آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 9 of 15

4685Mishkaat-al-Masabih

بیان اور شعر کا بیان

بیان کے اصل معنی کھولنے، اچھی طرح ظاہر کرنے اور خوب واضح کرنے کے ہیں یوں کہنا چاہیے کہ بیان اس فصیح گفتگو و تقریر وغیرہ کو کہتے ہیں کہ جو مافی الضمیر کو نہایت وضاحت اور حسن خوبی کے ساتھ ظاہر کرے چناچہ صراح میں بھی یہ لکھا ہے کہ بات کو کھول کر اور وضاحت کے ساتھ کہنے اور فصاحت کا نام بیان ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فلاں ایین من فلاں (فلاں شخص فلاں شخص سے زیادہ بیان کرنے والا ہے یعنی وہ اپنی بات کو فلاں شخص سے زیادہ فصاحت اور زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والا ہے)۔ شعر، کے معنی دانائی اور زیر کی کے ہے ہیں اور شاعر کے معنی ہیں دنا وزیرک، لیکن عام اصلاح میں شعر موزوں اور مقفی کلام کو کہتے ہیں جو بقصد و ارادہ موزوں و مقفی کیا گیا ہو اس اعتبار سے قرآن و حدیث میں جو مقفی عبارتیں ہیں ان پر شعر کا اطلاق نہیں ہوسکتا کیونکہ ان عبارتوں کا مقفی ہونا نہ تو قصد و ارادہ کے تحت اور نہ مقصود بالذات ہے۔

4686Mishkaat-al-Masabih

بعض بیان سحر کی تاثیر رکھتے ہیں

عن ابن عمر قال قدم رجلان من المشرق فخطبا فعجب الناس لبيانهما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من البيان لسحرا . رواه البخاري

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن مشرقی علاقے سے دو آدمی اور آپس میں خوب فصاحت و بلاغت کے ساتھ گفتگو کرنے لگے لوگوں نے جب ان کی باتیں سنیں تو ان کی فصیح وبلیغ گفتگو پر بڑی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ بعض بیان سحر کا اثر رکھتے ہیں۔ تشریح یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مشرقی علاقے بنو تمیم کی ایک جماعت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اس جماعت میں دو ایسے شخص بھی تھے جو فصاحت و بلاغت طرز تخاطب اور انداز گفتگو میں بڑی قابلیت اور مہارت رکھتے تھے اس میں ایک کا نام حصین ابن ہدی اور لقب زبرقان تھا دوسرے کا نام عمرو ان ہتم تھا ان دونوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے آپس میں گفتگو کی۔ زبرقان نے اپنے فضائل و اوصاف بیان کرنا شروع کردیئے اور اپنے فخریہ کارناموں کا بڑے زور دار الفاظ اور بڑی فصیح وبلیغ عبارت میں تعارف کرنے لگا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے فلاں فلاں کارنامے انجام دیئے ہیں اور میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں، یہاں تک کہ عمرو بھی اس بات کو جانتا ہے عمرو نے یہ سنا تو اس نے بھی اتنے ہی پر شکوہ انداز اور اتنی ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس کی باتوں کا جواب دیا۔ اور اپنے بیان میں اس کی طرح بڑائیاں ظاہر کیں کہ گویا زبرقان کے بیان کردہ سارے اوصاف و فضائل کو اچھی طرح جانتا ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہے اس کے اندر کی آواز نہیں ہے حقیقت میں اس کو میرے کمالات کا اعتراف ہے مگر حسد نے اس کو میرے خلاف بیان کرنے پر مجبور کردیا ہے اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بعض بیان سحر کی تاثیر رکھتے ہیں جس طرح سحر انسان کی حالت و کیفیت میں تغیر پیدا کردیتا ہے اس طرح بعض بیان بھی اسی نوعیت کا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کے ذہن و دماغ میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی تاثیر دل کو پھیر دیتی ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مذکورہ ارشاد گرامی بیان کی تعریف میں فرمایا اس کی مذمت میں؟ ان اقوال کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ صحیح بات یہ نکلتی ہے کہ اس ارشاد گرامی سے بیان کی تعریف و مذمت دونوں ظاہر ہوتی ہیں اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بعض بیان دلوں کو مائل و منحرف کرنے اور اپنا جواب پیش کرنے سے معذور رکھتے ہیں سحر کی مانند تاثیر رکھتا ہے اور یہ محمود و مستحسن ہے بشرطیکہ اس بیان کا تعلق سچائی کو ظاہر کرنے اور سچائی کو ثابت کرنے سے ہو اور اگر اس کا تعلق باطل و فاسد امور سے ہو تو پھر وہی بیان مذموم ہوگا جیسا کہ ایک حدیث میں شعر کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ الشعر ھو کلام فحسنہ حسن وقبیحہ قبیح، یعنی شعر کلام ہی تو ہے اچھا شعر اچھا کہلائے گا اور برا شعر برا۔

4687Mishkaat-al-Masabih

بعض اشعار حکمت ودانائی کے حامل ہوتے ہیں

وعن أبي بن كعب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من الشعر حكمة . رواه البخاري

اور حضرت ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بعض شعر حکمت (کا حامل) ہوتا ہے۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ سارے اشعار برے نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے بعض اچھے اور فائدہ مند بھی ہوتے ہیں کہ ان کے ذریعہ حکمت و دانائی کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

4688Mishkaat-al-Masabih

کلام میں مبالغہ آرائی کی ممانعت

وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هلك المتنطعون . قالها ثلاثا . رواه مسلم

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کلام میں مبالغہ کرنے والے ہلاکت میں پڑگئے آپ نے یہ الفاظ تین بار فرمائے (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ تحریر اور گفتگو و کلام میں بےجا تکلفات و اہتمام کرنا، عبارت آرائی اور مبالغہ آمیزی کی پابندی اختیار کرنا اور لاحاصل و بےفائدہ باتوں کی آمزش کرنا نہایت برا ہے جب کہ اس کا مقصد اظہار عظمت اور ریا، تضع و بناوٹ، کسی کی بےجا خوشامد و چاپلوسی اور اس کو اپنی طرف مائل و راغب کرنا ہو۔

4689Mishkaat-al-Masabih

ایک مبنی برحقیقت شعر

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد ألا كل شيء ما خلا الله باطل . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؓ نے فرمایا سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے لبید کا یہ کلام ہے کہ مت بھولو، اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہوجانے والی ہے۔ (بخاری، مسلم) تشریح لبید عرب کے بہت مشہور شاعر تھے عربی ادب میں ان کے کلام اور ان کی شاعر کو سند کا درجہ حاصل ہے اللہ نے ان کو اسلام کی ہدایت بھی بخشی اور ان کو قبولیت اسلام کے بعد صحابیت کا شرف حاصل ہوا جس طرح زمانہ جاہلیت میں اپنے فن کی وجہ سے قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اسی طرح زمانہ اسلام میں بہت معزز و مکرم رہے بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بڑی طویل حیات پائی اور تقریبا ایک سو ستاون سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے جس کلام کی تعریف و توصیف فرمائی وہ پورا شعر یوں ہے۔ الکل چیز ماخلا اللہ باطل وکل نعیم لامحالۃ زائل مت بھولو اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہوجانے والی ہے اور دنیا کی ہر لذت و راحت کا آخر کار فنا ہونا ہے یہ مشہور شعر بھی لبید کا ہے ولقد سأامت من الحیوۃ وطولھا وسوال ھذا لناس کیف لبید میں زندگی اور اس کی درازی سے بیزار ہوگیا ہوں اور لوگوں کے بار بار پوچھنے سے کہ لبید کیسا ہے

4690Mishkaat-al-Masabih

علم وحکمت کے حامل اشعار سننا مسنون ہے

وعن عمرو بن الشريد عن أبيه قال ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء ؟ قلت نعم . قال هيه فأنشدته بيتا . فقال هيه ثم أنشدته بيتا فقال هيه ثم أنشدته مائة بيت . رواه مسلم

اور حضرت عمر بن شرید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک دن سفر کے دوران میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے آپ کی سواری پر بیٹھا ہوا تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہیں امیہ بن ابی الصلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں آپ نے فرمایا اچھا سناؤ آپ کو میں نے ایک شعر سنایا آپ نے فرمایا اور سناؤ، میں نے پھر ایک شعر سنایا آپ اسی طرح مزید سنانے کی فرمائش کرتے رہے اور میں سناتا رہا یہاں تک کہ میں نے سو اشعار سنائے (مسلم) تشریح امیہ بن ابی الصلت بھی عرب کا ایک مشہور اور باکمال شاعر تھا اس کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے عہد جاہلیت میں اہل کتاب سے دین سیکھا تھا اور دین داری کی باتیں کرتا تھا، حشر و نشر اور قیامت کے دن پر بھی عقیدہ رکھتا تھا اور اس کے اشعار علم و حکمت اور پند و نصائح سے پر ہوتے تھے، چناچہ آپ نے اس کے بارے میں فرمایا تھا امن شعرہ و کفر قبلہ، یعنی اس کے اشعار سے ایمان جھلکتا ہے اگرچہ اس کا دل کفر میں مبتلا رہا، اس کا ایک خاص مشغلہ یہ تھا کہ آسمانی کتب کا علم رکھنے والوں کے پاس آنا جانا رکھتا اور ان سے ان بشارتوں اور پیشگوئیوں کے بارے میں دریافت کرتا رہتا جو آسمانی کتابوں پر نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے متعلق مذکور تھیں، اس کا گمان تھا کہ اللہ نے اپنی کتابوں میں جن نبی آخرالزمان کی بعثت کی خبر دی ہے وہ میں ہوں اور ایک نہ ایک دن مجھے نبوت کے خلعت فاخرہ سے نوازا جائے گا لیکن جب آسمانی کتب کے عالموں نے اس کو بتایا کہ وہ بنی قریش میں سے ہوں گے اور عاس کو نبی کی صفات تفصیل سے معلوم ہوئیں تو وہ اپنے عقائد و نظریات سے ایک دم پھر گیا اور حسند وعناد کی راہ پر چل کر کہنے لگا کہ مجھے اس نبی پر ہرگز ایمان نہ لانا چاہیے جس کا تعلق قبیلہ ثقیف سے نہ ہو۔ ابن جوزی نے کتاب وفا میں یہ لکھا ہے کہ امیہ ابن ابی الصلت ابتداء میں تو نبی کی بعثت کا انتظار بڑی شدت سے کرتا تھا اور نبی کی نبوت کی جو علامتیں اور اوصاف سنتا تھا ان کی بنا پر یہ آرزو کرتا تھا کہ کاش میں ان کا زمانہ پاؤں اور ان کی خدمت کروں مگر نبی کا جب نور نبوت آشکار ہوا تو اپنی باتوں سے پھر گیا اور بغض وعناد اور سخاوت و سختی کی راہ اختیار کرلی۔ بہرحال مذکورہ بالا حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ جو اشعار علم و حکمت اور پند و نصائح کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کو سننا مسنون ہے اگرچہ ان اشعار کو کہنے والا کوئی کافر و فاسق ہی کیوں نہ ہو۔

4691Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا ایک شعر

وعن جندب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في بعض المشاهد وقد دميت أصبعه فقال هل أنت إلا أصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت متفق عليه

اور حضرت جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی نے ایک جنگ (غزوہ احد) میں شریک تھے کہ معرکہ آرائی کے دوران آپ کی انگلی زخمی ہوگئی اور اس کی وجہ سے خون آلودہ ہوگئی آپ نے بطور استعارہ یا درحقیقت انگلی کو تسلی دیتے ہوئے اس کو مخاطب کر کے یہ شعر فرمایا (بخاری)۔ یعنی تو کیا ہے ایک انگلی ہے خون آلود ہوئی اور پھر تجھ کو یہ جو کچھ ہوا ہے اللہ کی راہ میں ہوا ہے۔ تشریح زخمی اور خون آلود انگلی کو مخاطب کر کے آپ نے جو اشعار ارشاد فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ تو جسم کا کوئی بڑا حصہ نہیں ہے بدن کا کوئی سب سے اہم عضو نہیں ہے ایک معمولی سی انگلی ہے پھر تجھے جو تکلیف ہوئی وہ سخت اور شدید ترین نہیں ہے کہ نہ تو کٹ کر گر پڑی ہے اور نہ ہلاکت میں مبتلا ہوئی ہے تجھ کو صرف زخم پہنچا ہے اور خون آلود ہوگئی ہے اگر تو نے اتنی سی تکلیف اٹھائی ہے اس کی وجہ سے بےتابی اور بےقراری کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ یہ تھوڑی سی تکلیف بھی ضائع جانے والی نہیں ہے بلکہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء میں چونکہ تو نے تکلیف اٹھائی ہے اس لئے تجھ کو اس پر اجر ملے گا اس اعتبار سے یہ تکلیف بھی تیرے لئے خوشی و راحت کا ذریعہ ہونا چاہیے اس ارشاد کے ذریعہ گویا آپ نے امت کے لوگوں کو تلقین فرمائی کہ اگر کسی مسلمان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف و ضرر پہنچے تو اس پر صبر کرنا چاہیے بلکہ حقیقت میں اس کو شکر کا مقام سمجھنا چاہیے کہ اللہ کا عطا کیا ہوا جسم و بدن اسی کی راہ میں قربان کرنے اور تکلیف اٹھانے کی توفیق نصیب ہوئی جو ایک بہت بڑی سعادت ہے۔ اس حدیث کے سلسلے میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ ارشاد ایک شعر ہے جب کہ آپ کی ذات اقدس شعر و شاعری کے وصف سے پاک ہے اور آپ کی ذات سے کسی شعر کا صادر ہونا غیر ممکن ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے بارے میں فرمایا وما علمنہ الشعر، یعنی اور ہم نے آپ کو شعر کہنا سکھایا ہی نہیں، اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ شعر میں شاعر کا قصد و ارادہ بھی شرط ہے یعنی یہ ضرور ہے کہ جس شخص نے کوئی کلام موزوں کیا ہے اس نے موزونیت کا قصد و ارادہ بھی کیا ہو جیسا کہ باب کے شروع میں بیان کیا جا چکا ہے کہ جب نبی کا ارشاد گرامی بلاشبہ موزوں کلام ہے لیکن اس کی موزونیت آپ کے کسی قصد و ارادہ کے تحت نہیں ہوئی، بلکہ قصد و ارادہ اور بےساختہ آپ کی زبان مبارک سے صادر ہونے والا یہ کلام شعر میں ڈھل گیا۔ بعض حضرات نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ کلام اصل رجز کی قسم ہے اور جز پر شعر کا اطلاق نہیں ہوتا، علاوہ ازیں یحییٰ نے یہ کہا ہے کہ جو شخص بطریق ندرت یعنی اتفاقا کبھی کوئی شعر کہہ دے تو اس کو شاعر نہیں کہا جاتا اور اللہ کے ارشاد وماعلمنہ الشعر سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ شاعر نہیں ہیں۔

4692Mishkaat-al-Masabih

مشہور شاعر حسان کی فضیلت

وعن البراء قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم قريظة لحسان بن ثابت أهج المشركين فإن جبريل معك وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان أجب عني اللهم أيده بروح القدس . متفق عليه

اور حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے دن حضرت حسان بن ثابت سے فرمایا کہ تم مشرکین کی ہجو کرو، حضرت جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں (یعنی مضامین کے القاء والہام کے سلسلے میں وہ تمہاری مدد کرتے ہیں) اور رسول اللہ ﷺ جب کفار و مشرکین کی ہجو سنتے کہ وہ آپ کی شان میں نازیبا باتیں کرتے ہیں اور آپ کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں تو حضرت حسان ؓ سے فرما دیتے کہ تم میری طرف سے کفار کو جواب دو اور پھر یہ فرماتے اے اللہ جبرائیل کے ذریعہ حسان ؓ کی مدد کر اور ان کی زبان وبیان میں طاقت و قوت دے۔ تشریح یہودیوں کے ایک قبیلہ کا نام بنو قریظہ تھا جو مدینہ شہر کے ایک کنارے پر آباد تھا جب ان یہودیوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر کے اور کفار عرب کے مددگار بن کر آنحضرت ﷺ اور تمام مسلمانوں کو سخت اذیت پہنچائی تو آنحضرت ﷺ نے غزوہ خندق کے بعد مسلمانوں میں اس قبیلہ کا محاصرہ کرلیا جس کے نتیجے میں ان کو اپنے کیفر کردار تک پہنچنا پڑا چناچہ اس موقع کو قریظہ کے دن سے تعبیر سے کیا گیا ہے۔ حضرت حسان ابن منذر مدینہ کے رہنے والے اور جلیل القدر صحابی انصاری ہیں بڑے اور اونچے درجے کے شاعر تھے شعراء اسلام میں ان کا شمار ہوتا ہے اور شاعر رسول کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ان کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی ساٹھ سال کی عمر تک کفر کی حالت میں رہے اور ساٹھ سال اسلام کی حالت میں گزارے۔

4693Mishkaat-al-Masabih

شعراء اسلام کو کفار قریش کی ہجو کرنے کا حکم

وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل . رواه مسلم

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے شعراء سے فرما دیا تھا کہ کفار قریش کی ہجو کیا کرو کیونکہ یہ ہجو ان پر تیر مارنے سے زیادہ سخت ہے۔ (مسلم) تشریح ہجو، کے معنی اشعار کے ذریعہ برائی بیان کرنا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار اور دشمنان دین کی ہجو کرنا جائز ہے لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ اگر کفار مسلمانوں کی ہجو کریں، تب ان کی ہجو کی جائے اس سے پہلے ان کی ہجو کرنا روا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں وہ مسلمانوں کی ہجو کریں گے اور اس طرح سے مسلمانوں کے خلاف ان کی ہجو کا سبب خود مسلمان بنیں گے اس مسئلہ کی بنیاد پر یہ آیت کریمہ ہے کہ، آیت (وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوً ا بِغَيْرِ عِلْمٍ ) 6۔ الانعام 108)۔ اے مسلمانوں ان لوگوں کو گالی نہ دو جو غیر اللہ کو پکارتے ہیں یعنی کفار و مشرکین، نہیں وہ آگے بڑھ کر اللہ گالیاں دینے لگیں، بغیر علم کے۔

4694Mishkaat-al-Masabih

شعراء اسلام کو کفار قریش کی ہجو کرنے کا حکم

وعنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله . سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هجاهم حسان فشفى واشتفى . رواه مسلم

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت حسان ؓ سے یہ فرماتے ہوا سنا کہ جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف کفار و مشرکین کی ہجو کا مقابلہ کرتے رہتے ہو حضرت جبرائیل برابر تمہاری مدد اعانت کرتے رہتے ہیں حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو کی تو اس ہجو سے مسلمانوں کو شفا دی اور خود بھی شفا پائی، یعنی انہوں نے کفار کی ہجو کا جواب ہجو سے دے کر مسلمانوں کے لئے بھی تسلی و تشفی کا سامان بہم پہنچایا اور خود بھی سکون و طمانیت حاصل کی۔ (مسلم)

4695Mishkaat-al-Masabih

غزوہ خندق میں عبداللہ بن رواحہ کارجزیہ کلام آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر

وعن البراء قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينقل التراب يوم الخندق حتى اغبر بطنه يقول والله لولا الله ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا فأنزلن سكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا إن الأولى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا يرفع بها صوته أبينا أبينا . متفق عليه

اور حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خندق کھودے جانے کے دن خود بنفس نفیس مٹی اٹھا اٹھا کر پھینکتے یعنی غزوہ احزاب کے موقع پر جب خندق کھودی جا رہی تھی تو سرکار دو عالم بنفس نفیس سارے کام میں شریک تھے، صحابہ ؓ کے ساتھ آپ بھی بڑے بڑے پتھر اٹھاتے اور مٹی اٹھا اٹھا کر پھینکتے جاتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شکم مبارک غبار آلود ہوگیا تھا اور اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کا یہ رجزیہ کلام پڑھتے جاتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے۔ خدا کی قسم اگر اللہ کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم راہ راست نہیں پاسکتے تھے نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے تھے۔ پس اے اللہ ہم پر وقار اور اطمینان نازل فرما و رجب دشمنان دین سے ہماری مڈ بھیڑ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ بے شک کفار مکہ نے ہم پر اس لئے زیادتی کی ہے جب وہ ہمیں فتنہ میں مبتلا کرنے یعنی کفر کی طرف واپس لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ ان اشعار کو بلند آواز سے پڑھتے تھے خصوصا ابینا ابینا پر آواز بلند ہوجاتی تھی۔ تشریح یرفع بھا صوتہ میں بھا کی ضمیر لفظ ابینا کی طرف راجع ہے اور ابینا ابینا سے پہلے لفظ قائلا مقدر ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ان اشعار کو پڑھتے تو اخر میں لفظ ابینا کو بار بار دہراتے اور اس وقت آپ کی آواز کو زیادہ بلند کرتے اور اس سے مقصد اس لفظ کے مفہوم کو مؤ کد کرنا، تلذذ و حظ حاصل کرنا اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں اور کافروں کے کانوں تک پہنچانا تھا۔ طبی نے یہ لکھا ہے کہ بھا کی ضمیر ان اشعار کی طرف راجع ہے اور ابینا ابینا اس جملہ میں حال واقع ہو رہا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آپ تمام اشعار کو باآواز بلند پڑھتے تھے اور لفظ ابینا پر پہنچ کر آواز کو خصوصیت سے بلند کردیتے تھے۔

4696Mishkaat-al-Masabih

غزوہ خندق کے موقع پر رجز پڑھنے والے صحابہ کے حق میں آنحضرت ﷺ کی دعا

وعن أنس قال جعل المهاجرون والأنصار يحفرون الخندق وينقلون التراب وهم يقولون نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا أبدا يقول النبي صلى الله عليه وسلم وهو يجيبهم اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة فاغفر للأنصار والمهاجرة متفق عليه

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ جب غزوہ احزاب کے موقع پر مہاجرین اور انصار نے خندق کھودنا اور مٹی کو اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کیا تو وہ اس دوران یہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک جہاد کرتے رہنے کے لئے محمد کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ اور رسول اللہ ان کے اس رجز کے جواب میں یہ دعا فرماتے جاتے تھے کہ اے اللہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے تو انصار و مہاجرین کو بخش دے۔ (بخاری، مسلم) تشریح ا نحضرت ﷺ گویا ان دعائیہ الفاظ کے ذریعہ صحابہ کو تسلی دیتے تھے کہ تمہیں اس موقع پر جو محنت و مشقت برداشت کرنا پڑ رہی ہے اور تم جن سخت حالات سے دوچار ہو ان پر صبر کرو اللہ تعالیٰ کا انعام تمہارے لئے مقدر ہے اور اس دنیا میں تمہیں راحت و سکون ملے یا نہ ملے لیکن آخرت کی زند گی میں تمہیں اپنی اس محنت و مشقت کے عوض بیشمار انعامات ملیں گے نیز اصل انعامات آخرت ہی کے ہیں بایں طور کہ زندگی بس آخرت ہی کی زندگی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے جب کہ اس دنیا کی کیا راحت و کیا مصیبت سب کو آخرکار معدوم ہوجانا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت (وماالحیوۃ الدنیا الامتاع الغرور)۔

4697Mishkaat-al-Masabih

ہر وقت شعر و شاعری میں مستغرق رہنے اور برے شعر کی مذمت

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأن يمتلىء جوف رجل قيحا يريه خير من أن يمتلئ شعرا متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یاد رکھو! کسی شخص کا پیٹ کو پیپ سے بھرنا جو اس کے پیٹ کو خراب کر دے اس سے بہتر ہے کہ پیٹ کو مذموم اشعار سے بھرا جائے۔ (بخاری، مسلم) تشریح اس حدیث کے ذریعہ ایسی شاعری کی مذمت کی گئی ہے جو انسان کو ہر طرف سے غافل کر دے چناچہ جو شاعر ہر وقت مضامین بندی اور تخلیق شعر میں مستغرق رہ کر فرائض و عبادت و تلاوت قرآن و ذکر الٰہی اور علوم شرعیہ سے غافل ہوجاتے ہیں ان کے اشعار برائی اور قابل نفرین ہونے کے اعتبار سے اس پیپ سے بھی بدتر ہیں جو زخم میں پڑجاتی ہے خواہ وہ اشعار کسی بھی طرح کے ہوں اور کیسے بھی اچھے مضامین کے حامل کیوں نہ ہوں۔ یا اس سے ارشاد گرامی میں محض ان اشعار کی مذمت مراد ہے جو فحش و بےحیائی، کفر و فسق اور ناشائستہ وغیر صالح مضامین پر مشتمل ہونے کی وجہ سے برے اشعار کہتے جاتے ہیں۔

4698Mishkaat-al-Masabih

شعری جہاد کی فضیلت

عن كعب بن مالك أنه قال للنبي صلى الله عليه وسلم إن الله تعالى قد أنزل في الشعر ما أنزل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه والذي نفسي بيده لكأنما ترمونهم به نضح النبل رواه في شرح السنة . وفي الاستيعاب لابن عبد البر أنه قال يا رسول الله ماذا ترى في الشعر ؟ فقال إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه

اور حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ نے شعر و شاعری کے حق میں جو حکم دیا ہے وہ آیت ظاہر ہے جو اس نے نازل فرمائی ہے؟ آنحضرت ﷺ نے ان کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ مومن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم کافروں کو اشعار کے ذریعہ اسی طرح زخم پہنچاتے ہو جس طرح تیروں کے ذریعہ۔ (محی السنہ) اور عبدالبر کی کتاب استیعاب میں یوں ہے کہ حضرت کعب ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ شعر و شاعری کے متعلق آپ کیا حکم فرماتے ہو یہ کوئی اچھی چیز ہے یا بری؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مومن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی۔ تشریح علماء نے لکھا ہے کہ تین حضرات شعراء اسلام میں ممتاز اور برتر حثییت رکھتے ہیں ان میں ایک تو حضرت حسان بن ثابت ؓ تھے دوسرے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ اور تیسرے حضرت کعب بن مالک ؓ عنہ۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ تینوں حضرات اپنا الگ الگ شعری انداز و رخ رکھتے ہیں حضرت کعب ؓ کے اشعار خصوصیت سے ایسے مضامین پر مشتمل ہوتے تھے جو کفار و مشرکین کو جنگ و جہاد کے خوف میں مبتلا کرتے تھے اور ان کے دلوں پر رعب وہیبت کے اثرات مرتب کرتے تھے، حضرت حسان ؓ اپنے اشعار کے ذریعہ دشمنان دین اور دشمنان رسول کے حسب و نسب پر طعن وتشنیع کے تیر چلاتے تھے اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے اشعار کا رخ کفار مشرکین کی توبیخ و سرزنش کی طرف رہتا تھا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ نے قرآن کریم کی یہ آیت (وَالشُّعَرَا ءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاو نَ ) 26۔ الشعراء 224)، نازل فرمائی اور اس کے ذریعہ شعر و شاعری کی برائی اور اپنے احوال کے ذریعہ ان پر ظاہر فرمایا کہ شعر و شاعری بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ اس میں برائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کو غیر شرعی باتوں اور نامناسب مضامین کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے اور چونکہ عام طور پر شعراء فکر و خیال کی گمراہی اور زبان کلام کی بےاعتدالیوں کا شکار ہوتے ہیں اس لئے اللہ نے اس کی مذمت میں مذکورہ آیت نازل فرمائی ورنہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کوئی شخص اپنے اشعار کو حق و صداقت کے اظہار باطل و ناحق کی تردید کا ذریعہ بنائے تو اس کی شعر و شاعری اس آیت کا محمول نہیں ہوگی بلکہ جو شعراء اپنے اشعار کے ذریعہ اللہ اور اللہ کے رسول کی خاطر کفار کا شعری مقابلہ کرتے ہیں اور ان کی ہجو کا جواب ہجو دے دے کر گویا دین اسلام کی تائید کرتے ہیں وہ دراصل جہاد کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں لہذا تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ نہ تمہارے اشعار اس آیت کی روشنی میں قابل مذمت ہیں اور نہ تم ان شعراء میں داخل ہو جن کی برائی ظاہر کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی گئی ہے کیونکہ خود اللہ نے تم جیسے شعراء کو اپنے اس قول کے ذریعہ مذکورہ آیت کے حکم سے باہر رکھا ہے کہ۔ آیت (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا) 26۔ الشعراء 227)

4699Mishkaat-al-Masabih

کم گوئی ایمان کی نشانی ہے۔

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال الحياء والعي شعبتان من الإيمان والبذاء والبيان شعبتان من النفاق . رواه الترمذي

اور حضرت ابوامامہ آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا شرم و حیاء اور زبان کو قابو میں رکھنا ایمان کی دو شاخیں ہیں جب کہ فحش گوئی اور لاحاصل بکو اس نفاق کی دو شاخیں ہیں۔ (ترمذی) تشریح شرم و حیاء کا ایمان کی شاخ ہونا ایک ظاہر و معروف بات ہے اور اس کا تفصیلی ذکر باب الایمان میں گزر چکا ہے۔ زبان کو قابو میں رکھنے کا ایمان کی شاخ ہونا اور فحش گوئی و لا حاصل بکو اس کا نفاق کی شاخ ہونا اس اعتبار سے ہے کہ مومن اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرم و حیاء انکساری مسکینی و سلامتی طبع کے جن اوصاف سے مزین ہوتا ہے وہ اپنے اللہ کی عبادت اپنے اللہ کی مخلوق کی خدمت اور اپنے باطن کی اصلاح میں جس طرح مشغول و منہمک رہتا ہے اس کی بناء پر اس کے بےفائدہ تقریر بیان پر قدرت ہی حاصل نہیں ہوتی وہ اس بات پر قادر ہی نہیں ہوتا کہ اپنے مفہوم و مدعا کو مبالغہ آرائی اور زبان کی تیز و طرار کے ذریعہ ثابت و ظاہر کرسکے بلکہ وہ اس خوف سے کم گوئی کو اختیار کرتا ہے اور اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے کہ مبادا زبان سے کوئی بڑی بات نکل جائے اور وہ فحش گوئی اور بد زبانی کا مرتکب ہوجائے اس کے برخلاف منافق کی شان ہی ہوتی ہے کہ وہ چرب زبانی یا وہ کوئی اور مبالغہ آمیزی کی راہ اختیار کرتا ہے اور نتیجہ کے طور پر وہ بےفائدہ تقریر وبیان، زبان درازی اور فحش گوئی پر قادر و دلیر ہوجاتا ہے۔

4700Mishkaat-al-Masabih

بے فائدہ بیان آرائی مکروہ ہے۔

وعن أبي ثعلبة الخشني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن أحبكم إلي وأقربكم مني يوم القيامة أحاسنكم أخلاقا وإن أبغضكم إلي وأبعدكم مني مساويكم أخلاقا الثرثارون المتشدقون المتفيقهون . رواه البيهقي في شعب الإيمان وروى الترمذي نحوه عن جابر وفي روايته قالوا يا رسول الله قد علمنا الثرثارون والمتشدقون فما المتفيقهون ؟ قال المتكبرون . ( حسن )

اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مجھ کو سب سے زیادہ عزیز و محبوب اور میرے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے زیادہ خوش اخلاق ہیں اور میرے نزدیک تم میں سے سب سے برے اور مجھ سے سے سب سے زیادہ وہ دور لوگ ہوں گے جو تم میں بد اخلاق ہیں، بد اخلاق سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہت بنا بنا کر باتیں کرتے ہیں بغیر احتیاط کے بک بک لگاتے ہیں اور متفیہقین اس روایت کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور ترمذی نے بھی حضرت جابر ؓ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے نیز ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ صحابہ نے یہ ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ثرثارون اور متشدقون کے معنی تو ہمیں معلوم ہیں متفیھقون سے کیا مراد ہے یعنی متفیھق کسے کہتے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تکبر کرنے والے۔ تشریح فیھق،، ضرورت سے زیادہ باتیں کرنا اور منہ پھیر کر کوئی بات کہنے کو کہتے ہیں جیسا کہ تکبر وغیرہ میں مبتلا لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو وہ کسی سے بات چیت کرتے ہیں تو ان کے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے مخاطب کو بہت حقیر و ذلیل سمجھ رہے ہوں اور یہ بھی گوارا نہیں ہو رہا ہے کہ اس کی طرف منہ اٹھا کر ہی بات کریں بلکہ اس کی طرف سے چہرہ پھیر پھیر کر بات کرتے ہیں چناچہ اسی معنوی لزوم کی وجہ سے متفیھقین کی وضاحت متکبرین کے ذریعہ کی گئی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بک بک لگانا، بےفائدہ و لا حاصل گفتگو کرنا بنا بنا کر باتیں کرنا اور بیا آرائی و مبالغہ آمیزی کے ساتھ تقریریں کرنا مکروہ مذموم ہے لیکن حق کے تئیں لوگوں کے ذہن و فکر کو متاثر کرنے قلوب کو نرمانے اور عبادات و طاعات کی طرف سے متوجہ و راغب کرنے کے لئے وعظ و نصیحت میں جو بیان آرائی کی جائے اور طول بیان کی جاتی ہے وہ مذموم و مکروہ نہیں ہے لیکن اس صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ کہ انداز بیان اور طرز کلام ایسا اختیار کرنا چاہیے کہ جو آسانی سے لوگوں کو مقصد تک پہنچا دے اس کے برخلاف پیچیدہ و رقیق انداز مشکل لغات و الفاظ اور ایسی نکتہ چینی و حکمت آفرینی اختیار کرنا جو عام ذہن و فہم سے بالا تر ہو اور جس کی وجہ سے ان پڑھ لوگ اس کے وعظ و تقریر سے کما حقہ فائدہ نہ اٹھا سکیں مناسب موزوں نہیں ہے۔

4701Mishkaat-al-Masabih

ایک پیش گوئی

وعن سعد بن أبي وقاص قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يخرج قوم يأكلون بألسنتهم كما تأكل البقرة بألسنتها رواه أحمد

اور حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ ایک ایسی جماعت پیدا نہیں ہوجائے گی جو اپنی زبانوں کے ذریعہ اس طرح کھائے گی جس طرح گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں (احمد) تشریح ۔ مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اپنی زبانوں کو کھانے پینے کا وسیلہ و ذریعہ بنائیں گے بایں طور کہ وہ خوشامد چاپلوسی کی خاطر لوگوں کی جھوٹی تعریفیں بیان کریں گے یا بغض وحسد کی بنا پر ان کی جھوٹی مذمت کریں اور وہ اپنی تقریر و تحریر میں زبان وافی اور فصاحت و بلاغت کا جھوٹا مظاہرہ کریں گے تاکہ لوگ اپنے دام فریب میں مبتلاکریں اور ان سے دنیا کا مال وزر حاصل کریں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کرائیں۔ جس طرح گائیں اپنی زبان کے ذریعے کھاتی ہیں کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح گائیں اپنی زبان سے کھاتی ہیں اور چارا چرتے وقت یہ تمیز نہیں کرتیں کہ وہ چارہ خشک ہے یا تر اور شیریں ہے یا تلخ اور جائز ہے کہ ناجائز، اسی طرح وہ لوگ بھی جو اپنی زبانوں کو اپنے ناجائز مقاصد اور ناروا خواہشات کی تکمیل کا وسیلہ و ذریعہ بنائیں گے، حق و باطل اور سچ جھوٹ کے درمیان قطعا کوئی تمیز نہیں کریں گے اور نہ حلال و حرام کے درمیان کوئی فرق کریں گے۔

4702Mishkaat-al-Masabih

زبان دراز اور چکنی چپڑی باتیں کرنے والا اللہ کا ناپسندیدہ ہے۔

وعن عبدالله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه كما يتخلل الباقرة بلسانها . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي هذا حديث غريب

اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص سخت ناپسندیدہ ہے جو کلام وبیان میں حد سے زیادہ فصاحت و بلاغت کا مظاہرہ کرے بایں طور کہ وہ اپنی زبان کو اس طرح لپیٹ لپیٹ کر باتیں کرے جس طرح گائے اپنے چارے کو لپیٹ لپیٹ کر جلدی جلدی اپنی زبان سے کھاتی ہیں اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ۔ مطلب یہ ہے کہ زبان درازی اور طاقت نسائی کوئی اچھی چیز نہیں ہے اپنی زبان اور کلام میں خواہ مخواہ کے لئے حد سے زیادہ فصاحت و بلاغت کا مظاہرہ کرنا، حاشیہ آرائی اور مبالغہ آمیزی کے ساتھ اپنی بات کو پیش کرنا اور الفاظ کو چباچباکر اور زبان کو لپیٹ لپیٹ کر چکنی چپٹی باتیں کرنا احمق لوگ کے نزدیک تو ایک وصف سمجھا جاتا ہے لیکن جو دانش مند اور عاقل لوگ اس وصف کے پیچھے چھپی ہوئی برائی کو دیکھتے ہیں کہ عام طور پر اس طرح باتیں بنانے والے لوگ جھوٹے اور حیلہ باز ہوتے ہیں ان کے نزدیک اس وصف کا کوئی اعتبار نہیں اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے لہذا چھا کلام وہی ہے جو ضرورت کے بقدر اور سیدھا سادا ہو نیز جس سے یہ واضح ہو کہ متکلم کے ظاہری الفاظ، اس کی باطنی کیفیات کے ہم آہنگ ہیں جو شریعت کا تقاضا بھی ہے۔

4703Mishkaat-al-Masabih

بے عمل واعظ وخطیب کے بارے میں وعید

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مررت ليلة أسري بي بقوم تقرض شفاههم بمقاريض النار فقلت يا جبريل من هؤلاء ؟ قال هؤلاء خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہو جن کی زبانیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جارہی تھیں، میں نے یہ دیکھ کر پوچھا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یہ کون لوگ ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ آپ کی امت کے واعظ وخطیب ہیں جو ایسی باتیں کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی) تشریح ۔ اس حدیث میں ان واعظوں اور خطیبوں کے لئے سخت تنبیہ وعید ہے جو دوسروں کو نیک کام کرنے کو کہتے ہیں لیکن خود نیک کام نہیں کرتے تاہم واضح رہے کہ یہ حدیث ان واعظوں اور خطیبوں کی بےعملی کی مذمت کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ اس ارشاد کا مقصد اس بات کی برائی کو بیان کرنا ہے کہ وہ نیک کام کے لئے کیوں کہتے ہیں اگرچہ وہ خود نیک کام نہیں کرتے اسی بنیاد پر علماء لکھتے ہیں کہ امربالمعروف میں فعل شرط نہیں ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ نیک کام کے لئے وہی شخص کہہ سکتا ہے جو خود بھی اس پر عمل کرے البتہ یہ بہتر ہے کہ امربالمعروف کرنے والا اپنے کہے پر خود بھی عمل کرے، کیوں کہ جس امر بالمعروف کی بنیاد محض قول پر ہوتی ہے عمل پر نہیں ہوتی اس کا اثر نہیں ہوتا۔

4704Mishkaat-al-Masabih

چرب زبانی کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تعلم صرف الكلام ليسبي به قلوب الرجال أو الناس لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا . رواه أبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس مقصد کے لئے گھما پھرا کر بات کرنے کا سلیقہ سیکھے کہ وہ اس کے مردوں کے دلوں یا لوگوں کے دلوں پر قابو حاصل کرلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ اس کی نفل عبادت قبول کرے گا اور نہ فرض۔ تشریح ۔ مذکورہ وعید کا تعلق اس شخص سے ہے جو چرب زبانی کرے ضرورت سے زیادہ باتیں بنائے اپنے مقصد کو اس طرح گھما پھرا کر بیان کرے کہ حقیقت ظاہر نہ ہوسکے اور یا اپنے کلام کو ضرورت سے زیادہ فصاحت و بلاغت نیز مبالغہ آرائی کے ساتھ آراستہ و مزین کرے اور ان چیزوں محض یہ ہو کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی باتوں سے اثر قبول کرکے اس کے مقصد کو پوراکریں۔