آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 14 of 15

4785Mishkaat-al-Masabih

تعریف پر مشتمل خوش طبعی

وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له يا ذا الأذنين . رواه أبو داود والترمذي .

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کریم نے ان سے فرمایا اے دو کانوں والے۔ (ابوداؤد، ترمذی) تشریح ا نحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کو دو کانوں والے کے ذریعہ جو مخاطب فرمایا تو اس میں خوش طبعی و ظرافت بھی تھی اور ان کے تئیں اس تعریف و توصیف کا اظہار بھی مقصود تھا کہ تم نہایت فہیم و ذکی ہو اور تم سے جو بات کہی جاتی ہے اس کو تم خوب اچھی طرح سنتے ہو۔

4786Mishkaat-al-Masabih

ایک بڑھیا کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خوش طبعی

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لامرأة عجوز إنه لا تدخل الجنة عجوز فقالت وما لهن ؟ وكانت تقرأ القرآن . فقال لها أما تقرئين القرآن ؟ ( إنا أنشأناهن إنشاء فجعلناهن أبكارا ). رواه رزين . وفي شرح السنة بلفظ المصابيح

اور حضرت انس ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ایک بوڑھی عورت نے جب آپ سے یہ درخواست کی کہ میرے لئے جنت میں جانے کی دعا فرمائیں تو اس سے آپ نے فرمایا کہ بڑھیا جنت میں داخل نہیں ہوں گی وہ عورت قرآن پڑھی ہوئی تھی آپ نے اس سے فرمایا کہ تم نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا ہے کہ آیت (انا انشانھن انشاء فجعلناھن ابکارا)۔ یعنی ہم جنت کی عورتوں کو پیدا کریں گے جیسا کہ پیدا کیا جاتا ہے پس ہم ان کو کنواری بنادیں گے اس اعتبار سے یہ خوش طبعی مبنی برحقیقت تھی اور آپ کا یہ فرمانا درست ہوا کہ یہ بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی کیونکہ واقعتا کوئی عورت اپنے بڑھاپے کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گی اور اس روایت کو رزین نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے اور بغوی نے اپنی دوسری کتاب شرح السنہ میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے جو مصابیح میں مذکور ہیں۔ تشریح مصابیح اس روایت کو جن الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے وہ یوں ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت سے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی یہ سن کر وہ عورت واپس ہوئی اور روتی ہوئی چلی گئی آپ نے فرمایا کہ اس عورت کو جا کر بتلا دو عورتیں اپنے بڑھاپے کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوں گی کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ آیت (انا انشانھن انشاء فجعلناھن ابکارا)۔

4787Mishkaat-al-Masabih

خوش طبعی کا ایک واقعہ

وعنه أن رجلا من أهل البادية كان اسمه زاهر بن حرام وكان يهدي النبي صلى الله عليه وسلم من البادية فيجهزه رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يخرج فقال النبي صلى الله عليه وسلم إن زاهرا باديتنا ونحن حاضروه . وكان النبي صلى الله عليه وسلم يحبه وكان دميما فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يوما وهو يبيع متاعه فاحتضنه من خلفه وهو لا يبصره . فقال أرسلني من هذا ؟ فالتفت فعرف النبي صلى الله عليه وسلم فجعل لا يألوا ما ألزق ظهره بصدر النبي صلى الله عليه وسلم حين عرفه وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول من يشتري العبد ؟ فقال يا رسول الله إذا والله تجدني كاسدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم لكن عند الله لست بكاسد رواه في شرح السنة

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ شہر سے باہر رہنے والا ایک شخص جس کا نام زاہر بن حرام تھا آنحضرت ﷺ کے لئے بطور ہدیہ شہر کے باہر سے کچھ لایا کرتا تھا (یعنی ایسی چیزیں جو شہر سے باہر جنگل میں پیدا ہوتی ہیں جیسے ساگ، سبزی، لکڑی اور پھول پھل وغیرہ) اور جب وہ مدینہ سے باہر اپنی جائے سکونت کو جانے لگتا تو رسول اللہ اس کے ساتھ کچھ شہر کا سامان کردیا کرتے تھے آنحضرت ﷺ اس کے بارے میں فرماتے تھے کہ زاہر ہمارے باہر کا گماشتہ ہے کہ وہ ہمارے لئے باہر کی چیزیں لاتا ہے اور ہم اس کے شہر کے گماشتہ ہیں کہ ہم اس کو شہر کی چیزیں دیتے ہیں نیز آنحضرت ﷺ زاہر سے بہت محبت وتعلق رکھتے تھے ویسے وہ ایک بدصورت شخص تھا ایک دن آنحضرت ﷺ بازار میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ اپنا سودا سلف بیچ رہا ہے آپ نے پیچھے سے اس کی اس طرح کو لی بھر لی کہ وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا (یعنی آپ نے اس کی بیخبر ی میں اس کے پیچھے بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ اس کی دونوں بغلوں کے نیچے سے نکال کر اس کی آنکھیں چھپا لیں تاکہ وہ پہچان نہ سکے) زاہر نے کہا مجھے چھوڑ دو یہ شخص کون ہے پھر اس نے کوشش کر کے کن انکھیوں سے دیکھا اور آنحضرت ﷺ کو پیچان لیا پھر وہ آپ کو پہچاننے کے بعد اپنی پیٹھ کو آنحضرت ﷺ کے سینہ مبارک سے چمٹانے کی پوری کوشش کرنے لگا تاکہ زیادہ سے زیادہ برکت حاصل کرے ادھر آنحضرت ﷺ نے یہ آواز لگانی شروع کردی کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو خریدے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی قسم آپ مجھ کو ناکارہ پائیں گے (یعنی بالکل سستا اور بےکار مال) آنحضرت ﷺ کریم نے فرمایا لیکن تم اللہ کے نزدیک ناکارہ نہیں ہو۔ (شرح السنہ) تشریح ا نحضرت ﷺ نے زاہر کو از راہ مذاق غلام سے تعبیر کیا ہے اور حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی جھوٹ بات نہیں تھی کیونکہ وہ اللہ کا غلام بہر حال تھے ہی۔ کسی چیز کو بطور فروخت کرنے کے لئے بطور استفہام یہ کہنا کہ کون شخص ہے جو اس کو خریدتا ہے مفہوم کے اعتبار سے کبھی تو اس چیز کی پیش قیمت حثییت کو ظاہر کرنے کے لئے مقابلہ آرائی پر اطلاق کیا جاتا ہے اور کبھی اس کا اطلاق استدال پر آتا ہے لہذا آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کون شخص ہے جو اس غلام کا خریدار ہے مطلب یہ تھا کہ اس بازار میں ایسا کوئی شخص ہے جو اس غلام کی قدر و قیمت اور اس کی حثییت کا مقابلہ کرے؟ یعنی یہاں کوئی چیز اس کی حثییت کا مقابلہ نہیں کرسکتی یا یہ کہ ایسا کوئی شخص ہے جو اس غلام کی قیمت لگا دے اور ایسی کوئی چیز مجھے دے سکے جس کے بدلے میں اس کو یہ غلام دے سکوں یعنی یہاں کوئی مال اس کا بدل نہیں ہوسکتا اور کوئی چیز اس کی قیمت نہیں بن سکتی، نیز یہ بھی ممکن ہے آپ کا یہ ارشاد تجریف کے قبیل سے ہو جس سے گویا آپ کا مطلب یہ تھا کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو حاصل کرے یعنی کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو اس غلام کو حاصل کرنے اور اس کو اپنے پاس رکھنے کا اہل ہو۔

4788Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی صحابہ (رض) سے بے تکلفی

وعن عوف بن مالك الأشجعي قال أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبة من أدم فسلمت فرد علي وقال ادخل فقلت أكلي يا رسول الله ؟ قال كلك فدخلت . قال عثمان بن أبي عاتكة إنما قال أدخل كلي من صغر القبة . رواه أبو داود

اور حضرت عوف ابن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے دوران ایک دن میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ چمڑے کے خیمے میں تشریف فرما تھے میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اندر آجاؤ میں نے مزاح کے طور پر عرض کیا یا رسول اللہ میں سب کا سب اندر آجاؤں یعنی سارے جسم کو اندر لے آؤں؟ آپ نے فرمایا ہاں سب بدن کو اندر لے آؤ چناچہ میں خیمہ کے اندر داخل ہوگیا حضرت عثمان ابن ابوعات کہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ حضرت عوف ؓ نے یہ بات کہ کیا میں سب کا سب اندر آجاؤں اس مناسبت سے کہی تھی کہ خیمہ چھوٹا تھا۔ (ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح محبت و شفقت کا تعلق رکھتے تھے کہ صحابہ آپ کے ساتھ بےتکلف ہوجاتے تھے اور اس بےتکلفی کے موقع پر آپ سے ظریفانہ بات بھی کرلیتے تھے۔

4789Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی صحابہ (رض) سے بے تکلفی

وعن النعمان بن بشير قال استأذن أبو بكر على النبي صلى الله عليه وسلم فسمع صوت عائشة عاليا فلما دخل تناولها ليلطمها وقال لا أراك ترفعين صوتك على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يحجزه وأبو بكر مغضبا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم حين خرج أبو بكر كيف رأيتني أنقذتك من الرجل ؟ . قالت فمكث أبو بكر أياما ثم استأذن فوجدهما قد اصطلحا فقال لهما أدخلاني في سلمكما كما أدخلتماني في حربكما فقال النبي صلى الله عليه وسلم قد فعلنا قد فعلنا . رواه أبو داود

اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوبکر ؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ سے گھر آنے کی اجازت طلب کی جبھی انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی آواز کو سنا جو ذرا زور سے بول رہی تھی پھر جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کا ہاتھ پکڑا اور طمانچہ مارنے کا ارادہ کیا اور کہا کہ خبردار آئندہ میں تمہیں رسول اللہ کی آواز سے اونچی آواز میں بولتے ہوئے نہ دیکھوں ادھر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو (حضرت عائشہ ؓ کو مارنے سے) روکنا شروع کیا اور پھر حضرت ابوبکر ؓ غصہ کی حالت میں باہر نکل کر چلے گئے آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کے چلے جانے کے بعد فرمایا تم نے دیکھا میں نے تمہیں اس آدمی یعنی ابوبکر ؓ کے ہاتھ سے کس طرح بچا لیا؟ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ مجھ سے خفگی کی بناء پر آنحضرت ﷺ سے شرمندگی کی وجہ سے کئی دن تک آنحضرت ﷺ کی خدمت میں نہیں آئے پھر ایک دن انہوں نے دروازے پر حاضر ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگی اور اندر آئے تو دیکھا کہ دونوں (آنحضرت ﷺ اور حضرت عائشہ ؓ صلح کی حالت میں ہیں انہوں نے دونوں کو مخاطب کر کے کہا تم دونوں مجھ کو اپنی صلح میں شریک کرلو جس طرح تم نے مجھ کو اپنی لڑائی میں شریک کیا تھا، آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا بیشک ہم نے ایسا ہی کیا بیشک ہم نے ایسا ہی کیا یعنی تمہیں اپنی صلح میں شریک کرلیا۔ (گویا آپ نے اپنی بات کو موکدہ کرنے کے لئے یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا) ابوداؤد۔ تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کا وہ جملہ بطور مزاح تھا جو آپ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا تھا کہ دیکھا میں نے تمہیں اس شخص کے ہاتھ سے کس طرح نجات دلائی گویا آپ نے تمہارے باپ کہنے کی بجائے اس شخص کہہ کر بقصد مزاح حضرت ابوبکر ؓ کو حضرت عائشہ ؓ کے حق میں اجنبی قرار دیا۔

4790Mishkaat-al-Masabih

ایسا مذاق نہ کرو جس سے ایذاء پہنچے

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تمار أخاك ولا تمازحه ولا تعده موعدا فتخلفه . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب

اور حضرت ابن عباس ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم اپنے مسلمان بھائی سے جھگڑا نہ کرو، نہ اس سے ایسا مذاق کرو جس سے اس کو تکلیف پہنچے اور نہ ایسا وعدہ کرو جس کو پورا نہ کرسکو۔ (حضرت شیخ عبدالحق نے لاتعدہ موعدا فتخلفہ کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ تم وعدہ نہ کرو جیسا کہ وعدہ کیا جاتا ہے تاکہ تم وعدہ خلافی نہ کرو یعنی اگر وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو یا پھر سرے سے وعدہ ہی نہ کرو اور وعدہ کا راستہ ہی بند کردو تاکہ وعدہ خلافی کے وبال میں پڑنے کا تمہیں خوف ہی نہ رہے، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

4791Mishkaat-al-Masabih

مفاخرت اور عصبیت کا بیان

فخر، یا کے معنی ہیں اترانا یعنی اپنے حسب و نسب یا اپنے خاندان و قبیلہ یا اپنی قوم و جماعت یا اپنے علم و اخلاق اور یا اپنی مالداری و ثروت وغیرہ پر نازاں ہونا اور فخر کرنا، تفاخر کے معنی ہیں کہ ایک دوسرے پر فخر کرنا مفاخرت کے معنی ہیں فخر میں ایک دوسرے کی برابری کرنا اور افتخار و تفخر کے معنی ایک کو دوسرے کے مقابلہ میں بڑھانا۔ مفاخرت یعنی اظہار فخر کرنا اور نازاں ہونا اگر حق کے معاملہ میں ہو حق کی خاطر ہو کسی دینی مصلحت کے پیش نظر ہو اور دشمنان اسلام پر اپنی برتری، اپنی شان و شوکت اور اپنی قوت کے اظہار کے طور پر ہو تو جائز ہے چناچہ اس طرح کہ مفاخرت صحابہ اور سلف سے منقول ہے اور اگر مفاخرت کا تعلق ناحق معاملہ سے ہو اور نفسانیت کے تحت تکبر و غرور اور گھمنڈ کے طو پر ہو تو مذموم ہے اور عرف عام میں مفاخرت کا استعمال اکثر اسی معنی میں ہوتا ہے۔ عصبیت کے معنی ہیں عصبی یا متعصب ہونا یعنی اپنے مذہب یا اپنے خیال کی پچ کرنا اور اپنی قوم کی قوت و سختی کے اظہار کے لے جدل و خصومت کرنا چناچہ عصبہ اس شخص کہتے ہیں جو اپنی بات یا اپنی قوم کی حمایت کرے اور یا اپنی قوم و جماعت کی بچ کے لئے غصہ ہو تعصب بھی اگر حق کے معاملہ میں ہو اور ظلم وتعدی کے ساتھ نہ ہو تو مستحسن ہے اگر تعصب کا تعلق حق بات کو نہ ماننے، ظلم وتعدی اختیار کرنے اور اپنی قوت و شان و شوکت کے بیجا اظہار کی خاطر ہو تو مذموم ہے عام طور پر تعصب کا اطلاق اپنی بات و خیال اور اپنے مذہب قوم کے حق میں ناروا سختی اختیار کرنے اور دوسروں کو تئیں ظلم وتعدی کرنے پر ہوتا ہے جیسا کہ اس باب میں نقل کی جانے والے احادیث سے معلوم ہوگا۔

4792Mishkaat-al-Masabih

خاندانی وذاتی شرافت کا حسن، علم دین سے ہے۔

عن أبي هريرة قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الناس أكرم ؟ فقال أكرمهم عند الله أتقاهم . قالوا ليس عن هذا نسألك . قال فأكرم الناس يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله . قالوا ليس عن هذا نسألك . قال فممن معادن العرب تسألوني ؟ قالوا نعم . قال فخياركم في الجاهلية خياركم في الإسلام إذا فقهوا . متفق عليه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون شخص زیادہ معزز و مکرم ہے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ معزز و مکرم وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار و متقی ہے یعنی اگر تمہارے سوال کا مطلب یہ ہے کہ خاندانی عظمت باپ دادا کی بڑائی اور اپنے فضائل و اچھی عادات سے قطع نظر ذاتی بزرگی و کرامت کیا چیز تو ہے جان لو کہ وہ تقوی ہے لہذا جو شخص لوگوں میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے وہی سب سے زیادہ معزز و مکرم ہے خواہ وہ اپنے حسب و نسب، خاندانی عظمت وجاہت اور اپنے اوصاف و خصائل کے اعتبار سے کم تر ہو یا برتر، صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مطلب یہ نہیں ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تم ذاتی بزرگی و کرامت کے بارے میں نہیں پوچھ رہے تو اس اعتبار سے انسانوں میں سب سے زیادہ شریف و بزرگ حضرت یوسف ہیں جو اللہ کے نبی (حضرت یعقوب کے بیٹے، اللہ کے (حضرت اسحق کے پوتے اور اللہ کے دوست حضرت ابراہیم کے پڑپوتے ہیں یعنی حضرت یوسف میں کئی طرح کی شرافت و بزرگیاں جمع ہیں کہ خود بھی نبی ہیں اور ان تین پشتوں میں نبوت رہی ہے ان کے پردادا کو خلیل اللہ کا لقب ملا ہے کہ اللہ نے ان کو خالص دوست قرار دیا ہے پھر وہ علم دانائی، حسن و جمال، عفو و کرم اخلاق و احسان، عدل و انصاف اور دینی دنیاوی سرداری و حکمرانی کے اوصاف سے بھی متصف تھے لہذا اس اعتبار سے وہ انسانوں میں سب سے زیادہ بزرک و شریف انسان تھے، صحابہ نے عرض کیا کہ آپ سے ہمارے سوال کا یہ مطلب نہیں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم عربوں کی خاندانی شرافت اور ذات و حسب کی اعلی خصوصیات کے اعتبار سے پوچھ رہے ہو؟ کہ اہل عرب جو اپنے اور باپ دادا کے کارناموں ذاتی بزرگی و عزت اور اس طرح کے اور دوسرے اوصاف کے ذریعہ ایک دوسرے سے کے سامنے اظہار فخر کرتے ہیں اور اپنی بزرگی و برائی کا دعوی کرتے ہیں نیز وہ اپنے میں ایک دوسرے کی عزت و شرافت کا معیار تقوی اور نسب کے بجائے مذکورہ اوصاف و خصوصیات کو قرار دیتے ہیں تو ان میں واقعتا سب سے زیادہ معزز و مکرم کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں ہمارے سوال کا مطلب یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو سنو! تم میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں سب سے بہتر تھے وہی اسلام میں سب سے بہتر ہیں جبکہ وہ فقیہ ہوں (یعنی تم میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں اپنی خاندانی شرافت شریف النفسی بہادری، سرداری اور عمدہ اخلاق و عادات کے اعتبار سے سب سے پسندیدہ اور سب سے بہتر شمار کیتے جاتے تھے اسلام کے زمانہ میں بھی وہی لوگ سب سے زیادہ پسندیدہ اور سب سے بہتر ہیں بشرطیکہ وہ اسلامی احکام و شرائع کے سمجھنے والے اور دین کا علم حاصل کرنے والے ہوں۔ (بخاری ومسلم) تشریح ا نحضرت ﷺ کے آخری جواب کا مطلب یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں جن لوگوں کی ذات اور شخصیت کی وجہ سے ان کو سب سے بہتر سمجھا جاتا تھا وہ لوگ اپنی انہی خصوصیات کی بنا پر زمانہ اسلام میں بھی معزز و مکرم قرار دیئے جائیں گے بشرطیکہ انہوں نے ایمان و اسلام قبول کر کے دین کا علم اور شریعت کے احکام و مسائل حاصل کئے ہوں فرق یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان پر کفر کا سایہ معصیت کی تاریکی اور جہل کا غبار چھایا ہوا تھا اور خواہش نفس کے دام فریب میں مبتلا تھے اور اس اعتبار سے ان کی ذاتی شرافت وصفات کی کوئی حثییت نہیں تھی مگر اب ایمان و اسلام کی پاکیزگی اور عبادات و علم دین کے نور نے ان کی ذات و شخصیت کو نکھار دیا ہے ان کی زندگی کو روشن کردیا ہے اور ان کو حق کا تابعدار بنادیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ معاون سے مراد وہ لوگوں کی اپنی ذات و شخصیات ہیں جو عمدہ وصفات و اعلی خصوصیات سے متصف ہوں جیسا کہ کتاب میں یہ روایت نقل کی جا چکی ہے کہ الناس معادن کمعادن الذھب والفضۃ الخ۔۔ یعنی لوگوں کی بھی کانیں ہوتی ہیں جیسے سونے اور چاندی کی کانیں، پس جو خاندان و افراد اپنی اعلی خصوصیات کے اعتبار سے زمانہ جاہلیت میں سب سے بہتر شمار کئے جاتے تھے اسلام کے زمانہ میں بھی وہی سب سے بہتر ہیں بشرطیکہ وہ دین کا علم حاصل کریں۔

4793Mishkaat-al-Masabih

سب سے زیادہ مکرم کون ہے

وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم . رواه البخاري . ( متفق عليه )

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کریم بن کریم ابن کریم اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحق بن ابراہیم ہیں۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ خاندانی شرافت و عظمت اور نسبی برتری کی جو خصوصیات حضرت یوسف کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں سب سے بڑا شرف ان کے علاوہ اور کسی انسان کو حاصل نہیں ہوا کہ وہ خود نبی تھے ان کے باپ نبی تھے ان کے دادا نبی تھے اور ان کے پڑدادا نبی تھے اس خصوصیت کے علاوہ ان کو حسن و جمال، عدل و انصاف، علم و دانائی اور ریاست و حکومت کے جو اوصاف حاصل تھے ان کے اعتبار سے ان کی ذاتی مکرمت کو شرافت کو سب سے برتر مقام حاصل ہے۔

4794Mishkaat-al-Masabih

کفار کے مقابلہ پر آنحضرت ﷺ کا اظہار فخر

وعن البراء بن عازب قال في يوم حنين كان أبو سفيان بن الحارث آخذا بعنان بغلته يعني بغلة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما غشيه المشركون نزل فجعل يقول أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب قال فما رئي من الناس يومئذ أشد منه . متفق عليه

اور حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن ان کے خچر یعنی رسول اللہ کے خچر کی باگ سفیان ابن حارث ؓ نے پکڑ رکھی تھی جو حارث بن عبدالمطلب کے لڑکے ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور عرب کے دلیر، جیالے جوانوں میں ایک بہادر مرد تھے چناچہ جنگ کے دوران جب آنحضرت ﷺ کو مشرکوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ (اپنے خچر سے) اتر پڑے اور یہ رجز فرمانا شروع کیا میں آنحضرت ﷺ ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا سپوت ہوں، راوی کا بیان ہے کہ پس اس دن آنحضرت ﷺ سے زیادہ بہادر دلیر اور کسی کو نہیں دیکھا گیا۔ (بخاری، مسلم) تشریح یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی بےمثال شجاعت و جوان مردی پر دلالت کرتی ہے کہ ایک ایسے معرکے میں جہاں ہوازن و غطفان کے قبائل سمیت عرب کے دوسرے بہت سے جنگجو قبائل برسرپیکار تھے اور انہوں نے اپنی بےپناہ خرابی قوت اور انفرادی طاقت کے ذریعہ اسلامی لشکر پر اتنا زبردست دھاوا بول دیا تھا کہ شکست کی صورت ظاہر ہونے لگی تھی تو آپ بھی خچر پر سوار ہو کر مجاہدین اسلام کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے اور اپنے خچر کو ایڑ لگا لگا کر کفار کے لشکر پر حملہ کر رہے تھے اور پھر جب ان دشمنان دین نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور خچر کو آگے بڑھنے کا راستہ نہ مل سکا تو آپ اس سے اتر پڑے اور پیادہ ہو کر بڑی دلیری اور جوان مردی کے ساتھ دشمن کے لشکر پر ضرب لگائی آخرکار اللہ نے ان کو شکست سے درچار کیا اور آنحضرت ﷺ کو فتح نصیب ہوئی۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ نے حسب و نسب اور خاندانی وجاہت پر اظہار فخر کرنے اور نازاں ہونے سے منع فرمایا ہے لیکن آپ کا بطور رجزیہ فرمانا کہ میں عبدالمطلب کا سپوت ہوں اس طرح کا اظہار فخر نہیں ہے جو ممنوع ہے کیونکہ وہ فخر ممنوع ہے جو نہ زمانہ جاہلیت کے رسم کے مطابق، بیجا اظہار نام و نمود، تعصب و ہٹ دھرمی اور نفس کے گھمنڈ کے طور پر ہو جبکہ آنحضرت ﷺ کا مذکورہ فخر دین کی طاقت اور شان و شوکت کو بڑھانے اور کفار کے مقابلہ میں اپنا رعب اور دبدبہ ظاہر کرنے کے لئے تھا اور اس طرح کا فخر جائز ہے علاوہ ازیں ایک بات یہ تھی کہ زمانہ جاہلیت میں بعض اہل عرب جیسے کاہن اور اہل کتاب آنحضرت ﷺ کی نبوت ظاہر ہونے سے پہلے بعثت نبوی کی خبر دیا کرتے تھے اور نبی آخرالزمان کی جو نشانیاں اور علامتیں بتایا کرتے تھے ان میں ایک نشانی یہ بھی تھی کہ وہ پیغمبر عبدالمطلب کی اولاد سے ہوں گے۔

4795Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا اپنے تئیں سردار کہلانے سے انکار

وعن مطرف بن عبد الله الشخير قال قال أبي انطلقت في وفد بني عامر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا أنت سيدنا . فقال السيد الله فقلنا وأفضلنا فضلا وأعظمنا طولا . فقال قولوا قولكم أو بعض قولكم ولا يستجرينكم الشيطان . رواه أحمد وأبو داود

اور حضرت مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ بنو عامر کا جو وفد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس میں بھی شریک تھا چناچہ جب ہم آپ کی خدمت میں پہنچے تو ہم نے عرض کیا کہ آپ ہمارے سردار ہیں آپ نے فرمایا سردار تو اللہ ہے ہم نے عرض کیا آپ بھلائی و بہتری کے اعتبار سے ہم میں سب سے بہتر ہیں اور بخشش کے اعتبار سے ہم میں سے بزرگ و برتر ہیں آپ نے فرمایا ہاں اس طرح کہو بلکہ اس سے بھی کم درجہ کے الفاظ استعمال کرو یعنی میری تعریف ومدح میں مبالغہ آرائی سے کام نہ لو اور ان صفات کو میری طرف منسوب نہ کرو جو صرف اللہ کی ذات سے مخصوص ہیں تم نے آخر میں جو بات کہی ہے زیادہ سے زیادہ اسی حد تک میری تعریف کرسکتے ہو بلکہ میرے تئیں اس سے بھی ہلکے درجہ کی تعریف کرو تو زیادہ بہتر ہے اور دیکھو شیطان تم کو اپنا وکیل نہ بنائے۔ (ابوداؤد) تشریح لفظ جری کے معنی وکیل کے ہیں جو اپنے موکل کا جاری مجری یعنی قائم مقام ہوتا ہے لہذا لا یستجرینکم الشیطن کا مطلب یہ ہے کہ تم میری تعریف ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں نہ کرو جس سے یہ معلوم ہوا کہ شیطان لعین نے تمہیں اپنا وکیل و قائم مقام بنا لیا ہے اور تم اس کی وکالت کے طور پر بلاتامل جو چاہتے ہو کہتے چلے جا رہے ہو چناچہ وہ لوگ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں جو ذات رسالت کی منقبت و تعریف میں حد سے زیادہ تجاوز کرتے ہیں اور نبی کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ گویا بندے کو اللہ کا درجہ دیدیتے ہیں جیسے مروج مولود کے قصائد نقلیہ میں ایسے الفاظ وبیان اختیار کئے جاتے ہیں کہ جن سے پروردگار کی شان میں بڑی بےادبی ہوتی ہے۔ بعض روایات میں اس یستجرینکم میں یاء کی بجائے ہمزہ ہے اس صورت میں یہ لفظ جری کے بجائے جو ات سے ہوگا اور معنی یہ ہوں گے کہ شیطان تم کو میری تعریف میں اس طرح اور بےباک نہ بنا دے کہ غلط سلط اور خلاف حقیقت جو کچھ کہنا چاہو بےجھجک کہنے لگو۔ سردار تو بس اللہ ہے سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ وہ ذات جو کہ مخلوق کے تمام امور کی حقیقی مالک ہے اور وہ ذات کہ ہر ایک پر فرمانبروائی و حکمرانی کی سزاوار ہے اور جس کے دست قدرت میں تمام تر نظم و تصرف ہے صرف اللہ کی ذات ہے نہ کہ کوئی اور شخص۔ علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اس جماعت کی طرف سے اپنے آپ کو سردار کہے جانے کی ممانعت کرنا اس سبب سے نہیں تھا کہ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے تئیں سرداری وسیادت کو ثابت کیا تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ بلاشبہ تمام اولاد آدم کے سردار ہیں بلکہ آپ کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کو لفظ سید سردار کے ذریعہ اس انداز مخاطب کیا تھا کہ جس طرح کسی قوم قبیلہ کے سردار کو مخاطب کیا جاتا ہے حالانکہ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ آپ کو لفظ نبی یا رسول اللہ کے ذریعہ مخاطب کرتے جو بشریت کا سب سے اعلی مرتبہ ہے۔

4796Mishkaat-al-Masabih

اصل فضیلت تقوی ہے

وعن الحسن عن سمرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحسب المال والكرم التقوى . رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت حسن، حضرت سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسب مال داری ہے اور کرم پرہیزگاری کا نام ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح حسب ان فضائل وخصائل کو کہتے ہیں کہ جو کسی انسان میں ہوتے ہیں چناچہ صاحب انسان اپنے اور اپنے باپ دادا کے خصائل و فضائل کو شمار کرتا ہے اور ان کے ذریعہ اپنی حثییت کو بڑھاتا ہے کرم صفات خیر کا نام ہے جس کا اطلاق تمام وجوہ خیر بھلائی اور شرف پر ہوتا ہے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نزدیک اصل حسب و فضیلت مالداری ہے کہ جو شخص مالدار اور صاحب ثروت ہو تو وہی حسب والا اور فضیلت والا سمجھا جاتا ہے اور اس کی عزت کی جاتی ہے اگر کسی کے پاس مال ثروت نہ ہو تو وہ سب کی نظروں میں کم تر و بےوقعت رہتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل فضیلت تقوی پرہیزگاری میں ہے کہ بغیر تقوی کے کوئی بھی فضیلت اعتبار نہیں رکھتی اللہ کی نظر میں کریم یعنی بزرگ و شریف وہی شخص ہے جو پرہیزگار ہو جیسا کہ قرآن کریم میں ہے، آیت (ان اکرمکم عند اللہ اتقکم)، بیشک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔

4797Mishkaat-al-Masabih

اپنے باپ دادا پر فخر کرنے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي بن كعب قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من تعزى بعزاء الجاهلية فأعضوه بهن أبيه ولا تكنوا . رواه في شرح السنة

اور حضرت ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص زمانہ جاہلیت کی نسبت کے ساتھ اپنے کو منسوب کرلے تو اس کے باپ ہن کو کٹواؤ اور اس میں اشارہ کنایہ سے کام نہ لو۔ (شرح السنہ) تشریح ھن ہر اس قبیح اور بری چیز کو کہتے ہیں کہ جو صاف صاف نام لے کر بیان نہیں کی جاتی اسی لئے اس لفظ کا اطلاق شرمگاہ پر بھی ہوتا ہے یعنی اگر کسی موقع پر شرمگاہ کا نام لینا ہو تو اس مقصد کے لئے ہن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے چناچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ دادا پر فخر کرے جو زمانہ جاہلیت میں گزرے ہیں تو اس کو صاف صاف باپ کی گالی دو اور اس کے باپ کی شرمگاہ کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ کنایہ سے کام نہ لو بلکہ اس کا صریح نام لو یعنی اس سے مہذب گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں سیدھا صاف کہہ دو کہ ابے جا اپنے باپ کی شرمگاہ۔ اور اس ارشاد کا مطلب گویا باپ دادا اور خاندانی ثروت وجاہت پر فخر کرنے والوں کو تئیں شاید نفرت کا اظہار اور ان کو سخت تنبیہ کرنا مقصود ہے تاکہ کوئی شخص اپنے باپ دادا کے تئیں فخر و مباہات میں مبتلا نہ ہو۔ بعض حضرات نے من تعزی بعزاء الجاہلیۃ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو شخص زمانہ جاہلیت کی رسموں اور عادتوں کو اختیار کرے جیسے نوحہ بال نوچنے کپڑے پھاڑنے وغیرہ کے ذریعہ غمی منائے تو اس کو صاف صاف باپ کی گالی دو یا جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح لوگوں کو برا بھلا کہے اور ان کو عار دلائے اور ان کے ساتھ گالم گلوچ کرے تو اس کے سامنے اس کے باپ کی برائیاں اشارہ کنایوں میں نہیں بلکہ صریح الفاظ میں بیان کرو یعنی یوں کہو کہ تمہارا باپ بتوں کو پوجھتا تھا، فسق وفجور کی زندگی اختیار کئے ہوئے تھا اور زناکاری و شراب نوشی جیسی قبیح برائیوں میں مبتلا تھا اگر اس کے سامنے اس طرح کی بات کرو گے تو آئندہ کسی شخص کو برا بھلا کہنے، گالم گلوچ کرنے اور کسی کی آبروریزی کرنے کی وہ کبھی جرات نہیں کرے گا۔

4798Mishkaat-al-Masabih

اپنے زمانہ جاہلیت کے کسی تعلق پر فخر نہ کرو

وعن عبد الرحمن بن أبي عقبة عن أبي عقبة وكان مولى من أهل فارس قال شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا فضربت رجلا من المشركين فقلت خذها مني وأنا الغلام الفارسي فالتفت إلي فقال هلا قلت خذها مني وأنا الغلام الأنصاري ؟ . رواه أبو داود

اور حضرت عبدالرحمن ابن ابوعقبہ حضرت ابوعقبہ سے نقل کرتے ہیں کہ جو کسی انصاری کے ایک فارس نثراز مولیٰ تھے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ کے ہمراہ میں بھی غزوہ احد میں شریک تھا چناچہ معرکہ آرائی کے دوران میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو (تلوار یا نیزہ کھینچ کر) مارا اور کہا کہ ایک وار میری طرف سے بھی کھا میں ایک فارسی غلام نثراد ہوں (جو دلیر اور بہت مار دینے والا ہے) رسول اللہ ﷺ نے میرا یہ جملہ سنا تو میری طرف متوجہ ہوگئے اور فرمایا کہ تم نے اس طرح کیوں نہیں کہا کہ لے میری طرف سے بھی ایک وار کھا میں ایک انصاری غلام ہوں۔ (ابوداؤد) تشریح ا نحضرت ﷺ کی تنبیہ کا مطلب یہ تھا کہ اس موقع پر اگر تم اپنی نسبت فارس کی طرف جو مذہبا مجوسی اور آتش پرست قوم ہے کرنے کی بجائے انصاری کی طرف کرتے جو بہت بہادر اور اللہ کے دین اور رسول اللہ کے حامی و مددگار ہیں تو زیادہ اچھا ہوتا اور اس وجہ سے بھی موزوں تھا کہ مولیٰ القوم منھم۔ (کسی قوم کے مولیٰ کا شمار اسی قوم میں ہوتا ہے) کے بموجب جب تمہارا تعلق ہی سے ہے۔ مولیٰ کی دو قسمیں ہیں ایک تو مولیٰ عتاقہ یعنی وہ غلام جس کو اس کے مالک نے آزاد کردیا ہو اور دوسرے یہ کہ وہ لوگ جن کا وطنی تعلق غیرب عرب علاقوں اور ملکوں میں ہوتا تھا اور اسلام قبول کرلیتے تھے اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ آجاتے تھے وہ اپنے آپ کو مہاجرین و انصار کے اختیار میں رہتی تھی ان کے سیاہ وسفید وہی مالک و متصرف ہوتے تھے ایسے لوگوں کو مولیٰ الموالات کہا جاتا تھا حضرت ابوعقبہ ؓ صحابی جن کا اصل نام رشد تھا اسی طرح کے مولیٰ تھے کہ وہ اصلا فارس کے رہنے والے تھے اور جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنے ملک فارس سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے تو کسی انصاری کے زیر تربیت رہے اس حدیث کے روای حضرت عبدالرحمن انہی ابوعقبہ کے صاحبزادے ہیں اور ان کا شمار ثقہ تابعین میں ہوتا ہے۔

4799Mishkaat-al-Masabih

اپنی قوم کی بیجا حمایت کرنے والے کی مذمت

وعن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من نصر قومه على غير الحق فهو كالبعير الذي ردي فهو ينزع بذنبه . رواه أبو داود

اور حضرت ابن مسعود ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق حمایت و مدد کرے وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گرپڑے اور پھر اس کی دم پکڑ کر اس کو کھینچا جائے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی اونٹ کنویں میں گر کر ہلاک ہوجاتا ہے اسی طرح وہ شخص کنویں میں گر کر روحانی طور پر تباہ و برباد ہوجاتا ہے اور اس میں سے نکالے جانے کی کوئی سبیل نہیں پاتا جو کسی ناحق معاملہ میں یا کسی ایسے معاملہ میں کہ اس کا حق ہونا مشتبہ ہو اپنی قوم و جماعت کی حمایت و مدد کے ذریعہ اپنے آپ کو اونچا اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ قوم و جماعت کو تو ہلاک ہوجانے والے اونٹ کے مشابہ قرار دیا ہے کیونکہ جو طبقہ و گروہ حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کرتا ہے وہ گویا ہلاک ہوجانے والا شمار ہوتا ہے اور جو شخص اس قوم و جماعت کی حمایت کرتا ہے اس کو اس اونٹ کی دم کے ساتھ تشبیہ دی ہے چناچہ جو اونٹ کنویں میں گرجائے اس کو اس کی دم پکڑ کر کھینچنا اس کو ہلاک ہونے سے نہیں بچا سکتا اس طرح جو قوم و جماعت باطل ہونے کی وجہ سے ہلاکت کی کھائی میں گر پڑی اس کو وہ حمایتی اور مددگار ہلاکت کی کھائی سے نجات نہیں دلا سکتا۔

4800Mishkaat-al-Masabih

عصبیت کس کو کہتے ہیں

وعن واثلة بن الأسقع قال قلت يا رسول الله ما العصبية ؟ قال أن تعين قومك على الظلم رواه أبو داود

حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ عصبیت یعنی جاہلیت کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا عصبیت یہ ہے کہ تم ظلم پر اپنی قوم و جماعت کی حمایت کرو۔ (ابوداؤد) تشریح اس سے معلوم ہوا کہ حق کے معاملہ میں اپنی قوم و جماعت کی حمایت و رعایت کی جائے تو یہ اچھی چیز ہے جیسا کہ آنے والی حدیث میں فرمایا گیا ہے۔

4801Mishkaat-al-Masabih

اپنی قوم وجماعت کے ظلم کے ختم کرنے کی کوشش کرو

وعن سراقة بن مالك بن جعشم قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال خير كم المدافع عن عشيرته ما لم يأثم . رواه أبو داود

اور حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو اپنی قوم جماعت کے لوگوں کے ظلم و زیادتی کا دفعیہ کرے جب تک اس دفعیہ کی وجہ سے ظلم کے گناہ کا خود مرتکب نہ ہو۔ (ابوداؤد) تشریح اگر یہ سوال پیدا ہو کہ وہ شخص جو ظلم و زیادتی کا دفعیہ کر رہا ہے وہ خود ظلم کا مرتکب کس طرح ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ فرض کیجیے ایک شخص کو اس کے ظلم سے زبانی ہدایت و تنبیہ اور افہام و تفہیم کے ذریعہ روکا جاسکتا ہے لیکن کوئی شخص اس ظلم کے دفعیہ کے لئے اپنی زبان کو ذریعہ بنانے کے بجائے اپنے ہاتھوں کو ذریعہ بنانے لگے کہ ظلم کرنے والے کو مارنے لگے تو ظاہر ہے کہ یہ روا نہیں ہوگا یا اس ظلم کو روکنے کے لئے تھوڑا بہت مارنا کافی ہوسکتا ہو مگر کوئی شخص اس کو بہت زیادہ مارنے لگے یا جان ہی سے مار ڈالے تو اس کی اس کاروائی کو سراسر ناواجب کہا جائے گا، حاصل یہ کہ کسی ظالمانہ کاروائی کو روکنے کے لئے ایسا اقدام کرنا ضرورت سے زائد اور واجبی حد متجاوز ہو تو ظلم کی وہ مدافعت خود ظلم وتعدی بن جائے گی۔

4802Mishkaat-al-Masabih

عصبیت کی مذمت

وعن جبير بن مطعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليس منا من دعا إلى عصبية وليس منا من قاتل عصبية وليس منا من مات علىعصبية . رواه أبو داود

اور حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے (یعنی ہمارے اہل ملت یا ہمارے اہل طریقہ میں سے نہیں ہے) جو لوگوں کو عصبیت کی دعوت دے (یعنی لوگوں کو کسی ناحق معاملہ میں حمایت کرنے پر آمادہ کرے نہ وہ شخص ہم میں سے ہے جو عصبیت کے سبب جنگ کرے اسی طرح وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں ہے جو عصبیت کی حالت میں مرجائے (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ عصبیت میں مبتلا ہونا یعنی اس شخص و قوم کی حمایت کرنا جو باطل پر ہو ہر حالت میں مذموم و ممنوع ہے بشرطیکہ اس عصبیت کا تعلق کسی دینی مصلحت سے نہ ہو بلکہ محض ظلم وتعدی کے طور پر ہو۔

4803Mishkaat-al-Masabih

محبت اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے

وعن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال حبك الشيء يعمي ويصم . رواه أبو داود

اور حضرت ابوداؤد آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کسی چیز سے تمہارا محبت کرنا تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح اس ارشاد گرامی کے ذریعہ اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ محبت کا جنون انسان کو اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے کہ وہ غلبہ محبت کی وجہ سے اپنی محبوب چیز کے عیب نہ دیکھنے کی صلاحیت باقی رکھتا ہے اور نہ سننے کی اگر محبوب میں کوئی برائی دیکھتا بھی ہے تو اس کو اچھی سمجھتا ہے اور اگر اس سے کوئی بری بات سنتا بھی ہے تو اس کو اچھا جانتا ہے یا یہ مراد ہے کہ محبت انسان کو محبوب کے علاوہ ہر چیز سے اندھا اور بہرا کردیتی ہے کہ وہ جمال یار کے سوا نہ کسی چیز پر نظر ڈالتا ہے اور نہ محبوب کے سوا بات سننا پسند کرتا ہے۔ اس باب میں اس حدیث کو نقل کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ارشاد گرامی اس شخص کے حق میں فرمایا گیا ہے جو کسی کی محبت سے مغلوب ہو باطل و ناروا امور میں اسی کی حمایت ومدد کرتا ہے وہ حق کو نہ دیکھتا ہے اور نہ سنتا ہے بلکہ محض محبت کی وجہ سے ناحق و باطل کا حامی و مددگار بن جاتا ہے۔

4804Mishkaat-al-Masabih

عصبیت کے معنی

عن عبادة بن كثير الشامي من أهل فلسطين عن امرأة منهم يقال لها فسيلة أنها قالت سمعت أبي يقول سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله أمن العصبية أن يحب الرجل قومه ؟ قال لا ولكن من العصبية أن ينصر الرجل قومه على الظلم . رواه أحمد وابن ماجه

اور حضرت عبادہ بن کثیر شامی جن کا تعلق فلسطین سے تھا اپنے لوگوں میں ایک خاتون سے جن کا نام فسیلہ تھا نقل کرتے ہیں کہ وہ خاتون بیان کرتی تھیں میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ کیا عصبیت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی قوم و جماعت کو عزیز رکھے؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ عصبیت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص ظلم کے معاملہ میں اپنی قوم و جماعت کی حمایت و مدد کرے۔ (احمد، ابن ماجہ) تشریح اس ارشاد گرامی عصبیت کے مفہوم پر بڑے سادہ انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اپنی جماعت اور اپنی قوم کی جائز حمایت کرنا اور اس کے فطری و قانونی حقوق و مفادات کے حصول و تحفظ کے لئے اسی طرح جدوجہد کرنا کہ دوسروں کے حقوق و مفادات پر کوئی زد نہ پڑے عصبیت کے معنی میں داخل نہیں ہے ہاں اگر اپنی جماعت و قوم کی اس طرح حمایت کی جائے جس سے دوسروں کے تئیں ظلم وتعدی کے جذبات ظاہر ہوتے ہوں، یا اپنی جماعت و قوم کی جدوجہد میں معاونت کرنا جو سراسر زیادتی اور انتہا پسندی پر مبنی ہو نیز اس جدوجہد کا کوئی قانونی جواز موجود نہ ہو تو اس کو عصبیت کہا جائے گا اور شریعت کی نظر میں اس حمایت و معاونت کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔