آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 7 of 15

4645Mishkaat-al-Masabih

چھینک کے وقت سلام

وعن هلال بن يساف قال كنا مع سالم بن عبيد فعطس رجل من القوم فقال السلام عليكم . فقال له سالم وعليك وعلى أمك . فكأن الرجل وجد في نفسه فقال أما إني لم أقل إلا ما قال النبي صلى الله عليه وسلم إذ عطس رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم فقال النبي صلى الله عليه وسلم عليك وعلى أمك إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله رب العالمين وليقل له من يرد عليه يرحمك الله وليقل يغفر لي ولكم رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت ہلال ابن یساف (تابعی) کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حضرت سالم بن عبید ؓ کے ساتھ تھے کہ جماعت میں سے ایک شخص کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ کے بجائے السلام علیکم کہا بایں گمان کے چھینک کے بعد الحمد للہ کے بجائے السلام علیکم کہنا بھی جائز ہے حضرت سالم ؓ نے اس شخص کے جواب میں کہا تم پر اور تمہاری ماں پر بھی سلام اس شخص نے گویا اپنے دل میں ان الفاظ (تمہاری ماں پر بھی سلام) کا برا مانا، حضرت سالم ؓ نے اس کی ناگواری کو محسوس کیا اور کہا اس ناگواری کی کیا بات ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے وہی الفاظ کہے ہیں جو آنحضرت ﷺ نے اس وقت ارشاد فرمائے تھے جب کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کے سامنے چھینکا تھا اور اس نے الحمد للہ کے بجائے السلام علیکم کہا تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ تم پر اور تمہاری ماں پر سلام۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اس کو چاہیے کہ الحمدللہ کہے اور جواب دینے والے کو چاہیے کہ یرحمک اللہ کہے اور پھر چھینکنے والے کو بطریق استحباب چاہیے کہ یغفرللہ لی ولکم یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری اور میری مغفرت فرمائے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ چھینک آنے پر الحمد للہ کے الفاظ کہنے چاہیے اس موقع پر حاضرین کو سلام کرنا نہ کوئی معنی رکھتا ہے اور نہ اس کی کوئی اصل ہے۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ یرحمک اللہ کہنے کے جواب میں چھینکنے والے یغفر اللہ لی ولکم کے ساتھ یھدیکم اللہ بھی کہنا اولی اور افضل ہے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر چھینکنے والا الحمد للہ کے بجائے کوئی اور الفاظ کہے تو وہ چھینک کے جواب کا مستحق نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس شخص کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ نہیں فرمایا البتہ اس شخص نے چونکہ آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا، رہی یہ بات کہ آپ نے سلام کے جواب میں وعلی امک اور تمہاری ماں پر بھی سلام کے الفاظ کیوں فرمائے تو دراصل آپ نے اس لفظ کے ذریعہ دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ایک تو یہ کہ اس موقع پر سلام کرنا بےمحل و بےموقع ہے اور یہ ایسا ہی جیسے کوئی شخص سلام تو تمہیں کرنا چاہے مگر یہ ہے یوں کہ تم پر اور تمہاری ماں پر سلام۔ دوسری بات یہ کہ کسی بھی لفظ و کلام کا بےمحل و بےموقع استعمال کرنا چاہیے اپنے آپ کو علم و تربیت اور مجلس کے آداب سے بےبہرہ ثابت کرنا ہے اور اس بات کا اظہار کرنا ہے کہ میں اس شخص کی طرح ہوں جو کسی مرد دانا کی تربیت سے محروم اور محض ماں کی غیر موزوں تربیت کا حامل ہو اور جس کے دل و دماغ پر زنانہ ماحول اور زنانہ طور طریقوں کا اثر ہو، نیز علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعہ گویا اس شخص کی نادانی کو ظاہر کیا گیا ہے جو اس میں ماں کے اوصاف کے سرایت کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی اسی اعتبار سے وہ اپنی ماں کے حق میں آنحضرت ﷺ کی دعا کا محتاج تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ تمہاری ماں پر بھی سلامتی ہو کہ اللہ اس کو عقل کی دولت سے نوازے اور نادانی کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔

4646Mishkaat-al-Masabih

لگاتار تین بار سے زائد چھینکنے والے کو جواب دینا ضروری نہیں ہے۔

وعن عبيد بن رفاعة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال شمت العاطس ثلاثا فإن زاد فشمته وإن شئت فلا . رواه أبو داود والترمذي وقال هذا حديث غريب .

اور حضرت عبید بن رفاعہ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ چھینکنے والے کی لگاتار تین چھینک تک جواب دیا جائے اور اگر کوئی تین بار سے زائد چھینکے تو اس صورت میں اختیار ہے کہ چاہے اس کو جواب دیا جائے اور چاہے نہ دیا جائے اس روایت کو امام ابوداؤد اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4647Mishkaat-al-Masabih

لگاتار تین بار سے زائد چھینکنے والے کو جواب دینا ضروری نہیں ہے۔

وعن أبي هريرة قال شمت أخاك ثلاثا فإن زاد فهو زكام . رواه أبو داود وقال لا أعلمه إلا أنه رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ تم اپنے مسلمان بھائی کی چھینک کا تین بار تک جواب دو اگر وہ اس سے زائد چھینکے تو سمجھو کہ اس کو زکام ہوگیا ہے اس روایت کو ابوداؤد اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس حدیث کو آنحضرت ﷺ تک پہنچایا ہے۔ تشریح امام ابوداؤد کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کا اپنا قول نہیں ہے بلکہ یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جس کو ابوہریرہ ؓ نے نقل کیا ہے اور اگر اس روایت کو حدیث موقوف یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول کہا جائے تو بھی یہ روایت حدیث مرفوع یعنی آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کے حکم میں ہوگی کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ تین کے عدد کا تعین شارع (علیہ السلام) سے سنے بغیر نہیں کرسکتے۔

4648Mishkaat-al-Masabih

چھینک آنے پر الحمد کے ساتھ صلوۃ وسلام کے الفاظ غیر مستحب ہے۔

عن نافع أن رجلا عطس إلى جنب ابن عمر فقال الحمد لله والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابن عمر وأنا أقول الحمد لله والسلام على رسول الله وليس هكذا . علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نقول الحمد لله على كل حال . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب .

اور حضرت نافع (تابعی) کہتے ہیں کہ ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کے برابر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے چھینکا اور پھر کہا الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ۔ حضرت ابن عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں بھی کہتا ہوں الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ، لیکن یوں ہے نہیں (یعنی نہ تو اس کا حکم دیا گیا اور نہ یہ مستحب اور آداب میں سے ہے کہ چھینک آنے پر الحمد للہ کے ساتھ سلام کے الفاظ ملائیں جائیں بلکہ اصل ادب اور حکم نبوی کے اتباع کا تقاضہ یہی ہے کہ چھینک آنے پر ہم بلا کسی کمی و زیادتی کے وہی کہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم یوں کہیں الحمدللہ علی کل حال یعنی ہر حال میں اللہ کی تعریف ہے۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4649Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی ہنسی

عن عائشةرضي الله عنها قالت ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم مستجمعا ضاحكا حتى أرى منه لهواته إنما كان يتبسم . رواه البخاري . ( متفق عليه )

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو اتنا زیادہ ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کا منہ کھل گیا ہو اور مجھے آپ کے تالو یا حلق کا کوا یا مسوڑھا نظر آیا ہو بلکہ اکثر و بیشتر آپ کا ہنسنا مسکرانے کی حد تک رہتا تھا۔ (بخاری)

4650Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی ہنسی

وعن جرير قال ما حجبني النبي صلى الله عليه وسلم منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم . متفق عليه .

اور حضرت جریر ؓ کہتے ہی کہ جب سے میں مسلمان ہوا ہوں آنحضرت ﷺ نے کبھی مجھ کو منع نہیں کیا کہ اور جب آپ مجھ کو دیکھتے مسکرا دیتے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مجھ کو منع نہیں کیا سے مراد یہ ہے کہ آپ نے کبھی بھی مجھ کو اپنے پاس آنے سے نہیں روکا میں جس وقت چاہتا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا چاہے کوئی خصوصی مجلس ہی کیوں نہ ہوتی بشرطیکہ مردا نہ مجلس ہوتی یا یہ مراد ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے آپ سے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو میں نے آنحضرت ﷺ سے جب مانگا اور جو کچھ بھی مانگا وہ مجھ کو عطا ہوا۔

4651Mishkaat-al-Masabih

صحابہ کی زبان سے زمانہ جاہلیت کی باتیں سن کر آنحضرت ﷺ کا مسکرانا

وعن جابر بن سمرة قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقوم من مصلاه الذي يصلي فيه الصبح حتى تطلع الشمس فإذا طلعت الشمس قام وكانوا يتحدثون فيأخذون في أمر الجاهلية فيضحكون ويبتسم صلى الله عليه وسلم . رواه مسلم . وفي رواية للترمذي يتناشدون الشعر .

اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ جس مصلے پر فجر کی نماز پڑھتے وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج اچھی طرح نہ نکل آتا جب سورج نکل آتا اور خاصا بلند ہوجاتا آپ اشراق کی نماز پڑھنے یا گھر میں تشریف لے جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے اس دوران صحابہ بطریق استہزاء مذمت زمانہ جاہلیت کی باتیں کرتے رہتے اور ہنسا کرتے ان کے ساتھ آنحضرت ﷺ بھی مسکراتے رہتے (مسلم) ترمذی کی روایات میں یوں ہے کہ اس دوران صحابہ کرام اشعار پڑھنے سننے میں لگے رہتے۔ تشریح اشعار سے مراد وہ اشعار ہیں جو بیان تو حید، منقبت رسالت اور ترغیب و ترہیب کے مضامین پر مشتمل ہوتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ جاہلیت کی باتیں کرنا اور ان پر ہنسنا جائز ہے۔

4652Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ بہت مسکراتے تھے۔

عن عبد الله بن الحارث بن جزء قال ما رأيت أحدا أكثر تبسما من رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه الترمذي

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے زیادہ کسی اور شخص کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ (ترمذی)

4653Mishkaat-al-Masabih

صحابہ کے ہنسنے کا ذکر۔

عن قتادة قال سئل ابن عمر هل كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحكون ؟ قال نعم والإيمان في قلوبهم أعظم من الجبل . وقال بلال بن سعد أدركتهم يشتدون بين الأغراض ويضحك بعضهم إلى بعض فإذا كان الليل كانوا رهبانا . رواه في شرح السنة

حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ کے صحابہ ہنسا کرتے تھے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ہاں، حالانکہ ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی بڑا ایمان تھا اور حضرت بلال ابن سعد تابعی کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کو اس حال میں پایا کہ وہ دن میں تیر اندازی کی مشق کے وقت تیر کے نشانوں کے درمیان دوڑا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے مگر جب رات آتی تو وہ اللہ سے بہت ڈرنے والے ہوجاتے۔ (شرح السنہ) تشریح حالانکہ ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی بڑا ایمان تھا کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب ہنسنے مسکرانے کا موقع ہوتا تو وہ ہنسا کرتے تھے لیکن اس طرح نہیں ہنستے تھے جیسے اہل غفلت اور دنیا دار لوگ ہنستے ہیں کیوں کہ ایسی ہنسی جو حد سے بڑھی ہوئی ہو دل کو غافل کردیتی ہے اور نور ایمان میں خلل ڈالتی ہے چناچہ صحابہ ہنسنے کی حالت میں شرعی آداب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے اور اپنے ایمان کو کامل درجہ پر باقی رکھتے تھے۔ تو وہ اللہ سے بہت زیادہ ڈرنے والے ہوجاتے کا مطلب یہ ہے کہ جب رات آتی تو صحابہ دنیا کے سارے کام کاج اور آرام و اراحت چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوجاتے اور خوف الٰہی کے غلبہ سے روتے گڑا گڑاتے اور مناجات والتجا میں مصروف رہتے۔

4654Mishkaat-al-Masabih

اسماء کا بیان

اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے ناموں کے احکام واضح ہوں گے اور یہ معلوم ہوگا کہ کس طرح کے نام رکھنے چاہییں کون سے نام اچھے ہیں اور کون سے نام برے ہیں۔

4655Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی کنیت پر اپنی کنیت مقرر نہ کرو

عن أنس قال كان النبي صلى الله عليه وسلم في السوق فقال رجل يا أبا القاسم فالتفت إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال إنما دعوت هذا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي . متفق عليه . ( متفق عليه )

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ بازار میں تھے کہ ایک شخص نے کسی کو ابوالقاسم کہہ کر پکارا، آپ نے پلٹ کر اس شخص کی طرف دیکھا اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا بلکہ اس شخص کو آواز دی تھی اور یہ کہہ کر ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو وہاں موجود تھا آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم میرے نام پر نام رکھ لو لیکن میری کنیت پر کنیت مقرر نہ کرو۔

4656Mishkaat-al-Masabih

نبی کی کنیت پر اپنی کنیت مقرر نہ کرو

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي فإني إنما جعلت قاسما أقسم بينكم متفق عليه .

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت پر کنیت مقرر نہ کرو کیونکہ مجھ کو قاسم قرار دیا گیا ہے اور میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں (بخاری، مسلم) تشریح کنیت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی ذات کی نسبت باپ یا بیٹے کی طرف کر کے اپنے کو مشہور و متعارف کرائے جیسے ابن فلاں، یا ابوفلاں، یعنی فلاں کا بیٹا فلاں کا باپ وغیرہ، یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کنیت اس نام کو کہتے ہیں جو باپ، بیٹا، یا بیٹی، ماں کے تعلق سے بولا جائے۔ اور میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ مجھ کو جو علم اور حکمت دینی احکام و مسائل اور دنیاوی دولت جیسے مال غنیمت وغیرہ عطا کرتا ہے اس کو میں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرتا ہوں بعض حضرات کے نزدیک یہ تقسیم کرتا ہوں سے مراد یہ ہے کہ میں اللہ کے نیک بندوں کو جنت اور دوسری نعمتوں کی بشارت و خوش خبری دیتا ہوں اور بدکار لوگوں کو دوزخ وغیرہ سے ڈراتا ہوں لہذا یہ صفت چونکہ تمہارے اندر موجود نہیں ہے اور تم اس مقام پر فائز نہیں ہو اس لئے تم میری کنیت کو اختیار کرنے کے مجاز نہیں البتہ اپنا نام یا اپنی اولاد کا نام لفظ اور صورۃ میرے نام رکھ سکتے ہو، حاصل یہ ہے کہ میں محض اس سب سے ابوالقاسم نہیں ہوں کہ میرے بیٹے کا نام قاسم ہے بلکہ مجھ میں قاسمیت کے معنی کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے، بایں اعتبار کہ مجھ کو دینی و دنیاوی امور دولت کا تقسیم کنندہ قرار دیا گیا ہے لہذا جب میں نہ تو ذات کے اعتبار سے اور نہ صفات کے اعتبار سے تم میں سے کسی بھی شخص کی مانند ہوں تو تم کو میری کنیت پر اپنی کنیت مقرر نہ کرنی چاہے۔ واضح رہے کہ اس صورت میں ابو کے معنی باپ کے نہیں ہوں گے بلکہ اس وصف کے مالک ہوں گے جیسا کہ کسی شخص کو ابوالفضل کہا جائے درآنحالیکہ اس کے بیٹے کا نام فضل نہ ہو۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی کنیت پر مقرر کرنے کی ممانعت کا تعلق خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے تھا تاکہ تخاطب کے وقت ذات نبوی اور دوسرے لوگوں کے درمیان اشتباہ کی صورت پیدا نہ ہو جیسا کہ ملا علی قاری نے لکھا ہے یہی قول صحیح ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ان دونوں حدیثوں سے واضح ہوتا ہے کہ محمد نام رکھنا تو جائز ہے لیکن ابوالقاسم کنیت مقرر کرنا جائز نہیں خواہ یہ صورت ہو کہ جس شخص کا نام محمد ہو وہ ابوالقاسم کو اپنی کنیت قرار دینا چاہے اور خواہ یہ صورت ہو کہ نام کچھ اور ہو اور محض کنیت ابوالقاسم کرنا چاہے، حاصل یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ابوالقاسم کو اپنی کنیت قرار دے خواہ اس کا نام محمد ہو یا کچھ اور ہو چناچہ حضرت امام شافعی اور اصحاب ظواہر کا یہی قول ہے اور وہ انہیں حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں دوسرا قول محمد شیبانی کا ہے اور وہ یہ ہے کہ نام اور کنیت کو ایک ساتھ جمع کرنا درست نہیں ہے یعنی جس کا نام محمد ہو وہ اپنی کنیت ابوالقاسم نہ رکھے البتہ جس کا نام محمد نہ ہو اس کو صرف ابوالقاسم کہنا کہلانا جائز ہے ان کے نزدیک ان دونوں حدیثوں کا مطلب یہی ہے کہ کوئی شخص اپنی ذات کے لئے اس نام و کنیت کو ایک ساتھ اختیار نہ کرے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرنا بھی جائز ہے یعنی جس شخص کا نام محمد ہو وہ بھی اپنی کنیت ابوالقاسم رکھ سکتا ہے اس قول کی نسبت حضرت امام مالک کی طرف کی جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ جن احادیث میں اس کی ممانعت منقول ہے وہ منسوخ ہیں چناچہ ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ اس ممانعت کا تعلق آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک سے تھا آپ کے بعد یہ جائز ہے اس جماعت کی دلیل حضرت علی ؓ کی یہ حدیث ہے کہ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کیا کہ اگر آپ کے بعد میرے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو تو میں اس کا نام اور کنیت آپ کے نام و کنیت کی طرح رکھ لوں گا تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرمائی، چناچہ حضرت محمد بن الحنفیہ جو آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد پیدا ہوئے تھے حضرت علی ؓ نے ان کی کنیت ابوالقاسم رکھی، ایک جماعت کہ جس کا قول ناقابل اعتماد ہے یہ کہتی ہے کہ کسی شخص کو نبی کا نام رکھنا بھی جائز نہیں ہے۔ مذکورہ بالا تمام اقوال کی روشنی میں جو قول سب سے صحیح اور حنفی مسلک کے مطابق ہے وہ یہ ہے کہ نبی کا نام رکھنا تو جائز بلکہ مستحب ہے لیکن نبی کی کنیت پر اپنی کنیت رکھنا اگرچہ اس کا تعلق نبی کے بعد سے ہو، ممنوع ہے اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ ممنوع تر تھا اسی طرح نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنا بطریق اولی ممنوع ہوگا جہاں تک حضرت علی ؓ کے بارے میں مذکور بالا روایت کا تعلق ہے تو وہ ان کے ساتھ ایک مخصوص معاملہ تھا جیسا کہ حدیث کے سیاق سے واضح ہوتا ہے لہذا ان کے علاوہ کسی اور کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی کنیت پر اپنی کنیت رکھے اس کی تائید ابن عساکر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو جمع الجوامع میں حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ ایک دن اسی مسئلہ پر حضرت علی ؓ اور حضرت طلحہ ؓ کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی تو حضرت طلحہ ؓ نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ آپ نے اپنے لڑکے کا آنحضرت ﷺ کے نام پر محمد رکھا ہے اور اس کی کنیت بھی آنحضرت ﷺ کی کنیت پر ابوالقاسم رکھی ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ نے کسی ایک شخص کے لئے ان دونوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے حضرت علی ؓ نے قریشی صحابہ کو بلوایا ان سب نے حاضر ہو کر گواہی دی کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخصوص طور پر اس بات کی اجازت دیدی تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بعد اپنے ہونے والے بچے کا نام و کنیت آپ کے نام و کنیت پر رکھ لیں۔

4657Mishkaat-al-Masabih

عبداللہ اور عبدالرحمن سب سے بہتر نام ہیں۔

وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أحب أسمائكم إلى الله عبد الله وعبد الرحمن رواه مسلم .

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل کے نزدیک تمہارے ناموں میں سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔ (مسلم) تشریح بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس ارشاد گرامی سے مراد ہے کہ یہ دونوں نام عبداللہ اور عبدالرحمن انبیاء کے ناموں کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں اس اعتبار سے کہا جائے گا یہ دونوں نام اسم محمد سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہیں بلکہ پسندیدگی میں ان دونوں کا درجہ تو اسم محمد کے درجہ سے کم ہے یا برابر ہے۔

4658Mishkaat-al-Masabih

چند ممنوع نام

وعن سمرة بن جندب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تسمين غلاما يسارا ولا رباحا ولانجيحا ولا أفلح فإنك تقول أثم هو ؟ فلا يكون فيقول لا رواه مسلم . وفي رواية له قال لا تسم غلاما رباحا ولا يسارا ولا أفلح ولا نافعا

اور حضرت سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح نہ رکھو کیوں کہ اگر کسی وقت تم نے کسی شخص سے پوچھا کہ کیا وہ (مثلا) یسار یا رباح یہاں ہے اور فرض کرو وہ وہاں نہ ہوا تو جواب دینے والا کہے گا کہ وہ یعنی یسار یا رباح یہاں نہیں ہے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا اپنے غلام کا نام، رباح، یسار افلح اور نافع نہ رکھو۔ تشریح یسار، یسیر سے ہے کہ جس کے معنی فراخی اور تونگری کے ہیں، رباح، ربح سے ہے جس کے معنی فائدہ اور نفع کے ہیں نجیح نجح سے ہے جس کے معنی فتح مندی یا مطلب یابی کے ہیں، افلح، فلاح سے ہے جس کے معنی کامیابی و نجات کے ہیں اور نافع نفع سے ہے جس کے معنی فائدہ کے ہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے نام رکھنے ممنوع ہیں کیونکہ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے یسار نام رکھا اور کسی وقت گھر والوں سے پوچھا کہ یہاں یسار ہے؟ گھر والوں نے جواب دیا کہ گھر میں یسار نہیں ہے تو اگرچہ اس صورت میں متعین ذات مراد ہوگی مگر لفظ یسار کے حقیقی معنی کے اعتبار سے مفہوم یہ ہوگا کہ گھر میں فراخی و تونگری نہیں ہے اور اس طرح کہنا برائی کی بات ہے اس پر دوسرے مذکورہ بالا الفاظ کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ مسلم کی روایت میں نجیح کے بجائے نافع کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ ممانعت کا تعلق محض انہی ناموں سے نہیں ہے بلکہ اور دوسرے نام بھی جو ان الفاظ کے معنی میں ہوں یہی حکم رکھتے ہیں۔ امام نووی فرماتے ہیں ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس طرح کے نام رکھنے مکروہ تنزیہی ہیں نہ کہ مکروہ تحریمی۔

4659Mishkaat-al-Masabih

چند ممنوع نام

وعن جابر قال أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن ينهي عن أن يسمى بيعلى وببركة وبأفلح وبيسار وبنافع وبنحو ذلك . ثم سكت بعد عنها ثم قبض ولم ينه عن ذلك . رواه مسلم .

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ارادہ فرمایا تھا کہ یعلی، برکت، افلح، یسار، نافع اور اس طرح کے دورے نام رکھنے سے لوگوں کو منع فرما دیں لیکن پھر میں نے دیکھا کہ اس ارادہ کے بعد آپ نے سکوت فرمایا یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور ان ناموں کے رکھنے سے منع نہیں فرمایا۔ (مسلم) تشریح اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا طرح کے نام رکھنے کی ممانعت نافذ نہیں ہوئی ہے جب کہ پچھلی حدیث ممانعت کے نفاذ پر واضح طور سے دلالت کرتی ہے اس تضاد کو دور کرنے کے لئے یحییٰ کہتے ہیں کہ گویا حضرت جابر ؓ نے ممانعت کی علامتوں کو دیکھا اور وہ چیز سنی جو ممانعت کی طرف اشارہ کرتی ہے چونکہ انہوں نے ممانعت کا حکم صریح طور سے نہیں سنا تھا اس لئے اس مسئلہ کو انہوں نے مذکورہ اسلوب میں بیان کیا لیکن یہ ممانعت چونکہ حدیث صحیح سے ثابت ہوئی ہے اس لئے یہی کہا جائے گا کہ ممانعت ثابت ہے علاوہ ازیں ملا علی قاری کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس تضاد دور کرنے کے لئے ایک اور تاویل ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے ارادہ کا تعلق دراصل اس ممانعت کو نہی تحریمی کے طور پر نافذ کرنے سے تھا کہ ناموں کا مسئلہ ایسا ہے جس کی طرف لوگ زیادہ توجہ نہیں دیں گے اور اچھے و برے ناموں میں فرق و امتیاز کرنے کے پابند نہیں ہوں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے امت کے لوگ دینی نقصان میں مبتلا ہوں گے لہذا کہا جائے گا کہ جس روایت سے ممانعت کا عدم نفاذ ثابت ہوتا ہے اس کا تعلق نہی تحریمی سے ہے اور حقیقت میں مسئلہ بھی یہی ہے کہ مذکورہ طرح کے نام رکھنا مکروہ تنزیہی ہے مکروہ تحریمی نہیں ہے۔

4660Mishkaat-al-Masabih

شہنشاہ کا نام ولقب اختیار نہ کرو

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل يسمى ملك الأملاك . رواه البخاري . وفي رواية لمسلم قال أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه رجل كان يسمى ملك الأملاك لا ملك إلا لله .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جس کو شہنشاہ کا نام دیا جائے۔ (بخاری) اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین اور سب سے بدتر وہ شخص ہوگا جس کو شہنشاہ کا نام دیا جائے یاد رکھو اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی بادشاہ نہیں ہے چہ جائے کہ کسی کو شہنشاہ یعنی بادشاہوں کا بادشاہ کہا جائے اور صف شہنشاہیت ایک ایسا وصف ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے کہ اس وصف میں کسی مخلوق کے شریک ہونے کا وہم و گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔

4661Mishkaat-al-Masabih

ایسا نام نہ رکھو جس سے نفس کی تعریف ظاہر ہو

وعن زينب بنت أبي سلمة قالت سميت برة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تزكوا أنفسكم الله أعلم بأهل البر منكم سموها زينب . رواه مسلم .

اور حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میرا نام برہ یعنی نیکو کار رکھا گیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے نفس کی تعریف نہ کرو تم میں جو شخص نیکو کار ہے اس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اس بچی کا نام زینب رکھو۔ مسلم۔ تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسا نام نہ رکھنا چاہیے جس کے لفظی مفہوم سے نفس کی تعریف ظاہر ہو کیونکہ اس کی وجہ سے نفس میں بڑائی پیدا ہوجاتی ہے۔

4662Mishkaat-al-Masabih

ایسا نام نہ رکھو جس سے نفس کی تعریف ظاہر ہو

وعن ابن عباس قال كانت جويرية اسمها برة فحول رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمها جويرية وكان يكره أن يقال خرج من عند برة . رواه مسلم .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ حضرت جویریہ ؓ کا نام برہ تھا لیکن رسول اکرم ﷺ نے ان کا یہ نام بدل کر جویریہ رکھ دیا کیونکہ آنحضرت ﷺ کو یہ پسند نہیں تھا کہ کوئی شخص یوں کہے کہ آپ برہ کے پاس سے نکلے۔ مسلم تشریح برہ کے معنی نیکو کار کے ہیں لہذا آپ نے اس لفظ کے اصل معنی کے اعتبار سے اس کو پسند نہیں کیا کہ جب برہ کے گھر سے نکلیں یوں کہا جائے کہ آپ برہ یعنی نیکو کار کے پاس سے نکلے کیونکہ نیکو کار کے پاس سے نکلنا کوئی اچھی بات نہیں سمجھی جاتی، وکان یکرہ کے بارے میں بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اپنی مذکورہ ناپسندیدگی کے بارے میں خود آنحضرت ﷺ نے اپنے متعلق ان الفاظ کے ذریعہ خبر دی ہوگی۔ واضح رہے کہ اس حدیث میں برہ یا اس طرح کا کوئی اور نام رکھنے کی ممانعت کا سبب مذکورہ ناپسندیدگی کو قرار دیا گیا ہے جب کہ حضرت زینب ؓ کے بارے میں اس ممانعت کا سبب تزکیہ نفس کی تعریف کو قرار دیا گیا ہے لیکن ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ اسباب کے درمیان کوئی مزاحمت نہیں ہوا کرتی ایک چیز کے دو مختلف سبب ہوسکتے ہیں چناچہ جن دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ دونوں مذکورہ ممانعت کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں علاوہ ازیں ہوسکتا ہے کہ زینب ؓ کے خاندان و قبیلہ کے لوگوں سے معلوم کرنے کے بعد یہ واضح ہوا ہوگا کہ انہوں نے زینب ؓ کا نام برہ واقعۃ ان کے نفس کی تعریف اور مدح وثناء کے قصد سے رکھا تھا جب کہ حضرت جویریہ ؓ کے حق میں اس ممانعت کا سبب آنحضرت ﷺ کے برہ کے پاس سے نکلے کہے جانے کی ناپسندیدگی کو قرار دیا اور یہ بات تھی بھی کہ ازواج مطہرات کے پاس آنحضرت ﷺ کے جانے آنے کے بارے میں عام طور پر اسی طرح کہا جاتا تھا کہ آنحضرت ﷺ فلاں زوجہ مطہرہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں یا آنحضرت ﷺ فلاں زوجہ مطہرہ کے ہاں سے نکلے ہیں نیز اس احتمال کو بھی ملحوظ رکھا جاسکتا ہے کہ جس طرح یسار اور نجیح وغیرہ جیسے ناموں کی ممانعت کے سلسلے میں بد فالی کا اعتبار کیا گیا ہے اس طرح برہ کے سلسلے میں بھی اس کا اعتبار ہو اور جس طرح برہ کے سلسلے میں تزکیہ و کراہت کا اعتبار کیا گیا ہے اسی طرح یسار اور نجیح وغیرہ کے سلسلہ میں اس کا اعتبار ہو۔

4663Mishkaat-al-Masabih

برے نام کو بدل دینا مستحب ہے۔

وعن ابن عمر أن بنتا كانت لعمر يقال لها عاصية فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کی ایک بیٹی تھی جس کا نام عاصیہ بمعنی گناہگار کہا جاتا تھا چناچہ رسول اکرم ﷺ نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔ (مسلم) تشریح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کا نام عاصی یا عاصیہ رکھتے تھے اس کے لفظی معنی نافرمان، سرکش، متکبر اور اللہ اور اس کے دین کا مخالف ہیں چناچہ زمانہ اسلام کے ظہور کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس طرح کے نام رکھنے کو ناپسند فرمایا اور جس کسی کا نام عاصیہ یا عاصی تھا اس کو بدل کر دوسرا نام رکھ دیا اس سے معلوم ہوا کہ برے ناموں کو بدل دینا مستحب ہے۔

4664Mishkaat-al-Masabih

برے نام کو بدل دینا مستحب ہے۔

وعن سهل بن سعد قال أتي بالمنذر بن أبي أسيد إلى النبي صلى الله عليه وسلم حين ولد فوضعه على فخذه فقال وما اسمه ؟ قال فلان لاولكن اسمه المنذر . متفق عليه

اور حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ منذر بن ابی اسید جب پیدا ہوئے تو ان کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لایا گیا آپ نے ان کو اپنی ران مبارک پر رکھا اور پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے؟ لانے والے نے بتایا کہ فلاں نام ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ نام اچھا نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے۔ (بخاری، مسلم) تشریح فلاں نام ہے یعنی ماں باپ یا خاندان والوں نے جو لکھا تھا لانے والے اس کو بیان کیا چونکہ راوی کو وہ نام معلوم نہیں تھا اس لئے انہوں نے اس طرح نقل کیا ہے۔ منذر اصل میں انذار سے مشتق ہے جس کے معنی تبلیغ احکام اور عذاب الٰہی سے ڈرانے والے کے ہیں۔