آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 6 of 15

4625Mishkaat-al-Masabih

بغیر دیوار کی چھت پر سونا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

وعن جابر قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينام الرجل على سطح ليس بمحجور عليه . رواه الترمذي .

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے اس کوٹھے پر سونے سے منع فرمایا ہے جس پر پردہ کی دیوار نہ ہو۔ ترمذی)

4626Mishkaat-al-Masabih

حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت

وعن حذيفة قال ملعون على لسان محمد صلى الله عليه وسلم من قعد وسط الحلقة . رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کی زبان مبارک کے ذریعہ اس شخص کو ملعون قرار دیا گیا ہے جو حلقہ کے درمیان بیٹھے۔ تشریح اس حدیث کے محمول کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور مختلف اقول ہیں ایک تو یہ کہ مثلا کسی جگہ لوگ حلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور بجائے اس کے وہ جہاں جگہ دیکھتا وہیں بیٹھ جاتا لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا درمیان میں جا کر بیٹھ جائے چناچہ ایسے شخص کو ملعون کہا گیا ہے دوسرے یہ کہ کوئی شخص کچھ لوگوں کے حلقہ کے درمیان اس طرح بیٹھ گیا کہ ان میں سے بعضوں کے چہرے ایک دوسرے سے چھپ گئے اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کے چہرے نہ دیکھ سکنے سے اور اپنے درمیان خلل پڑجانے کی وجہ سے اس شخص کو تکلیف و ضرر کا باعث محسوس کیا لہذا ایسا شخص مذکورہ حدیث کا محمول ہے اور تیسرے یہ کہ اس حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے جو مسخرا پن کرنے لئے حلقہ کے بیچ میں جا کر بیٹھ جائے تاکہ لوگوں کو ہنسائے۔

4627Mishkaat-al-Masabih

مجلس ایسی جگہ منعقدہ کرنی چاہیے جو فراخ وکشادہ ہو

وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير المجالس أوسعها . رواه أبو داود .

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ و فراخ جگہ میں منعقد کی جائے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مجلس وعظ و نصیحت منعقد کرنی ہو یا کسی بھی مباح تقریب کے موقع پر کسی جگہ لوگوں کو جمع کرنا ہو تو اس مقصد کے لئے ایسی جگہ اختیار کرنی چاہیے جو کشادہ و فراخ ہو تاکہ لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو اور وہ تکلیف میں مبتلا نہ ہوں۔

4628Mishkaat-al-Masabih

مجلس میں الگ الگ نہ بیٹھو۔

وعن جابر بن سمرة قال جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه جلوس فقال ما لي أراكم عزين ؟ . رواه أبو داود .

اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ گھر سے باہر نکل کر تشریف لائے جب کہ مسجد نبوی میں آپ کے صحابہ ادھر ادھر بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ان کو اس طرح بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میں تم لوگوں کو متفرق و منتشر بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ (ابوداؤد) تشریح عزین اصل میں عزۃ کی جمع ہے جس کے معنی لوگوں کے جماعت کے ہیں لہذا آنحضرت ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ صحابہ کی ایک جماعت اس طرف بیٹھی ہوئی ہے تو دوسری جماعت اس طرف کچھ لوگ اس کونے میں بیٹھے ہوئے ہیں تو کچھ لوگ اس کونے میں تو چوں کی الگ الگ گروہوں میں بیٹھنا اور علیحدہ علیحدہ مجلسیں قائم کرنا آپس میں وحشت و بیگانگی کو فروغ دینے اور ایک دوسرے سے علیحدگی و جدائی اختیار کرنے کا موجب ہوتا ہے اس لئے آپ نے مذکورہ ارشاد گرامی کے ذریعہ اس طرح متفرق و منتشر طور پر بیٹھنے کو ناپسند فرمایا اور متحدہ و مجتمع ہو کر بیٹھنے کی طرف راغب کیا کیونکہ ایک جگہ جمع ہو کر بیٹھنا دراصل باہمی یگانگت و اتحاد اور ایک دوسرے سے تعلق موانست کی علامت ہے۔ حاصل یہ کہ اگر کسی جگہ مسلمان جمع ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ علیحدہ علیحدہ جماعتیں بنا کر نہ بیٹھیں بلکہ سب لوگ ایک جگہ حلقہ بنا کر یا صف بندی کے ساتھ بیٹھیں۔

4629Mishkaat-al-Masabih

اس طرح نہ لیٹو کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں رہے اور کچھ سایہ میں

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا كان أحدكم في الفيء فقلص الظل فصار بعضه في الشمس وبعضه في الظل فليقم . رواه أبو داود . وفي شرح السنة عنه . قال وإذا كان أحدكم في الفيء فقلص عنه فليقم فإنه مجلس الشيطان . هكذا رواه معمر موقوفا .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سایہ میں بیٹھا ہو اور پھر وہ سایہ ختم ہو رہا ہو بایں طور کہ اس سایہ کی جگہ دھوپ آجانے کی وجہ سے اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ حصہ سایہ میں ہو تو اس کو چاہیے کہ وہاں سے اٹھ جائے اور ایسی جگہ جا کر بیٹھ جائے جو پوری طرح سایہ میں یا پوری طرح دھوپ میں کیونکہ جب کوئی شخص ایسی جگہ بیٹھا رہتا لیٹتا ہے کہ کچھ دھوپ میں ہو اور کچھ سایہ میں، تو اس کے جسم پر ایک ہی وقت میں دو متضاد چیزوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے اس کا مزاج بھی فساد و اختلال کا شکار ہوجاتا ہے۔ (ابوداؤد) اور شرح السنہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا تم میں سے جو شخص سایہ میں بیٹھا ہو اور پھر وہ سایہ ختم ہو رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ وہاں سے اٹھ جائے کیوں کہ ایسی جگہ کہ کچھ سایہ میں ہو اور کچھ دھوپ میں، شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے اسی طرح جیسا کہ شرح السنۃ میں ہے معمر نے بھی اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے بطریق موقوف نقل کیا ہے۔ تشریح حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے آنحضرت کا ارشاد گرامی نہیں ہے لیکن واضح رہے کہ یہ موقوف حکم کے اعتبار سے مرفوع حدیث کے ہی درجہ میں ہے کیونکہ دین کی جو بات اجتہاد قیاس کے ذریعہ ثابت ہونے والی نہیں ہوتی اور اس کو کوئی صحابی اپنے قول کے طور پر نقل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس صحابی نے وہ بات آنحضرت ﷺ سے ضرور سنی ہے ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صحابی دین کی کوئی ایسی بات نقل کرے جو اجتہاد قیاس سے باہر اور اس بات کو اس نے آنحضرت ﷺ سے نہ سنا ہو۔ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے کہ بارے میں بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ یہ عبارت اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے یعنی واقعۃ ایسا ہوتا ہے کہ شیطان اس جگہ بیٹھتا ہے جس کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ حصہ سایہ میں ہوتا ہے اس اعتبار سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کچھ سایہ اور کچھ دھوپ میں بیٹھنا شیطان کا کام ہے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ایسی جگہ کی نسبت شیطان کی طرف اس اعتبار سے کی گئی ہے کہ شیطان جس شیطان کو پریشان کرنا چاہتا ہے اس کو ایسی جگہ پر بیٹھنے یا لیٹنے کی طرف راغب کرتا ہے اور گویا اس جگہ پر کسی شخص کے بیٹھنے یا لیٹنے کا سبب شیطان بنتا ہے اور اس سے شیطان اپنے مقصد کہ وہ شخص تکلیف و دکھ میں مبتلا ہو کامیاب ہوجاتا ہے لہذا معلوم ہوا کہ شیطان جس طرح انسان کے دین کا دشمن ہے اسی طرح اس کے بدن کا بھی بدخواہ ہے۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ کسی ایسی جگہ بھی بیٹھنا یا لیٹنا مکروہ ہے جو پوری طرح دھوپ میں ہو اگرچہ اس صورت میں ممانعت و کراہت کا سبب یہ نہیں ہوگا کہ ایسی جگہ شیطان کی نشست گاہ ہوتی ہے بلکہ یہ اس لئے ممنوع ہوگا کہ کہ پوری طرح دھوپ میں بیٹھنا گویا اپنے آپ کو تعب و مشقت اور تکلیف میں ڈالنا ہے اور اگر جاڑے موسم ہو تو پھر دھوپ میں بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔

4630Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کو راستوں کے کناروں پر چلنے کا حکم

وعن أبي أسيد الأنصاري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق فقال النساء استأخرن فإنه ليس لكن أن تحققن الطريق عليكن بحافات الطريق . فكانت المرأة تلصق بالجدار حتى إن ثوبها ليتعلق بالجدار . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت ابواسید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اکرم ﷺ کو اس وقت جب کہ آپ مسجد سے نکل رہے تھے لوگوں سے دینی ہدایات و احکام شرعی مسائل بیان کرتے ہوئے سنا پھر راستہ میں مرد عورتوں سے مل گئے یعنی مرد اور عورتیں مخلوط ہو کر راستہ میں چلنے لگے آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر عورتوں سے فرمایا کہ تم مردوں کے پیچھے چلو اور ان سے الگ رہو کیونکہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم راستہ کے کنارے پر چلا کرو۔ چناچہ عورتوں نے آنحضرت ﷺ کے اس حکم پر اس طرح عمل کیا کہ وہ راستہ چلتیں تو دیواروں سے لگ کر چلا کرتیں یہاں تک کہ بعض اوقات ان کا کپڑا دیوار سے اٹک جاتا تھا۔ (ابوداؤد، بہیقی)

4631Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے درمیان نہ چلو

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يمشي يعني الرجل بين المرأتين . رواه أبو داود .

اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دو عورتوں کے درمیان چلنے سے منع فرمایا یعنی مرد کو۔ (ابوداؤد) تشریح لفظ یعنی راوی کا اپنا قول ہے جس سے الفاظ حدیث کی وضاحت مقصوع ہے گویا راوی نے یہ بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے یمشی کا فاعل الرجل مراد لیا ہے حاصل یہ ہے کہ لفظ الرجل حدیث کے اصل متن کا جزء نہیں ہے بلکہ اس کو کسی راوی نے بطور وضاحت نقل کیا ہے اس طرح روایت کے درمیان یہ عبارت یعنی الرجل گویا جملہ معترضہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے مرد کو عورتوں کے درمیان چلنے سے اس لئے منع فرمایا کہ مرد عورت کا اختلاط نہ صرف یہ کہ مختلف قسم کی برائیوں کے فتنہ میں مبتلا کردیتا ہے بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو شرم و حیاء اور سنجیدگی و متانت کے تقاضوں کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح عورتوں کے درمیان چلنا منع ہے اسی طرح راستہ میں کسی عورت کے ساتھ بھی چلنا منع ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے کسی فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہو۔

4632Mishkaat-al-Masabih

مجلس میں جہاں جگہ دیکھو وہاں بیٹھ جاؤ

وعن جابربن سمرة قال كنا إذا أتينا النبي صلى الله عليه وسلم جلس أحدنا حيث ينتهي . رواه أبو داود . وذكر حديثا عبد الله بن عمرو في باب القيام . وسنذكر حديث علي وأبي هريرة في باب أسماء النبي صلى الله عليه وسلم وصفاته إن شاء الله تعالى .

اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کی مجلس میں ہم حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو شخص جہاں جگہ دیکھتا اور اخر میں جو جگہ خالی ہوتی وہاں بیٹھ جاتا۔ (ابوداؤد) اور عبداللہ بن عمرو ؓ کی دونوں حدیثیں یعنی ایک تو لایحل للرجل اور دوسری جو اس کے بعد ولا یجلس بین رجلین باب القیام میں نقل کی جا چکی ہے اور حضرت علی ؓ وحضرت ابوہریرہ ؓ کی دونوں روایتیں ہم انشاء اللہ باب اسماء النبی میں نقل کریں گے جن میں سے ایک تو کان رسول اللہ ﷺ اذا مشی تکفا اور دوسری مارایت شیاء احسن من رسول اللہ ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ مجلس میں ہر شخص مجلس نبوی کے آداب وقار کو ملحوظ رکھتا تھا اور اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ اس کو دوسروں کی بہ نسبت نمایاں اور برتر مقام ملے جہاں جگہ دیکھتا وہیں بیٹھ جاتا کیونکہ مجلس میں نمایا اور برتر جگہ پر بیٹھنے کی خواہش اور اس کے لئے کوشش کرنا دراصل اس نفس کا تقاضہ ہوتا ہے جو ہر موقع پر اپنے آپ کو بلا ضرورت نمایاں کرنے اور برتر ثابت کرنے کا متلاشی رہتا ہے اور یہ ان لوگوں کی شان ہے جو جاہ پسند اور دنیاوی عزت اور بڑائی کے حریص ہوتے ہیں جبکہ صحابہ اس طرح کے جذبات سے بالکل عاری تھے نہ ان کو اس چیز کے حصول کی خواہش ہوتی تھی اور نہ کسی بھی موقع پر برخاست نشست کے سلسلہ میں خواہ مخواہ کے تکلفات و اہتمام کے عادی تھے ان کے مزاج میں جو سادگی وخاکساری اور بےتکلفی اور روا داری تھی اس کی بناء پر بھی اور آنحضرت ﷺ کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے بھی وہ مجلس نبوی ﷺ میں جہاں جگہ دیکھتے بیٹھ جاتے۔

4633Mishkaat-al-Masabih

بیٹھنے کا ایک ممنوع طریقہ

عن عمرو بن الشريد عن أبيه قال مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا جالس هكذا وقد وضعت يدي اليسرى خلف ظهري واتكأت على ألية يدي . قال أتقعد قعدة المغضوب عليهم . رواه أبو داود .

اور حضرت عمر بن شرید تابعی اپنے والد ماجد (حضرت شرید ثقفی ؓ صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک دن آنحضرت ﷺ میرے پاس سے گزرے جب کہ میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میرا بایاں ہاتھ تو میری پیٹھ کے پیچھے تھا اور انگوٹھے کی جڑ کے گوشت پر میں سہارا دیا ہوئے تھا آپ نے مجھ کو اس طرح بیٹھا ہوا دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم اس ہیبت پر بیٹھے ہوئے جو ہیبت پر وہ لوگ بیٹھتے ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ (ابوداؤد) تشریح جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا سے مراد یہودی ہیں یہاں یہودیوں کا صراحت کے ساتھ ذکر کرنے کے بجائے مغضوب علیھم کے ذریعہ ان کی طرف اشارہ کرنے کی ایک وجہ تو اس بات سے اگاہ کرنا ہے کہ اس ہیبت پر بیٹھنا ان چیزوں میں سے جن کو حق تعالیٰ دشمن رکھتا ہے اور دوسرے یہ کہ مسلمان چونکہ ایک ایسی امت کا فرد ہے جس پر اللہ نے اپنی رحمت و نعمت فرمائی ہے اس لئے اس کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی مشابہت اختیار نہ کرے جن پر اللہ نے اپنا غضب نازل کیا اور ملعون قرار دیا ہے واضح رہے کہ قرآن کریم کی سورت فاتحہ میں مغضوب علیھم کے ذریعہ جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان سے بھی یہی یہود مراد ہیں۔ بعض حضرات نے یہ کہا کہ حدیث میں مغضوب علھیم کا لفظ اپنے وسیع و عام مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے یعنی اس سے تمام کافر اور وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے بیٹھنے چلنے اور دیگر افعال میں غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں۔

4634Mishkaat-al-Masabih

پیٹ کے بل لیٹنا دوزخیوں کا طریقہ ہے۔

وعن أبي ذر قال مر بي النبي وأنا مضطجع على بطني فركضني برجله وقال يا جندب إنما هي ضجعة أهل النار . رواه ابن ماجه

اور حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے جب کہ میں اپنے پیٹ کے بل یعنی اوندھا لیٹا ہوا تھا آپ نے یہ دیکھ کر اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکا دیا اور فرمایا جندب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح لیٹنا دوزخیوں کا طر یقہ ہے۔ تشریح جندب حضرت ابوذر ؓ کا اصل نام ہے چناچہ آپ ﷺ نے اس موقع پر ان کی کنیت کے بجائے اصل نام سے مخاطب کیا کہ اس طرح لیٹنا دوزخیوں کا طریقہ ہے کے بارے میں دو احتمال ہیں ایک تو یہ کہ اس ارشاد گرامی سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اس دنیا میں کفار و فجار اسی طرح لیٹتے ہیں دوسرے یہ کہ آپ نے اس ارشاد کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا کہ کفار فجار دوزخ میں جس ہیبت پر پٹائے جائیں گے وہ یہی ہیبت ہوگی یعنی پیٹ کے بل۔

4635Mishkaat-al-Masabih

جمائی کا آنا شیطانی اثر ہے۔

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الله يحب العطاس ويكره التثاؤب فإذا عطس أحدكم وحمد الله كان حقا على كل مسلم سمعه أن يقول يرحمك الله . فأما التثاؤب فإنما هو من الشيطان فإذا تثاءب أحدكم فليرده مااستطاع فإن أحدكم إذا تثاءب ضحك منه الشيطان . رواه البخاري . وفي رواية لمسلم فإن أحدكم إذا قال ها ضحك الشيطان منه .

حضرت ابوہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینکنے والے کو پسند فرماتا ہے لیکن جمائی لینے والے کو ناپسند فرماتا ہے لہذا تم میں سے جو شخص چھینکے اور اللہ کی تعریف کرے تو اس چھینک اور الحمدللہ کو سننے والے ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہے رہی جمائی کی بات جمائی کا آنا شیطانی اثر ہے لہذا تم میں سے جب کسی کو جمائی آئے تو چاہے کہ وہ حتی الامکان اس کو روکے واضح رہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص جمائی لیتا ہے تو اس پر شیطان ہنستا ہے (بخاری) اور مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تو (چاہے حتی الامکان اس جمائی کو روکے) کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص ہاء کہتا ہے یعنی جمائی لیتا ہے تو اس پر شیطان ہنستا ہے۔ تشریح اللہ تعالیٰ چھینکنے کو پسند کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ چھینکنے کی وجہ سے چونکہ دماغ پر بوجھ ہٹ جاتا ہے اور فہم و ادراک کی قوت کا تزکیہ ہوجاتا ہے اور یہ چیز طاعت و حضوری قلب کا باعث و مددگار بنتی ہے اس لئے چھینکنا پسندیدہ ہے اس کے برخلاف جمائی کا آنا طبیعت کے امتلاء نفس کے بھاری پن اور جو اس کی کدورت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ چیز غفلت و سستی و بد فہمی نیز طاعت و عبادت میں عدم نشاط کا باعث بنتی ہے اس لئے جمائی کا آنا شیطان کی خوشی کا ذریعہ ہے اور اسی وجہ سے جمائی کے آنے کو شیطانی اثر قرار دیا ہے اور اس کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ چھینکنے والے کو پسند کرنا اور جمائی کو ناپسند کرنا ان کے نتیجہ میں وثمرہ کے اعتبار سے ہے کہ چھینکنے کا نتیجہ عبادت وطاعت میں نشاط و تازگی کا پیدا ہونا ہے اور جمائی کا نتیجہ کسل و سستی کا پیدا ہوجانا ہے۔ اللہ کی تعریف کرے یعنی جب چھینک آئے تو الحمد للہ کہے اور اگر رب العالمین بھی بڑھا دے یعنی الحمد للہ رب العالمین کہے تو بہتر ہے جب کہ الحمد للہ علی کل حال کہنا بھی بہتر ہے، نیز کتاب مصنف میں ابن ابی شیبہ ؓ نے حضرت علی ؓ سے بطریق موقوف یہ نقل کیا ہے کہ جس شخص کو چھینک آئے اور وہ یوں کہے، الحمد للہ رب العالمین علی کل حال تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتلا نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ علماء نے چھینک آنے پر الحمد للہ کہنے کی یہ حکمت بیان کی ہے چھینک دراصل دماغ کی صحت و صفائی اور مزاج طبعیت میں نشاط و توانائی کی علامت ہے اور یہ چیز جسمانی صحت و تندرستی کے اعتبار سے اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ظاہر ہے کہ حصول نعمت پر اللہ کی تعریف کرنا نہایت موزوں و مناسب چیز ہے۔

4636Mishkaat-al-Masabih

یرحمک اللہ کہنا فرض یا واجب؟

حدیث کی یہ عبارت ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہے بظاہر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو اس سننے والے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جواب میں یرحمک اللہ کہے۔ لیکن اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ حنفی مسلک کے اعتبار سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ جواب میں یرحمک اللہ کہنا واجب علی الکفایہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چھینکنے والے کی حمد کو سننے والے ایک سے زائد ہوں تو وہاں موجود سب میں سے کسی ایک شخص کا یرحمک اللہ کہہ دینا سب کے ذمہ سے جواب کا وجوب ساقط کر دے گا۔ جب کہ ایک قول میں اس جواب کو مستحب کہا گیا ہے کہ اس کے برخلاف سفر السعادۃ میں مصنف نے یہ لکھا ہے کہ اس بارے میں منقول صحیح احادیث کا ظاہری مفہوم یہ واضح کرتا ہے کہ چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا سننے والے ہر مسلمان پر فرض ہے اور وہاں موجودہ لوگوں میں سے کسی ایک کا جواب دیدینا اس فرض کو سب کے ذمہ سے ساقط نہیں کرتا۔ چناچہ اکابر علماء کی ایک جماعت کا مسلک اسی قول پر ہے۔ شوافع کا مسلک یہ ہے کہ چھینکنے والے کا جواب دینا سنت علی الاکفایہ ہے لیکن افضل یہی ہے کہ حاضرین میں ہر شخص جواب میں یرحمک اللہ کہے حضرت امام مالک کے مسلک میں اختلافی قول ہیں کہ چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا آیا سنت ہے یا واجب؟ لیکن اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ جب چھینکنے والا الحمدللہ کہے اور اس کو حاضرین سنیں لہذا اگر چھینکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو وہ جواب کا مستحق نہیں ہوگا اسی طرح اس نے الحمدللہ تو کہا لیکن اتنی آواز سے کہا کہ کسی ایک نے بھی نہیں سنا تو اس صورت میں بھی جواب دینا یعنی یرحمک اللہ کہنا لازم نہیں ہوگا۔ چناچہ لفظ سمعہ جو اس حدیث میں منقول ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے اور یہی حکم سلام اور تمام فرض کفایہ امور جیسے عیادت مریض، تجہیز میت اور نماز جنازہ وغیرہ کا بھی ہے۔ شرح السنہ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ چھینکنے والے کو چاہے کہ الحمد للہ بلند آواز سے کہے تاکہ اہل مجلس سن لیں اور وہ جواب کا مستحق ہو۔

4637Mishkaat-al-Masabih

یرحمک اللہ کہنے والے کے جواب میں کیا کہا جائے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله وليقل له أخوه أو صاحبه يرحمك الله . فإذا قال له يرحمك الله قليقل يهديكم الله ويصلح بالكم رواه البخاري . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو چاہیے کہ وہ الحمدللہ کہے اور اس کے مسلمان بھائی یا یہ فرمایا کہ اس کے دوست کو چاہیے کہ وہ اس چھینکنے والے کے الحمد للہ کہنے کے جواب میں یرحمک اللہ کہے اور جب اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہے تو چھینکنے والے کو چاہیے یوں کہے، یھدیکم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کرے۔ اور تمہارے دل و تمہارے احوال کو درست کرے۔ (بخاری) تشریح یھدیکم اللہ میں مخاطب کے لئے جمع کا صیغہ یا تو باعتبار غالب کے ہے کہ عام طور پر چھینکنے والے کے پاس کئی آدمی ہوتے ہیں لہذا مذکورہ دعا میں ان سب کو شریک ہونا چاہے یا مخاطب کے لئے جمع کا صیغہ بطور تعظیم و تکریم کے ہے اور یہ کہ اس دعا میں مخاطب کے واسطے سے پوری امت مرحومہ کو شامل کرنا مراد ہوتا ہے۔

4638Mishkaat-al-Masabih

جو چھینکنے والا الحمد للہ نہ کہے وہ جواب کا مستحق نہیں ہوتا

وعن أنس قال عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت أحدهما ولم يشمت الآخر . فقال الرجل يا رسول الله شمت هذا ولم تشمتني قال إن هذا حمد الله ولم تحمد الله . متفق عليه .

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کو چھینک آئی آنحضرت ﷺ نے ان میں سے ایک آدمی کی چھینک کا جواب نہیں دیا جس آدمی کی چھینک کا جواب آپ نے نہیں دیا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس آدمی کو تو جواب دیا لیکن مجھے جواب نہیں دیا؟ آپ نے فرمایا اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی تھی جب کہ تم نے اللہ کی حمد نہیں کی (لہذا تم جواب کے مستحق نہیں ہوئے) بخاری ومسلم)۔ تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص چھینکنے کے بعد الحمد للہ نہ کہے وہ اس بات کا مستحق نہیں ہوتا کہ اس کی چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہا جائے۔ حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ کسی شخص نے مسجد کے کسی کونے میں چھینکا، حضرت ابن عمر ؓ نے اس چھینک کو سنا تو فرمایا کہ یرحمک اللہ ان کنت حمدت اللہ یعنی اگر تو نے اللہ کی حمد کی ہے تو تجھ پر اللہ اپنی رحمت نازل کرے۔ شعبی کہتے ہیں کہ اگر تمہارے کان میں دیوار کے پیچھے سے کسی چھینکنے اور الحمدللہ کہنے کی آواز آئے تو اس کو بھی جواب دو یعنی یرحمک اللہ کہو۔

4639Mishkaat-al-Masabih

جو چھینکنے والا الحمدللہ نہ کہے وہ جواب کا مستحق نہیں ہوتا

وعن أبي موسى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا عطس أحدكم فحمد الله فشمتوه وإن لم يحمد الله فلا تشمتوه . رواه مسلم .

اور حضرت ابوموسی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور اللہ کی حمد کرے یعنی چھینک آنے پر الحمد للہ کہے تو اس کے جواب میں یعنی یرحمک اللہ کہو اور اگر وہ اللہ کی حمد نہ کرے تو اس کو جواب نہ دو۔ (مسلم)

4640Mishkaat-al-Masabih

جس شخص کو لگاتار چھینک آتی رہے اس کے جواب کا مسئلہ

وعن سلمة بن الأكوع أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم وعطس رجل عنده فقال له يرحمك الله ثم عطس أخرى فقال الرجل مزكوم . رواه مسلم وفي رواية الترمذي أنه قال له في الثالثة إنه مزكوم .

اور حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کو اس شخص کی چھینک کا جواب دیتے سنا جو اس وقت آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا چناچہ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا یرحمک اللہ پھر جب اس کو دوسری چھینک آئی تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کو زکام ہوگیا ہے اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے اس شخص کو تیسری بار چھینکنے پر یہ فرمایا کہ اس شخص کو زکام ہوگیا ہے۔ تشریح آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ تھا کہ اس شخص کو چونکہ زکام ہوگیا ہے اس لئے یہ باربار چھینکے گا اور الحمد للہ کہے گا لہذا اس کے جواب میں باربار یرحمک اللہ کہنے کی ضرورت نہیں واضح رہے کہ ابوداؤد اور ترمذی کی ایک اور روایت میں یہ فرمایا گیا کہ جس شخص کو لگاتار چھینک آتی رہے اور وہ الحمد للہ کہتا رہے تو تین چھینکوں تک جواب دیا جائے تیسری مرتبہ کے بعد اختیار ہوگا کہ چاہے جواب دے چاہے نہ دے۔ پس حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ اگر کسی شخص کو لگاتار چھینک آتی رہے تو اس کے جواب میں تین چھینکوں تک یرحمک اللہ تو واجب یا سنت موکدہ ہے تیسری مرتبہ کے بعد سکوت اور جواب کے درمیان اختیار ہوگا کہ چاہے تو تین مرتبہ کے بعد جواب نہ دے جو رخصت یعنی شریعت کی طرف سے آسانی اور چاہے تین مرتبہ کے بعد بھی جواب دیتا رہے جو مستحب ہے گویا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ تین مرتبہ کے بعد جواب دینا کوئی ناجائز بات نہیں ہے لیکن واجب یا سنت مؤ کدہ نہیں ہے۔

4641Mishkaat-al-Masabih

جب جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا تثاءب أحدكم فليمسك بيده على فمه فإن الشيطان يدخل . رواه مسلم .

اور حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے کیونکہ شیطان اگر منہ کھلا ہوا پاتا ہے تو اس میں گھس جاتا ہے۔ (مسلم) تشریح منہ میں شیطان گھسنے سے مراد یا تو حقیقتا گھسنا ہے یا مراد یہ ہے کہ جو شخص جمائی کے وقت اپنے منہ کو بند نہیں رکھتا شیطان اس پر اثر انداز ہونے اور اس کو وساوس و اوہام میں مبتلا کرنے پر قادر ہوجاتا ہے۔

4642Mishkaat-al-Masabih

چھینکتے وقت چہرہ پر ہاتھ رکھ لینا چاہیے

عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا عطس غطى وجهه بيده أو ثوبه وغض بها صوته . رواه الترمذي وأبو داود . وقال الترمذي هذا حديث حسن صحيح ( إسناده جيد )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جب چھینکتے تو اپنے چہرہ مبارک پر اپنے ہاتھوں یا اپنے کسی کپڑے سے ڈھانک لیتے تھے اور اپنی چھینک کی آواز کو پست کرلیتے۔ اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح چھینکتے وقت چہرے کو ڈھانک لینا اور بلند آواز سے نہ چھینکنا، یہ دونوں چیزیں تہذیب وشائستگی کی علامت بھی ہیں اور آداب شریعت کا تقاضہ بھی کیونکہ ایک تو چھینک کے ذریعہ عام طور پر دماغ کا فضلہ و بلغم وغیرہ ناک یا منہ سے نکل پڑتا ہے دوسرے چھینکتے وقت چہرہ کی ہیبت بگر جاتی ہے اس لئے چہرے کو ڈھانک لینا چاہیے اسی طرح زیادہ زور دار آواز کے ساتھ چھینکنے کی صورت میں بسا اوقات لوگ چونک اٹھتے ہیں اور ویسے بھی زیادہ بلند آواز اور بےساختہ آواز کے ساتھ چھینکنا طبیعت کی سلامتی اور وقار کے خلاف سمجھا جاتا ہے لہذا ہلکی آواز کے ساتھ چھینکنا حسن ادب سمجھا گیا ہے علماء نے لکھا ہے کہ چھینکنے والے کے لئے مستحب ہے کہ اپنی چھینک کو پست رکھے اور الحمد للہ بلند آواز میں کہے تاکہ لوگ سن کر جواب دیں۔

4643Mishkaat-al-Masabih

یرحمک اللہ کہنے والے کے حق میں دعا

وعن أبي أيوب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله على كل حال وليقل الذي يرد عليه يرحمك الله وليقل هو يهديكم ويصلح بالكم رواه الترمذي والدارمي . ( إسناده جيد )

اور حضرت ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو چاہے کہ وہ یوں کہے الحمد للہ علی کل حال۔ یعنی ہر حال میں اللہ کی تعریف ہے اور وہ شخص جو اس کا جواب دے اس کو یوں چاہیے یرحمک اللہ اور پھر اس کے جواب میں چھینکنے والے کو یوں کہنا چاہیے، یھدیکم اللہ ویصلح بالکم، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت بخشے اور تمہارے دل یا تمہارے احوال کو درست فرمائے۔

4644Mishkaat-al-Masabih

یہودیوں کی چھینک اور آنحضرت ﷺ کا جواب

وعن أبي موسى قال كان اليهود يتعاطسون عند النبي صلى الله عليه وسلم يرجون أن يقول لهم يرحمكم الله فيقول يهديكم الله ويصلح بالكم . رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ یہودی جب آنحضرت ﷺ کے پاس ہوتے جان بوجھ کر چھینکتے اس امید میں کہ آپ ان کے جواب یرحمک اللہ کہیں گے لیکن آپ ان کی چھینک کر جواب میں محض یہ فرماتے یھدیکم اللہ ویصلح بالکم یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت بخشیں اور تمہارے قلوب یا تمہارے احوال کی اصلاح فرمائے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی چھینک کے جواب میں یرحمک نہ کہتے کیونکہ اللہ کی رحمت صرف مومن کے لئے مخصوص ہے البتہ آپ ان کے حسب حال ان کی ہدایت و اصلاح کی دعا فرماتے۔