حضرت ابوذر رضی اللہ علیہ کو آنحضرت ﷺ کی چند نصائح۔
وعن أبي ذر قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث بطوله إلى أن قال قلت يا رسول الله أوصني قال أوصيك بتقوى الله فإنه أزين لأمرك كله قلت زدني قال عليك بتلاوة القرآن وذكر الله عز وجل فإنه ذكر لك في السماء ونور لك في الأرض . قلت زدني . قال عليك بطول الصمت فإنه مطردة للشيطان وعون لك على أمر دينك قلت زدني . قال إياك والضحك فإنه يميت القلب ويذهب بنور الوجه قلت زدني . قال قل الحق وإن كان مرا . قلت زدني . قال لا تخف في الله لومة لائم . قلت زدني . ليحجزك عن الناس ما تعلم من نفسك
اور حضرت ابوذر ؓ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد خود ابوذر ؓ علیہ نے یا ابوذر ؓ سے نقل کرنے والے راوی نے طویل حدیث بیان کی جو یہاں نقل نہیں کی گئی بلکہ اس کے یہ آخری جملے نقل کئے گئے ہیں) پھر ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ کو کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا کہ تم کو تقوی یعنی اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ تقوی تمہارے تمام امور و اعمال کو بہت زیادہ زینت و آراشگتی بخشنے والا ہے میں نے عرض کیا میرے سے کچھ اور نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا تلاوت قرآن اور ذکر اللہ کو اپنے لئے ضروری سمجھو کیونکہ یہ تمہارے لئے آسمان میں موجب ذکر ہوگا اور زمین پر نور کا سبب ہوگا یعنی جب تم تلاوت قرآن اور اللہ کا ذکر میں مشغولیت اختیار کرو گے تو اس کے سبب سے آسمانوں میں ملائکہ تمہارا ذکر خیر کریں گے بلکہ حق تعالیٰ بھی تمہیں یاد کرے گا اور اس میں دنیا میں تمہارے معرفت و یقین اور راہ ہدایت کا نور ظاہر ہوگا میں نے عرض کیا میرے لئے کچھ اور نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا طویل خاموشی کو اپنے اوپر لازم کرو کیونکہ خاموشی شیطان کو دور بھگاتی ہے اور دینی امور میں تمہاری مددگار ہوتی ہے یعنی خاموشی پر مداومت اختیار کرنے کی وجہ سے تمہیں اللہ کی نعمتوں میں غور فکر کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع نصیب ہوگا علاوہ ازیں خاموشی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ تم اپنے آپ کو شیطان کی فتنہ خیزیوں سے محفوظ رکھ سکو گے جو زبان کے راستہ سے عملی زندگی میں سرایت کرتا ہے اور دنیا و آخرت کے ذبردست نقصان و خسران میں مبتلا کر لتیا ہے دوسرے یہ کہ خاموشی تمہاری دینی و اخروی بھلائی وسعادت کا ضامن بھی بنے گی کیونکہ جب وہ تمہیں زبان کی آفتون سے محفوظ و سلامت رکھ کر تمہارے دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھے گی تو یہ چیز ذکر خفی کے سبب سے تمہارے حق میں علوم و معارف اور نورانیت قلب کے حصول کا موجب ہوگی) میں نے عرض کیا میرے لئے کچھ اور نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا بہت زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے اور چہرے کی موزونیت کو کھو دیتا ہے یعنی بہت ہنسانے کی وجہ سے چونکہ قلب پر غفلت وبے حسی کی تاریکی چھا جاتی ہے اور علم و معرفت کا وہ نور بجھ جاتا ہے جس پر دل کی حیات کا دار و مدار ہے اس لئے بہت زیادہ ہنسنے والے کا دل گویا مردہ ہوجاتا ہے نیز جب دل غافل ہوجاتا ہے اور قوائے باطن پر غفلت وبے حسی طاری ہوجاتی ہے تو طاعت و عیادت میں بھی کمی آجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ نور رخصت ہوجاتا ہے جو عبادت کی علامت کے طور پر مومن کے چہرے پر ہوتا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا آیت (سیما ھم فی وجوھھم من اثرالسجود)، ویسے بھی یہ بات یقینی ہے کہ دل کی مردنی چہرے کو بےنور بنا دیتی ہے کیونکہ بدن کی تروتازگی اور نورانیت دراصل حسی اور معنوی حیات پر منحصر ہے میں نے عرض کیا کہ میرے لئے کچھ اور نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا سچی بات کہو اگرچہ کڑوی ہو (یعنی حق کے اظہار میں کبھی نہ چوکو بلکہ جو بات سچی ہو اس کو ضرور کہو اگر اس کی وجہ سے لوگوں کو یا خود تمہارے نفس کو ناگواری محسوس ہو) میں نے عرض کیا کہ میرے لئے کچھ اور نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا اللہ کے دین اور اللہ کو ظاہر کرنے اور اس کی تائید وتقویت میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو میں نے عرض کیا کہ میرے لئے کچھ اور نصیحت فرمائیے آپ نے فرمایا چاہیے کہ وہ چیز تمہیں لوگوں کے عیوب ظاہر کرنے سے روکے جس کو تم اپنے نفس کے بارے میں جانتے ہو یعنی جب تمہیں کسی کی عیب گوئی کا خیال آئے تو فورا اپنے عیوب کی طرف دیکھو اور سوچو کہ خود میری ذات میں اتنے عیب ہیں تو میں دوسرے کی عیب گیری کیا کروں گو! تم خود اپنے عیوب و نقائص کی طرف متوجہ رہو اور دوسروں کی عیب گوئی سے اجتناب کرو۔
تشریح
ہر ایک کام اور ہر بھلی بات، جو محض اللہ کی رضا و خوشنودی اور اس کو تقرب حاصل کرنے کی نیت سے صادر و سرزد ہو ذکر اللہ میں داخل ہے اگر اس جملہ یعنی سب ذکروں میں افضل لاالہ الا اللہ ہے تو کہا جائے گا کہ مذکورہ جملہ اس اسلوب بیان کا مظہر ہے جس میں کوئی بات پہلے عمومی طور پر ذکر کی جاتی ہے اور پھر کسی ایسے جز کو خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے جو تمام اجزاء سے زیادہ شرف و فضیلت رکھتا ہو۔ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرو! کے ذریعہ گویا تلقین فرمائی گئی کہ اللہ کے دین کو سر بلند کرنے کا جو فریضہ تم پر عائد ہوتا ہے اگر اس کی انجام دہی میں تمہیں دنیا والوں سے پوری طرح منہ موڑنا پڑے تو اس میں ہچکچاہٹ نہ دکھاؤ اور اس بات کو ضروری سمجھو کہ تمہیں دنیا والوں کی مذمت اور تعریف سے بالکل بےپرواہ ہو کر ہر حالت میں حق و صداقت پر اور اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہنا ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا آیت (وتبتل الیہ تبتیلا)، یعنی اور دنیا والوں سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا و خوشنودی کی طرف رجوع کرو۔ جس کو تم اپنے نفس کے بارے میں جانتے ہو کا مطلب یہ ہے کہ جب تم جانتے ہو کہ خود تمہارے اندر کیا عیوب ہیں اور تمہارا نفس کن برائیوں میں مبتلا ہے تو پھر تمہارے لئے یہ قطعا مناسب نہ ہوگا کہ تم دوسرے کے عیوب پر نظر رکھو اور دوسروں کی برائیوں پر انگلی اٹھاؤ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے نقطہ نظر سے تو بیشک کسی کو اس کی برائی پر ٹوک سکتے ہو اور اس کو راہ راست اختیار کرنے کی تلقین کرسکتے ہو بلکہ تم پر یہ ضروری بھی ہے کہ اگر تم کسی کو برائی میں مبتلا دیکھو تو اس کو اس برائی سے ہٹانے کی کوشش کرو لیکن محض عیب جوئی اور تحقیر و تذلیل کے خیال سے کسی کی برائی پر انگلی نہ اٹھاؤ اور اس کی غیبت نہ کرو بلکہ اپنی برائیوں اور اپنے عیوب پر نظر رکھتے ہوئے خود اپنے کو سب سے زیادہ ناقص اور کم تر سمجھو کسی نے کیا خوب کہا ہے، غافل اندایں خلق از خود بیخبر لاجرم گویند عیب یگدگر دیلمی نے حضرت انس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے، طوبی لمن شغلہ علیہ عن عیوب الناس قابل مبارک باد ہے وہ شخص جس کو اس کا عیب لوگوں کی عیب گیری سے باز رکھے۔
خاموش اور خوش خلقی کی فضیلت
وعن أنس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا أبا ذر ألا أدلك على خصلتين هما أخف على الظهر وأثقل في الميزان ؟ قال قلت بلى . قال طول الصمت وحسن الخلق والذي نفسي بيده ما عمل الخلائق بمثلهما
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوذر ؓ کیا میں تمہیں وہ دو خصلتیں نہ بتادوں جو مکلف انسان کی پشت پر یعنی اس کی زبان کے اوپر بہت ہلکی ہیں اعمال کے ترازو میں بہت بھاری ہیں، حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ میں نے سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ضرور بتائیے آپ نے فرمایا معرفت الہیہ اور نظام قدرت میں غور و فکر کے لئے طویل خاموشی اور خوش خلقی، قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مخلوق کے لئے ان دونوں خصلتوں سے بہتر کوئی کام نہیں ہے۔
تشریح
چپ رہنا اور خوش خلقی اختیار کرنا یہ دونوں خصلتیں اس اعتبار سے بہت آسان اور ہلکی ہیں کہ خاموش رہنے میں کوئی محنت و مشقت برداشت نہیں کرنا پڑتی اسی پر خوش خلقی کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نرم خوئی اور خوش مزاجی اور خندہ روئی میں راحت و سکون اور آسانی و نرمی حاصل ہوتی ہے بخلاف سخت خوئی، تند مزاجی اور جدال و نزع کے کہ ان میں سراسر محنت و مشقت ہے۔
وعن عائشة قالت مر النبي صلى الله عليه وسلم بأبي بكر وهو يلعن بعض رقيقه فالتفت إليه فقال لعانين وصديقين ؟ كلا ورب الكعبة فأعتق أبو بكر يومئذ بعض رقيقه ثم جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقال لا أعود . روى البيهقي الأحاديث الخمسة في شعب الإيمان
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوبکر اپنے کسی غلام پر لعنت کر رہے ہیں، آپ ان کی طرف متوجہ ہوگئے اور فرمایا کہ بھلا تم نے لعنت کرنے اور صدیقین کو بھی دیکھا ہے؟ (یعنی کیا تم نے کبھی بھی کوئی ایسے شخص کو دیکھا کہ جس میں بیک وقت یہ دو صفتیں یعنی لعانیت اور صدیقیت پائی جاتی ہیں حاصل یہ ہے کہ جو شخص صدیقیت کے مقام پر فائز ہو وہ لعنت کرنے والا نہیں ہوسکتا جیسا کہ یہ حدیث گزر چکی ہے کہ لا ینبغی لصدیق ان یکون لعانا، یعنی صدیق کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو) نہیں رب کعبہ کی قسم یہ دونوں باتیں کسی ایک شخص میں ہرگز جمع نہیں ہوسکتیں، چناچہ حضرت ابوبکر ؓ نے یہ ارشاد سن کر اپنی اس تقصیر کے کفارہ کے طور پر اس دن اپنے بعض غلاموں کو آزاد کیا پھر معذرت خواہی کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آئندہ کبھی ایسا کام نہیں کروں گا۔ (یعنی کسی کو لعنت نہیں بھیجوں گا) حضرت عمران بن حطان کی روایت سے لے کے اس حدیث تک ان پانچوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
زبان کی ہلاکت خیزی اور حضرت ابوبکر صدیق کا خوف
وعن أسلم قال إن عمر دخل يوما على أبي بكر الصديق رضي الله عنهم وهو يجبذ لسانه . فقال عمر مه غفر الله لك . فقال أبو بكر إن هذا أوردني الموارد . رواه مالك
اور حضرت اسلم کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر فاروق امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (دیکھا کہ) حضرت ابوبکر ؓ اپنی زبان کو کھینچ رہے ہیں (یعنی اپنی زبان کے تئیں اس قدر غیظ و غضب کا اظہار کر رہے تھے کہ اس کو انگلیوں سے پکڑ پکڑ کر کھینچ رہے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کو نکال باہر پھینک دیں گے حضرت عمر ؓ نے یہ دیکھ کر کہا کہ ٹھہریے ایسا نہ کیجیے اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ (یہ زبان اسی سزا کی مستوجب ہے کیونکہ) اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں ڈالا ہے۔ (مالک)
وہ چھ امور جو جنت کے ضامن ہیں
وعن عبادة بن الصامت أن النبي صلى الله عليه وسلم قال اضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة اصدقوا إذا حدثتم وأوفوا إذا وعدتم وأدوا إذا ائتمتنم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وكفوا أيديكم
اور حضرت عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے بارے میں مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو یعنی چھ باتوں پر عمل کرنے کا عہد کرلو تو میں نجات پائے ہوئے اور صالحین کے ساتھ تمہارے جنت میں جانے کا ضامن بنتا ہوں۔ (١) جب بھی بولو سچ بولو (٢) وعدہ کرو تو پورا کرو (٣) تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو (٤) اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو یعنی حرام کاری سے بچو (٥) اپنی نگاہ کو محفوظ رکھو یعنی اس چیز کی طرف نظر اٹھانے سے پرہیز کرو جس کو دیکھنا جائز نہیں (٦) اپنے ہاتھوں پر قابو رکھو یعنی اپنے ہاتھوں کو ناحق مارنے اور حرام و مکروہ چیزوں کو پکڑنے سے باز رکھو، یا یہ کہ اپنے آپ کو ظلم وتعدی کرنے سے باز رکھو۔
اچھے اور برے بندے کون ہیں
وعن عبد الرحمن بن غنم وأسماء بنت يزيد رضي الله عنهم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال خيار عباد الله الذين إذا رؤوا ذكر الله . وشرار عباد الله المشاؤون بالنميمة والمفرقون بين الأحبة الباغون البراء العنت . رواهما أحمد والبيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت عبدالرحمن بن غنم ؓ اور اسماء ؓ بنت یزید، راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آجائے اور اللہ کے بدترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں (جس سے ان کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا) کہ وہ دوستوں کے درمیان نفاق و جدائی ڈال دیں اور پاکیزہ لوگوں کے دامن پر فساد اور خرابی اور زنا کاری کے چھینٹنے ڈالیں یعنی اللہ کے جو نیک بندے فتنہ و فساد، گناہ اور کسی عیب سے پاک و منزہ ہوتے ہیں ان پر فتنہ و فساد اور گناہ و معصیت جیسے زنا کاری وغیرہ کا بہتان لگاتے ہیں اور اس طرح ان کو ہلاکت و مشقت اور دشواریوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ (احمد، بہیقی)
تشریح
اس حدیث میں بہترین لوگوں کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ اللہ کے وہ نیک و صالح اور عبادت گزار بندے جو اللہ رب العزت کے ساتھ اپنے کمال تعلق و اختصاص کی بنا پر ایسے درجے پر فائز ہوجاتے ہیں کہ ان کے احوال و کردار، عادت واطوار اور حرکات و سکنات پر انوار و آثار الیہ ہویدا ہوجاتے ہیں اور ان کے چہرے پر عبادت گزاری اور اتباع دین و شریعت کی وہ علامتیں ظاہر ہوتی ہیں کہ جب ان کے جمال پر نظر پڑتی ہے تو بےساختہ اللہ یاد آجاتا ہے اور دل پکار اٹھتا ہے کہ یہی وہ نیک بندے جو کامل عبودیت کے حامل اور کائنات انسانی خلاصہ اور انوار الٰہی کے مظہر ہیں۔ بعض حضرات نے اللہ یاد آجانے کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اللہ کے ایسے نیک و صالح بندوں کو دیکھنا گویا ذکر الٰہی میں مشغول ہونا ہے جیسا کہ علماء نے لکھا ہے کہ عالم دین کے چہرے پر نظر ڈالنا عبادت اور عین سعادت ہے اور اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ بسا اوقات کسی مرد صالح اور شیخ کامل کے چہرے پر نظر پڑتے ہیں باطن میں ایسی نورانیت محسوس ہوتی ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے یہ بات حدیث سے بھی ثابت ہے چناچہ حضرت علی ؓ کے بارے میں فرمایا گیا کہ النظر ولی وجہ علی عبادہ۔ یعنی حضرت کے چہرہ پر نظر کرنا عبادت ہے نیز منقول ہے کہ جب حضرت علی ؓ گھر سے نکلتے اور لوگوں کی نظر ان کے چہرہ پر نور پر پڑتی تھی تو یہ الفاظ ان کی زبان پر آجاتے تھے، لا الہ اللہ مااشرف ھذا الفتی، لا الہ الاللہ ما اکرم ھذا لفتی، لا الہ الا اللہ ما اعلم ھذا الفتی، لا الہ الا اللہ ما اشجع ھذا لفتی، گویا حضرت علی ؓ کو دیکھنا کلمہ توحید کے ورد کا باعث بنتا تھا۔
وعن ابن عباس أن رجلين صليا صلاة الظهر أو العصر وكانا صائمين فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال أعيدا وضوءكما وصلاتكما وامضيا في صومكما واقضيا يوما آخر . قالا لم يا رسول الله ؟ قال اغتبتم فلانا
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن دو آدمیوں نے جو روزہ دار تھے آنحضرت ﷺ کریم کے پیچھے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی جب آنحضرت ﷺ نماز پڑھ چکے تو ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں دوبارہ وضو کرو اپنی نماز کو لوٹاؤ اور اپنے اس روزے کو پورا کرو اور اس کے بدلے میں احتیاطا دوسرے دن کا روزہ رکھ لو۔ ان دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسا کیوں؟ یعنی وضو، نماز اور روزے کو لوٹانا کس سبب سے ہے؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے۔
تشریح
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیبت وضو اور روزے کو توڑ دیتی ہے لیکن علماء نے لکھا ہے کہ یہ حدیث دراصل غیبت کی شدید مذمت اور غیبت کرنے والے کے حق میں سخت ترین زجر و تنبیہ کے طور پر ارشاد ہوئی ہے ورنہ حقیقت میں غیبت سے روزہ اور وضو ٹوٹتا نہیں تاہم غیبت کی وجہ سے وضو اور روزہ کا کمال وثواب ضرور کھویا جاتا ہے لیکن حضرت سفیان ثوری ؓ کے نزدیک غیبت، مفسدہ روزہ ہے، بہر حال حدیث سے یہ بات وضح ہوتی ہے کہ غیبت کی قباحت و برائی بہت زیادہ ہے اور احتیاط وتقوی کا تقاضا یہی ہے کہ اگر غیبت صادر ہوجائے تو وضو کی تجدید کرنی چاہیے بلکہ علماء نے بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص بہت زیادہ ہنسنے یا بہت زیادہ لا یعنی باتیں کرنے سے اس کے باطن پر طاری ہوگئی ہے نیز روزہ دار کو چاہیے کہ غیبت سے پوری طرح اجتناب کرے۔
وعن أبي سعيد وجابر قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الغيبة أشد من الزنا . قالوا يا رسول الله وكيف الغيبة أشد من الزنا ؟ قال إن الرجل ليزني فيتوب فيتوب الله عليه وفي رواية فيتوب فيغفر الله له وإن صاحب الغيبة لا يغفر له حتى يغفرها له صاحبه . وفي رواية
اور حضرت ابوسعید ؓ اور حضرت جابر ؓ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا غیبت کرنا زنا کرنے سے زیادہ سخت برائی ہے، صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ غیبت زنا سے زیادہ سخت برائی کس طرح سے ہے؟ آپ نے فرمایا اس طرح کہ جب آدمی زنا کرتا ہے تو توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا جب تک کہ اس کو وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے یعنی زنا کاری چونکہ اللہ کی معصیت و نافرمانی ہے اس لئے وہ ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس کو بخش دیتا ہے جبکہ غیبت کرنا حق العباد سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ غیبت کرنے والے کو اس وقت تک نہیں بخشتا جب تک وہ شخص اس کو معاف نہ کر دے جس کی اس نے غیبت کی ہے اور حضرت انس ؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا زنا کرنے والا توبہ کرتا ہے اور غیبت کرنے والے کے لئے توبہ نہیں ہے۔ (ان تینوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے)۔
تشریح
اور غیبت کرنے والے کے لئے توبہ نہیں ہے، غالباً اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص زنا میں مبتلا ہوجاتا ہے اس کے دل پر اللہ کا خوف طاری ہوجاتا ہے اور اس تصور سے لرزنے لگتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مواخذہ کرلیا تو نجات کا راستہ نہیں ملے گا اس لے وہ اپنے اس فعل شنیع پر نادم و شرمسار ہو کر توبہ کرتا ہے جب کہ غیبت اگرچہ اللہ کے نزدیک بڑے گناہ کی چیز ہے کہ مگر غیبت کرنے والا اس کو ایک ہلکی چیز سمجھتا ہے کیونکہ جب کوئی برائی عام ہوجاتی ہے تو اس کی قباحت دل سے نکل جاتی ہے اور لوگ اس میں مبتلا ہوجانے کی برائی محسوس نہیں کرتے یا یہ بات بھی بعید از مکان نہیں ہوسکتی ہے کہ غیبت کرنے والا غیبت کو سرے سے کوئی برا فعل ہی نہ سمجھے بلکہ اس کو جائز و حلال جانے اور اس طرح وہ کفر کے بھنور میں پھنس جائے اور یا اس جملہ کے یہ معنی ہیں کہ غیبت کرنے والا توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بذات خود کارگر نہیں ہوتی بلکہ اس توبہ کا صحیح و مقبول ہونا اس شخص کی رضا مندی اور اس کی طرف سے معاف کردیئے جانے پر موقوف ہوتا ہے جس کی اس نے غیبت کی ہے چناچہ اوپر کی حدیث سے یہی واضح ہوتا ہے۔
أنس رضي الله عنه قال صاحب الزنا يتوب وصاحب الغيبة ليس له توبة . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس شخص کی مغفرت و بخشش کی دعا مانگو جس کی تم نے غیبت کی ہے اور اس طرح دعا مانگو کہ اے اللہ ہم کو اور اس شخص کو جس کی میں نے غیبت کی ہے بخش دے اس روایت کو بہیقی نے اپنی کتاب دعوات کبیر میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند میں ضعف ہے۔
تشریح
دعا و مغفرت کے الفاظ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غیبت کرنے والا پہلے خواہ اپنے حق میں مغفرت کی دعا کرے اس میں نکتہ یہ ہے کہ استغفار کرنے والے کے بارے میں حق تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ اس کی دعا و مغفرت کو قبول کیا جائے گا لہذا غیبت کرنے والا جب پہلے خود اپنے حق میں استغفار کرے گا اور اس کے نتیجے میں وہ اس معصیت سے پاک ہوجائے گا تو دوسرے کے حق میں بھی اس کی دعاء مغفرت قبول ہوگئی۔ اغفرلنا میں جمع متکلم کا صیغہ اس صورت کے اعتبار سے ہے کہ جب کہ غیبت کا صدور بھی لوگوں سے ہوا ہو یعنی اگر غیبت کرنے والے کئی لوگ ہوں تو سب اس طرح دعا مانگیں اور اگر غیبت کرنے والا ایک شخص ہو تو پھر اغفرلی کے الفاظ استعمال ہوں گے یا یہ مراد کہ استغفار کرنے والا اپنی دعاء مغفرت میں تمام مسلمانوں کو شامل کرے اس صورت میں اس دعا کے معنی یہ ہوں گے کہ اے اللہ ہم سب مسلمانوں کو اور خاص طور پر اس شخص کو کہ جس کی میں نے غیبت کی ہے بخش دے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغفرت کی دعا کرنا اس صورت سے متعلق ہے جبکہ اس کی غیبت کی خبر اس شخص کو نہ پہنچی ہو جس کی غیبت کی گئی ہے اور اگر یہ صورت ہو کہ جس شخص کی غیبت کی گئی ہے اس کو معلوم ہوگیا کہ فلاں شخص نے میری یہ غیبت کی ہے تو غیبت کرنے والے کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس شخص سے اپنے آپ کو معاف کرائے بایں طور کہ پہلے اس کو یہ بتائے کہ میں نے تمہاری غیبت میں اس طرح کہا ہے اور پھر اس سے معاف اپنے آپ کو معاف کرائے اور اگر غیبت کرنے والا کسی مجبوری اور عذر کی بناء پر ایسا نہ کرسکے تو پھر یہ ارادہ رکھے کہ جب بھی ہو سکے گا اس سے اپنے آپ کو معاف کراؤں گا، چناچہ اس کے بعد جب بھی وہ اپنے آپ کو معاف کروا لے اس سے تو اس ذمہ داری سے بری ہوجائے گا۔ اور اس غیبت کے سلسلہ میں اس پر کوئی حق ومواخذہ باقی نہیں رہ جائے گا، ہاں اگر وہ اپنے آپ کو معاف کرانے سے بالکل عاجز رہا بایں سبب کہ جس شخص کی اس نے غیبت کی ہے وہ مثلا مرگیا یا اتنی دور رہائش پذیر ہے کہ اس سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کا طلب گار ہو اور اس کے فضل و کرم سے یہ امید رکھے کہ وہ اس شخص کو اس کے تئیں راضی کر دے گا۔ فقیہ ابوللیث نے کہا ہے کہ علماء نے غیبت کرنے والے کی توبہ کے بارے میں کلام کیا ہے کہ آیا اس کے لئے یہ جائز ہے یا نہیں؟ کہ اس نے جس شخص کی غیبت کی ہے اس سے معاف کرائے بغیر توبہ کرے چناچہ بعض علماء نے اس کو جائز کہا ہے کہ جب کہ ہمارے نزدیک اس کی صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ اگر اس کی غیبت کی خبر اس شکص کو پہنچ گئی ہے جس کی اس نے غیبت کی ہے تو اس کی توبہ بس یہی ہے کہ وہ اس سے معاف کرائے اور دوسرے یہ کہ اگر کسی شخص کو اس کی غیبت کی خبر پہنچی ہے تو اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کی دعا مانگے اور دل میں یہ عہد کرلے کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ بہیقی نے اس روایت کو گویا ضعیف قرار دیا ہے لیکن اس کا ضعف ہونا حدیث کے اصل مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے بھی استدلال کرنا کافی ہوجاتا ہے علاوہ ازیں جامع صغیر میں بھی اس طرح کی ایک حدیث حضرت انس ؓ سے منقول ہے جو اس روایت کو تقویت پہنچاتی ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ کفارۃ من الغیبۃ ان تستغفرلہ، یعنی غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ اس شخص کے حق میں مغفرت کی دعا کی جائے جس کی غیبت کی گئی ہے۔
وعد کے معنی ہیں قول وقرار کرنا، وعدہ کرنا یعنی کسی سے مثلا یہ کہنا کہ تمہارا فلاں کام کر دوں گا یا تمہارے پاس آؤں گا اور یا تمہارے ساتھ کھانا کھاؤں گا وغیرہ وغیرہ، واضح رہے کہ لفظ وعد خیر اور شر دونوں سے متعلق جملوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس جملہ میں خیر اور شر کا لفظ مذکور ہو جیسے کہا جاتا ہے کہ وعدتہ خیرا یا وعد شرا اور اگر خیر یا شر کا لفظ مذکور نہ ہو تو خیر میں وعد کا لفظ استعمال کیا جائے اور شر میں وعید کا اور ایعاد کا لفظ۔ ایفائے عہد اور وعدے کو پورا کرنا انسانیت کا مظہر اور اسلامی اخلاق و آداب کا ایک بنیادی تقاضا ہے کہ اس کے برخلاف بدعہدی اور وعدہ خلافی ایک بہت بڑا عیب ہے جو شخص اپنا عہد پورا نہ کرے اور اپنا وعدہ وفا نہ کرے وہ اسلام اور معاشرہ دونوں کی نظر میں سخت ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے چناچہ اس باب میں اسی موضوع سے متعلق احادیث نقل ہوں گی۔
جو شخص اپنا وعدہ پورا کرنے سے پہلے مر جائے تو اس کا جانشین اس کا وعدہ پورا کرے
عن جابر قال لما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاء أبو بكر مال من قبل العلاء بن الحضرمي . فقال أبو بكر من كان له عند النبي صلى الله عليه وسلم دين أو كانت له قبله عدة فليأتنا . قال جابر فقلت وعدني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعطيني هكذا وهكذا وهكذا . فبسط يديه ثلاث مرات . قال جابر فحثا لي حثية فعددتها فإذا هي خمسمائة وقال خذ مثليها . متفق عليه
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر ؓ کے پاس علاء بن حضرمی کے ہاں سے مال آیا جن کو آنحضرت ﷺ نے بحرین کا عامل مقرر کیا تھا تو حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کہ جس شخص کا آنحضرت ﷺ پر قرض ہو یا جس شخص نے آنحضرت ﷺ سے کچھ دینے کا وعدہ کیا تو اس کو چاہیے کہ وہ ہمارے پاس آئے حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اتنا اتنا دینے کا مجھ سے وعدہ فرمایا تھا (یہ کہہ کر) حضرت جابر ؓ نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ کھولے یعنی حضرت جابر ؓ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ کھول کھول کر دکھایا اور واضح کیا کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مال آنے پر میں تمہیں دونوں ہاتھ بھر بھر کر دوں گا، حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ پس حضرت ابوبکر ؓ نے ایک بار اپنے دونوں ہاتھ بھر کر مجھ کو زر نقد عطا فرمایا میں نے اس کو شمار کیا تھا تو وہ تعداد میں پانچ سو تھے پھر انہوں نے فرمایا کہ اسی طرح دو مرتبہ اور لے لو (یعنی ایک ہزار گن کر اور لے لو تاکہ کم و بیش نہ ہو۔ (بخاری ومسلم)
آنحضرت ﷺ کے وعدہ کا حضرت ابوبکر (رض) کی طرف سے ایفاء
وعن ابی جحیفۃ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابیض قد شاب و کان الحسن بن علی یشبھہ وامر لنا بثلثۃ عشر قلوصا فدھبنا نقبضھا فاتانا موتہ فلم یعطونا شیئا فلما قام ابو بکر قال من کانت لہ عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عدۃ فلیجئ فقمت الیہ فاخبرتہ فامر لنا بھا۔(رواہ الترمذی)
حضرت ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا اور آپ پر بڑھاپا ظاہر ہوچکا تھا اگرچہ آپ کے سر اور ڈارھی کے بال سفید نہیں تھے اور حضرت حسن بن علی ؓ جسم کے اوپر کے حصہ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ سے بہت مشابہ تھے آنحضرت ﷺ نے ہماری جماعت کو تیرہ اونٹیناں دیئے جانے کا حکم فرمایا تھا چناچہ ہم ان اونٹنیوں کو لینے گئے تو اسی دوران ہمیں آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر ملی اور ہمیں کچھ بھی نہیں دیا گیا پھر جب حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ اول قرار پائے اور خطبہ دینے کے لئے آ کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ جس شخص سے رسول اللہ ﷺ نے کچھ دینے کا وعدہ فرمایا ہو اس کو چاہیے کہ وہ ہمارے پاس آئے میں حضرت ابوبکر ؓ کا یہ ارشاد سن کر سامنے جا کھڑا ہوا اور ان کو اس بارے میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تیرہ اونٹنیاں دینے کا وعدہ فرمایا تھا چناچہ حضرت ابوبکر ؓ نے ہمیں تیرہ اونٹنیاں دینے کا حکم فرمایا۔ (ترمذی)
وعن عبد الله بن أبي الحسماء قال بايعت النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن يبعث وبقيت له بقية فوعدته أن آتيه بها في مكانه فنسيت فذكرت بعد ثلاث فإذا هو في مكانه فقال لقد شققت علي أنا ههنا منذ ثلاث أنتظرك . رواه أبو داود
اور حضرت عبداللہ بن ابوحسماء ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے ایک مرتبہ میں نے آپ سے کسی چیز کو خریدا اور اس کے کچھ حصہ کی ادائیگی مجھ پر باقی رہ گئی اور میں نے وعدہ کیا کہ میں بقیہ قیمت لے کر اسی جگہ جہاں آپ تشریف فرماتے یا جہاں میں نے وہ چیزخریدی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا لیکن میں اس وعدہ کو بھول گیا اور پھر تیسرے دن یہ بات یاد آئی کہ میں نے آپ سے کوئی وعدہ کیا تھا جبھی میں وہ بقیہ قیمت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ اسی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تم نے مجھ کو بڑی زحمت میں مبتلا کردیا میں تین دن سے اسی جگہ بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (ابوداؤد)
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اتنے طویل انتظار کی اس مشقت و زحمت کو برداشت کرنا اپنی چیز کی بقیہ قیمت وصول کرنے لئے نہیں تھا بلکہ اس احساس کے تحت تھا کہ جب عبداللہ نے بقیہ قیمت لے کر یہاں آنے کا وعدہ کیا تھا اور ان کے وعدے کے جواب میں گویا میری طرف سے بھی یہ وعدہ تھا کہ میں یہاں ہوں گا تو جب تک وہ یہاں نہ آجائیں ایفاء عہد کی خاطر مجھے یہاں بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے اس اعتبار سے آپ نے اپنے اس عمل کے ذریعہ امت کو یہ تعلیم دی کہ وعدہ کو بہر صورت پورا کرنا چاہیے خواہ اس کے لئے کتنی ہی زحمت کیوں نہ برداشت کرنی پڑی واضح رہے کہ دین اسلام سے پہلے بھی تمام ادیان میں وعدے کو پورا کرنے کا حکم تھا اور سارے رسول ایفاء عہد کی محافظت کرتے رہے ہیں چناچہ اللہ نے حضرت ابراہیم کی مدح و تعریف میں یوں فرمایا آیت (و ابراہیم الذی وفی)۔
ایفاء عہد کی نیت ہو اور وعدہ پورا نہ ہو سکے تو گناہ نہیں ہوگا
وعن زيد بن أرقم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له فلم يف ولم يجئ للميعاد فلا إثم عليه . رواه أبو داود والترمذي
اور حضرت زید بن ارقم ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب کوئی آدمی اپنے کسی بھائی سے کوئی وعدہ کرے اور اس کے تئیں اس وعدہ کو پورا کرنے کا قصد رکھتا ہو مگر کسی عذر کے سبب اس وعدہ کو پورا نہ کرسکے اور وقت موعود پر نہ آئے تو گناہگار نہ ہوگا۔ (ابوداؤد، ترمذی)
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص وعدہ کو پورا کرنے کی نیت رکھنے کے باوجود اس وعدہ کو پورا نہ کرے تو وہ گناہگار نہیں ہوتا اس سے یہ بات بھی سمجھی جاتی ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی وعدہ کیا اور نیت یہ رکھی کہ اس وعدہ کو پورا نہیں کروں گا تو وہ گناہگار ہوگا خواہ اس وعدے کو پورا کرے نہ کرے کیونکہ زبان سے وعدہ کرنا اور دل میں اس کے خلاف کرنے ارادہ کرنا منافقت کی خصلت ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ بغیر کسی اور بلا کسی امر مانع کے وعدہ خلافی کرنا حرام ہے اور مذکورہ بالا ارشاد گرامی کی مراد بھی یہی ہے مجمع البحار میں لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ممنوع کام کا وعدہ کرے تو اس وعدہ کو پورا نہیں کرنا چاہیے۔ ایفائے عہد واجب ہے یا مستحب؟ آئمہ فقہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ وعدہ پورا کرنا واجب ہے یا مستحب۔ چناچہ جمہور علماء بشمول حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کا قول یہ ہے کہ وعدہ پورا کرنا مستحب ہے اور پورا نہ کرنا سخت مکروہ ہے البتہ گناہ نہیں اس کے برخلاف ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ وعدہ کو پورا کرنا واجب ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز بھی اسی جماعت میں شامل ہیں۔ منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا معمول تھا کہ جب کوئی وعدہ کرتے تو انشاء اللہ کہہ لیتے اور آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ آپ لفظ عسی فرماتے تھے۔
بچے سے بھی وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو
وعن عبد الله بن عامر قال دعتني أمي يوما ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في بيتنا فقالت ها تعال أعطيك . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أردت أن تعطيه ؟ قالت أردت أن أعطيه تمرا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما أنك لو لم تعطيه شيئا كتبت عليك كذبة . رواه أبو داود والبيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت عبداللہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میری والدہ نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ لو آؤ میں تمہیں (ایک چیز) دوں گی اس وقت رسول اللہ ہمارے گھر تشریف فرما تھے جب میری والدہ نے مجھ سے کہا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اس کو کیا چیز دینے کا ارادہ کیا تھا انہوں نے فرمایا کہ میں اس کو ایک کھجور دینا چاہتی تھی رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ یاد رکھو اگر اس کو تم کچھ نہ دیتیں تو تمہارے اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ (ابوداؤد، بہیقی)
تشریح
یہ واقعہ حضرت عبداللہ بن عامر ؓ کے بچپن کا ہے چناچہ ان کی والدہ نے ان کو بلایا کہ اور کوئی چیز دینے کا وعدہ کیا تو رسول اللہ یہ سمجھے کہ اپنے بچے کو محض ہلانے کے اور ادھر ادھر کی باتیں کی جاتیں ہیں اس کو اس کی مطلوبہ چیز کچھ اور دینے کا جھوٹ موٹ وعدہ کیا جاتا ہے یا اس کو ڈرانے دھمکانے کے لئے خوفناک چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور موقع پر ان باتوں کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہوتا لہذا آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ کی والدہ کو اس بارے میں آگاہ کیا کرنے لئے مذکورہ سوال کیا۔
کسی شرع اور حقیقی عذر کی بناء پر وعدہ خلافی کرنا مناسب نہیں
عن زيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من وعد رجلا فلم يأت أحدهما إلى وقت الصلاة وذهب الذي جاء ليصلي فلا إثم عليه . رواه رزين
اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی آدمی سے کہیں ملنے کا وعدہ کرے اور ان دونوں میں سے کوئی ایک نماز کے وقت تک وہاں نہ پہنچے اور وہ شخص نماز پڑھنے کے لئے چلا جائے جو وہاں آگیا تھا تو وہ گناہگار نہیں ہوگا۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کی صورت وضاحت یہ ہے کہ مثلا دو آدمیوں نے اپنے آپس میں ایک دوسرے سے یہ وعدہ کیا کہ ہم دونوں فلاں جگہ پہنچ کر ایک دوسرے سے ملیں گے اس وعدہ کے مطابق ان دونوں میں سے کوئی ایک مقررہ جگہ پر پہنچ کر دوسرے آدمی کی انتظار میں بیٹھا ہوا تھا اب مزید انتظار نہ کرے اور نماز کے لئے چلا جائے تو وعدہ خلاف نہیں کہلائے گا اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا کیونکہ نماز کے لئے جانا ضرورت دین میں سے ہے ہاں اگر وہ نماز کا وقت آنے سے پہلے ہی وہاں سے اٹھ جائے تو بیشک اس کو وعدہ خلاف کہا جائے گا اور وعدہ خلافی کی برائی اس کے ذمہ ہوگی اسی طرح اگر کوئی ضروری امر مانع پیش آئے جیسے کھانے پینے کا وقت ہوگیا یا پیشاب و پاخانہ کی حاجت لاحق ہوگئی تو اس صورت میں بھی مزید انتظار کئے بغیر پہلے جانا جائز ہوگا۔
مزاح، میم کے زیر کے ساتھ مصدر ہے جس کے معنی خوش طبعی کرنا ہنسنا مذاق کرنا اور میم کے پیش کے ساتھ یعنی مزاح اسم مصدر ہے جس کے معنی مطالبہ یعنی خوش طبعی و ظرافت کے ہیں۔ عربی میں لفظ مزاح کا اطلاق اس خوش طبعی اور ہنسی مذاق پر ہوتا ہے کہ جس میں کسی کی دل شکنی اور ایذاء رسانی کا پہلو نہ ہو اس کے برخلاف جس خوش طبعی اور ہنسی مذاق کا تعلق دل شکنی اور ایذاء رسانی سے ہو اس کو سخریہ کہتے ہیں۔ ایک حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ لاتمار اخاک ولاتمازحہ، یعنی اپنے مسلمان بھائی سے جھگڑا فساد نہ کرو اور نہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرو تو علماء لکھتے ہیں کہ وہ مزاح و ظرافت ممنوع ہے جس میں حد سے تجاوز کیا جائے اور اس کو عادت بنا لیا جائے کیونکہ ہر وقت مزاح و ظرافت میں مبتلا رہنا اور اس میں حد سے تجاوز کرنا بہت زیادہ ہنسنے اور قہقہ لگانے کا باعث ہوتا ہے قلب و ذہن کو قساوت اور بےحسی میں مبتلا کردیتا ہے ذکر الٰہی سے غافل کردیتا ہے مہمات دین میں غور و فکر اور پیش قدمی سے باز رکھتا ہے اور اکثر اوقات اس کا انجام ایذا رسانی اور آپس میں بغض وعناد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے جو شخص ہر وقت ہنسی مذاق کرتا رہتا ہے اس کی شخص بری طرح متاثر ہوتی ہے اور مجروح ہوتی ہے اس کا کوئی دبدبہ قائم نہیں رہتا اور نہ اس کو عظمت اور اس کا وقار باقی رہتا ہے اس کے برعکس جو مزاح و ظرافت حد کے اندر اور کبھی کھبار کی جائے وہ نہ صرف مباح ہے بلکہ صحت مزاج اور و نور نشاط اور سلامت طبع کی علامت بھی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ بھی مزاح و ظرافت کو اختیار فرماتے تھے جس سے آپ کا مقصد مخاطب کے دل بستگی و خوش وقتی اور آپس میں محبت و موانست کے جذبات کو مستحکم کرنا ہوتا تھا اور یہ چیز سنت مستحبہ ہے اور اگر اس موقع پر یہ اشکال واقع ہو کہ یہ بات کہ وہی مزاح و ظرافت مباح جو کبھی کبھی ہو اس روایت کے مخالفت ہے کہ یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مزاح کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا تو اس کا جواب مختصر یہ ہوگا کہ زیادہ مزاح و ظرافت کرنے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس سے نفس پر قابو نہیں رہتا اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے برابر کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے نفس کو قابو میں رکھ سکے لہذا یہ چیز زیادہ مزاح کرنا ان امور میں سے ہے جو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں دوسروں کے لئے ان سے اجتناب ہی اولی ہے اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو آگے آئے گی صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ مزاح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں مزاح میں سچ کہتا ہون حاصل یہ کہ مزاح کرنے کی ممانعت کا تعلق آنحضرت ﷺ کے سوا دوسرے لوگوں سے ہے ہاں اگر کوئی شخص حد پر قائم رہے اور نفس پر قابو رکھے اور راہ اعتدال سے منحرف نہ ہونے پر قادر ہو وہ بھی اس ممانعت سے مستثنی ہوگا۔
عن أنس قال إن كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى يقول لأخ لي صغير يا أبا عمير ما فعل النغير ؟ كان له نغير يلعب به فمات . متفق عليه
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہم سے اختلاط و خوش طبعی فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے از راہ مذاق فرماتے ابوعمیر! نغیر کہاں گیا؟ حضرت انس ؓ کہتے ہیں میرے اس چھوٹے بھائی کے پاس ایک نغیر تھا جس سے وہ کھیلا کرتا تھا اور جو مرگیا تھا۔ (بخاری)
تشریح
حضرت انس ؓ نے اپنے چھوٹے بھائی کا ذکر کیا ہے ان کا نام کبشہ تھا اور وہ ان کے اخیافی یعنی ماں شریک بھائی تھے ان کے باپ کا نام ابوطلحہ زید ابن سہیل انصاری تھا۔ نغیر تصغیر ہے نغر کی جو ایک چھوٹے پرندے کا نام ہے اور چھوٹی چڑیا کی طرح ہوتا ہے اور اس کی چونچ سرخ ہوتی ہے بعض حضرات نے یہ کہا کہ کہ وہ پرندہ چڑیا کی طرح سرخ سر والا ہوتا ہے نیز بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ اہل مدینہ اس پرندے کو بلبل کہتے تھے ہوسکتا ہے کہ یہ وہی پرندہ ہو جس کو ہمارے ہاں لال کہتے ہیں۔ حضرت انس ؓ کے چھوٹے بھائی کبشہ اس پرندے کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو جب کوئی چڑیا وغیرہ مل جاتی ہے تو اس کے ساتھ کھیلا کرتے ہیں اور اس کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں پھر ایک دن اچانک وہ پرندہ مرگیا اس کے بعد جب وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ان کو از راہ مذاق چھیڑتے اور پوچھتے کہ اے ابوعمیر تمہارا نغیر کہاں گیا؟ گویا ان کو مخاطب کرتے وقت ظرافت کے ساتھ تفنن کلام کا اسلوب بھی اختیار فرماتے یعنی نغیر کی مناسبت سے اور اس لفظ کے قافیہ کے طور پر ان کو ابوعمیر کی کنیت کے ذریعہ مخاطب فرماتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کو چڑیا وغیرہ سے دل بہلانا اور ان کے ساتھ کھیل کود کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کو تکلیف و ایذاء نہ پہنچائیں نیز اس سے معلوم ہوا کہ کسی چھوٹے اور کمسن بچے کی کنیت مقرر کرنا جائز ہے اور یہ جھوٹ میں داخل نہیں ہے نیک فالی ہے۔
آنحضرت ﷺ کا ہنسی مذاق بھی جھوٹ پر مبنی نہیں ہوتا تھا
عن أبي هريرة قال قالوا يا رسول الله إنك تداعبنا . قال إني لا أقول إلا حقا . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن اس خوش طبعی میں بھی میں سچی بات کہتا ہوں۔ (ترمذی)
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو زیادہ ہنسی مذاق کرنے سے منع فرمایا تو اس کے بعد انہوں نے مذکورہ سوال کیا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو جواب دیا کہ ہنسی مذاق کی ممانعت اس بناء پر ہے کہ اس میں عام طور پر جھوٹی باتوں اور غیر شرعی کاموں کا ارتکاب ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ تم میں سے کوئی شخص بھی اس پر قادر نہیں ہے کہ اس کا ہنسی مذاق جھوٹ اور لایعنی باتوں سے کلیۃ پاک ہو کیونکہ تم کو معصوم نہیں بنایا گیا لیکن حق تعالیٰ نے مجھ کو معصوم بنایا ہے اور مجھے اس بات پر قادر کیا ہے کہ میرے کسی بھی ہنسی مذاق کی بات میں جھوٹ کی آمیزش ہو وہ ناجائز ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کبھی بھی ایسا مزاح نہیں فرماتے تھے جس میں جھوٹ اور لچر بات کا شائبہ بھی پایا جاتا ہو اور اگر ہنسی مذاق کی کوئی بات حقیقت کے اعتبار سے جھوٹ پر مبنی نہ ہو تو وہ جائز ہے لیکن اس کے باوجود ہنسی مذاق اور ظرافت کو عادت نہ بنا لینا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے دبدبہ اور وقار ختم ہوجاتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کی ظرافت کا ایک واقعہ
وعن أنس أن رجلا استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني حاملك على ولد ناقة ؟ فقال ما أصنع بولد الناقة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهل تلد الإبل إلا النوق . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سواری کا ایک جانور مانگا تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری سواری کے لئے اونٹنی کا بچہ دوں گا اس شخص نے حیرت سے کہا یا رسول اللہ میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ نے فرمایا اونٹ کو اونٹنی ہی تو جنتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
اس شخص نے سمجھا تھا کہ اونٹنی کے بچہ سے مراد وہ چھوٹا بچہ ہے جو سواری کے قابل نہیں ہوتا لیکن آنحضرت ﷺ کی مراد یہ تھی کہ سواری کے قابل جو اونٹ ہوتا ہے وہ بچہ تو اونٹنی کا ہی ہوتا ہے لہذا آنحضرت ﷺ نے اس شخص کی طلب پر مذکورہ ارشاد بطور خوش طبعی فرمایا اور پھر اس کی حیرت پر جو جواب دیا اس کے ذریعہ نہ صرف حقیقت مفہوم کو ادا کیا بلکہ اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اگر تم تھوڑی سے عقل لیتے اور میری بات کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے تو اس حیرت میں نہ پڑتے اور حقیقی مفہوم کو خود سمجھ لیتے لہذا اس ارشاد میں نرمی ظرافت ہی نہیں بلکہ اس امر کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے یہ سننے والے چاہیے کہ وہ اس بات میں غور و تامل کرے جو اس سے کہی گئی ہے اور بغیر سوچے سمجھے سوال جواب نہ کرے بلکہ پہلے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور غور و فکر کر کے بعد آگے بڑھے۔