اذان کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 10 · 98 hadiths · Page 2 of 5

624Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ قَالَ حِےْنَ ےَسْمَعُ النِّدَآءَ اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّآمَۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِےْلَۃَ وَالْفَضِےْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَحْمُوْدَنِ الَّذِیْ وَعَدتَّہُ حَلَّتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِِ ۔( بخاری)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جس آدمی نے اذان سن کر (یعنی اذان ختم ہونے اور اس کا جواب دینے کے بعد) یہ دعا پڑھی تو قیامت کے روز مجھ پر اس کی شفاعت لازم ہوگی۔ دعا یہ ہے اَللَّھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابَعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَہُ اے اللہ! مالک اس کامل دعا (اذان) کے اور پروردگار اس نماز قائمہ کے ہمارے سرادر محمد رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ (جنت کا سب سے خاص و اعلیٰ درجہ) اور بزرگی عنایت فرما اور پہنچا ان کو مقام محمود پر جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ (بخاری) تشریح اس دعاء میں اذان کو دعا سے تعبیر کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اذان لوگوں کو نماز اور اللہ کے ذکر کی طرف بلاتی ہے۔ نماز کو قائمہ اس لئے کہا گیا ہے کہ نماز ہمیشہ قیامت تک قائم و برقرار رہے گی۔ اس دعاء میں والفضیلۃ کے بعد والدرجۃ الرفیعۃ کے الفاظ بھی پڑھے جاتے ہیں مگر یہ کسی روایت میں مذکور نہیں ہیں۔ مقام محمود شفاعت عظمی کا مقام ہے اور یہ وہ مقام ہوگا جہاں رسول اللہ ﷺ قیامت کے روز عاصیوں کے لئے شفاعت کرنے کے لئے کھڑے ہوں گے۔ میدان حشر میں جب ہر طرف نفسی نفسی کا عالم ہوگا اللہ کی مخلوق حساب و کتاب کی پریشانیوں میں مبتلا ہوگی اور تمام لوگ وہاں کی سختیوں کی بناء پر حیران و سرگرداں ہوں گے تو یکے بعد دیگرے تمام انبیاء و رسل (علیہم السلام) کے پاس شفاعت کے لئے جائیں گے مگر وہ سب ہیبت و دہشت کی بنا پر شفاعت کی جرات نہ کرسکیں گے اور کہیں گے کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہوچکے ہیں، وہی اللہ کی مخلوق کی شفاعت کے حقدار ہیں۔ چناچہ تمام لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب آپ ﷺ بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر لوگوں کی شفاعت کریں گے۔ اس وقت ہر آدمی کی زبان پر آپ ﷺ کی تعریف ہوگی اور حق تعالیٰ بھی آپ ﷺ کی تعریف کریں گے گویا شان محمدیت کا پورا پورا ظہور ہوگا۔ اور تمام مخلوق آپ ﷺ کی اس عظمت و برتری کو رشک کی نگاہوں سے دیکھے گی۔ وعدتہ (جس کا تو نے وعدہ کیا ہے) اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ آیت (عَسٰ ي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17۔ الاسراء 79) امید ہے کہ آپ ﷺ کا پروردگار آپ ﷺ کو مقام محمود میں جگہ دے گا۔ خداوند کریم عنقریب آپ کو شافع محشر بنا کر مقام محمود پر کھڑا کرنے والا ہے۔ اور یہ وہ عزت و کرامت ہے جو بنی آدم میں آپ ﷺ کے علاوہ کسی کو نصیب نہیں اس لئے کہ سب سے زیادہ آپ ﷺ ہی پر عبادت اور شب کا سوز و گداز بھی فرض ہوا ہے۔ دلا بسوز کہ سوزے تو کا رہا بکند دعائے نیم شبی دفع صد بلا بکند بیہقی کی روایت میں اس دعاء میں وَعَدْتہ کے بعد اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ (یعنی بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا) بھی مذکور ہے۔ بعض لوگ اس کے آگے یا ارحم الرٰحمین بھی پڑھتے ہیں حالانکہ احادیث میں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔

625Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُغِےْرُ اِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَکَانَ ےَسْتَمِعُ الْاَذَانَ فَاِنْ سَمِعَ اَذَانًا اَمْسَکَ وَاِلَّا اَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلًا ےَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْفِطْرَۃِ ثُمَّ قَالَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوْا اِلَےْہِ فَاِذَا ھُوَ رَاعِیْ مِعْزًی۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ (جب لشکر لے کر کسی جگہ جاتے تو) فجر ہوجانے پر (دشمن کے اوپر) حملہ کیا کرتے تھے اور فجر ہوجانے پر) اذان کا انتظار کیا کرتے تھے (اس آبادی میں سے جس کا حملہ کردیتے۔ چناچہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ دشمن پر حملہ کے لئے جا رہے تھے تو ایک مقام پر آپ ﷺ نے ایک آدمی کو اللہ اکبر، اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ آدمی اسلام کے (طریقہ) پر ہے (کیونکہ اذان تو مسلمان ہی کہتا ہے) پھر اس آدمی نے کہ اشھدان لا الہ الا اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ تم شرک سے باز آجانے کی وجہ سے دوزخ سے نکل گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے (چاروں طرف دیکھ کر معلوم کرنا چاہا کہ اذان دینے والا کون ہے تو) دیکھا کہ وہ توبکریاں چرانے والا ایک آدمی ہے)۔ تشریح رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ ﷺ جب دشمنوں پر حملہ کرنے کے لئے تشریف لے جاتے تو اس بات کا خیال رکھتے کہ صبح کا وقت ہو، تاکہ اس بات کا اچھی طرح پتہ چل جائے کہ جس آبادی پر حملہ کیا جائے گا اس میں مسلمان ہیں یا کافر ہی کافر رہتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت انس ؓ کے ارشاد سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (فجر ہوجانے پر) اذان کا انتظار کیا کرتے تھے چناچہ جس آبادی پر حملہ مقصود ہوتا اس میں سے اگر اذان کی آواز آجاتی تو یہ جان کر کہ اس آبادی میں مسلمان ہیں آپ ﷺ حملے سے باز رہتے تھے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو پھر آپ ﷺ اس آبادی پر حملہ کردیتے تھے۔ اذان کا انتظار آپ ﷺ اس لئے کرتے تھے کہ مبادا اس آبادی میں مسلمان ہوں اور ان جانے میں وہ اسلامی لشکر کی زد میں آجائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اذان کے ہونے اور نہ ہونے کو ایمان اور کفر کی علامت سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے روایت فقیہہ میں آتا ہے کہ جو لوگ اذان کو ترک کردیں گے تو باوجودیکہ اذان سنت ہے ایسے لوگ مستحق قتال ہوں گے کیونکہ اذان اسلامی شعار میں سے ہے۔

626Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ قَالَ حِےْنَ ےَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ رَضِےْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِالْاِ سْلَامِ دِےْنًا غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی مؤذن (کی اذان) کو سن کر یہ کہے کہ اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہُ لَا شَرَیْکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ رَضِیْتُ بِا رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَ بِا لَّاسْلَامِ دِیْنًا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد ﷺ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس میں اختیار ہے کہ ان کلمات کو یا تو اس وقت پڑھا جائے جب مؤذن اشھد ان لا الہ الا اللہ کہے یا اذان ختم ہوجانے کے بعد پڑھے۔ مناسب تو یہی ہے کہ اذان ختم ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھے جائیں تاکہ اذان کے دوسرے کلمات کے جواب ترک نہ ہوں۔ اور ظاہر تو یہ ہے کہ مذکورہ ثواب اسی وقت ملے گا جبکہ اذان کے کلمات کا جواب دے کر بعد میں ان کلمات کو پڑھا گا۔

627Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَےْنَ کُلِّ اَذَانَےْنِ صَلٰوۃٌ بَےْنَ کُلِّ اَذَانَےْنِ صَلٰوۃٌ ثُمَّ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ لِمَنْ شَآئَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن مغفل ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے اور پھر تیسری دفعہ میں یہ فرمایا کہ (یہ نماز) اس آدمی کے لئے ہے جو پڑھنا چاہئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح دو اذانوں سے مراد اذان و تکبیر ہیں یعنی اذان اور تکبیر کے درمیان نماز پڑھنی فلاح وسعادت کی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اذان و تکبیر کے درمیان نوافل پڑھنے کی رغبت دلانے کے لئے یہ جملہ مکرر سہ مکرر فرمایا کیونکہ اذان و تکبیر کے درمیان کا وقت بہت زیادہ بابرکت اور فضیلت کا حامل ہوتا ہے اس لئے اس وقت نماز پڑھ کر جو دعا مانگی جاتی ہے وہ بارگاہ احدیت سے رد نہیں کی جاتی ہے بلکہ قبولیت کا درجہ پاتی ہے اور پھر یہ کہ بابرکت اور با فضیلت وقت میں عبادت کا ثواب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حاصل یہ کہ اذان و تکبیر کے درمیان میں نماز پڑھنی سنت ہے مگر آپ نے لمن شاء فرما کر اس طرف اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ اس وقت نماز پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مغرب میں اذان و تکبیر کے درمیان نفل پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ حضرت بریرہ اسلمی ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ مغرب کے علاوہ (بقیہ اوقات میں) دونوں اذانوں (یعنی اذان و تکبیر) کے درمیان دو دو رکعتیں (نماز) ہیں۔

628Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْامَامُ ضَا مِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ اَللّٰھُمَّ اَرْشِدِ الْاَ ئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِنِیْنَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ الشَّافِعِیُّ وَفِی اُخْرٰی لَہُ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار ہوتا ہے (پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی) اے اللہ! اماموں کی ہدایت دے (یعنی ان کو نیک علم، صالح علم اور صلاح وتقوی کی توفیق دے) اور مؤذنوں (سے اگر اذان کہنے میں کمی و زیادتی ہوجائے تو ان) کو بخش دے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی) اور امام شافعی (رح) نے دوسری روایت مصابیح کے ہم لفظ نقل کی ہے۔ تشریح ضامن کا مطلب یہ ہے کہ امام دوسروں کی نماز کا ذمہ دار ہوتا ہے بایں طور پر کہ وہ متقدیوں کے امور نماز مثلا قرأت کا اور اگر مقتدی رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے تو قیام وغیرہ کا متکفل ہوتا ہے اسی طرح وہ سب کی نمازوں کے افعال و ارکان نیز رکعتوں کی تعداد پر نگاہ رکھتا ہے۔ مؤذنوں کے امانت دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کے سلسلے میں اذان کی آوازوں پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہیں۔

629Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَذَّنَ سَبْعَ سَنِیْنَ مُحْتَسِبًا کُتِبَ لَہُ بَرَاءَ ۃٌ مِنَ النَّارِ۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد و ابن ماجہ)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی (مزدوری و اجرت کے لالچ کے بغیر) محض ثواب حاصل کرنے کے لئے سات سال تک اذان دے تو اس کے لئے دوزخ سے نجات لکھ دی جاتی ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

630Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ عَقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْجَبُ رَبُّکَ مِنْ رَاعِی غَنَمِ فِی رَأْسٍ شَظِیَّۃٍ لِلْجَبَلِ یُؤَذِّنُ بِالصَّلَاۃِ وَیُصَلِّی فَیَقُوْلُ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ اُنْظُرُوْ اِلٰی عَبْدِی ھٰذَا یُؤَذِّنُ وَیُقِیْمُ الصَّلَاۃَ یَخَافُ مِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِی وَاَدْخَلْتُہُ الْجَنَّۃَ۔ (رواہ ابوداؤدوالسنن نسائی )

اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا تمہارا رب راضی ہوتا ہے پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چرانے والے سے جو نماز کے لئے اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ چناچہ اللہ بزرگ و برتر (ملائکہ اور ارواح مقربین سے) فرماتا ہے۔ میرے اس بندے کی طرف دیکھو وہ اذان دیتا ہے اور (پابندی کے ساتھ) نماز پڑھتا ہے اور مجھ سے ڈرتا ہے، چناچہ میں نے بھی اس بندے کے گناہ بخش دیئے ہیں اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح یعنی وہ چرواہا جو لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے اور دنیا کے علائق سے دست بردار ہو کر پہاڑ کی چوٹی پر بسیرا کئے ہوئے ہے جب نماز کا وقت آتا ہے تو اذان کہہ کر اللہ اور اس کے رسول کا نام بلند کرتا ہے اور پابندی سے نماز ادا کر کے اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔ ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ اذان دینے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی اذان کے ذریعے ملائکہ اور جنات نماز کے وقت سے مطلع ہوجاتے ہیں، نیز یہ کہ اس کی اذان مخلوقات میں سے جو چیز بھی سنتی ہے قیامت کے روز اس کے ایمان کی گواہی دے گی اور سنت کی اتباع ہوتی ہے اور جماعت کے معاملے میں اسے مسلمانوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے۔ اذان سے اعلام عام یعنی اذان و تکبیر دونوں مراد ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ایسا آدمی جب اذان و تکبیر کہتا ہے تو ملائکہ اس کے ہمراہ نماز میں شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اسے جماعت کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ وا اللہ اعلم۔ مجھ سے ڈرتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس بندے کی عبادت کا مقصد نمائش و ریا نہیں ہے بلکہ وہ میرے عذاب سے چونکہ ڈرتا ہے اس لئے اذان بھی کہتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان و تکبیر کہنا مستحب ہے۔

631Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃٌ عَلَی کُثْبَانِ الْمِسْکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَبْدٌ اَدَّ ی حَقَّ اﷲِ وَحَقَّ مَوْلَاہُ وَرَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَھُمْ بِہٖ رَاضُوْنَ وَرَجُلٌ یُنَادِی بِالصَّلٰوۃِ الْخَمْسِ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھَذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز تین آدمی مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے۔ (پہلا) وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کر کے اپنے آقا کے حقوق بھی اداء کئے اور (دوسرا) وہ آدمی جو لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے اور لوگ اس سے خوش ہیں اور (تیسرا) وہ آدمی جو رات دن (یعنی ہمیشہ) پانچوں وقت کے نماز کے لئے اذان کہتا ہے۔ امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح عبد سے مراد مملوک ہے خواہ غلام ہو یا لونڈی، امام سے لوگوں کو خوش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی اپنے امام سے اس وجہ سے مطمئن و راضی ہوتے ہیں کہ وہ نماز کے احکام و ارکان اور سنن و آداب کی پوری پوری رعایت کرتا ہے۔ اور قرأت اصول و قواعد کے مطابق نیز عمدہ آواز کے ساتھ کرتا ہے لیکن اتنی بات ملحوظ رہے کہ اس سلسلے میں اعتبار اکثر لوگوں کا ہوگا جو کہ صاحب علم و فراست ہوں۔ بہر حال قیامت کے روز ان تینوں کو مشک کے ٹیلے اس لئے ملیں گے کہ یہ لوگ دنیا میں خواہشات نفسانی کی لذتوں کو اطاعت الہٰی اور فرمانبرداری رسول ﷺ کی سختیوں پر قربان کردیں گے اس لئے پروردگار عالم اس کے صلہ میں انہیں خوشبو کی صورت میں عظیم انعام عطا فرمائے گا تاکہ دوسرے لوگوں پر ان کی عظمت و بزرگی ظاہر ہو سکے۔

632Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُلَہ، مَدیَ صَوْتِہٖ وَیَشْھَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَشَّاھِدُ الصَّلَاۃِ یُکْتَبُ لَہ، خَمْسٌ وَعِشْرُوْنَ صَلَاۃً وَ یُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَھُمَا رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْداَؤدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی النِّسَائِیُّ اِلَی قَوْلِہٖ کُلَّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَقَالَ لَہُ مِثْلُ اَجْرِمَنْ صَلَّی۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا اذان دینے والے کی بخشش اس کی آواز کی انتہاء کے مطابق کی جاتی ہے۔ ہر خشک و تر چیز اور نماز میں آنے والے آدمی اس کے ایمان کے گواہ ہوجاتے ہیں۔ پچیس نمازوں کا ثواب (اس کے زائد اعمال میں) لکھا جاتا ہے اور نمازوں کے درمیان اس سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں معاف ہوجاتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور نسائی نے اس روایت کو کل رطب و یابس تک نقل کیا ہے اور یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ وَلَہُ مِثْلُ اَجْرٍ مَنْ صَلّٰی یعنی اور اسے نماز پڑھنے والے کے برابر ثواب ملے گا۔ تشریح آواز کی انتہا کے مطابق بخشش کا مطلب یہ ہے کہ مؤذن اذان کہتے وقت جس قدر آواز بلند کرتا ہے اس کی مغفرت اسی قدر ہوتی ہے اور اگر وہ آواز کو انتہائی درجے تک پہنچا دیتا ہے یعنی اس کی جتنی طاقت ہوتی ہے اتنی ہی آواز بلند کرتا ہے تو مغفرت بھی پوری ہی پاتا ہے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اگر گناہ کا جسم فرض کیا جائے اور وہ اتنے ہوں کہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے وہاں تک سما جائیں تو اس کے وہ سب گناہ بخشش دیئے جاتے ہیں۔ رطب (تر) سے مراد وہ مخلوق ہیں جن میں نمو ہوتا ہے جیسے انسان اور نباتات وغیرہ اور یا بس (خشک) سے جمادات یعنی پتھر اور مٹی وغیرہ مراد ہیں۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ لفظ وَشَاھِدُ الصَّلٰوۃَ لفظ اَلْمُؤَذِنُ پر عطف کیا گیا ہے اس طرح پورے جملہ کے معنی یہ ہوں گے مغفرت کی جاتی ہے مؤذن کی اور ان لوگوں کی جو جماعت میں حاضر ہوتے ہیں۔ مگر ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس کا عطف کل رطب پر ہے اور اسے عطف خاص علیٰ عام کہا جاتا ہے یکتب لہ اور عنہ کی ضمیر یا تو شَاھِدُ کی طرف راجع ہے یا پھر مؤذن کی طرف راجع ہوگی۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ مؤذن نمازیوں کا سا ثواب پاتا ہے کیونکہ یہ ان کو نماز کی طرف بلاتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ جو آدمی بھلی بات کا باعث ہوتا ہے اسے اس بھلائی کے کرنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔

633Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اجَعَلْنِیْ اِمَامَ قَوْمِی قَالَ اَنْتَ اِمَامُھُمْ وَاقْتَدِ بِاَضْعَفِھِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذَّّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی اَذَانِہٖ اَجْرًا۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد، والنسائی )

اور حضرت عثمان بن ابی عاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم ان کے امام ہو (یعنی میں نے تمہیں تمہاری قوم کا امام مقرر کردیا مگر یہ یاد رکھو کہ نماز پڑھانے میں) تم ان میں سے بہت زیادہ ضعیف و نا تو اں کی اقتداء کرنا اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان کہنے کی مزدوری نہ لے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح ضعیفوں کی اقتداء کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امامت میں ضعیف و کمزور لوگوں کی رعایت کی جائے یعنی قرأت اتنی لمبی نہ کی جائے اور ارکان نماز اس طرح ادا نہ کئے جائین کہ لوگ تنگ و پریشان ہوجائیں اور جماعت سے نماز پڑھنا چھوڑ دیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام اور مؤذن کے لئے نماز پڑھانے اور اذان دینے کی اجرت حلال نہیں ہے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اذان اقامت اور تعلیم قرآن کے سلسلہ میں معاوضہ لینا جائز نہیں ہے۔ مگر علماء نے یہ لکھا ہے کہ اگر امام اور مؤذن بطور خود اپنی اجرت مقرر نہ کرائیں بلکہ لوگ ان کے پاس ان کی حاجت کے مطابق روپیہ پیسہ از خود بھیج دیا کریں تو یہ جائز و حلال ہوگا۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ امام و مؤذن کی خبر گیری کریں اور ان کے پاس از خود اتنا روپیہ اور مال بھجوا دیا کریں جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ فتاوی قاضی خاں میں مرقوم ہے کہ جو مؤذن اوقات نماز وغیرہ کے سلسلہ میں علم نہیں رکھتا اسے اذان کہنے کا ثواب نہیں ملتا، اس لئے جو مؤذن اجرت لے گا اسے تو بطریق اولیٰ ثواب نہیں ملے گا۔

634Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ اَقُوْلَ عِنْدَاَذَانِ الْمَغْرِبِ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارُ نَھَارِکَ وَاَصْوَاتُ دُعَائِکَ فَاغْفِرْلِی رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالْبَیْھَقِی فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔

اور حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے مجھے سکھلایا تھا کہ میں مغرب کی اذان کے وقت یہ دعا پڑھ لیا کروں اَللَّھُمَّ ھَذَا اِقْبَالُ لَیْلِکَ وَاِدْبَارِ نَھَا رِکَ َواَصْوَاتُ دُعَا ئِکَ فَاغْفِرْلِیْ اے اللہ! یہ وقت ہے تیری رات کے آنے کا اور تیرے دن کے واپس جانے کا اور تیرے پکارنے والوں (یعنی مؤذنوں) کی آوازوں کا! لہٰذا تو میری مغفرت فرما۔ (ابوداؤد، بیہقی) تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا یا تو اذان کا جواب دینے کے دوران پڑھ لی جائے یا پھر جواب سے فارغ ہونے کے بعد پڑھی جائے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اذان کا وقت بارگاہ احدیث میں دعاء کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے اس لئے ایسے وقت اپنے گناہوں کی معافی اور خیر و بھلائی کے راستہ پر چلنے کی توفیق کی زیادہ سے زیادہ دعا مانگنی چاہئے تاکہ قبولیت کے مرتبے کو پہنچ سکے۔

635Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ اَوْبَعْضُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ بِلَالًا اَخَذَ فِی الْاِ قَامَۃِ فَلَمَّا اَنْ قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَقَامَھَا اﷲُ وَاَدَامَھَا وَقَالَ فِی سَائِرِ الْاِ قَامَۃِ کَنَحْوِ حَدِیْثِ عُمَرَ فِی الْاِذَانِ۔ (رواہ ، ابوداؤد)

اور حضرت ابوامامہ ؓ یا سرور کائنات ﷺ کے کوئی اور صحابی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ نے تکبیر کہنی شروع کی۔ جب انہوں نے قد قامت الصلوۃ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کے جواب میں) فرمایا اَقَامَھَا اللہ وَاَدَمَھَا یعنی اللہ تعالیٰ نماز کو قائم و دائم رکھے اور تکبیر کے بقیہ کلمات کے جوابات وہی فرمائے جس کا ذکر حضرت عمر فاروق ؓ کی اذان والی حدیث میں ہوچکا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اسی باب کی حدیث نمبر پانچ میں اذان کے کلمات اور ان کے جواب کو جس طرح ذکر کیا گیا ہے اسی طرح تکبیر کے وقت مؤذن جو کلمات کہتا گیا۔ آپ بھی ویسے ہی کلمات کو دہراتے رہے البتہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولاقوۃ الابا اللہ اور قد قامت الصلوۃ کے جواب میں اَقَامَھَا ا وَاَدَمَھَاکہا۔

636Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَنَس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُرَدُّ الدُّعَاءُ بَیْنَ الْاِذَانِ وَالْاِقَامَۃِ۔ (رواہ ابوداؤد و الترمذی)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا اذان اور تکبیر کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔ (ابوداؤد، الترمذی) تشریح یوں تو پروردگار عالم اپنی رحمت و شفقت کے ناطے ہر وقت ہی اپنے بندوں کی دعا قبول کرتا ہے اور ان کے دامن امید کو اپنے فضل و کرم کے موتیوں سے معمور کرتا ہے مگر اس ارشاد کے ذریعے مسلمانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اذان و تکبیر کے درمیان کا وقت اتنا بابرکت و با سعادت ہوتا ہے کہ اس وقت پروردگار عالم کے سامنے بندہ اپنی جس حاجت کے لئے بھی دامن پھیلاتا ہے اس کی مراد یقینا پوری کی جاتی ہے اور مانگنے والا جو بھی دعا مانگتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس وقت اپنی دینی اور دنیاوی فلاح وسعادت اور کامیابی و کامرانی کے لئے ضرور دعا مانگا کریں۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ دعاء خواہ اذان کے بعد متصلا ہی مانگی جائے یا کچھ دیر کے بعد، ہر صورت میں قبول ہوگی مگر صحیح اور اولیٰ یہ ہے کہ اذان کے فورا بعد مانگ لینی چاہئے۔

637Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ اَوْقَلَّمَا تُرَدَّانِ الدُّعَاءُ عِنْدَا لنِّدَاءِ وَعِنْدَ البَأْسِ حَیْنَ یَلْحَمُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا وَفِی رِوَایَۃٍ وَتَحْتَ الْمَطْرِ رَوَاہُ اَبُوْدَؤدَ وَ الدَّارِمِیُّ اِلَّا اَنَّہ، لَمْ یَذْکُرْ وَ تَحْتَ الْمَطَرِ۔

اور حضرت سہل ابن سعد ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا فرمایا کہ کم رد کی جاتی ہیں۔ ایک تو وہ دعا جو اذان (ہونے کے بعد یا اذان شروع ہونے) کے وقت مانگی جاتی ہے اور دوسری وہ دعا جو (کفار کے ساتھ) جنگ میں مڈھ بھیڑ (یعنی آپس میں قتل و قتال) شروع ہوجانے کے وقت مانگی جاتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں (جنگ میں مڈھ بھیڑ کے بجائے) یہ منقول ہے کہ دوسری وہ دعا جو بارش میں (کھڑے ہو کر) مانگی جائے۔ (سنن ابوداؤد، دارمی) مگر دارمی کی روایت میں تحت المطر منقول نہیں ہے۔

638Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍ وَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّ الْمُؤَذِنِیْنَ یَفْضُلُوْنَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ فَاِذَا انْتَھَیْتَ فَسَلْ تُعْطَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ ایک صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! اذان دینے والے تو بزرگی میں ہم سے بڑھے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح وہ فرماتے ہیں (ساتھ ساتھ) تم بھی اسی طرح کہتے جاؤ اور جب (اذان کے جواب سے) فارغ ہوجاؤ تو جو چاہو مانگو، دیا جائے گا۔ (ابوداؤد) تشریح صحابی کا مطلب یہ تھا کہ جو لوگ اذان دیتے ہیں وہ تو اذان دینے کی سعادت و برکت کی وجہ سے ہماری بہ نسبت زیادہ ثواب کے حقدار ہوتے ہیں اس لئے ہمیں بھی کوئی ایسا طریقہ بتا دیجئے جس پر چل کر ہم بھی ثواب میں ان کے ہم پلہ ہوجائیں۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ طریقہ بتادیا کہ جب مؤذن اذان کے کلمات کہے تو تم بھی ان کے ساتھ اذان کے کلمات دہراتے جاؤ (سوائے حی علی الصلوۃ وحی علی الفلاح کے کہ ان کے جواب میں لا حول ولاقوۃ الا باا اللہ کہنا چاہئے) اسی طرح تمہیں بھی ان کے اصل ثواب کی طرح ثواب ملے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک دوسری چیز اذان کے جواب سے فراغت کے بعد دعاء مانگنے کو بتا کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اگر اذان کا جواب دینے کے بعد دعاء مانگی جائے تو فضیلت و بزرگی میں اور اضافہ ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی اذان کے وقت مسجد میں موجود ہو تو اسے بھی اذان کے کلمات کا جواب دینا چاہئے۔ جو لوگ یہ فرماتے ہیں کہ اذان کے وقت مسجد میں موجود آدمی کو اذان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس وقت جب اجابت فعلی حاصل ہے تو اجابت قولی کی کیا ضرورت ہے۔ دل کو لگنے والی بات نہیں۔

639Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ الشَیْطٰنَ اِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاۃِ ذَھَبَ حَتّٰی یَکُوْنَ مَکَانَ الرَوْحَآءِ قَالَ الرَّاوِی وَالرَّوْحَاءُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ عَلٰی سِتَّۃٍ وَّثَلاَتِیْنَ مِیْلاً (رواہ صحیح مسلم)

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا، سرور کائنات ﷺ فرماتے تھے کہ جب شیطان نماز کی اذان سنتا ہے تو بھاگتا ہے یہاں تک کہ مقام روحا تک پہنچ جاتا ہے۔ روای کہتے روحا مدینہ سے چھتیں کوس کے فاصلے پر ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح شیطان سے مراد جنسی شیطان ہے یعنی اذان سن کر یا تو تمام شیطان بھاگ کھڑے ہوتے ہیں یا ان کا سردار بھاگ جاتا ہے اور صحیح یہی ہے۔ حدیث کے آخر جزو کا مطلب یہ ہے کہ اذان سن کر شیطان نماز پڑھنے والے سے اتنا دور ہوجاتا ہے جتنا دور مدینہ سے روحا ہے۔ راوی سے حضرت ابوسفیان، نافع ابن طلحہ ؓ کی ذات مراد ہے جنہوں نے اس حدیث کو حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے۔

640Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ قَالَ اِنِیِّ لَعِنْدَ مُعَاوِیَۃَ اِذَاَذَّنَ مُؤَذِّنُہُ فَقَالَ مَعَاوِیَۃُ کَمَا قَالَ مُؤَذِنُہُ حَتّٰی اِذَا قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِقَالَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ فَلَمْاَ قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ذٰلِکَ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت علقمہ ابن وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک روز) حضرت امیر معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، چناچہ مؤذن جس طرح کہتا تھا حضرت معاویہ ؓ بھی اسی طرح ( اس کے ساتھ ساتھ) کہتے رہے، جب مؤذن نے حی علی الصلوۃ کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا لا حول و لا قوۃ الا باللہ جب مؤذن نے حی علی الفلاح کہا تو حضرت معاویہ ؓ نے لا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم کہا اور اس کے بعد مؤذن جو کچھ کہتا رہا حضرت معاویہ ؓ بھی کہتے رہے۔ (پھر فارغ ہو کر) حضرت معاویہ ؓ نے کہا میں نے سرور کائنات ﷺ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ حی علی الفلاح کے جواب میں لاحول ولاقوۃ الا باللہ کے بعد العلی العظیم کا اضافہ مرویات میں نادر ہے۔

641Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَامَ بِلَالٌ یُنَادِی فَلَمَّا سَکَتَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ قَالَ مِثْلَ ھٰذَا یَقِیْنًا دَخَل الْجَنَّۃَ۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سرور کائنات ﷺ کے ہمراہ تھے کہ حضرت بلال ؓ کھڑے ہوئے اور اذان کہنے لگے۔ جب وہ (اذان دے کر) خاموش ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے اسی طرح یقینا (یعنی خلوص دل سے) کہا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو آدمی یقین و اعتماد کی پوری قوت اور دل کے پورے خلوص کے ساتھ ان کلمات کو یا تو اذان میں کہے یا اذان کے جواب میں کہے یا مطلقا کہے تو وہ جنت میں داخل ہونے کا مسحتق ہوگا یا نجات پانے والوں کے ہمراہ جنت میں داخل ہوگا۔

642Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَمِعَ الْمِؤَذِّنَ یَتَشَھَّدُ قَالَ وَ اَنَا وَاَنَا۔ (ابوداؤد)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب مؤذن کو شہادتین کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے اور میں بھی اور میں بھی۔ (ابوداؤد) تشریح یعنی جب مؤذن اذان میں اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھدان محمد الرسول اللہ کہتا ہے تو آنحضرت ﷺ شہادتین کے جواب میں دو مرتبہ فرماتے واناوانا (اور میں بھی اور میں بھی) یعنی جس طرح تم اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ کی رسالت کی گواہی دے رہے ہو اسی طرح میں بھی وحدانیت الٰہی اور رسالت محمد کی گواہی دیتاہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام امت کی طرح خود آنحضرت صلی اللہ علیہ بھی اپنی رسالت کی گواہی دینے کے مکلف تھے۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ آیا آپ ﷺ امت کے افراد کی طرح اشھد ان محمد رسول اللہ (میں گواہی دیتاہوں کہ محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں) یہ کہہ کر گواہی دیتے تھے یا اشھد انی رسول اللہ (میں گواہی دیتاہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں) کہہ کر گواہی دیتے تھے؟ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ امت کے افراد کی طرح اپنی رسالت کی گواہی دیتے تھے جیسا کہ ابھی حدیث نمبر (٢١) میں حضرت معاویہ ؓ کے بارے میں گزرا ہے کہ انہوں اذان کے جواب میں اشھد ان محمد الرسول اللہ کہا اور پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے (یعنی آپ ﷺ بھی اذان کے جواب میں اشھد ان محمد الرسول اللہ ہی کہتے تھے)۔ اس طرح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس روایت میں اور حضرت معاویہ ؓ کی روایت میں چونکہ تعارض پیدا ہوتا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ کبھی تو آپ ﷺ اسی طرح فرماتے ہوں گے جیسا کہ حضرت معاویہ ؓ نے بیان کیا اور کبھی اس طرح فرماتے ہوں گے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ یہاں بتارہی ہیں۔

643Mishkaat-al-Masabih

اذان اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ اَذَّنَ ثِنْتَی عَشْرَۃَ سَنَۃً وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَکُتِبَ لَہُ بِتَاذِیْنِہٖ فِی کُلٍّ یَوْمٍ سِتُّوْنَ حَسَنَۃً وِلِکُلِّ اِقَامَۃٍ ثَـلَاثُوْنَ حَسَنَۃً۔(رواہ ابن ماجہ)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی بارہ برس تک اذان دے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے اور اس کے اذان کے بدلے میں (اس کے نامہ اعمال میں) ہر روز (یعنی ہر اذان کے عوض) ساٹھ نیکیاں اور ہر تکبیر کے بدلہ میں تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح اذان کی بہ نسبت تکبیر کا ثواب آدھا غالباً اس لئے ہوتا ہے کہ تکبیر خاص طور پر ان لوگوں کو مطلع کرنے کے لئے ہوتی ہے جو جماعت میں حاضر ہوتے ہیں اور اذان کے ذریعہ عمومی طور پر حاضرین اور غائبین سب ہی کو مطلع کیا جاتا ہے یا پھر اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اذان دینے میں زیادہ محنت برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس کی بہ نسبت تکبیر میں کم محنت ہوتی ہے۔