بخار اور اس کا علاج ارشاد نبوی ﷺ کی روشنی میں
وعن ثوبان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا أصاب أحدكم الحمى فإن الحمى قطعة من النار فليطفها عنه بالماء فليستنقع في نهر جار وليستقبل جريته فيقول : بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك بعد صلاة الصبح وقبل طلوع الشمس ولينغمس فيه ثلاث غمسات ثلاثة أيام فإن لم يبرأ في ثلاث فخمس فإن لم يبرأ في خمس فسبع فإن لم يبرأ في سبع فتسع فإنها لا تكاد تجاوز تسعا بإذن الله عز و جل . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بخار میں مبتلا ہو اور وہ بخار (چونکہ) آگ کا ایک ٹکڑا ہے اس لئے اسے پانی سے بجھانا چاہیے لہٰذا اس شخص کو (جو بخار میں مبتلا ہے) چاہئے کہ وہ جاری نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف کھڑا ہو اور یہ دعا پڑھے دعا (بسم اللہ اللہ اشف عبد و صدق رسولک)۔ شفا طلب کرتا ہوں میں اللہ کے بابرکت نام سے اے اللہ! اپنے بندہ کو شفا دے اور اپنے رسول کو (یعنی ان کے اس قول کو سچا کر) بایں طور کہ مجھے شفا دے۔ اور یہ عمل نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کرے اور تین دن تک پانی میں غوطے لگائے، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پھر (یہ عمل) پانچ دن تک کرے اور اگر پانچ دن میں بھی اچھا نہ ہو تو پھر سات دن تک (یہ عمل) کرے اور اگر سات دن میں بھی اچھا نہ تو پھر نو دن تک (یہ عمل) کرے اور اللہ جل شانہ کے حکم سے بخار نو دن سے تجاوز نہیں کرے گا (یعنی اس عمل کے بعد بخار جاتا رہے گا) امام ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
لفظ و لینغمس (غوطے لگائے) دراصل لفظ فلیستنقع (نہر میں اترے) کا بیان ہے، لہٰذا اس عبارت کے یہ معنی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں کہ تین غوطے تین دنوں میں (یعنی ایک ایک غوطہ روزانہ) لگائے جائیں اور یہ معنی بھی متحمل ہوسکتے ہیں کہ ہر روز تین تین غوطے لگائے جائیں۔ حدیث بالا میں بخار کے لئے جو علاج تجویز کیا جا رہا ہے وہ علاج مخصوص ہے یعنی ہر بخار میں یہ علاج کار گر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صفراوی بخار کی بعض اقسام سے ہے جس میں اہل حجاز مبتلا ہوتے ہیں، چونکہ بعض بخار میں پانی کا استعمال نہ صرف یہ کہ مضر بلکہ باعث ہلاکت ہوتا ہے اس لئے ہر بخا میں علاج کا یہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ہاں اگر کسی بخار میں طبیب حاذق اور معتمد معالج اجازت دے دے تو پھر اس پر بلا جھجک عمل کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں خطابی (رح) نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص کسی ایسے بخار میں مبتلا ہوا جس میں پانی کا استعمال مضر تھا مگر اس نے ناسمجھی میں پانی میں غوطے لگائے جس کا اثر یہ ہوا کہ حرارت بدن میں رک گئی چناچہ وہ اتنا بیمار ہوا کہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا۔ جب کسی نہ کسی طرح اچھا ہوا تو ظالم نے یہ تو نہ سمجھا کہ حدیث کے معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے خود مصیبت میں پھنسا البتہ نفس حدیث کے بارے میں اول قول بکنے لگا حالانکہ اگر وہ بےوقوفی اور ناسمجھی کا ثبوت نہ دیتا بلکہ یہ جانتا کہ حدیث کا یہ حکم ہر نوع کے بخار کے لئے نہیں ہے بلکہ بعض مخصوص بخار کے لئے ہے تو مصیبت میں کیوں پھنستا۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : ذكرت الحمى عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فسبها رجل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تسبها فإنها تنفي الذنوب كما تنفي النار خبث الحديد . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کے سامنے بخار کا ذکر ہوا تو ایک شخص اسے برا کہنے لگا (یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بخار کو برا نہ کہو کیونکہ بخار گناہوں کو اسی طرح دور کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کے میل کو دور کردیتی ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب بخار گناہوں کو دور کردیتا ہے تو عقل و دانش کا تقاضہ یہ ہونا چاہئے کہ بخار کے معاملہ میں شکر گزاری کی راہ پر لگا جائے نہ کہ ناشکری کی جائے چناچہ مشائخ رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ بلا و مصیبت میں بھی اسی طرح شکر الٰہی کی جائے جس طرح نعمت و راحت میں اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر جب کوئی بلا نازل فرماتا ہے تو اس بلاء میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی رحمت ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔
مؤمن کامل بخار میں کیوں مبتلا ہوتا ہے؟
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاد مريضا فقال : أبشر فإن الله تعالى يقول : هي ناري أسلطها على عبدي المؤمن في الدنيا لتكون حظه من النار يوم القيامة . رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک بیمار کی عیادت کی (جب بخار میں مبتلا تھا) اور اس سے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو! کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بخار میری آگ ہے۔ جسے میں اپنے بندہ پر اس لئے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ (بخار) اس کے حق میں قیامت کے دن دوزخ کی آگ کا بدلہ اور حصہ ہوجائے۔ (احمد، ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آیت (وان منکم الا واردھا) یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو (قیامت کے دن) دوزخ میں داخل نہ ہو۔ لہٰذا بندہ مؤمن کو اس داخل ہونے کے بدلے دنیا میں بخار میں مبتلا کیا جاتا ہے اس طرح وہ بخار کی وجہ سے عذاب سے جو دوزخ میں داخل ہونے کی وجہ سے ہوتا بچا رہے گا اگرچہ داخل ہونا بایں طور سب کے لئے ہوگا کہ پل صراط دوزخ کے اوپر قائم کیا جائے اور اس کے اوپر سے سب ہی گزریں گے۔ مذکورہ بالا تشریح کے پیش نظر حدیث میں لفظ مؤمن کے ساتھ کامل کی قید لگا دینی چاہئے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حدیث کے مفہوم کا تعلق مؤمن کامل سے ہے۔ کیونکہ بعض گناہگار مؤمن بھی آتش دوزخ کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے اس طرح وہ مؤمن جو اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔ حدیث کے مفہوم و مصداق سے خارج ہوجائیں گے۔
فقر وبیماری گناہوں کی بخشش کا ذریعہ
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الرب سبحانه وتعالى يقول : وعزتي وجلالي لا أخرج أحدا من الدنيا أريد أغفر له حتى أستوفي كل خطيئة في عنقه بسقم في بدنه وإقتار في رزقه . رواه رزين
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ بزرگ و برتر فرماتے ہیں کہ قسم ہے اپنی عزت و بزرگی کی جس بندہ کو میں بخشنا چاہتا ہوں اسے میں دنیا سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک کہ اس کے بدن کو بیماری میں مبتلا کر کے اور اس کے رزق کی تنگی میں ڈال کر اس کے ہر گناہ کا بدلہ جو اس کے ذمہ ہو نہ دے لوں گا (رزین)
تشریح
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس بندہ کو میں آخرت کی ابدی سعادت سے نوازنا چاہتا ہوں اس کے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں بایں طور دے دیتا ہوں کہ کبھی تو اسے بیماری میں مبتلا کردیتا ہوں کبھی مال و رزق کی تنگی اس پر مسلط کردیتا ہوں۔ پس وہ بخشا جاتا ہے اور عذاب آخرت سے نجات پاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ فقر و بیماری اور بلا و مصیبت گناہوں کو دور کرتی ہے۔
ابن مسعود (رض) کا ایک واقعہ
وعن شقيق قال : مرض عبد الله بن مسعود فعدناه فجعل يبكي فعوتب فقال : إني لا أبكي لأجل المرض لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المرض كفارة وإنما أبكي أنه أصابني على حال فترة ولم يصبني في حال اجتهاد لأنه يكتب للعبد من الجر إذا مرض ما كان يكتب له قبل أن يمرض فمنعه منه المرض . رواه رزين
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ (جب) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیمار ہوئے (تو ہم لوگ آپ کی عیادت کو گئے، وہ ہمارے سامنے رونے لگے لوگوں نے (یہ گمان کر کے کہ وہ بیماری کی تکلیف اور اپنی زندگی کی محبت کی وجہ سے رو رہے ہیں) اس پر ناگواری کا اظہار کیا، حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں بیماری کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں کیونکہ میں نے تو خود رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری گناہوں کے دور ہونے کا سبب ہے میں تو صرف اس لئے رو رہا ہوں کہ میں سستی (یعنی بڑھاپے) کی حالت میں بیماری میں مبتلا ہوا قوت (یعی جوانی) کی حالت میں بیماری میں مبتلا کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اس کے ( ایام بیماری میں) وہی اعمال لکھے جاتے جو اس کے بیمار ہونے سے پہلے لکھے جاتے تھے اور اب بیماری نے اسے اس عمل سے باز رکھا۔ (رزین)
تشریح
جوانی کے ایام میں بحالت صحت و تندرستی نیک عمل بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لئے اس بشارت کے مطابق کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حالت بیماری میں بیمار بندہ کے نامہ اعمال میں فرشتوں کو ان اعمال کا ثواب لکھنے کا حکم دیتا ہے جنہیں وہ حالت تندرستی میں کیا کرتا تھا اور اب بیماری کی وجہ سے نہیں کرسکتا۔ ایام جوانی کی بیماری میں بھی کم اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے اس لئے حضرت ابن مسعود ؓ یہی فرماتے ہیں کہ کاش میں ایام جوانی میں بیمار ہوتا تاکہ میرے نامہ اعمال میں زیادہ اعمال کا ثواب لکھا جاتا۔
وعن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم لا يعود مريضا إلا بعد ثلاث . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ تین دن کے بعد مریض کی عیادت کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ بیمار ہونے کے تین دن بعد مریض کی عیادت کے لئے آپ تشریف لے جاتے تھے اس سلسلہ میں جہاں تک کہ مسئلہ کا تعلق ہے تو جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں عیادت کسی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں ہے جب چاہے کرے خواہ پہلے کرے خواہ بعد میں۔ چناچہ بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ بعض حضرات نے تو اسے حدیث موضوع تک قرار دیا ہے۔
مریض سے اپنے لئے دعا کراؤ
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال ك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخلت على مريض فمره يدعو لك فإن دعاءه كدعاء الملائكة . رواه ابن ماجه
حضرت عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم بیمار کے پاس جاؤ تو اس سے کہو کہ تمہارے لئے دعا کرے کیونکہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مریض کی دعا کو فرشتوں کی دعا کے مانند قرار دیا گیا ہے کیونکہ بیمار کی تو ملائکہ کے ساتھ بہت مشابہت ہوتی ہے بایں طور کہ جس طرح فرشتے گناہوں سے پاک و صاف رہتے ہیں، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رہتے ہیں اور ہمہ وقت بارگاہ رب العزت میں دعا مناجات اور التجا کرتے رہتے ہیں، اسی طرح بیمار بھی گناہوں سے بچتا ہے، ہر وقت اللہ ہی کی طرف متوجہ رہتا ہے اور ہمہ وقت دعا درازی اور التجا میں مصروف رہتا ہے۔
مریض کے پاس غل غپاڑہ نہ مچانا چاہئے
وعن ابن عباس قال : من السنة تخفيف الجلوس وقلة الصخب في العيادة عند المريض قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما كثر لغطهم واختلافهم : قوموا عني رواه رزين
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عیادت کے وقت مریض کے پاس کم بیٹھنا اور شور و غوغا نہ کرنا سنت ہے۔ نیز حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ صحابہ ؓ میں شور و غوغا اور اختلاف زیادہ ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو۔ (رزین)
تشریح
حضرت ابن عباس ؓ کے ارشاد سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ عیادت کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ مریض کے پاس عیادت کے وقت صرف اتنا عرصہ کے لئے بیٹھنا چاہئے جس میں بیمار کی مزاج پرسی اور اس کے حالات و کیفیات کا علم ہوجائے۔ گویا اس کے پاس خواہ مخواہ کے لئے زیادہ دیر تک بیٹھ کر بیمار کے مزاج پر بوجھ نہ بننا چاہئے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار کے پاس بیٹھ کر غل غپارہ مچانا اور شور و غوغا کرنا مکروہ ہے۔ روایت کے دوسرے جزو کی تفصیل حضرت ابن عباس ہی کی روایت کی روشنی میں جو بخاروی و مسلم میں مروی ہے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب مرض میں مبتلا ہوئے اور وصال کا وقت قریب آیا تو اس موقع پر جب کہ آپ کے پاس بہت زیادہ لوگ جمع تھے جن میں حضرت عمر ؓ بھی تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوات قلم لاؤ میں تمہارے لئے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں تاکہ تم میرے بعد گمراہی میں مبتلا نہ ہو سکو! (یہ سن کر حاضرین کو مخاطب کر کے) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ (معلوم ہوتا ہے کہ) اس وقت آنحضرت ﷺ پر شدت مرض غالب ہے اسی لئے آپ ﷺ وصیت نامہ لکھنے کے لئے فرما رہے ہیں ورنہ تو وصیت نامہ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور کتاب اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد اہل بیت اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی اپنی بات کہنی شروع کردی کوئی تو کہتا تھا کہ قلم و دوات لا دینا چاہئے تاکہ آنحضرت ﷺ تمہارے لئے وصیت نامہ لکھ دیں بعض لوگ حضرت عمر ؓ کی تائید کر رہے تھے۔ غرض اس معاملہ میں جب بحث مباحثہ زیادہ بڑھا اور لوگوں کے اظہار رائے نے شور و غوغا کی صورت اختیار کرلی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سب لوگ میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو۔ اس صورت واقعہ سے روافض یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اس وصیت نامہ میں خلافت کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے تھے (مثلاً یہ کہ میرے بعد خلیفہ اول علی ؓ ہوں) مگر حضرت عمر نے آپ کو اس سے روک دیا۔ علامہ ابن حجر (رح) نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ روافض کا یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس واقعہ کی حقیقت تو یہ تھی کہ گویا آنحضرت ﷺ نے جب وصیت نامہ لکھنے کا رادہ فرمایا اور حاضرین میں اختلاف پیدا ہوا تو آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ بات آئی کہ مصلحت یہی ہے کہ کوئی وصیت نامہ نہ لکھا جائے۔ چناچہ آپ نے حضرت عمر ؓ کے کہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنے اختیار سے صرف یہ کہ اس وقت وصیت نامہ نہیں لکھا بلکہ لکھنے کا ارادہ بھی ترک فرما دیا کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ نے کسی چیز کے لکھنے کا مصمم ارادہ فرما لیا ہوتا تو حضرت عمر وغیرہ کی کیا مجال تھی کہ آپ ﷺ کے اس فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے، چناچہ آنحضرت ﷺ اس واقعہ کے بعد تین دن تک زندہ رہے اور ان ایام میں آپ ﷺ کے پاس حضرت عمر اور دوسرے صحابہ موجود نہیں تھے بلکہ اہل بیت مثلاً حضرت علی اور حضرت عباس ؓ وغیر ہما بارگاہ رسالت میں حاضر رہے اگر آپ اس موقع پر خلافت کے بارے میں کوئی وصیت نامہ لکھنے ہی میں مصلحت سمجھتے تو ضرور لکھتے۔ پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے خلافت کے بارے میں ایسا طریقہ اختیار فرمایا جس میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش ہی نہ رہی تھی آپ ﷺ نے اپنے آخری ایام میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو نماز میں لوگوں کا امام مقرر فرمایا۔ اسی وجہ سے حضرت علی ؓ نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے واسطے لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر کو ہمارے دین کے لئے امام منتخب فرمایا یعنی نماز میں ہمارا امام مقرر فرما دیا تو کیا ہم انہیں اپنی دنیا کے لئے یعنی خلافت کے لئے منتخب نہ کریں؟ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت ابوبکر کو نماز میں لوگوں کا امام بننے کے لئے بلا بھیجا تو اس وقت میں آپ ﷺ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا اور آپ مجھے دیکھ رہے تھے (مگر آپ نے مجھے امام مقرر نہیں فرمایا) حضرت ابوبکر ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ کہ آیت (لایخافون لومۃ لائم)۔ (یعنی یہ لوگ ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے)۔ منقول ہے کہ ابوسفیان بن حرب نے (جب ایک موقع پر) حضرت علی ؓ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں ابوبکر سے لڑائی کے لئے مدینہ کا میدان گھوڑوں اور پیادوں سے بھر دوں (تو حضرت علی) ابوسفیان کی اس بات سے بہت ناراض ہوئے اور انہیں ڈانٹا اور بہت برا بھلا کہا تاکہ نہ صرف ابوسفیان بلکہ دوسرے لوگ بھی جان لیں کہ ابوبکر کی خلافت منشاء نبوت کے مطابق ہونے کی وجہ سے اتنی مستحکم اور حقیقی ہے کہ اس میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو اس وقت آنحضرت ﷺ ہی نے حضرت علی ؓ کی خلافت کے بارے میں کچھ لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا اور نہ خود حضرت علی ؓ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں حضرت ابوبکر ؓ سے مقدم ہوں اور خلافت میرا حق ہے کیونکہ حضرت علی اگر حضرت ابوبکر پر فضیلت رکھتے اور خلافت پہلے ان کا حق ہوتا تو آنحضرت ﷺ اس کی ضرور وصیت کرتے۔ چہ جائیکہ آپ ﷺ نے اس کی طرف کوئی اشارہ بھی نہیں فرمایا جب کہ حضرت ابوبکر کو نماز میں لوگوں کا امام مقرر فرما کر اس طرف کھلا ہوا اشارہ فرما دیا تھا کہ میرے بعد ابوبکر ہی خلیفہ ہونگے۔
عیادت کے وقت مریض کے پاس بہت کم بیٹھنا چاہئے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العيادة فواق ناقة
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عیادت کا افضل مرتبہ اونٹنی کے دو مرتبہ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے بقدر ہے اور حضرت سعید بن مسیب کی روایت کے جو بطریق ارسال منقول ہے یہ الفاظ ہیں کہ بہترین عیادت وہی ہے جس میں عیادت کرنے والا جلد اٹھ کھڑا ہو۔ (بیہقی)
تشریح
پہلی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اونٹنی کا دودھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ کر کے دوہتے ہیں جن کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ دودھ دوہا پھر ذرا رک گئے اور بچوں کو تھنوں سے لگا دیا تاکہ دودھ خوب اترے پھر اس کے بعد دودھ دوہنا شروع کردیتے ہیں۔ اس طرح دونوں مرتبہ کا درمیانی وقفہ بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا عیادت کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے۔ جب کوئی کسی مریض کے پاس عیادت کے لئے جائے تو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ مریض کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھے بلکہ دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے بقدر بیٹھے تاکہ مریض کو تکلیف نہ ہو۔ کتابوں میں ایک شخص کا واقعہ منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سری سقطی (رح) کی عیادت کو گئے جب کہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ ہم ان کے پاس بہت دیر تک بیٹھے رہے اس وقت ان کے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ! ان لوگوں کو مریض کی عیادت کرنے کے آداب و طریقے سکھا! گویا انہوں نے اس دعا سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ مریض کے پاس جب عیادت کے لئے جائے تو زیادہ دیر تک نہ بیٹھے بلکہ تھوڑی دیر بیٹھ کر اور عیادت کر کے چلا آئے۔ ہاں اگر کوئی عیادت کرنے والا یہ جانے کہ بیمار پر اس کا زیادہ دیر تک بیٹھنا گراں نہیں گزر رہا ہے بلکہ دوست ہونے کی حیثیت سے یا برکت حاصل کرنے کی غرض سے اور یا خدمت دلداری کی وجہ سے مریض کی خواہش یہ ہے کہ وہ اس کے پاس زیادہ دیر تک بیٹھے تو اس صورت میں مریض کے پاس سے جلدی اٹھ کھڑا ہونا افضل نہیں ہوگا۔
مریض جو چیز مانگے کھلادینی چاہئے
وفي رواية سعيد بن المسيب مرسلا : أفضل العيادة سرعة القيام . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کی عیادت کی پھر اس سے پوچھا کہ کیا چیز کھانے کو تمہارا جی چاہتا ہے؟ اس نے کہا کہ گیہوں کی روٹی کھانے کو میرا جی چاہتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو (یعنی اس مریض کے پاس) بھیج دے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بیمار ہو اور کسی چیز کی خواہش کرے تو اسے وہ چیز کھلادینی چاہئے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
خواہش سے مراد خواہش صادق ہے اور وہ صحت کی نشانی ہوتی ہے۔ چناچہ بعض مریضوں کو اس چیز کا کھانا کہ جسے کھانے کے لئے مریض کا دل چاہتا ہو نقصان دہ نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ وہ چیز مقدار میں تھوڑی ہو اور ایسی نہ ہو جس کے نقصان اور ضرر کا پہلو غالب ہو۔ لہٰذا حاصل کلام یہ ہے کہ اس حدیث کا یہ حکم اذا اشتھی فلیطعمہ کلی اور عمومی طور پر نہیں ہے بلکہ جزئی اور انفرادی طور پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مریض کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کرنا چاہئے کہ وہ جو بھی چیز مانگے خواہ وہ اس کے مرض کے لئے کتنی ہی نقصان دہ اور مضر کیوں نہ ہو اس دیدی جائے جبکہ بعض مخصوص حالات میں اگر کوئی مریض کسی ایسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے جس میں نقصان اور ضرر کا پہلو غالب نہ ہو اور یہ کہ معالج اس کے خلاف نہ ہو تو وہ چیز مریض کو دے دینی چاہئے۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم تو کل یا زندگی سے مایوسی پر مبنی ہے یعنی جس مریض کی زندگی کی امید باقی نہ رہی ہو اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ جو چیز مانگے اسے کھلا دینی چاہئے۔
حالت مسافرت کی موت کی فضیلت
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم عاد رجلا فقال له : ما تستهي ؟ قال : أشتهي خبز بر . قال النبي صلى الله عليه و سلم : من كان عنده خبز بر فليبعث إلى أخيه . ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا اشتهى مريض أحدكم شيئا فليطعمه . رواه ابن ماجه
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کی وفات مدینہ میں ہوئی جو مدینہ ہی میں پیدا ہوا تھا چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر فرمایا! کہ کاش! یہ شخص اپنے پیدا ہونے کی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ مرا ہوتا! صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اپنے وطن کے علاوہ کسی دوسری جگہ مرتا ہے تو اس کے وطن سے لیکن اس کے مرنے کے مقام تک کی جگہ اس کے لئے جنت میں پیمائش کی جاتی ہے۔ (نسائی، ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص وطن سے دور حالت سفر میں مرتا ہے تو اس کے وطن اور اس کے مرنے کی جگہ تک کے درمیان جتنی مسافت ہوتی ہے اس کے بقدر جگہ اس کو جنت میں ملتی ہے لین اس بارے میں صحیح یہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر سے مراد صرف طاعت یعنی جہاد وغیرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اجر و انعام اس شخص کو ملتا ہے جو جہاد کے لئے یا دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یا اسی قسم کے دوسرے بامقصد و مطلوب کام کے لئے وطن سے دور مرا ہو۔
حالت مسافرت کی موت کی فضیلت
وعن عبد الله بن عمرو قال ك توفي رجل بالمدينة ممن ولد بها فصلى عليه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا ليته مات بغير مولده . قالوا ولم ذاك يا رسول الله ؟ قال : إن الرجل إذا مات بغير مولده قيس له من مولده إلى منقطع أثره في الجنة . رواه النسائي وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حالت مسافرت کی موت شہادت ہے۔ (ابن ماجہ)
حالت مسافرت کی موت کی فضیلت
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : موت غربة شهادة . رواه ابن ماجه
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص بحالت مرض مرتا ہے تو وہ شہید مرتا ہے اور قبر کے فتنوں سے بچایا جاتا ہے نیز (ہر صبح شام اسے جنت سے رزق دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
مشکوۃ کے صحیح نسخوں میں لفظ مریضا ہی لکھا ہوا ہے لیکن بعض نسخوں میں تغیر کر کے مریضا کے بجائے لفظ غریبا لکھ دیا گیا ہے لیکن صحیح ابن ماجہ میں لفظ مرابطا منقول ہے۔ اسی لئے میرک (رح) نے مشکوۃ کے اپنے نسخہ کے حاشیہ میں یہ الفاظ صوابہ مرابطا (یعنی صحیح لفظ مرابطا ہی ہے) لکھ کر اس کے نیچے یہ لکھا ہے کہ کذا فی سنن ابن ماجہ فی باب ما جاء من مات مرابطا مات شہیدا۔ پھر یہ کہ لفظ مریضا کے بارے میں علماء نے تو لکھا ہے کہ مرض سے مراد عام مرض ہے جب کہ بعض حضرات نے خاص مرض جیسے استسقاء مراد لیا ہے۔ لیکن ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں ان قیود کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ یہاں راوی سے چوک ہوگئی ہے کیونکہ حدیث کے صحیح الفاظ من مات مرابطا ہیں نہ کہ من مات مریضاً۔
طاعون کی موت شہید کی موت کی طرح ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات مريضا مات شهيدا أو وقي فتنة القبر وغدي وريح عليه برزقه من الجنة . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت عرباض بن ساریہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شہداء اور وہ لوگ جو اپنے بچھونوں پر (یعنی اپنے گھروں میں) مرے ہیں (اور حقیقی شہید نہیں ہوئے ہیں) اپنے پروردگار بزرگ برتر کے سامنے ان لوگوں کے بارے میں جو طاعون زدہ ہو کر مرے ہیں، جھگڑا کریں گے چناچہ شہداء تو یہ کہیں گے کہ ( یہ لوگ طاعون زدہ ہو کر مرے ہیں) ہمارے بھائی ہیں (یعنی ہماری طرح ہیں) (یعنی ہمارے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا انہیں ہمارا ہم مرتبہ ہونا چاہئے) کیونکہ جس طرح ہم قتل کئے گے تھے اسی طرح یہ بھی قتل کئے گئے تھے۔ اور جو لوگ اپنے بچھوں پر مرے ہیں کہیں گے کہ ہمارے بھائی ہیں (یعنی ہماری طرح ہیں) کیونکہ یہ لوگ اسی طرح بچھونوں پر مرے ہیں جس طرح کہ ہم مرے ہیں۔ پس ہمارا پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخموں کو دیکھا جائے اگر ان کے زخم شہدا کے زخم کی مانند ہیں تو یہ شہداء میں سے ہیں (یعنی باعتبار ثواب کے شہداء کے ہم پلہ ہیں اور حشر و نشر میں) ان کے ساتھ ہیں۔ چناچہ جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخم کے مشابہ ہوں گے۔ (احمد، نسائی)
تشریح
بارگاہ رب العزت میں طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہداء کی اس دلیل کہ جس طرح ہم قتل کئے گئے اسی طرح یہ بھی قتل کئے گئے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم دشمنان دین اور کفار کے ہاتھوں زخمی ہو کر مرے ہیں اسی طرح یہ بھی جنات کے ہاتھوں زخمی ہو کر مرے ہیں۔ کیونکہ علماء نے لکھا ہے کہ بسا اوقات طاعون زدہ کو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے اسے کوئی نیزے مار رہا ہو اسی لئے اس مرض کو طاعون کا نام دیا گیا ہے جو طعن سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں نیزہ مارنا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص طاعون میں مبتلا ہو کر مرے گا وہ شہیدوں میں سے ہے اس لئے قیامت کے روز وہ ان کے ساتھ ہوگا۔
طاعون سے بھاگنے کی مذمت اور اس پر صبر کرنے کی فضیلت
عن العرباض بن سارية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يختصم الشهداء والمتوفون على فرشهم إلى ربنا في الذين يتوفون من الطاعون فيقول الشهداء : إخواننا قتلوا كما قتلنا ويقول : المتوفون على فرشهم إخواننا ماتوا على فرشهم كما متنا فيقول ربنا : انظروا إلى جراحهم فإن أشبهت جراحهم جراح المقتولين فإنهم منهم ومعهم فإذا جراحهم قد أشبهت جراحهم . رواه أحمد والنسائي
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا طاعون کی بیماری سے (یعنی جہاں یہ وبا پھیلی ہو وہاں) بھاگنے والا جہاد میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنے والے کی طرح ہے اور طاعون میں صبر کرنے والے کو شہید کا ثواب ملتا ہے۔ (احمد)
تشریح
طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ مشابہت گناہ کبیرہ کے اعتبار سے ہے یعنی جس طرح کفار کے مقابلہ سے بھاگنے والا گناہ کبیرہ میں مبتلا ہوتا ہے اسی طرح طاعون سے بھاگنے والے کو بھی گناہ کبیرہ ہوتا ہے۔ اور یہ اعتقاد رکھتے ہوئے طاعون زدہ علاقہ سے بھاگنا کہ اگر میں یہاں سے بھاگ جاؤں گا تو سلامت رہوں گا اگر نہ بھاگا تو مرجاؤں گا۔ کفر ہے۔ بظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون میں صبر کرنے والے کو شہید کا ثواب ملتا ہے اگرچہ اس کی موت نہ ہو۔