اذان کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 10 · 98 hadiths · Page 5 of 5

684Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَیَّ اُجُوْرُا اُمَّتِی حَتّٰی القَذَاۃُ یُخْرِجُھَا الْرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعْرِضَتْ عَلَیَّ ذُنُوْبُ اُمَّتِی فَلَمَّ اَرَذًنْبًا اَعْظَمَ مِنْ سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْاٰنِ اَوْاٰیَۃً اَوْتِیْھَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِیَّھَا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد)

اور حضرت انس راوی ؓ ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کے ثواب میرے سامنے پیش کئے گئے۔ یہاں تک کہ اس کوڑے اور خاک کا ثواب بھی (پیش کیا گیا) جسے کسی آدمی نے مسجد سے (جھاڑو دے کر) نکالا ہو، نیز میرے سامنے میری امت کے گناہ بھی پیش کئے گئے۔ ان گناہوں میں مجھ کو اس سے بڑا کوئی گناہ نظر نہیں آیا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر اس نے اس کو بھلا دیا ہو۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) تشریح کسی کو قرآن کی سورت یا آیت کا یاد ہوجانا اللہ کی بڑی نعمت ہے اور جس نے یاد کر کے اسے بھلا دیا گویا اس آدمی نے اس نعمت کی سخت بےقدری و ناشکری کی اور اس کی قدر نہ جانی لہٰذا ایسا آدمی سخت گناہ گار ہوگا۔

685Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَشِّرِ الْمَشَائِیْنَ فِی الظُّلْمِ اِلَی الْمَسَاجِدِ بِالنُّوْرِ التَّامِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ وَاَنَسٍ۔

اور حضرت حضرت بریدہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جو لوگ اندھیرے میں مسجدوں کی طرف جاتے ہیں انہیں یہ خوشخبری پہنچا دو کہ قیامت کے دن (اس کے سبب سے) ان کو کامل روشنی نصیب ہوگی۔ ( جامع ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح اس ارشاد میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ آیت (نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا) 66۔ التحریم 8) ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا (اور) یوں دعا کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمارے لئے اس نور کو اخیر تک رکھیے۔

686Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَاَیْتُمُ الرَّجُلَ یَتَعَاھَدُ الْمَسْجِدَ فَا شْھَدُوْا لَہُ بِالْاِیْمَانِ فَاِنَّ اﷲَ تَعَالٰی یَقُوْلُ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اﷲِ مَنْ اٰمَنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرْ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ والدرامی)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب تم کسی آدمی کو مسجد کی خبر گیری کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو اس لئے کہ ارشاد ربانی ہے۔ آیت (اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ) 9۔ التوبہ 18) اللہ کی مسجدوں کو وہی آدمی آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، دارمی) تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ تم اگر کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو اللہ کے گھر کی خبر گیری کرتا ہو یعنی اس کی حفاظت و مرمت کرتا ہے اس میں جھاڑو وغیرہ دے کر اس کی صفائی و ستھرائی رکھتا ہے اس میں نماز پڑھتا ہے اور عبادت کرتا ہے اور اس میں دینی علوم کے درس و تدریس میں مشغول رہتا ہے تو تم اس کے حق میں گواہی دو کہ وہ مرد مومن اور اللہ و رسول کا اطاعت گذارو فرمانبردار بندہ ہے۔

687Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ائْذَنْ لَنَا فِی الْاِخْتِصَاءِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَصَی وَلَا اَخْتَصَی اِنَّ خِصَاءَ اُمَّتِ الصِّیَامُ فَقَالَ ائْذَنُ لَنَا فِی السِّیَاحَۃِ فَقَالَ اِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِی سَبِیْلِ اﷲِ فَقَالَ اَئْذَنْ لَنَا فِی التَّرَھُّبِ فَقَالَ اِنَّ تَرَھُّبَّ اُمَّتِی الْجُلُوْسُ فِی الْمَسَاجِدِ اِنْتِظَارَ الصَّلَاۃِ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)

اور حضرت عثمان ابن مظعون ؓ ( اسم گرامی عثمان بن مظعون اور کنیت ابوسائب ہے۔ جلیل القدر صحابی اور چودھویں مرد مسلمان ہیں۔ ہجرت حبشہ میں وہ اور ان کے صاحبزادے سائب شامل ہے اور ہجرت مدینہ میں شریک ہوئے مہاجرین میں سے پہلے صحابی ہیں جنہوں نے مدینہ میں ٢ ھ میں وفات پائی، رسول اللہ ﷺ نے آپ کی نعش کو بوسہ دیا تھا) کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! مجھ کو خصی (نامرد) ہونے کی اجازت دیجئے (تاکہ زنا میں مبتلا ہونے کا خدشہ نہ رہے) آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہ آدمی ہم میں سے نہیں ہے (یعنی ہماری سنت کے راستے سے ہٹا ہوا ہے) جو کسی کو خصی کرے یا خود خصی ہوجائے (بلکہ) میری امت کے لئے خصی ہونا روزہ رکھنا ہے (کیونکہ روزہ رکھنے سے شہوت جاتی رہتی ہے) حضرت عثمان نے عرض کیا کہ پھر مجھے سیر و سیاحت کی اجازت عنایت فرمائی جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کی سیاحی یہ ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا جائے۔ انہوں نے پھر عرض کیا کہ اچھا تو پھر مجھے راہب بننے کی اجازت دے دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کا راہب بننا یہی ہے کہ مسجدوں میں نمازوں کے انتظار میں بیٹھا جائے۔ (شرح النسۃ) تشریح حضرت عثمان ابن مظعون ؓ کی خواہش یہ تھی کہ وہ ایسے طریقے اختیار کریں کہ جس سے دنیا کی لذتوں، نفسانی خواہشات اور شیطانی حرکات میں نہ مبتلا ہو سکیں تاکہ اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو، چناچہ سب سے پہلے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ اپنی قوت مردانگی کو ختم کر کے بالکل نامرد بن جائیں تاکہ زنا جیسے بڑے گناہ میں ملوث ہونے کا خدشہ نہ رہے رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس خواہش کو انسانی فطرت اور اسلامی روح کے منافی سمجھتے ہوئے انہیں اس فعل سے باز رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم یہی چاہتے ہو کہ نفسانی خواہشات ختم ہوجائیں اور روحانی و عرفانی جذبات غالب رہیں تو اس کا آسان علاج یہ ہے کہ روزہ رکھا کرو کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے اور تعلق مع اللہ کے جذبات کو جلا بخشتا ہے۔ پھر انہوں نے سیر و سیاحت کی اجازت طلب کی تاکہ اس مشغلے سے نفسانی خواہشات میں کمی آجائے۔ آپ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا کیونکہ زمین پر گھومنا پھرنا اور دور دراز کا سفر اختیار کرنا صرف جہاد فی سبیل اللہ میں مطلوب و محمود ہے، محض سیر و سیاحت کی خاطر خواہ مخواہ دنیا کے چکر کاٹنا جیسا کہ بعض فقیر قسم کے لوگ کرتے ہیں عقلمندی کی بات نہیں ہے اور نہ اس سے کوئی اخروی منفعت و بھلائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے راہب بن جانے کی خواہش ظاہر کی جیسا کہ اہل کتاب میں وہ لوگ جو دیندار اور مذہبی قسم کے ہوتے ہیں دنیاوی علائق سے گوشہ نشینی اختیار کرلیتے ہیں اور دنیا کی تمام لذتوں اور مشغولیات کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ نہ عورتوں کے پاس جاتے ہیں اور نہ دوسرے لوگوں سے ملتے جلتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کی اس خواہش کو بھی رد کردیا کیونکہ رہبانیت اہل کتاب کا شیوہ ہے یہ اسلام کی تعلیمات اور اسلام کی فطرت کے بالکل منافی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہماری امت میں رہبانیت صرف اسی قدر ہے کہ مسجدوں میں نمازوں کے انتظار میں بیٹھا جائے کیونکہ اس طرح تمام لوگوں اور دنیا کی تمام چیزوں سے منہ پھیر کر پروردگار کی طرف توجہ ہوتی ہے اور اس پر بیشمار اجر و انعام ملتے ہیں اس کے مقابلے میں اہل کتاب کی جو رہبانیت ہے وہ بالکل بےفائدہ اور بےکار محض ہے کہ اس کا انجام دینی اور دنیوی اعتبار سے اچھا نہیں ہوتا۔

688Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَائِشٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَیْتُ رَبِّیْ عَزُّوَجَلَّ فِی اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ قَالَ فِیْمَا یَخْتَسِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی قُلُتُ اَنْتَ اَعْلَمُ قَالَ فَوَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَھَا بَیْنَ ثَدیَیَّ فَعَلِمْتُ مَا فِی السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَ تَلا وَ کَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ رَوَاہُ الدَّارِمِیُّ مُرْسَلًا وَلِلتِّرْمِذِیُّ نَحْوُہ، عَنْہُ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَادَفِیْہِ قَالَ یَا مُحَمَّدُ ھَلْ تَدْرِی فِیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَا ُالْاَعْلی قُلْتُ نَعَمْ فِی الْکَفَّارَاتِ وَ الْکَفَّارَاتُ الْمُکْثُ فِی الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلوَاۃِ وَالْمَشْیُ عَلَی الْاَقْدَامِ اِلَی الْجَمَاعَاتِ وَ اِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِی الْمَکَارِہٖ وَمَنْ فَعَل ذٰلِکِ عَاشَ بِخَیْرٍ وَ مَاتَ بِخَیْرٍ وَ کَانَ مِنْ خَطِیْئَتِہٖ کَیَوْمِ وَ لَدَتْہُ اُمُّہُ وَقَالَ یَا مُحَمَّدُ اِذَا صَلَّیْتَ فَقُلْ اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَ تَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْن فَاِذَا اَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃَ فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ قَالَ وَالدَّرَجَاتُ اِفْشَاءُ السَّلَامِ وَ اِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلاَۃُ بِاللَّیْلِ وَ النَّاسُ نِیَامٌ وَلَفْظُ ھٰذَا الْحَدِیْثِ کَمَا فِی الْمَصَابِیْحِ لَمْ اَجِدْہُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ اِلَّا فِی شَرْحِ السُّنَّۃِ۔

اور حضرت عبدالرحمن بن عائش ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار بزرگ و برتر کو (خواب میں) بہت ہی اچھی صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ مقربین فرشتے کس معاملے میں بحث کر رہے ہیں میں نے عرض کی پروردگار! تو ہی بہتر جانتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا جس کے ٹھنڈک مجھے اپنے سینہ پر محسوس ہوئی (اور اس کی وجہ سے) میں زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو جان گیا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت (وَكَذٰلِكَ نُرِيْ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ ) 6۔ الانعام 75) ترجمہ اور اس طرح ہم نے ابراہیم کو زمین و آسمانوں کا تصرف دکھایا تاکہ وہ یقین کرنے والے لوگوں میں شامل ہوجائے۔ (دارمی مرسلا) اور ترمذی نے یہ بھی روایت بعض الفاظ کے اختلاف کے ساتھ عبدالرحمن بن عائش، عبداللہ ابن عباس اور معاذ ابن جبل ؓ سے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یعنی آپ کو زمین و آسمانوں کا علم دینے کے بعد سوال فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ کو معلوم ہے کہ مقریبن فرشتے کس معاملے میں بحث کر رہے ہیں؟ (آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا، ہاں! میں جانتا ہوں کفارات (یعنی گناہوں کو ختم کرنے والی چیزوں) کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں اور وہ کفارات (یہ) ہیں کہ نمازوں کے بعد مسجدوں میں (دوسرے وقت کی نماز کے انتظار میں یا ذکر و تسبیح کے لئے) بیٹھا جائے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے پیدل چلا جائے اور سختی کے وقت (مثلاً بیماری یا سردی میں اعضائے وضو پر) وضو کا پانی اچھی طرح پہنچا یا جائے (لہٰذا) جس نے یہ کیا (یعنی مذکورہ اعمال کئے) وہ بھلائی پر زندہ رہے گا اور بھلائی ہی پر مرے گا اور گناہوں سے ایسا پاک ہوجائے گا گویا اس کی ماں نے آج ہی اس کو جنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے محمد! جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو لیں تو یہ دعا پڑھ لیا کیجئے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِی اَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرَکَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ فَاِذَا اَرْدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِی اِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ یعنی اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے اور برائیوں کے چھوڑنے اور مسکینوں کی دوستی کا سوال کرتا ہوں اور جب تو بندوں میں گمراہی ڈالنے ( یا انہیں سزا دینے) کا ارادہ کرے تو مجھے بغیر گمراہی کے اٹھا لیجئے۔ اور اللہ تعالیٰ ( رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں زیادتی کے لئے) فرماتا ہے (یا خود رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں) کہ درجات (یعنی وہ اعمال جن سے بندے کے درجات بارگاہ حق میں بلند ہوتے ہیں) یہ ہیں کہ (ہر مسلمان کو خواہ وہ آشنا ہو یا نا آشنا) سلام کیا جائے۔ (اللہ کی راہ میں مسکینوں کو) کھانا کھلایا جائے اور رات کو اس وقت جب کہ لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھی جائے۔ (صاحب مشکوٰۃ فرماتے ہیں) کہ میں نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ جیسا کہ مصابیح میں عبدالرحمن ؓ منقول ہے سوائے شرح السنۃ کے اور کسی کتاب میں نہیں دیکھی۔ تشریح اگر رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا جیسا کہ ایک دوسری روایت میں اس کی وضاحت ہے۔ تو اس میں کچھ اشکال نہیں ہے کیونکہ انسان خواب میں بسا اوقات شکل دار چیز کو بغیر شکل دیکھتا ہے اور کبھی غیر شکل دار کو شکل دار صورت میں دیکھتا ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ نے عالم بیداری میں دیکھا تھا تو پھر اس کی تاویل کرنا ضروری ہوگی۔ اور تاویل یہ ہوگی کہ صورت سے مراد صفت ہے کہ حق تعالیٰ جل مجدہ نے صفت جمال اور لطف و کرم کے ساتھ تجلی فرمائی۔ یہ تاویل حقیقت و محاورہ سے بالکل قریب ہے کیونکہ اکثر و بیشتر صورت کا اطلاق صفت پر ہوتا ہے جیسا کہ روز مرہ کی بول چال میں کسی چیز کی حقیقت و کیفیت کے بیان کے وقت کہا جاتا ہے کہ صورت حال یہ ہے یا اس مسئلے کی صورت یہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ بھی بہتر ہے کہ صورت کے معنی کا محمول رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہی کو قرار دیا جائے۔ اس طرح آپ ﷺ کے ارشاد کے معنی یہ ہوں گے کہ میں نے اپنے رب کو دیکھا اور اس وقت میں اچھی صورت میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ مقربین فرشتے کون سے اعمال کی فضیلت و عظمت کے بارے میں بحث کر رہے ہیں؟ یا یہ کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کو مقام قبولیت تک پہنچانے میں فرشتے آپس میں تنازعہ کر رہے ہیں۔ بایں طور کہ ایک فرشتہ تو کہتا ہے کہ اس عمل کو مقام قبولیت تک پہلے میں پہنچاؤں اور دوسرا کہتا ہے کہ پہلے میں لے کر جاؤں۔ رسول اللہ ﷺ کے کندھوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کا ہاتھ رکھنا حقیقی معنی میں نہیں ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھا تھا کیونکہ ذات الٰہی ظاہری اجسام کی ثقالت سے پاک و صاف ہے بلکہ دراصل یہ اس چیز سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے فضل و کرم اور جزاء و انعام کی زیادتی و کثرت کے ساتھ خاص کیا جیسا کہ دنیاوی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی بادشاہ یا امیر اپنے کسی خاص خادم پر بہت زیادہ مہربان ہوتا ہے اور اس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو وہ اس خادم کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا ہے اس کی گردن میں با ہیں ڈال دیتا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اس خادم سے بہت زیادہ خوش ہے اور اس پر انعام و اکرام کی بارش کرنے والا ہے۔ سینے میں سردی محسوس ہونا فیض ربانی کا اثر پہنچے سے کنایہ ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب فیض ربانی سینہ میں پہنچا تو زمین و آسمان کے تمام پردے اٹھ گئے اور تمام چیزوں کا علم مجھے حاصل ہوگیا چناچہ آپ ﷺ نے اس موقعہ و حال کی مناسبت اور اس کے امکان پر گواہی دینے کے ارادہ سے مذکورہ آیت پڑھی جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ جس طرح ہم نے آپ کے سامنے زمین و آسمانوں کے پردے اٹھا دیئے جس کے نتیجے میں آپ کو تمام چیزوں کا علم حاصل ہوگیا ہے اسی طرح ہم نے اپنے جلیل القدر پیغمبر و خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی دوعالم ربوبیت والوہیت کی حقیقتوں کو واشفگاف کردیا تھا اور انہیں زمین و آسمانوں کی تمام چیزوں کا مشاہدہ کرا دیا تھا تاکہ وہ اللہ کی ربوبیت و الوہیت پر یقین کامل کرنے والوں میں سے ہوجائیں اس طرح آیت کے آخری الفاظ ولیکون من الموقنین کا معطوف علیہ محذوف ہوگا اور پوری عبارت یوں ہوگی کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عالم ربوبیت و الوہیت دکھلادیئے تھے تاکہ وہ اس کے ذریعہ ہماری ذات کے وجود کے بارے میں دلیل پکڑ سکے اور یقین کرنے والوں سے ہوجائے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ غرور وتکبر کی بری عادتوں سے یکسر ہٹ کر اپنے اندر تواضع و انکساری جود و بخشش اور عبادت و ریاضت کے جذبات و اوصاف پیدا کرے اور ان عرفانی اصولوں کی روشنی سے پہلے دل و دماغ کو منور کرکے نہ صرف یہ کہ اللہ کا حقیقی بندہ بن جائے بلکہ پوری انسانیت کے لئے باعث رحمت و راحت ہوجائے۔ شرف مردے جو دست و کرامت بسجود ہرکہ ایں ہر دو ندارد عدمش بہ ز وجود

689Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ کُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّهِ حَتَّی يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّهِ حَتَّی يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

” اور حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا تین شخص ایسے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ دنیا وآخرت کی آفات و مصیبتوں سے محفوظ رکھے گا۔ ایک تو وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلے چناچہ وہ اللہ کی ذمہ داریوں میں ہے کہ یا تو اسے موت یعنی شہادت کا درجہ دے کر جنت میں پہنچادے یا اس کو ثواب و مال غنیمت دے کر گھر واپس پہنچادے پہلی اور دوسری صورت یعنی شہادت وثواب میں تو اسے دین کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور تیسری یعنی مال غنیمت میں دنیا کی سعادت و بھلائی ملتی ہے اور وہ دوسرا شخص ہے جو مسجد جائے تو اللہ اس کا بھی ضامن ہے کہ عبادت کے لئے اس کی کوشش اور اس کا ثواب ضائع نہ کرے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں سلام کرتا ہوا داخل ہو تو وہ بھی اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔ (ابوداؤد)۔ تشریح اللہ تعالیٰ پر پہلے شخص کے لئے جو ذمہ ہے اسے تو بیان کردیا گیا کہ اسے دین ودنیا دونوں جگہ کیا کیا انعامات ملیں گے لیکن دوسرے اور تیسرے شخص کے لئے جو ذمہ ہے اللہ تعالیٰ پر ہے چونکہ وہ ظاہر تھا اس لئے اس کو بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی گھر میں سلام کرتا ہوا داخل ہو اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ گھر میں داخل ہو سلام کرتا ہوا چناچہ اس صورت میں اس کے لئے اللہ پر ذمہ ہے کہ اس کو اور اس کے گھر والوں کو خیر و برکت سے نوازے گا اور ان پر اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے دروازے کھول دے گا دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب گھر میں داخل ہوجائے تو لوگوں کی صحبت سے امن و سلامتی حاصل کرنے کے لئے گھر ہی میں رہنا اپنے اوپر لازم کرلے اور گھر سے باہر نہ نکلے چناچہ اس صورت میں اس کے لئے اللہ پر یہ ذمہ ہے کہ وہ اسے مصائب و آفات سے محفوظ و سلامت رکھے گا۔

690Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَی صَلَاةٍ مَکْتُوبَةٍ فَأَجْرُهُ کَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَی تَسْبِيحِ الضُّحَی لَا يَنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ کَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ وَصَلَاةٌ عَلَی أَثَرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا کِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ

اور حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو شخص وضو کرکے گھر سے نکلے گا اور فرض نماز ادا کرنے کے لئے مسجد جائے تو اس کو اتناثواب ملے گا جتنا احرام باندھ کر حج کرنے والے کو ملتا ہے اور جو شخص چاشت کی نفل نماز ہی کے لئے تکلیف اٹھا کر گھر سے نکلے یعنی بغیر کسی غرض اور ریا کے محض چاشت کی نماز پڑھنے کے قصہ سے گھر سے نکلے۔ تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے کے ثواب کے برابر ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز پڑھنا اور ان دونوں نمازوں کے درمیانی وقت لغو بیہودہ باتیں نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے۔ (احمد، ابودادؤد)۔ تشریح ۔ اس حدیث میں وضو کو احرام سے اور نماز کو حج سے مشابہت دی گئی ہے اور وہ دونوں میں تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح حاجی حج کے ارادہ سے گھر سے نکلتا ہے اور احرام باندھتا ہے تو اسی وقت سے اسے ثواب ملنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کے ثواب کا سلسلہ اس کے واپس آجانے تک جاری رہتا ہے اسی طرح جب کوئی شخص محض نماز کے ارادہ سے نکلتا ہے تو وہ جس وقت گھر سے نکلتا ہے اسے بھی اسی وقت سے ثواب ملنا شروع ہوجاتا ہے اور جب تک وہ نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر گھر واپس نہیں آجاتا اس کو ثواب برابر ملتارہتا ہے لیکن اتنی بات بھی سمجھ لیجیے کہ نمازی اور حاجی کے ثواب میں یہ برابری بہمہ وجوہ نہیں ہے ورنہ تو حج کرنے کے کوئی معنی نہیں رہ جائیں گے یعنی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ثواب دونوں بالکل برابر ہیں کیونکہ حاجی کا ثواب نمازی کے ثواب سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حج کی نسبت عمرہ کو وہی حثییت حاصل ہے جو فرض نماز کی بہ نسبت نفل نماز کو حاصل ہے کتاب فی علیین سے حدیث کے آخری جزو کا مطلب کنایتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص نماز کی مداومت و محافظت کرے یعنی تمام نمازوں کو پابندی سے ادا کرتا رہے اور نماز کو اس کی تمام شرائط وآداب کا لحاظ کرتے ہوئے اس طرح پڑھتا رہے کہ اس کے اس عمل اور نیت میں نماز کے منافی کسی چیز کا دخل نہ ہو تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے اعلی اور بہتر کوئی عمل نہیں ہے۔ جو فرشتے نیکیاں لکھنے پر مامور ہیں ان کے دفتر کا نام علیین ہے کہ تمام نیک اعمال وہیں جمع ہوتے ہیں۔

691Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ الْمَسَاجِدُ قُلْتُ وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ

” اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جب تم جنت کے باغوں میں جایا کرو تو وہاں میوہ کھایا کرو آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ دنیا میں جنت کے باغ کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا مسجدیں۔ پھر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ میوہ کھانا کیا ہے آپ نے فرمایا سبحان اللہ والحمدللہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ مسجدوں میں ان کلمات کا ورد میوہ کھانا ہے۔ (ترمذی) تشریح ۔ مساجد کو جنت کے باغ اس لئے کہا گیا ہے کہ ان میں عبادت کرنا اور نماز پڑھنا جنت کے باغوں کے حاصل ہونے کا سبب ہے۔ رتع دراصل اسے کہتے ہیں کہ باغ میں جا کر اچھی طرح میوے اور لذیذ چیزیں کھائی جائیں اور نہر وغیرہ کی سیر کی جائے جیسا کہ باغوں میں جانے والے لوگ یہ کیا کرتے ہیں پھر یہ لفظ ثواب عظیم کے مرتبہ پر پہنچنے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ بہرحال اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جب تم مسجدوں میں جاؤ تو مذکورہ تسبیحات پڑھا کرو کیونکہ اس سے بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔

692Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَی الْمَسْجِدَ لِشَيْئٍ فَهُوَ حَظُّهُ

” اور حضرت ابوہریرہ ؓ روای ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا یا دین کے جس کام کے لئے مسجد میں آئے گا اسے اسی میں سے حصہ ملے گا۔ (ابودؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں جس غرض سے آئے گا وہی اس کا نصیب ہوگا۔ یعنی اگر عبادت کے لئے آئے گا تو اسے ثواب ملے گا اور اگر کسی دینوی زندگی کی غرض سے آئے گا تو گرفتار وبال ہوگا۔ گویا یہ حدیث مضمون کے اعتبار سے نیت کی مشہور حدیث انما الا عمال بالنیات کا ایک جزو ہے۔

693Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْحُسَیْنِ عَنْ جَدَّتِھَا فَاطِمَۃِ الْکُبْرٰی قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْلِی ذُنُوْبِی وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَاِذَا خَرَجَ صَلَی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمْ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْلِی ذُنُوْبِی وَافْتَحْ لِی اَبْوَابَ فَضْلِکَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَاَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَۃَ وَفِیْ رِوَایَتِھِمَا قَالَتْ اِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَکَذَاِذَا خَرَجَ قَالَ بِسْمِ اﷲِ وَالسَّلَامُ عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ بَدَلَ صَلَی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ لَیْسَ اِسْنَادُہ، بِمُتَّصِلٍ وَ فَاطِمَۃُ بِنْتِ الْحُسَیْنِ لَمْ تُدْرِکْ فَاطِمَۃُ الْکُبْرٰی۔

اور حضرت فاطمہ بنت حسین ابن علی المرتضیٰ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ ؓ (زہرا) سے روایت کرتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب مسجد میں تشریف لاتے تو محمد ﷺ پر درود وسلام بھیجتے، یعنی یہ الفاظ فرماتے صلی اللہ علی محمد یا فرماتے اَللَّھُمَّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ اور پھر یہ دعا پڑھتے رَبِّ اغْفَرْلِیْ ذَنُوْبِیْ وَاَفْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ یعنی اے میرے پروردگار، میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب مسجد سے باہر آتے تو پھر محمد ﷺ پر درود وسلام بھیج کر یہ دعا پڑھتے۔ رَبِّ اغْفَرْلِیْ ذَنُوْبِیْ وَاَفْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ یعنی اے میرے پروردگا! میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔ یہ روایت ترمذی، احمد، ابن ماجہ نے نقل کی ہے اور احمد بن حنبل و ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (حضرت فاطمہ فرماتی ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب باہر نکلتے تو صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ کے بجائے یہ الفاظ فرماتے بسم اللہ والسلام علی رسول اللہ یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ داخل ہوتا ہوں اور نکلتا ہوں اور سلامتی ہو رسول پر۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ حضرت حسین ابن علی المرتضیٰ ؓ کی دختر فاطمہ رحمہا اللہ تعالیٰ علیہا نے حضرت فاطمہ کبری بنت رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نہیں پایا اور ان سے نہیں ملی۔ تشریح آپ ﷺ نے درود وسلام وغیرہ کے الفاظ اس طرح نہیں فرمائے کہ اللَّھُمَّ صِلِّ عَلٰی یَا اَغْفِرْلَمُحَمَّدٍ کیونکہ درود وسلام کے ساتھ اسم شریف کو مناسبت ہے اسی طرح رَبِّ اغْفِرْلِیْ ارشاد فرمانے میں آپ ﷺ کی تواضع و انکساری کا اظہار ہوتا ہے یا پھر کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے یہ الفاظ امت کی تعلیم کے لئے فرمائے تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ درود وسلام کن الفاظ کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔ فاطمہ صغری جو اس حدیث کی راوی اور حضرت امام حسین ابن علی ؓ کی صاحبزادی ہیں انہوں نے اپنی دادی حضرت فاطمہ زہراء ؓ بنت رسول ﷺ کا زمانہ نہیں پایا کیونکہ ان کے وقت میں حضرت امام حسین ابن علی المرتضیٰ ؓ کی عمر صرف آٹھ سال کی تھی لہٰذا اس حدیث کی سند متصل نہیں ہوئی کیونکہ درمیان کا ایک راوی متروک ہے۔

694Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ نَھی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ تَنَا شُدِ الْاَشْعَارِ فِی الْمَسْجِدِ وَعَنِ الْبَیْعِ وَالْاِشْتِرَا ءِ فِیْہِ وَ اَنْ یَتَخَلَّقَ النَّاسُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ فِی الْمَسْجِدِ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)

اور حضرت عمرو ابن شعیب ؓ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ مسجد میں اشعار پڑھنے، خریدو فروخت کرنے اور جمعہ کے روز نماز سے پہلے لوگوں کو حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے (خواہ حلقہ باندھ کر بیٹھنا مذاکرہ علم اور ذکر و تسبیح کے لئے کیوں نہ ہو) منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی ) تشریح اشعار سے مراد ایسے اشعار ہیں جن میں جھوٹ اور لغو باتیں ذکر کی گئی ہوں کیونکہ مسجد اللہ کی عبادت کرنے کی جگہ ہے وہاں خلاف شرع اور جھوٹ و لغو باتوں کو بیان کرنا ناجائز ہے البتہ ایسے اشعار جن میں اللہ کی توحید و مناجات اور رسول اللہ ﷺ کی یا آپ ﷺ کے مخلص متبعین اور فرمانبردار امتیوں کی تعریف و توصیف، دین و مذہب اور اخلاق و کردار کو بخشنے والی باتوں کا ذکر ہو تو ان کا پڑھنا ہر جگہ جائز اور مستحسن ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ شاعر اسلام حضرت حسان ؓ کے لئے جو اپنے اشعار کے ذریعے آپ ﷺ کی نعت اور کفار کی ہجو بیان کیا کرتے تھے مسجد نبوی میں منبر بچھواتے تھے اور حضرت حسان اس منبر پر کھڑے ہو کر اس قسم کے پاکیزہ اشعار پڑھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حسان ؓ کی تائید کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اشعار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی جانب سے کفار سے مقابلہ کرتے ہیں۔ مسجد میں جس طرح خریدوفروخت ممنوع ہے اسی طرح وہاں دنیا کے دوسرے معاملات طے کرنا منع ہیں۔ جمعہ کے روز نماز پڑھنے سے پہلے مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے آپ ﷺ نے جو منع فرمایا ہے علماء اس کی مختلف وجوہ بیان کرتے ہیں چناچہ کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھنا نمازیوں کی ہیت اجتماعی کے خلاف ہے نیز یہ کہ جمعہ کے روز نماز جمعہ کے لئے مسجد میں جمع ہونا خود ایک مستقل اور عظیم الشان کام ہے جب تک اس کام یعنی نماز جمعہ سے فارغ نہ ہو لیں، دوسرے کام میں مشغول ہونا مناسب نہیں ہے۔ نیز یہ کہ حلقہ باندھ کر بیٹھنا غفلت کا سبب ہے۔ ان دونوں صورتوں میں اس نہی کا تعلق خاص طور پر خطبے کے وقت سے نہیں ہوگا۔ تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ وقت خاموش اور چپ رہنے کا ہے اور نہایت توجہ کے ساتھ امام کا خطبہ سننے کا ہے اور چونکہ حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے امام کے خطبے کی طرف توجہ کم ہوجاتی ہے لہٰذا یہ درست نہیں ہے۔ اس صورت میں اس ممانعت کا تعلق صرف خطبہ کے وقت سے ہوگا۔ لہٰذا پہلی اور دوسری توجیہ کی صورت میں یہ نہی تنزیہی ہوگی اور تیسری توجیہ کی صورت میں نہی تحریمی ہوگی۔

695Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا ارَائَیْتُمْ مَنْ یَبِیْعُ اَوْ یَبْتَاعُ فِی الْمَسْجِدِ فَقُوْلُوْ اِلَا اَرْبَحَ اﷲُ تِجَارَتَکَ وَ اِذَارَاَیْتُمْ مَنْ یَنْشُدُ فِیْہٖ ضَالَّۃَ فَقُوْلُوْا لَا رَدَّھَا اﷲُ عَلَیْکَ۔ (رواہ الترمذی و الدارمی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب تم مسجد میں کسی آدمی کو خریدو فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ کرے تیری سوداگری میں نفع نہ ہو اور جب تم (مسجد میں) کسی آدمی کو بلند آواز سے گمشدہ چیز ڈھونڈھتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ کرے تیری چیز نہ ملے۔ (جامع ترمذی، دارمی)

696Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ نَھَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ وَ اَنْ یُنْشَدَ فِیْہٖ الْاَشَعَارُوَاَنْ تُقَامَ فِیْہِ الْحُدُوْدُ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ فِی سُننِہٖ وِصَاحِبُ جَامِعِ الْاُصُوْلِ فِیْہِ عَنْ حَکِیْمٍ وَفِی الْمَصَابِیْحِ عَنْ جَابِرٍ۔

اور حضرت حکیم بن حزام ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے مسجد میں قصاص لینے (یعنی قاتل کا خون بہانے) اور اشعار پڑھنے اور (زنا کرنے، شراب پینے وغیرہ کی) حدو دقائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد) اور اس روایت کو صاحب جامع الاصول نے (اپنی کتاب) جامع الاصول میں حکیم سے (یعنی بغیر لفظ ابن حزام) روایت کیا ہے۔ نیز یہ روایت مصابیح میں جابر سے منقول ہے (اور یہ اصول میں موجود نہیں ہے)۔

697Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نَھَی عَنْ ھَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ یَعْنِی اَلْبَصَلَ وَالثَّوْمَ وَقَالَ مَنْ اَکَلَھُمَا فَلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَقَالَ اِنْ کُنْتُمْ لَا بُدَّاٰکَلِیْھِمَا فَاَمِیْتُوْھُمَا طَبْخًا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت معاویہ ابن قرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے دو درختوں یعنی پیاز، لہسن کے کھانے) سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ جو آدمی ان کو کھائے وہ ہماری ( مسلمانوں کی) مسجدوں کے قریب نہ آئے نیز فرمایا کہ اگر تم انہیں کھانا ضروری ہی سمجھو تو انہیں پکا کر ان کی بدبو دور کردو (اور کھالو)۔ (ابوداؤد) تشریح جملہ مَنْ اَکَلَھُمَا پہلے جملے کا بیان ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ جو آدمی ان کو کھائے۔ وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے۔ پیاز و لہسن کھا کر مسجد میں داخلے کی ممانت کو مبالغے کے طور پر بیان کرنا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی ان بدبو دار چیزوں کو کھائے اسے چاہئے کہ وہ مسجد کی عظمت و احترام کے پیش نظر مسجد کے نزدیک بھی نہ آئے چہ جائیکہ مسجد میں داخل ہو۔ یا پھر قریب نہ آئے، کنایہ ہے مسجد میں داخل نہ ہونے سے کہ جو آدمی پیاز و لہسن کھائے ہوئے ہو وہ مسجد میں داخل نہ ہو۔

698Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْاَرْضُ کُلُّھَا مَسْجِدٌ اِلَّا الْمَقْبُرَۃَ وَالْحَمَّامَ۔(رواہ ابوداؤدوالترمذی والدارمی)

اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا مقبرہ اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے، کہ (ہر جگہ نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ (جامع ترمذی، دارمی)

699Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُصَلَّی فِی سَبْعَۃِ مَوَاطِنَ فِی الْمَزْبَلَۃِ وَالْمَجْزَرَۃِ وَالْمَقْبَرَۃِ وَقَارِعَۃِ الطَّرِیْقِ وَفِی الْحَمَّامِ وَفِی مَعَاطِنِ الْاِبِلِ وَفَوْقَ ظَھْرِبَیْتِ اﷲِ ۔(رواہ الجامع ترمذی و ابن ماجہ)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (١) جہاں ناپاک چیزیں ڈالی جاتی ہوں۔ (یعنی کوڑی)۔ (٢) جہاں جانور ذبح کئے جاتے ہوںَ (٣) راستے کے درمیان۔ (٤) مقبرے میں۔ (٥) حمام کے اندر۔ (٦) اونٹوں کے بندھنے کی جگہ پر۔ (٧) اور خانہ کعبہ ( کعبۃ اللہ کی چھت پر بلا ضرورت چڑھنا مکروہ ہے البتہ ضرورت کے لئے چھت پر چڑھنا جائز ہے ١٣) کی چھت پر۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح بعض علماء سلف تو حدیث کے ظاہری الفاظ کو دیکھتے ہوئے یہی فرماتے ہیں کہ مقبرے کے اندر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور بعض علماء کے نزدیک مقبرہ میں نماز پڑھنا جائز ہے لیکن قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا متفقہ طور پر علماء کے نزدیک حرام ہے مزبلہ اور مجزرہ (یعنی کوڑی اور مذبح) میں نماز پڑھنا اس لئے مکروہ ہے کہ ان دونوں جگہوں میں نجاست و گندنگی پھیلی رہتی ہے۔ چناچہ ان مقامات میں اگر کسی ایسی جگہ نماز پڑھی جائے جو صاف ہو مگر اس کے قریب ہی نجاست بھی پڑی ہو یا نجاست ہی پر مصلی بچھا کر نماز پڑھی جائے۔ یہ مکروہ ہے اس سے دین کی حقارت و بےوقعتی ظاہر ہوتی ہے اور نماز کی رفعت شان اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے بالکل پاک و صاف جگہ ادا کیا جائے نہ کہ ایسی جگہ جہاں گندگی و نجاست پھیلی ہوئی ہو۔ راستہ کے درمیان نماز پڑھنا اس لئے ممنوع ہے کہ وہاں لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے دھیان بٹتا ہے اور یکسوئی حاصل نہیں ہوتی نیز اس سے لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ عام گزر گاہ ہونے کی وجہ سے اگر لوگ مجبوری کی بناء پر نمازی کے آگے سے گزریں گے تو ان کے گزرنے سے نمازی گناہگار ہوگا اور اگر لوگ بےضرورت ہی گزریں گے۔ تو وہ گناہگار ہوں گے۔ حمام میں نماز پڑھنا اس لئے مکروہ ہے کہ وہ ستر کھلنے اور شیطان کے رہنے کی جگہ ہے کعبہ کی چھت پر بھی نماز پڑھنا اس لئے مکروہ ہے کہ اس سے کعبۃ اللہ کے بےادبی ہوتی ہے۔ اب علماء کے ہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ ان ساتوں جگہوں پر نماز پڑھنے کو مکروہ کہا گیا ہے تو آیا یہ مکروہ تنزیہی ہے یا مکروہ تحریمی؟ چناچہ بعض علماء کے نزدیک تو ان ساتوں جگہ نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ مکروہ تحریمی ہیں۔

700Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلُّوْفِی مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوْا فِی اَعْطَانِ الْاِبِلِ۔(رواہ الترمذی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ بکریوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھو، البتہ اونٹوں کے بندھنے کی جگہ مت پڑھو۔ (جامع ترمذی) تشریح اونٹوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اونٹوں کے پاس نماز پڑھنے میں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ کھل کر نمازی کو لات وغیرہ نہ مار دیں اس سے نہ صرف یہ کہ نمازی کو تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہے بلکہ اس طرح نماز دلجمعی اور سکون خاطر سے ادا نہیں ہوسکتی البتہ بکریوں سے چونکہ اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا اس لئے ان کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

701Mishkaat-al-Masabih

مساجد اور نماز کے مقامات کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم زَائِرَاتِ الْقُبُوْرِ وَالْمُتَّخِذِیْنَ عَلَیْھَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرْجَ۔ (رواہ ابوداؤد و الترمذی والنسائی)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں کو مسجد بنا لینے یعنی قبروں پر سجدہ کرنے والوں) اور قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی ) تشریح رسول اللہ ﷺ نے ابتدائے اسلام میں قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمایا تھا پھر بعد میں آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی تھی، چناچہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ اجازت مردوں اور عورتوں دونوں کے حق میں تھی لہٰذا عورتوں کو پہلے تو قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت نہیں تھی مگر اب اس عام اجازت کے پیش نظر درست و جائز ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس اجازت کا تعلق صرف مردوں سے ہے عورتوں کے حق میں وہ نہی اب بھی باقی ہے اور وجہ اس کی یہ بیان کرتے ہیں کہ عورتیں چونکہ کمزور دل اور غیر صابر ہوتی نیز ان کے اندر جزع و فزغ کی عادت ہوتی ہے اس لئے ان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ قبروں پر جائیں۔ چناچہ یہ حدیث بھی بظاہر ان ہی علماء کی تائید کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت جمہور علماء کے نزدیک اس حکم سے مستثنیٰ ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت مرد ہو یا عورت سب کے لئے جائز ہے۔ قبر پر چراغ جلانا اس لئے حرام ہے کہ اس سے بےجا اسراف اور مال کا ضیاع ہوتا ہے۔ البتہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اگر قبر کے پاس کوئی گزر گاہ ہو تو راہ گیروں کی آسانی کے لئے چراغ جلانا یا وہاں روشنی میں کوئی کام کرنے کے لئے چراغ جلانا جائز ہے کیونکہ اس سے قبر پر چراغ جلانا مقصود نہیں ہوگا بلکہ دوسری ضرورت و حاجت پیش نظر ہوگی۔ مولانا محمد اسحق محدث دہلوی کی تحقیق یہ ہے کہ صحیح اور معتمد قول کے مطابق عورتوں کو قبر کی زیارت کرنا مکروہ تحریمی ہے چناچہ مستملی میں لکھا ہوا ہے کہ قبروں کی زیارت مردوں کے لئے مستحب ہے اور عورتوں کے لئے مکروہ ہے۔ کتاب مجالس و اعظیہ میں مذکور ہے کہ عورتوں کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ قبروں پر جائیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) لعن ذوارات القبور یعنی رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ نصاب الاحتساب میں منقول ہے کہ عورتوں کے قبروں پر جانے کے جواز اور اس کی خرابی و قباحت کے بارے میں قاضی سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا جواز اور اس کا فساد نہ پوچھو بلکہ یہ پوچھو کہ اس پر جو لعنت و پھٹکار برستی ہے اس کی مقدار کیا ہے؟ چناچہ جان لو! کہ جب عورت قبر پر جانے کا ارادہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی لعنت میں گرفتار ہوجاتی ہے اور جب وہ قبر پر جانے لگتی ہے تو اس کو ہر طرف سے شیاطین چمٹ جاتے ہیں اور جب قبر پر پہنچ جاتی ہے تو مردے کی روح اس پر لعنت بھیجتی ہے اور جب قبر سے واپس ہوتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی لعنت میں گرفتار ہوتی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ جو عورت مقبرے پر جاتی ہے ساتوں زمینوں اور ساتوں آسمانوں کے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں چناچہ وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت میں مقبرہ کا راستہ طے کرتی ہے اور جو عورت اپنے گھر میں بیٹھ کر میت کے لئے دعائے خیر کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو حج اور عمرہ کا ثواب دیتا ہے۔ حضرت سلمان اور ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مسجد سے نکل کر اپنے مکان کے دروازے پر کھڑے تھے کہ (باہر سے) حضرت فاطمہ الزہرا ؓ آئیں آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کہاں سے آر ہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں عورت کا انتقال ہوگیا ہے اس کے مکان پر گئی تھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اس کی قبر پر بھی گئی تھیں؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا معاذ اللہ! کیا میں اس عمل کو کرسکتی ہوں جس (کی ممانعت) کے بارے میں آپ ﷺ سے میں سن چکی ہوں! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تم نے یہ اچھا ہی کیا کہ اس کی قبر پر نہ گئیں کیونکہ اگر تم اس کی قبر پر چلی جاتیں تو تمہیں جنت کی بو (بھی) میسر نہ ہوتی۔ حضرت قاضی ثناہ اللہ پانی پنی نے اپنی کتاب مالا بد منہ میں لکھا ہے کہ زیارت قبور مرداں را جائز است نہ زناں را یعنی قبروں کی زیارت مردوں کے لئے تو جائز ہے عورتوں کے لئے نہیں۔