اپنے غلام اور باندی کو میرا بندہ یا میری بندی نہ کہو
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي كلكم عباد الله وكل نسائكم إماء الله . ولكن ليقل غلامي وجاريتي وفتاي وفتاتي . ولا يقل العبد ربي ولكن ليقل سيدي وفي رواية ليقل سيدي ومولاي . وفي رواية لا يقل العبد لسيده مولاي فإن مولاكم الله . رواه مسلم .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام اور باندی کو عبدی میرا بندہ اور امتی میری لونڈی نہ کہے تمہارے سب مرد اللہ کے بندے اور تمہاری سب عورتیں اللہ کی لونڈیاں ہیں بلکہ یوں کہے میرا غلام یعنی میرا لڑکا اور میری جاریہ یعنی میری لڑکی، یا میرا خادم اور میری خادمہ اسی طرح کوئی غلام اپنے مالک کو میرا رب نہ کہے بلکہ میرا سردار کہنا چاہیے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کوئی اپنے غلام کو اپنے مالک کو میرا مولیٰ نہ کہے کیونکہ تمہارا مولیٰ صرف اللہ ہے۔ (مسلم)
تشریح
جب غلام اور باندی رکھنے کا رواج تھا تو لوگ ان کو ایسے الفاظ کے ذریعہ یاد اور مخاطب کیا کرتے تھے جو اپنے معنی کے اعتبار سے بالکل غیر موزوں ہوتے تھے، مثلا زمانہ جاہلیت میں اہل عرب جب اپنے غلام یا اپنی باندی کو مخاطب کرتے تو اس طرح کہتے، یا عبدی اے میرے بندے اور یا امتی، یعنی اے میری لونڈی، ظاہر ہے کہ لفظ عبد ایک مخصوص مفہوم کا حامل ہے اور اسلامی عقیدے کے مطابق انسان اللہ ہی کا عبد بندہ ہے اور ہوسکتا ہے ایک دوسرے انسان کا بندہ نہیں ہوسکتا کیونکہ عبد یا بندہ عبادت کرنے والے کو کہتے ہیں اور عبادت صرف اللہ ہی کی ہوسکتی ہے کسی مخلوق کی نہیں، اس اعتبار سے اگر کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو اپنا عبد یعنی بندہ کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر وہ یا تو حقیقت عبدیت میں شرک کا مرتکب ہو رہا ہے یا شرک کا مرتکب نہ سہی ارتکاب شرک کے گمان کا سبب بن رہا ہے لہذا آپ نے اس لفظ کو استعمال کرنے سے منع فرمایا اسی طرح قاموس کے مطابق لفظ امتہ کے معنی مملوکہ کے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ کسی بھی انسان کی حقیقی ملکیت صرف اللہ کو حاصل ہے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی ملکیت کا دعوی کرے لہذا آپ نے اس لفظ کو بھی استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ جن الفاظ کے ذریعہ غلام و باندی کو یاد اور مخاطب کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں سے غلام کے معنی لڑکے کے ہیں جاریہ کے معنی لڑکی کے ہیں، فتی کے معنی جوان مرد اور فتاۃ کے معنی جوان عورت کے ہیں ظاہر ہے کہ ان الفاظ کے استعمال میں نہ صرف یہ کہ مفہوم کے اعتبار سے کوئی غیر موزونیت نہیں ہے بلکہ ان الفاظ کے ذریعہ ایک طرح سے غلام و باندی کے تئیں شفقت و محبت اور یگانگت و رواداری کے جذبات کا بھی اظہار ہوتا ہے رہی یہ بات کہ فتی اور فتاۃ جوان مرد اور جوان عورت کو کہتے ہیں تو ان الفاظ کا اطلاق ان غلام اور باندی پر کیسے ہوگا جو عمر رسیدہ اور بوڑھے ہوں تو اس بارے میں یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ غلام اور باندی خواہ وہ کتنے ہی بوڑھے ہوں عام طور پر ان کے آقا اور مالک ان کے ساتھ چھوٹوں اور جوانوں ہی کا سا معاملہ رکھتے تھے اور ان کو بڑھاپے کا وہ لحاظ و احترام نہیں کرتے تھے جو ان کی عمر کے دوسرے لوگوں یعنی آزاد بڑھیوں کا ہوتا تھا علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ خدمت گاری اور کام کاج کے سلسلے میں چونکہ بوڑھے غلام و باندی بھی جوانوں جیسی مستعدی اور چستی رکھتے تھے اس لئے ان کو بھی فتی اور فتاۃ کہا جاتا تھا۔ حاصل یہ کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ اگر اپنے غلام اور باندی کو ایسے الفاظ کے ذریعہ مخاطب کرنا ہی ہو جوان کی حثییت و رتبہ کو واضح کرسکیں تو اس مقصد کے لئے عبد اور امتہ سے بہتر مذکورہ الفاظ ہیں تاہم علماء نے یہ لکھا ہے کہ عبد اور امتہ کے الفاظ کے استعمال کی اس ممانعت کا تعلق اس صورت میں ہے جب کہ اپنے غرور وتکبر کے اظہار اور باندی کو حقیر و ذلیل جاننے کے طور پر ہو، ورنہ غلام و باندی پر لفظ عبد اور امتہ کا اطلاق خود قرآن و حدیث میں منقول ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا آیت (والصالحین من عبادکم ومائکم) اور آیت (ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا لایقدر علی شئی)، اس طرح بہت احادیث میں بھی غلام اور باندی کو لفظ عبد اور امتہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس طرح مالکوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے غلام و باندی کو ناشائستہ اور غیر موزوں الفاظ کے ذریعہ مخاطب نہ کریں چناچہ فرمایا گیا کہ کوئی غلام و باندی اپنے آقا کو ربی میرا رب نہ کہے کیوں کہ اگرچہ رب کے معنی تربیت و پرورش کرنے والے کے ہیں اور ظاہری مفہوم کے اعتبار سے ایک آقا کو اپنے غلام و باندی کا تربیت و پرورش کرنے والا کہا جاسکتا ہے لیکن ربوبیت علی الاطلاق ایک ایسی خاص صفت ہے جو صرف اللہ کی ذات سے متعلق ہے لہذا کسی انسان کو رب کہنا شرک کے گمان کا باعث ہے لیکن واضح رہے کہ اس ممانعت کا تعلق بھی اس صورت سے ہے جب کہ اس لفظ کے استعمال کا مقصد اپنے مالک کی تعظیم ہو، ورنہ مالک پر لفظ رب کا اطلاق بھی قرآن کریم سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا گیا، اذکرنی عند ربک، غلام و باندی کو اپنے مالک کے تئیں جس لفظ کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہ سید ہے اور یہ ظاہر ہے کہ مالک کو اپنے غلام باندی پر سیادت و فضیلت اور امارت و ریاست حاصل ہوتی ہے اس اعتبار سے غلام و باندی کا اپنے مالک کو یا سیدی یعنی اے میرے سردار یا اے میرے آقا کہہ کر مخاطب کرنا موزوں و مناسب ہے۔ واضح رہے کہ ایک روایت میں تو غلام و باندی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مالک کو مولیٰ کہیں لیکن دوسری روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کوئی غلام و باندی اپنے مالک کو مولیٰ نہ کہے ان دونوں روایتوں کے درمیان پائے جانے والے ظاہری تضاد کو اس تاویل کے ذریعہ دور کیا جاتا ہے کہ مولیٰ کے کئی معنی آتے ہیں جیسے متصرف، و منتظم، ناصر اور معین وغیرہ چناچہ غلام و باندی کو اپنے مالک کے تئیں، مولی، کا لفظ استعمال کرنے کی اجازت و جواز کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ وہ اس کے معنی مراد نہ لیں جو حق تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں ہاں جس معنی کا اطلاق بندوں کی ذات پر بھی ہوسکتا ہے جیسے متصرف، منتظم تو ان معنی کو مراد لیتے ہوئے مالک کے لئے لفظ مولیٰ کا استعمال کیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ مولیٰ کا اطلاق معتق اور معتق پر کیا جاتا ہے، جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد مولیٰ القوم من انفسھم یا طبری کی روایت میں ہے مولیٰ الرجل اخوہ اور مالک کو مولیٰ کہنے کی ممانعت و عدم جواز کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ اس کے معنی وہ مراد لئے جائیں جو حق تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں جیسے ناصر اور معین وغیرہ کیونکہ ان کے معنی کے اعتبار سے مولیٰ کے حقیقی معنی صرف حق تعالیٰ ہے جیسا کہ یہ فرمایا گیا نعم المولی و نعم النصیر، اس تا کی روشنی میں دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد باقی نہیں رہا حاصل یہ کہ اس مسئلے میں وہی ضابطہ پیش نظر رہے گا جو پہلے گزر چکا کہ اگر لفظ مولیٰ کا استعمال غایت تعظیم کے طور پر ہو تو ممانعت کا حکم نافذ ہوگا ورنہ بصورت دیگر اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔
انگور کو کرم کہنے کی ممانعت
وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تقولوا الكرم فإن الكرم قلب المؤمن . رواه مسلم . وفي رواية له عن وائل بن حجر قال لا تقولوا الكرم ولكن قولوا العنب والحبلة .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا (انگور کے درخت کو) کرم نہ کہو کیونکہ مومن کا دل ہے۔ مسلم۔ اور مسلم ہی کی ایک حدیث میں حضرت وائل بن حجر ؓ سے یوں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا انگور کے درخت کو کرم نہ کہو بلکہ عنب اور حبلہ کہو۔
تشریح
حبلہ، حاء اور باء کے زبر کے ساتھ، یاہاء کے زبر اور باء کے جزم کے ساتھ۔ اصل میں انگور کے درخت یا ایک قول کے مطابق انگور کی جڑ یا شاخ کو کہتے ہیں بعض مواقع پر مجازا انگور کو بھی حبلہ کہا گیا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انگور کو عنب یا حبلہ کہو یا اس کے اور جو نام ہیں وہ لیا کرو، لیکن اس کو کرم نہ کہا جائے اس کی ممانعت کا ایک پس منظر ہے اور وہ یہ کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب انگور کو کرم کہا کرتے تھے کیونکہ انگور سے شراب بنتی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اس شراب کے پینے سے آدمی میں سخاوت و ہمت اور جود و کرم کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں چناچہ جب شریعت نے شراب کو حرام کردیا اور وہ ایک نجس و ناپاک چیز قرار پائی تو آنحضرت ﷺ نے انگور کو کرم کہنے سے منع فرمایا کیونکہ ایک ایسی چیز کو مذکورہ نام کے ذریعہ کرم و خیر کے ساتھ متصف کرنا جو شراب جیسی ناپاک چیز کی جڑ ہے مناسب نہیں سمجھا گیا جب کہ انگور کو اتنے عمدہ نام یاد کرنے کا مطلب ایک حرام چیز کی تعریف و توصیف کا راستہ اختیار کرنا ہے اور اس کی طرف سے دل و دماغ کو رغبت دلانا ہے نیز آپ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ کرم ایک ایسا اعلی لفظ ہے جو اپنے وسیع مفہوم کے اعتبار سے تمام بھلائیوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس اعتبار سے اس لفظ کا مصداق مومن اور اس کا قلب ہی ہوسکتا ہے جو علم وتقوی کے نور کا مخزن اور اسرار معارف کا منبع ہے۔
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تسموا العنب الكرم ولا تقولوا يا خيبة الدهر فإن الله هو الدهر . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انگور کو کرم نہ کہو اور یہ نہ کہو کہ اے نا امیدی زمانہ کی کیونکہ بلاشبہ اللہ ہی کے اختیار میں زمانہ ہے (بخاری)
تشریح
زمانہ جاہلیت میں عام طور پر لوگوں کی عادت تھی کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی یا وہ کسی آفت میں مبتلا ہوتے تو یوں کہتے، یا خبیبۃ الدھر اور اس لفظ کے ذریعہ گویا وہ زمانہ کو برا کہتے تھے جیسا کہ اب بھی جاہلوں کی عادت ہے کہ وہ بات بات پر زمانہ کو برا بھلا کہتے ہیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو اس سے منع فرمایا کیونکہ زمانہ بذات خود کوئی چیز نہیں ہے حالات میں الٹ پھیر اور زمانہ کے انقلابات مکمل طور پر اللہ کے قدرت قبضہ میں ہیں کہ جس بھلائی و برائی اور مصیبت و راحت کی نسبت زمانہ کی طرف کی جاتی ہے حقیقت میں وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور وہی فاعل حقیقی ہے پس زمانہ کو برا کہنا دراصل اللہ کو برا کہنا ہے۔
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يسب أحدكم الدهر فإن الله هو الدهر . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں کوئی شخص زمانہ کو برا نہ کہے کیونکہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی زمانہ کو الٹ پھیر کرنے والا ہے۔ مسلم)
امتلاء نفس کو|" خباثت نفس|" سے تعبیر نہ کرو۔
وعن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقولن أحدكم خبثت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي . متفق عليه . وذكر حديث أبي هريرة يؤذيني ابن آدم في باب الإيمان
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یوں نہ کہے کہ میرا جی برا ہوا بلکہ لقست نفسی کہے۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت یوذینی ابن ادم باب الایمان میں نقل کی جا چکی ہے۔
تشریح
خبثت نفسی اور لقست نفسی یہ دونوں لفظ اگر معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں رکھتے بلکہ عربی میں ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، یعنی جی متلانا اور طبیعت کا فاسد ہونا، لیکن آنحضرت ﷺ نے خبثت نفسی کہنے کو ناپسند فرمایا کیونکہ لفظ، خبث کی وجہ سے نہ صرف یہ جملہ قبیح ہوجاتا ہے بلکہ مومن کا لفظ خبث کو اپنے نفس کی طرف منسوب کرنا بھی لازم آتا ہے جو ایک مناسب بات نہیں ہے۔
ابوالحکم، کنیت کی ناپسندیدگی۔
عن شريح بن هانئ عن أبيه أنه لما وفد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع قومه سمعهم يكنونه بأبي الحكم فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إن الله هو الحكم فلم تكنى أبا الحكم ؟ قال إن قومي إذا اختلفوا في شيء أتوني فحكمت بينهم فرضي كلا الفريقين بحكمي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحسن هذا فما لك من الولد ؟ قال لي شريح ومسلم وعبد الله . قال فمن أكبرهم ؟ قال قلت شريح . قال فأنت أبو شريح . رواه أبو داود والنسائي .
حضرت شریح بن ہانی ؓ اپنے والد حضرت ہانی ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے سنا کہ ان کی قوم ان کو ابوالحکم کی کنیت کے ذریعہ یاد و مخاطب کرتی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا کہ حکم تو صرف اللہ ہے اور حکم اسی کی طرف سے ہے پھر تم نے اپنی کنیت ابوالحکم کیوں مقرر کی؟ حضرت ہانی ؓ نے عرض کیا کہ میری قوم مجھ کو ابوالحکم کی کنیت کے ذریعہ اس لئے پکارتی ہے کہ جب میری قوم کے لوگ کسی معاملہ میں اختلافات کا شکار ہوتے ہیں تو میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے معاملہ میں جو فیصلہ کرتا ہوں وہ دونوں فریق تسلیم کرلیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ یعنی لوگوں کے تنازعات کو نمٹانا اور ان کے درمیان فیصلہ و حکم کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن یہ بتاؤ تمہارے کتنے بچے ہیں اور ان کے نام کیا ہیں انہوں نے کہا میرے تین بچے ہیں جن کے شریح، مسلم اور عبداللہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ ان تینوں میں بڑا کون ہے؟ حضرت ہانی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا شریح! آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو پھر آج سے تم ابوشریح ہو۔ (نسائی)
تشریح
کنیت کبھی تو کسی وصف وصفت کی طرف نسبت کر کے مقرر کی جاتی ہے جیسے کوئی شخص اپنی کنیت ابوالفضل یا ابوالحکم اور ابوالخیر وغیرہ مقرر کرے کبھی اولاد کی طرف نسبت کر کے مقرر کی جاتی ہے جیسے ابوسلمہ یا ابوشریح وغیرہ، کبھی کنیت کا تعلق کسی ایسی خاص چیز کی طرف نسبت کرنے سے ہوتا ہے جس کے ساتھ انتہائی اختلاط اور ربط ہو جیسے ابوہریرہ چناچہ مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ ؓ کا اصل نام عبداللہ تھا کہتے ہیں کہ ایک بلی ان کے پاس رہا کرتی تھی ایک دن وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بلی کو آستین میں لئے ہوئے آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ بلی ہے آپ نے فرمایا یا اباہریرہ، بس اس دن سے ان کی کنیت ابوہریرہ مشہور ہوگئی اور کبھی کنیت محض علمیت کے لئے یعنی اصل نام کے طور پر ہوتی ہے جیسے ابوبکر اور ابوعمر وغیرہ۔ اور حکم اسی کی طرف سے ہے سے آنحضرت ﷺ کی مراد یہ تھی کہ حقیقی حکم اللہ کی ذات ہے اور ہر حکم و فیصلہ کی ابتداء و انتہا اسی کے قبضہ و اختیار میں ہے کہ نہ صرف اس کے حکم و فیصلہ کو کوئی رد نہیں کرسکتا بلکہ اس کا حکم فیصلہ حکمت و دانائی سے خالی نہیں ہوتا اس اعتبار سے یہ وصف چونکہ اللہ کی صفات کے ساتھ خاص ہے اور وہی اس صفت کا سزا وار ہے اس لئے کسی دوسرے کو مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ابوالحکم یعنی حکم و فیصلہ کا مالک کہے یا کہلائے کیونکہ اس صورت میں اللہ کے اس وصف خاص میں غیر اللہ کے شریک ہونے کا گمان پیدا ہوتا ہے اور بات ہے ابوت وابنیت کے وہم کی وجہ سے اس کی ذات پر ابوالحکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔
وعن مسروق قال لقيت عمر فقال من أنت ؟ قلت مسروق بن الأجدع . قال عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الأجدع شيطان رواه أبو داود وابن ماجه .
حضرت مسروق (تابعی) کہتے ہیں کہ جب میں حضرت عمر ؓ سے ملا تو انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں اجدع کا بیٹا مسروق ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے (میرے باپ کا نام اجدع سن کر) فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اجدع ایک شیطان کا نام ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
اجدع اصل میں اس کو کہتے ہیں جس کے کان، ناک، ہونٹ اور ہاتھ کٹے ہوئے ہوں اور کنایۃ اس نام کا اطلاق اس شخص پر کیا جاتا ہے جس کی کسی بات میں کوئی وزن اور دلیل نہ ہو اسی مناسبت سے ایک شیطان کو اجدع کہا جاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ کا حضرت مسروق ؓ کے بارے میں پوچھنا اور پھر آنحضرت ﷺ کا مذکورہ ارشاد نقل کرنا گویا تفتن طبع کے طور پر تھا اور اس کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ اگر تمہارے والد حیات ہوں تو ان کا یہ نام بدل دو۔
وعن أبي الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم رواه أحمد وأبو داود .
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپ کے ناموں سے پکارا جائے گا لہذا تم اپنے اچھے نام رکھو۔ (احمد، ابوداؤد) تسریح تم اچھے نام رکھو اس ارشاد کے ذریعہ تمام بنی آدم کو خطاب کیا گیا ہے لہذا اس میں باپ بھی داخل ہیں اور ان کے لئے ہدایت ہے کہ وہ اپنے بچوں کا اچھا نام رکھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا اور علماء نے لکھا ہے کہ ماؤں کے نام کے ساتھ پکار نے کی حکمت و علت ایک تو یہ ہے کہ جو لوگ زنا سے پیدا ہوئے ہوں گے وہ اس صورت میں شرمندگی اور رسوائی سے بچ جائیں گے دوسرے حضرت عیسیٰ بن مریم کی رعایت حال مقصود ہوگی جو بےپدر تھے اور تیسرے حسن اور حضرت حسین کے اس فضل و شرف کا اظہار مقصود ہوگا جو ان کو حضرت فاطمہ ؓ کے بیٹے ہونے کی حثییت سے آنحضرت ﷺ کی طرف نسبت کے ذریعہ حاصل ہے اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کیا جائے تو کہا جائے گا کہ تم کو تمہارے باپوں کے ناموں سے پکارا جائے گا میں باپ کو تغلیب پر حمل کیا جائے جیسا کہ ماں اور باپ دونون کو ابوین کہا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی موقع پر تو باپ کے نام سے پکارا جائے گا اور کسی موقع پر ماں کے نام کے ساتھ یا بعض لوگوں کی نسبت ان کے باپ کی طرف کی جائے گی اور بعض لوگوں کی نسبت ان کی ماں کی طرف کی جائے گی اور یا یہ کہ بعض مقامات میں باپ کے نام کے ساتھ اور بعض مقامات میں ماں کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا۔
آنحضرت ﷺ کے نام اور کنیت دونوں کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت
وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يجمع أحد بين اسمه وكنيته ويسمى أبا القاسم . رواه الترمذي .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص آپ کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرے اور جس شخص کا نام محمد ہو اس کو ابوالقاسم بھی کہا جائے۔ (ترمذی)
تشریح
مذکورہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ لفظ محمد مرفوع اور یسمی بصیغہ مجہول ہو جیسا کہ ترمذی اور شرح السنہ اور مصابیح کے اکثر نسخوں میں نقل کیا گیا ہے لیکن جامع الاصول اور مصابیح کے بعض نسخوں میں محمد کو نصب کے ساتھ نقل کیا گیا ہے اس صورت میں یسمی صیغہ معروف کے ساتھ ہوگا اور ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ کوئی شخص اس آدمی کو ابوالقاسم کہے جس کا نام محمد ہو، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کا نام محمد ہو تو نہ خود اس کے لئے روا ہے کہ وہ اپنی کنیت ابوالقاسم مقرر کرے اور نہ کسی دوسرے شخص کے لئے مناسب ہے کہ وہ محمد نامی کو ابوالقاسم کہے اس مسئلہ کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
آنحضرت ﷺ کے نام اور کنیت دونوں کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا سميتم باسمي فلا تكتنوا بكنيتي . رواه الترمذي وابن ماجه . وقال الترمذي هذا حديث غريب . وفي رواية أبي داود قال من تسمى باسمي فلا يكتن بكنيتي ومن تكنى بكنيتي فلا يتسم باسمي
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میرے نام پر اپنا نام محمد رکھو تو میری کنیت پر کنیت (ابوالقاسم) مقرر نہ کرو۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے نیز ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص میرے نام پر نام رکھے تو وہ میری کنیت پر کنیت نہ مقرر کرے اور جو شخص میری کنیت پر کنیت مقرر کرے تو میرے نام پر نام نہ رکھے۔
تشریح
یہ حدیث بھی آنحضرت ﷺ کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی صریح ممانعت کو ظاہر کرتی ہے تاہم ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا یعنی صرف نام پر نام رکھنا یا صرف کنیت پر کنیت مقرر کرنا ممنوع نہیں ہے۔
آنحضرت ﷺ کا نام اور کنیت ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت بطور تحریم نہیں ہے۔
وعن عائشة رضي الله عنها أن امرأة قالت يا رسول الله إني ولدت غلاما فسميته محمدا وكنيته أبا القاسم فذكر لي أنك تكره ذلك . فقال ما الذي أحل اسمي وحرم كنيتي ؟ أو ماالذي حرم كنيتي وأحل اسمي ؟ . رواه أبو داود . وقال محيي السنة غريب .
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ میرے ایک لڑکا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اس کو پسند نہیں فرماتے یعنی بتانے والے نے مجھ کو یہ بتلایا کہ آپ نے اپنا نام اور کنیت ایک ساتھ اختیار کئے جانے کو حرام قرار دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسی کیا چیز ہے جس نے میرے نام پر نام رکھنے کو تو حلال و جائز رکھا ہے اور میری کنیت پر کنیت مقرر کرنے کو حرام کیا ہے یا یہ فرمایا کہ ایسی کیا چیز ہے جس نے میری کنیت پر کنیت رکھنے کو تو حرام کیا ہے اور میرے نام پر نام رکھنے کو حلال رکھا ہے؟ ابوداؤد) اور محی السنہ نے کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کے سلسلے میں راوی نے یہ فرمایا کہ کے ذریعہ اپنے شک کو ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو پہلے نام کی حلت اور بعد میں کنیت کی حرمت کو ذکر کیا یا پہلے کنیت کی حرمت کو اور بعد میں نام کی حلت کو ذکر فرمایا۔ تاہم دونوں صورتوں میں معنی و مطلب ایک ہی ہیں مفہوم و مقصد کے درمیان کوئی فرق و تفاوت نہیں ہے! اصل بات یہ ہے کہ محدث جب کوئی حدیث بیان کرتا ہے تو اس بات کو پوری احتیاط رکھتا ہے کہ اس حدیث کے الفاظ آنحضرت ﷺ سے جس طرح سنے ہیں یا جس طرح اس تک پہنچے ہیں اسی طرح بعینیہ ان کو نقل کرے چونکہ اس موقع پر راوی کو الفاظ حدیث کے سلسلے میں شک ہو اس لئے اس نے مذکورہ طرح سے بیان کیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت بطریق تحریم یعنی حرام ہونے کے طور پر نہیں ہے بلکہ مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے۔
آنحضرت ﷺ کا نام اور کنیت ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت بطور تحریم نہیں ہے۔
وعن محمد بن الحنفية عن أبيه قال قلت يا رسول الله أرأيت إن ولد لي بعدك ولد أسميه باسمك وأكنيه بكنيتك ؟ قال نعم . رواه أبو داود
اور حضرت محمد بن حنفیہ اپنے والد ماجد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے بتائیے کہ اگر میں آپ کے وصال کے بعد میرے یہاں حضرت فاطمہ ؓ سے یا کسی اور بیوی سے کوئی بچہ پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں! (ابوداؤد)
تشریح
یہ حدیث بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نام اور کنیت کو ایک ساتھ اختیار کرنے کی ممانعت کا تعلق آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے تھا اس کے بعد یہ جائز ہے اس مسئلہ پر علماء کے جو اختلافی اقوال ہیں پیچھے نقل کئے جا چکے ہیں۔
وعن أنس قال كناني رسول الله صلى الله عليه وسلم ببقلة كنت أجتنيها . رواه الترمذي وقال هذا حديث لا نعرفه إلا من هذا الوجه . وفي المصابيح صححه
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت اس ساگ کے نام پر مقرر کی تھی جس کو میں اکھاڑتا تھا (یعنی آپ نے ایک دن مجھ کو ایک ساگ جس کو عربی میں حمزہ کہتے ہیں اکھاڑتے ہوئے دیکھا تو اس کی مناسبت سے میری کنیت ابوحمزہ رکھ دی) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارا علم یہ ہے کہ یہ حدیث اس سند کے علاوہ جو جامع الترمذی میں نقل کی گئی ہے اور کسی سند کے ساتھ مذکور نہیں ہے (گویا یہ حدیث غریب ہے کہ ایک طریق اور ایک سند کے علاوہ اور کسی طریق وسند سے منقول نہیں ہے) لیکن صاحب مشکوۃ کہتے ہیں کہ مصابیح میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔
جو نام اچھا نہ ہو اس کو بدل دو
وعن عائشة رضي الله عنها قالت إن النبي صلى الله عليه وسلم كان يغير الاسم القبيح . رواه الترمذي
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ برے نام کو بدل دیا کرتے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
مثلا ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے ایک شخص کا نام اسود یعنی کالا تھا آنحضرت ﷺ نے اس کے نام کو بدل دیا اور فرمایا کہ آج سے اس کا نام ابیض (یعنی گورا) ہے۔
ایسے نام رکھنے کی ممانعت جو اسماء الہی میں سے ہیں۔
وعن بشير بن ميمون عن أسامة بن أخدري أن رجلا يقال له أصرم كان في النفر الذين أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اسمك ؟ قال بل أنت زرعة . رواه أبو داود وقال وغير النبي صلى الله عليه وسلم اسم العاص وعزير وعتلة وشيطان والحكم وغراب وحباب وشهاب وقال تركت أسانيدها للاختصار
اور حضرت بشیر بن میمون (تابعی) اپنے چچا اسامہ ؓ ابن اخدری سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک جماعت حاضر ہوئی تو اس میں ایک شخص بھی تھا جس کو اصرام کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھ کو اصرام کہتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ آج تمہارا نام زرعہ ہے۔ اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے نیز انہوں نے بطریق تحلیق یہ بھی نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عاص، عزیز، عتلہ، شیطان، حکم، غراب، حباب اور شہاب ناموں کو بدل دیا تھا۔ ابوداؤد (رح) کہ میں نے احتصار کے پیش نظر ان روایتوں کو کہ جس میں مذکورہ ناموں کو بدلنے کا ذکر ہے بغیر اسناد کے نقل کیا ہے۔
تشریح
اصرام صرم سے مشتق ہے جس کے معنی قطع و برید کرنا، ترک سلام و کلام کرنا اور درخت کاٹنا ہیں ان کی مناسبت سے آپ نے اصرام نام کو ناپسند فرمایا اور اس کے بجائے مذکورہ نام رکھ دیا یہ لفظ زراعت سے ماخوذ ہے اور اپنے معنی کے اعتبار سے جود و سخاوت اور خیر و برکت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آخر میں ابوداؤد نے آنحضرت ﷺ کی طرف سے جن ناموں کے بدلے جانے کا ذکر کیا ہے ان میں عاص، عاصی کا مخفف ہے یہ نام لفظی مفہوم کے اعتبار سے عصیان و سرکشی، عدم اطاعت اور نافرمانی پر دلالت کرتا ہے جب کہ مومن کی خصوصیات اطاعت و فرمانبرداری ہے اس لئے کسی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ عاص یا عاصیہ نام رکھے۔ عزیز چونکہ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم پاک ہے اس لئے عبدالعزیز نام رکھنا تو مناسب ہے لیکن صرف عزیز نام غیر موزوں ہے علاوہ ازیں یہ لفظ غلبہ قوت عزت و زور آوری پر دلالت کرتا ہے جو اللہ کی شان ہے جب کہ بندے کی شان ذلت و انکساری، حضوع اور فروتنی ہے اسی طرح حمید نام رکھنا بھی غیر مناسب ہے کیونکہ یہ بھی اللہ کے اسماء اور اس کی صفات میں سے ایک ہے اور بطریق مبالغہ اس کی ایک صفت ہے اس اعتبار سے کسی شخص کا نام عبدالحمید موزوں ہے کریم وغیرہ کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ عتلہ نام کو بھی آپ نے اس لئے ناپسند فرمایا کہ اس میں غلظت وشدت اور سختی کے معنی نکلتے ہیں جب کہ مومن کو نرم و ملائمت کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔ شیطان نام رکھنا نہ صرف اس ذات کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے بلکہ اس کے لفظی مفہوم کے اعتبار سے بھی نہایت غیر موزوں ہے کیونکہ لفظ شیطان یا تو شیط سے نکلا ہے جس کے معنی جل جانا ہلاک ہوجانا، شطن سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دور ہونا۔ حکم حاکم کا مبالغہ ہے اور حقیقی حاکم صرف اللہ کی ذات ہے کہ بس اسی کا حکم قابل نفاظ بھی ہے اور لائق اطاعت بھی اس اعتبار سے حکم نام بھی غیر موزوں ہے اور جب آنحضرت ﷺ نے ابوالحکم کی کنیت کو پسند نہیں فرمایا جیسا کہ پیچھے روایت گزری ہے تو حکم تام کا تغیر بطریق اولی مناسب ہے۔ غراب نام کی ناپسندیدگی کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ غراب کوے کو کہتے ہیں جو جانوروں میں پلید جانور ہے وہ مردار اور نجاست کھاتا ہے دوسرے یہ کہ اس کے معنی دوری کے ہیں۔ حباب نام اس اعتبار سے نہایت غیر موزوں ہے کہ یہ شیطان کا نام ہے اور سانپ کو بھی حباب کہتے ہیں۔ شہاب آگ کے اس شعلہ کو کہتے ہیں کہ جو فرشتے شیطانوں پر مارتے ہیں اس مناسبت کے شیاب نام رکھنا بھی غیر پسندیدہ ہے البتہ اگر شہاب کی اضافت دین کی طرف کی جائے یعنی شہاب الدین نام رکھا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔
وعن أبي مسعود الأنصاري قال لأبي عبد الله أو قال أبو عبد الله لأبي مسعود ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في ( زعموا ) قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بئس مطية الرجل . رواه أبو داود وقال إن أبا عبد الله حذيفة
اور حضرت ابوسعید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ سے یا حضرت ابوعبداللہ نے حضرت ابومسعود انصاری ؓ سے دریافت کیا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو لفظ زعموا کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ لفظ مرد کی بری سواری ہے۔ ابوداؤد نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ ابوعبداللہ حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ کی کنیت ہے جو اونچے درجہ کے صحابہ میں سے ہیں۔
تشریح
زعموا زاء ل، میں زعم سے مشتق ہے، زعم، یا زعم، زاء کے پیش اور زیر کے ساتھ کے معنی تقریبا وہی ہیں جو ظن و گمان کے ہوتے ہیں جیسا کہ نہایہ میں لکھا ہے صراح میں یہ لکھا ہے کہ زعم کے معنی ہیں کہنا اور عام طور پر زعم کا اطلاق اس بات پر ہوتا ہے کہ جو غیر صحیح اور قابل اعتماد ہو اور قاموس میں لکھا ہے کہ، زعم، یا زعم، کے معنی قول کے ہیں اور اس کا اطلاق اکثر بےبنیاد اور جھوٹی بات پر ہوتا ہے۔ لفظ زعموا کے بارے میں علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ لوگوں کا جو یہ محمول ہے کہ جب انہیں کسی بےبنیاد بات کو بیان کرتا ہوتا ہے تو وہ یوں کہتے ہیں یا لکھتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں فلاں شخص کے متعلق یہ سنا گیا ہے اور یا لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ اور جھٹلائے جانے کے خوف سے کسی شخص کا نام لے کر تو کہا نہیں جاتا کہ یہ بات فلاں نے کہی ہے یا فلاں شخص نے بیان کیا ہے بلکہ لوگ کہتے ہیں یا بیان کیا جاتا ہے پردہ میں بےتحاشہ جھوٹ بولا جاتا ہے اور بلا تحقیق و بےبنیاد باتوں کو پھیلایا جاتا ہے چناچہ مذکورہ بالا دونوں صحابہ میں سے ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے پوچھا کہ آدمی جو لفظ زعمو یعنی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ذریعہ بےبنیاد اور غیر تحقیقی باتیں نقل کرتے ہیں تو کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ سے اس لفظ کے بارے میں سنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس لفظ تحقیق میں اس لفظ کے استعمال اور اس کے مفہوم کے بارے میں کیا فرماتے تھے؟ دوسرے صحابی نے جواب دیا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ لفظ بری سواری ہے۔ یعنی آپنے اس لفظ کو سواری کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جس طرح کوئی شخص سواری پر بیٹھ کر اپنی منزل مقصود تک پہنچتا ہے اسی طرح جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ کسی بےبنیاد اور غیر تحقیقی بات کو دوسروں کے سامنے نقل کرے اور پھیلائے تو وہ اپنی گفتگو اور اپنے قول کے شروع میں لفظ زعموا استعمال کرتا ہے اور اس لفظ کے ذریعہ اپنی غرض حاصل کرنا چاہتا ہے نیز آپ نے بری سواری کے ذریعہ اس امر کی طرف اشارہ فرمایا کہ لفظ زعموا کوئی اچھا آغاز کلام نہیں ہے کیونکہ اس لفظ کو بنیاد بنا کر جو بات کہی جاتی یا نقل کی جاتی ہے جو کوئی سند اور ثبوت نہ رکھے بلکہ ایک حکایت کے درجہ میں ہو اور برسبیل ظن و گمان زبان پر آئے۔ لہذا اس کا ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ نقل وبیان اور روایات و حکایات کے سلسلے میں پوری احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے کیونکہ وہ باتیں جن کا تعلق محض ظن و گمان سے ہوتا ہے عام طور پر غلط فہمی اور جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ و زعموا مطیہ الکذب لفظ زعموا جھوٹ کی سواری ہے۔ یا آنحضرت ﷺ کے مذکورہ ارشاد کا مقصد یہ ہدایت دینا ہے کہ کوئی شخص بلا تحقیق و یقین کسی کی طرف زعم و گمان یعنی دروغ گوئی کی نسبت نہ کرے ہاں اگر اس کو اس بات کا یقین ہو کہ فلاں شخص نے واقعتا دروغ گوئی کی ہے اور یہ کہ اس شخص کی دروغ گوئی کے نقصان و اثرات سے دوسروں کا بچانا ضروری ہے تاکہ کوئی دھوکا نہ کھائے تو اس مصلحت کے پیش نظر کسی کی طرف زعم و گمان کی نسبت کرنا جائز ہوگا جیسا کہ محدثین وغیرہ کرتے ہیں۔
مشیت میں اللہ اور غیر اللہ کو برابر قرار نہ دو
وعن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تقولوا ما شاء الله وشاء فلان ولكن قولوا ما شاء الله ثم شاء فلان . رواه أحمد وأبو داود وفي رواية منقطعا قال لا تقولوا ما شاء الله وشاء محمد وقولوا ما شاء الله وحده . رواه في شرح السنة
اور حضرت حذیفہ ؓ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اس طرح نہ کہو کہ وہی ہوگا جو اللہ چاہے اور فلاں شخص چاہے کیونکہ اس طرح کے کہنے کا مطلب، ارادہ و مشیت میں اللہ اور بندے کو برابر کا درجہ دینا ہے جب کہ کسی کام کا ہونا یا نہ ہونا صرف اللہ کی مشیت ومرضی پر منحصر ہوتا ہے البتہ ظاہری اسباب و وسائل کے پیش نظر انسان کی طرف ارادہ و مشیت کی نسبت کرنا ہی منظور ہو تو پھر یوں کہو کہ وہی ہوگا جو اللہ چاہے اور پھر فلاں چاہے یعنی اس صورت میں اللہ کی مشیبت مقدم ہونا اور بندے کی مشیت کا اس کے تابع ہونا مفہوم ہوگا جو صحیح ہے۔ (ابوداؤد، احمد)
تشریح
اور ایک روایت میں جس کا سلسلہ سند متصل نہیں ہے بطریق انقطاع یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں کہ آپ نے فرمایا یوں نہ کہو کہ وہی ہوگا جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں بلکہ اس طرح کہو کہ وہی ہوگا جو اللہ چاہے خواہ کوئی دوسرا چاہے یا نہ چاہے اس اعتبار سے اوپر کی روایت کہ جس میں ماشاء اللہ ثم شاء فلاں کہنے کا جواز ثابت ہوتا ہے اور اس روایت کے درمیان تضاد واقع نہیں ہوگا اس روایت کو بغوی نے شرح السنہ میں نقل کیا ہے۔
وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تقولوا للمنافق سيد فإنه إن يك سيدا فقد أسخطتم ربكم . رواه أبو داود
اور حضرت حذیفہ ؓ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کسی منافق کو سید نہ کہو یعنی سردار آقا نہ کہو کیونکہ اگر وہ سید ہو اور تم نے اس کو سید کہا تو تم نے اپنے پروردگار کو ناراض کیا۔ (ابوداؤد)
تشریح
عربی میں سید کے معنی ہیں سردار آقا۔ ظاہر ہے کہ کسی منافق کو یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا کہ اس کو کوئی مسلمان سردار آقا کہے بلکہ اگر کوئی منافق واقعتا سردار ہو بایں طور کہ وہ اپنی قوم کا سربراہ ہو یا کچھ لوگوں کا حاکم ہو اور غلام و باندی اور دوسرے اسباب کا مالک ہو تو اس کے باوجود وہ اس قابل نہیں سمجھا جائے گا کہ کوئی مسلمان اس کو سردار و آقا کہہ کر مخاطب کرے یا اس کو سید کہے اور اگر کوئی مسلمان اس کو سید و سردار و آقا کہے گا تو وہ اللہ کے غضب کا مستوجب ہوگا کیونکہ یہ لفظ سید تعظیم و احترام پر دلالت کرتا ہے اور وہ منافق مسلمانوں کی طرف سے کسی بھی تعظیم کا مستحق نہیں ہے اور اگر صورت یہ ہو کہ وہ واقعتا کسی بھی طرح کی سیادت و سرداری رکھتا ہی نہ ہو تو اس کو سید کہنا اور بھی برا ہوگا کیونکہ اس کے باوجود اس کو سید کہنے والا نہ صرف مذکورہ حکم کی خلاف و رزی بلکہ جھوٹ اور نفاق کا بھی مرتکب ہوگا۔ ظاہر تو یہ ہے کہ اس بارے میں کافر، گم کردہ راہ ہدایت اور علی الاعلان گناہ کا ارتکاب کرنے والے مسلمان بھی منافق کے حکم میں داخل ہوں لیکن حدیث میں خاص طور پر صرف منافق ہی کا ذکر ہے اس لئے کہا گیا ہے کہ منافق چونکہ بہر حال ظاہر طور پر مسلمان ہوتا ہے اس لئے عام مسلمانوں کا اس کی تعریف و خوشامند میں مبتلا ہونا زیادہ قریبی احتمال رکھتا ہے لہذا صرف منافق کا ذکر کر کے اس بات کی ممانعت فرمائی گئی کہ اس کو سید نہ کہو۔
عن عبد الحميد بن جبير بن شيبة قال جلست إلى سعيد بن المسيب فحدثني أن جده حزنا قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما اسمك ؟ قال اسمي حزن قال بل أنت سهل قال ما أنا بمغير اسما سمانيه أبي . قال ابن المسيب فما زالت فينا الحزونة بعد . رواه البخاري
حضرت عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سعد بن مسیب ؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ میرے دادا جن کا نام حزن تھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے انہوں نے کہا میرا نام حزن ہے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ حزن کوئی اچھا نام نہیں ہے بلکہ میں تمہارا نام سہل رکھتا ہوں میرے دادا نے کہا کہ میرے باپ نے جو میرا نام رکھا ہے اب میں اس کو بدل نہیں سکتا۔ حضرت سعید ؓ نے فرمایا کہ اس کے بعد سے اب تک ہمارے خاندان میں ہمیشہ سختی رہی۔ (بخاری، مسلم)
تشریح
حزن، سخت اور دشوار گزار زمین کو کہتے ہیں، سہل، حزن کی ضد ہے یعنی ملائم اور ہموار زمین جہاں آدمی کو آرام ملے۔ حضرت سعید ؓ کے دادا نے چونکہ آنحضرت ﷺ کے رکھے ہوئے نام کو اختیار نہیں کیا اس لئے اللہ نے اس انکار کی نحوست سے ان کے خاندان پر حزن کو مسلط کردیا کہ ان کے گھر والے ہمیشہ سختی حالات کا شکار رہنے لگے اور برابر ایک نہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوتے رہے۔ رہی یہ بات کہ حزن کو آنحضرت ﷺ کی بات کا انکار کرنے کی جرات کیوں ہوئی تو اول اس شیطان کا وسوسہ کہا جاسکتا ہے جس میں وہ مبتلا ہوگئے دوسرے یہ کہ مذکورہ واقعہ ابتداء ہجرت کا ہے جب کہ وہ نئے نئے ہجرت کر کے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور وہ اس وقت تعلیم و تربیت کے فقدان کی وجہ سے وہ صدق ایمان سلامتی طبع اور تہذیب و اخلاق سے مشرف نہ ہوئے لہذا اس پر شیطان کا داؤ کار گر ہوگیا اور وہ آنحضرت ﷺ کے تجویز کردہ نام کو اختیار نہ کرسکے۔
وعن أبي وهب الجشمي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تسموا أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن وأصدقها حارث وهمام أقبحها حرب ومرة . رواه أبو داود
اور حضرت ابو وہب چشمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء کے ناموں پر اپنے نام رکھو اور اللہ کے نزدیک بہترین نام عبداللہ اور عبدالرحمن اور اسی طرح عبدالرحیم، عبدالکریم ہیں نیز زیادہ سچے نام حارث، ہمام ہیں اور سب سے برے نام حرب اور مرہ ہیں۔ (ابوداؤد) تسریح انبیاء کے ناموں پر سے واضح ہوتا ہے کہ ملائکہ کے ناموں پر نام نہ رکھنے چاہئیں اسی طرح وہ نام بھی نہ رکھنے چائیں جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھے جیسے کلب، حمار، عبد شمس اور اسی طرح کے دوسرے نام۔ حارث کے معنی ہیں کسب و کمائی اور قصد کرنے والا۔ اسی طرح ہمام، ھم سے نکلا ہے جس کے معنی قصد و ارادہ کے ہیں ظاہر ہے کہ کوئی بھی شخص کب و کمائی اور قصد کا اراداہ کرنے سے خالی نہیں ہوتا اس لئے معنی و مفہوم اور واقعہ کے اعتبار سے ان ناموں کو زیادہ سچا فرمایا گیا ہے۔ حرب اور مرہ کو سب سے برے نام اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ حرب لڑائی اور جنگ کو کہتے ہیں اور جنگ بڑی خراب چیز ہے جس میں کشت و خون اور خسارہ و بربادی ہے اسی طرح مرہ تلخی کو کہتے ہیں جو طبیعت کو ناپسند ہوتی ہے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ابلیس کی کنیت ابومرہ ہے اور اس وجہ سے مرہ قبیح نام ہے۔