وعن عمرو بن العاص أنه قال يوما وقام رجل فأكثر القول . فقال عمرو لو قصد في قوله لكان خيرا له سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لقد رأيت أو أمرت أن أتجوز في القول فإن الجواز هو خير . رواه أبو داود
اور حضرت عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن انہوں نے اس وقت فرمایا جب کہ ایک شخص (وعظ کہنے یا خطبہ دینے کے لئے کھڑا ہوا اور اپنی فصاحت و بلاغت کے اظہار کی خاطر) بہت لمبی تقریر کی یہاں تک کہ سننے والے اکتا گئے چناچہ اس وقت حضرت عمر ؓ نے اس شخص سے فرمایا کہ اگر تم اپنی تقریر میں اعتدال ومیانہ روای سے کام لیتے تو بیشک وہ تقریر سننے والوں کے حق میں بہت بہتر ہوتی ہے میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سمجھ لیا ہے یا یہ فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تقریر میں گفتگو میں اختصار کروں حقیقت یہ ہے کہ مختصر تقریر بہتر ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
۔ روایت میں فقال عمرو کے الفاظ طول کلام کے سبب مکرر نقل کئے گئے ہیں کیونکہ ولوقصد۔ الخ۔۔ مقولہ ہے کہ قال یوما کا اور قام رجل حال ہے اور ظاہر ہے کہ حال کی وجہ سے قول ومقولہ کے درمیان خاصا فرق ہوگیا اس لئے فقال عمرو دوبارہ کہہ کر گویا قول کا اعادہ کیا۔
وعن صخر بن عبد الله بن بريدة عن أبيه عن جده قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن من البيان سحرا وإن من العلم جهلا وإن من الشعر حكما وإن من القول عيالا . رواه أبو داود
اور حضرت صخرا بن عبداللہ ابن بریدہ اپنے والد (حضرت عبداللہ) سے اور وہ صخر کے دادا حضرت بریدہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض بیان جادو کی مانند ہوتے ہیں بعض علم جہالت ہوتے ہیں بعض اشعار فائدہ مند یعنی حکمت و دانائی سے پر ہوتے ہیں اور بعض قول و کلام وبال جان ہوتا ہے۔ (ابوداؤد)۔
تشریح
۔ بعض علم جہالت ہوتے ہیں کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی شخص نے ایسا علم حاصل کیا جو بذات خود نہ تو فائدہ مندہو اور نہ اس کی طرف احتیاج و ضرورت ہو جیسے علم جعفر و رمل یا علم نجوم وفلاسفہ وغیرہ اور اس بےفائدہ علم میں مشغولیت کی وجہ سے وہ ضروری علوم حاصل کرنے سے محروم رہا ہے جن سے لوگوں کی احتیاج و ضرورت وابستہ ہوتی ہے جیسے قرآن و حدیث اور دین کے علوم، تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں یہی کہا جائے گا کہ اس شخص نے جو بےفائدہ علم حاصل کیا اس علم نے دوسرے ضروری علوم سے اس کی محرومی و جاہل رکھا ہے جس کا حاصل یہ ہو کہ بعض علوم درحقیقت جہل کو لازم کرتے ہیں اور اسی اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ بعض علم جہالت ہوتے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ علم حاصل کرنے والا اپنے علم پر عمل پیرا نہ ہوا، اس اعتبار سے وہ شخص عالم ہونے کے باجود جاہل قرار پائے گا کیوں کہ جو شخص علم رکھے اور عمل نہ کرے تو وہ گویا جاہل ہے۔ علاوہ ازیں اس ارشاد گرامی سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو شخص علم کا دعوی کرتا ہے اور اپنے گمان کے مطابق خود کو عالم سمجھتا ہے مگر حقیقت میں وہ عالم نہیں ہے تو اس کا یہ علم جس کا اس نے دعوی کیا ہے علم نہیں ہے بلکہ سراسر جہالت ونادانی ہے۔ بعض قول و کلام وبال جان ہوتا ہے، کا مطلب ہے کہ کسی شخص نے کوئی ایسی بات کہی جس کی وجہ سے وہ خود کسی آفت میں مبتلا ہوگیا یا جس شخص نے اس بات کو سنا وہ کسی ملال ودل براشتگی میں مبتلا ہوگیا، بایں طور کہا اگر وہ سننے والاجاہل تھا تو وہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور اگر عالم تھا تو اس کے لئے لاحاصل تھی یا وہ کوئی ایسی بات جس کو سننے والا پسند نہیں کرتا اور اس بت کی وجہ سے اس کو رنج وملال ہوتا ہے تو ان صورتوں میں یہی کہا جائے گا کہ کہنے والے وہ قول و کلام وبال وملال کا ذریعہ بن گیا ہے۔
عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع لحسان منبرا في المسجد يقوم عليه قائما يفاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أوينافح . ويقول رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله يؤيد حسان بروح القدس ما نافح أو فاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی میں مشہور شاعر اسلام حضرت حسان کے لئے منبر رکھوا دیتے جس پر وہ کھڑے ہو کر اپنے اشعار سناتے اور ان اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اظہار فخر کرتے تھے یا یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے کفار کے دین مخالف اشعار اور ہجو کا مقابلہ کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ حسان ؓ کی تائید کرتا ہے جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یا یہ الفاظ ہیں کہ جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اظہار فخر کرتے ہیں۔ (بخاری)۔
وعن أنس قال كان للنبي حاد يقال له أنجشة وكان حسن الصوت . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم رويدك يا أنجشة لا تكسر القوارير . قال قتادة يعني ضعفة النساء . متفق عليه
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ایک حدی خواں تھے جن کا نام ابخشہ تھا وہ بہت خوش آواز تھے ایک سفر کے دوران آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ابخشہ اونٹوں کو آہستہ آہستہ ہانکو اور شیشوں کو نہ توڑو۔ حضرت قتادہ ؓ حدیث کے ایک راوی کہتے ہیں کہ شیشوں سے آنحضرت ﷺ کی مراد عورتیں تھیں۔ (بخاری) حدی صراح کے مطابق اس بلند آواز گانے کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ اونٹوں کو ہانکا جاتا ہے لغت کی بعض دوسری کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ حدی، عرب شتربانوں کے نغمہ کو کہتے ہیں چناچہ عرب میں دستور ہے کہ شتربان اونٹ ہانکنے والاجب یہ دیکھتا ہے کہ اس کا اونٹ تھک گیا ہے یا اس کی چال سست ہوگئی ہے تو بلند آواز اور خوش گوئی کے ساتھ گانے لگتا ہے اس گانے کی آواز گویا اونٹ میں چستی و گرمی پیدا کردیتی ہے جس سے وہ تیز رفتاری کے ساتھ چلنے لگتا ہے کتابوں میں لکھا ہے کہ حدی جو گانے ہی کی ایک قسم ہے مباح ہے اور اس کے بارے میں علماء میں سے کسی کا کوئی اختلافی قول نہیں ہے۔ قواریر قارورہ کی جمع ہے جس کے معنی شیشہ کے ہیں، اس ارشاد گرامی شیشوں کو نہ توڑو کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ عورتوں کے بدن میں جو فطری نزاکت و کمزوری ہوتی ہے اس کی بنا پر اونٹوں کا تیز چلنا اور ہچکولے لگنا ان کے سخت تعجب و تکلیف کا موجب بن جاتا ہے لہذا آنحضرت ﷺ نے اپنے شتربان ابخشہ کو حکم دیا کہ اونٹ کو اتنی تیزی کے ساتھ نہ بھگاؤ کہ اس پر سوار عورتیں ہچکولے کھانے لگیں اور اس کی وجہ سے ان کو تکلیف و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس ارشاد گرامی کے ذریعہ عورتوں کے دل کی کمزوری ونرمی کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا یعنی آنحضرت ﷺ نے ابخشہ کو ہدایت کی اس طرح حدی خوانی نہ کرو جس سے عورتوں کے دل کمزور، متاثر ہوجائیں اور تمہارے گانے کی وجہ سے ان کے ذہن و دماغ اور جذبات میں ہلچل پیدا ہوجائے اور وہ کسی برے خیال میں مبتلا ہوجائیں کیونکہ گانے کی خاصیت ہی یہ ہے کہ وہ طبیعت کو بھڑکاتا ہے اور جذبات میں ہلچل مچا دیتا ہے اگرچہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس موقع پر یہ ارشاد فرمایا اس وقت اونٹ پر ازواج مطہرات میں سے کوئی زوجہ مطہرہ سوار ہوں گی اور اس صورت میں مطلب غیر موزوں معلوم ہوتا ہے کیونکہ مذکورہ احتمال یعنی گانے کی آواز سن کر جذبات میں ہلچل پیدا ہوجانا ازواج مطہرات کے حق میں نہایت کمزور ضعیف ہے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کسی برے خیال کا پیدا ہوجانا اور طبیعت و دل کا کسی وسوسے میں مبتلا ہوجانا ایک طبعی چیز جو کسی انسان کے اختیار کی پابند نہیں ہے لہذا آنحضرت ﷺ نے اس کو مناسب سمجھا کہ احتیاط کی راہ ظاہر فرمادیں کہ بہر صورت احتیاط کی راہ اختیار کرنا ہی بہتر ہے اور اولی ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق درحقیقت امت کے لوگوں کو تعلیم و تلقین سے ہے یعنی آپ نے اس موقع پر مذکورہ ارشاد کے ذریعہ پوری امت کو ہدایت فرمائی کہ جب اونٹ پر عورتیں سوار ہوں تو ان کی موجودگی کو ملحوظ رکھاجائے اور حدی خوانی میں احتیاط و مصلحت کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اوپر جو دو معنی بیان کئے گئے ہیں ان میں سے دوسرے مطلب کو اکثر شارحین نے ترجیح دی ہے لیکن روایت کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ پہلا مطلب صحیح ماناجائے۔
شعر کی خوبی وبرائی کا تعلق اس کے مضمون سے ہے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم الشعر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هو كلام فحسنه حسن وقبيحه قبيح . رواه الدارقطني . وروى الشافعي عن عروة مرسلا
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے شعر کا ذکر کیا گیا، یعنی یہ دریافت کیا گیا شعر و شاعری کوئی اچھی چیز ہے یا بری؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شعر بھی ایک کلام ہے چناچہ اچھاشعر اچھاکلام ہے اور برا شعر برا کلام ہے۔
تشریح
۔ شعروشاعری کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے اور حدیث بھی اسی بات کو واضح کرتی ہے کہ شعر کہنا یا پڑھنا سننا بذات خود کوئی برائی نہیں رکھتا بلکہ اس کی اچھائی اور برائی کا دارومدار شعر کے مضمون پر ہوتا ہے اگر شعر کا مضمون ایسا ہے جو شریعت کے حکم ومنشاء اور دینی تقاضوں کے خلاف نہیں ہے تو اس شعر میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ ایسے مضمون کا حامل شعر کہا اور سناجائے جس سے دین کی بات پھیلتی اور ثابت ہوتی ہے یا جس سے اللہ کی وحدانیت رسول ﷺ کی محبت ومنقبت اور دین وخادمان دین کی عظمت ظاہر ہوتی ہو تو یقینا ایساشعر مستحسن و محمود بھی ہوگا اس کے برخلاف جس شعر کا مضمون شریعت کے حکم ومنشاء کے خلاف ہو تو اس کو برا کہا جائے گا۔
وعن أبي سعيد الخدري قال بينا نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعرج إذ عرض شاعر ينشد . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم خذوا الشيطان أو أمسكوا الشيطان لأن يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا . رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر کے دوران عرج میں تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے سے نمودار ہوا جو اشعار پڑھنے میں مشغول تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ اس شیطان کو پکڑ لو یا یہ فرمایا کہ اس شیطان کو جانے دو یعنی اس کو شعر پڑھنے سے روک دیا، یاد رکھو! انسان کا اپنے پیٹ کو پیپ سے بھرنا اس میں اشعار بھرنے سے بہتر ہے۔ (مسلم)
تشریح
۔ عرج، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان راستہ میں پڑنے والی ایک گھاٹی کا نام ہے جہاں ایک چھوٹی سی بستی بھی ہے اس راستے پر چلنے والے قافلے یہاں منزل کرتے تھے آنحضرت ﷺ بھی سفر ہجرت اور حجۃ الوداع میں اس جگہ سے گزرے تھے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ حجۃ الوداع کے سفر کے دوران کا ہے۔ بہرحال جب آنحضرت ﷺ نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ شعر پڑھنے میں بری طرح مشغول ہے یہاں تک کہ اس کو وہاں موجود مسلمانوں کی طرف بھی کوئی التفات نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے آنحضرت ﷺ اور تمام مسلمانوں سے صرف نظر کئے ہوئے بےمحابا چلا جارہا ہے۔ اور اس کو شوق شعر و شاعری نے اس درجہ بےباک بنادیا ہے کہ وہ انسانی اور اخلاقی تقاضوں اور آداب زندگی کو فراموش کر بیٹھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے رگ وپے میں صرف شعر و شاعری ہی سرایت کئے ہوئے اور وہ پرلے درجے کا بےحیاء وبے ادب بن گیا ہے تو آپ ﷺ نے اس کو شیطان فرمایا جس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ یہ شخص رحمت الٰہی اور قرب الٰہی سے بعد اختیار کئے ہوئے اور ظاہر ہے کہ اس سے صورت حال کا صدور محض اس لئے ہوا کہ وہ اپنی شعروشاعری کے غرور نخوت میں مبتلا تھا اس لئے آپ نے شعر کی مذمت کی۔
راگ لگانا، نفاق کو پیدا کرتا ہے
وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا راگ و گانا دل میں نفاق کو اس طرح اگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ (بہیقی)
تشریح
۔ مطلب یہ ہے کہ راگ وگاناانسانی قلب وروح کے لئے ایک آزار ہے کہ جس کا ثمرہ نفاق ہے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ راگ و گانا انسان میں نفاق و فساد باطن کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ دیلمی کی روایت میں حضرت انس ؓ سے آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی یوں نقل کیا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ راگ و گانا اور کھیل کود یہ دونوں نفاق کو اس طرح اگاتے ہیں جس طرح پانی سبزی کا اگاتا ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے قرآن اور ذکر الٰہی یہ دونوں قلب میں ایمان کو اس طرح اگاتے ہیں جس طرح پانی سبزی کو اگاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ راگ وگانے اور کھیل کود جیسی لاحاصل چیزوں سے اجتناب کرے بلکہ اپنے اوقات کو تلاوت قرآن اور ذکرالہی سے معمور رکھے کیوں کہ یہ چیزیں قلب وروح کو جلا بخشتی ہیں اور ایمان و اخلاق کو مضبوط بناتی ہیں۔ نووی (رح) نے کتاب روضہ میں لکھا ہے کہ محض آواز کے ساتھ گانا مکروہ ہے اور اس کا سننا بھی مکروہ ہے نیز اجنبی عورت سے سننا سخت مکروہ ہے اور ساز جیسے عود وطنبور اور دیگر باجوں کے ساتھ شراب نوشوں کا خاص مشغلہ ہوتا ہے حرام ہے اور اس کا سننا بھی حرام ہے۔
باجے گا جے کی آواز آئے تو کانوں میں انگلیاں ڈال لو
وعن نافع رحمه الله قال كنت مع ابن عمر في طريق فسمع مزمارا فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر ثم قال لي بعد أن بعد يا نافع هل تسمع شيئا ؟ قلت لا فرفع أصبعيه عن أذنيه قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع صوت يراع فصنع مثل ما صنعت . قال نافع فكنت إذ ذاك صغيرا . رواه أحمد وأبو داود
اور حضرت نافع تابعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ راستہ میں تھا یعنی ہم دونوں کہیں جارہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ حضرت ابن عمر ؓ نے کوئی آواز سنی اور فورا اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیں نیز راستہ سے ہٹ کر دوسری طرف ہولیے تاکہ اس آواز سے اپنے آپ کو بچاسکیں پھر اس راستہ سے ہٹنے کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ نافع کیا تم بھی کچھ سن رہے ہو یعنی کہ جو آواز آرہی تھی وہ اب بھی آرہی ہے یا بند ہوگئی ہے؟ میں نے کہا نہیں اب وہ آواز بند ہوگئی ہے انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں سے نکال لیں اور پھر بیان کیا کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ ﷺ نے نے کی آواز سنی اور پھر آپ ﷺ نے یہی کیا جو اس وقت میں نے کیا ہے۔ حضرت نافع (رح) کہتے ہیں کہ اس وقت میں ایک چھوٹی عمر کا لڑکا تھا۔ (احمد، ابوداؤد)
تشریح
۔ حضرت نافع (رح) نے جو اس روایت کے آخر میں جو یہ واضح کیا کہ میں نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے وہ اس وقت کا ہے جب میں بہت چھوٹا تھا اس سے ان کا مقصد اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اس وقت چونکہ میں چھوٹی عمر کا تھا اور شرعی طور پر مکلف نہیں تھا اس لئے حضرت ابن عمر ؓ نے اس آواز کو سننے سے مجھ کو منع نہیں کیا اگر میں شرعی طور پر مکلف ہوتا تو وہ یقینا مجھ کو یہ ہدایت کرتے کہ ان کی طرح میں بھی اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لوں لہذا کسی کو یہ وہم نہیں ہونا چاہیے کہ اس آواز میں کراہت تنزیہی تھی اس لئے انہوں نے مجھ کو اس آواز کے سننے سے منع نہیں کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس آواز کو سننا مکروہ تحریمی تھا اور مجھے منع نہ کرنے کا تعلق میرے غیر مکلف ہونے سے تھا۔ رہی یہ بات کہ جب حضرت ابن عمر ؓ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تھیں تو راستہ چھوڑ دینے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا تعلق کمال تقوی اور ورع سے تھا یعنی حضرت ابن عمر ؓ نے احتیاط وتقوی کا تقاضہ یہی سمجھا کہ اس راستہ سے ہی ہٹ جائیں ورنہ اگر اس راستے کو چھوڑ دینا بھی شرعی طور پر ضروری ہوتا تو حضرت ابن عمر ؓ یقینا حضرت نافع (رح) کو بھی وہ راستہ چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ واضح رہے کہ گانے بجانے کا مسئلہ بہت تفصیل طلب ہے خلاصہ کے طور پر اتناجان لینا کافی ہے کہ محدثین کی تحقیق کے مطابق ایسی کوئی حدیث منقول نہیں ہے جس سے گانے کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہو مشائخ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اظہار ممانعت کے طور پر جو کچھ منقول ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ گانا ممنوع ہے جس کے ساز اور باجا بھی شامل ہو البتہ فقہاء نے اس مسئلہ میں بڑی شدت اختیار کی ہے جس کی تفصیل فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ لہو و لعب کی چیزوں یعنی ساز اور باجوں کو سننا حرام اور سخت گناہ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا باجوں کا سننا گناہ ہے اس پر بیٹھنا فسق ہے اور اس سے لذت حاصل کرنا کفریات میں سے ہے، ہاں اگر کسی شخص کے کان میں باجے کی آواز ناگہانی طور پر آجائے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں لیکن اس پر واجب ہوگا کہ وہ اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ اس آواز کو سن نہ سکے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے باجے کی آواز سے بچنے کے لئے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لی تھیں۔
زبان کی حفاظت، غیبت اور برا کہنے کا بیان
غیبت کے معنی ہیں پیٹھ پیچھے بدگوئی کرنا، یعنی کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق ایسی باتیں کرنا کہ جس کو اگر وہ سنے تو ناپسند کرے۔ شتم کے معنی ہیں گالی دینا یعنی کسی کو کوئی فحش بات کہنا بدزبانی کرنا برا بھلا کہنا اور کسی کو ایسے الفاظ کے ذریعہ یاد و مخاطب کرنا جو شریعت و اخلاق اور تہذیب وشائستگی کے خلاف ہوں۔ بہرحال اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے یہ واضح ہوگا کہ زبان کو ایسے الفاظ و کلام سے بچانا چاہیے جن کو زبان پر لانا شرعی، اخلاقی اور معاشرتی طور پر ناروا ہے، خصوصا غیبت، گالم گلوچ اور بدزبانی وبدکلامی، نیز ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ ان چیزوں میں شرعی طور پر کیا برائی ہے اور ان کا ارتکاب کرنے والا شریعت و اخلاق کی نظر میں کس کی نظر میں کس قدر ناپسندیدہ ہے۔
زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے کو آنحضرت ﷺ کی طرف سے جنت کی بشارت
عن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من يضمن لي ما بين لحييه وما بين رجليه أضمن له الجنة . رواه البخاري
حضرت سہل ابن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ اپنی اس چیز کی حفاظت کرے گا، جو اس کے دو کلوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور دانت اور جو اس کے دونوں پاؤں کے درمیان ہے یعنی شرم گاہ تو میں اس کی جنت کی ضمانت لیتا ہوں۔ (بخاری)
تشریح
۔ زبان کی حفاظت کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ اپنی زبان پر قابو حاصل کرے بایں طور کہ اس کو بےفائدہ الفاظ و کلام اور فحش گوئی وسخت کلامی سے محفوظ رکھے اور دانت کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو حرام چیزوں کے کھانے پینے میں ملوث نہ کرے اس طرح شرمگاہ کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ زنا جیسی برائی سے اجتناب کرے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص مجھ سے اس بات کا عہد کرے اور عمل کے ذریعہ اس عہد کو پورا کرے گا وہ اپنی زبان کو فحش گوئی و بدکلامی سے محفوظ رکھے گا اپنے منہ کو حرام و ناجائز کھانے پینے سے بچانے اور اپنی شرم گاہ کو حرام کاری سے محفوظ رکھنے پر پوری طرح عامل وکار بند رہے گا تو اس کے تئیں اس بات کا ضامن بنتا ہوں کہ وہ شروع میں ہی نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اور وہاں کے درجات عالیہ کا مستحق قرار پائے گا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی دراصل حق تعالیٰ کی طرف سے ضمانت ہے کہ جس طرح وہ محض اپنے فضل سے بندوں کے رزق کا ضامن ہوا ہے اسی طرح اس نے پاکیزہ زندگی اختیار کرنے اور اعمال صالحہ پر جزاء دینے اور اپنے انعامات سے نوازنے کا بھی قوی وعدہ کیا ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ اس کے نائب ہیں اس کی طرف سے مذکورہ ضمانت لی ہے۔
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يلقي لها بالا يرفع الله بها درجات وإن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا يهوي بها في جهنم . رواه البخاري . وفي رواية لهما يهوي بها في النار أبعد ما بين المشرق والمغرب . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ جب بندہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نکالتا ہے جس میں حق تعالیٰ کی خوشنودی ہوتی ہے تو اگرچہ بندہ اس بات کی اہمیت کو نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کے درجات بلند کردیتا ہے یعنی اگرچہ وہ بندہ اپنی اس بات کی قدر و اہمیت سے واقف نہیں ہوتا اور اس کو ایک نہایت سہل اور معمولی درجہ کی بات سمجھتا ہے مگر حق تعالیٰ کے نزدیک وہ بات بہت بلند پایہ اور بڑے مرتبہ کی ہوتی ہے اسی طرح جب بندہ کوئی ایسی بات زبان سے نکالتا ہے جو حق تعالیٰ کی ناخوشی کا ذریعہ بن جاتی ہے تو اگرچہ وہ بندہ اس بات کی اہمیت کو نہیں جانتا یعنی وہ اس بات کو بہت معمولی سمجھتا ہے اور اس کو زبان سے نکالنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا لیکن حقیقت میں وہ بات نتیجے کے اعتبار سے اتنی ہیبت ناک ہوتی ہے کہ وہ بندہ اس کے سبب سے دوزخ میں گرپڑتا ہے۔ (بخاری) اور بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ اس کے سبب سے دوزخ میں اتنی دور سے گرتا ہے جو مشرق ومغرب کے درمیانی فاصلہ سے بھی زیادہ ہے یعنی وہ جہاں سے دوزخ میں گرے گا وہ دوزخ جس جگہ جا کر گریگا ان دونوں کے درمیان اتناطویل فاصلہ ہے جتنامشرق ومغرب کے درمیان بھی نہیں ہے۔
تشریح
۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل اس بات پر متنبہ کرتا ہے کہ زبان پر ہر وقت قابو رکھو اور اس کے معاملہ کو کم اہم نہ سمجھو نیز اس حقیقت کو کسی بھی لمحہ نظر انداز نہ کرو اگر زبان پر احتیاط کی گرفت ڈھیلی پڑگئی اور یہ چھوٹی سی چیز تمہارے قابو سے باہر ہوگئی تو پھر تمہاری خیر نہیں چناچہ اس حقیقت کو فرمایا گیا کہ بسا اوقات بندہ اپنی زبان سے کوئی بات نکالتا ہے اور اس کو اپنے نزدیک بہت معمولی درجہ کی بات سمجھتا ہے مگر درحقیقت و نتیجہ کے اعتبار سے اس بات کی اہمیت ہوتی کیا ہے؟ اس کو یوں سمجھ لو کہ اگر وہ بات حق ہوتی ہے اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتی ہے تو وہی ذرا سی بات جنت میں اس کی بلندی کا سبب بن جاتی ہے اور اگر وہ بات کہیں ایسی ہوئی جو بری ہونے کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی کا سبب بن گئی ہو تو بندے کے نزدیک وہی معمولی بات اس کو دوزخ میں گرادینے کا ذریعہ بن جائے گی۔
کسی مسلمان کے حق میں بد زبانی وسخت گوئی فسق ہے۔
وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم سباب المسلم فسوق وقتاله كفر . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور کسی مسلمان کو مار ڈالنا کفر ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
۔ مسلمان کے قتل کو کفر کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی مسلمان اگر کسی مسلمان کو قتل کردے تو وہ کافر ہوجاتا ہے بلکہ اس ارشاد کا مقصد اس بات کو نہایت سختی وشدت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ مسلمان کا ناحق خون بہانا انتہائی سنگین جرم ہے اور جو مسلمان اپنے بھائی مسلمان کو قتل کرتا ہے وہ اپنے اسلام کے کامل ہونے کی نفی کرتا ہے گویا یہاں کفر سے مراد کمال اسلام کی نفی ہے جیسا کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ المسلم من سلم المسلمون۔ یعنی کامل مسلمان وہی ہے جس سے مسلمان محفوظ ومامون رہے اور اگر کفر سے اس کے حقیقی معنی مرادہوں تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ وہ مسلمان یقینا کافر ہوجائے گا جو کسی مسلمان کو اس لئے قتل کردے کہ وہ مسلمان ہو اور اس کے اسلام کے سبب سے اس قتل کرنے کو حلال ومباح جانے کیوں کہ کسی مسلمان کو محض اس کے اسلام کی وجہ سے قتل کرنا اور اس قتل کو حلال ومباح جاننا بلاشبہ کفر ہے۔
وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أيما رجل قال لأخيه كافر فقد باء بها أحدهما . متفق عليه
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
۔ مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نے جو خود مسلمان ہے کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہا تو اس کی دوہی صورتیں ہوں گی ایک تو یہ کہ کہنے والے نے سچ کہا ہو ظاہر ہے کہ اس صورت میں کلمہ کفر کا مستحق وہی شخص ہوگا جس کو کافر کہا گیا ہے اور جو حقیقتًا کافر ہے دوسرے یہ کہ کہنے والے نے جھوٹ کہا ہے یعنی اس نے جس شخص کو کافر کہا ہے وہ حقیقت میں مسلمان ہے اور اس کی طرف کفر کی نسبت سراسر جھوٹ ہے اس صورت میں کہا جائے کہ کہنے والا خود کافر ہوگیا تو اس کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس نے ایمان کو کفر سمجھا اور دین اسلام کو باطل جانا۔ اس حدیث کے سلسلے میں امام نووی (رح) نے جو کچھ لکھا ہے اس کا ماحاصل یہ ہے کہ مذکورہ حدیث کو بعض علماء نے مشکلات میں شمار کیا ہے کیونکہ اس ارشاد گرامی کا جو بظاہر مفہوم ہے اس کو حقیقی مراد قرار نہیں دیا جاسکتا بایں وجہ کہ اہل حق کا مسلک یہ ہے کہ کوئی مسلمان خواہ کتناہی بڑا گناہ کیوں نہ کرے جیسے قتل اور زنا وغیرہ اور خواہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہنے کا ہی مرتکب کیوں نہ ہو بشرطیکہ وہ دین اسلام کے باطل ہونے کا عقیدہ نہ رکھے تو اس کی طرف کفر کی نسبت نہ کی جائے جب کہ مذکوہ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر کہے اور حقیقت میں کافر نہ ہو تو کہنے والاخود کافر ہوجائے گا۔ چناچہ اسی وجہ سے اس ارشادگرامی کی مختلف تاویلیں کی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کا محمول وہ شخص ہے جو نہ صرف یہ کسی مسلمان کو کافر کہے بلکہ کسی مسلمان کی طرف کفر کی نسبت کرنے کو حلال و جائز سمجھے اس صورت میں، باء بھا، کے معنی یہ ہوں گے کہ کفر خود اس شخص کی طرف تکفیر کی معصیت لوٹتی ہے یعنی جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے گا تو اس کا یہ کہنا اس مسلمان کو تو کوئی نقصان پہنچائے گا نہیں البتہ مسلمان کو کافر کہنے کے گناہ میں خود مبتلا ہوگا اور تیسرے یہ کہ اس ارشاد گرامی کا محمول خوارج ہیں جو مومنوں کو کافر کہتے ہیں لیکن تیسری تاویل بہت ضعیف ہے کیونکہ اس تاویل کا مطلب ہے کہ خوارج کو کافر قرار دیا جائے جب کہ اکثر علماء امت کے نزدیک زیادہ صحیح اور قابل قبول قول یہ ہے کہ خوارج فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ گمراہ بیشک ہیں جیسا کہ اہل بدعت، مگر ان کو کافر نہیں کہنا چاہیے اگرچہ ملاعلی قاری (رح) نے وضاحت کی ہے کہ اس تاویل کو ان کے حق میں ضعیف نہیں کہا جائے گا جو نہ صرف اہل سنت والجماعت بلکہ اکثر اونچے درجہ کے صحابہ کرام تک کے بارے میں نعوذ باللہ کفر کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
کسی مسلمان کی طرف فسق کی نسبت نہ کرو
وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرمي رجل رجلا بالفسوق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك رواه البخاري
اور حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی آدمی کو فاسق نہ کہے اور نہ اس پر کفر کی تہمت لگائے کیونکہ اگر وہ آدمی فسق یا کفر کا حامل نہیں ہے تو اس کا کہا ہوا اسی طرف لوٹ جائے گا۔ (بخاری)
تشریح
۔ مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو نہ تو فاسق کہو اور نہ اس کی طرف کفر کی نسبت کرو کیونکہ اگر کسی شخص نے کسی ایسے مسلمان کو فاسق کہا جو حقیقت میں فاسق نہیں ہے تو وہ کہنے والاخود فاسق ہوگا اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی ایسے شخص کو کافر کہا جو حقیقت میں کافر نہیں ہے بلکہ مومن ہے تو وہ کہنے والا خود کافر ہوجائے گا جیسا کہ پچھلی حدیث کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے۔
کسی شخص کو دشمن اللہ نہ کہو
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من دعا رجلا بالكفر أو قال عدو الله وليس كذلك إلا حار عليه . متفق عليه
اور حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو کافر کہہ کر پکارے یا کسی کو اللہ کا دشمن کہے اور وہ واقعتًا ایسا نہ ہو تو اس کا کہا ہوا خود اس پر لوٹ پڑتا ہے یعنی کہنے والاخود کافر یا اللہ کا دشمن ہوجاتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
آپس میں گالم گلوچ کا سارا گناہ ابتداء کرنے والے پر ہوتا ہے۔
وعن أنس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال المستبان ما قالا فعلى البادئ مالم يعتد المظلوم . رواه مسلم
اور حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دو شخص آپس میں گالم گلوچ کریں تو ان کی ساری گالم گلوچ کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے پہلی کی ہے جب تک کہ مظلوم تجاوز نہ کرے۔ مسلم)
تشریح
۔ مطلب یہ ہے کہ اگر دو شخص آپس میں گالم گلوچ کرنے لگیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور ایک دوسرے کے حق میں بدکلامی وسخت گوئی کریں تو اس ساری گالم گلوچ اور برا بھلا کہنے کا گناہ ان دونوں میں سے اس شخص پر ہوگا جس نے گالم گلوچ کی ابتداء کی ہوگی، یعنی اس کو اپنی گالم گلوچ کا گناہ تو ہو ہی گا دوسرے شخص کی گالم گلوچ کا گناہ بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھاجائے گا کیونکہ اس نے گالم گلوچ کی ابتداء کر کے گویا دوسرے شخص پر ظلم کیا ہے اور اس اعتبار سے وہ ظالم کہلائے گا اور دوسرا شخص مظلوم لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ دوسرا شخص یعنی مظلوم جواب میں زیادتی نہ کرے، اگر مظلوم حد سے تجاوز کر گیا بایں طور کہ اس کی گالم گلوچ ابتداء کرنے والے کی گالم گلوچ سے بڑھ گئی یا ابتداء کرنے والے نے جو ایذا پہنچائی تھی اس کے جواب میں دوسرے شخص نے اس سے بھی زیادہ پہنچائی تو اس صورت میں ابتداء کرنے والے کی بہ نسبت اس پر زیادہ گناہ ہوگا بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ دوسرا شخص بھی اس تعدی اور زیادتی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
کسی پر لعن طعن کرنا نامناسب ہے
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا ينبغي لصديق أن يكون لعانا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدیق کے لئے یہ جائز و مناسب نہیں ہے کہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔ (مسلم)
تشریح
۔ صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت زیاد سچا، بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ صدیق اس شخص کو کہتے ہیں جس کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہ ہو بلکہ پوری یکسانیت ومطابقت ہو، صوفیاء کے ہاں صدیقیت ایک مقام ہے جس کا درجہ مقام نبوت کے بعد سب سے اعلی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت کریمہ، ( فَاُولٰ ى ِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّ نَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَا ءِ وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰ ى ِكَ رَفِيْقًا) 4۔ النساء 69)۔ سے مفہوم ہوتا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صدق وراستی کے وصف سے مزین ہو اور ایسے اونچے مقام پر پہنچ چکاہو جو مقام نبوت کے بعد سب سے اعلی ہے اور اس اعتبار سے اس کے مرتبہ کو مرتبہ نبوت سے سب سے قریبی نسبت حاصل ہے تو اس کی شان یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں پر لعنت کرتا رہے اور نہ مقام صدیقیت کا مقتضاء ہوسکتا ہے کیونکہ کسی کو لعنت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو رحمت الٰہی اور بارگاہ الوہیت سے محروم قرار دیدیا جائے جب کہ تمام انبیاء کا مقصد ہی یہ رہا ہے کہ وہ مخلوق اللہ کو رحمت الٰہی سے بہریاب کریں اور جو بارگاہ الوہیت سے دور ہوچکے ہیں ان کو قریب تر لائیں اسی وجہ سے اہل سنت والجماعت کا پسندیدی شیوہ یہ ہے کہ لعن طعن کو ترک کیا جائے اور کسی بھی شخص کو لعنت نہ کی جائے اگرچہ وہ اس لعنت کا مستحق ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ جو شخص اپنے قول وفعل کے ذریعہ اللہ کے نزدیک خود ملعون قرار دیا جا چکا ہے اس پر لعنت کرنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے لہذا کسی شخص پر لعنت کر کے گویا اپنی زبان کو خواہ مخواہ آلودہ کرنا اس کی لعنت میں اپنا وقت صرف کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے اور یہ کہ اسے لعن و طعن کر کے گویا اپنی جماعت حقہ کے شیوہ ومعمول کے برخلاف عمل کرنا ہے البتہ اس کافر پر لعنت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جس کے بارے میں مخبرصادق یا اپناعلم و یقین یہ ہو کہ وہ کفر ہی کی حالت میں مرا ہے۔ واضح رہے کہ لعنت کی دو قسمیں ہیں ایک تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ شخص کو بھلائی سے بالکل محروم اور رحمت الٰہی سے کلیۃ دور قرار دینا نیز اس کو اللہ تعالیٰ کے فضل لامتناہی سے مطلق ناامید کردینا، ایسی لعنت صرف کافروں کے لئے مخصوص ہے دوسری قسم کی لعنت کا مطلوب یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو رضائے حق اور قرب الٰہی کے مقام سے دور و محروم قرار دیا جائے جو ترک اولی واحواط کا مرتکب ہو چناچہ بعض اعمال کے ترک کے سلسلے میں جو لعنت و ملامت منقول ہے اور جو بعض صحابہ کرام وغیرہ سے بھی نقل کی گئی ہے۔ لفظ لعان مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت زیادہ لعنت کرنے والاحدیث میں یہ لفظ صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ عام طور پر یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی اونچے سے اونچے درجہ کا مومن بھی تھوڑی بہت لعنت کرنے سے اجتناب کرتا ہو، چناچہ ابن ملک نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں اس لفظ کا بصیغہ مبالغہ ذکر ہونا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لعنت کرنے کی جو برائی اس حدیث سے واضح ہوتی ہے کہ وہ اس شخص کے حق میں نہیں جس سے کبھی کبھار یعنی ایک مرتبہ یا دو مرتبہ لعنت کا صدور ہوجائے۔
کسی پر لعن طعن کرنا نامناسب ہے
وعن أبي الدرداء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن اللعانين لا يكونون شهداء ولا شفعاء يوم القيامة . رواه مسلم
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو لوگ بہت زیادہ لعنت کیا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن نہ گواہ بنائے جائیں گے اور نہ شفاعت کرسکیں گے۔ (مسلم)
تشریح
۔ قیامت کے دن امت کے لوگ پچھلی امتوں پر گواہ کی حثییت سے پیش کئے جائیں گے چناچہ وہ یہ گواہی دیں گے کہ ان کے رسولوں اور پیغمبروں نے اللہ تعالیٰ کے احکام ان تک پہنچائے تھے اور ان کو اللہ کی طرف بلایا تھا مگر انہوں نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کی بات نہیں مانی اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وکذالک جعلنکم امۃ وسطالتکونوا شھداء علی الناس اور اسی طرح ہم نے تمہیں برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو۔ اسی گواہی کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایسے گواہ بننے کا اعزاز نہیں بخشاجائے گا جو دوسروں پر اتنی زیادہ لعنت کیا کرتے ہیں کہ لعنت کرنا گویا ان کی عادت بن جاتی ہے اسی طرح بہت زیادہ لعنت کرنے والے لوگ قیامت کے دن درجہ شفاعت سے بھی محروم کردیئے جائیں گے یعنی اگر وہ چاہیں گے کہ دوسرے لوگوں کی شفاعت کریں تو وہ بھی نہ کرسکیں گے۔
کسی کی طرف اخروی ہلاکت کی نسبت نہ کرو
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قال الرجل هلك الناس فهو أهلكهم . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ لوگ ہلاک ہوئے یعنی جہنم کی آگ کے مستوجب ہوگئے تو اس طرح کہنے والاسب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔ (مسلم)
تشریح
۔ اگر کوئی شخص کچھ لوگوں، کو ایسے عقائد و اعمال میں مبتلا دیکھے جو دین و شریعت کے خلاف ہوں تو ان کی اس حالت پر حسرت و افسوس کا ہونا اور غم خواری کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر بھی ہے اور اخوت اسلامی کا تقاضا بھی اب اگر وہ شخص اسی حسرت و افسوس اور غم خواری کے جذبات کے تحت ان لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ وہ لوگ تو ہلاک ہوگئے یعنی ان لوگوں نے ایسے عقائد و اعمال کو اختیار کرلیا ہے جو ان کو دوزخ کی آگ میں دھکیل کر رہیں گے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس شخص کا یہ کہنا دراصل ان لوگوں کے تئیں ہمدردی وغم خواری کا مظہر ہوگا اور اس کا مطلب یہی سمجھاجائے گا کہ وہ شخص ان لوگوں کے برے احوال سے دل شکستہ ہے اور اس کا قلبی جذبہ یہ ہے کہ کاش وہ لوگ اس حالت میں مبتلا ہو کر اخروی ہلاکت و تباہی کے راستہ کو اختیار نہ کرتے اور جب وہ اس راہ پر پڑگئے ہیں تو اے کاش اب بھی ان کو ہدایت نصیب ہوجائے اور وہ ابدی ہلاکت و تباہی کے خوف سے راہ راست پر لگ جائیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان جذبات ہمدردی وغم خواری کے برعکس محض عیب جوئی حقارت اور ان لوگوں کو رحمت الٰہی سے مایوس کرنے کے لئے اس طرح کے الفاظ زبان سے نکالے تو یہ سخت برا ہوگا اور اس طرح کہنے والا شخص خود سب سے زیادہ ہلاکت و تباہی میں پڑے گا کیوں کہ اس کے ان الفاظ سے یہ سمجھاجائے گا کہ وہ اپنے نفس کی برائی اور اپنے اعمال کے غرور وتکبر میں مبتلا ہوگیا ہے دوسرے لوگوں کو چشم حقارت سے دیکھتا ہے اور ان کو حق تعالیٰ کی رحمت سے ناامید کرتا ہے یہ مطلب اس صورت میں ہوگا کہ جب کہ لفظ اھلکم کاف کے پیش کے ساتھ یعنی بصیغہ تفضیل ہو اور اگر یہ لفظ کاف کے زیر کے ساتھ یعنی بصیغہ ماضی ہو جیسا کہ بعض روایتوں میں نقل کیا گیا ہے تو اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ اس طرح کہنے والا ان کو ہلاک و برباد کردیتا ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ جب کوئی شخص اپنے مشاہدہ کے مطابق بدعملیوں میں مبتلا لوگوں کے بارے میں اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالتا ہے کہ وہ لوگ تو ہلاک و برباد ہوگئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ رحمت الٰہی سے مایوس ہو کر ترک طاعت و عبادت اور ارتکاب معصیت و گناہ میں اور زیادہ مشغول ومنہمک ہوجاتے ہیں کیونکہ اس طرح کے الفاظ ان گناہ گاروں کو شکستہ دل، ناامید اور بےشوق بنادیتے ہیں جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے گویا دنیا ہی میں اللہ کے قہر و جلال میں گرفتار ہوئے ہیں اسی لئے شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ جو لوگ بدعملیوں کی راہ اختیار کئے ہوئے ہوں اور معصیت کے اندھیروں نے جن کو گھیر رکھا ہو انہیں نہایت نرمی وملائمت اور شفقت و محبت کے ساتھ تذکیرونصیحت کی جانی چاہیے اور ان پر سختی وتشدد کرنا ان کے حق میں سخت برا بن جاتا ہے اور وہ ضد ہٹ دھرمی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے راہ راست پر آنے کی بجائے اور زیادہ گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں لہذا جو شخص ان کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور انہیں ہلاکت و بربادی کی خبر دیتا ہے وہ گویا انہیں ہلاکت و بربادی میں ڈالنے کا خود موجب بنتا ہے اس اعتبار سے کہا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ ارشاد گرامی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ گناہ گاروں کو بھی مغفرت کی بشارت دینا چاہیے ان کے قلب وذہن کو دین و ایمان پر پختہ کرنا چاہیے اور انہیں رحمت الٰہی کا امیدوار و طلبگار بنانا چاہیے۔
منہ دیکھی بات کرنے والوں کی مذمت
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تجدون شر الناس يوم القيامة ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے بدتر شخص وہ ہوگا جو فتنہ انگیزی کی خاطر دو منہ رکھتا ہے یعنی منافق کی خاصیت وصفت رکھتا ہے کہ وہ ایک جماعت کے پاس آتا ہے تو کچھ کہتا ہے دوسری جماعت کے پاس آتا ہے تو کچھ کہتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
۔ اس ارشاد گرامی میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو منافقوں کی طرح دو رویہ یعنی دو منہ والے ہوتے ہیں کہ ہر فریق کو خوش رکھنے کی خاطر کبھی صحیح اور حق بات نہیں کہتے بلکہ منہ دیکھی بات کرتے ہیں وہ جس جماعت اور جس فریق کے پاس اس کی مرضی اور خواہش کے مطابق اپنی زبان کھولتے ہیں زید کے پاس جاتے ہیں تو اس کی سی کہتے ہیں اور بکر کے پاس جاتے ہیں تو اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔