اپنی جگہ سے اٹھ کر جانے لگو تو وہاں کوئی چیز رکھ دو
وعن أبي الدرداء قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جلس جلسنا حوله فأراد الرجوع نزع نعله أو بعض ما يكون عليه فيعرف ذلك أصحابه فيثبتون . رواه أبو داود .
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب تشریف رکھتے اور ہم آپ کے گرد بیٹھتے اور پھر آپ واپس آنے کے ارادہ سے گھر میں جانے کے لئے اٹھتے تو اپنی جگہ پر جوتیاں اتار کر رکھ جاتے اور ننگے پیر چلتے جاتے یا اپنے بدن پر کوئی چیز جیسے چادر وغیرہ اس جگہ چھوڑ جاتے اس سے آپ کے صحابہ جان لیتے کہ آپ مجلس میں پھر آئیں گے، چناچہ وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہتے۔
تشریح
آپ کے گرد سے مراد آپ کے دائیں طرف بائیں طرف اور سامنے بیٹھنا ہے یعنی کچھ صحابہ آپ کے داہنے ہاتھ کی طرف بیٹھتے کچھ بائیں ہاتھ کی طرف اور کچھ سامنے کی طرف، یہ معنی اس لئے بیان کئے گئے ہیں کہ اگر گرد سے مراد چاروں اطراف لی جائیں تو یہ صحیح نہیں ہوگا کیونکہ حلقہ کے درمیان بیٹھنے کی ممانعت منقول ہے۔
دو آدمیوں کے درمیان گھس کر بیٹھنے کی ممانعت
وعن عبد الله بن عمرو عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يحل لرجل أن يفرق بين اثنين إلا بإذنهما . رواه الترمذي وأبو داود .
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کسی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ دو بیٹھے ہوئے آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر جدائی ڈالے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر دو آدمی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے ہوں تو کسی تیسرے شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان گھس کر بیٹھ جائے کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں آدمی آپس میں محبت وتعلق رکھتے ہوں اور راز دارانہ طور پر ایک دوسرے سے کوئی بات چیت کرنا چاہتے ہوں اگر کوئی تیسرا آدمی ان کے درمیان حائل ہوجائے گا تو اس کا وہاں بیٹھنا ان پر شاق گزرے گا، علماء نے یہ وضاحت کی ہے کہ اگر یہ معلوم ہو کہ یہ دونوں بیٹھے ہوئے آدمی آپس میں محبت وتعلق رکھتے ہیں تو ان کے درمیان نہ بیٹھے اور اگر یہ معلوم ہو کہ ان دونوں کے درمیان اتحاد و محبت کا علاقہ نہیں ہے تو اس صورت میں ان کے درمیان بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اگر ان دونوں کے درمیان تعلق مبہم ہو یعنی یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ ان کے درمیان محبت کا علاقہ ہے کہ نہیں یا سرے سے یہ معلوم ہی نہ ہو تو اس صورت میں احتیاط کا پہلو یہ ہوگا کہ ان کے درمیان نہ بیٹھے۔
دو آدمیوں کے درمیان گھس کر بیٹھنے کی ممانعت
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا تجلس بين رجلين إلا بإذنهما . رواه أبو داود .
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلے سے بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھو الاّ یہ کہ ان کی اجازت حاصل ہو۔ (ابوداؤد)
آنحضرت ﷺ جب مجلس سے اٹھتے تو صحابہ کرام کھڑے ہوجاتے تھے۔
عن أبي هريرة قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس معنا في المسجد يحدثنا فإذا قام قمنا قياما حتى نراه قد دخل بعض بيوت أزواجه .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مسجد میں ہمارے ساتھ بیٹھتے اور باتیں کیا کرتے پھر جب مجلس سے آپ اٹھتے تو ہم بھی کھڑے ہوجاتے تھے اور دیر تک کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم دیکھتے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کے گھر میں تشریف لے گئے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ جب مجلس سے اٹھتے تو اس وقت صحابہ کا کھڑا ہونا احترام کھڑے ہوجانا کے طور پر نہیں تھا بلکہ مجلس کے برخاست ہوجانے کی وجہ سے ہوتا تھا اور ظاہر بھی ہے کہ جب صحابہ ؓ آپ کی تشریف آوری کے وقت نہیں کھڑے ہوتے تھے تو جانے کے وقت کیوں کھڑے ہوتے تھے رہی یہ بات کہ اس وقت صحابہ دیر تک کیوں کھڑے رہتے تھے تو اس کی وجہ شاید یہ ہوگی کہ آنحضرت ﷺ جب مجلس سے اٹھ کر جانے لگتے تو صحابہ کرام اس انتظار میں رک جاتے کہ شاید آپ کسی کام کے لئے فرمائیں گے یا یہ امید ہوتی تھی کہ آپ دوبارہ تشریف لائیں گے اور مجلس برقرار رہے گی لیکن جب یہ امید ختم ہوجاتی تو صحابہ ؓ اپنی اپنی راہ پکڑتے۔
مجلس میں آنے والے شخص کے لئے جگہ نکالنا تہذیب کا تقاضہ ہے۔
وعن واثلة بن الخطاب قال دخل رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد قاعد فتزحزح له رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال الرجل يا رسول الله إن في المكان سعة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم إن للمسلم لحقا إذا رآه أخوه أن يتزحزح له . رواهما البيهقي في شعب الإيمان .
اور حضرت واثلہ بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جب کہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے رسول اکرم ﷺ نے اس شخص کو جگہ دینے کے لئے اپنی جگہ سے حرکت کی اور ایک طرف کھسک گئے اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ مکان میں جگہ بیٹھنے کی کافی کشادہ ہے میں کہیں بھی بیٹھ جاؤں گا آپ نے میرے لئے اپنی جگہ سے حرکت کرنے اور کھسکنے کی زحمت کیوں گوارا فرمائی آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ مسلمان کا حق ہے کہ جب اس کو اس کا مسلمان بھائی مجلس میں یا اپنے پاس آتا دیکھے تو جگہ کی فراخی و تنگی سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دے اور ایک طرف کو کھسک جائے یعنی آنے والے کے لئے اپنی جگہ سے حرکت کرنا اور کھسک جانا دراصل اس کا اکرام و اعزاز ہے اور ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر اس اکرام و اعزاز کا بجا طور پر حق رکھتا ہے ان دونوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
گوٹ مار کر بیٹھنا جائز ہے
عن ابن عمر قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بفناء الكعبة محتبيا بيديه . رواه البخاري . ( متفق عليه )
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کو خانہ کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھوں کے ذریعہ گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔
تشریح
گوٹ مار کر بیٹھنا نشست کا ایک خاص طریقہ ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دونوں زانوں کھڑے کر لئے جاتے ہیں تلوے زمین پر رہتے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے پنڈلیوں پر حلقہ باندھ لیتے ہیں اور کو ل ہے خواہ زمین پر ٹکے رہتے ہیں، خواہ اوپر اٹھے رہتے ہیں، بسا اوقات پنڈلیوں پر ہاتھوں کے ذریعہ حلقہ باندھنے کی بجائے ان پر کوئی کپڑا لپیٹ کر بیٹھنا بھی منقول ہے۔ بہرحال بیٹھنے کا یہ طریقہ اہل عرب میں بہت رائج تھا اور اکثر و بیشتر وہ لوگ اسی طرح بیٹھا کرتے تھے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس طرح بیٹھنا جائز بلکہ مستحب ہے۔
پیر پر پیر رکھ کر لیٹنے کا مسئلہ
وعن عباد بن تميم عن عمه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد مستلقيا واضعا إحدى قدميه على الأخرى . متفق عليه .
اور حضرت عبادہ بن تمیم تابعی اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید انصاری ؓ صحابی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا میں نے ایک دن رسول اکرم ﷺ کو مسجد میں اس طرح چت لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ کا ایک قدم دوسرے قدم پر رکھا ہوا تھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
قدم کو قدم پر رکھ کر لیٹنے سے ستر نہیں کھلتا جب کہ اس طرح لیٹنا کہ پاؤں پر پاؤں رکھا ہوا ہو بسا اوقات ستر کھل جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس مطلب کے ذریعہ اس حدیث اور ان احادیث کے درمیان مطابقت پیدا ہوجاتی ہے جو آگے آرہی ہے اور جن سے واضح ہوتا ہے کہ پاؤں کو پاؤں پر رکھ کر لیٹنا ممنوع ہے اس مسئلہ کی مزید تفصیل آگے بیان ہوگی۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کا اس طرح لیٹنا کبھی کبھی ہوتا تھا اور وہ بھی یا تو بیان جواز کی خاطر یا کچھ دیر آرام کر کے تکان کو دور کرنے کے لئے ورنہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کے معمول کا تعلق ہے آپ کسی بھی ایسی جگہ جہاں کچھ لوگ موجود ہوں چار زانو، باوقار اور تواضع و انکسار کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے۔
پیر پر پیر رکھ کر لیٹنے کا مسئلہ
وعن جابر قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرفع الرجل إحدى رجليه على الأخرى وهو مستلق على ظهره . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص ایک پاؤں کھڑا کر کے دوسرا پاؤں اس پر رکھ لے درآنحالیکہ وہ چت ہوا ہو۔ مسلم
پیر پر پیر رکھ کر لیٹنے کا مسئلہ
وعنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یستلقین احد کم ثم یضع احدیٰ رجلیہ علی الاخریٰ(رواہ مسلم)
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس طرح چت نہ لیٹے کہ ایک پاؤں کھڑا کر کے اس پر دوسرا پاؤں رکھ لے۔ مسلم
تشریح
حضرت جابر ؓ کی مذکورہ بالا دونوں حدیثیں بظاہر عباد بن تمیم کی روایت کے منافی معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں کوئی منافات و تضاد نہیں ہے کیوں کہ پاؤں پر پاؤں رکھ کر چت لیٹنا دو طرح سے ہوتا ہے کہ ایک تو یہ کہ دونوں ٹانگیں پھیلی ہوئی ہوں اور ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی ہو اس طریقہ سے لیٹنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ اس صورت میں ستر کھل جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا عباد بن تمیم کی روایت میں جو یہ منقول ہے کہ آپ ایک قدم کو دوسرے قدم پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے تھے تو اس سے یہی صورت مراد ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چت لیٹ کر ایک ٹانگ کے گھٹنے کو کھڑا کرلیا جائے اور دوسری ٹانگ کے پیر کو اس کھڑے ہوئے گھٹنے پر رکھ لیا جائے یہ طریقہ ممنوع ہے لیکن یہ ممانعت بھی اس صورت میں ہے کہ جب ستر کھل جانے کا اندیشہ ہو مثلا کسی شخص نے پاجامہ نہ پہن رکھا ہو بلکہ نہ بند باندھ رکھا ہو اور وہ تہہ بند یا کرتے کا دامن اتنا چھوٹا ہو کہ اس طریقہ سے لیٹنے کی وجہ سے ستر کھل سکتا ہو اور اگر ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اس طریقہ سے لیٹنا بھی جائز ہوگا حاصل یہ نکلا کہ ممانعت اور جواز کا اصل مدار ستر کے کھلنے یا ستر کے نہ کھلنے پر ہے چناچہ علماء نے بھی یہی بیان کیا ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما رجل يتبختر في بردين وقد أعجبته نفسه خسف به لأرض فهو بتجلجل فيها إلى يوم القيامة . متفق عليه . لفصل الثاني
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک شخص دو دھاری دار کپڑوں میں ملبوس اتراہٹ اور اکڑ کے ساتھ چل رہا تھا نیز وہ ان کپڑوں کو اتنا نفیس اور برتر سمجھ رہا تھا کہ اس کے نفس نے اس کو غرور میں مبتلا کردیا تھا اس کا انجام یہ ہوا کہ زمین نے اس شخص کو نگل لیا چناچہ وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔
تشریح
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے وہ قارون تھا جب کہ نووی نے یہ لکھا ہے کہ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ شخص کسی امت کا کوئی فرد ہوگا یا کسی پچھلی امت میں کوئی شخص ہوگا۔ بہر حال حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ تکبر و گھمنڈ اور اتراہٹ و اکڑ کے ساتھ چلنا برا ہے اور اس کا انجام نہایت برا ہے۔ اعاذنا اللہ من ذالک۔
واضح رہے کہ انسان کی چال اس کے مزاج و احوال اور عادات واطوار کی بڑی حد تک غماز ہوتی ہے اسی طرح اس بات پر خاص زور دیا جاتا ہے کہ انسان کو اپنے چلنے کا انداز ایسا نہ رکھنا چاہیے جس سے اس کی شخصیت میں کسی نقص وبے راہ روی اور اس کے طبعی احوال و کیفیات میں کسی کجی کا اظہار ہو۔ عام طور چال کی دس قسمیں بیان کی جاتی ہیں اور ان میں سے ہر قسم کو عربی میں ایک مستقل لفظ کے ساتھ موسوم کیا گیا جن کا تفصیلی ذکر دوسری کتابوں میں موجود ہے جو قسم سب سے اچھی اور افضل سمجھی گئی ہے اس کو ھون کا نام دیا گیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے ھون کے معنی ہیں سکون وقرار چناچہ عربی کا یہ مشہور محاورہ ہے امش علی ھونک یعنی اپنی پرورش پر چلو جس چال کو ہون کہا جاتا ہے وہ ایسی چال ہے جس میں حرکت تو پوری ہو لیکن قدم آہستہ آہستہ قدرے سرعت کے ساتھ اٹھیں نہ تو خشک لکڑی کی مانند اسی مری ہوئی چال جیسے مردہ دل افسر لوگ چلتے ہیں اور نہ تیزی اور بھاگ دوڑ کی چال جو جلد باز اور گھبراہٹ میں مبتلا لوگ چلتے ہیں چال کی یہ دونوں صورتیں بہت ہی بری ہیں اور چلنے والے کی مردہ دلی یا بےعقلی کو ظاہر کرتی ہیں قرآن شریف میں اللہ نے ھون کی تعریف کی ہے اور اس چال کو اپنے خاص بندوں کی صفت قرار دیا ہے۔ ا یت (وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا)۔ اور رحمن (اللہ) کے خاص بندے وہ لوگ ہیں جو زمین پر نرمی آہستگی اور سکون وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔
تکیہ لگا کر بیٹھنا مستحب ہے۔
عن جابر بن سمرة قال رأيت النبي صلى الله عليه وسلم متكئا على وسادة على يساره . رواه الترمذي .
حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو اس طرح تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ تکیہ آپ کے بائیں جانب رکھا ہوا تھا۔ (ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکیہ لگا کر بیٹھنا مستحب ہے اور یہ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ تکیہ کو پسند فرماتے تھے نیز آپ نے خوشبو کی طرح تکیہ کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص تکیہ پیش کرے تو اس کو قبول کرنے سے انکار نہ کیا جائے۔
وعن أبي سعيد الخدري قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جلس في المسجد احتبى بيديه . رواه رزين .
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب مسجد میں بیٹھتے تو دونوں ران کھڑے کرلیتے اور پنڈلیوں پر دونوں ہاتھوں سے حلقہ باندھ لیتے۔ (رزین)
آنحضرت ﷺ کی ایک منکسرانہ نشست
وعن قيلة بنت مخرمة أنها رأت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد وهو قاعد القرفصاء . قالت فلما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم المتخشع أرعدت من الفرق . رواه أبو داود .
اور حضرت قیلہ بنت مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو مسجد میں بہ ہیبت قرفضا بیٹھے ہوئے دیکھا قیلہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میں نے رسول اکرم ﷺ کو اس طرح انتہائی فروتنی و انکساری، خشوع و خضوع اور استغراق و حضوری کے عالم میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں مارے ہیبت کے کانپ گئی۔ (ابوداؤد)
تشریح
قرفصاء قاف کے پیش، راء کے جزم اور فاء کے پیش اور زبر کے ساتھ کے معنی ہیں اکڑوں بیٹھنا اور ہاتھوں کو ٹانگوں کے گرد باندھنا چناچہ اس نشست یعنی قرفصاء کی صورت یہ ہوتی ہے دونوں تانوؤں کو کھڑا کے سرینوں (کولھوں) پر بیٹھ جاتے ہیں زانوؤں کو پیٹ سے لگا لیتے ہیں اور دونوں ہاتھوں کو پنڈلیوں پا باندھ لیتے ہیں۔ قرفضاء کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ دونوں زانووں کو زمین پر ٹیک کر رانوں کو پیٹ سے لگا لیتے ہیں اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں دونوں بغلوں میں داب لی جاتی ہیں اس طرح کہ دائیں ہتھیلی بائیں بغل میں اور بائیں ہتھیلی دائیں بغل میں رہتی ہیں بیٹھنے کا یہ خاص طریقہ عام طور پر عرب کے ان غیر متمدن لوگوں میں رائج تھا جو جنگلات میں بود وباش رکھتے تھے نیز وہ مسکین غریب لوگ بھی اس طرح بیٹھتے ہیں جو تفکرات و خیالات اور غم و آلام میں مبتلا ہوتے ہیں چونکہ یہ نشست انتہائی عجز وبے چارگی اور کمال انکسار فروتنی کو ظاہر کرتی ہے اس لئے آنحضرت ﷺ اس ہییت کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔
نماز فجر کے بعد آنحضرت ﷺ کی نشست
وعن جابر بن سمرة قال كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا صلى الفجر تربع في مجلسه حتى تطلع الشمس حسناء . رواه أبو داود .
اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ چکتے تو چار زانو بیٹھ جاتے ہیں اور سورج اچھی طرح روشن ہوجانے تک اسی طرح بیٹھے رہتے۔ (ابوداؤد)
وعن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا عرس بليل اضطجع على شقه الأيمن وإذا عرس قبيل الصبح نصب ذراعه ووضع رأسه على كفه . رواه في شرح السنة .
اور حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب سفر کے دوران آرام کرنے اور سونے کے لئے کسی جگہ رات میں اترتے تو دائیں کروٹ لیٹتے تھے جب صبح کے قریب اترتے تو اس طرح لیٹتے کہ اپنا ایک ہاتھ کھڑا کر کے اس کی ہتھیلی پر سر مبارک رکھ لیتے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ جب آپ سفر میں ہوتے اور رات کا وقت کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے اور رات کا کچھ حصہ باقی رہتا تو داہنی کروٹ پر لیٹ کر آرام فرماتے جیسا کہ سفر میں داہنی کروٹ پر لیٹنے کی آپ کی عادت تھی اور اگر ایسے وقت پڑاؤ ڈالتے کہ رات کا تقریبا پورا حصہ گزر چکا ہوتا اور صبح ہونے والی ہوتی تو اس صورت میں آپ پوری طرح لیٹنے کی بجائے دست مبارک کو کھڑا کرلیتے اور اس کی ہتھیلی پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے ایسا اس وجہ سے کیا کرتے تھے تاکہ غفلت کی نیند نہ آجائے اور فجر کی نماز قضا نہ ہوجائے اگرچہ داہنی کروٹ پر سونے کی صورت میں بھی غفلت کی نیند طاری نہیں ہوتی کیونکہ داہنی کروٹ پر لیٹنے سے لٹکا رہتا ہے اور اس کو قرار کم ملتا ہے جب کہ بائیں کروٹ پر لیٹنے سے دل اپنے ٹھکانے پر ہوتا ہے اور آرام بھی پاتا ہے جس کی وجہ سے نیند بھی اطمینان و سکون کی آتی ہے یہی وجہ ہے کہ اطباء نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی بائیں کروٹ سونے کا مشورہ دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بائیں کروٹ پر سونے سے دل چونکہ اپنی جگہ پر رہتا ہے اس لئے دل کے مطمئن و پر سکون ہونے کی وجہ سے نہ صرف آرام ملتا ہے اور چین کی نیند طاری ہوتی ہے بلکہ کھانا بھی خوب اچھی طرح ہضم ہوتا ہے کیوں کہ اس صورت میں جسم کے باہر کی حرارت بدن کے اندر رک جاتی ہے جو نظام ہضم کو بہتر معتدل بنانے کا سبب ہے بعض روایتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سفر کے دوران جب رات کے آخری حصے میں کہیں اترتے تو سر مبارک کے نیچے کوئی اینٹ رکھ لیتے اور جب صبح کے وقت کے قریب اترتے تو ہاتھ کھڑا کر کے اس کی ہتھیلی پر سر مبارک کر کچھ دیر کے لئے لیٹ رہتے۔
آنحضرت ﷺ جب لیٹتے تو سر مبارک کو مسجد کی طرف رکھتے
وعن بعض آل أم سلمة قال كان فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم نحوا مما يوضع في قبره وكان المسجد عند رأسه . رواه أبو داود .
اور ام سلمہ ؓ کے ایک لڑکے کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کا بچھونا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس کپڑے کی مانند تھا جو آپ کی قبر شریف میں رکھا گیا تھا اور مسجد آپ کے سر مبارک کے قریب رہا کرتی تھی۔ (ابوداؤد)
تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جس بچھونے پر استراحت فرماتے تھے اس کی لمبائی چوڑائی اس کپڑے کے تقریبا برابر تھی جو آپ کی قبر شریف میں رکھا گیا تھا اور اس کپڑے کو کچھ لوگوں نے دیکھ رکھا تھا کہ وہ ایک مختصر سا کپڑا تھا جو زیادہ لمبا چوڑا نہ تھا۔ بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا بچھونا اس کپڑے کی قسم سے تھا جو آپ کی قبر مبارک میں رکھا گیا تھا اور جو کپڑا قبر مبارک میں رکھا گیا تھا وہ دراصل ایک سرخ چادر تھی جو بیماری کے دوران آنحضرت ﷺ کے نیچے رہتی تھی آپ کا وصال ہوا تو شقران نے صحابہ کی رائے کے بغیر اس چادر کو قبر شریف میں آنحضرت ﷺ کے جسد مبارک کے نیچے رکھ دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ آنحضرت ﷺ کا کپڑا آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص پہنے یا استعمال کرے تاہم صحیح قول یہ ہے کہ صحابہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے قبر شریف بند کئے جانے سے پہلے اس چادر کو نکال لیا تھا واضح رہے کہ حدیث میں اس جگہ لفظ یوضع کے بجائے وضع ہونا چاہیے تھا لیکن راوی کا مقصد چونکہ حکایت بزمانہ حال تھا اس لئے ماضی کے صیغہ کے بجائے مضارع کا صیغہ استعمال کیا گیا۔ حدیث کے دوسرے جز اور مسجد آپ کے سر مبارک کے قریب رہا کرتی تھی کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ استراحت فرماتے تو اس زاویہ سے لیٹتے کہ سر مبارک مسجد کی طرف رہتا کیونکہ آپ کا حجرہ شریف مسجد کے بائیں جانت تھا اور چونکہ آپ رو بقبلہ لیٹا کرتے تھے اس لئے ظاہر ہے کہ اگر اس حجرہ شریف میں رو بقبلہ لیٹا جائے تو مسجد سرہانے کی طرف رہے گی۔ مشکوۃ کے ایک نسخہ میں لفظ مسجد جیم کے زبر کے ساتھ جس کے معنی مصلی کے ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ استراحت کے وقت آپ کے سرہانے رکھا رہتا تھا تاکہ جب نماز پڑھنی ہو تو اس کو فورا بچھا لیا جائے۔
پیٹ کے بل لیٹنا ناپسندیدہ ہے۔
وعن أبي هريرة قال رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا مضطجعا على بطنه فقال إن هذه ضجعة لا يحبها الله . رواه الترمذي .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ نے ایک شخص کو اوندھا یعنی پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اس طرح سے لیٹنا اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ ترمذی)
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ لیٹنے کی چار صورتیں ہیں ایک تو چت لیٹنا لیٹنے کا طریقہ اہل عبرت کا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازیوں اور عجائبات قدرت کو دیکھ کر ایمان باللہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں وہ چت لیٹتے ہیں تاکہ وہ آسمان اور ستاروں کی طرف بنظر اشتہاد دیکھتے رہیں اور اللہ کی قدرت و حکمت کرد گاری کی دلیل حاصل کریں دوسری صورت دائیں کروٹ پر لیٹنا ہے یہ اہل کبار رو کے لیٹنے کا طریقہ ہے جو لوگ اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور شب بیداری کرنا چاہتے ہیں وہ دائیں کروٹ پر لیٹ کر سوتے ہیں تاکہ غفلت کی نیند طاری نہ ہو اور وقت پر اٹھ کر نماز وظائف اور اپنے مولیٰ کے ذکر میں مشغول ہو سکیں۔ تیسری صورت بائیں کروٹ پر لیٹنا ہے یہ آرام و راحت کے طلب گاروں کے لیٹنے کا طریقہ ہے کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کھانا اچھی طرح ہضم ہوجائے چین سکون کی نیند سو سکیں اور جسم کو پوری طرح آرام و راحت ملے وہ بائیں کروٹ پر لیٹ کر سوتے ہیں اور چوتھی صورت اوندھا یعنی پیٹ کے بل لیٹنا ہے یہ اہل غفلت اور نادان لوگوں کے لیٹنے کا طریقہ ہے کیونکہ اس طرح لیٹنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سینہ اور منہ جو برتر اعضاء ہیں اور اجزائے جسم میں سے سب سے افضل جز ہیں ان کو بلا قصد وطاعت و سجدہ خاک و ذلت پر اوندھا ڈال دیا جائے جو ان اعضاء کے عز و شرف کے منافی ہے نیز چونکہ اغلام کرانے والوں کی عادت ہے اس لئے اوندھا لیٹنا اتنی ذلیل ترین برائی کی مشابہت اختیار کرنا ہے جو خود انتہائی بری بات ہے۔
پیٹ کے بل لیٹنا ناپسندیدہ ہے۔
وعن يعيش بن طخفة بن قيس الغفاري عن أبيه وكان من أصحاب الصفة قال بينما أنا مضطجع من السحر على بطني إذا رجل يحركني برجله فقال هذه ضجعة يبغضها الله فنظرت فإذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه أبو داود وابن ماجه .
اور حضرت یعیش ابن طخفہ ابن قیس عفاری اپنے والد ماجد سے جو اصحاب صفہ میں سے تھے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی (حضرت طخفہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک دن میں سینہ کی درد کی وجہ سے پیٹ کے بل اوندھا لیٹا ہوا تھا کہ اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص مجھے اپنے پاؤں سے ہلا رہا ہے اور پھر میں نے سنا کہ وہ شخص کہہ رہا ہے لیٹنے کے اس طریقہ کو اللہ تعالیٰ سخت ناپسند کرتا ہے اور پھر میں پلٹ کر نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ شخص رسول اکرم ﷺ ہیں۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے علم میں حضرت طخفہ ؓ کا وہ عذر نہیں ہوگا جس کی وجہ سے وہ پیٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے اس لئے آپ نے مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کا عذر آپ کے علم میں تھا تو پھر یہ تاویل کی جائے گی کہ آپ کا ارشاد احتیاط وتقوی کی بناء پر تھا اور یہ ظاہر کرنے کے لئے تھا کہ عام حالات میں بلا کسی عذر کے پیٹ کے بل لیٹنا سخت برا ہے اور اس طرف بھی اشارہ کرنا مقصود تھا کہ اگر سینہ کے درد کا دفاع ہی مقصود تھا تو اس صورت میں یہ بھی ممکن تھا کہ وہ پیروں کو پھیلائے بغیر ٹانگوں کی طرف جھک کر سینے کے دونوں رانوں کو دبا لیتے۔
بغیر دیوار کی چھت پر سونا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
وعن علي بن شيبان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من بات على ظهر بيت ليس عليه حجاب وفي رواية حجار فقد برئت منه الذمة . رواه أبو داود . وفي معالم السنن للخطابي حجى .
اور حضرت علی ؓ بن شیبان کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات میں گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پردہ نہ ہو اور روایت میں یوں ہے کہ جس کے گرد رکاوٹ والی کوئی چیز نہ ہو تو اس سے ذمہ جاتا رہا۔ (ابوداؤد) اور خطابی کی کتاب معالم السنن میں لفظ حجاب کے بجائے حجی کا لفظ ہے۔
تشریح
ایک ہی مضمون کی تین روایتوں میں تین الگ الگ لفظ ہیں ایک روایت میں حجاب کا لفظ ہے جس کے معنی پردہ کے ہیں اور اس سے مراد وہ دیوار ہے جو چھت کو بےپردگی سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی وجہ سے اس چھت پر سے کسی کے گرنے کا خدشہ بھی نہیں ہوتا دوسری روایت میں حجار کے لفظ ہے جو حجر کی جمع ہے اور اس کے معنی اس چیز کے ہیں جو چھت کو اس طرح گھیر دے کہ کوئی گرنے نہ پائے خواہ دیوار ہو یا جنگلہ وغیرہ اور تیسری روایت میں حجی کا لفظ ہے یہ لفظ حاء کے زیر کے ساتھ بھی ہے اور اس کے زبر کے ساتھ بھی، دونوں ہی صورتوں میں یہ لفظ پردہ کے مفہوم میں ہے ویسے لغت کے اعتبار سے حجی جاء کے زیر کے ساتھ کے معنی ہیں عقل وزیر کی لہذا کہا جائے گا کہ پردہ عقل کے ساتھ اس لئے مشابہت دی گئی ہے کہ جس طرح عقل انسان کو نشائستہ اور نقصان دہ امور سے روکتی ہے اس طرح پردہ بھی انسان کو چھت پر سے گرنے سے روکتا ہے اسی طرح حاء کے زبر کے ساتھ کے معنی کنارہ اور گوشہ کے ہیں اور ظاہر ہے کہ چھت پردہ چھت کے کناروں پر کھڑی گئی دیوار وغیرہ ہی کی صورت میں ہوتا ہے اس اعتبار سے اس کو حجی کہا گیا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے ہر انسان کی نگہبانی و حفاظت کا ذمہ و عہد لیا ہے اور اس مقصد کے لئے اس نے محض اپنے فضل و کرم سے ملائکہ مقرر کئے ہیں اور ایسے اسباب و ذرائع پیدا فرمائے جن کو اختیار کر کے انسان اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے لیکن عام اگر کوئی شخص ایسی چھت پر سوتا ہے جس کے گرد کوئی پردہ و رکاوٹ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی جگہ سو رہا ہے جو عام طور پر ہلاکت و ضرر کا سبب بن سکتی ہے اور جب اس شخص نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا تو اب قدرت کو کیا ضرورت ہے کہ اس کی حفاظت کرے لہذا اس کی محافظت کا خدائی ذمہ و عہد ساقط ہوگیا۔