آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 11 of 15

4725Mishkaat-al-Masabih

چغل خور کے بارے میں وعید

وعن حذيفة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يدخل الجنة قتات . متفق عليه . وفي رواية مسلم نمام . ( متفق عليه )

اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا (یعنی وہ نجات پائے ہوئے لوگوں کے ساتھ ابتداء میں جنت میں داخل نہ ہوگا) بخاری، ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں قتات کے بجائے نمام کا لفظ ہے۔ تشریح ۔ قتات اور نمام کے ایک ہی معنی ہیں یعنی چغل خور اس شخص کو کہتے ہیں جو لگائی بجھائی کرتا ہے اور ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر کرکے لوگوں کے درمیان فتنہ و فساد کے بیج بوتا ہے۔

4726Mishkaat-al-Masabih

سچ بولنے اور جھوٹ سے بچنے کی تاکید

وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا . وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا . متفق عليه . وفي رواية مسلم قال إن الصدق بر وإن البر يهدي إلى الجنة . وإن الكذب فجور وإن الفجور يهدي إلى النار . ( متفق عليه )

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سچ بولنے کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ سچ بولنا، نیکوکاری کی طرف لیجاتا ہے یعنی سچ بولنے کی خاصیت یہ ہے کہ نیکی کرنے کی توفیق ہوتی ہے اور نیکوکاری نیکوکار کو جنت کے اعلی درجات تک پہنچاتی ہے اور یاد رکھو! جو شخص ہمیشہ سچ بولتا ہے اور ہمیشہ سچ بولنے کی سعی کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے، نیز تم اپنے آپ کو جھوٹ بولنے سے باز رکھو کیونکہ جھوٹ بولنا فسق وفجور کی طرف لے جاتا ہے یعنی جھوٹ بولنے کی خاصیت یہ ہے کہ برائیوں اور بداعمالیوں کے ارتکاب کی طرف رغبت ہوتی ہے اور فسق وفجور وفاجر کو دوزخ کی آگ میں دھکیلتا ہے اور یاد رکھو! جو شخص بہت جھوٹ بولتا ہے اور زیادہ جھوٹ بولنے کی سعی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب یعنی بڑا جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ (بخاری، مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ سچ بولنا نیکی اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنافسق وفجور ہے اور فسق وفجور، دوزخ کی آگ میں دھکیلتا ہے۔ تشریح ۔ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو وصف صدیقیت کا حامل اور مقام صدیقیت پر فائز قرار دیا جاتا ہے اور اس اونچے درجے کے وصف ومقام کے اجروثواب کا مستحق گردانا جاتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ملاء اعلی کے پاس جس کتاب میں تمام بندوں کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اس میں مذکورہ شخص کا نام صدیق لکھا جاتا ہے اور یا یہ کہ دنیا میں لوگ ایسے شخص کو اپنی کتابوں اور قلم پاروں میں صدیق کے نام سے لکھتے اور یاد کرتے ہیں اس صورت میں اس ارشاد کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایسا شخص اللہ کی طرف سے لوگوں میں انتہائی معزز ومکرم ظاہر کیا جاتا ہے لوگوں کے دلوں پر اس شخص کا لقب صدیق القا کیا جاتا ہے اور ان کی زبانوں پر اسی کے اس لقب و صفت کو جاری کردیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کو سچا صادق سمجھتے ہیں اور اس کی سچائی و صداقت میں رطب اللسان رہتے ہیں، اس مفہوم کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان الذین آمنوا وعملوالصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال کئے اللہ تعالیٰ ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا۔ اسی طرح اللہ کے نزدیک کذاب لکھا جاتا ہے کا مطلب بھی یا تو یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والے شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور اس کے لئے وہ سزا مقرر کردی جاتی ہے جو جھوٹوں کے لئے مخصوص ہے یا یہ کہ اس شخص کے بارے میں لوگوں کی نظروں اور دلوں میں یہ بات ظاہر و راسخ کردی جاتی ہے کہ یہ شخص انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس طرح گویا اس کو جھوٹا مشہور کردیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص لوگوں کی نظروں سے گرجاتا ہے اور ہر شخص اس سے بغض ونفرت کرنے لگتا ہے۔

4727Mishkaat-al-Masabih

دروغ مصلحت آمیز جھوٹ کے زمرہ میں نہیں آتا

وعن أم كلثوم رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس ويقول خيرا وينمي خيرا . متفق عليه

اور حضرت ام کلثوم ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کراتا ہے بھلائی کی بات کہتا ہے اور ایک دوسرے سے اچھی باتیں پہنچاتا ہے۔ (اگرچہ وہ صلح و صفائی کرانے اور اس بات کے کہنے اور پہنچانے میں جھوٹ سے کام لے)۔ بخاری ومسلم) تشریح ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی نزاع اور فتنہ و فساد کو ختم کرانے کے لئے اگر کوئی شخص ایسی بات کہے جو واقعہ کے اعتبار سے صحیح نہ ہو بلکہ جھوٹ ہو تو اس شخص کو جھوٹا نہیں کہیں گے اور اس پر جھوٹ کا گناہ نہیں ہوگا لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ بات ایسی ہو جو خیرو بھلائی ہی پر مشتمل نہ ہو کہ کسی برائی جیسے شرک وفسق وغیرہ کی حامل ہو مثلا دو مسلمان زید اور بکر اگر آپس میں کوئی مخاصمت رکھتے ہوں یا ان دونوں کے درمیان کوئی فتنہ و فساد پا گیا تو اس صورت میں اگر کوئی تیسرا شخص یہ چاہے کہ ان دونوں کے درمیان باہمی مخاصمت ختم ہوجائے اور ان کے درمیان صلح و صفائی ہوجائے اور اس مقصد کے لئے وہ دونوں میں سے ہر ایک کے پاس جا کر یوں کہے کہ اس دوسرے نے تمہیں سلام کہا ہے وہ تمہاری تعریف کر رہا تھا اور تمہارے بارے میں کہہ رہا تھا کہ میں اس کو اپنا دوست سمجھتا ہوں اور حقیقت میں نہ تو اس نے سلام کہا ہو نہ اس کی تعریف کی ہو اور نہ یہ کہا ہو کہ میں اس کو دوست رکھتا ہوں۔

4728Mishkaat-al-Masabih

جھوٹی اور مبالغہ آمیز تعریف کرنے والے کی مذمت

وعن المقداد بن الأسود رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت مقداد ابن اسود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ میں خاک ڈال دو۔ (مسلم) تشریح ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے منہ پر تمہاری تعریف کرے اور وہ تعریف خواہ زبانی ہو یا قصیدہ ونثر کی صورت میں ہو نیز اس تعریف کرنے سے اس کا مقصد تم سے کچھ مالی منفعت حاصل کرنا یا اپنا کوئی مطلب نکالنا ہو تو تم اس کے منہ پر مٹی ڈال دو یعنی اس کو محروم رکھو نہ کہ اس کو کچھ دو اور نہ اس کا مطلب پورا کرو یا منہ میں خاک ڈالنے سے یہ مراد ہے کہ کچھ معمولی طور پردے دو کہ کسی کو بہت تھوڑا سا اور حقارت کے ساتھ دینا اس کے منہ میں خاک ڈالنے کے مشابہ ہے اور یہ معمولی طور پر دینا بھی اس مصلحت کے پیش نظر ہو کہ مبادا کچھ بھی نہ ملنے کی صورت میں وہ ہجو کرنے لگے۔ بعض علماء نے اس ارشادگرامی کو اس کے ظاہری مفہوم پر محمول کیا ہے چناچہ اس حدیث کے راوی حضرت مقداد ہی کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؓ کے سامنے ان کی تعریف کرنے لگا تو انہوں نے ایک مٹھی خاک لے کر اس کے منہ پر ڈال دی علماء نے لکھا ہے کہ تعریف کرنے والوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے کا حکم دینا دراصل ان تعریف کرنے والوں کو سختی کے ساتھ متنبہ کرنا ہے کہ کیوں کہ کسی کے منہ پر اس کی تعریف کرنے والا اپنے ممدوح کو مغرور و متکبر بنا دیتا ہے۔ خطابی نے یہ لکھا ہے کہ مداحین یعنی تعریف کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خوشامد وچاپلوسی اور بےجا تعریف ومدح کرنے کو اپنی عادت بنالی ہو چناچہ ایسے لوگ تعریف ومدح کرنے میں نہ حق و باطل کی تمیز کرتے ہیں اور نہ مستحق وغیرمستحق کا لحاظ رکھتے ہیں نیز انہوں نے اس چیز کو حصول منفعت اور معاش کا ذریعہ بنا رکھا ہے کہ جس شخص سے انہیں کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے یا جس شخص سے مطلب براری کی امید ہوتی ہے وہ اس کے منہ پر نہایت مبالغہ آمیزی کے ساتھ اس کی تعریف ومدح کرتے ہیں لہذا جو شخص کسی دنیاوی غرض و لالچ کے بغیر کسی قابل تعریف آدمی کی واقعی مدح و توصیف کرے یا کسی شخص کے کسی اچھے فعل اور پسندیدہ کام پر اس نقطہ نظر سے تعریف کریں کہ اس شخص کو مزید اچھے افعال اور بھلائی کے کام کرنے کا شوق پیدا ہو نیز دوسرے لوگوں کو بھی اس کی اتباع میں نیک اعمال اور بھلائی کے کام کرنے کی رغبت ہو تو ایسے شخص پر حدیث میں مذکورہ لفظ مداح کا اطلاق نہیں ہوگا یعنی اس کو قابل مذمت اور تعریف کرنے والا نہیں کہا جائے گا۔

4729Mishkaat-al-Masabih

جھوٹی اور مبالغہ آمیز تعریف کرنے والے کی مذمت

وعن أبي بكرة قال أثنى رجل على رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال ويلك قطعت عنق أخيك ثلاثا من كان منكم مادحا لا محالة فليقل أحسب فلانا والله حسيبه إن كان يرى أنه كذلك ولا يزكي على الله أحدا . متفق عليه

اور حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کے سامنے ایک شخص نے ایک آدمی کی (مبالغہ آمیزی کے ساتھ) تعریف کرنی شروع کی ( اور وہ شخص جس کی تعریف کر رہا تھا وہ وہاں موجود تھا) چناچہ آپ ﷺ نے تعریف کرنے والے سے فرمایا کہ افسوس ہے کہ تم پر تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی آپ نے یہ الفاظ تین بار دہرائے اور پھر یہ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی کی تعریف کرنا ضروری سمجھے تو اس کو چاہیے کہ مثلا یوں کہے کہ فلاں شخص کے بارے یہ گمان رکھتا ہوں کہ وہ نیک آدمی ہے جب کہ اس شخص کی حقیقی حالت سے اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے اور وہی ان کے اعمال کا حساب لینے والا ہے نیز اگر تعریف کرنے والا یہ گمان رکھتا ہے کہ اس نے جس شخص کی تعریف کی ہے وہ واقعتا ایساہی ہو تو اس صورت میں بھی وہ اللہ کی طرف سے کسی شخص پر جزم و یقین کے ساتھ حکم نہ لگائے۔ (بخاری، مسلم) تشریح ۔ کسی کی گردن کاٹنا اگرچہ اس کو ذبح کرنے اور اس کی جسمانی ہلاکت کے ہم معنی ہے لیکن یہاں گردن کاٹنے سے مراد روحانی ہلاکت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی کی تعریف کرتا ہے توہ (ممدوح اپنی تعریف سن کر غرور وتکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے لہذا جس طرح کسی کی گردن کاٹ ڈالنا اس کو دنیاوی طور پر ہلاک کردینے کے مرادف ہے اسی طرح منہ پر کسی کی تعریف کرنا گویا اس کو دینی اور اخروی طور پر ہلاکت میں ڈال دینا ہے جب کہ یہ تعریف بسا اوقات دنیاوی طور پر بھی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے جیسے کوئی شخص اپنی تعریف سن کر اتنا زیادہ مغرور ہوگیا کہ کسی کا ناحق خون کر ڈالے اور پھر عدالت کی طرف سے سزائے موت کا مستوجب ہو کر خود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی کی تعریف ضروری سمجھے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی شخص کے اندر کوئی ایسا وصف دیکھو کہ جس کی وجہ سے وہ قابل تعریف ہو، مثلا کوئی شخص بہت زیادہ صالح ونیک ہو یا کوئی شخص بہت زیادہ خلیق ہو اور تم اس کی تعریف کرنا ہی چاہتے ہو تو اس صورت میں بھی یہ ضروری ہے کہ تم بس اپنے گمان کی حدتک اس کی تعریف کرو اس کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ فیصلہ نہ کرو بلکہ یوں کہو کہ میں فلاں شخص کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہوں، اس جملہ کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا حقیقی حال اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جس شخص کو بظاہر نیک و اچھا سمجھا جارہا ہے ہوسکتا ہے کہ اس کے باطنی احوال سے اس درجہ کے نہ ہوں کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو، لہذا جو شخص قابل تعریف ہو اس کی تعریف میں احتیاط کی راہ اختیار کرنی چاہیے اس کے بارے بالکل آخری فیصلہ نہ کرنا چاہیے کہ یہ شخص یقینا اچھا و نیک اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے ہاں ان لوگوں کا معاملہ دوسرا ہے جن کو احادیث میں صراحت کے ساتھ قابل تعریف قرار دیا گیا ہے اور جن کے بارے میں ثابت ہوچکا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک یقینا پسندیدہ ہیں جیسے عشرہ مبشرہ اور ان لوگوں کے علاوہ اور کسی شخص کے بارے میں اس جزم و یقین کا اظہار نہ کیا جائے کہ فلاں شخص اللہ کے نزدیک اچھا ہے۔

4730Mishkaat-al-Masabih

تعریف کی قسمیں

علماء نے کسی شخص کی تعریف کرنے کی تین قسمیں بیان کی ہیں ایک تو یہ کہ کسی کے منہ پر اس کی تعریف کی جائے یہ قسم وہ ہے جس کی ممانعت منقول ہے دوسرے یہ کہ کسی کی غائبانہ تعریف کی جائے لیکن خواہش یہ ہو کہ اس کو اس تعریف کی خبر ہوجائے یہ قسم بھی ایسی ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور تیسرے یہ کہ کسی کی غائبانہ تعریف کی جائے اور اس کی مطلق پرواہ ہو کہ اس کو تعریف کی خبر پہنچے گی یا نہیں نیز تعریف بھی ایسی کی جائے جس کا وہ واقعتًا مستحق ہے یہ قسم ایسی ہے جس کی اجازت دی گئی ہے اور کسی شخص کی اس طرح کی تعریف میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

4731Mishkaat-al-Masabih

غیبت کے معنی اور اس کی تفصیل

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أتدرون ما الغيبة ؟ قالوا الله ورسوله أعلم . قال ذكرك أخاك بما يكره . قيل أفرأيت إن كان في أخي ما أقول ؟ قال إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته وإن لم يكن فيه ما تقول فقد بهته . رواه مسلم . وفي رواية إذا قلت لأخيك ما فيه فقد اغتبته وإذا قلت ما ليس فيه فقد بهته . (متفق عليه)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صحابہ کرام سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی کا ذکر اس طرح کرو کہ جس کو وہ اگر سن لے تو ناپسند کرے۔ بعض صحابہ کرام نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میرے اس بھائی میں جس کا میں نے برائی کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ عیب ہوں جو میں نے بیان کیا ہے تو کیا جب بھی غیبت ہوگی یعنی میں نے ایک شخص کے بارے میں اس کے پیٹھ پیچھے یہ ذکر کیا کہ اس میں فلاں برائی ہے جب کہ اس میں وہ واقعتًا برائی ہو اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہو اور ظاہر ہے کہا اگر وہ شخص اپنے بارے میں میرے اس طرح ذکر کرنے کو سنے تو یقینًا خوش ہوگا تو کیا میرا اس کی طرف کسی برائی کو منسوب کرنا جو درحقیقت اس میں ہے غیبت کہلائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی جس برائی کا ذکر کیا ہے اگر وہ واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ برائی موجود نہیں ہے جس کو تم نے ذکر کیا ہے تم نے اس پر بہتان لگایا یعنی یہی تو غیبت ہے کہ تم کسی کا کوئی عیب اس کے پیٹھ پیچھے بالکل سچ بیان کرو اور اگر تم اس کے عیب کو بیان کرنے میں سچے نہیں ہو کہ تم نے اس کی طرف جس عیب کی نسبت کی ہے وہ اس میں موجود نہیں ہے تو یہ افتراء اور بہتان ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی وہ برائی بیان کی جو واقعی اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تم نے اس کی طرف ایسی برائی کی نسبت کی جو اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔ تشریح ۔ غیبت یعنی پیٹھ پیچھے کسی کا کوئی عیب بیان کرنا نہ صرف ایک گناہ لوگوں میں زیادہ پھیلا ہوا ہے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو اس برائی سے بچے ہوئے ہیں ورنہ عام طور پر ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں غیبت کرتا نظر آتا ہے لہذا ضروری ہے کہ اس بات میں کچھ تفصیل بیان کردی جائے۔ جیساکہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے غیبت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسے شخص کے بارے میں جو موجود نہ ہو اس طرح کا ذکر کرے جس سے اس کا کوئی عیب ظاہر ہو اور وہ اس عیب کے ذکر کئے جانے کو ناپسند کرے اور اس عیب کا تعلق خواہ اس کے بدن سے ہو یا عقل سے خواہ اس کے دین سے ہو یا دنیا سے، خواہ اس کے اخلاق و افعال سے ہو یا نفس سے خواہ اس کے مال و اسباب سے، ہو یا اولاد سے خواہ اس کے ماں باپ سے ہو یا بیویو خادم وغیرہ سے خواہ اس کے لباس وغیرہ سے ہو یا رفتاروگفتار سے، خواہ اس کی ہیبت کذائی سے یا نشست وبرخاست سے، خواہ اس کے حرکات و سکنات سے ہو یا عادات واطوار سے، خواہ اس کی کشادہ روئی سے ہو یا ترش روئی سے اور خواہ اس کی تندخوئی وسخت گوئی سے ہو یا نرم خوئی اور خاموشی سے اور یا ان چیزوں کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز سے ہو جو اس سے متعلق ہوسکتی ہے نیز اس عیب کے ساتھ اس کا ذکر کرنا خواہ الفاظ کے ذریعہ ہو یا اشارہ و کنایہ اور رمز کے ذریعہ اور اشارہ کنایہ بھی خواہ لفظ وبیان کے ذریعہ ہو یا ہاتھ آنکھ، ابرو اور سر وغیرہ کے ذریعہ۔ اس سلسلہ میں یہ قاعدہ کلیہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اگر کسی شخص کا کوئی عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کیا جائے جو دوسروں کی نظروں میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی حثییت و شخصیت کو گھٹاتا ہے تو یہ سخت غیبت ہے اور حرام ہے اور اگر کسی کے منہ پر اس کے کسی عیب کو اس طرح بیان کیا جائے جس سے اس کو ناگواری اور دل شکنی ہو تو یہ ایک طرح کی بےحیائی، سنگدل اور ایذاء رسانی ہے کہ یہ اور بھی سخت گناہ ہے۔ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے غیبت کرنے والا اس سے معافی طلب کرے بشرطیکہ اس غیبت کی خبر اس تک پہنچی ہو اور اس سے معافی کی طلب کے وقت تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اجمالی طور پر اتنا ہی کافی ہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو اور اگر وہ غیبت اس تک نہ پہنچی بایں طور کہ وہ مرگیا ہو یا کسی دور دراز جگہ پر ہو تو اس صورت میں استغفار کافی ہے یعنی اپنے اس گناہ پر اللہ سے مغفرت و بخشش طلب کرے نیز احادیث میں یہ بھی منقول ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کے حق میں استغفار کرنا غیبت کے کفارہ میں داخل ہے۔ غیبت کس صورت میں جائز ہے علماء نے لکھا ہے کہ کسی کا عیب اس کے پیٹھ پیچھے بیان کرنا بعض صورتوں میں جائز ہے مثلا کوئی شرعی صورت لاحق ہو، جیسے ظالم کا ظلم بیان کرنا، حدیث کے راویوں کا حال ظاہر کرنا، نکاح کے مشورہ کے وقت کسی کا نسب یا حال رویہ بیان کرنا، یا کوئی مسلمان کسی سے امانت وشرکت وغیرہ کا کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو اس مسلمان کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لئے اس شخص کارویہ بیان کردینا وغیرہ وغیرہ اسی طرح کوئی شخص ظاہری طور پر دین دار زندگی کا حامل ہے یعنی نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے اور دیگر فرائض بھی پورے کرتا ہے مگر اس میں یہ عیب ہے کہ لوگوں کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے تکلیف و نقصان پہنچاتا ہے تو لوگوں کے سامنے اس کے اس عیب کا ذکر کرنا غیبت نہیں کہلائے اور اگر اس شخص کے بارے میں ذمہ داران حکومت کو اطلاع دے دی جائے تاکہ وہ اس کو متنبہ کردیں اور اس کی ایذاء رسانی سے لوگ محفوظ رہیں تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ بطریق اصلاح و اہتمام کسی شخص کے عیب کو ذکر کرنا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب کہ اس کے عیب کو ذکر کرنے کا مقصد اس شخص کی برائی بیان کرنا اور اس کو نقصان و تکلیف پہنچانا ہو اسی طرح کسی شخص کی کسی شہر والوں یا کسی بستی کے لوگوں کی غیبت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ متعین طور پر کسی جماعت کا نام لے کر اس کی غیبت نہ کرے۔

4732Mishkaat-al-Masabih

فحش گوء بدترین شخص ہے

وعن عائشة رضي الله عنها أن رجلا استأذن على النبي صلى الله عليه وسلم . فقال ائذنوا له فبئس أخو العشيرة فلما جلس تطلق النبي صلى الله عليه وسلم في وجهه وانبسط إليه . فلما انطلق الرجل قالت عائشة يا رسول الله قلت له كذا وكذا ثم تطلقت في وجهه وانبسطت إليه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم متى عهدتني فحاشا ؟ ؟ إن شر الناس منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره وفي رواية اتقاء فحشه . متفق عليه

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو آنے دو۔ وہ اپنی قوم کا برا آدمی ہے پھر وہ شخص جب آ کر بیٹھا تو آپ ﷺ نے اس سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کی اور مسکرا مسکرا کر اس سے باتیں کرتے رہے جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے تو اس شخص کے بارے میں ایسا ایسا کہا تھا یعنی یہ فرمایا تھا کہ وہ شخص اپنی قوم کا برا آدمی ہے مگر آپ نے اس سے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات فرمائی اور مسکرا مسکرا کر اس سے باتیں کرتے رہے آپ ﷺ نے فرمایا تم نے مجھ کو فحش گو کب پایا۔ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بدتر شخص وہ ہوگا جس کو لوگ اس کی برائی کے ڈر سے چھوڑ دیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں جس کی فحش گوئی سے۔ (بخاری، مسلم) تشریح حدیث میں جس شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کا نام عیینہ بن حصین تھا، یہ شخص اپنی سنگدلی بد خلقی اور سخت مزاجی کے اعتبار سے بہت ہی مشہور تھا اور اپنی قوم کا سردار بھی تھا اس کا شمار مولفۃ القلوب میں ہوتا تھا تاکہ اس کو اسلام پر قائم و ثابت قدم رکھا جاسکے اگرچہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ ہی میں اس کے دین وبیان میں نقصان و اضمحلال کا اظہار ہونے لگا تھا مگر آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد دین و ایمان سے پوری طرح منحرف ہو کر مرتد ہوگیا اور حضرت ابوبکر ؓ نے اس کو گرفتار کرلیا پھر اس نے دوبارہ ایمان قبول کیا اور اسلام کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوا بہر حال حضرت عائشہ ؓ نے اس شخص کے بارے میں ذکر کیا کہ اس نے اپنے ابتدائی زمانہ اسلام میں جب ایک دن ہمارے دروازے پر پہنچ کر بارگاہ نبوت میں حاضری کی اجازت چاہی تو آپ نے اس کو آنے کی اجازت دیدی اور حاضرین مجلس سے فرمایا کہ یہ شخص اپنی قوم کا ایک برا شخص ہے اس نے اسی موقع پر آنحضرت ﷺ کے سامنے اپنے اسلام کا اظہار کیا اگرچہ اس کا اسلام کامل اور اس کا ایمان راسخ نہیں تھا۔ اس سے واضح ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ علامات نبوت میں سے ایک علامت اور آپ کا ایک معجزہ تھا کہ آپ نے مذکورہ ارشاد کے ذریعہ اس کے بارے میں آئندہ پیش آنے والے واقعات اور اس کے باطن کے حقیقی احوال سے لوگوں کو پہلے ہی مطلع کردیا اور آخرکار اس کی برائی و بدی بصورت ارتداد وغیرہ آشکار ہوئی اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ آپ نے اس کے حق میں مذمت کے جو الفاظ فرمائے یا یوں کہے کہ اس کہ جس عیب کو ظاہر فرمایا اس کا مقصد اس کے احوال کو منکشف کرنا تھا تاکہ لوگ اس کو جان لیں او اس کی حقیقت حال سے باخبر رہ کر اس کے فریب اور اس کی وجہ سے کسی فتنہ و فساد میں مبتلا نہ ہو سکیں لہذا اس کو غیبت نہ کہا جائے گا۔ امام نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملنا اور مسکرا مسکرا کر اس سے باتیں کرنا اس کی تالیف قلب کی خاطر تھا اس سے معلوم ہوا کہ اس شخص کی مدارت کرنا جائز ہے جس کی فحش گوئی بد خلقی اور اس کے ضرر کا خوف ہو نیز اس سے یہ بھی ہوا کہ کسی فاسق کے عیب کو ظاہر کرنا یعنی اس کی غیبت کرنا جائز ہے اس موقع پر مدارات اور مداہنت کے درمیان فرق سمجھ لینا چاہیے۔ مدارات تو اس کو کہتے ہیں کسی شخص کی دنیا یا دین اور یا دونوں کی اصلاح کے لئے اس پر دنیا کی چیز کو خرچ کیا جائے اور یہ مباح ہے بلکہ بسا اوقات اس کی حثییت ایک اچھی چیز کی ہوجاتی ہے اس کے برخلاف مداہنت اس کو کہتے ہیں کہ کسی کی اصلاح و مدد کے لئے اس پر دین قربان کیا جائے، مداراب اور مداہنت کے درمیان اس فرق کو یاد رکھنا چاہیے کیونکہ اکثر لوگ اس سے غافل ہیں اور اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تم نے مجھ کو فحش کب پایا آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد در اصل حضرت عائشہ ؓ کے خیال کو صحیح کرنے کے لئے تھا جنہوں نے اپنے قول کے ذریعہ گویا اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ آپ نے اس شخص کے بارے میں مختلف رویہ اختیار فرمایا جب وہ آپ کے سامنے نہیں تھا تو آپ نے اس کی مذمت فرمائی اور جب وہ آپ کے سامنے آیا تو اس کے ساتھ ملاطفت و یگانگت کا برتاؤ کیا جب آپ نے اس کی عدم موجودگی میں اس کو برا کہا تو اس کی موجودگی میں بھی اس کو برا کہتے اور اس کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے جو کسی برے آدمی کے ساتھ کیا جاتا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی بات کے جواب پر واضح فرمایا کہ اگر میں اس کے سامنے بھی وہی بات کہتا جو اس کی عدم موجودگی میں کہی تھی اور ایک نازیبا اور لچر بات ہوتی جب کہ تم نے مجھے کبھی بھی لچر باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے جو ارشاد فرمایا اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ واضح فرمایا کہ میں نے اس شخص کے منہ پر اس کو اس لئے برا نہیں کہا کہ میں سخت گو قرار نہ پا سکوں اور میرا شمار ان لوگوں میں نہ ہونے لگے جن کی سخت اور کڑوی باتوں کہ وجہ سے لوگ ان سے ملنا چھوڑ دیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے الفاظ کے ذریعہ گویا ظاہر فرمایا کہ وہ شخص چونکہ بہت شریر اور بد باطن تھا لہذا میں نے اس کی بد باطنی کی وجہ سے اس سے اجتناب کیا اور اس کے منہ پر اس کو بر انہیں کہا اور حقیقت میں برا شخص وہی ہے جس کی برائی سے بچنے کے لئے لوگ اس سے اجتناب کریں اور اس کے عیوب سے بھی آگاہ نہ کریں۔

4733Mishkaat-al-Masabih

اپنے عیب کو ظاہر نہ کرو

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل أمتي معافي إلا المجاهرون وإن من المجانة أن يعمل الرجل عملا بالليل ثم يصبح وقد ستره الله . فيقول يا فلان عملت البارحة كذا وكذا وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه . متفق عليه . وذكر في حديث أبي هريرة من كان يؤمن بالله في باب الضيافة

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت پوری عافیت میں ہے علاوہ ان لوگوں کے جو اپنے عیوب اور گناہ کو ظاہر کرتے ہیں یعنی میری امت کے وہ سارے گنہگار جو ایمان کی حالت میں مریں اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے البتہ وہ لوگ یقینا سخت ترین عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے جو نہ صرف گناہ کرتے ہیں بلکہ اپنے گناہ کو دنیا والوں پر ظاہر بھی کرتے پھرتے ہیں بلا شبہ یہ بات بڑی بےپروائی کی ہے کہ کوئی شخص رات میں برا کام کرے اور پھر صبح ہونے پر جب کہ اللہ نے اس کے اس برے کام کو چھپالیا تھا تو وہ لوگوں سے یہ کہتا پھرے کہ اے فلاں شخص میں نے آج رات میں ایسا ایسا (یعنی فلاں برا کام) کیا حالانکہ اس کے پروردگار نے رات میں اس کے گناہ کی پردہ پوشی کی تھی اور اس نے صبح ہوتے ہیں اللہ کے پردہ کو چاک کردیا۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں من کان یومن باللہ باب الضیافۃ میں نقل کی جا چکی ہے۔ تشریح حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب میں لفظ معافا کے معنی سلامت و محفوظ رہنا لکھے ہیں گویا ان کے نزدیک کل امتی معافا الا المہاجرون، کا ترجمہ یوں ہوں گا کہ میری امت کے تمام لوگ غیبت سے محفوظ و مامون ہیں یعنی شریعت الٰہی میں کسی مسلمان کی غیبت کرنے کو روا نہیں رکھا گیا ہے علاوہ ان لوگوں کے جو گناہ و معصیت کے کھلم کھلا ارتکاب کرتے ہیں ایک دوسرے شارح حدیث طیبی نے بھی یہی معنی لکھے ہیں کہ لیکن ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ حدیث کا سیاق وسباق اور اس کا حقیقی مفہوم اس معنی پر دلالت نہیں کرتا چناچہ ان کے نزدیک زیادہ مبنی بر حقیقت کے معنی وہی ہیں جو ترجمہ میں نقل کئے گئے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے کہ شریعت نے جس غیبت کو حرام قرار دیا ہے وہ اس شخص کی غیبت ہے جو پوشیدہ طور پر کوئی گناہ کرتا ہے اور اپنے عیب کو چھپاتا ہے لیکن جو لوگ کھلم کھلا اور ڈھٹائی کے ساتھ گناہ کرتے ہیں اور اپنے عیب کو خود ظاہر کرتے پھرتے ہیں کہ نہ تو اللہ سے شرماتے ہیں اور نہ بندوں سے تو ان کی غیبت کرنا درست ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ فاسق معلن یعنی کھلم کھلا فسق و فجور کرنے والے کی غیبت کرنا جائز ہے نیز ظلم کرنے والے حاکم و سلطان اور مبتدع داعی کی اور داد خواہی و اظہار ظلم کے لئے غیبت کرنا بھی درست ہے اسی طرح اصلاح عیوب کی خاطر اور بقصد نصیحت کسی کی برائی کو بیان کرنا کسی کے گواہ و شاہد کے حالات کی چھان بین اور اس کے بارے میں صحیح اطلاعات بہم پہنچانے کی خاطر اس کے عیوب کو بیان کرنا اور اخبار و احادیث کے راویان کی حثییت و شخصیت کو واضح کرنے کے لئے ان کے عیوب کو ظاہر کرنا غیبت میں داخل نہیں ہے۔

4734Mishkaat-al-Masabih

جھوٹ اور مخاصمت کو ترک کرنے والے اور اخلاق و اطوار کو اچھا بنانے والے کا ذکر

عن أنس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ترك الكذب وهو باطل بني له في ربض الجنة ومن ترك المراء وهو محق بني له في وسط الجنة ومن حسن خلقه بني له في أعلاها . رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن . وكذا في شرح السنة وفي المصابيح قال غريب

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور وہ جھوٹ ناحق و ناروا ہو تو اس کے لئے جنت کے کنارے پر محل بنایا جاتا ہے اور جو شخص جھگڑے اور بحث و تکرار چھوڑ دے باوجودیکہ وہ حق پر ہو اس کے لئے جنت کی بلند جگہ پر محل بنایا جاتا ہے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اسی طرح کی روایت شرح السنۃ اور مصابیح میں منقول ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حدیث میں ان تین طرح کے لوگوں کا ذکر ہے جن کو جنت میں نمایاں مقامات پر رکھا جائے گا ایک طرح کے لوگ وہ ہیں جو جھوٹ بولنا بالکل ترک کردیں اس موقع پر ناحق کی قید لگائی گئی ہے یعنی ایسا جھوٹ جو بالکل ناروا اور ناجائز ہوتا ہے اس قید کی وجہ یہ ہے کہ بعض صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے جیسے جنگ کی حالت میں بشرطیکہ اس جھوٹ کی وجہ سے کسی طرح کی عہد شکنی نہ ہوئی ہو یا لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کی خاطر اور کسی مسلمان کا ایسا مال بچانے کے لئے جو ناروا طور پر اپنے مالک کے ہاتھ سے جارہا ہو اور یا دو بیویاں رکھنے کی صورت میں یعنی اگر کسی شخص کے ہاں دو بیویاں ہوں تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی ہر ایک بیوی کا دل خوش کرنے کے لئے ہر ایک سے یوں کہے کہ میں تمہیں زیادہ چاہتا ہوں اور بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک ہی بیوی ہونے کی صورت میں بھی اس وقت جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے کہ جب وہ بیوی کا دل خوش کرنے کے لئے اس سے یوں کہے کہ میں تمہیں یہ دوں گا وہ دوں گا یہ بنا دوں گا وہ لا دوں گا۔ دوسری طرح کے وہ لوگ ہیں جو حق پر ہونے کے باجود تواضع کسر نفسی اور شرافت نفس کی بناء پر مخاصمت و نزاع اور بحث و تکرار سے اپنا دامن بچاتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس مخاصمت و نزاع کا تعلق کسی دنیاوی معاملہ سے ہو اس میں سکوت و اجتناب کرنے سے دین میں کوئی خلل نہ پڑے، ہاں اگر کسی مخاصمت و نزاع کا تعلق کسی دینی معاملہ سے تو اس سے اس وقت تک کنارہ کشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہوگا جب تک وہ معاملہ نپٹ نہ جائے اور حق ظاہر نہ ہوجائے! حضرت امام شافعی سے منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کسی دینی معاملہ میں کوئی بحث و مناظرہ اس مقصد کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں کیا کہ میں چاہتا تھا میں سچائی کو ثابت کرنے کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوں اور حق میرے مقابل کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔ مذکورہ بالا سلسلے میں حضرت امام حجۃ الاسلام نے لکھا ہے کہ مراء یعنی جھگڑے اور بحث و تکرار کو اختیار کرنے کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے کلام اور اس کی بات پر اعتراض وارد کرے، بایں طور کہ یا تو اس کے الفاظ میں خلل و نقصان کو ظاہر کرے یا اس کے مضمون و معنی میں غلطی نکالنے اور یا متکلم کے مقصد و مراد کو نادرست قرار دے اس کے برخلاف ترک مراد یعنی جھگڑے اور بحث و تکرار سے اجتناب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کے کلام و قول پر کوئی اعتراض وارد نہ کرے لہذا انسان کو چاہیے کہ جب وہ کلام و بات سنے تو اگر وہ حق ہو تو اس کی تصدیق کرے اور اگر وہ باطل و بےبنیاد ہو اور اس کا تعلق کسی دینی معاملہ سے نہ ہو تو اس سے سکوت اختیار کرلے۔ تیسری طرح کے وہ لوگ ہیں جو اپنے اخلاق اچھا بناتے ہیں۔ واضح رہے کہ حسن اخلاق یوں تو تمام ہی اچھے اوصاف و کمالات کو اختیار کرنے کا نام ہے لیکن معاشرہ میں عام طور پر حسن اخلاق کا اطلاق، خندہ پیشانی، کشادہ روئی، نرم گوئی اور حسن معاشرت پر ہوتا ہے۔

4735Mishkaat-al-Masabih

جنت اور دوزخ لے جانے والی چیزیں

وعنن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أتدرون ما أكثر ما يدخل الناس الجنة ؟ تقوى الله وحسن الخلق . أتدرون ما أكثر ما يدخل الناس النار ؟ الأجوفان الفم والفرج رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جانتے ہو کہ لوگوں کو عام طور پر کونسی چیز جنت میں داخل کرتی ہے؟ وہ تقوی یعنی اللہ سے ڈرنا اور حسن خلق ہے اور جانتے ہو لوگوں کو عام طور پر کونسی چیز جہنم میں لے جاتی ہے؟ وہ کھوکھلی چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)۔ تشریح تقوی کا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ شرک سے اجتناب کیا جائے اور سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ دل میں اللہ کے علاوہ کسی بات کا خیال بھی نہ آنے دیا جائے۔ حسن خلق سے مراد مخلوق اللہ کے ساتھ خوش خلقی اختیار کرنا ہے جس کا سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی مخلوق کو کوئی تکلفی و ایذا نہ پہنچائی جائے اور سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ انسان اس شخص کے ساتھ بھلائی کرے جس نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا ہے اس اعتبار سے حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہوگا کہ جس شخص میں تقوی اور حسن خلق یہ دونوں اوصاف پیدا ہوجائیں تو سمجھو کہ اس کی نجات کا دروازہ کھل گیا کیونکہ تقوی یعنی پرہیزگاری سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور خوش خلقی سے مخلوق کی خوشی ملتی ہے اور ظاہر ہے جس انسان سے اللہ بھی خوش ہو اور مخلوق اللہ بھی تو اس کا بیڑا پار ہونے میں کیا شبہ رہ جائے گا۔ حضرت شیخ عبدالحق نے لکھا ہے کہ خوش خلقی بھی تقوی میں داخل ہے لہذا حدیث میں تقوی کے بعد پھر خوش خلقی کا ذکر کرنا تخصیص بعد تعمیم کے طور پر ہے مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقوی سے تو ظاہری اعمال کا حسن مراد ہے اور حسن خلقی سے باطنی احوال کا حسن۔ طیبی یہ کہتے ہیں کہ تقوی کے ذریعہ تو اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ خالق اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن معاملہ کرے بایں طور کہ ہر اس چیز سے اجتناب کرے جس سے اس کو منع کیا گیا ہے اور ہر اس چیز پر عمل کرے جس کا حکم دیا ہے اور حسن خلق کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مخلوق اللہ کے ساتھ حسن معاملہ کرے یعنی خوش خلقی اختیار کرے۔ حدیث کے دوسرے بڑے جز میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ منہ اور شرم گاہ کے دو بڑے سر چشمے ہیں جن سے پیدا ہونے والی برائیوں میں پڑ کر انسان دوزخ میں جا گرتا ہے چناچہ منہ کہ اس میں زبان بھی داخل ہے گمراہی اور بد عملیوں کا بڑا ذریعہ ہے انسان جو بھی حرام چیز کھاتا ہے اور پیتا ہے اسی کے منہ کے ذریعہ نگلتا اور وہ جو بھی ممنوع و ناجائز بیہودہ و فحش اور لاطائل کلام و گفتگو کرتا ہے زبان ہی اس کا ذریعہ بنتی ہے اس طرح شرمگاہ خواہ عورت کی یا مرد کی شیطان کا سب سے دل فریب جال ہے جس میں وہ لوگوں کو پھنسا کر دوزخ میں گرا دیتا ہے چناچہ انسان اسی شرمگاہ کے سبب جنسی جذبات سے مغلوب ہوجاتا ہے اور نفسانی شہوت میں مبتلا ہو کر اپنے خالق کی نافرمانی کرتا ہے۔

4736Mishkaat-al-Masabih

کلمہ خیر اور کلمہ شر کی اہمیت

وعن بلال بن الحارث قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الرجل ليتكلم بالكلمة من الخير ما يعلم مبلغها يكتب الله له بها رضوانه إلى يوم يلقاه . وإن الرجل ليتكلم بالكلمة من الشر ما يعلم مبلغها يكتب الله بها عليه سخطه إلى يوم يلقاه . رواه في شرح السنة وروى مالك والترمذي وابن ماجه نحوه

اور حضرت بلال بن حارث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کوئی کلمہ خیر (بھلائی کی کوئی بات) اپنی زبان سے نکالتا ہے درآنحالیکہ وہ اس کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اسی کلمہ خیر کے سبب سے اس کے حق میں اس دن تک کے لئے اپنی خوشنودی کو ثابت کردیتا ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے اسی طرح کوئی انسان کلمہ شر (یعنی کوئی برائی کی بات) اپنی زبان سے نکالتا ہے درآنحالیکہ وہ اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اس کلمہ شر کے سبب سے اس کے حق میں اس دن تک کے لئے اپنی خفگی ثابت کردیتا ہے جب کہ وہ اللہ سے ملاقات کرے۔ (شرح السنہ) اور امام مالک، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ تشریح اپنی خوشنودی کو ثابت کردیتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ایسی باتوں کی توفیق دیتا ہے جو رضاء الٰہی کا موجب ہیں اس کو برزخ میں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے اس کی قبر کو کشادہ کردیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس طرح سو رہو جیسے نوشہ سوتا ہے پھر وہ قیامت کے دن نیک بختی وسعادت کے ساتھ اٹھے گا کہ اس پر حق تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہوگا جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہاں کی نعمتیں اس کا نصیب بنیں گی۔ اسی طرح جس شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ اپنی خفگی قائم کر دے گا اس کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوگا لہذا حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس دن تک کے لئے جب کہ وہ اللہ سے ملاقات کرے تو اس تو قیت کا یہ مطب ہرگز نہیں ہے کہ اللہ کی رضا یا اس کی خفگی بس اسی دن تک محدود رہے گی۔ اس کے بعد منقطع ہوجائے گی اس کی تائید قرآن کریم اس آیت سے بھی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے حق میں نازل فرمائی کہ، آیت (وَّاِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِيْ اِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ ) 68۔ ص 78) ظاہر آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ابلیس لعین، اللہ کی لعنت کا مورد صرف قیامت کے دن تک ہی ہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ تک اللہ کے لعنت میں گرفتار رہے گا اسی طرح حدیث میں مذکورہ لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی یا خفگی کا تعلق موت کے دن کے بعد بھی ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ، کلمہ خیر، سے مراد ظالم سلطان و حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ اس پر قیاس کر کے کہا جاسکتا ہے کہ، کلمہ شر، سے مراد کسی حاکم و سلطان کے سامنے کلمہ باطل یعنی بری بات کہنا ہے جو دین کو نقصان پہنچائے لیکن حدیث کا ظاہر مفہوم عمومیت پر دلالت کرتا ہے۔

4737Mishkaat-al-Masabih

جھوٹے لطیفوں کے ذریعہ لوگوں کو ہنسانے والے کے بارے میں وعید

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قا ل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ويل لمن يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والدارمي

بہز ابن حکیم اپنے والد (حکیم ابن معاویہ) سے اور وہ بہز کے دادا (حضرت معاویہ ابن عبدہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افسوس اس شخص پر جو بات کرے تو جھوٹ بولے تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو ہنسائے، افسوس اس شخص پر افسوس اس شخص پر۔ (احمد، ابوداؤد، دارمی) تشریح ویل کے معنی ہیں عظیم ہلاکت اور ویل دوزخ کی ایک گہری وادی کا نام بھی ہے جس میں اگر پہاڑ ڈال دیئے جائیں تو گرمی سے گل جائیں اہل عرب کے کلام میں یہ لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی برائی اور ناپسندیدہ امر کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کے تئیں اظہار تاسف اور اس کو متنبہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا اپنے ارشاد کے آخر میں مذکورہ لفظ کو پھر استعمال کرنا اور مکرر استعمال کرنا گویا ایسے شخص کے حق میں زجر وعید کو زیادہ شدت کے ساتھ بیان کرنا مقصود تھا جو بےبنیاد باتوں اور جھوٹے لطائف و قصص کے ذریعہ لوگوں کو ہنسائے۔ ویل لمن یحدث فیکذب، میں لفظ یکذب (جھوٹ بولنے کی قید سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے ہم جلیسوں اور یاروں اور دوستوں کو خوش کرنے اور ان کو ہنسانے کے لئے ایسی بات کرے یا ایسے لطیفے اور قصے سنائے جو سچے ہوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگرچہ یہ ضروری ہے کہ اس کو اپنی عادت نہ بنائے اور نہ لطیفہ گوئی کو بطور پیشہ اختیار کرے کیونکہ خوش طبعی و بذلہ سخی جو جھوٹ پر مبنی نہ ہو، باوجودیکہ مشروع و مسنون ہے لیکن اس کو کبھی کبھار ہی اختیار کیا جائے نہ کہ ہمیشگی کے ساتھ اس طرح ہر وقت لوگوں کو ہنسانے اور مسخرا پن کرنے ہی میں نہ لگا رہے اور نہ اس پر زیادہ توجہ دے کیونکہ اس کا مال کار نقصان و خسران کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا جیسا کہ اگلی حدیث میں فرمایا گیا ہے۔

4738Mishkaat-al-Masabih

مسخرے پن اور زبان کی لغزش سے بچو

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن العبد ليقول الكلمة لا يقولها إلا ليضحك به الناس يهوي بها أبعد ما بين السماء والأرض وإنه ليزل عن لسانه أشد مما يزل عن قدمه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ جب بندہ ایک بات کہتا ہے اور صرف اس لئے کہتا ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو ہنسائے تو وہ اس بات کی وجہ سے (دوزخ میں) جا گرتا ہے اور اتنی دور جا گرتا ہے جو زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بندہ اپنے قدموں کے ذریعہ پھسلنے سے زیادہ اپنی زبان کے ذریعہ پھسلتا ہے۔ (بہیقی) تشریح حدیث کے آخری جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پاؤں پھسلنے سے منہ کے بل گرپڑے اور ضرر اٹھائے تو یہ اتنا سخت نہیں جتنا سخت وہ ضرر ہے جو زبان کے پھسلنے یعنی اس سے جھوٹ وغیرہ کے صادر ہونے کی وجہ سے اٹھانا پڑتا کیونکہ پاؤں کی لغزش بدن کو ضرور پہنچاتی ہے اور زبان کی لغزش دین و آخرت کے نقصان میں مبتلا کرتی ہے اور ظاہر ہے کہ جسمانی نقصان و ضرر دینی نقصان و ضرر سے ہلکا ہوتا ہے۔

4739Mishkaat-al-Masabih

ایک چپ لاکھ بلا ٹالتی ہے

وعن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صمت نجا . رواه أحمد والترمذي والدارمي والبيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ (احمد، ترمذی، دارمی، بہیقی)۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ چپ رہ کر اور زبان کو بری باتوں سے محفوظ رکھ کر دنیا کی بہت سی آفتوں سے نجات مل جاتی ہے اور دینی و اخروی طور پر بھی بہت سی بلاؤں اور نقصان و خسران سے نجات حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ انسان عام طور پر جن بلاؤں اور آفتوں میں مبتلا ہوتا ہے ان میں سے اکثر زبان ہی کے ذریعہ سے پہنچتی ہیں۔ کلام کی قسمیں امام غزالی نے لکھا ہے کہ انسان اپنی زبان سے جو بات نکالتا ہے اور جو کلام کرتا ہے اس کی چار قسمیں ہیں۔ ایک تو محض نقصان، دوسرے محض نفع، تیسرے وہ بات اور کلام جس میں نہ نفع ہوتا ہو اور نہ نقصان ہوتا ہو اور چوتھے وہ بات و کلام جس میں نفع بھی اور نقصان بھی اس سے خاموشی ہی اختیار کرنا چاہے کیونکہ نقصان سے بچنا فائدہ حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور وہ کلام کہ جس میں نہ نفع ہو نہ نقصان تو ظاہر ہے کہ اس میں زبان کو مشغول کرنا محض وقت ضائع کرنا ہے اور یہ چیز بھی خالص ٹوٹا رہے ہی دوسری قسم یعنی وہ کلام جس میں نفع ہی نفع ہو تو اگرچہ ایسی بات و کلام میں زبان کو مشغول کرنا برائی کی بات نہیں ہے لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اس میں بھی ابتلائے آفت کا خطرہ ضرور ہوتا ہے بایں طور کہ ایسے کلام میں بسا اوقات ریاء و تصنع، خوشنودی نفس اور فضول باتوں کی آمیزش ہوجاتی ہے اور اس صورت میں یہ تمیز کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ کہاں لغزش ہوگئی ہے۔ حاصل یہ کہ ہر حالت اور ہر صورت میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے اور نجات کا ذریعہ ہے کیونکہ زبان کی آفتیں ان گنت ہیں اور ان سے بچنا سخت مشکل الاّ یہ کہ زبان کو ہی بند رکھا جائے کسی نے خوب کہا ہے، اللسان جسمہ صغیر وجرمہ کبیر وکثیر زبان کا جثہ تو چھوٹا ہے مگر اس کے پاپ بڑے اور بہت ہیں۔

4740Mishkaat-al-Masabih

دنیا وآخرت نجات کے ذریعے

وعن عقبة بن عامر قال لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ما النجاة ؟ فقال أملك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك . رواه أحمد والترمذي

اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ دنیا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو تمہارا گھر تمہاری کفایت کرے اور اپنے گناہوں پر روؤ۔ (احمد، ترمذی) تشریح لفظ، املک، الف کے زبر اور لام کے زیر کے ساتھ ہے لیکن حضرت شیخ عبدالحق نے الف کے زیر کو ترجیح دی ہے اس جملہ کے ایک معنی شارخ نے یہ لکھے ہیں کہ اپنی زبان کو ایسی چیزوں اور باتوں سے صاف رکھو جن میں خیرو بھلائی نہیں ہے لیکن اس جملہ کے زیادہ صحیح معنی یہ ہیں کہ اپنی زبان کو بند رکھو کہ گویا تم اپنے تئیں اپنے امور کی نگہداشت رکھتے ہو۔ یعنی اپنے دین کے معاملہ میں محتاط و پرہیز گار اور اپنے حالات کوائف پر متوجہ ہونا ظاہر ہے کہ جب تم اپنے معاملات میں محتاط پرہیز گار ہو گے اور اپنے احوال و کوائف پر متوجہ رہ کر اپنی برائیوں اور بھلائیوں پر نظر رکھو گے تو راہ نجات تمہارے سامنے ہوگی۔ تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے کا مطلب یہ ہے کہ بری مجلسوں اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کی خاطر یکسوئی اختیار کرو اپنے اپنے گھر سے اسی وقت باہر نکلو جب نکلنے کی ضرورت پیش آئے اور اس یکسوئی و گوشہ نشینی کی وجہ سے دل برداشتہ نہ ہو بلکہ اس کو غنیمت جانو کیونکہ یہ چیز بہت سے فتنہ فساد و برائیوں سے نجات پانے کا ذریعہ ہے اسی لئے کہا گیا ہے،، ھذا زمان السکوت وملازمۃ البیوت والقناعۃ بالقوہ الی ان تموت۔ طیبی کہتے ہیں کہ ویسعک بیتک میں حکم ظاہر مورد تو گھر ہے لیکن حقیقت میں اس حکم کا مورد مخاطب ہے گویا اس ارشاد کے ذریعہ مخاطب کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے گھر میں یکسوئی اور گوشہ نشینی اختیار کر کے مولیٰ کی عبادت میں مشغول رہو۔ اپنے گناہوں پر رونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی خطاؤں اور اپنی تقصیرات پر نادم و شرمسار ہو کر طلب مغفرت کے لئے اللہ کے حضور گڑا گڑاؤ اور خشوع خضوع اختیار کرو اور اگر رونا نہ آئے تو کم سے کم رونے کی صورت بنا لو۔

4741Mishkaat-al-Masabih

تمام اعضاء جسم، زبان سے عاجزی کرتے ہیں

وعن أبي سعيد رفعه قال إذا أصبح ابن آدم فإن الأعضاء كلها تكفر اللسان فتقول اتق الله فينا فإنا نحن بك فإن استقمت استقمنا وإن اعوججت اعوججنا . رواه الترمذي

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ آنحضرت ﷺ سے بطریق مرفوع نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء چشم زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں اللہ سے ڈر کیونکہ ہمارا تعلق تجھ ہی سے ہے اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ (ترمذی) تشریح یوں تو سارے جسمانی نظام کا ظاہر و رحانی دار و مدار دل پر ہے کہ اگر دل درست و صالح ہے تو تمام اعضاء جسم بھی درست و صالح رہتے ہیں اور اگر دل فاسد و ناکارہ ہے تو سارے اعضاء بھی فاسد و ناکارہ ہوجاتے ہیں جب کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے۔۔۔۔۔ ان فی الجسد مضغۃ ان صلحت صلح الجسد واذافسدت فسد الجسد کلہ جسم میں گوشت کا لوتھڑا ہے (جس کو دل کہا جاتا ہے) اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا۔ اس حقیقت کے باوجود اس حدیث میں یہ ظاہر کرنا کہ گویا زبان ہی سارے اعضاء جسم کی سردار ہے اس اعتبار سے ہے کہ حقیقت میں دل ہی جسم کا بادشاہ ہے مگر دل کا ترجمان اور خلیفہ زبان ہی ہے۔ کہ دل جو کچھ سوچتا ہے زبان اس کو بیان کرتی ہے اور دیگر اعضاء جسم اس پر عمل کرتے ہیں لہذا جو حکم دل کا ہے وہی زبان کا ہے کہ جس طرح دل کے صالح و فاسد ہونے کا اثر سارے اعضاء جسم پر پڑتا ہے اس طرح زبان کا بناؤ بگاڑ بھی تمام اعضاء جسم کو بناتا اور بگاڑتا ہے۔

4742Mishkaat-al-Masabih

حسن اسلام کیا ہے۔

وعن علي بن الحسين رضي الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه . رواه مالك وأحمد ورواه ابن ماجه عن أبي هريرة والترمذي والبيهقي في شعب الإيمان عنهما

اور حضرت علی بن حسین ؓ یعنی حضرت امام زین العابدین کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جو بےفائدہ ہے۔ مالک، احمد) نیز اس روایت کو ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور ترمذی اور شعب الایمان میں بہیقی نے دونوں یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت علی ابن حسین ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے اسلام کے حسن و خوبی اور ایمان کے کامل ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ اس چیز سے اجتناب کرے جس کا اہتمام نہیں کیا جاتا جس کے ساتھ کوئی غرض متعلق نہیں ہوتی اور جس کی یہ شان نہیں ہوتی کہ کوئی شخص اس کا اہتمام کرے اور اس کے حصول میں مشغولیت اختیار کرے حاصل یہ کہ وہ چیز کوئی امر ضروری نہ ہو چناچہ جس چیز کا امر لایعنی کہا جاتا ہے اس کی تعریف و وضاحت یہی ہے اس کے برخلاف جو چیز امر ضروری کہلاتی ہے اور کوئی شخص جا اہتمام کرتا ہے وہ ایسی چیز ہوتی ہے جس کے ساتھ دنیا میں ضروریات زندگی اور آخرت میں سلامتی ونجات وابستہ ہوتی ہے مثلا دنیا کی ضروریات زندگی میں سے ایک تو غذا ہے جو بھوک کو مٹاتی ہے دوسرے پانی ہے جو پیاس کو رفع کرتا ہے تیسرے کپڑا ہے جو ستر کو چھپتا ہے چوتھے بیوی ہے جو عفت و پاکدامنی پر قائم رکھتی ہے اور اسی طرح کی وہ چیزیں جو زندگی کی دوسری ضروریات کو پورا کریں نہ کہ وہ چیزیں جن سے محض نفس کی لذت حرص و ہوس کی بہرہ مندی اور دنیا کی محبت کا تعلق ہوتا ہے نیز ایسے افعال و اقوال اور تمام حرکات و سکنات بھی نہیں جو فضول و بےفائدہ ہوں، اسی طرح وہ چیز کہ جس سے آخرت کی سلامتی و نجات متعلق ہوتی ہے ایمان و اسلام اور احسان کی جس کی وضاحت ابتداء کتاب میں حدیث جبرائیل میں ذکر ہوچکی ہے۔ حاصل یہ کہ جو چیزیں دنیا و آخرت میں ضروری ہیں اور جن پر دینی و دنیوی زندگی کا انحصار و مدار ہوتا ہے اور جو مولیٰ کی رضا و خوشنودی کا سبب و ذریعہ بنتی ہے وہ تو لایعنی نہیں ہیں ان کے علاوہ باقی تمام چیزیں لایعنی ہیں خواہ ان چیزوں کا تعلق عمل سے ہو یا قول سے۔ حضرت امام غزالی نے کہا کہ لایعنی (بےفائدہ بات) کا آخری درجہ یہ ہے کہ تم کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نکالو کہ جس کو اپنی زبان سے نہ نکالتے تو گناہگار ہوتے اور اس کی وجہ سے تمہیں فوری طور پر کوئی نقصان پہنچتا اور نہ مال کے اعتبار سے اس کی مثال یہ ہے کہ فرض کرو، تم کچھ لوگ ساتھ بیٹھے ہوئے ہو، اب تم نے ان کے سامنے اپنے کسی سفر کے احوال بیان کئے اس بیان احوال کے دوران تم نے ہر اس چیز کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا جو تم نے اپنے سفر کے دوران دیکھی مثلا پہاڑ عمارت وغیرہ یا جو کچھ واقعات و حادثات پیش آئے تھے ان کے بارے میں بتایا، پھر تم نے ان اچھے کھانوں، عمدہ لباس و پوشاک اور دوسری چیزوں کا بھی ذکر کیا جو تمہیں ملی تھیں یا جن کو تم نے دیکھا تھا، ظاہر ہے کہ تم نے یہ جو ساری تفصیل بیان کی اور جن امور کا ذکر کیا وہ یقینا ایسی چیزیں ہیں کہ اگر تم ان کو بیان نہ کرتے تو گناہگار ہوتے اور نہ تمہیں کوئی نقصان و ضرر برداشت کرنا پڑتا جب کہ اس لمبی چوڑی تفصیل بیان کرنے کی صورت میں بہت ممکن ہے کہ کسی موقع پر تمہاری زبان لغزش کھائی ہو اور اس سے کوئی ایسی بات نکل گئی ہو جس سے تم گناہگار بن گئے ہو۔

4743Mishkaat-al-Masabih

کسی کی آخرت کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی حکم نہ لگاؤ

وعن أنس قال توفي رجل من الصحابة . فقال رجل أبشر بالجنة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أو لا تدري فلعله تكلم فيما لا يعنيه أو بخل بما لا ينقصه . رواه الترمذي

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن صحابہ میں سے ایک شخص کا انتقال ہوا تو ایک دوسرے شخص نے (مرحوم کی میت کو مخاطب کر کے کہا) آنحضرت ﷺ کی صحبت کی برکت سے تمہیں) جنت کی بشارت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن کر اس شخص سے فرمایا کہ تم یہ بات کس طرح کہہ رہے ہو جبکہ حقیقت حال کا تمہیں علم نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ اس شخص نے کسی ایسے معاملہ میں اپنی زبان سے الفاظ نکالے ہوں جو اس کے لئے ضرر رساں نہ ہو یا کسی ایسی چیز میں بخل کیا ہو جس میں کمی نہ آئے۔ (ترمذی) تشریح کسی ایسے معاملے میں اپنی زبان سے الفاظ نکالے ہوں، کا مطلب یہ ہے کہ اس نے بےفائدہ باتوں میں اپنا وقت ضائع کیا ہو اور ایسے امور میں خواہ مخواہ کے لئے اپنی زبان سے الفاظ نکالے ہوں جو اس کے لئے کسی طرح کا ضرر و نقصان پہنچانے کا سبب نہ ہوں۔ کسی ایسی چیز میں بخل کیا ہو، کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کسی ایسی چیز کو دینے میں بخل سے کام لیا ہو جو دیئے جانے کے باوجود کم نہیں ہوتی جیسے علم کی تعلیم یا مال زکوٰۃ کی ادائیگی کہ علم تقسیم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے سے علم اور مال میں کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ ان میں زیادتی ہی ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد کا ماحصل یہ تھا کہ اس شخص کے جنت میں جانے کے بارے میں اس طرح کا جزم و یقین کیوں ظاہر کیا ہے؟ جب کہ تمہیں اس کی زندگی کے سارے ظاہری باطنی گوشوں سے واقفیت اور اس کے احوال کی حقیقت کا علم نہیں ہے بیشک اس شخص کی ظاہری زندگی بڑی پاکیزہ تھی اور اس کو صحابیت کی سعادت بھی حاصل ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اس نے اپنی زبان سے کوئی لایعنی بات نکالی ہو یا بخل کیا ہو اور اس مواخذہ حساب میں گرفتار ہو کر جنت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہو۔

4744Mishkaat-al-Masabih

زبان کے فتنہ سے بچو-r-n-r-n-r-nجھوٹ بولنا حفاظت کرنے والے فرشتوں کو اپنے سے دور کردیتا ہے۔

وعن سفيان بن عبد الله الثقفي قال قلت يا رسول الله ما أخوف ما تخاف علي ؟ قال فأخذ بلسان نفسه وقال هذا . رواه الترمذي وصححه وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما جاء به . رواه الترمذي

اور حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ میرے بارے میں جن چیزوں سے ڈرتے ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک چیز کون سی ہے؟ حضرت سفیان ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا کہ یہ چیز یعنی تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ ڈر اس زبان سے لگتا ہے کہ گناہ کی اکثر باتیں اس سے سرزد ہوتی ہیں لہذا تم اس زبان کے فتنہ سے بچو۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی پیدا کی ہوئی چیز یعنی جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے (حفاظت کرنے والے) فرشتے اس سے کوس بھر دور چلے جاتے ہیں۔