اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ کُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَاَذَانِ الْمَغْرِبِ رَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں مغرب کی اذان کے وقت دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (بیہقی)
تشریح
غالباً یہاں وہی مراد ہے جس کا تزکرہ حضرت ام سلمہ ؓ کی حدیث نمبر پانچ میں آچکا ہے (یعنی اللھم ھذا اقبال لیلک و ادبار نھارک الخ)۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
عَنِ اَبنِْ عُمَرَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ بِلَالًا ےُّنَادِیْ بِلَےْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی ےُنَادِیَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ قَالَ وَکَانَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ رَجُلًا اَعْمٰی لَا ےُنَادِیْ حَتّٰی ےُقَالَ لَہُ اَصْبَحْتَ اَصْبَحْتَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا بلال (فجر کی اذان خاص) رات کو دے دیتے ہیں لہٰذا جب تک ابن ام مکتوم اذان دیں تم (رمضان میں سحری) کھاتے پیتے رہا کرو۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ؓ ایک نابینا آدمی تھے، جب تک ان سے کوئی یہ نہ کہتا تھا کہ تم نے صبح کردی، تم نے صبح کردی، وہ اذان نہ دیتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے دو مؤذن تھے، ایک مؤذن تو فجر کے وقت سے پہلے رات کو اذان دیتا تھا اور دوسرا نماز فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد اذان دیتا تھا۔ چناچہ حضرات شوافع کے یہاں دو مؤذن مقرر کرنا سنت ہے ایک فجر سے پہلے اخیر آدھی رات کو اذان دینے کے لئے اور دوسرا فجر کے اول وقت پر اذان دینے کے لئے۔ حضرات حنفیہ فرماتے ہیں کہ پہلا مؤذن سحر کے لئے یا تہجد کے لئے تھا، اس کا تعلق نماز فجر کی اذان سے نہیں تھا کیونکہ ایک روایت میں خود رسول اللہ ﷺ نے صبح کی اذان وقت سے پہلے دینے سے منع فرمایا ہے، چناچہ اسی لئے حنفیہ کے ہاں فجر کی نماز کے لئے وقت سے پہلے رات کو اذان دینا جائز نہیں ہے۔ حدیث کے آخری جملے اصبحت اصبحت (یعنی تم نے صبح کردی، تم نے صبح کردی) سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت ابن ام مکتوم ؓ صبح ہوجانے کے بعد اذان دیتے تھے تو اس وقت تک سحری کھانا پینا کیسے جائز ہوا؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصبحت کے معنی یہ ہیں کہ صبح ہونے والی ہے اسی کو بطور مبالغہ اصبحت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
ووَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَمْنَعَنَّکُمْ مِنْ سُحُورِ کُمْ اَذَانُ بلاَلٍ وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِیْلُ وَلٰکِنَّ الْفَجْرَ الْمُسْتَطِیْرَ فِیْ الْاُفُقِ (المسلم وَ لَفْظُہُ لِلتِّرْمِذِیّ)
اور حضرت سمرہ ابن جندب ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا بلال کی اذان تمہیں تمہاری سحری کھانے سے نہ رو کے (کیونکہ وہ رات کو اذان دیتے ہیں) اور نہ فجر دراز (یعنی صبح کا ذب) البتہ افق پر پھیلی ہوئی فجر (یعنی صبح صادق نمودار ہو جاے تو کھانا پینا چھوڑ دو ) (صحیح مسلم) الفاظ جامع ترمذی کے ہیں۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
وَعَنْ مَّالِکِ بْنِ الْحُوَےْرِثِ قَالَ اَتَےْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِّی فَقَالَ اِذَا سَافَرْتُمَا فَاَذِّنَا وَاَقِےْمَا وَلْےَؤُمَّکُمَا اَکْبَرُکُمَا۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت مالک ابن حویرث ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے چچا کے صاحبزادے (ہم دونوں) سرور کائنات ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سفر میں جاؤ تو (نماز کے لئے) اذان و تکبیر کہا کرو اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
غالباً یہ دونوں حضرات علم و ورع میں ہم پلہ ہوں گے اس لئے آپ ﷺ نے امام بننے کا حقدار اسے قرار دیا جو عمر فاروق ؓ میں بڑا ہو، یا پھر اکبر (یعنی بڑے) سے مراد افضل ہے کہ دونوں میں سے جوا فضل ہو وہ امامت کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فضیلت کی شرط اذان میں نہیں ہے، تاہم چاہیے یہی کہ اذان وہ آدمی دے جو اقامت نماز کا علم رکھتا ہو، نیک اور دیندار ہو، بلند آواز اور خوش گلو ہو اور اذان کے کلمات صحیح صحیح ادا کرسکتا ہو۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلُّوْا کَمَا رَاَےْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ وَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ فَلْےُؤَذِّنْ لَکُمْ اَحَدُکُمْ ثُمَّ لِےَؤُمَّکُمْ اَکْبَرُکُمْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت مالک ابن حویرث ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ تم مجھے جس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو اسی طرح تم بھی پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی اذان دے دیا کرے اور جو تم میں بڑا ہو وہ امام بن جایا کرے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ امامت کا مستحق وہی آدمی ہوگا جو علم و فضل میں سب سے بڑھا ہوگا اور اگر علم و فضل کے اعتبار سے سب برابر ہوں تو جو آدمی عمر میں سب سے بڑا ہوگا وہ امام بنے گا۔ عمر سے مراد وہ عمر ہے جو ایمان و اسلام کی حالت میں گزری ہو یعنی جس آدمی کو اسلام قبول کئے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا ہو وہ حکمًا ان لوگوں سے بڑا قرار دیا جائے گا جو اس کے بعد ایمان و اسلام کی سعادت سے مشرف ہوئے ہیں خواہ وہ عمر میں ان سب سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ پہلے اسلام قبول کرنے والے آدمی کو دین و شریعت کا علم بعد میں اسلام کے حلقہ بگوش ہونے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حِےْنَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَےْبَرَ سَارَ لَےْلَۃً حَتّٰی اِذَا اَدْرَکَہُ الْکَرٰی عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ اِکْلَأ لَنَا اللَّےْلَ فَصَلّٰی بِلَالٌ مَّا قُدِّرَ لَہُ وَنَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَصْحَابُہُ فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ مُوَجِّہَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَےْنَاہُ وَھُوَ مُسْتَنِدٌ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ فَلَمْ ےَسْتَےْقِظْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلموَلَا بِلاَل ٌوَلَا اَحَدٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ حَتّٰی ضَرَبَتْھُمُ الشَّمْسُ فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَوَّلَھُمُ اسْتَےْقَاظًا فَفَزِعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَیْ بِلَالُ فَقَالَ بِلَالٌ اَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِیْ اَخَذَ بِنَفْسِکَ قَالَ اقْتَادُوْا فَاَقْتَادَوْا رَوَاحِلَھُمْ شَےْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَمَرَ بِلَالًا فَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ فَصَلّٰی بِہِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَی الصَّلٰوَۃَ قَالَ مَنْ نَسِیَ الصَّلٰوۃَ فَلْےُصَلِّھَا اِذَا ذَکَرَھَا فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔(پ ١٦ رکوع ١٠) (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب غزوہ خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ (جب) آپ ﷺ پر غنودگی طاری ہونے لگی تو آپ ﷺ آرام کرنے کے لئے آخر رات میں ایک جگہ اتر گئے اور حضرت بلال ؓ سے فرمایا کہ تم ہمارا خیال رکھنا (یعنی صبح ہوجائے تو ہمیں جگا دینا) یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو سو گئے اور حضرت بلال ؓ نے (تہجد کی) نماز جس قدر ہوسکی پڑھی۔ جب صبح صادق ہونے کو ہوئی، تو حضرت بلال ؓ اپنے کجاوے سے تکیہ لگا کر فجر (مشرق) کی جانب منہ کر کے بیٹھ گئے (تاکہ صبح صادق ہوجائے تو رسول اللہ ﷺ حضرت بلال ؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ جب ان کے اوپر دھوپ آگئی اور اس کی گرمی پہنچی) تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی آنکھ کھلی اور آپ ﷺ نے گھبرا کر فرمایا کہ بلال یہ کیا ہوا؟ حضرت بلال ؓ (بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور انہوں نے عرض) کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے بھی اس چیز نے پکڑ لیا جس نے آپ ﷺ کو پکڑ لیا تھا (یعنی نیند نے) آپ ﷺ نے فرمایا یہاں سے روانہ ہوجاؤ! چناچہ سب لوگ تھوڑی دور تک اپنی اپنی سواریاں لے کر چلے، پھر رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور حضرت بلال ؓ کو تکبیر کہنے کا حکم دیا۔ چناچہ انہوں نے نماز کے لئے تکبیر کہی اور رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا جو آدمی (نیند وغیرہ کی بناء پر) نماز پڑھنی بھول جائے تو یاد آتے ہی فوراً اسے پڑھ لے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ ) 20۔ طہ 14) یعنی میرے یاد کرنے کے وقت نماز پڑھ لو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
خیبر مدینہ سے تقریباً سو میل کے فاصلے پر ہے، بنو نضیر کے یہودی جب مدینہ سے اجڑے تو خیبر جا بسے اور پھر خیبر یہودیوں کی سازشوں کا اڈا اور مرکز بن گیا۔ لہٰذا اسلام کی حفاظت کی خاطر اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ان کے اس شر انگیز ٹھانے کو توڑ دیا جائے چناچہ سات ہجری میں تقریباً سولہ سو مسلمان مجاہدین کا لشکر سرکار دو عالم ﷺ کی قیادت میں خیبر روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس کا محاصرہ کرلیا گیا۔ یہ محاصرہ تقریباً دس روز تک جاری رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی اور خیبر کے تمام قلعوں پر قبضہ ہوگیا۔ اس غزوہ کی کامیابی کا سہرا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سر رہا اور انہیں فاتح خبیر کے عظیم لقب سے نوازا گیا کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسلامی لشکر کا جھنڈا انہی کے ہاتھ دیا تھا۔ اور یہی اسلامی لشکر کے کمانڈکر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک خاص بہادری ظاہر کرائی کہ خیبر کا پھاٹک جو ستر آدمیوں سے بھی نہیں اٹھتا تھا انہوں نے تنہا اسے اکھاڑ پھینکا۔ جب فتح خیبر ہوگئی تو مسلمانوں اور وہاں کے یہودیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کی دو خاص دفعات یہ تھیں۔ (١) جب تک مسلماں چاہیں گے یہودیوں کو خیبر میں رہنے دیں گے اور جب نکالنا چاہیں گے تو ان کو خیبر سے نکلنا ہوگا۔ (٢) پیداوار کا ایک حصہ مسلمانوں کو دیا جائے گا۔ بہر حال۔ حدیث میں مذکورہ واقعہ اسی غزوے سے واپسی کے وقت پیش آیا تھا۔ اب یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد جب آنکھ کھل گئی تھی تو اسی جگہ رسول اللہ ﷺ نے قضا نماز کیوں نہ پڑھ لی؟ اور صحابہ کرام ؓ کو وہاں سے روانہ ہونے کا حکم دینے کا سبب کیا تھا؟ چناچہ اس سلسلے میں علماء کرام کے مختلف اقوال ہیں حنفی علماء جن کے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت قضا نماز پڑھنا منع ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ سے کوچ کرنے کا حکم اس وجہ سے دیا تھا تاکہ آفتاب بلند ہوجائے اور نماز کے لئے وقت مکروہ نکل جائے۔ شافعی علماء جن کے ہاں طلوع آفتاب کے وقت قضاء پڑھنی جائز ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ وہاں سے قضا نماز پڑھے بغیر فوراً اس لئے روانہ ہوئے کہ وہ جگہ شیاطین کا مسکن تھی جیسا کہ دوسری روایتوں میں اس کی تصریح موجود ہے چناچہ صحیح مسلم ہی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ دھوپ پھیل جانے پر رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ ہر آدمی اپنی سواری کی عیال پکڑ لے (اور روانہ ہوجائے) اس لئے کہ اس جگہ ہمارے پاس شیطان آگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو صرف تکبیر کہنے کا حکم دیا، اذان کے لئے نہیں فرمایا اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قضاء نماز کے لئے اذان دینا ضروری نہیں ہے جیسا کہ قول جدید کے مطابق حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہی ہے۔ لیکن شافعی علماء کے نزدیک قول قدیم کے مطابق صحیح اور معتد مسلک یہی ہے کہ قضاء نماز کے لئے بھی اذان کہنی چاہئے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت نماز کے لئے اذان کہی گئی تھی چناچہ ہدایہ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ التعریس (یعنی مذکورہ رات) کی صبح کو نماز فجر کی قضا اذان و تکبیر کے ساتھ پڑھی تھی۔ شیخ ابن الہمام (رح) نے اس سلسلے میں صحیح مسلم اور سنن ابوداؤد کی کئی حدیثیں نقل کی ہیں اور فرمایا ہے کہ صحیح مسلم کی اس روایت میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو تکبیر کہنے کا حکم دیا چناچہ انہوں نے تکبیر کہی۔ غر مرادف نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں صحیح طور پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ نے اس وقت اذان و تکبیر کے ساتھ نماز پڑھی تھی، لہٰذا اس روایت میں فاقام الصلوۃ کے معنی یہ ہیں کہ چناچہ انہوں نے نماز کے لئے اذان کے بعد تکبیر کہی۔ یہاں ایک ہلکا سا خلجان اور پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل بیدار رہتا ہے۔ تو دل کے جاگتے رہنے کے باوجود اس کی کیا وجہ تھی کہ صبح صادق طلوع ہوجانے پر آپ ﷺ مطلع نہیں ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آفتاب کے طلوع و غروب کو دیکھنا آنکھوں کا کام ہے دل کا کام نہیں ہے لہٰذا دل کی بیداری کے باوجود صبح صادق کے طلوع ہوجانے پر آپ ﷺ اس لئے مطلع نہیں ہوئے کہ آپ ﷺ کی آنکھیں سو رہی تھی۔ اور اگر کوئی یہ سوال کے بیٹھے کہ آپ ﷺ کو کشف یا وحی کے ذریعہ اطلاع کیوں نہ دی گئی؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف تھا، نیز اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ اس طریقے سے امت کو قضا کے احکام معلوم ہوگئے۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اُقِےْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْنِیْ قَدْ خَرَجْتُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوقتادہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے حجرہ سے نکلتا ہوا نہ دیکھ لو نماز کے لئے کھڑے نہ ہوا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
فقہاء نے لکھا ہے کہ تکبیر کہنے والا جب حی علی الصلوۃ کہے تو مقتدیوں کو اس وقت کھڑا ہونا چاہئے چناچہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی وقت اپنے حجرہ سے نکلتے ہوں گے۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
وعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اُقِےْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَلَا تَاْتُوْھَا تَسْعَوْنَ وَاْتُوْھَا تَمْشُوْنَ وَعَلَےْکُمُ السَّکِےْنَۃَ فَمَا اَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا متفق علیہ و فی روایۃ لِمُسْلِمٍ فَاِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا کَانَ یَعْمِدُ اِلٰی الصَّلٰوۃِفَھُوَ فِی الصّلٰوۃِ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جب نماز کی تکبیر ہوجائے تو تم (جماعت میں شامل ہونے کے لئے) دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ وقار و طمانیت کے ساتھ اپنی چال آؤ، جس قدر نماز تم کو (امام کے ساتھ) مل جائے پڑھ لو اور جو فوت ہوجائے (امام کے سلام کے بعد اٹھ کر) اسے پوری کرلو (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کو (حکماً ) نماز ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے۔
تشریح
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب نماز کھڑی ہوجاتی ہے تو وہ لوگ جو دیر سے مسجد پہنچتے ہیں نماز میں شامل ہونے کے لئے اور خصوصاً اس وقت جب کہ امام رکوع میں چلا جاتا ہے بہت بےت کے طریقے سے بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور نماز میں شریک ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو اس حدیث سے متنبہ ہونا چاہئے کہ ان کا یہ طریقہ سراسر منشاء شریعت کے خلاف ہے۔ چناچہ نہ صرف یہ کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہوجانے پر بھاگ کر آنا جائز نہیں ہے بلکہ علماء کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ نماز کے لئے دوڑ کر آنا کمزوری عقل اور غفلت کی علامت ہے کیونکہ نماز کے لئے مستعدی اور چستی اس طرح تو شریعت کی نظر میں قابل تعریف ہوگی کہ اگر کسی کو تکبیر اولیٰ کے فوت ہونے یا کسی رکعت کے چھوڑ جانے کا خوف ہو تو وہ پہلے ہی جلدی کرلیا کرے اور جماعت شروع ہونے سے پہلے مسجد پہنچ جایا کرے۔ (حضرت شیخ عبدالحق)۔ ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کرام کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر کسی آدمی کو تکبیر اولیٰ کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو وہ دوڑتا ہوا آئے یا نہیں؟ چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ ایسا آدمی دوڑ کر آسکتا ہے کیونکہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ بقیع میں تھے کہ انہوں نے مسجد سے تکبیر کی آواز سنی تو دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف آئے۔ اور بعض علماء نے یہ مناسب قرار دیا ہے کہ ایسے آدمی کو اس حدیث کے پیش نظر وقار و طمانیت کے ساتھ ہی چل کر مسجد آنا چاہئے کیونکہ جو آدمی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو گویا وہ نماز ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہوگا جو نادانستہ یا کسی مجبوری و معذوری کی بناء پر لیٹ ہوجائے ورنہ اگر کوئی آدمی دانستہ نماز میں آنے کے لئے دیر کرے تو وہ اس میں شامل نہیں۔ بہر حال اس سلسلے میں صحیح اور مناسب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی تاخیر سے مسجد میں پہنچے تو اسے چاہئے کہ وہ جماعت میں شریک ہونے کے لئے وقار و طمانیت کے ساتھ تیز تیز چل کر آئے بالکل بےت کے طریقے سے دوڑتا ہوا نہ آئے تاکہ اس حدیث پر عمل بھی ہوجائے اور تکبیر اولیٰ کا ثواب بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ اسی طرح نماز جمعہ کا حکم بھی یہی ہے کہ اگر کسی آدمی کو مسجد پہنچنے میں دیر ہوجائے اور اس بات کا یقین ہو کہ اگر جلدی نہ کی تو امام سلام پھیر دے گا اور میں نماز سے رہ جاؤں گا تو اسے تیزی سے آکر امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوجانا چاہئے۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ قَالَ عَرَّسَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْلَۃً بَطَرِیْقِ مَکَّۃَ وَوَکَّلَ بِلاَلاً اَنْ یُّوْقَظَھُمْ لِلصَّلاَۃِ فَرَقَدَ بِلاَلٌ وَرَقَدُ وْ احَتَّی اسْتَیْقَظُوْا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَیْھِمُ الشَّمْسُ فَاسْتَیْقَظَ الْقَوْمَ فَقَدْ فْرِعُوْاَ فَامَرَ ھُمْ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّرْکَبُوْا حَتَّی یَخْرُ جُوْا مِنْ ذٰلِکَ الْوَادِیْ وَقَالَ اِنَّ ھَذَا وَادٍبِہٖ شَیْطَانٌ فَرْکَبُوْا حَتَّی خَرَ جُوْا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِیْ ثُمَّ اَمَرَ ھُمْ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّنْزِلُوْاوَاَنْ یَّتَو ضَّؤُاوَاَمَرَ بِلاَلاً اَنْ یُّنَادِیْ لِلصَّلَاۃِ اَوْ یُقِیْمَ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْرَاٰی مِنْ فَزْعِھِمْ فَقَالَ یَا اَیُّھَا النَّاسَ اِنَّ اﷲِ قَبَضَ اَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَآ ءَ لَرَدَّھَا اِلِیْنَا فِیْ حَیْنِ غَیْرِ ھٰذَا فَاِذَا رَقَدَ اَحَدُ کُمْ عَنِ الصَّلٰوۃِ اَوْنَسِیَھَا ثُمَّ فَزِعَ اِلَیْھَا فَلْیُصَلِّّھَا کَمَا یُصَلِّیْھَا فِیْ وَقْتِھَا ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی اَبِیْ بَکْرِنِ الصََّدِّیْقِ فَقَالَ اِنَّ الشَّیْطَانَ اَتٰی بِلاَ لاَ وَھُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی فَاَضْجَعَہُ ثُمَّ لَمْ یَزِلْ یَھْدِئُہُ کَمَا یُھْدَءُ الصَّبِْی ء حَتَّی نَامَ ثُمَّ دُعَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلاَ لاً فَاَخْبَرَ بِلاَلٌ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الَّذِیْ اَخْبَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَبَابَکْرٍ فَقَالَ اَبُوْبَکّرٍ اَشْھَدُاَنَّکَ رَسُوْلَ اﷲِ (رَوَاہُ مُوْطَا مَالَکْ مُرْسَلاً۔ )
حضرت زید ابن اسلم ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ مکہ معظمہ کے راستے میں (آرام کرنے کے لئے) آخر رات میں ٹھہرے اور حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ (صبح کی) نماز کے لئے سب کو جگا دیں اور جب سب لوگ سو گئے۔ (تھوڑی دیر کے بعد نیند کے غلبے کی وجہ سے) حضرت بلال ؓ کی بھی آنکھ لگ گئی۔ (پہلے تو رسول اللہ ﷺ اور ان کے بعد) تمام لوگ اس وقت جاگے جب کہ آفتاب طلوع ہوچکا تھا۔ سب لوگ (نماز قضاء ہوجانے کی وجہ سے) گھبرا گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ سوار ہو کر اس جنگل سے باہر نکل چلیں اور فرمایا کہ یہ ایک ایسا جنگل ہے جس پر شیطان مسلط ہے چناچہ سب لوگ سوار ہو کر اس جنگل سے نکل آئے۔ (ایک جگہ پہنچ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (یہاں) اتر جاؤ اور وضو کرلو۔ اور حضرت بلال ؓ کو نماز کے لئے اذان و تکبیر کہنے کا حکم دیا۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ (صبح کی) نماز (قضاء باجماعت) پڑھی جب نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو گھبرایا ہوا دیکھا تو (تسلی دینے کے لئے) فرمایا کہ لوگو! اللہ تعالیٰ نے (سونے کے وقت) ہماری روحیں قبض کرلیں تھیں اگر وہ چاہتا تو ہماری روحوں کو دوسرے وقت (یعنی آفتاب طلوع ہونے سے پہلے) واپس کردیتا۔ لہٰذا اگر تم میں سے کوئی نماز کے وقت غافل سو جائے یا نماز پڑھنی بھول جائے اور (اس غفلت و نسیان سے) گھبرائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس نماز کو اسی طرح (یعنی اذان و تکبیر اور جماعت کے ساتھ نیز نماز کی تمام شرائط و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے) پڑھ لے جس طرح اسے اس کے وقت میں پڑھتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ بلال ؓ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے کہ شیطان ان کے پاس آیا اور انہیں (کجاوے کا) سہارا لینے پر مجبور کردیا اور جس طرح بچوں کو (سلانے کے لئے) تھپکی دی جاتی ہے شیطان انہیں تھپکتا رہا۔ یہاں تک کہ بلال ؓ پر نیند طاری ہوگئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو بلایا۔ حضرت بلال ؓ نے آکر آپ ﷺ سے ویسا ہی بیان کیا جیسے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے بیان فرمایا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے (حضرت بلال ؓ کا بیان سن کر فرمایا)، کہ میں اس بات کی (پوری یقین کے ساتھ) گواہی دیتا ہون کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (یہ روایت امام مالک نے (رح) مرسلاً نقل کی ہے)۔
تشریح
اس قسم کا ایک واقعہ حدیث نمبر پانچ میں ذکر کیا جا چکا ہے مگر بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ پہلے واقعہ سے الگ کوئی دوسرا واقعہ ہے کیونکہ وہ واقعہ تو مدینہ اور خیبر کے راستے اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے مکہ اور مدینہ کے درمیان رونما ہوا تھا۔ حدیث کے الفاظ ینادی للصلوۃ او یقیم میں لفظ او جمع کا مفہوم ادا کر رہا ہے جیسا کہ حرف واو دو چیزوں کو جمع کرنے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح اس کے معنی جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے یہ ہوں گے کہ آپ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو اذان اور تکبیر کہنے کا حکم دیا، یا پھر لفظ او اپنے حقیقی مفہوم یعنی شک کو ظاہر کر رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو اذان یا تکبیر کہنے کا حکم دیا۔ مگر صحیح اور اولیٰ پہلے ہی معنی ہیں کیونکہ اس کی تائید ابوداؤد کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں الحدیث ( اَنَّہُ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِلاَ لاً بِالَا ذَانِ وَالْاَ قَامَۃِ ) (رسول اللہ ﷺ نے بلال کو ؓ کو اذان و تکبیر کہنے کا حکم دیا)۔ فلیصلھا کما کان یصلیھا فی وقتھا (وہ اس نماز کو اس طرح پڑھ لے جس طرح اسے اس کے وقت میں پڑھتا تھا) یہ الفاظ بظاہر اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اگر جہری نماز قضا ہوئی ہو تو اس کی قضا میں جہر ہی کے ساتھ پڑھائی جائے اور اگر سری نماز قضا ہوئی ہے تو اس کی قضا بھی سری ہی کے ساتھ پڑھ دی جائے۔ مگر بعض حنفی علماء نے اس سلسلے میں اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قضاء نماز کو بہر صورت سر یعنی خاموشی کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ اَضْجَحَہُ اسندہ کے مفہوم میں ہے یعنی شیطان نے بلال ؓ کو اس طرح سہارا دیا کہ ان پر غفلت طاری ہوگئی، جیسا کہ پہلے واقعہ کے سلسلے میں گزر چکا ہے کہ حضرت بلال ؓ تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر اپنے کجاوے سے سہارا لگا کر سو گئے تھے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قضاء نماز پڑھنے کے بعد صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ان اللہ قبض ارواحنا ( اللہ تعالیٰ نے ہماری روحیں قبض کرلی تھیں) فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا تھا کہ ہم سب کا اس موقعہ پر سو جانا درحقیقت تقدیر الہٰی کی بناء پر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر اس طرح غفلت کی نیند مسلط کردی کہ ہم نماز کے وقت جاگ نہ سکے۔ مگر بعد میں آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے پیش آمدہ صورت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے نیند کی اس غفلت کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی کہ شیطان نے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ بلال ؓ غافل ہو کر سوئے رہے اور وقت پر نہ اٹھ سکے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ سوتے رہے اور نماز قضاء ہوگئی۔ تو اس سے بظاہر دونوں باتوں میں تعارض نظر آتا ہے کہ پہلے تو غفلت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی پھر بعد میں اس غفلت کی نسبت شیطان کی طرف کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مسئلہ خلق افعال سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اندر نسیان اور غفلت پیدا کرنے کا ارادہ کیا چناچہ اس نے شیطان کو اس بات پر قادر کردیا کہ مذکورہ طریقوں یعنی حضرت بلال ؓ کو تھپکنے وغیرہ سے لوگوں کو غفلت کی نیند میں مبتلا کر دے۔ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی اعجاز شان کی زبردست غمازی کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے معجزے کے طور پر حضرت بلال ؓ کے سو جانے کی پوری حقیقت و کیفیت بیان کردی باوجودیکہ آپ ﷺ نے اپنی ظاہری آنکھوں سے اس حقیقت کا مشاہدہ نہیں کیا تھا چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اشھد انک رسول اللہ کہہ کر آپ ﷺ کی اسی اعجاز شان کی تصدیق فرمائی۔
اذان کا بعض احکام کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَصْلَتَانِ مُعَلَّقَتَانِ فِی اَعْنَاقِ الْمُؤَذِّنِیْنَ لِلْمَُسْلِمِیْنَ صِیَا مُھُمْ وَصَلَا تُھُمْ۔ (رواہ ابن ماجہ)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ مسلمانوں کی دو چیزیں مؤذنوں کی گردنوں میں لٹکی ہوئی ہیں۔ ایک تو ان کے روزے اور دوسری ان کی نمازیں۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے دو اہم اور بنیادی اعمال ایسے ہیں جو مؤذن پر موقوف ہیں یعنی مؤذن ان اعمال کی صحت و تکمیل کے ذمہ دار ہیں۔ پہلی چیز تو روزہ ہے کہ مسلمان مؤذنوں کی اذان ہی پر اعتماد کرتے ہوئے افطار کرتے ہیں۔ اور دوسری چیز نماز ہے جس کی ادائیگی مؤذنوں کی اذان کے تحت ہوتی ہے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مؤذنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی عظیم ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بڑے احتیاط کے ساتھ اور اوقات کی پوری رعایت کرتے ہوئے اذان کہا کریں تاکہ مسلمانوں کے ان دونوں اعمال میں خلل واقع نہ ہو۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
یہاں نماز کے مقامات سے جگہیں مراد ہیں جہاں جہاں نماز پڑھنا مکروہ یا غیر مکروہ ہے۔ چناچہ ایسے مقامات کی وضاحت آئندہ احادیث میں کی جائے گی۔ مساجد کی فضائل و برکات کے سلسلہ میں بہت زیادہ احادیث منقول ہیں ان میں سے جن احادیث کو صاحب مشکوٰۃ نے منتخب کیا ہے وہ اس عنوان کے تحت نقل کی جائیں گی البتہ وہ احادیث جنہیں صاحب مشکوٰۃ نے نقل نہیں کیا ہے بلکہ حدیث کی دوسری کتابوں میں نقل ہیں حصول سعادت و برکت کی خاطر ان میں بعض کے ترجمے یہاں نقل کئے جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے ذہنوں میں مساجد کی عظمت و فضیلت کا احساس جاگزیں ہو جس کی وجہ سے وہ خدائے تعالیٰ کی عبادت کے لئے مسجد میں جانے کو دینی اور دنیاوی فلاح و کامرانی کا ذریعہ سمجھیں۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے اپنے صاحبزادہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا میرے بیٹے! مسجد تمہارا گھر ہونا چاہئے، کیونکہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجدیں پرہیز گاروں کا گھر ہیں لہٰذا جس کا گھر مسجد ہو اللہ تعالیٰ اس کی راحت و رحمت کا اور پل صراط سے جنت کی طرف اس کے گزرنے کا ضامن ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مغفل ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا جاتا ہے کہ شیطان سے بچنے کے لئے مسجد ایک مضبوط قلعہ ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ مساجد زمین کے اوپر اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں اور جس کی زیارت کی گئی ہے اس پر یہ حق ہے کہ وہ اپنی زیارت کرنے والے کا اعزازو اکرام کرتا ہے یعنی جو آدمی مسجد میں جاتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی زیارت کرتا ہے۔ اس طرح مسجد میں جانے والا بندہ تو زیارت کرنے والا ہوا اور جس کی زیارت کی گئی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہوئی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ مسجد میں آنے والے بندوں کا عزاز و اکرام کرتا ہے اور انہیں اپنے فضل و کرم کی سعادتوں سے نوازتا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی مسجد میں نماز پڑھنے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے جگہ پکڑتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت و شفقت کی نظر فرماتا ہے جس طرح اس آدمی کے اہل خانہ جو مدت کے بعد اپنے گھر لوٹا ہو اس کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں اتنی بات سمجھ لیجئے کہ جن احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں جگہ پکڑنا ممنوع ہے تو اس کی شکل یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مسجد میں کسی مخصوص جگہ کو ایسا اختیار کرتا ہے کہ اس جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ نہیں بیٹھتا تو یہ ممنوع ہے خواہ اس کا کسی مخصوص جگہ کو اختیار کرنا نماز پڑھنے اور ذکر اللہ ہی کے لئے کیوں نہ ہو کیونکہ اس طرح ریا و نمائش کا شبہ ہوجانے کا خطرہ ہے۔ اور اس قسم کی وہ احادیث جن سے مسجد میں جگہ پکڑنے کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے اس بات پر محمول ہیں کہ مسجد کو کسی دنیاوی غرض و منفعت سے قطع نظر محض نماز پڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنے کی نیت سے جائے قیام قرار دیا جائے۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ لَمَّا دَخَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمالْبَےْتَ دَعَا فِیْ نَوَاحِےْہِ کُلِّھَا وَلَمْ ےُصَلِّ حَتّٰی خَرَجَ مِنْہُ فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَےْنِ فِیْ قُبُلِ الْکَعْبَۃِ وَقَالَ ھٰذِہِ الْقِبْلَۃُ (رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْہُ وَ عَنْ اُسَامَۃَ اَبْنِ زَیْدِ)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے دن) جب سرور کائنات ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے چاروں کونوں میں جا کر دعا کی اور بغیر نماز پڑھے باہر نکل آئے اور پھر باہر آکر کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا کہ یہی قبلہ ہے۔ (صحیح البخاری ) صحیح مسلم نے اس روایت کو عبداللہ ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے اسامہ بن زید سے روایت کیا ہے۔
تشریح
کعبہ کی طرف اشارہ کر کے یہ فرمانا کہ یہی قبلہ ہے اس بات کا اعلان کرنا تھا کہ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دائمی طور پر ہوگیا ہے اور یہ قبلہ معین و مقرر ہوچکا ہے جو اب کسی حالت میں منسوخ نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ قبلہ اسی اگلی سمت ہے دوسری سمتوں سے اس کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور نہ اس کا مطلب یہ تھا کہ صرف باہر کی سمت سے قبلہ کی طرف متوجہ ہونا معتبر ہے اندر کے حصہ میں نماز درست نہیں ہے جیسا کہ حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ قبلہ کے اندر فرض نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔ کعبہ کے اندر نفل پڑھنا متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک جائز ہے کیونکہ آگے آنے والی حضرت عبداللہ بن عمر فاروق کی ؓ کی حدیث اس کے جواز کی واضح دلیل ہے۔ البتہ فرض پڑھنے کے سلسلہ میں علماء کے یہاں اختلاف ہے چناچہ اکثر علماء کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو بھی جائز قرار دیتے ہیں مگر حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کعبہ کے اندر فرض نماز کی ادائیگی سے منع کرتے ہیں۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم دَخَلَ الْکَعْبَۃَ ھُوَ وَاُسَامَۃُ بْنُ زَےْد رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃ الْحَجَبِیُّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ، فَاَغْلَقَہَا عَلَےْہِ وَمَکَثَ فِےْھَا فَسَاَلْتُ بِلَالًا حِےْنَ خَرَجَ مَا ذَاصَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ جَعَلَ عَمُوْدًا عَنْ ےَّسَارِہٖ وَعُمُوْدَےْنِ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ وَثَلٰثَۃَ اَعْمِدَۃٍ وَّرَآءَ ہُ وَکَانَ الْبَےْتُ ےَوْمَئِذٍ عَلٰی سِتَّۃِ اَعْمِدَۃٍ ثُمَّ صَلّٰی ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے روز) سرور کائنات ﷺ، اسامہ ابن زید، عثمان ابن طلحہ حجبی اور بلال ابن رباح ؓ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور حضرت بلال یا حضرت عثمان ؓ نے اندر سے دروازہ بند کرلیا (تاکہ لوگ ہجوم نہ کریں) رسول اللہ ﷺ تھوڑی دیر تک اندر (دعا وغیرہ میں مشغول رہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال ؓ سے جب کہ وہ یا (رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ سے باہر آئے تو پوچھا کہ سرکار دو عالم ﷺ (خانہ کعبہ کے اندر) کیا کر رہے تھے؟ بلال ؓ نے کہا کہ آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ایک ستون آپ کے بائیں طرف تھا، دو داہنی طرف تھے تین پیچھے تھے ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے (اور اب تین ستون ہیں)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھی تھی مگر اس سے پہلے اس مضمون کی حضرت اسامہ ابن زید ؓ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت کردہ جو حدیث گزری ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی تھی۔ لہٰذا ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اسی طرح ہوگی کہ یہ کہا جائے گا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ یہ حضرات خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور دروازہ بند کرلیا گیا تو رسول اللہ ﷺ کو دعا مانگتے ہوئے دیکھ کر حضرت اسامہ بھی کسی دوسرے کو نہ میں جا کر دعا میں مشغول ہوگئے، رسول اللہ ﷺ جس کو نہ میں کھڑے تھے وہاں سے حضرت اسامہ تو دور تھے مگر حضرت بلال آپ ﷺ کے قریب ہی تھے اس لئے حضرت بلال نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور چونکہ حضرت اسامہ اول تو آپ ﷺ سے فاصلہ پر تھے دوسرے وہ خود بھی نماز میں مشغول تھے، پھر یہ کہ آپ ﷺ نے وہ نماز بھی جلد ہی پڑھ لی تھی۔ اس لئے وہ رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ پھر اس کے علاوہ یہ بھی منقول ہے کہ بیت اللہ کی دیواروں سے تصویریں مٹانے کے واسطے رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ کو پانی لانے کے لئے باہر بھیج دیا تھا اس لئے ہوسکتا ہے کہ جس وقت وہ باہر گئے ہوں رسول اللہ ﷺ نے اس عرصے میں نماز پڑھ لی ہو۔ بہر حال حضرت اسامہ اور حضرت بلال دونوں نے اپنے علم و مشاہدہ کے مطابق خبر دی ہے اور بہر صورت ادائیگی نماز کو ثابت کرنا ہی مختار ہے اس کی نفی نہیں۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃٌ فِیْ مَسْجِدِیْ ھٰذَا خَےْرٌ مِّنْ اَلْفِ صَلٰوۃٍ فِےْمَا سِوَاہُ اِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں ہزار نمازیں پڑھنے سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسجد حرام کو مستثنیٰ اس لئے کیا گیا ہے کہ مسجد حرام نہ صرف یہ کہ دوسری مساجد کے مقابلے میں زیادہ بابرکت ہے بلکہ اپنی عظمت و برکت اور فضیلت کے اعتبار سے مسجد نبوی سے بھی افضل ہے چناچہ منقول ہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ہوتا ہے۔ اب اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ حرم شریف میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں نماز ادا کرنے پر اتنا ثواب ملتا ہے، چناچہ پہلا قول یہ ہے کہ کوئی متعین جگہ نہیں ہے بلکہ پورا حرام اس فضیلت و برکت کا حامل ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جس جگہ جماعت ہوتی ہے۔ علماء حنفیہ کے اقوال سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اسی قول کو بعض شافعی علماء نے بھی اختیار کیا ہے۔ علماء حنفیہ کے نزدیک ثواب کی اس زیادتی کی فضیلت خاص طور پر فرائض سے متعلق ہے نوافل سے نہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ وہ جگہ خانہ کعبہ ہے۔ یہ چوتھا قول ان چاروں اقوال میں سب سے ضعیف ہے۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِنِ الْخُدْرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلٰثَۃِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی وَمَسْجِدِیْ ھٰذَا ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا تین مسجدوں کے علاوہ (کسی دوسری جگہ کے لئے) تم اپنے کجاو وں کو نہ باندھو (یعنی سفر نہ کرو) مسجد حرام، مسجد اقصی، (یعنی بیت المقدس اور میری مسجد (یعنی مسجد نبوی)۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
حدیث سے ظاہری طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان تین مسجدوں کے علاوہ کہ خدا نے ان کی عظمت و بزرگی کی زیادتی کے سبب انہیں ایک امتیازی شان عطا فرمائی ہے۔ کیس دوسری جگہ کا سفر جائز نہیں ہے لیکن یہ سمجھ لیجئے کہ اس ممانعت اور نہی کا تعلق تقرب و عبادت سے ہے یعنی تقرب الی اللہ اور عبادت سمجھ کر ان تینوں جگہوں کے علاوہ اور کسی جگہ کا سفر نہ کرنا چائے۔ ہاں اگر کسی دوسری جگہ تحصیل علم، ادائے حقوق، تجارت یا ایسی ہی کسی دوسری ضرورت کی بناء پر سفر کرنا ہو تو یہ الگ چیز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے البتہ اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کرنے اور متبرک مقامات پر جانے کے سلسلے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے۔ چناچہ بعض حضرات نے تو اسے مباح قرار دیا ہے اور بعض حضرات کی رائے ہے کہ یہ حرام ہے یعنی محض اولیاء اللہ کے مزارارت کی زیارت کرنے اور متبرک مقامات پر پہنچ کر حصول برکت کی خاطر مستقل سفر کرنا مطلقا جائز نہیں ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی دوسری جگہ نذر و منت کی نیت سے سفر کا قصد کرنا درست نہیں ہے۔ اسی طرح اگر ان تینوں مسجدوں کے علاوہ کسی دوسری جگہ پہنچنے کی نذر مانی جائے تو اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس نہی کا تعلق صرف مساجد سے ہے یعنی حصول برکت اور زیارت کے ارادے سے ان تینوں مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث میں مساجد کے علاوہ دیگر مقامات خارج از مفہوم ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تینوں مقامات کے علاوہ دوسری جگہوں کا سفر کرنا درست نہیں ہے۔ بلکہ اس ارشاد کا مقصد دراصل ان تینوں مساجد کی اہمیت و عظمت اور فضیلت اور ان کے لئے سفر کرنے کی سعادت و خوش بختی ظاہر کرنا ہے یعنی آپ ﷺ کے اس ارشاد کا مطمح نظریہ ہے کہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ اگر وہ سفر کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان تینوں مساجد کی زیارت کے لئے سفر کریں یہ مساجد سب سے زیادہ باعظمت و فضیلت اور متبرک ترین مقامات ہیں۔ ان کے علاوہ کسی دوسری جگہ کا سفر کرنا کوئی فلاح وسعادت کی بات نہیں ہے بلکہ بےفائدہ صعوبت و پریشانیوں کو برداشت کرنا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنی مشہور معرکۃ الآر تصنیف حجۃ اللہ البالغۃ میں اس حدیث کی وضاحت کے دوران تحریر فرمایا ہے کہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کچھ مقامات کو اپنے گمان و خیال کے مطابق باعظمت و بابرکت تصور کر کے وہاں کا سفر کرتے تھے اور ان مقامات کی زیارت کرنے کو سعادت و برکت کے حصول کا ذریعہ جانتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح اپنے وہم و گمان کے مطابق کسی جگہ اور مقام کو باعث برکت و فضیلت سمجھنا اور پھر خاص طور پر اس کی زیارت کے لئے وہاں جانا نہ صرف یہ کہ حقیقت سے انحراف اور عقیدہ اور ذہن و فکر کی کمزوری کی علامت ہے بلکہ فتنہ و فساد کا سبب بھی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے عقیدہ و عمل کو راہ راست پر قائم رکھنے کی خاطر اس غلط طریقے کو بند فرما دیا تاکہ اسلامی شعائر کے ساتھ غیر شعائر جمع نہ ہوجائیں اور یہ طریقہ غیر اللہ کی عبادت و پرستش کا سبب نہ بن جائے، چناچہ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ مزارات اولیاء اللہ کی عبادت کرنے کی جگہیں یہاں تک کہ کوہ طور پر یہ سب اس سلسلہ میں برابر ہیں کہ خاص طور پر زیارت یا حصول برکت وسعادت کے جذبہ سے ان مقامات کا سفر کرنا مناسب نہیں ہے۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا بَےْنَ بَےْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِےَاضِ الْجَنَّۃِ وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا میرے مکان اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض (یعنی حوض کوثر) کے اوپر ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی میرے مکان اور (مسجد نبوی میں) میرے منبر کے درمیان واقع جگہ پر عبادت کرے گا تو اسے اس عظیم سعادت کے صلے میں جنت کا ایک باغ ملے گا اور جو آدمی میرے منبر کے نزدیک عبادت میں مشغول رہے گا تو قیامت کے دن وہ حوض کوثر سے سیراب ہوگا۔ حضرت امام امالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی ہی پر محمول ہے کیونکہ روضہ کے معنی ٹکرے کے ہیں لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کے مکان و منبر کے درمیان کی جگہ وہ ٹکڑا ہے جو جنت سے زمین پر اس جگہ منتقل کیا گیا ہے اور یہ ٹکڑا زمین کے دوسرے حصوں کی طرح قیامت کے روز فنا نہیں ہوگا بلکہ جوں کا توں جنت میں واپس چلا جائے گا۔ علامہ تور پشتی (رح) فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کے منبر اور حجرہ رسول کے درمیان کی جگہ کو روضہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس جگہ رسول اللہ ﷺ کی تربت مبارک کی زیارت کرنے والے، وہاں کے حاضرباش ملائکہ اور جن وانس ہمیشہ عبادت اور ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں ایک جماعت جاتی ہے تو دوسری جماعت آجاتی ہے اس طرح لگاتار وہاں عبادت کرنے والوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے لہٰذا اس مناسبت سے اس جگہ کو روضہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے جیسا کہ ذکر کے حلقوں کو ریاض جنت فرمایا گیا ہے۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَر ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَاْتِیْ مَسْجِدَ قُبَاءٍ کُلَّ سَبْتٍ مَّاشِےًا وَّرَاکِبًا فَےُصَلِّیْ فِےْہِ رَکْعَتَےْنِ ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ ہر ہفتے کو پیدل یا سواری پر مسجد قبا تشریف لے جاتے تھے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
قبا ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمانے کے وقت مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے قیام فرمایا تھا اور یہیں آپ ﷺ نے ایک مسجد بنائی تھی جو مسجد قبا کے نام سے مشہور ہے۔ اس مسجد کی فضیلت بہت زیادہ ہے، چناچہ علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ صریح ارشاد منقول ہے کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا عمرہ ادا کرنے کے مانند ہے۔ جلیل القدر اور باعظمت صحابی حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ بیت المقدس میں دو مرتبہ حاضری دینے سے زیادہ میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مسجد قبا میں نماز پڑھوں اور اگر لوگ جان لیں کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ سفر کی مصیبت و مشقت جھیل کر دور دراز سے اس مسجد میں آنے لگیں۔ بہر حال۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ ﷺ ہر ہفتے کے روز مسجد قبا جاتے تھے اور اس میں دو رکعت تحیۃ المسجد یا کوئی دوسری نماز جو تحیۃ المسجد کے قائم مقام ہوتی ہوگی پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ کے اس مبارک عمل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہفتے کے روز علماء، صلحاء اور بزرگوں سے ملاقات کرنا سنت ہے۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَحَبُّ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا وَاَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک تمام شہروں میں محبوب و پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور بدترین و ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مسجدیں اللہ کی عبادت کرنے کی جگہ ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مساجد محبوب و پسندیدہ مقامات ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں ہوتا ہے رب قدوس اس پر اپنی رحمت کا سایہ کرتا ہے اور اسے خیر و بھلائی کی سعادت سے نوازتا ہے اس کے مقابلے میں بازار وہ جگہ ہے جہاں شیطان کا سب سے زیادہ تسلط رہتا ہے۔ حرص و طمع، خیانت و بددیانتی، جھوٹ اور اللہ کی یاد سے غفلت وہ چیزیں ہیں جو بازار کا جزو لاینفک اور شیطان کی خوشی کا ذریعہ ہیں۔ چناچہ اللہ کے نزدیک بازار بد ترین و ناپسندیدہ مقامات ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنی ناگزیر ضروریات کی تکمیل کے علاوہ محض سیر و تفریح کی غرض سے بازاروں میں رہتا ہے اس پر محرومی و برائی کا سایہ رہتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوتا ہے۔ یہاں ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ بت خانے، شراب خانے اور چکلے وغیرہ تو بازار سے بھی بد ترین ہیں پھر انہیں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ اور مبغوض ترین مقامات کیوں نہیں کہا گیا ہے؟ بازار کو کیوں کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بازاروں کو قائم کرنے کا حکم شارع کی جانب سے ہے اور یہ چیزیں ایسی ہیں جن کو بنانے اور رکھنے کا حکم شارع کی جانب سے نہیں ہے لہٰذا ارشاد کا مطلب یہ ہے جن مقامات کو بنانا اور قائم رکھنا جائز ہے ان میں سے بد ترین اور ناپسند یدہ مقام بازار ہے۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ عُثْمَانَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَےْتًا فَی الْجَنَّۃِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عثمان غنی ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ کے لئے مسجد بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بنا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اللہ کے لئے مسجد بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد بناتا ہے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے سنانے کے لئے اور اپنا نام پیدا کرنے کے لئے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس آدمی کے لئے جنت میں مکان بنا دیتا ہے اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ جو آدمی مسجد بنا کر اس پر اپنا نام لکھتا ہے تاکہ تشہیر کا ذریعہ بنے تو یہ اس کے عدم اخلاص کی دلیل ہے۔ لفظ مسجدا میں تنکیر (عمومیت) تقلیل کے لئے ہے۔ یعنی اگرچہ کوئی آدمی مسجد کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ بنائے اسے اس کا بدلہ اسی طرح دیا جائے گا۔ جس طرح کسی بڑی اور عالی شان مسجد بنانے والے کو۔ چناچہ روایت میں یہ الفاظ ہیں اگرچہ وہ مسجد بیٹر کے گھونسلے کی مانند ہو۔ یہ مسجد کی تنگی و اختصار میں مبالغہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو نیت کو دیکھتا ہے اگر کوئی آدمی دنیا کی شہرت اور نمائش کے جذبے سے بالا تر ہو کر محض اللہ کی رضا و خوشنودی کی غرض سے اور اپنی نیت کے پورے اخلاص کے ساتھ مسجد بناتا ہے تو وہ جنت میں اللہ کی طرف سے ایک مکان کا حقدار ہوگا اگرچہ اس کی بنائی ہوئی مسجد کتنی چھوٹی اور مختصر کیوں نہ ہو۔
مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ اَوْرَاحَ اَعَدَّاللّٰہُ لَہُ نُزُلَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ کُلََّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی دن کے اول حصہ میں یا آخری حصہ میں مسجد جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمان نوازی کا سامان تیار کرتا ہے خواہ وہ صبح کو جائے یا شام کو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسجد گویا اللہ کا گھر ہے چناچہ جو آدمی مسجد میں جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی زیارت کرنے والوں کی ضیافت کرتا ہے اور انہیں اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھتا۔ مسجد میں جانے کی بہت سی نیتیں ہوسکتی ہیں ان میں سے ایک نیت یہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس کتاب کی ابتداء میں حدیث انما الا اعمال بالنیات کے فائدہ کے ضمن میں نیت کے اس مسئلے اور اس کی اقسام کو مفصل طریقے سے ذکر کیا جا چکا ہے۔