اذان کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 10 · 98 hadiths · Page 4 of 5

664Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَعْظَمُ النَّاسِ اَجْرًا فِی الصَّلٰوۃِ اَبْعَدُھُمْ فَاَبْعَدُھُمْ مَمْشًی وَّالَّذِیْ ےَنْتَظِرُ الصَّلٰوۃَ حَتّٰی ےُصَلِّےَھَا مَعَ الْاِمَامِ اَعْظَمُ اَجْرًا مِّنَ الَّذِیْ ےُصَلِّیْ ثُمَّ ےَنَامُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا نماز کا سب سے زیادہ اجر اس آدمی کو ملتا ہے جو باعتبار مسافت کے سب سے زیادہ دور ہو (یعنی جس آدمی کا گھر مسجد سے جتنا دور ہوگا اور وہ گھر سے چل کر نماز کے لئے مسجد آئے گا اسے اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا) اور جو آدمی نماز کے انتظار میں مسجد کے اندر (بیٹھا) رہتا ہے تاکہ امام کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کا ثواب اس آدمی سے زیادہ ہے جو (تنہا) اپنی نماز پڑھ کر سو جائے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی نماز میں اس لئے تاخیر کرے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھ سکے تو اسے اس آدمی کے مقابلے میں جو انتظار کئے بغیر تنہا نماز پڑھ کر سو جائے اگرچہ وہ وقت مختار ہی میں نماز کیوں نہ پڑھ لے زیادہ ثواب ملتا ہے اسی طرح ایک آدمی تو وہ ہے جو چھوٹی اور مختصر جماعت کے ہمراہ نماز پڑھ لیتا ہے یا کسی امام کے ساتھ نماز ادا کرلیتا ہے جو درحقیقت امام بننے کا حق نہیں رکھتا اور دوسرا وہ آدمی ہے جو انتظار کے بعد بڑی جماعت کے ہمراہ نماز پڑھنا ہے یا ایسے امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے جو امامت کا حق رکھتا ہے تو اس دوسرے آدمی کو پہلے آدمی کے مقابلے میں خصوصاً جب وہ کسل و جلد بازی کے جذبہ سے ایسا کرتا ہے اسے زیادہ ثواب ملے گا۔

665Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ ص قَالَ خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَاَرَادَ بَنُوْ سَلِمَۃَ اَنْ ےَّنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لَھُمْ بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِےْدُوْنَ اَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ قَالُوْا نَعَمْ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ اَرَدْنَا ذَالِکَ فَقَالَ ےَا بَنِیْ سَلِمَۃَ دِےَارُکُمْ تُکْتَبُ اٰثَارُکُمْ دِےَارُکُمْ تُکتَبُ اٰثَارُکُمْ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی کے قریب کچھ مکان خالی ہوئے تو بنوسلمہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب آجائیں۔ سرور کائنات ﷺ کو جب ان کے اس ارادے کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! ہم نے یہی ارادہ کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بنو سلمہ! تم اپنے مکانوں ہی میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں تم اپنے مکانوں ہی میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح بنو سلمہ انصار مدینہ کا ایک خاندان ہے اس خاندان کے افراد مسجد نبوی سے دور رہتے تھے۔ جب مسجد نبوی کے قریب رہنے والوں میں سے کچھ لوگوں کا انتقال ہوجانے یا کسی دوسری جگہ چلے جانے کی وجہ سے ان کے مکانات خالی ہوئے تو بنو سلمہ نے مسجد نبوی کے قریب رہنے کی سعادت حاصل کی غرض سے ان خالی مکانات میں منتقل ہونے کا ارادے کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کے اس ارادہ کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس وقت تم لوگ جہاں آباد ہو وہی جگہ سعادت و بھلائی کے اعتبار سے تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ تم لوگ مسجد سے جتنا دور رہو گے مسجد آنے کے لئے تمہیں اتنا ہی چلنا پڑے گا اور نماز کے لئے تم جتنے زیادہ قدم اٹھاؤ گے تمہارے نامہ اعمال میں ان کے بدلے اتنا ہی ثواب لکھا جائے گا اس لئے بھلائی و بہتری اسی میں ہے کہ تم اپنی سابق جگہ آباد رکہو۔

666Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم سَبْعَۃٌ ےُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ ےَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ اِمَامٌ عَادِلٌ وَّشَآبٌّ نَشَأَ فِیْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ اِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتّٰی ےَعُوْدَ اِلَےْہِ وَرَجُلَانِ تَحَآبَّا فِی اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلَےْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَےْہِ وَرَجُلٌ ذَکَرَاللّٰہَ خَالِےًا فَفَاضَتْ عَےْنَاہُ وَرَجُلٌ دَعَتْہُ اِمْرَاَۃٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَّجَمَالٍ فَقَالَ اِنِّیْ اَخَافُ اللّٰہَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَاَخْفَاھَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہ& مَا تُنْفِقُ ےَمِےْنُہ&۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس روز (یعنی قیامت کے دن) اپنے سائے میں رکھے گا جس روز اللہ کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (١) انصاف کرنے والا حاکم۔ (٢) وہ جوان جو اپنی جوانی کو اللہ کی محبت میں صرف کر دے۔ (٣) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو جب تک وہ دوبارہ مسجد میں نہیں چلا جاتا اس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے۔ (٤) وہ دو آدمی جو محض اللہ کے لئے آپس میں محبت رکھتے ہیں اگر یکجا ہوتے ہیں تو اللہ کی عبادت میں اور جدا ہوتے ہیں تو اللہ کی محبت میں یعنی حاضر و غائب خالص لوجہ اللہ محبت رکھتے ہیں۔ (٥) وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور (خوف اللہ سے) اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ (٦) وہ آدمی جس کو کسی شریف النسب اور حسین عورت نے (برے ارادے سے) بلایا اور اس نے (اس کی خواہش کے جواب میں) کہہ دیا ہو کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (٧) وہ آدمی جس نے اس طرح مخفی طور پر صدقہ دیا ہو کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ معلوم ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہاں ان سات قسم کے خوش نصیب شخص کی وضاحت کی گئی ہے جو اپنے اعمال و کردار کی بناء پر قیامت کی روز میدان حشر میں اللہ کے سائے میں ہوں گے یعنی رب قدوس ان لوگوں کو اپنے دامن رحمت میں جگہ دے گا اور انہیں آخرت کی سختیوں سے بچائے گا۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ سایہ الٰہی سے مراد عرش کا سایہ ہے۔ یعنی قیامت کے روز جب کہ تمام لوگ پریشان و حیران ہوں گے تو یہ سات قسم کے لوگ عرش کے سائے میں رحمت الٰہی کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوں گے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ سا تو اں آدمی وہ جو اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال اتنی پوشیدگی سے خرچ کرتا ہے کہ جب وہ اپنے دائیں طرف کے آدمی کو کوئی چیز یعنی روپیہ پیسہ یا مال وغیرہ دیتا ہے تو اس کے بائیں طرف بیٹھے ہوئے آدمی کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی اور اس طرح اس کے چھپانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کہیں ریا اور نمائش کا جذبہ نہ پیدا ہوجائے جس کی وجہ سے ثواب سے محرومی رہے۔ بعض علماء نے اس کے حقیقی معنی ہی مراد لئے ہیں یعنی وہ آدمی اتنے مخفی طریقے سے صدقہ و خیرات کرتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ دائیں ہاتھ نے کس کو کیا دیا ہے؟ اس صورت میں یہ جملہ کمال پوشیدگی کے لئے کنایہ ہوگا۔

667Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمصَلٰوۃُ الرَّجُلِ فِی الْجَمَاعَۃِ تُضَعَّفُ عَلٰی صَلٰوتِہٖ فِیْ بَےْتِہٖ وَفِیْ سُوْقِہٖ خَمْسًا وَّعِشْرِےْنَ ضِعْفًا وَّذَالِکَ اَنَّہُ اِذَا تَوَضَّأَفَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الْمَسْجِدِ لَا ےُخْرِجُہُ اِلَّا الصَّلٰوۃُ لَمْ ےَخْطُ خُطْوَۃً اِلَّا رُفِعَتْ لَہُ بِھَا دَرَجَۃٌ وَّحُطَّ عَنْہُ بِھَا خَطِےْئَۃٌ فَاِذَا صَلّٰی لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تُصَلِّیْ عَلَےْہِ مَادَامَ فِیْ مُصَلَّاہُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَےْہ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ وَلَا ےَزَالُ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلٰوۃٍ مَّا انْتَظَرَ الصَّلٰوۃَ و َفِیْ رِوَاےَۃٍ اِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَتِ الصَّلٰوۃُ تَحْبِسُہُ وَزَادَ فِیْ دُعَآءِ الْمَلٰئِکَۃِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُ اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَےْہِ مَالَمْ ےُؤْذِ فِےْہِ مَالَمْ ےُحْدِثْ فِےْہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جماعت کے ساتھ آدمی کی نماز اس نماز سے جو گھر میں یا (تجارت وغیرہ کی مشغولیت کی بناء پر) بازار میں پڑھی جائے پچیس درجے فضیلت رکھتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی اچھی طرح (یعنی آداب و شرائط کو ملحوظ رکھ کر) وضو کرتا ہے اور (کسی غرض کی وجہ سے نہیں بلکہ) صرف نماز ہی کے لئے مسجد آتا ہے تو وہ جو قدم اٹھاتا ہے اس کے ہر قدم کے عوض اس کے نامہ اعمال میں سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ کم ہوجاتا ہے (یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے) اور جب تک وہ نماز پڑھ کر اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے فرشتے برابر اس کے لئے یہ دعا کرتے رہتے ہیں۔ اَلَّلھُمَّ صَلِّی عَلَیْہِ اَللَّھُمَّ اَرْحَمْہُ اے اللہ! اس کی بخشش کر! اے اللہ اس پر رحم کر، جب تک تم میں سے کوئی نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو اس کا وہ وقت نماز ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب کوئی مسجد میں گیا اور نماز ہی کی وجہ سے وہاں رک گیا (تو گویا وہ نماز ہی میں ہے) اور فرشتوں کی دعاء میں یہ الفاظ زیادہ ہیں اَلَّلھْمَّ اَغْفِرْلَہُ اَلَّلھْمَّ تَبْ عَلَیْہِ (یعنی اے اللہ! اس بندے کی بخشش فرما، اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما) اور (یہ اس وقت تک ہوتا رہتا ہے) جب تک کہ وہ کسی (مسلمان) کو (اپنی زبان یا ہاتھ سے) ایذاء نہ پہنچائے اور باوضو رہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پچیس درجے زیادہ ثواب کی فضیلت اسی وقت حاصل ہوگی جب کہ نماز جماعت کے ساتھ اور مسجد میں پڑھی جائے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے نمازی کے حق میں اللہ کی رحمت و برکت کی دعا اس وقت تک کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ مسلمان کو اپنے کسی عمل یا اپنے کسی قول سے ایذاء نہیں پہنچاتا۔ گویا فرشتوں کے دعا کرنے کے حق میں یہ حدیث معنوی ہے۔ اس کے بعد حدث ظاہری کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب تک نمازی باوضو رہے یعنی اگر کوئی نمازی کسی مسلمان کو ایذاء پہنچائے گا یا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا تو فرشتے اس کے لئے رحمت و برکت اور مغفرت کی دعا نہیں کریں گے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتوں کی دعا کی فضیلت اسی وقت حاصل ہوگی جب کہ نمازی نماز پڑھ کر وہیں مصلٰی پر بیٹھا رہے اگر وہاں سے اٹھ کر دوسری جگہ جا بیٹھے گا تو یہ فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ بعض مشائخ اور بزرگ نماز پڑ کر ریاء و نمائش وغیرہ کے خوف سے مصلی سے اٹھ جاتے ہیں اور کسی گوشے وغیرہ میں بیٹھ کر ذکر و تسبیح میں مشغول ہوجاتے ہیں، گو ان کی نیت صحیح اور ان کا یہ طریقہ قابل جزاء و انعام ہے کہ انہیں ذکر و تسبیح کی فضیلت حاصل ہوتی ہے مگر نماز پڑھ کر مصلی ہی پر بیٹھے رہنے کی جو فضیلت ہے وہ انہیں حاصل نہیں ہوتی۔

668Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ اُسَےْدٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْےَقُلْ اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَاِذَا خَرَجَ فَلےَقُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوسید ( حضرت ابواسید مالک بن ربیعہ کے صاحبزادے اور ساعدی انصاری ہیں، بدری صحابہ میں شامل اور سب سے بعد میں ٦٠ ھ میں بعمر ٧٨ سال وفات پائی ١٢) راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو۔ تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ اَلَّلھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَبَ رَحْمَتِکَ (اے اللہ اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھ لیا کرے۔ اَلَّلھُمَّ اِنِّی اَسْلئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تیراہی فضل چاہتا ہوں)۔ (صحیح مسلم) تشریح پہلی دعا کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اللہ! اس مقدس و محترم جگہ کی برکت سے یا اس مسجد میں نماز پڑھنے کی توفیق دینے کے سبب سے یا نماز کے حقائق ظاہر کرنے کے سبب سے مجھ پر اپنی رحمتوں، اپنی نوازشوں اور اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دے۔ دوسری دعا میں فضل سے مراد حلال رزق ہے کیونکہ نماز سے فارغ ہو کر بندہ اسباب معیشت ہی کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔

669Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْےَرْکَعْ رَکْعَتَےْنِ قَبْلَ اَنْ ےَّجْلِسَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوقتادہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ حدیث حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کی دلیل ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ تحیۃ المسجد یعنی مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اس لئے کہ اس حدیث میں امر وجوب کے لئے ہے۔ حنفیہ کے نزدیک چونکہ تحیۃ المسجد واجب نہیں مستحب ہے اس لئے وہ حضرات کہتے ہیں کہ یہاں امر (حکم) وجوب کے لئے نہیں بلکہ استحباب کے لئے ہے۔

670Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ اِلَّا نَھَارًا فِی الضُّحٰی فَاِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلّٰی فِےْہِ رَکْعَتَےْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِےْہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت کعب ابن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ (کی عادت تھی کہ) جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو چاشت کے وقت آتے اور سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھ کر (تھوڑی دیر تک) بیٹھے رہتے۔ (پھر مکان میں تشریف لے جاتے) (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح سفر سے واپسی کے بعد آپ ﷺ مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ کر وہاں تھوڑی دیر تک اس لئے بیٹھے رہتے تھے تاکہ وہ صحابہ کرام جو آپ ﷺ کی عدم موجودگی کی وجہ سے آپ کی صحبت سے محروم رہتے تھے۔ اس موقعہ پر آپ ﷺ سے شرف ملاقات اور آپ ﷺ کی خدمت کی سعادت حاصل کرسکیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسافر کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ سفر سے واپس آکر گھر جانے سے پہلے مسجد میں آکر نماز پڑھے اور تھوڑی دیر تک وہاں بیٹھا رہے۔

671Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سَمِعَ رَجُلًا ےَّنْشُدُ ضَآلَّۃً فِی الْمَسْجِدِ فَلْےَقُلْ لَّا رَدَّھَا اللّٰہُ عَلَےْکَ فَاِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِھٰذَا۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی یہ سنے (یاد دیکھے) کہ کوئی آدمی مسجد میں اپنی کوئی گم شدہ چیز تلاش کر رہا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کے جواب میں یہ کہہ دے کہ اللہ کرے تیری گم شدہ چیز تجھے نہ ملے۔ اس لئے کہ مسجدوں کو اس لئے نہیں بنایا گیا ہے (کہ ان میں جا کر گم شدہ چیزوں کو تلاش یا دریافت کیا جائے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس سلسلہ میں بظاہر تو مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقعہ پر یہ کلمات اس آدمی کی تنبیہ و توبیخ کے لئے صرف زبان سے ادا کئے جائیں دل سے بد دعا نہ کی جائے اور نہ درحقیقت یہ خواہش ہو کہ ایک مسلمان کی گمشدہ چیز اسے واپس نہ ملے۔ اور اگر کوئی آدمی درحقیقت دلی خواہش پر یہی کھتا ہے کہ ایسے آدمی کو اس کی گم شدہ چیز نہ ملے تاکہ آئندہ کے لئے اسے عبرت ہو اور اپنے اس نا مناسب فعل کی سزا پائے اور یہ کہ پھر آئندہ وہ ایسی حرکت نہ کرنے پائے تو ایک حد تک یہ بھی صحیح ہوگا۔ اس سلسلہ میں مسجد کی عظمت و تقدس کا تقاضا تو یہ ہے کہ صرف گم شدہ چیز تلاش کرنے ہی کی تخصیص نہیں بلکہ ہر وہ چیز ممنوع ہے جس کو اختیار کرنا مسجد کی بناء غرض کے منافی ہو جیسے خریدو فروخت وغیرہ۔ چناچہ عہد سلف کے بعض علماء اسی بناء پر کہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہیں اور کسی مقصد کی تکمیل کے لئے نہیں مسجد میں کسی سائل کو صدقہ وغیرہ دینا بھی اچھا نہیں سمجھتے تھے۔

672Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلممَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْمُنْتِنَۃِ فَلَا ےَقْرِبَنَّ مَسْجِدَنَا فَاِنَّ الْمَلٰئِکَۃَ تَتَاَذّٰی مِمَّا ےَتَاَذّٰی مِنْہُ الْاِنْسُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی کہ اس بدبودار درخت (یعنی پیاز، لہسن وغیرہ) میں سے کچھ کھائے تو ہماری مسجد کے قریب بھی نہ آئے کیونکہ جس (بدبو) سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح بدبوردار چیزوں سے انسانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح فرشتے بھی ان سے تکلیف محسوس کرتے ہیں لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ پیاز و لہسن وغیرہ کھا کر مسجدوں میں نہ آئیں کیونکہ مسجد میں فرشتوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں اس لئے انہیں تکلیف ہوگی اس حکم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو بدبودار ہو اس کا تعلق خواہ کھانے پینے سے ہو یا رہن سہن سے مثلا منہ غلاظت و بدبو، بغل وغیر کی گندگی و تعفن وغیرہ وغیرہ۔ پھر مسجد ہی کی طرح ان دوسری جگہوں کا بھی یہی حکم ہے جہاں مجالس عبادت و وعظ منعقد ہوتی ہوں یا جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم ہوتی ہو یا جہاں ذکر و تسبیح کے حلقے ہوتے ہوں کہ ان مقامات پر بھی بد بودار چیزوں کے ہمراہ نہ جانا چاہئے۔

673Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَنَس ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الْبُزَاقُ فِی الْمَسْجِدِ خَطِےْئَۃٌ وَّکَفَّارَتُھَا دَفْنُھَا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ مسجد نبوی میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس تھوک کو زمین میں دبا دیا جائے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح مسجد کے تقدس و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں تھوک کر گندگی و غلاظت نہ پھیلائی جائے اور اگر اتفاقاً ایسا غلطی کا ارتکاب ہوجائے تو اس گناہ کے دفعیہ کا طریقہ یہ ہے کہ اس تھوک کو زمین دوز کر کے اسے دور کردیا جائے۔

674Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُھَا وَسَےِّئُھَا فَوَجَدْتُّ فِیْ مَحَاسِنِ اَعْمَالِھَا الْاَذٰی ےُمَاطُ عَنِ الطَّرِےْقِ وَوَجَدْتُّ فِیْ مَسَاوِیْ اَعْمَالِھَا النُّخَاعَۃَ تَکُوْنُ فِی الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ میرے سامنے میری امت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے ہیں میں نے اس کے نیک اعمال میں تو راستہ سے تکلیف دینے والی چیز کو دور کردینا پایا اور برے اعمال میں مسجد کے اندر تھوکنا دیکھا جس کو دبایا نہ گیا ہو۔ (صحیح مسلم)

675Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَلَا ےَبْصُقْ اَمَامَہُ فَاِنَّمَا ےُنَاجِی اللّٰہَ مَادَامَ فِیْ مُصَلَّاہُ وَلَاعَنْ ےَمِےْنِہٖ فَاِنَّ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ مَلَکًا وَّلْےَبْصُقْ عَنْ ےَّسَارِہٖ اَوْ تَحْتَ قَدَمَےْہِ فَےَدْفِنُھَا وَفِیْ رَوَاےَۃٍ اَبِیْ سَعِےْدٍ تَحْتَ قَدَمِہِ الْےُسْرٰی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے سامنے نہ تھوکے اس لئے کہ وہ جب تک نماز کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے مناجات (سرگوشی) کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں طرف بھی نہیں تھوکنا چاہیے کیونکہ دائیں طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے ہاں بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوک لے اور پھر اسے زمین میں دبا دے۔ ابوسعید کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ بلکہ اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک لے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں نمازی کو اس آدمی سے تشبیہ دی گئی ہے جو اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہو کر اس سے سر گوشی کرتا ہے لہٰذا جس طرح اس موقع پر وہ آدمی اپنے مالک کی عزت احترام کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتا ہے اسی طرح نمازی کے لئے بھی واجب ہے کہ جب وہ اپنے پروردگار حقیقی کے سامنے نماز کے لئے کھڑا ہو تو حضوری کے تمام شرائط و آداب کو پورار پورا خیال رکھے۔ اور اس سلسلے میں ایک اہم ادب یہ ہے کہ اپنے سامنے نہ تھوکے، گو رب قدوس کی ذات پاک جہت و سمت کی قیود سے پاک ہے تاہم سامنے نہ تھوکنے کی قید لگا کر آداب حضوری کے راستے سے روشناس کرایا جا رہا ہے کہ پروردگار عالم کے دربار میں حاضری کے وقت ایسا کوئی طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ جو رب ذوالجلال کی شان و عظمت وکبریائی کی منافی ہو۔ فرشتے سے مراد یا کراما کا تبین کے علاوہ وہ فرشتہ ہے جو خاص طور پر نماز کے وقت نمازی کی تائید اور اس کی رہبری اور اس کی دعا پر آمین کہنے کے لئے حاضر ہوتا ہے لہٰذا نمازی پر واجب ہے کہ اس فرشتے کی مہمانی کا خیال کرتے ہوئے کر اماکا تبین سے زیادہ اس کا اکرام و احترام کرے کیونکہ کراما کا تبین تو ہر وقت ہی ساتھ رہتے ہیں اور اس کے اکرام و احترام کی شکل یہی ہوسکتی ہے کہ دوران نماز اپنی دائیں طرف نہ تھوکے کہ یہ فرشتہ اسی سمت رہتا ہے۔ یا پھر فرشتے سے مراد کراماً کا تبین ہے کہ اس صورت میں کہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے صرف دائیں طرف تھوکنے سے اس لئے منع فرمایا تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ دائیں طرف کا فرشتہ جو بندے کے نیک اعمال لکھنے پر مقرر ہے بائیں طرف کے فرشتے سے جو بندہ کے برے اعمال لکھنے پر متعین ہے رتبے کے اعتبار سے زیادہ افضل ہے جس طرح کہ دائیں سمت بائیں سمت سے افضل ہوتی ہے یا رحمت کا فرشتے عذاب کے فرشتہ سے زیادہ افضل ہوتا ہے۔

676Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فِیْ مَرْضِہِ الَّذِیْ لَمْ ےَقُمْ مِنْہُ لَعَنَ اللّٰہُ الْےَھُوْدَ وَالنَّصَارَی اِتَّخَذُوْا قُبُورَ اَنْبِےَآءِ ھِمْ مَسَاجِدَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے اس بیماری میں جس سے اٹھ نہ سکے (یعنی مرض وفات میں) فرمایا۔ عیسائیوں اور یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے اپنے انیباء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا رکھا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح سرکار دو عالم ﷺ کا پیمانہ حیات جب لبریز ہونے لگا اور آپ ﷺ کو یقین ہوگیا کہ اب اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آگیا ہے تو آپ ﷺ نے اس خوف سے کہ مبادا میری امت کے لوگ بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنائیں اس فعل شنیع کی ممانعت کا اظہار یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرتے ہوئے فرمایا کیونکہ ان امتوں کے لوگ اپنے انبیاء کی کرام قبروں پر سجدہ کیا کرتے ہیں۔ قبروں کو سجدہ گاہ بنانا دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک تو یہ کہ صاحب قبر یا محض اپنی قبر کی عبادت و پرستش کے مقصد سے قبروں پر سجدہ کیا جائے جیسا کہ بت پرست بتوں کو پوجتے ہیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سجدہ تو قبر کو کیا جائے مگر اس سے مقصد اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت و پرستش ہو اور یہ اعتقاد ہو کہ اس طرح قبر کی طرف نماز پڑھنا اور سجدہ کرنا درحقیقت پروردگار حقیقی کی عبادت کرنا ہے اور یہ کہ اس طریقے سے پروردگار کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور اس کا قرب میسر ہوتا ہے۔ یہ دونوں طریقے غیر مشروع اور اللہ و رسول کی نظر میں ناپسندیدہ ہیں۔ پہلا طریقہ تو صریحا کفر و شرک ہے۔ دوسرا طریقہ بھی حرام ہے کیونکہ اس میں اللہ کی پرستش و عبادت میں دوسرے کو شریک کرنا لازم آتا ہے اگرچہ شرک خفی ہے یہ دونوں طریقے اللہ کی لعنت کا سبب ہیں۔ یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ نبی کی قبر یا کسی بزرگ و ولی کی قبر کی طرف ازراہ بزرگ و تعظیم نماز پڑھنا حرام ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

677Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ جُنْدُبٍ ص قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ اَلَا وَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا ےَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ اَنْبِےَآءِ ھِمْ وَصَالِحِےْھِمْ مَسَاجِدَ اَلاً فَلَا تَتَّخِذُوْا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ اِنِّیْ اَنْھٰکُمْ عَنْ ذَالِکَ۔ ( مسلم)

اور حضرت جندب ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ آگاہ رہو! تم سے پہلے (یعنی دوسری امتوں کے) لوگوں نے اپنے انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ لہٰذا خبردار! تم لوگ قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم)

678Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَر ص قَالَ قَالَ رَسْوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم اِجْعَلُوْا فِیْ بَیُوْتِکُمْ مِنْ صَلاَ تِکُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔( صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ تم کچھ نمازیں اپنے گھروں میں بھی پڑھ لیا کرو اور گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح گھروں کو قبریں نہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں میں قبریں نہ بناؤ اور اپنے کسی مردے کو گھر کے اندر دفن نہ کردیا کرو اس سے یہ مراد ہے کہ قبروں کو گھروں کی مانند نہ سمجھو یعنی جس طرح کسی حاجت و ضرورت کے وقت لوگ اپنے گھروں ہی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس حاجت و ضرورت کو پوری کرسکیں۔ اسی طرح اگر کسی کو کوئی حاضت و ضرورت پیش ہو تو وہ قبروں پر دوڑا ہوا نہ چلا جائے اور صاحب قبر سے مرادیں نہ مانگنے لگے بلکہ جب کوئی حاجت و ضرورت پیش ہو تو اللہ ہی سے مانگے اور اسی کے سامنے دست سوال دراز کرے کہ سب اسی کے محتاج ہیں یہاں تک کہ جس پیر و صاحب کو حاجت روا اور مرادیں پوری کرنے والا سمجھا جاتا ہے وہ بھی اللہ ہی کے رحم و کرم اور اس کے فضل کا محتاج ہے۔ یا پھر اس سے یہ مراد ہے کہ جس طرح مقبروں میں نماز نہیں پڑھی جاتی اسی طرح اپنے گھروں کو بھی بےذکر الہٰی نہ چھوڑو بلکہ اپنے گھروں میں بھی نمازیں پڑھا کرو تاکہ نماز اور ذکر الہٰی کی برکت سے گھر میں رحمت الٰہی کا نزول ہو۔ اسی لئے علماء نے لکھا ہے کہ سوائے فرض نماز کے سنت و نوافل وغیرہ مسجد کی بہ نسبت گھروں میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔

679Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَابَیْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ قِبْلَۃٌ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث کا تعلق مدینہ منورہ کے باشندوں سے ہے کیونکہ مدینہ منورہ سے قبلہ جانب جنوب واقع ہے نیز اس حدیث کا تعلق ان اطراف کے لوگوں سے بھی ہے جن کا قبلہ مدینہ کے موافق جانب جنوب واقع ہے لہٰذا اس اعتبار سے ان لوگوں کا قبلہ مشرق و مغرب کے درمیان ہوا۔

680Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ خَرَجْنَا وَفْدًا اِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَا یَعْنَاہُ وَصَلَّیْنَا مَعَہ، وَاَخْبَرْنَاہُ اَنَّ بَاَرْضِنَا بَیْعَۃً لَنَا فَاسْتَوْ حَبْنَاہُ مِنْ فَضْلِ طَھُوْرِہٖ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَّضَأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّہُ لَنَافِی اِدَاوَۃٍ وَاَمَرْنَا فَقَالَ اخْرُ جُوْ افَاِذَا اَتَیْتُمْ اَرْضَکُمْ فَاَکْسِرُوْ ابَیْعَتَکُمْ وَانَضَحُوْا مَکَانَھَا بِھٰذَالْمَآءِ وَاتَّخِذُوْ ھَا مَسْجِدًا قُلْنَا اِنَّ لْبَلَدَ بَعِیْدٌ وَالْحَرُّ شَدِیْدٌ وَالْمَآءُ یُنْشَفُ فَقَالَ مُدُّوْہ، مِنَ الْمَآءِ فَاِنَّہُ لَا یَزِیْدُہُ اِلَّا طِیْبًا۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت طلق ابن علی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جماعت کی شکل میں سرور کائنات ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نے آپ ﷺ سے (اسلام کی) بیعت کر کے آپ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی اور پھر یہ بھی عرض کردیا کہ ہماری سر زمین پر ہمارا ایک گرجا بنا ہوا ہے (اس کو کیا کریں) اس کے بعد ہم نے آپ ﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا۔ آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور (وضو کے بعد بقیہ پانی سے) کلی کی اور اس کلی کا پانی ہماری چھاگل میں ڈال دیا اور فرمایا کہ جاؤ! جب تم اپنے ملک میں پہنچو تو اس گرجے کو توڑ کر اس کی جگہ یہ پانی چھڑک دینا (تاکہ دین و اسلام کے انوار و برکات وہاں پھیل جائیں) اور پھر وہاں مسجد بنا لینا۔ ہم نے عرض کیا کہ ہمارا شہر تو بہت دور ہے اور گرمی سخت ہے لہٰذا یہ پانی (وہاں پہنچتے پہنچتے) خشک ہوجائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس میں اور پانی ملا لینا اس سے اس کی پاکیزگی و برکت ہی میں اضافہ ہوگا۔ (سنن نسائی ) تشریح (بیعۃ) نصاری کے عبادت خانے کو کہتے ہیں جسے ہمارے ہاں گرجا کہا جاتا ہے۔ یہ حضرات جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے تھے نصاری قوم سے تھے چناچہ جب یہ لوگ ایمان و اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہوگئے تو ان کی خواہش ہوئی کہ اپنے گرجے کو جو پہلے مذہب کی یادگار عبادت گاہ ہے توڑ ڈالیں اور اس جگہ برکت حاصل کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا بچا ہوا دھان مقدس سے نکلا ہوا متبرک پانی چھڑک ڈالیں تاکہ اس جگہ ایک دوسرے مذہب کی عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے وہاں کفر و شرک کے جو جراثیم پیداہو گئے ہیں وہ اس پانی کی برکت سے ختم ہوجائیں اور وہاں دین اسلام کے فیوض و برکات پھیل جائیں۔ چناچہ لفظ فاستوہبناہ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر دھوپ و گرمی کی شدت اور طویل مسافت کی وجہ سے یہ پانی خشک ہونے لگے اور تمہیں اس بات کا خدشہ ہو کہ منزل مقصود تک پہنچے پہنچتے یہ پانی بالکل ہی خشک ہوجائے گا تو اس پانی میں دوسرا پانی ملا لینا لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ اور پانی ملا لینے سے اس پانی کی برکت و فضیلت ختم ہوگئی ہے یا کم ہوگئی ہے بلکہ یہ تو پہلا پانی جو چھاگل میں تھا بعد میں ڈالے جانے والے اس پانی میں خیر و برکت کی زیادتی کرے گا یا پھر بعد میں ڈالے جانے والے اس دوسرے پانی میں منجاب اللہ یہ شرف و فضیلت پیدا ہوجائے گی کہ اس پانی کی وجہ سے چھاگل میں موجود پہلے پانی میں مزید خیر و برکت ہوجائے گی اور حاصل یہ کہ مزید پانی ملا لینے سے خیر و برکت زیادہ ہی ہوگی کم نہ ہوگی یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آب زم زم کو باعث خیر و برکت جاننا اور پھر اسے بطور تبرک دوسری جگہ لے جانا جائز ہے۔ نیز اس پر قیاس کیا جاتا ہے کہ علماء و مشائخ اور اولیاء اللہ کے استعمال کردہ کھانے اور پانی یا ان کے بدن کے اترے ہوئے کپڑوں کو خیر و برکت کا باعث جاننا اور انہیں متبرک سمجھ کر استعمال کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں حدود شرع سے تجاوز نہ ہو یعنی ان چیزوں کو متبرک و مقدس سمجھ کر ان کی حدیث سے زیادہ تعظیم و تکریم یا نعوذ باللہ ان کی پرستش نہ ہونے لگے۔

681Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ اَمَرَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فِی الدُّوْ وَ رِوَاَنْ یُنَظَّفَ وَیُطَیَّبَ۔ (رواہ ابوداؤد و الترمذی، ابن ماجۃ)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے کا حکم فرمایا ہے اور یہ کہ (وہ مسجدیں) پاک و صاف رکھی جائیں اور ان میں خوشبوئیں رکھی جائیں۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی، ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محلوں میں مسجدیں بنانا اشد ضروری ہیں کیونکہ مسجدوں کا قیام نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی دینی و مذہبی حمیت اور قوی و ملی بیداری کا ثبوت ہے بلکہ ان کی وجہ سے اہل محلہ پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ مسجدوں کو محض بنا ڈالنا ہی ایمانی حرارت اور دینی و مذہبی بیداری کا ثبوت نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ مسجدوں کو آباد بھی رکھا جائے۔ وہاں کسی قسم کی کوئی غلاظت و گندگی نہ ڈالی جائے اور نہ وہاں رہنے دی جائے اور اگر بتی وغیرہ اور خوشبوؤں کے ذریعے انہیں معطر رکھا جائے۔ اور اگر ان چیزوں کے کرنے کے وقت اس مقدس و محترم جگہ کی تعظیم و تکریم کی نیت کی جائے اور یہ نیت بھی کی جائے کہ پاکی و صفائی اور خوشبو کی وجہ سے مسجد میں آنے والے فرشتے اور مسلمان بھائی خوش ہوں گے تو ثواب میں بہت زیادتی ہوگی۔

682Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اُمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسَاجِدِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَتُزُخْرِ فُنَّھَا کَمَا زَخْرَفَتِ الْیَھُوْدُ وَ النَّصَارٰی۔(رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ مجھ کو مسجدوں کے بلند کرنے او آراستہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس طرح یہود و نصاری ( اپنے عبادت خانوں کی) زینت کرتے ہیں اسی طرح تم بھی (مساجد) کی زینت کرو گے۔ (ابوداؤد) تشریح زخرف کہتے ہیں علماء کو اور کسی چیز کی کمال خوبی کو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں نقش و نگار کریں گے اور ان کے درودیوار پر سونا چڑھائیں گے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ قول رسول اللہ ﷺ کے بعد حسب عادت، انسانی لوگوں کے افعال کی خبر دینے کے مترادف ہے یعنی آئندہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مسجدوں کو منقش و مزین کریں گے اور ان کے درودیوار پر سونا چڑھائیں گے حالانکہ ان کا یہ طریقہ خلاف سنت ہوگا کیونکہ اسلام کی سادگی پسند فطرت اس قسم کی چیزوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ مزید یہ کہ اس طریقے سے یہود و نصاری کی مشابہت ہوتی ہے۔ متاخرین علماء نے مساجد کی زیب وزینت اور ان میں نقش و نگار کی اجازت دی ہے اور کہا کہ لوگ اپنے مکانوں کو بلندو مطلا بناتے ہیں اور انہیں منقش و مزین کرتے ہیں اگر مسلمان اپنی مسجدوں کو لکڑی و مٹی سے بالکل سادہ بنائیں تو ہوسکتا ہے کہ عوام کی نظروں میں ان کی دقعت و عظمت نہ ہو اس لئے مسجدوں کو ایسے ڈھنگ سے بنانے کی اجازے دے دی گئی ہے جو موجودہ زمانے کے معیار پر دقیع و محترم سمجھی جائیں۔ مسجد نبوی زمانہ رسول اللہ ﷺ میں بالکل سادہ اور کچی تھی دیواریں اینٹوں کی اور چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، پھر جب حضرت عمر ؓ نے اس کو دوبارہ بنوایا تو انہوں نے بھی اسی طرح مسجد کو سادہ رکھا۔ اس کے بعد حضرت عثمان غنی ؓ نے اپنے دور خلافت میں اس مسجد کو از سر نونئے طرز پر تعمیر کروایا چناچہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ مسجد کو وسیع تر بنادیا بلکہ اس کی دیواروں میں منقش پتھر اور چھت میں سال استعمال کیا اس طرح مسجد نبوی رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مقابلے میں بہت بڑی اور خوبصورت ہوگئی۔

683Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُّتَبَاھِیَ النَّاسُ فِی الْمَسَاجِدِ۔ (رواہ ابواؤد، والنسائی و الدارمی و ابن ماجہ)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں فخر کیا کریں گے۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی، سنن ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت لوگ بڑی بڑی مسجدیں بنائیں گے اور انہیں آراستہ کریں گے اور اس سے ان لوگوں کا مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی اور ان کی نیت خالصۃ اللہ کیلئے نہیں ہوگی بلکہ ان کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ بڑے فخر و مباہات کے ساتھ اپنے اس کار نامے کو دنیا کے سامنے پیش کرسکیں اور دنیا والے ان کی تعریف و بڑائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیں۔