مروت کی بناء پر بہشت اور بہشت کی میوہ خوری کا مستحق ہوجاتا ہے۔

1505Mishkaat-al-Masabih

عیادت کی اہمیت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يقول يوم القيامة : يا ابن آدم مرضت فلم تعدني قال : يا رب كيف أعودك وأنت رب العالمين ؟ قال : أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده ؟ أما علمت أنك لو عدته لوجدتني عنده ؟ يا ابن آدم استطعمتك فلم تطعمني قال : يا رب كيف أطعمك وأنت رب العالمين ؟ قال : أما علمت أنه استطعمك عبدي فلان فلم تطعمه ؟ أما علمت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي ؟ يا ابن آدم استسقيتك فلم تسقني قال : يا رب كيف أسقيك وأنت رب العالمين ؟ قال : استسقاك عبدي فلان فلم تسقه أما إنك لو سقيته لوجدت ذلك عندي . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز (بندہ سے) فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی؟ بندہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں تیری عیادت کس طرح کرتا کہ تو تو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے (اور بیماری سے پاک ہے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ کیا تجھے معلوم نہیں ہو تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے؟ اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی تھی، کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اس بیمار بندہ کی عیادت کرتا تو مجھے (یعنی میری رضا) اس کے پاس پاتا۔ (پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا؟ بندہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں کھانا کس طرح کھلاتا تو تو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے (اور کسی چیز کا محتاج نہیں ہے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے یاد نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندہ نے کھانا مانگا تھا اور تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔ کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اسے (یعنی اس کے ثواب کو) میرے پاس پاتا۔ (پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے پانی نہیں پلایا؟ بندہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار میں تجھے پانی کس طرح پلاتا؟ تو تو دونوں جہانوں کا پروردگار ہے (تجھے نہ پانی کی ضرورت اور نہ کسی اور چیز کی حاجت)؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندہ نے پانی مانگا اور تو نے اسے پانی نہیں پلایا، کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اسے (یعنی اس کے ثواب کو) میرے پاس پاتا۔ (مسلم) تشریح حدیث میں ذکر کی گئی تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت یعنی عیادت کرنے اور بعد کی دونوں صورتوں کا یہ فرق ملاحظہ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مریض کی عیادت کے بارے میں تو یہ فرمائے گا کہ اگر تو مریض کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ جب کہ کھانا کھلانے اور پانی پلانے کے بارے میں فرمائے گا کہ اگر تو کھانا کھلاتا یا یہ کہ اگر تو پانی پلاتا تو اس کے ثواب کو میرے پاس پاتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مریض کی عیادت کرنا بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے سے افضل ہے۔

1506Mishkaat-al-Masabih

اپنے سے کمتر اور ادنیٰ مریض کی بھی عیادت کرنی چاہئے

وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على أعرابي يعوده وكان إذا دخل على مريض يعوده قال : لا بأس طهور إن شاء الله فقال له : لا بأس طهور إن شاء الله . قال : كلا بل حمى تفور على شيخ كبير تزيره القبور . فقال : فنعم إذن . رواه البخاري

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (ایک مرتبہ) ایک اعرابی (گنوار) کے پاس اس کی بیماری کا حال پوچھنے کے لئے تشریف لے گئے آنحضرت ﷺ (کا طریقہ یہ تھا کہ) جب آپ کسی کے پاس عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو اس سے فرماتے کہ کوئی ڈر نہیں (یعنی بیماری سے غم نہ کھاؤ اس لئے کہ) یہ بیماری (گناہوں سے) پاک کرنے والی ہے اگر اللہ چاہے چناچہ آپ ﷺ نے (اس وقت) اس دہقانی سے بھی یہی فرمایا کہ کوئی ڈر نہیں یہ بیماری (گناہوں سے) پاک کرنے والی ہے اگر اللہ چاہے دہقانی نے کہا کہ ہرگز نہیں، بلکہ یہ بخار ہے جو بڑے بوڑھے پر چڑھ آیا ہے اور اسے قبر کی زیارت کرا دے گا (یعنی موت کی آغوش میں پھینک دے گا) آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اچھا (اگر تم یہی سمجھتے ہو تو) یوں ہی سہی۔ (بخاری) تشریح یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے کمال تواضع اور مساوات عمل کی مظہر ہے کہ آپ ایک دہقانی کی عیادت کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے، گویا آپ ﷺ نے اپنے اس عمل مبارک سے امت کے لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ صرف انہیں لوگوں کی مزاج پرسی کے لئے نہیں جانا چاہئے جو اپنے سے اونچے یا ہم مرتبہ ہوں بلکہ ان لوگوں کی بھی عیادت کرنی چاہئے جو کسی بھی حیثیت سے اپنے سے کمتر اور ادنیٰ درجے کے ہوں۔ اچھا (اگر تم یہی سمجھتے ہو تو) یوں ہی سہی یعنی آنحضرت ﷺ نے اس دہقانی سے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا کہ میں تو تمہارے سامنے بیماری کا ثواب بیان کر رہا ہوں مگر تم اس نعمت کا انکار کر رہے ہو اگر تمہارا خیال یہی ہے تو پھر جان لو کہ اس طرح ہوگا جس طرح تم کہہ رہے ہو کیونکہ کفران نعمت کرنے والے کی سزا ہی یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے محروم ہوجائے۔ دہقانی کے اس رویہ اور اس کی اس بات کی بناء پر احتمال ہوسکتا ہے کہ وہ کافر ہو مگر علماء نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وہ مسلمان تھا مگر چونکہ بیوقوف اور ناسمجھ اجڈ گنوار تھا اسی لئے بیماری کی تکلیف اور شدت درد سے بےتاب و مضطرب ہو کر اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکال بیٹھا۔

1507Mishkaat-al-Masabih

بیمار کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء شفائ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا اشتكى منا إنسان مسحه بيمينه ثم قال : أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (کا یہ طریقہ تھا) جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا آپ ﷺ اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ (دعا) فرماتے۔ اے لوگوں کے پروردگار! بیماری دور کر دے اور شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کسی کی شفاء ایسی نہیں جو بیماری کو دور کر دے۔ (بخاری ومسلم)

1508Mishkaat-al-Masabih

بیمار کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء شفائ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان إذا اشتكى الإنسان الشيء منه أو كانت به قرحة أو جرح قال النبي صلى الله عليه و سلم بأصبعه : بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا

اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے بدن کے کسی حصہ (کے درد) کی شکایت کرتا، یا (اس کے جسم کے کسی عضو پر) پھوڑا یا زخم ہوتا تو نبی کریم ﷺ اپنی انگلی سے اشارہ کر کے یہ دعا فرماتے اللہ کے نام سے میں برکت حاصل کرتا ہوں، یہ مٹی ہمارے بعض آدمیوں کے لعاب دہن سے آلودہ ہے (یہ ہم اس لئے کہتے ہیں تاکہ) ہمارے پروردگار کے حکم سے ہمارا بیمار تندرست ہوجائے۔ (بخاری ومسلم) تشریح منقول ہے کہ اس بارے میں آنحضرت ﷺ کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اپنا لعاب مبارک اپنی انگلی پر لگاتے اور اسے مٹی پر رکھتے پھر اس خاک آلودہ انگلی کو درد کی جگہ رکھ کر اس عضو پر پھیرتے جاتے تھے اور مذکورہ بالا دعا یعنی بسم اللہ الخ پڑھتے رہتے۔ پھوڑوں اور زخموں کے علاج کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کا یہ طریقہ اور یہ دعا درحقیقت رموز الٰہی میں سے ایک رمز ہے جسے آنحضرت ﷺ ہی جانتے تھے ہماری عقلیں اس رمز کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ تاہم قاضی بیضاوی (رح) نے از راہ احتمال کے لکھا ہے کہ طبی نقطہ نظر سے یہ بات ثابت ہے کہ تبدیلی مزاج کے سلسلہ میں لعاب دہن بہت موثر ہوتا ہے اسی طرح مزاج کو اپنی حالت پر برقرار رکھنے کے لئے وطن کی مٹی بہت تاثیر رکھتی ہے یہاں تک کہ حکماء لکھتے ہیں کہ مسافر کو چاہئے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے وطن کی کچھ خاک ضرور رکھے اور تھوڑی سی خاک پانی کے برتن میں ڈال دے اور اسی برتن سے دوران سفر پیتا رہے تاکہ اس کی وجہ سے مزاج کی تبدیلی سے محفوظ رہے۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اسی بناء پر یہ طریقہ اختیار فرماتے ہوں۔ نیز دوسرے شارحین نے بھی اس کی توجیہات بیان کی ہیں مگر وہ سب احتمال ہی کے درجہ میں ہیں۔ صحیح یہی ہے کہ اللہ کا بھید ہے جس کی حقیقت تک ہماری عقلوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ اشرف (رح) نے کہا ہے کہ یہ حدیث رقیہ یعنی منتر کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے بشرطیکہ اس منتر میں کفر کی آمیزش نہ ہو جیسے سحر یا کلمہ کفر و شرک وغیرہ۔ نیز اس سلسلہ میں مسئلہ یہ ہے کہ منتر خواہ کسی بھی زبان کا ہو، ہندی و اردو کا ہو یا عربی و فارسی اور ترکی وغیرہ کا، اس کا پڑھنا اس وقت تک درست نہیں ہے تا وقتیکہ اس کے معنی معلوم نہ ہوجائیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس میں الفاظ کفر ہوں۔ ہاں حدیث میں ایک منتر بسم اللہ شجۃ قرنیۃ الخ بچھو کے کاٹے کے لئے منقول ہے اگرچہ اس کے معنی معلوم نہیں ہیں مگر اس کا پڑھنا جائز ہے۔

1509Mishkaat-al-Masabih

بیمار کے لئے آنحضرت ﷺ کی دعاء شفائ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا اشتكى نفث على نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده فلما اشتكى وجعه الذي توفي فيه كنت أنفث عليه بالمعوذات التي كان ينفث وأمسح بيد النبي صلى الله عليه و سلم وفي رواية لمسلم قالت : كان إذا مرض أحد من أهل بيته نفث عليه بالمعوذات

اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے اور اپنا ہاتھ بدن پر (جہاں تک پہنچتا) پھیرتے، چناچہ جب آپ ﷺ اس بیماری میں مبتلا تھے جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی تو میں معوذات پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرتی تھی جیسا کہ آپ ﷺ خود معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم فرمایا کرتے تھے، نیز میں آپ کا ہاتھ آپ ﷺ کے بدن پر پھیرا کرتی تھی۔ اس طرح کہ میں معوذات پڑھ کر آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں پر دم کرتی تھی اور پھر آپ ﷺ کے دونوں ہاتھ آپ ﷺ کے بدن مبارک پر پھیرتی۔ (بخاری ومسلم) مسلم کی ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ ؓ سے یہ منقول ہے کہ جب گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آنحضرت ﷺ معوذات پڑھ کر اس پر دم فرمایا کرتے تھے تشریح معوذات سے مراد قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس کی سورتیں ہیں۔ چناچہ حدیث میں معوذاب بصیغہ جمع آیتوں کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے۔ یا یہ کہ چونکہ اقل جمع (یعنی جمع کا سب سے کم درجہ) دو ہیں اس لئے ان دونوں سورتوں کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ معوذات سے مراد تین سورتیں یعنی قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس اور قل ھو اللہ ہیں اور ان تینوں کو معوذات کا نام تغلیباً دیا گیا ہے۔ یہی بات زیادہ معتمد ہے بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ معوذات میں ان تینوں سورتوں کے علاوہ قل یا ایہا الکافرون بھی داخل ہے۔ واللہ اعلم۔ مسلم کی دوسری روایت میں ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس موقع پر جہاں یہ احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ دم کرنے کے ساتھ ہاتھ بھی پھیرتے ہوں گے۔ لیکن یہاں اس کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا ہے کہ دم کرنے سے ہاتھ پھیرنا بھی خود بخود مفہوم ہوجاتا ہے وہیں یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ جس طرح دم کرنے کے ساتھ ہاتھ پھیر تے تھے اس طرح کسی کسی موقعہ پر صرف دم کرنے ہی پر اکتفاء کرتے ہوں گے اور ہاتھ نہ پھیرتے ہوں گے۔ لیکن صحیح اور قریب از حقیقت وضاحت وہی ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے اور اولیٰ بھی یہی ہے کہ دم بھی کیا جائے اور ہاتھ بھی پھیرا جائے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کلام اللہ کی آیتیں پڑھ کر بیمار پر دم کرنا سنت ہے۔

1510Mishkaat-al-Masabih

درد ختم کرنے کی دعا

وعن عثمان بن أبي العاص أنه شكا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وجعا يجده في جسده فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ضع يدك على الذي يألم من جسدك وقل : بسم الله ثلاثا وقل سبع مرات : أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر . قال : ففعلت فأذهب الله ما كان بي . رواه مسلم

اور حضرت عثمان بن ابی العاص کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ سے درد کی شکایت کی جسے وہ اپنے بدن (کے کسی حصہ) میں محسوس کرتے تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تمہارے بدن کے جس حصہ میں درد ہے وہاں اپنا ہاتھ رکھ کر (پہلے) تین مرتبہ بسم اللہ پڑھو اور (پھر) سات مرتبہ یہ پڑھو۔ میں اللہ سے اس کی عزت اور اس کی قدرت کے ذریعہ اس برائی (یعنی درد) سے پناہ مانگتا ہوں جسے میں (اس وقت) محسوس کر رہا ہوں اور (آئندہ اس کی زیادتی سے) ڈرتا ہوں۔ حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ (آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق) میں نے ایسا ہی کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کردی۔ (مسلم)

1511Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی علالت اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کی دعا

وعن أبي سعيد الخدري أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد اشتكيت ؟ فقال : نعم . قال : بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شرك كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك . رواه مسلم

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور (مزاج پرسی کے طور پر) کہا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ علیل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اللہ کے نام پر آپ ﷺ پر افسوں پڑھتا ہوں۔ ہر اس چیز سے جو آپ ﷺ کو اذیت پہنچائے اور ہر شخص کی برائی یا حاسد کی آنکھ سے اللہ آپ ﷺ کو شفاء دے اللہ کے نام سے آپ پر افسوں پڑھتا ہوں (مسلم)

1512Mishkaat-al-Masabih

برائی وحادثہ سے اللہ کی پناہ میں دینا

وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعوذ الحسن والحسن : أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة ويقول : إن أباكما كان يعوذ بهما إسماعيل وإسحاق . رواه البخاري وفي أكثر نسخ المصابيح : بهما على لفظ التثنية

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ حضرت حسن و حضرت حسین ؓ کو ان الفاظ کے ذریعہ (خدا کی) پناہ میں دیتے تھے۔ میں تمہیں کلمات اللہ کے ذریعہ جو کامل ہیں، ہر شیطان کی برائی، ہر ہلاک کردینے والے زہریلے جانور اور ہر نظر لگانے والی آنکھ سے (خدا کی) پناہ میں دیتا ہوں اور آپ ﷺ یہ (بھی) فرماتے تھے کہ تمہارے باپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام) ان کلمات کے ذریعہ اپنے صاحبزادہ حضرت اسماعیل و حضرت اسحق علیہما السلام کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے۔ مصابیح کے اکثر نسخوں میں (لفظ بہا کی بجائے) بہما تثنیہ کی ضمیر کے ساتھ ہے۔ (بخاری) تشریح کلمات اللہ سے مراد یا تو اللہ تعالیٰ کی معلومات ہیں یا اس کے اسماء پاک اسی طرح اس کی کتابیں بھی مراد ہوسکتی ہیں۔ ہر شیطان کی برائی سے کا مطلب ہے ہر سرکش اور حد سے بڑھ جانے والے کی برائی سے خواہ وہ آدمیوں میں سے ہو خواہ جنات میں سے یا جانوروں سے ہامہ اس زہریلے جانور کو کہتے ہیں جس کے کاٹے سے آدمی ہلاک ہوجائے جیسے سانپ وغیرہ۔ جس زہریلے جانور کے کاٹے سے آدمی مرتا نہیں اسے سامہ کہتے ہیں جیسے بچھو، زنبور (بھڑ) وغیرہ۔ نیز بعض مواقع پر حشرات الارض ہوام ہامہ کی جمع کہتے ہیں۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس کے الفاظ ان اباکما کان یعوذبہا میں لفظ بہا ضمیر مفرد کے ساتھ نقل کیا گیا ہے جب کہ مصابیح کے اکثر نسخوں میں اس موقع پر بہما ضمیر تثنیہ کے ساتھ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ضمیر تثنیہ حدیث کے دو جملوں من شر کل شیطان اور من کل عین لامۃ کی طرف راجع ہوگی۔ لیکن اس میں چونکہ خواہ مخواہ کا تکلف ہے اس لئے علامہ طیبی (رح) نے کہا ہے کہ جن نسخوں میں بہما تثنیہ کی ضمیر کے ساتھ لکھا گیا ہے وہاں کاتب سے سہو ہوگیا ہے صحیح بہا یعنی مفرد کی ضمیر کے ساتھ ہی ہے۔

1513Mishkaat-al-Masabih

تکلیف ومصیبت اللہ کی رحمت ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يرد الله به خيرا يصب منه . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کو بھلائی پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے، وہ (اس بھلائے کے حصول کے لئے) مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (بخاری) تشریح مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جسے دل قبول اور پسند نہ کرے، لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مصیبت خواہ وہ تکلیف و بیماری کی صورت میں ہو یا حادثہ و صدمہ کی شکل میں، ہمیشہ اللہ کے قہر اور عذاب ہی کے طور پر نہیں آتی بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس بندہ پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا سایہ کرنا چاہتا ہے اسے خیر و بھلائی کے راستہ پر ڈالنا چاہتا ہے تو اسے کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے جس سے نہ صرف یہ کہ اس کے گناہ صاف ہوجاتے ہیں بلکہ اس کے قلب و دماغ کو مصیبت کی سختی مجلی و مصفا کر کے خیر و بھلائی کے نور کو اپنے اندر ضیا بار کرنے کی صلاحیت پیدا کردیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی بندہ مصیبت و تکلیف پر صبر کرے اور راضی برضا رہے تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ یہ مصیبت اس کے لئے اپنے دامن میں اللہ کی رضا و رحمت لے کر آئی ہے۔ ہاں اگر کوئی بندہ کسی مصیبت پر صبر و ضبط کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ کر جزع و فزع کرنے لگے اور ناخوش خفا ہونے لگے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ یہ مصیبت اس کے حق میں رحمت نہیں بلکہ عذاب الٰہی ہے۔

1514Mishkaat-al-Masabih

رنج وغم کا پہنچنا گناہوں کو دور کرتا ہے

وعن أبي هريرة وأبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا أذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه

حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کو جب کوئی رنج، دکھ فکر، حزن ایذاء اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہ دور کردیتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح الفاظ ہم و حزن وغیرہ کے معنی قریب قریب یکساں ہیں صرف ہم اور غم میں فرق یہ ہے کہ ہم آئندہ واقعہ ہونے والے معاملہ سے تعلق رکھتا ہے یعنی اگر کوئی ایسا مشکل امر پیش آنے والا ہو جس کے کرنے یا نہ کرنے سے رنج و ملال پہنچے تو وہاں ہم استعمال کیا جاتا ہے اور غم کا تعلق گزرے ہوئے واقعہ سے ہوتا ہے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان کو کسی بھی نوعیت کا یا کسی بھی طرح کا کوئی رنج و ملال اور غم و مصیبت پہنچے تو وہ اس کے صغیرہ گناہوں کے دور ہونے کا ذریعہ ہے۔

1515Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ پر تکلیف وبیماری کی سختی وزیادتی

وعن عبد الله بن مسعود قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يوعك فمسسته بيدي فقلت : يا رسول الله إنك لتوعك وعكا شديدا . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أجل إني أوعك كما يوعك رجلان منكم . قال : فقلت : ذلك لأن لك أجرين ؟ فقال : أجل . ثم قال : ما من مسلم يصيبه أذى من مرض فما سواه إلا حط الله تعالى به سيئاته كما تحط الشجرة ورقها

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اس وقت آپ ﷺ کو بخار تھا میں نے آپ ﷺ پر اپنا ہاتھ پھیر کر عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو بہت سخت بخار ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں مجھے تمہارے دو آدمیوں کے برابر بخار چڑھتا ہے حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یہ اس وجہ سے ہوگا کہ آپ کو دو گنا ثواب ملے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! اور پھر فرمایا جس مسلمان کو بیماری کی وجہ سے یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کے گناہ (اسی طرح) دور کردیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

1516Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ پر تکلیف وبیماری کی سختی وزیادتی

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : ما رأيت أحدا الوجع عليه أشد من رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جس کی بیماری آنحضرت ﷺ کی بیماری سے زیادہ سخت و شدید ہو۔ (بخاری و مسلم)

1517Mishkaat-al-Masabih

موت کی سختی بلندی درجات کی علامت ہے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : مات النبي صلى الله عليه و سلم بين حاقنتي وذاقنتي فلا أكره شدة الموت لأحد أبدا بعد النبي صلى الله عليه و سلم . رواه البخاري

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے میرے سینہ اور گردن کے درمیان وفات پائی، میں نبی کریم ﷺ کے بعد کسی شخص کی موت کی سختی کو کبھی برا نہیں سمجھتی۔ (بخاری) تشریح حضرت عائشہ ؓ کے ارشاد کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ آپ ﷺ میرا سہارا لئے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کا سر مبارک میرے سینہ اور گردن کے بیچ رکھا ہوا تھا لہٰذا میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس وقت آنحضرت ﷺ حالت نزع کی کتنی شدید تکلیف میں مبتلا تھے اور آپ ﷺ کی موت کتنی سخت تھی!۔ حدیث کے دوسرے جزو فلا اکرہ شدۃ الموت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو میں یہ سمجھتی تھی کہ حالت نزع کی تکلیف اور موت کی سختی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن جب میں نے آنحضرت ﷺ کی موت دیکھی تو مجھے معلوم ہوا کہ موت کی سختی گناہوں کی کثرت اور خاتمہ بالخیر نہ ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ موت کی سختی اور سکرات الموت کی شدت بلندی درجات کے لئے ہوتی ہے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ موت کی آسانی اور سکرات الموت میں تخفیف بزرگی اور فضیلت کی بات نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آنحضرت ﷺ کو یہ فضیلت بطریق اولیٰ حاصل ہوتی۔

1518Mishkaat-al-Masabih

مؤمن اور منافق کی زندگی کی مثال

وعن كعب بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمن كمثل الخامة من الزرع تفيئها الرياح تصرعها مرة وتعدلها أخرى حتى يأتيه أجله ومثل المنافق كمثل الأرزة المجذية التي لا يصيبها شيء حتى يكون انجعافها مرة واحدة

حضرت کعب بن مالک ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مؤمن کی مثال کھیت کی تر و تاز اور نرم شاخ کی سی ہے کہ جسے ہوائیں جھکا دیتی ہیں، کبھی اسے گرا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کردیتی ہیں یہاں تک کہ اس کا وقت پورا ہوجاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو جما کھڑا رہتا ہے اسے کوئی جھٹکا نہیں لگتا (یعنی نہ تو وہ ہوا کہ دباؤ سے گرتا ہے اور نہ جھکتا ہے) یہاں تک کہ وہ دفعۃً زمین پر آ گرتا ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح مؤمن کی مثال تو کھیتی کی تر و تازہ اور نرم شاخ سے دی جا رہی ہے کہ جس طرح ہواؤں کے تھپیڑے اس شاخ پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں بایں طور کہ کبھی وہ شاخ کو گرا دیتے ہیں کبھی سیدھا کردیتے ہیں۔ مگر وہ شاخ ہواؤں کے سکت و تند تھپیڑے کھا کھا کر اپنی جگہ اپنے وقت کے آخری لمحہ تک کھڑی رہتی ہے۔ اسی مؤمن کا حال بھی یہی ہے کہ کبھی تو اسے مصائب و آلام اور ضعف و بیماری کے سخت تھپیڑے گرا دیتے ہیں، کبھی صحت و تندرستی اور خوشی و مسرت کے جانفزا جھونکے ان کی زندگی میں بشاشت و انبساط کی زندگی پیدا کردیتے ہیں اس طرح وہ اپنی زندگی کے دن پورے کرتا رہتا ہے۔ منافق کی مثال صنوبر کے درخت سے دی گئی ہے کہ جس طرح صنوبر کا درخت بظاہر ایک جگہ کھڑا رہتا ہے اور اس پر ہوا کا دباؤ اثر انداز نہیں ہوتا مگر جب اس کا وقت آتا ہے تو وہ یکبارگی زمین پر آ رہتا ہے اسی طرح منافق کا حال ہے کہ وہ دنیاوی زندگی میں بظاہر خوش و خرم اور ہشاش بشاش نظر آتا ہے نہ اس پر مصائب و آلام کی بارش ہوتی ہے اور نہ بیماری و ضعف کے تھپیڑے اس پر اثر انداز ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ یکبارگی بغیر کسی بیماری و ضعف کے موت کی وادی میں گر جاتا ہے۔ گویا حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ مؤمن و مسلمان کی زندگی مصائب و آلام اور تکلیف و پریشانی میں گزرتی ہے کبھی وہ بیماری و ضعف کے جال میں پھنسا رہتا ہے کبھی اسے مال و زر کی کمی اپنی لپیٹ میں لیتی ہے کبھی دوسرے دنیاوی حوادث و آلام اس کی روشن زندگی پر سیاہ بادل بن کر چھا جاتے ہیں مگر مومن مسلمان اسی حالت میں جیے جاتا ہے اور یہ تمام چیزیں اس کے حق میں اخروی سعادت و خوش بختی کی علامت قرار دی جاتی ہیں بشرطیکہ صبر و رضا اور شکر کا دامن کسی بھی مرحلہ پر ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کے مقابلہ پر منافق و فاسق کی زندگی ہوتی ہے جس پر نہ تو زیادہ تر غم و آلام کا سایہ ہوتا ہے نہ بیماری و پریشانی کے سیاہ بادل اور نہ دوسری دنیاوی ذلت و ناکامرانی اور مصیبت و پریشانی کا چکر، بلکہ وہ بظاہر تندرست و توانا اور خوش و خرم رہتا ہے اس طرح نہ اسے وہ درجہ ملتا ہے جو مصائب و پریشانی میں مبتلا ہو کر مؤمن و مسلمان کی اخروی کامیابی و فلاح کا ضامن بنتی ہے۔