آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 12 of 15

4745Mishkaat-al-Masabih

کسی کو اپنے جھوٹ کے دھوکے میں مبتلا کرنا بہت بڑی خیانت ہے

وعن سفيان بن أسد الحضرمي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كبرت خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك به مصدق وأنت به كاذب . رواه أبو داود

اور حضرت سفیان ابن اسد حضری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات کہو اور وہ تم کو اس بات میں سچا جانے جب کہ حقیقت میں تم نے اس سے جھوٹ بولا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ یوں تو ہر حالت اور ہر موقع پر جھوٹ بولنا بہت برا ہے مگر اس صورت میں تو بہت ہی برا ہے کہ تم اپنے کسی مسلمان بھائی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاؤ بایں طور کہ وہ تو تمہیں سچ بولنے والا سمجھے مگر تم اس سے جھوٹ بولو۔

4746Mishkaat-al-Masabih

دو رویہ کے بارے میں وعید

وعن عمار قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان ذا وجهين في الدنيا كان له يوم القيامة لسانان من نار . رواه الدارمي

اور حضرت عمار کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں دو رویہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ (دارمی) تشریح دو رویہ اصل میں منافق صفت آدمی کو کہتے ہیں یعنی وہ شخص جو کسی کے حق مخلص نہ ہو، زبان سے کچھ کہے اور دل میں کچھ رکھے جب کسی کے سامنے بات کرے تو اس طرح کہ مخاطب یہ سمجھے کہ یہ میرا بڑا دوست ہمدرد ہے مگر جب اس کے پیٹھ پیچھے بات کرے تو زبان سے ایسے الفاظ نکالے جو اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوں۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ دو رویہ اس شخص کو کہتے ہیں جو آپس میں مخاصمت رکھنے والے دو آدمیوں میں سے ہر ایک کی منہ دیکھی بات کرے ایک کے پاس جائے تو اس کی پسند کی باتیں کریں اور وہ یہ سمجھے کہ یہ میرا دوست اسی طرح دوسرے کے پاس جائے تو اس کی سی کہے اور وہ سمجھے کہ یہ میرا دوست ہے غرضیکہ دونوں میں سے ہر ایک کے پاس اس کی محبت ظاہر کرے اور دوسرے کی برائی کرے اسی طرح دونوں ہی اس کے بارے میں غلط فہمی کا شکار رہیں۔ اور ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ یہ میرا دوست وہمدرد ہے اور میرے مخالف کا دشمن و بد خواہ۔

4747Mishkaat-al-Masabih

کمال ایمان کے منافی چیزیں

وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذيء . رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان . وفي أخرى له ولا الفاحش البذيء . وقال الترمذي هذا حديث غريب

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (کامل) مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعن کرنے والا نہ فحش گوئی کرنے والا ہوتا ہے۔ نہ زبان درازی کرنے والا اور بہیقی کی روایت میں فحش نہ گوئی کرنے والا زبان دراز کے الفاظ ہیں یعنی اس روایت میں بذی کو فاحش کی صفت قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا جو حد سے زیادہ فحش گوئی کرنے والا ہو نیز ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4748Mishkaat-al-Masabih

کمال ایمان کے منافی چیزیں

وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يكون المؤمن لعانا . وفي رواية لاينبغي للمؤمن أن يكون لعانا . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا جو بہت زیادہ لعنت کرنے والا اور لعنت کرنے کا عادی ہو۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اور کسی مومن کے لئے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ بہت لعنت کرنے والا ہو۔ (ترمذی)

4749Mishkaat-al-Masabih

بد دعا کرنے کی ممانعت

وعن سمرة بن جندب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تلاعنوا بلعنة الله ولا بغضب الله ولا بجهنم . وفي رواية ولا بالنار . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت سمرہ بن جندب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے کے لئے نہ تو اللہ کی لعنت کی بد دعا کر نہ اللہ کے غضب کی اور نہ جہنم میں جانے کی بد دعا کرو۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ یوں تو کسی صورت میں بھی کسی مسلمان کو اپنے کسی مسلمان بھائی کے حق میں بد دعا نہ کرنی چاہیے کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں لیکن اللہ کی لعنت وغیرہ جیسے چیزوں کی بد دعا کرنا تو سخت برا اور گناہ کی بات ہے چناچہ کسی کے حق میں اس طرح بد زبانی نہ کرنی چاہیے کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو یا تجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے یا اللہ کرے تو جہنم میں جائے اور یا اللہ کرے تو دوزخ کی گھاٹی میں جلے وغیرہ وغیرہ۔

4750Mishkaat-al-Masabih

جو شخص لعنت کے قابل نہ ہو اس پر لعنت کرنا خود اپنے آپ کو مبتلائے لعنت کرنا ہے۔

وعن أبي الدرداء قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن العبد إذا لعن شيئا صعدت اللعنة إلى السماء فتغلق أبواب السماء دونها ثم تهبط إلى الأرض فتغلق أبوابها دونها ثم تأخذ يمينا وشمالا فإذا لم تجد مساغا رجعت إلى الذي لعن فإن كانت لذلك أهلا وإلا رجعت إلى قائلها . رواه أبو داود

اور حضرت ابودرداء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی بندہ کسی چیز یعنی کسی انسان یا غیر انسان پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے اور آسمان کے دروازے اس لعنت پر بند کردیئے جاتے ہیں پھر وہ لعنت دائیں بائیں طرف جانا چاہتا ہے، چناچہ جب وہ کسی طرف بھی راستہ نہیں پاتی تو اس چیز کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہے یہاں تک کہ اگر وہ چیز اس لعنت کی اہل و سزا وار ہوتی ہے تو اس پر واقع ہوجاتی ہے ورنہ اپنے کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ (ابوداؤد) تشریح اس حدیث کے ذریعہ لعنت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ کہ جس چیز کو لوگ بہت معمولی چیز سمجھتے ہیں اور ہر کس وناکس پر لعنت کرتے رہتے ہیں انجام کار خود ہی اس لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں چناچہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت ابتداء ہی سے اس پر متوجہ نہیں ہوتی اور یہ چاہتی ہے کہ ادھر ادھر سے ہو کر باہر نکل جائے مگر جب کسی طرف کو راستہ نہیں پاتی تو آخر کار اس پر متوجہ ہوتی بشرطیکہ وہ اس لعنت کا سزاو ار ہو اور اگر حقیقت کے اعتبار سے وہ اس لعنت کا سزا وار نہیں ہوتا تو پھر انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوٹ کر اس شخص پر واقع ہوجاتی ہے جس نے وہ لعنت کی ہے لہذا معلوم ہوا کہ جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں شخص لعنت کا واقعی مستوجب ہے اس پر لعنت نہ کیا جائے اور ظاہر ہے کہ کسی شخص کا قابل لعنت ہونا شارع کی طرف سے بتائے بغیر متعین نہیں ہوسکتا۔

4751Mishkaat-al-Masabih

جو شخص لعنت کے قابل نہ ہو اس پر لعنت کرنا خود اپنے آپ کو مبتلائے لعنت کرنا ہے۔

وعن ابن عباس أن رجلا نازعته الريح رداءه فلعنها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تلعنها فإنها مأمورة وإنه من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة عليه . رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن کا واقعہ ہے ایک شخص کی چادر ہوا میں اڑ گئی تو اس نے ہوا پر لعنت کی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہوا پر لعنت نہ کرو کیونکہ وہ تو حکم کے تابع ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو اس لعنت کے قابل نہ ہو تو وہ لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد) تشریح وہ تو حکم کے تابع ہے، کا مطلب یہ ہے کہ بذات خود کوئی حثییت نہیں رکھتی اور نہ کسی کی طرح کا تصرف کرنے کے قابل ہے وہ تو چلنے پر منجانب اللہ مامور کی گئی ہے اور حق تعالیٰ نے اپنی حکمتوں اور مصالح کے تحت اس کو پیدا کیا اور چلایا بس اس کا کام چلنا ہے اور وہ چلتی ہے اس صورت میں اگر اس کی وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس ہوا سے دل برداشتہ ہونا اور اس کو برا بھلا کہنا نہ صرف نہایت ناموزوں بات ہے بلکہ تقاضائے عبودیت اور استقامت کے منافی بھی ہے زمانہ کے حوادث و تغیرات اور انسان کے اپنے تابع ارادوں اور افعال کے بارے میں یہی حکم ہے کہ رنج و حادثہ کے وقت اپنے ظاہر و باطن دونوں میں قلب وبان کو اراضی و ساکت رکھے اور اگر کسی تکلیف و حادثہ کے وقت بتقاضائے بشریت اپنے اندر کوئی تغیر اور دل کو متاثر پائے تو لازم ہے کہ زبان کو قابو میں رکھے کہ اس سے شکوہ و شکایت اور اظہار رنج کا کوئی ایسا لفظ نہ نکل جائے جو مرتبہ عبودیت اور اسلامی تعلیمات و آداب کے خلاف ہو۔

4752Mishkaat-al-Masabih

اپنے بڑوں کے سامنے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔

وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يبلغني أحد من أصحابي عن أحد شيئا فإني أحب أن أخرج إليكم وأنا سليم الصدر . رواه أبو داود

اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ میں سے کوئی شخص کسی کے بارے میں مجھ تک کوئی (ایسی) بات نہ پہنچائے (جس سے اس کی برائی ظاہر ہوتی ہو یعنی میرے پاس آ کر کسی کے بارے میں یہ نہ کہے کہ فلاں آدمی نے یہ برا کام کیا ہے یا یہ بری بات کہی ہے یا وہ اس بری عادت میں مبتلا ہے) کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں گھر سے نکل کر تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو (کہ میرے دل میں تم میں سے کسی کی طرف سے کوئی ناراضگی، غصہ اور بغض نہ ہو۔ (ابوداؤد) تشریح اس ارشاد گرامی میں امت کے لئے یہ تعلیم ہے کہ کوئی آدمی اپنے کسی بڑے مثلا حاکم و سردار اور بزرگ و شیخ کے سامنے کسی شخص کی برائی بیان نہ کرے تاکہ بغض عداوت اور ناراضگی و خفگی کی صورت پیدا نہ ہو۔ حدیث کے آخری جز کے مطلب یہ لکھا ہے کہ اس اشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے گویا اپنی اس خواہش و آرزو کا اظہار فرمایا کہ آپ اپنے صحابہ سے خوش و راضی رہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوں۔

4753Mishkaat-al-Masabih

اپنے بڑوں کے سامنے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔

وعن عائشة قالت قلت للنبي صلى الله عليه وسلم حسبك صفية كذا وكذا تعني قصيرة فقال لقد قلت كلمة لو مزج بها البحر لمزجته . رواه أحمد والترمذي وأبو داود

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں (ایک دن مجھے کیا سوجھی کہ) میں آنحضرت ﷺ سے یہ کہہ بیٹھی کہ صفیہ کے تئیں بس آپ کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں اس بات سے حضرت عائشہ ؓ کی مراد حضرت صفیہ ؓ کے قد کی کوتاہی کا ذکر کرنا تھا رسول اللہ ﷺ نے میری یہ بات سن کر آنحضرت ﷺ نے ناگواری کے ساتھ فرمایا تم نے اپنی زبان سے ایک ایسی بات نکالی ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملایا جائے تو بلاشبہ یہ بات دریا پر غالب آجائے (احمد، ترمذی، ابوداؤد) تشریح حضرت صفیہ بن حیی ؓ بھی آنحضرت ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ تھیں ان کا قد چھوٹا تھا چناچہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ نے چاہا کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے حضرت صفیہ ؓ کے اس عیب کا ذکر کریں اور اس طرح انہوں نے مذکورہ الفاظ اپنی زبان سے ادا کئے ظاہر ہے کہ یہ غیبت تھی جس میں حضرت عائشہ ؓ مبتلا ہوئیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا اور مذکورہ ارشاد گرامی کے ذریعہ گویا ان پر یہ واضح کیا کہ تم نے جو بات کہی ہے وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے اس قدر ہیبت ناک ہے کہ اگر بالفرض اس کو کسی دریا میں ملا دیا جائے تو دریا اس کے سامنے ہیچ ہوجائے اور یہ چند الفاظ اس دریا کی وسعت و عظمت کے باوجود اس پر غالب آجائیں اور اس کو متغیر کردیں اور جب ان الفاظ کے مقابلہ میں دریا کا یہ حال ہے تو سوچو کہ تمہارے اعمال کا کیا حشر ہوسکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے اس درجہ کے عیب کو بقصد حقارت بیان کرنا فلاں شخص کوتاہ قد ہے غیبت ہے۔ جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا کذ اکذا کے ذریعہ حضرت صفیہ ؓ کے بعض عیوب یعنی ان کے قد کی کو ہی کنایۃ بیان کرنا مقصود تھا جب کہ ایک شارح نے کہا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے اپنے ان الفاظ کذا کذا کے ذریعہ دراصل اپنی بالشت کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت صفیہ ؓ تو گویا بالشت بھر کی ہیں، نیز یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ لفظ کذا کو مکرر لانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا مقصد حضرت صفیہ ؓ کے اس عیب کو زبان اور اشارہ دونوں ذریعوں سے بیان کرنا تھا چناچہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے پہلے تو اپنی زبان سے کہا ہوگا کہ صفیہ ؓ ٹھگنی ہیں اور پھر اپنی بالشت کا اشارہ کر کے اپنی بات کو موکد کیا کہ وہ بہت ہی ٹھگنی ہیں ملا علی قاری نے اس طرح کی بات کی ہے۔

4754Mishkaat-al-Masabih

بدگوئی عیب دار بناتی ہے اور نرم گوئی، زینت بخشتی ہے۔

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان الفحش في شيء إلا شانه وما كان الحياء في شيء إلا زانه . رواه الترمذي

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس چیز میں بدگوئی اور سخت کلام ہو اس کو عیب دار بنا دیتی ہے اور جس چیز میں حیاء و نرمی ہو اس کو زیب وزینت عطا کرتی ہے۔ (ترمذی) تشریح طیبی کہتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی میں فحش یعنی بدگوئی و سخت کلامی اور اس کے مقابلہ پر حیاء یعنی نرم گوئی کی تاثیر وشان کو مبالغہ کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اگر بالفرض فحش یا حیاء کسی پتھر یا لکڑی میں پیدا ہوجائے تو اس کو عیب دار یا بازینت بنا دے اس سے معلوم ہوا کہ بدگوئی وسخت کلامی شخصیت میں نقص و عیب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے جب کہ نرم گوئی وخوش کلامی شخصیت میں وقار کو ظاہر کرتی ہے۔

4755Mishkaat-al-Masabih

عار دلانے والے کے بارے میں وعید

وعن خالد بن معدان عن معاذ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من عير أخاه بذنب لم يمت حتى يعمله يعني من ذنب قد تاب منه . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب وليس اسناده بمتصل لأن خالدا لم يدرك معاذ بن جبل

اور حضرت خالد ابن معدان حضرت معاذ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کسی گناہ پر عار دلاتا ہے (یعنی اگر کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے اور کوئی شخص اس کو شرم و غیرت دلاتا ہے اور سرزنش و ملامت کرتا ہے تو وہ عار دلانے مرنے سے پہلے خود بھی اس گناہ میں (کسی نہ کسی طرح ضرور) مبتلا ہوتا ہے آنحضرت ﷺ کی مراد اس گناہ سے تھی جس سے اس نے توبہ کرلی ہو، ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ خالد نے حضرت معاذ ؓ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ تشریح کسی مسلمان کا بتقاضائے بشریت کسی گناہ میں مبتلا ہوجانا اور پھر شرم و نادم ہو کر اس گناہ سے توبہ کرلینا اس کی سلامتی و طبع اور حسن ایمان کی علامت ہے اس صورت میں کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان اس کے اس گناہ پر شرم و غیرت دلائے اور اس کو سرزنش و ملامت کرے ہاں اگر اس نے توبہ نہیں کی اس گناہ سے اور اس گناہ میں مبتلا ہے تو پھر اس کو شرم و غیرت دلائی جاسکتی ہے اور سرزنش و ملامت بھی کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس کو شرم و غیرت دلانا سرزنش و ملامت کرنا بطریق تکبر و بقصد تحقیر نہ ہو بلکہ تنبیہ و نصیحت کے طور پر اس کو اس گناہ سے باز رکھنے کے قصد سے ہو۔ آنحضرت ﷺ کے مذکورہ ارشاد کی یہ وضاحت آنحضرت ﷺ کی مراد اس سے گناہ تھی الخ۔۔ حضرت امام احمد حنبل سے منقول ہے اور یہ الفاظ اس روایت کے آخر میں نقل کئے جاتے ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو اگرچہ غریب کہا ہے اور اس میں کلام کیا ہے لیکن عراقی کہتے ہیں کہ اس روایت کو احمد اور طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔

4756Mishkaat-al-Masabih

کسی کو مصیبت میں دیکھ کر خوشی کا اظہار نہ کرو

وعن واثلة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تظهر الشماتة لأخيك فيرحمه الله ويبتليك . رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن غريب

اور حضرت واثلہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف پر اپنی خوشی مت ظاہر کرو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تمہاری بےجا خوشی سے ناراض ہو کر اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کر دے اور تمہیں اس آفت و مصیبت میں مبتلا کر دے اس روایت امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

4757Mishkaat-al-Masabih

کسی کی نقل اتارنا حرام ہے۔

وعن عائشة قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم ما أحب أني حكيت أحدا وأن لي كذا وكذا . رواه الترمذي وصححه

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میں کسی شخص کی نقل اتاروں اگرچہ میرے لئے ایسا اور ایسا ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی اگر کوئی مجھے بےحساب مال و زر اور کتنا ہی زیادہ روپیہ پیسہ بھی دے تو بھی میں کسی کی نقل اتارنا گوارا نہ کروں، ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ تشریح کسی کی نقل اتارنا قولی ہو یا فعلی، حرام اور غیبت محرمہ میں داخل ہے۔

4758Mishkaat-al-Masabih

خدا کی رحمت کو کسی کے لئے مخصوص ومحدود نہ کرو۔

وعن جندب قال جاء أعرابي فأناخ راحلته ثم عقلها ثم دخل المسجد فصلى خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما سلم أتى راحلته فأطلقها ثم ركب ثم نادى اللهم ارحمني ومحمدا ولا تشرك في رحمتنا أحدا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أتقولون هو أضل أم بعيره ؟ ألم تسمعوا إلى ما قال ؟ قالوا بلى ؟ . رواه أبو داود . وذكر حديث أبي هريرة كفى بالمرء كذبا في باب الاعتصام في الفصل الأول

اور حضرت جندب ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک دیہاتی شخص اپنے اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ اور آیا اس نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے پاؤں کو باندھ کر مسجد میں داخل ہوا پھر اس نے رسول اللہ کے پیچھے نماز پڑھی اور سلام پھیرنے کے بعد اس پر سوار ہوا اور پھر اس نے بلند آواز سے اس طرح کہا کہ اللہ مجھ پر اور محمد پر اپنی رحمت نازل فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر رسول اللہ ﷺ نے اس کو اس طرح دعا مانگتے سنا تو صحابہ سے فرمایا کہ تم بتاسکتے ہو کہ یہ دیہاتی زیادہ جاہل ہے یا اس کا اونٹ کیا تم نے سنا نہیں اس نے کیا کہا ہے (صحابہ نے عرض کیا جی ہاں ہم نے سنا ہے۔ (ابوداؤد) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کفی بالمرء کذبا الخ۔، باب الاعتصام میں نقل کی جا چکی ہے۔ تشریح اس دیہاتی نے چونکہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو مخصوص و محدود کیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے مذکورہ الفاظ کے ذریعہ گویا اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا لہذا معلوم ہوا کہ دعا میں اپنے مطلوب کو محدود و مخصوص نہ کرنا چاہیے یعنی یہ دعانہ مانگنی چاہیے کہ فلاں بات بس ہمارے لئے ہی ہے دوسرے کے لے نہ ہو بلکہ اس میں تمام مومنین و مومنات کو داخل کرنا چاہیے۔

4759Mishkaat-al-Masabih

فاسق کی تعریف وتوصیف نہ کرو۔

عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا مدح الفاسق غضب الرب تعالى واهتز له العرش رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب فاسق کی مدح و تعریف کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ مدح و تعریف کرنے والے پر غصہ ہوتا ہے اور اس کی مدح و تعریف کی وجہ سے عرش کانپ اٹھتا ہے۔ (بہیقی) تشریح عرش کانپ اٹھتا ہے یا تو اپنے ظاہری مفہوم پر محمول ہے کہ جب کسی فاسق وفاجر کی تعریف کی جاتی ہے تو عرش الٰہی واقعتا کانپنے لگتا ہے اور یا ان الفاظ کے ذریعے اس بات کو بطور کنایہ بیان کرنا مقصود ہے کہ فاسق کی تعریف و توصیف ایک بہت ہی ہیبت ناک بات ہے اور انتہائی سنگین برائی ہے اور اس ہیبت ناکی کی وجہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ جب کوئی شخص کسی فاسق کی تعریف میں رطب اللسان ہوتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ تعریف کرنے والا گویا ان اومر و افعال سے راضی اور خوش ہے کہ جو اس فاسق کی زندگی میں پائے جاتے ہیں بلکہ عجب نہیں کہ تعریف کرنے والا کفر کی حد میں داخل ہوجائے کیونکہ فاسق کی تعریف اس کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ حرام کو حلال جاننے لگے اس سے معلوم ہوا کہ بےعمل اور دنیا دار علماء گمراہ شعراء اور ریا کار پیشہ ور قراء کی مدح و تعریف کرنا بھی اس حکم میں داخل ہے نیز اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جب فاسق کی مدح و تعریف کرنے کا یہ حال ہے تو ظالم اور کافر کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہونا کسی درجہ ہیبت ناک برائی ہوگی لہذا اس بارے میں احتیاط لازم ہے اس بلاء عظیم سے بچنا اشد ضروری ہے، نیز اس سے بچنا اس صورت میں ممکن ہے جب کہ ان لوگوں کی صحبت وہم نشینی سے اجتناب کیا جائے۔

4760Mishkaat-al-Masabih

خیانت و جھوٹ، ایمان کی ضد میں

وعن أبي أمامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان عن سعد بن أبي وقاص

اور حضرت ابوامامہ ؓ علیہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان جھوٹ اور خیانت کے سوا ہر طرح کی خصلت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ (احمد) بہیقی نے شعب الایمان میں اس روایت کو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ علیہ سے نقل کیا ہے۔ تشریح اس ارشاد گرامی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کامل مومن میں یہ دو خصلتیں نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے اجزاء ترکیبی میں صدق و امانت کے اوصاف ہوتے ہیں جو تصدیق و ایمان کا تقاضا ہیں یا اس ارشاد گرمی کی مراد مومن کی ذات میں ان دونوں خصلتوں کی نفی کرنا ہے یعنی یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ مومن جو ایمان کے بار امانت کا حامل ہے ان دو خصلتوں میں مبتلا نہیں ہوسکتا اور زیادہ واضح باتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ دراصل ان دو خصلتوں کو اختیار کرنے سے منع فرمایا کہ کسی مسلمان کو یہ نہ چاہیے کہ ان دو، کو اپنے اندر راہ پانے دے کیونکہ یہ دونوں برائیاں درحقیقت ایمان و اسلام کی ضد ہیں۔

4761Mishkaat-al-Masabih

خیانت و جھوٹ، ایمان کی ضد میں

وعن صفوان بن سليم أنه قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم أيكون المؤمن جبانا ؟ قال نعم . فقيل أيكون المؤمن بخيلا ؟ قال نعم . فقيل أيكون المؤمن كذابا ؟ قال لا . رواه مالك والبيهقي في شعب الإيمان مرسلا

اور حضرت صفوان ابن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے آپ نے فرمایا ہوسکتا ہے پھر آپ سے پوچھا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے آپ نے فرمایا ہوسکتا ہے پھر جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا مومن بہت جھوٹا ہوسکتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں اس روایت کو مالک نے اور بہیقی نے شعب الایمان میں بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ کوئی مومن کسی موقع پر بزدلی دکھا سکتا ہے اور کسی صورت میں بخیل بی ہوسکتا ہے لیکن وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا، کیونکہ ایمان کی صداقت و حقانیت کذب کے منافی ہے جو اپنی اصلی اور نفس الامر کے اعتبار سے باطل ہے علماء نے لکھا ہے کہ یہ حدیث بھی اوپر کی حدیث کی تشریح میں ذکر کردہ تاویلات پر محمول ہے۔ حدیث میں کذاب مبالغہ کے صیغہ کے ساتھ ذکر کرنا، اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اگر بتقاضائے بشریت کسی موقع پر مومن سے جھوٹ سرزد ہوجائے جیسا کہ بعض صورتوں میں دنیا کی کسی ناجائز غرض کے تحت نہیں بلکہ مصالح اور حکمت عملی کے پیش نظر جھوٹ بولنا بھی ضروری ہوجاتا ہے تو ایسی صورت مستثنی ہے اس کو ایمان کے منافی نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت صفوان کا کچھ ذکر خیر اس موقع پر اس حدیث کے راوی حضرت صفوان کا کچھ ذکر خیر کردینا موزوں ہوگا یہ عظیم ہستی جن کا پورا نام صفوان ابن سلیم زہری ہے حضرت حمید بن عبدالرحمن ابن عوف کے آزاد کردہ غلام ان کا شمار مدینہ کے مشہور و ثقہ اور جلیل القدر تابعین میں ہوتا ہے حضرت انس بن مالک ؓ علیہ وغیرہ سے روایت حدیث کرتے ہیں اللہ کے صالح اور برگزیدہ بندوں میں سے تھے بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے چالیس سال تک اپنے پہلو کو زمین سے نہیں لگایا یہاں تک کہ وقت مرگ بھی بیٹھے رہے اور اسی حالت میں جان جا آفریں کے سپرد کی لوگ کہتے تھے کہ عبادت الٰہی اور سجدہ کی کثرت کی وجہ سے ان کی پیشانی میں سوراخ ہوگیا تھا قناعت خود داری کا یہ عالم تھا کہ باوجود احتیاج کے شاہی عطیات کو قبول نہیں کرتے تھے ان کے فضائل و مناقب بہت زیادہ ہیں۔ ١٣٢ ھ میں انتقال ہوا۔

4762Mishkaat-al-Masabih

شیطان کی فتنہ خیزی

وعن ابن مسعود قال إن الشيطان ليتمثل في صورة الرجل فيأتي القوم فيحدثهم بالحديث من الكذب فيتفرقون فيقول الرجل منهم سمعت رجلا أعرف وجهه ولا أدري ما اسمه يحدث . رواه مسلم

اور حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ (کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ) شیطان کسی آدمی کی صورت میں اختیار کر کے کسی جماعت کے پاس آتا ہے اور ا ان کو جھوٹی خبر پہنچا دیتا ہے پھر جب اس جماعت کے لوگ ادھر ادھر منتشر ہوتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص کو سنا ہے جس کی صورت تو میں پہنچانتا ہوں (کہ اگر اس کو دیکھوں تو بتاسکتا ہوں کہ یہ وہی شخص ہے) مگر اس کا نام نہیں جانتا وہ یہ بات بیان کرتا تھا۔ (مسلم) تشریح خبر سے مراد یا تو آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے یا مطلق کوئی بھی جھوٹی خبر و اطلاع، حضرت ابن مسعود ؓ علیہ کے قول کا مقصد یہ تنبیہ کرنا ہے کہ حدیث کی سماعت کے وقت پوری احتیاط اور چھان بین کر لینی چاہیے کہ جو حدیث سنائی یا نقل کی جا رہی ہے صحیح ہے یا نہیں؟ اسی طرح اگر کوئی بھی خبر یا کوئی بھی بات کسی سے سنے تو اس وقت تک دوسروں کے سامنے نقل نہ کرے جب تک کہ یہ تحقیق نہ کرلے کہ اس خبر اور بات بیان کرنے والا قابل اعتماد اور سچا ہے یا نہیں اور یہ کہ وہ خبر واقعہ کے مطابق ہے اور صحیح ہے یا نہیں۔ مذکورہ بالا روایت اگرچہ بطریق مرفوع آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے طور پر نقل کی گئی ہے بلکہ بطریق موقوف یعنی حضرت ابن مسعود ؓ علیہ ایسی کوئی بات آنحضرت ﷺ سے سنے بغیر اس کو بیان نہیں کرسکتے تھے اس لئے یہ روایت مرفوع حدیث ہی کے حکم میں ہے۔

4763Mishkaat-al-Masabih

برائی سکھانے سے چپ رہنا بہتر ہے۔

وعن عمران بن حطان قال أتيت أبا ذر فوجدته في المسجد محتبيا بكساء أسود وحده . فقلت يا أبا ذر ماهذه الوحدة ؟ فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الوحدة خير من جليس السوء والجليس الصالح خير من الوحدة وإملاء الخير خير من السكوت والسكوت خير من إملاء الشر

اور حضرت عمران ابن حطان (تابعی) کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابوذر غفاری ؓ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کو مسجد میں پایا اس وقت وہ ایک کالی کملی لپیٹے ہوئے تنہا بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا ابوذر یہ تنہائی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔ حضرت ابوذر ؓ علیہ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ برے ہم نشینوں کے ساتھ بیٹھنے سے تنہا بیٹھنا بہتر ہے اور تنہا بیٹھنے سے نیک ہم نشینوں کے ساتھ بیٹھنا بہتر ہے نیز چپ رہنے سے بھلائی کا سکھانا بہتر ہے برائی سکھانے سے چپ رہنا بہتر ہے۔ تشریح حضرت ابوذر ؓ علیہ کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت چونکہ وہ خاص رفقاء اور ہم نشین یہاں موجود نہیں ہیں جن کی نیکیوں، سلامتی طبع اور پاکیزہ صحبت کا جو یا ہونا چاہیے اور جن پر مجھے اعتماد بھروسہ ہوسکتا ہے اس لئے میں نے یہی بہتر سمجھا کہ یہاں چپ چاپ اور تنہا بیٹھا رہوں، ہاں جب ایسے لوگ موجود ہوں تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں۔

4764Mishkaat-al-Masabih

خاموشی اختیار کرنا، ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔

وعن عمران بن حصين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مقام الرجل بالصمت أفضل من عبادة ستين سنة

اور حضرت عمران بن حصین ؓ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چپ رہنے کی وجہ سے آدمی کو جو درجہ حاصل ہوتا ہے وہ ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے۔ تشریح لفظ مقام، میم کی زبر کے ساتھ ہے اور میم کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی کی بری باتوں سے خاموشی اختیار کرنا اور اسی خاموشی پر مدوامت و ہمیشگی کے ساتھ عمل پیرا ہونا اور ثابت قدم رہنا اس شخص کی ساٹھ سال کی عبادت سے بھی بہتر ہے افضل ہے جو کثرت کلام اور زبان کی بےاحتیاطی میں متلا ہو اور اس کی عبادت استقامت دین کی روح سے خالی ہو۔ طیبی نے مقام کے معنی اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ لکھے ہیں اور افضل ہونے کی یہ دلیل بیان کی ہے کہ عبادات میں بہت سی آفات بھی پیش آتی ہیں اور جو شخص خاموشی اختیار کرلیتا ہے وہ ان آفات سے محفوظ و سلامت رہتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ من کان صمت نجا، یعنی جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اس حدیث کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ چپ رہنے کی وجہ سے جو درجہ حاصل ہوتا ہے کبھی وہ اللہ کے نزدیک ساٹھ سال کی عبادت سے بھی افضل ہے کیونکہ وہ خاموشی کی جس کے دوران اللہ کی ذات وصفات اس کی قدرتوں اور کائنات و مخلوقات کے تئیں اس کی حکمت آفرینی و کا رسازی میں غور و فکر کو راہ ملے یا لطیفہ قلب کو ذکر خفی میں استغراق و انہماک دولت نصیب ہو اور روح باطن کو اللہ کی ذات وصفات کے نور سے روشنی حاصل کرنے کا موقع ملے تو یہ فکر و استغراق اگرچہ ایک ہی لمحہ وساعت کے بقدر کیوں نہ ہو لیکن اعضاء وجوارح کی اس عبادت وطاعت سے کہیں زیادہ بہتر افضل ہے جو ذہن و فکر کے انتشار بےحضوری قلب اور یاد الٰہی کے ساتھ غیر خاطر جمعی کے ساتھ عمل میں آئے اگرچہ وہ عبادت وطاعت سالہا سال کے بقدر ہی کیوں نہ ہو۔