آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 2 of 15

4545Mishkaat-al-Masabih

سلام میں پہل کرنے کی فضیلت

وعن أبي أمامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أولى الناس بالله من بدأ السلام . رواه أحمد والترمذي وأبو داود .

اور حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سے اللہ کے نزدیک تر وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ تشریح اس فضیلت کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو راستہ میں ایک دوسرے سے ملیں کیوں کہ اس صورت میں سلام کرنے کے حق کے سلسلے میں وہ برابر کی حثییت رکھیں گے لہذا ان میں سے جو شخص پہلے سلام کرے گا وہ مذکورہ فضیلت کا مستحق ہوگا اس کے برخلاف اگر یہ صورت ہو کہ ایک شخص تو کہیں بیٹھا ہوا ہو اور دوسرا شخص اس کے پاس آئے تو سلام کرنے کا حق اس دوسرے شخص پر ہوگا جو آیا ہے لہذا اگر وہ آنے والا سلام کرنے میں پہل کرے تو وہ فضیلت کا مخاطب نہیں ہوگا کیوں کہ اس نے سلام کرنے میں پہل کر کے درحقیقت اس حق کو ادا کیا ہے جو اس کے ذمہ تھا، ہاں اگر سلام کرنے میں وہ شخص پہل کرے جو بیٹھا ہوا تھا تو اس فضیلت کا وہ مستحق ہوگا۔ حضرت عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کو اختیار کرنے سے مسلمانوں کے باہمی تعلقات میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے تئیں اخلاص و محبت کے جذبات کو فروغ دیتا ہے ایک تو ملاقات کے وقت سلام میں پہل کرنا دوسرے کسی مسلمان کو اس کے نام کے ذریعہ مخاطب کرنا اور پکارنا جس کو وہ پسند کرتا ہے تیسرے یہ کہ جب وہ مجلس میں آئے تو اس کو عزت و احترام کے ساتھ جگہ دینا۔

4546Mishkaat-al-Masabih

اجنبی عورت کو سلام کرنا جائز نہیں

وعن جرير أن النبي صلى الله عليه وسلم مر على نسوة فسلم عليهن . رواه أحمد . ( حسن )

اور حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (احمد) تشریح یہ بات آنحضرت کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص تھی کیونکہ کسی فتنہ و شر میں آنحضرت کے مبتلا ہونے کا کوئی خوف و خطرہ نہ تھا اس لئے آپ کے لئے عورتوں کو بھی سلام کرنا روا تھا لیکن آپ کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ اجنبی عورت کو سلام کرے ہاں اگر کوئی عورت اتنی عمر رسیدہ ہو کہ اس کے تئیں کسی فتنہ و شر میں مبتلا ہونے کا کوئی امکان نہ ہو اور نہ اس کو سلام کرنا دوسروں کی نظروں میں کسی بدگمانی کا سبب بن سکتا ہو تو اس کو سلام کرنا جائز ہوگا۔ جماعت میں سے کسی ایک کا سلام کرنا پوری جماعت کی طرف سے کافی ہے۔

4547Mishkaat-al-Masabih

جماعت میں سے کسی ایک کا سلام کرنا پوری جماعت کی طرف سے کافی ہے

وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال يجزئ عن الجماعة إذا مروا أن يسلم أحدهم ويجزئ عن الجلوس أن يرد أحدهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان مرفوعا . وروى أبو داود وقال ورفعه الحسن بن علي وهو شيخ أبي داود .

اور حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب کچھ لوگ گزر رہے ہوں تو ان میں سے کسی ایک کا سلام لینا ان سب کی طرف سے کافی ہوگا اسی طرح جو لوگ بیٹھے ہوئے ہوں ان میں سے کسی ایک کا جواب دینا ان سب کی طرف سے کافی ہوگا۔ اس روایت کو بہیقی نے شعب الایمان میں بطریق مرفوع نقل کیا ہے (یعنی بہیقی کی روایت کے مطابق یہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے نہ کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کا قول ہے) اور ابوداؤد نے اس روایت کو بطریق موقوف نقل کیا ہے نیز انہوں نے اپنی سند بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس روایت کو حسن ابن علی نے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ حسن ابن علی (امام حسن ابن علی ابن ابی طالب نہیں بلکہ) وہ حسن ہیں جو ابوداؤد کے استاد وشیخ ہیں۔ (حاصل یہ کہ اس روایت کو بہیقی نے تو مرفوع نقل کیا ہے اور ابوداؤد نے بھی حسن ابن علی کی سند سے مرفوع نقل کیا ہے لیکن دوسری سند سے موقوف نقل کیا ہے)۔۔ تشریح گزر رہے ہوں اس حکم میں وہ صورت بھی داخل ہے جب کہ وہ کچھ لوگ کسی ایسی جگہ جائیں یا کسی ایسی جگہ رکیں جہاں پہلے سے کچھ لوگ بیٹھے ہوں، یا ایک ہی شخص ہو، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ سلام کرنے میں پہل کرنا سنت کفایہ ہے اور سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے جن لوگوں کو سلام میں پہل کرنی چاہیے یا جن لوگوں کو سلام کا جواب دینا ہے اگر ان میں سے کوئی ایک شخص سلام کرے یا کوئی ایک شخص سلام کا جواب دیدے تو وہ سلام یا جواب میں ان سب لوگوں کی طرف سے کافی ہوگا اور وہ سب بری الذمہ ہوجائیں گے اگرچہ ان میں سے ہر ایک کا سلام کرنا یا ہر ایک کا جواب دینا افضل ہوگا۔

4548Mishkaat-al-Masabih

اشاروں کے ذریعہ سلام کرنا

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ليس منا من تشبه بغيرنا لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى فإن تسليم اليهود الإشارة بالأصابع وتسليم النصارى الإشارة بالأكف . رواه الترمذي وقال إسناده ضعيف . ( له إسنادان أحدهما

اور حضرت عمر بن شعیب اپنے والد حضرت شعیب سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمارے غیروں کے ساتھ مشابہت کرے گا یعنی ہماری امت کے لوگوں کے برعکس دوسرے مذاہب کے لوگوں کے طریقہ پر عمل کرے گا اور وہ ہم میں سے نہیں ہے تم نہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت کرو اور نہ عیسائیوں کے ساتھ، یہودیوں کا سلام کرنا انگلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنے اور عسائیوں کا سلام کرنا ہتھیلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے کسی بھی فعل و طریقہ اور خاص طور پر سلام کرنے کے ان دونوں طریقوں کی مشابہت اختیار نہ کرنی چاہیے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اور عیسائی سلام کرنے یا سلام کرنے کا جواب دینے کے لئے اور یا دونوں محض مذکروہ اشاروں ہی پر اکتفا کرلیتے تھے، سلام کا لفظ نہیں کہتے تھے۔ جو حضرت آدم اور ان کی ذریت میں سے انبیاء و اولیاء کی سنت و طریقہ ہے چناچہ نبی کو گویا مکاشفہ ہوا کہ میری امت کے کچھ لوگ بےراہ روی کا شکار ہو کر سلام کرنے کا وہ طریقہ اختیار کریں گے جو یہودیوں، عیسائیوں اور دوسری غیر اقوام کا ہے جیسے انگلیوں یا ہتھیلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنا ہاتھ جوڑ لینا، کمر یا سر کو جھکانا اور صرف سلام کرنے پر اکتفا کرلینا وغیرہ وغیرہ۔ لہذا آپ نے پوری امت کو مخاطب کرتے ہوئے اس بارے میں تنبیہ بیان فرمائی اور یہ وعید بیان کی کہ جو شخص سلام کے ان رسوم و رواج کو اپنائے گا جو اسلامی شریعت اور ہماری سنت کے خلاف ہیں تو اس کو سمجھ لینا چاہیے، کہ اس کا شمار ہماری امت کے لوگوں میں نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اس حدیث کی اسناد کو امام ترمذی نے ضعیف کہا ہے لیکن یہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے اور وہ ضعیف نہیں ہے جس کو جامع صغیر میں نقل کیا گیا ہے۔

4549Mishkaat-al-Masabih

ہر ملاقات پر سلام کرو۔

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال اتا إذا لقي أحدكم أخاه فليسلم عليه فإن حالت بينهما شجرة أو جدار أو حجر ثم لقيه فليسلم عليه . رواه أبو داود .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کرے تو چاہیے کہ پہلے اس کو سلام کرے اور اس کے بعد اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا بڑا پتھر حائل ہوا اور پھر اس سے ملاقات ہو تو اس کو دوبارہ سلام کرے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اتنے معمولی وقفہ کی جدائی و مفارقت کے بعد بھی سلام کرنا مستحب ہے چہ جائیکہ زیادہ عرصہ کے بعد ملاقات ہو، گویا یہ حدیث سلام کے استحباب اور ہر موقع پر اس ادب کے ملحوظ رکھنے کو مبالغہ کے طور پر بیان کرتی ہے، واضح رہے کہ سلام کی اہمیت کے باوجود بعض صورتیں ایسی ہیں جو سلام کرنے سے مستثنی ہیں، مثلا اگر کوئی شخص پیشاب کر رہا ہے یا پاخانہ میں ہو، یا جماع میں مصروف ہو یا اسی طرح کوئی حالت ہو اور اس وقت اس شخص کو سلام کرنا مکروہ ہے اور جواب دینا اس پر واجب نہیں ہوگا اسی طرح اگر کوئی شخص سو رہا یا اونگھ رہا ہو یا نماز پڑھ رہا ہو یا اذان دے رہا ہو یا حمام میں ہو یا کھانا کھا رہا ہو اور نوالہ اس کے منہ میں ہو اور ان صورتوں میں اس کو کوئی سلام کرے تو وہ جواب کا مستحق نہیں ہوگا نیز خطبہ کے وقت نہ تو سلام کرنا چاہیے اور نہ سلام کو جواب دینا چاہیے جو شخص قرآن کی تلاوت کر رہا ہو اس کو بھی سلام نہ کیا جائے اگر کوئی سلام کرے تو تلاوت کرنے والے کو چاہیے کہ تلاوت روک کر سلام کا جواب دے اور پھر اعوذ پڑھ کر تلاوت شروع کر دے۔

4550Mishkaat-al-Masabih

اپنے گھر والوں کو بھی سلام کرو

وعن قتادة قال قال النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخلتم بيتا فسلموا على أهله وإذا خرجتم فأودعوا أهله بسلام رواه البيهقي في شعب الإيمان مرسلا .

اور حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم گھر میں گھسو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو اور جب گھر سے باہر نکلو تو اپنے گھر والوں کو سلام کے ذریعہ رخصت کرو، اس روایت کو بہیقی نے شعب الایمان میں بطریق ارسال نقل کیا ہے۔ تشریح اگر گھر میں کوئی فرد نہ ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس طرح کہے السلام علینا وعباد اللہ الصالحین تاکہ وہاں جو فرشتے ہوں ان کو سلام پہنچے۔ حدیث کے الفاظ فاو دعو اھلہ بسلام میں ایداع اصل میں تو دیع کے معنی میں ہے جو وداع سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ گھر سے باہر جاتے وقت اپنے اہل و عیال کو سلام کے ذریعہ وداع کہو۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس رخصتی سلام کو جواب واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کیوں کہ یہ سلام اصل میں دعا اور وداع ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی یہ فرماتے ہیں کہ لفظ اودعو ایداع سے ہے بایں معنی کہ اپنے اہل و عیال کے پاس سلام کو ودیعت امانت رکھو۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تم نے رخصت ہوتے وقت اپنے اہل و عیال کو سلام کیا تو گویا تم نے سلام کی خیر و برکت کو اپنے اہل و عیال کے پاس امانت رکھا جس کو تم آخرت میں واپس لو گے جیسا کہ کوئی شخص اپنی کوئی چیز کسی کے پاس امانت رکھتا ہے اور پھر اس کو واپس لے لیتا ہے یحییٰ کے مطابق مطلب یہ ہے کہ تم سلام کو اپنے گھر والوں کی ودیعت امانت و سپردگی میں دے دو تاکہ لوٹ کر ان کے پاس آؤ تو اپنی ودیعت امانت کو واپس لو جیسا کہ امانتیں واپس لی جاتیں ہیں یہ بات گویا اس امر کی نیک فال لینے کے مرادف ہے کہ گھر سے رخصت ہونے والا سلامتی کے ساتھ لوٹ کر آئے گا اسے دوبارہ سلام کرنے کا موقع نصیب ہوگا۔

4551Mishkaat-al-Masabih

اپنے گھر والوں کو بھی سلام کرو

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني إذا دخلت على أهلك فسلم يكون بركة عليك وعلى أهل بيتك . رواه الترمذي . )

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرے بیٹے جب تم اپنے گھر والوں سے ملو تو سلام کرو، وہ سلام تم پر اور تمہارے گھر والوں پر خیر و برکت کے نزول کا باعث ہوگا۔ (ترمذی )

4552Mishkaat-al-Masabih

پہلے سلام پھر کلام

وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم السلام قبل الكلام . رواه الترمذي وقال هذا حديث منكر .

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا سلام کا کلام سے پہلے یعنی ملاقات کے وقت پہلے سلام کرنا چاہیے اور اس کے بعد بات چیت کرنی چاہیے سلام کرنے سے پہلے بات چیت شروع کردینا اچھا نہیں۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔

4553Mishkaat-al-Masabih

زمانہ جاہلیت کا سلام

وعن عمران بن حصين قال كنا في الجاهلية نقول أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا . فلما كان الإسلام نهينا عن ذلك . رواه أبو داود .

اور حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ملاقات کے وقت یہ کہا کرتے تھے انعم اللہ بک علینا وانعم صباحا یعنی اللہ تمہاری وجہ سے آنکھوں کو ٹھنڈا رکھے اور تم ہر صبح نعمتوں میں داخل ہو، پھر جب اسلام کا زمانہ آیا تو ہمیں یہ کہنے سے منع کردیا گیا۔ ابوداؤد) تشریح پہلا لفظ انعم نعومۃ سے ماضی کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں نرمی، تازگی اور شادمانی اس عبات انعم اللہ بک علینا کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ بک میں حرف با سبب کے معنی میں ہے اور یہ جملہ اس مفہوم کا حامل ہے کہ اللہ تمہاری وجہ سے تمہارے دوستوں اور عزیزوں کی آنکھوں کو تر و تازہ اور روشن رکھے یہ گویا مخاطب کی خوش حالی سے کنایہ ہے کہ وہ خوش حال و شادمان رہے تاکہ اس کے دوست اس کی خوش حالی و شادمانی دیکھ کر خوش ہو، دوسرے یہ کہ حرف با زائد ہے اور اس سے تاکید تعدیہ مراد ہے اس صورت میں یہ جملہ اس مفہوم کا حامل ہوگا کہ اللہ تمہیں اس چیز کو دیکھنے کا موقع دے کر خوش و خرم رکھے جس کو تم پسند کرتے ہو اور اس کی طلب رکھتے ہو۔ دوسرا لفظ انعم امر کا صیغہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری صبح تمہارے لئے تر و تازگی و خوشحالی و مسرت کا باعث بنیں یا یہ کہ صبح کے وقت تم تر و تازہ اور خوش خرم رہو، یہ بھی خوشی و فراغت کے ساتھ وقت گزارنے سے کنایہ ہے اور صبح کے وقت کی تخصیص اس سبب سے ہے کہ دن کی ابتداء صبح سے ہوتی ہے اگر صبح کا وقت کسی حادثہ کو اپنے ساتھ لاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب پورا دن بےچینی وبے اطمینانی اور سخت روی کے ساتھ گزرے گا خاص طور پر اس زمانہ میں غارت گری اور لوٹ مار کا جو معمول بنا ہوا تھا کہ اس کی ابتداء عام طور سے صبح ہی کے وقت ہوتی تھی لہذا اس دور میں جس شخص کی صبح خیر و عافیت اور امن کے ساتھ گزر جاتی تھی اس کا پورا وقت اطمینان و چین کے ساتھ گزرتا تھا۔

4554Mishkaat-al-Masabih

غائبانہ سلام اور اس کا جواب

وعن غالب قال إنا لجلوس بباب الحسن البصري إذ جاء رجل فقال حدثني أبي عن جدي قال بعثني أبي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ائتيه فأقرئه السلام . قال فأتيته فقلت أبي يقرئك السلام . فقال عليك وعلى أبيك السلام . رواه أبو داود

اور حضرت غالب کہتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے اور ان سے ان کے باپ یعنی میرے دادا نے بیان کیا کہ مجھ کو میرے باپ نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجتے ہوئے کہا کہ تم نبی ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ کو سلام عرض کرو میرے دادا نے بیان کیا کہ اپنے باپ کے حکم پر میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میرے باپ نے آپ کو سلام عرض کیا ہے نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم اور تمہارے باپ پر سلامتی ہو۔ ابوداؤد ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے سلام پہنچائے تو مسنون یہ ہے کہ سلام پہنچانے والے پر بھی سلام بھیجا جائے اور جس کی طرف سے جس نے سلام پہنچایا ہے اس پر بھی یعنی جب کوئی شخص کسی کی طرف سے سلام پہنچائے تو جواب میں یوں کہا جائے علیک وعلی فلاں السلام یاوعلیک وعلیہ السلام چناچہ نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بعینہ منقول ہیں۔

4555Mishkaat-al-Masabih

خطوط میں سلام لکھنے کا طریقہ

وعن أبي العلاء بن الحضرمي أن العلاء الحضرمي كان عامل رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان إذا كتب إليه بدأ بنفسه . رواه أبو داود .

اور حضرت ابوالعلاء حضرمی ؓ کہتے ہیں کہ علاء حضرمی رسول اکرم ﷺ کی طرف سے عامل مقرر تھے جب وہ نبی اکرم ﷺ کو خط لکھتے تو اپنی طرف سے شروع کرتے۔ ابوداؤد) تشریح ابوالعلاء ؓ کا اصل نام یزید ابن عبد ہے۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں اس روایت کے راوی کا نام ابوالعلاء ہی لکھا ہے یعنی یوں ہے عن ابی العلاء حضرمی ان العلاء الحضرمی اور بعض نسخوں میں مصابیح کے بعض نسخوں کے مطابق ابن علاء لکھا ہے یعنی یوں ہے۔ عن ابن العلاء الحضرمی ان العلاء الحضرمی، حضرمی اصل میں مشہور شہر حضرت موت کی طرف نسبت ہے کیونکہ حضرت علاء حضرموت کے رہنے والے تھے اور مشکوۃ کے اکثر نسخوں میں آگے کی عبارت ان العلاء الحضرمی ہے لیکن ایک نسخہ میں ان العلاء الحضرمی لکھا ہوا ہے۔ تقریب میں لکھا ہے کہ حضرت علاء بنو امیہ کے حلیف تھے یہ ایک جلیل القدر اور بزرگ صحابی ہیں۔ نبی کریم نے ان کو بحرین کا عامل مقرر کیا نبی اکرم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے بھی اپنے دور خلافت میں ان کو وہاں کا عامل باقی رہا اور اسی عہدے پر ان کا انتقال ہوا۔ اپنی طرف سے شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خط کی ابتداء ان الفاظ سے کرتے، من العلاء الحضرمی الی رسول اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ (یعنی علاء حضرمی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں السلام علیکم ورحمۃ اللہ) اس عبارت کے بعد خط کا مضمون ہوتا اور حضرمی خط لکھنے کا یہ طریقہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع میں اختیار کرتے تھے کیوں کہ نبی اکرم ﷺ کے مکتوبات گرامی کی ابتداء اسی طرح ہوتی تھی۔ من محمد رسول اللہ الی فلاں اس عبارت کے بعد سلام کے الفاظ ہوتے تھے اگر مکتوب الیہ مسلمان ہوتا تو اس کا مخاطب خاص طور پر اسی کو بنایا جاتا یعنی سلام علیک جیسے الفاظ ہوتے اور اگر مکتوب الیہ مسلمان ہوتا تو پھر علی العموم سلام کے الفاظ ہوتے یعنی یوں لکھتے سلام علی من اتبع الھدی۔ (جو شخص راہ راست کی پیروی کرے اس پر سلامتی ہو) سلام کے بعد اصل مضمون ہوتا چناچہ نبی نے ہرقل کو جو مکتوب ارسال کیا تھا وہ اسی ترتیب کے ساتھ لکھا گیا نیز نبی اکرم ﷺ نے معاذ ؓ کو ان کے بیٹے کی تعزیت میں جو خط بھیجا تھا اس کے ابتدائی الفاظ یوں تھے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، من محمد رسول اللہ الی معاذ بن جبل سلام علیک فانی احمد الیک اللہ الذی لاالہ الاھو، اما بعد الخ۔۔ یہ حدیث جو یہاں نقل کی گئی ہے بظاہر باب کے موضوع سے تعلق نہیں رکھتی لیکن یہ حدیث چونکہ سلام کے مقد کی حثییت رکھتی ہے جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اس لئے یہ اس باب میں نقل کی گئی ہے اسی طرح آگے جو تین حدیثیں آرہی ہیں جن میں خط سے متعلق کچھ باتیں بیان کی گئی ہیں چونکہ ان کا تعلق بھی بایں اعتبار سلام سے ہے کہ سلام جس طرح زبانی پیش کیا جاتا ہے اسی طرح وہ خط میں بھی لکھا جاتا ہے لہذا ان حدیثوں کو بھی اس باب میں نقل کیا گیا ہے اور مشکوۃ کے مولف کا یہ محمول بھی ہے کہ وہ فصل کے آخر میں ان احادیث کو بھی نقل کرتے ہیں جو اگرچہ براہ راست باب سے تعلق نہیں رکھتیں لیکن باب اور اس کے موضوع کے مناسب اور بالواسطہ طور پر تعلق رکھنے والی ضرور ہوتی ہے۔

4556Mishkaat-al-Masabih

خط لکھ کر اس پر مٹی چھڑکنے کی خاصیت

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا كتب أحدكم كتابا فليتر به فإنه أنجح للحاجة . رواه الترمذي وقال هذا حديث منكر .

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو خط لکھے تو چاہیے کہ وہ خط لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈال دے یا مٹی چھڑک کر جھاڑ دے کیونکہ یہ چیز حاجت براری کے لئے بہت کارآمد ہے ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ تشریح کاغذ وغیرہ پر لکھنے کے بعد مٹی چھڑکنا بڑا قدیم طریقہ ہے اور عام طور پر اس کا مقصد روشنائی کو خشک کرنا سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ طریقہ حاجت براری کے لئے ایک مخصوص تاثیر رکھتا ہے اور یہ تاثیر بلخاصیت ہے کہ اس کا سبب شارع کے علاوہ اور کسی کو معلوم نہیں ہے تاہم بعض عارفین نے پہلے معنی یعنی مٹی ڈال دے کی وضاحت میں لکھا ہے کہ ایسا کرنا دراصل اپنے لکھے ہوئے پر خاک ڈالنے کے مفہوم کے مترادف ہے بایں طور کہ اس فعل سے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اپنے مقصد و حاجت کے لئے نہ تو اپنے اس مکتوب پر اعتبار ہے اور نہ مکتوب الیہ کو حقیقی حاجت روا کا درجہ دینا مقصود ہے بلکہ حقیقی اعتماد اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے کہ وہی مقصد کو پورا کرنے اور حاجت برلانے والا ہے لہذا یہ مکتوب محض اظہار حال کا ایک ظاہری ذریعہ ہے حقیقی درخواست تو صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ یا مٹی چھڑک کر جھاڑ دے یہ فلیتربہ کا دوسرا ترجمہ ہے اور یہ ترجمہ اس اعتبار سے ہے کہ مٹی ڈالنے کی صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مٹی کسی دوسرے کی ملکیت سے متعلق ہو اور اس طرح مالک کی اجازت کے بغیر اس کی چیز کو صرف کرنا لازم آئے جب کہ مٹی چھڑ کر جھاڑ دینے میں اس طرح کی کوئی بات لازم نہیں آتی چناچہ اس دوسرے ترجمہ کی تائید اور اس قصے سے بھی ہوتی ہے جس کو امام غزالی نے منہاج العابدین میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے جو کسی کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھا ایک پر چہ لکھا پھر جب اس نے یہ چاہا کہ مکان کی دیوار سے تھوڑی سے مٹی لے کر پر چہ پر ڈالے تو اس کو خیال ہوا کہ یہ مکان کرایہ کا ہے اور اس کی دیوار سے مٹی لے کر صرف کرنا غیر مناسب ہے لیکن معا دل میں دوسراخیال یہ بھی آیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے چناچہ اس نے مٹی لے کر پر چہ پر ڈال دی اس کے اس نے یہ غیبی ندا سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے اس مٹی کو حلال جاننے والا جلدی ہی اس چیز کو جان لے گا جو کل کے دن یعنی روز حشر طویل حساب کے سبب اس کو پیش آنے والی ہے۔ یہ حدیث راویوں کے اعتبار سے منکر ہے اس کے مضمون میں کوئی کلام نہیں ہے چناچہ طبرانی نے اوسط میں بطریق مرفوع حضرت ابوداؤد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اذا کتب احدکم الی انسان فلیدا بنفسہ واذا کتب فلیترب کتابہ فھو انجح۔ یعنی جب تم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو خط لکھے تو چاہیے کہ اس کو اپنی طرف سے شروع کرے اور جب اس خط کو لکھ لے تو اس پر مٹی چھڑک دے کیوں کہ یہ چیز حاجت براری کے لئے بہت کارآمد ہے۔ حقیقی درخواست تو صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔

4557Mishkaat-al-Masabih

لکھتے وقت قلم کو کان پر رکھنے کی خاصیت

عن زيد بن ثابت قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وبين يديه كاتب فسمعته يقول ضع القلم على أذنك فإنه أذكر للمآل . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب وفي إسناده ضعف .

اور حضرت زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ کے سامنے ایک خط لکھنے والا بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ کو لکھنے والے سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قلم کو اپنے کان پر رکھ لو کیونکہ یہ چیز مطلب کو بہت یاد دلاتی ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ تشریح یہ چیز مطلب کو بہت یاد دلاتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ذہن کے دریچے کھل جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے مقصد اور مفہوم کو بیان کرنے کے لئے عبارت والفاظ کی آمد ہونے لگتی ہے اور لکھنے والا جو کچھ لکھنا چاہتا ہے اس میں پوری طرح کامیاب رہتا ہے یہ چیز بھی بالخاصیت ہے یعنی ایسا کس طرح ہوتا ہے؟ اس کا علم شارع ہی کو ہے تاہم بعض علماء نے اس کی تاویل و توجہیہ بیان کی ہے۔ یحییٰ نے لکھا ہے کہ قلم ایک طرح سے زبان کا حکم رکھتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے القلم احدالسانین اور زبان قلب و ذہن کی ترجمان ہوتی ہے لہذا قلم کو کان پر رکھنا گویا زبان کو کان پر جو کہ سننے کی جگہ ہے رکھنے کے مرادف ہے تاکہ زبان، قلم قلب و ذہن کے قریب ہوجائے اور قلب و ذہن جو کچھ کہنے کا ارادہ کریں اور وہ مفہوم کو جس اعلی عبارت و پیرایہ بیان اور جس عمدہ الفاظ اوسلوب میں ادا کرنے کا تقاضہ کریں ان کو کلام وبیان کی اسی مناسبت و موزو نیت کے ساتھ بصورت تحریر بیان کرے۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے کا مطلب یہ ہے کہ روایت متن یا سند کے اعتبار سے غریب ہے اور اپنے بعض راویوں کے ضعف کے سبب ضعیف ہے تاہم یہ بات اس روایت کے صحیح ہونے کے منافی نہیں ہے نیز اس کی تائید ابن عساکر کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو انہوں نے حضرت انس ؓ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ اذاکتبت قضع قلمک علی اذنک فانہ اذکرلک اسی طرح جامع صغیر میں حضرت زید بن ثابت ؓ سے بطریق مرفوع ترمذی کی یہ روایت منقول ہے کہ ضع القلم علی اذنک فانہ ذکر للملیٰ۔

4558Mishkaat-al-Masabih

ضرورت کے تحت غیر مسلم قوموں کی زبان سیکھنا جائز ہے

وعنه قال أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أتعلم السريانية . وفي رواية إنه أمرني أن أتعلم كتاب يهود وقال إني ما آمن يهود على كتاب . قال فما مر بي نصف شهر حتى تعلمت فكان إذا كتب إلى يهود كتبت وإذا كتبوا إليه قرأت له كتابهم . رواه الترمذي . ( حسن )

اور حضرت زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے مجھ کو یہ حکم دیا کہ میں سریانی زبان کو سیکھوں اور ایک روایت میں یوں ہے نبی کریم ﷺ نے مجھ کو حکم دیا کہ میں یہودیوں سے خط و کتابت کرنا سیکھ لوں نیز آپ نے فرمایا کہ خط و کتابت کے معاملہ میں مجھے یہودیوں پر اطمینان نہیں ہوتا زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں نبی ﷺ کے اس حکم کے بعد آدھا مہینہ بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ میں نے یہودیوں کی زبان اور ان سے خط و کتابت کرنا سیکھ لیا چناچہ جب نبی ﷺ یہودیوں کو کوئی مکتوب بھیجنا چاہتے تو اس کو میں ہی لکھتا اور جب یہودی آپ کے پاس کوئی مکتوب بھیجتے تو اس کو آپ کی خدمت میں ہی پڑھتا۔ (ترمذی ) تشریح سریانی دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک زبان ہے جس میں تورات نازل ہوئی تھی لیکن اکثر محققین کا قول یہ ہے کہ تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی اور سریانی اور عبرانی زبان دونوں ملتی جلتی ہیں۔ مجھے یہودیوں پر اطمینان نہیں ہوتا کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں ہے جو یہودیوں کی زبان جانتا ہو اس لئے یہودیوں کے ساتھ خط و کتابت کے لئے مجھے کسی یہودی ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اس صورت میں مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر یہودیوں کے نام اپنا کوئی خط کسی یہودی سے لکھواؤں تو وہ اس میں اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی نہ کر دے، اسی طرح اگر یہودیوں کی طرف سے میرے پاس کوئی خط آئے اور میں اس کو کسی یہودی سے پڑھواؤں تو وہ اس میں اپنی طرف سے کم یا زیادہ کر کے نہ پڑھ دے اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے تحت غیر مسلم اقوام کی زبان سیکھنا جائز ہے بلاضرورت سیکھنا جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں غیر مسلم کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا لازم آتا ہے اور یہ چیز ممنوع ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت (من تشبہ بقوم فھو منھم)۔ جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی قوم میں شمار ہوگا بلکہ یحییٰ نے بلاضرورت سیکھنے کو حرام لکھا ہے۔

4559Mishkaat-al-Masabih

ملاقات کے وقت بھی سلام کرو اور رخصت ہوتے وقت بھی

وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم فإن بدا له أن يجلس فليجلس ثم إذا قام فليسلم فليست الأولى بأحق من الآخرة رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو پہلے سلام کرے اور پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے، نیز جب (مجلس سے چلنے کے لئے) کھڑا ہو تو اس وقت بھی سلام کرے کیونکہ پہلا سلام کرنا دوسرا سلام کرنے سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ تشریح جب کھڑا ہو کا مطلب یہ ہے کہ مجلس میں بیٹھنے کے بعد جب وہاں سے واپس ہونے کے لئے کھڑا ہو اور زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہاں سے چلنے کا ارادہ کرے خواہ مجلس میں بیٹھا ہو یا نہ بیٹھا ہو بہرحال حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رخصت ہوتے وقت بھی سلام کرنا سنت ہے جیسا کہ ملاقات کے وقت کا سلام سنت ہے اسی طرح ان دونوں ہی سلام کا جواب دینا واجب ہے لیکن بعض محققین نے لکھا ہے کہ رخصت ہوتے وقت کا سلام اور اس کا جواب مستحب ہے۔

4560Mishkaat-al-Masabih

راستہ پر بیٹھنے کا حق

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا خير في جلوس في الطرقات إلا لمن هدى السبيل ورد التحية وغض البصر وأعان على الحمولة رواه في شرح السنة . وذكر حديث أبي جري في باب فضل الصدقة .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا راستوں پر بیٹھنا کوئی اچھا کام نہیں ہے ہاں جو شخص راستہ بھولے ہوئے یا اندھے کو راستہ بتلائے سلام کا جواب دے، حرام چیزوں کو دیکھنے سے آنکھوں کو بند رکھے اور اس شخص کی مدد کرے جو بوجھ لادے ہوئے ہو تو ایسے شخص کا راستہ پر بیٹھنا گوارا ہے۔ (شرح السنۃ) تشریح حمولہ حاء کے پیش کے ساتھ ہے لیکن مشکوۃ کے ایک نسخہ میں یہ لفظ حاء کے زبر کے ساتھ منقول ہے شارحین نے لکھا ہے کہ حمولہ حا کے زبر کے ساتھ اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس پر بوجھ لادا جاتا ہے اس شخص کی مدد کرے جو بوجھ لادے ہوئے ہو کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بار برداری کے جانور کی پیٹھ پر لادنے کے لئے یا خود اپنے سر پر یا اپنی پیٹھ پر رکھنے کے لئے کوئی بوجھ اٹھانا چاہتا ہو تو اس بوجھ کے اٹھانے سے اس کی مدد کرے۔

4561Mishkaat-al-Masabih

سلام کی ابتداء حضرت آدم سے

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خلق الله آدم ونفخ فيه الروح عطس فقال الحمد لله فحمد الله بإذنه فقال له ربه يرحمك الله يا آدم اذهب إلى أولئك الملائكة إلى ملأ منهم جلوس فقل السلام عليكم . فقال السلام عليكم . قالوا عليك السلام ورحمة الله . ثم رجع إلى ربه فقال إن هذه تحيتك وتحية بنيك بينهم . فقال له الله ويداه مقبوضتان اختر أيتهما شئت ؟ فقال اخترت يمين ربي وكلتا يدي ربي يمين مباركة ثم بسطها فإذا فيها آدم وذريته فقال أي رب ما هؤلاء ؟ قال هؤلاء ذريتك فإذا كل إنسان مكتوب عمره بين عينيه فإذا فيهم رجل أضوؤهم أو من أضوئهم قال يا رب من هذا ؟ قال هذا ابنك داود وقد كتبت له عمره أربعين سنة . قال يا رب زد في عمره . قال ذلك الذي كتبت له . قال أي رب فإني قد جعلت له من عمري ستين سنة . قال أنت وذاك . قال ثم سكن الجنة ما شاء الله ثم أهبط منها وكان آدم يعد لنفسه فأتاه ملك الموت فقال له آدم قد عجلت قد كتب لي ألف سنة . قال بلى ولكنك جعلت لابنك داود ستين سنة فجحد فجحدت ذريته ونسي فنسيت ذريته قال فمن يؤمئذ أمر بالكتاب والشهود رواه الترمذي .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بنایا اور ان کے جسم میں روح پھونکی تو ان کو چھینک آئی انہوں نے الحمدللہ کہا اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق و اجازت سے اللہ کی حمد کی اللہ نے ان کی حمد کے جواب میں فرمایا یرحمک اللہ یعنی تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ اور پھر فرمایا آدم فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ جو وہاں بیٹھی ہوئی ہے اور کہو کہ السلام علیکم (چنانچہ حضرت آدم (علیہ السلام) ان فرشتوں کی جماعت کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا) فرشتوں نے جواب میں کہا کہ علیک السلام ورحمۃ اللہ۔ اس کے بعد حضرت آدم اپنے پروردگار کے پاس آئے یعنی اس جگہ لوٹ کر آئے جہاں پروردگار نے ان سے کلام کیا تھا اللہ نے ان سے یہ فرمایا (یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ) تمہاری اور تمہاری اولاد کی دعا ہے جو آپس میں ایک دوسرے کو دیں گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے کہ ان دونوں ہاتھوں میں سے جس کو چاہو پسند کرلو۔ حضرت آدم نے کہا کہ میں نے اپنے پروردگار کے داہنے ہاتھ کو پسند کرلیا۔ اور میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ داہنے برکت ہیں اللہ نے اس ہاتھ کو کھولا تو حضرت آدم نے کیا دیکھا کہ اس میں آدم اور آدم کی اولاد کی صورتیں دیکھیں انہوں نے پوچھا کہ پروردگار یہ کون ہیں؟ پروردگار نے فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے حضرت آدم نے یہ بھی دیکھا کہ ہر مسلمان کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی ہے پھر ان کی نظر ایک ایسے انسان پر پڑی جو سب سے زیادہ روشن تھا جو ان کے روشن ترین لوگوں میں سے ایک تھا حضرت آدم نے اس انسان کو دیکھ کر پوچھا کہ میرے پروردگار یہ کون ہے؟ پروردگار نے فرمایا یہ تمہارا بیٹا داؤد ہے اور میں اس کی عمر چالیس سال لکھی ہے حضرت آدم نے کہا کہ پروردگار اس کی عمر کچھ اور بڑھا دے پروردگار نے فرمایا یہ وہ چیز ہے جس کو میں اس کے حق میں لکھ چکا ہوں حضرت آدم نے کہا کہ پروردگار اگر اس کی عمر لکھی جا چکی ہے تو میں اپنی عمر سے ساٹھ سال اس کو دیتا ہوں پروردگار نے فرمایا تم جانو اور تمہارا کام جانے یعنی اس معاملہ میں تم مختار ہو۔ رسول اکرم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت آدم جنت میں رہے جب تک کہ اللہ نے چاہا اور پھر ان کو جنت سے زمین پر اتارا گیا اور حضرت آدم برابر اپنی عمر کے سالوں کو گنتے رہے یہاں تک کہ ان کی عمر نو سو چالیس سال ہوئی تو موت کا فرشتہ روح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس آیا حضرت آدم نے ان سے کہا کہ تم نے جلدی کی میری عمر تو ایک ہزار سال مقرر کی گئی ہے فرشتے نے کہا کہ یہ صحیح ہے لیکن آپ نے اپنی عمر کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داؤد کو دیئے ہیں حضرت آدم نے اس سے انکار کیا اور ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے نیز حضرت آدم اس ممانعت کو بھول گئے تھے جو حق تعالیٰ کی طرف سے مشہور درخت کا پھل کھانے سے متعلق تھی اور ان کی اولاد بھی بھولی تھی آنحضرت نے فرمایا اس دن سے لکھنے اور گواہ بنانے کا حکم دیا گیا۔ (ترمذی) تشریح درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے ان الفاظ سے اس ہیبت کذائی کو بیان کرنا مقصود ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنے ہاتھوں میں کوئی چیز بند کر کے اس کو چھپا لیتا ہے۔ اور میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ داہنے بابرکت ہیں، یہ جملہ یا تو حضرت آدم نے فرمایا تھا جس کو نبی کریم ﷺ نے نقل کی یا نبی اکرم ﷺ کا اپنا کلام ہے بہر صورت حق تعالیٰ کی طرف ہاتھ اور داہنے ہاتھ کی نسبت کرنا متشابہات میں سے ہے البتہ علماء نے ان الفاظ کے کئی معنی اور تاویلات بیان کی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ید ہاتھ کی صفت تو ثابت ہے لیکن ظاہری و جسمانی ہاتھ ثابت نہیں ہے لہذا مذکورہ عبارت جسمانی ہاتھ کی نفی کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ اللہ کے لئے جسمانی ہاتھ ثابت نہیں ہے لہذا مذکورہ عبارت جسمانی ہاتھ کی نفی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حق تعالیٰ کے لئے جسمانی ہاتھ ثابت ہوتے تو یمین و شمال دایاں اور بایاں بھی ہوتا اور دونوں ہاتھ داہنے بابرکت ہیں سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہاں خیر و برکت کا وجود مراد ہے جو ید یمین داہنے ہاتھ اور لفظ یمین کے مادہ اشتقاق یمن معنی برکت کا تقاضا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح قوت اور گرفت میں مخلوقات کا بایاں ہاتھ کمزور اور ناقص ہوتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ اس کے دونوں ہاتھ یکسان زور و قوت رکھتے ہیں اس اعتبار سے اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہوئے یہ بات اس طرح گویا سمجھانے کے لئے بیان کی گئی ہے ورنہ اس عبارت کی اصل مراد یہ بیان کرنا ہے کہ حق تعالیٰ کی کسی صفت میں کسی طرح کی کوئی کمزوری اور نقص نہیں اور اس کی تمام صفات کامل ہیں۔ اور تیسرے یہ کہ ان الفاظ کا مقصد حق تعالیٰ کے جو دو کرم اور احسان و انعام کی صفت کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کرنا ہے چناچہ اہل عرب جب کسی ایسے شخص کی توصیف کرنا چاہتے تو بہت زیادہ نفع پہنچانے والا ہوتا تو اس کے حق میں یہ کہتے کہ کلتا یدیہ یمین یعنی اس شخص کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ جو سب سے زیادہ روشن تھا اس عبارت سے ذہن میں ایک خلجان پیدا ہوتا ہے اور یہ کہ اس سے تمام انبیاء پر حضرت داؤد کی فضیلت لازم آتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس موقع پر حق تعالیٰ نے حضرت آدم کے سامنے حضرت داؤد کو ایک طرح کی امتیازی شکل و صورت میں ظاہر کیا تاکہ اس کی وجہ سے حضرت آدم ان کے بارے میں سوال کریں اور اس سوال پر وہ صورت حال مرتب ہو جو آگے پیش آئی یعنی حضرت آدم کا حضرت داؤد کو اپنی عمر میں سے ساٹھ سال دینا اور پھر ملک الموت کے آنے پر اس سے انکار کرنا اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ حضرت داؤد کے روشن ترین ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تمام صفات کمالیہ میں سب سے ترجیح رکھتے تھے لہذا ہوسکتا ہے کہ مذکورہ بالا مصلحت کے پیش نظر اس عالم میں حق تعالیٰ نے حضرت داؤد کی شکل و صورت میں ایک طرح کی خاص نوانیت ودیعت فرمائی ہو اور بلکہ وہ اس عالم میں بھی اس نورانیت سے متصف رہے ہوں، چناچہ پیغمبروں میں سے ہر ایک نبی کسی نہ کسی خاص صفت سے موصوف رہا ہے اور اس صفت میں ان کو امتیازی حثییت و خصوصیت حاصل رہی ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ محض اس خاص صفت کی بناء اس نبی کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت و فوقیت کا درجہ حاصل ہو۔ میری عمر تو ایک ہزار سال مقرر کی گئی ہے ظاہر ہے کہ حضرت آدم نے یہ بات بالکل صحیح کہی تھی کیونکہ واقعۃ حق تعالیٰ نے ان کی عمر ایک ہزار سال مقرر کی تھی البتہ اس بات کے ضمن میں ان کا مذکورہ انکار پوشیدہ تھا انہوں نے صریحا یہ بات نہیں کہی کہ میں نے اپنی عمر سے داؤد کو کچھ نہیں دیا ہے اور صریحا انکار ممکن بھی نہیں تھا کیوں کہ انبیاء کی زبان سے کوئی جھوٹ قصدا اور صریحا صادر نہیں ہوتا لہذا کہا جائے گا کہ حضرت آدم کا یہ انکار بطور تعریض تھا جیسا کہ اس طرح کی بعض صورتیں دیگر انبیاء سے بھی صادر ہوتی ہیں یا یہ کہا جائے کہ حضرت آدم کا مذکورہ بطریق نسیان تھا یعنی انہیں یہ یاد نہیں رہا تھا کہ وہ اپنی عمر میں سے ساٹھ سال داؤد کو دے چکے ہیں اس لئے انہوں نے ملک الموت کے سامنے سے اس کا انکار کردیا۔

4562Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کو سلام کرنا آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص طور پر جائز تھا۔

وعن أسماء بنت يزيد قالت مر علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في نسوة فسلم علينا . رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي .

اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ ہم عورتوں کے پاس سے گزرے جب کہ ہم کچھ عورتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں تو آپ نے ہمیں یعنی وہاں موجود تمام عورتوں کو سلام کیا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی ) تشریح عورتوں کو سلام کرنے کی اجازت آنحضرت کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص تھی، کسی دوسرے مسلمان کے لئے جائز نہ تھی اور نہیں ہے کہ وہ اجنبی عورتوں کو سلام کرے جیسا کہ دوسری فصل کی حدیث کے ضمن میں بیان کیا جا چکا ہے۔

4563Mishkaat-al-Masabih

سلام کی فضیلت

وعن الطفيل بن أبي بن كعب أنه كان يأتي ابن عمر فيغدو معه إلى السوق . قال فإذا غدونا إلى السوق لم يمر عبد الله بن عمر على سقاط ولا على صاحب بيعة ولا مسكين ولا أحد إلا سلم عليه . قال الطفيل فجئت عبد الله بن عمر يوما فاستتبعني إلى السوق فقلت له وما تصنع في السوق وأنت لا تقف على البيع ولا تسأل عن السلع وتسوم بها ولا تجلس في مجالس السوق فاجلس بنا ههنا نتحدث . قال فقال عبد الله بن عمر يا أبا بطن قال وكان الطفيل ذا بطن إنما نغدو من أجل السلام نسلم على من لقيناه . رواه مالك والبيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت طفیل بن ابی ابن کعب سے روایت ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور پھر صبح کے وقت ان کے ساتھ بازار جایا کرتے تھے۔ حضرت طفیل کہتے ہیں کہ جب ہم صبح کے وقت بازار میں جاتے تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جس بساطی جس بیچنے والے جس مسکین اور جس کسی شخص کے پاس سے بھی گزرتے اس کو سلام کرتے حضرت طفیل کہتے ہیں کہ ایک دن معمول کے مطابق میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا اور وہ مجھ کو اپنے ہمراہ بازار لے جانے لگے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ بازار جا کر کیا کریں گے آپ نہ تو کسی خریدو فروخت کی جگہ ٹھہرتے ہیں اور نہ کسی بیچی جانے والی چیز کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ نہ تو مول تول اور کوئی سودا کرتے ہیں اور نہ بازار کی کسی مجلس میں شریک ہوتے ہیں لہذا بازار جانے سے اچھا تو یہی ہے کہ آپ ہمارے ساتھ یہیں بیٹھتے تاکہ کچھ باتیں ہی کریں حضرت طفیل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ اے بڑے پیٹ والے راوی کا بیان ہے کہ طفیل کا پیٹ بڑا تھا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم خریدو فروخت کرنے یا کسی اور غرض سے بازار جایا کرتے ہیں نہیں بلکہ ہم صرف سلام کرنے کی غرض سے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو سلام کرتے ہیں جو ہم کو ملتا ہے اور اس طرح ہم بازار جا کر ثواب حاصل کرتے ہیں۔ (مالک، بہیقی)

4564Mishkaat-al-Masabih

سلام نہ کرنا بخل ہے

وعن جابر قال أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال لفلان في حائطي عذق وإنه آذاني مكان عذقه فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم أن بعني عذقك قال لا . قال فهب لي . قال لا . قال فبعنيه بعذق في الجنة ؟ فقال لا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيت الذي هو أبخل منك إلا الذي يبخل بالسلام . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے باغ میں فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے اور صورت حال یہ ہے کہ وہاں اس درخت کے ہونے سے مجھے تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ وہ شخص اپنے اس درخت کی وجہ سے وقت بےوقت میرے باغ میں آتا جاتا ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے کسی کو اس شخص کے پاس بھیجا تاکہ اس کو بلائے جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنا کھجور کا درخت میرے ہاتھ فروخت کردو، اس نے کہا کہ میں فروخت نہیں کرتا، آپ نے فرمایا کہ اگر اس درخت کو بیچنے میں تمہیں کوئی عار محسوس ہوتا ہے تو اس کو میرے نام ہبہ کردو۔ اس نے کہا میں ہبہ بھی نہیں کرتا آپ نے فرمایا اچھا اس درخت کو تم میرے ہاتھ کھجور کے ایسے درخت کے عوض فروخت کردو جو تمہیں جنت میں ملے اس نے کہا میں اس طرح بھی فروخت نہیں کرتا آپ نے فرمایا میں نے تم سے بڑا بخیل کسی شخص کو نہیں دیکھا علاوہ اس شخص کے جو سلام کرنے میں بخل کرتا یعنی سلام کے معاملہ میں کوتاہی کرنے والا شخص تم سے بھی بڑا بخیل ہے کہ وہ اتنا ذرا سا کام کر کے بھی زیادہ ثواب حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ (احمد، بہیقی ) تشریح علماء نے لکھا ہے کہ نبی نے اس شخص سے جو کچھ فرمایا بطریق شفارش تھا حکم کے طور پر نہیں تھا اگر آپ حکم کے طور پر فرماتے تو وہ انکار کرنے کی ہرگز جرات نہ کرتا کیونکہ وہ بہرحال مسلمان تھا اور مسلمان ہونے کی حثییت سے وہ نبی ﷺ کے کسی حکم سے برملا انکار کسی صورت میں نہیں کرسکتا تھا، ہاں اگر وہ مسلمان نہ ہوتا تو حکم نبوی سے اس کا انکار کرنا کوئی تعجب خیز نہ ہوتا لیکن نبی ﷺ کا یہ فرمانا کہ تم اس درخت کو جنت کے کھجور کے درخت کے بدلے میرے ہاتھ فروخت کردو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یقینا مسلمان تھا تاہم سختی طبع سے خالی نہیں تھا۔