وعن عبدالله عن النبي صلى الله عليه وسلم قال البادئ بالسلام بريء من الكبر . رواه البيهقي في شعب الإيمان .
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب کہیں آتے جاتے وہ شخص آپس میں ملیں اور دونوں کی حثییت یکساں نوعیت کی ہو جیسے دونوں پیدل ہوں یا دونوں سوار ہوں تو ان میں سے جو شخص پہلے سلام کرے گا وہ گویا یہ ظاہر کرے گا کہ اللہ نے اس کو تکبر و غرور سے پاک رکھا ہے۔ یہ بات پہلے بھی بیان کی جا چکی ہے کہ سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا فرض ہے اگر کوئی شخص مجلس میں آئے اور وہاں سلام کرے تو مجلس والوں پر اس کے سلام کا جواب دینا فرض ہوگا۔ اور اگر وہ شخص دوبارہ اسی مجلس میں آئے اور پھر سلام کرے تو اب اس کے سلام کا جواب دینا ان پر فرض نہیں ہوگا البتہ مستحب ہوگا۔ سلام اور اس کا جواب، دونوں کے الفاظ بصیغہ جمع ہونے چاہئیں اگرچہ مخاطب فرد واحد ہو تاکہ ملائکہ جو ہر شخص کے ساتھ ہوتے ہیں سلام میں مخاطب کے ساتھ وہ بھی شریک ہوں۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک شخص سرخ کپڑے پہنے ہوئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص سلام کرتے وقت کسی نامشروع امر کا مرتکب ہو وہ سلام کے جواب کا مستحق نہیں ہوگا۔
اے ایمان والو اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ گھر والوں سے اجازت حاصل نہ کرلو اور ان کو سلام نہ کرلو۔ اس بارے میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر اہل خانہ کو مخاطب کر کے یوں کہا جائے کہ السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں۔
دروازے پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ سلام کرنے کے بعد بھی گھر میں سے جواب نہ ملے تو واپس ہوجاؤ۔
عن أبي سعيد الخدري قال أتانا أبو موسى قال إن عمر أرسل إلي أن آتيه فأتيت بابه فسلمت ثلاثا فلم يرد علي فرجعت . فقال ما منعك أن تأتينا ؟ فقلت إني أتيت فسلمت على بابك ثلاثا فلم ترد علي فرجعت وقد قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع . فقال عمر أقم عليه البينة . قال أبو سعيد فقمت معه فذهبت إلى عمر فشهدت .
حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوموسی اشعری ؓ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضرت عمر ؓ نے میرے پاس ایک شخص کو بھیج کر مجھے بلا بھیجا ہے جب میں حسب طلب ان کے دروازے پر پہنچا اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کے لئے تین مرتبہ سلام کیا تو مجھ کو سلام کا جواب نہیں ملا چناچہ میں واپس چلا آیا پھر بعد میں ملاقات ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا کہ میرے پاس آنے سے تمہیں کس چیز نے روکا تھا میں نے کہا کہ میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ کے دروازے پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ سلام کیا لیکن آپ نے اس کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی آپ کے کسی خادم ہی نے جواب دیا لہذا میں واپس آگیا کیوں کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اس کو اجازت نہ ملے تو چاہیے کہ واپس چلا جائے حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس حدیث کے گواہ لاؤ یعنی اس حدیث کے صحیح ہونے پر گواہ پیش کرو کہ یہ نبی کا ارشاد گرامی ہے حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوموسی اشعری ؓ کے ساتھ چلنے کے لئے کھڑا ہوا اور حضرت عمر ؓ کے پاس جا کر گواہی دی۔
تشریح
حضرت ابوموسی ؓ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ کے سامنے مذکورہ واقعہ بیان کیا اور کہا کہ یہ حدیث چونکہ آپ نے بھی نبی ﷺ سے سنی ہے اس لئے میرے ساتھ حضرت عمر ؓ کے پاس چلیے اور ان کے سامنے گواہی دیجیے چناچہ حضرت ابوسعید خدری ؓ ان کے ساتھ حضرت عمر ؓ کے پاس گئے اور یہ گواہی دی کہ حضرت ابوموسی ؓ نے جو حدیث بیان کی ہے وہ بالکل درست ہے۔ حضرت عمر ؓ کا گواہ طلب کرنا محض احتیاط کے طور پر تھا کہ دوسرے لوگوں کو حدیث بیان کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے اور خاص طور پر وہ جھوٹے لوگ جو من گھڑ حدیثیں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا چاہیں ان کو اس بات کی جرات نہ ہو سکے ورنہ متفقہ طور پر یہ بات ہے کہ خبر واحد مقبول ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کہ راوی حضرت موسیٰ اشعری ؓ جیسا صحابی ہو جو کبار صحابہ میں سے ہیں۔ دروازے پر کھڑے ہو کر تین بار سلام اس لئے کرنا چاہیے کہ ایک سلام تو تعرف کے لئے ہوگا دوسرا سلام تامل کے لئے اور تیسرا سلام اجازت کے لئے ہوگا یعنی اہل خانہ پہلا سلام سن کر اس شخص کو پہچانیں گے کہ یہ کون شخص ہے اور دوسرا سلام سن کر وہ یہ سوچیں گے کہ آیا اس شخص کو اندر آنے کی اجازت دی جائے یا نہیں اور تیسرا سلام سننے کے بعد اندر آنے کی اجازت دیں گے۔
وعن عبد الله بن مسعود قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم إذنك علي أن ترفع الحجاب وأن تسمع سوادي حتى أنهاك . ( متفق عليه )
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میری طرف سے تمہیں یہ اجازت ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ اور میری باتیں سنو تاآنکہ میں تمہیں منع نہ کروں۔ (مسلم )
تشریح
نبی اکرم ﷺ کے آستانہ اقدس کے دروازے پر جو پردے پڑے ہوئے تھے وہ بوریے کے تھے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو نبی ﷺ کے گھر کے اندر آنے کی مخصوص اجازت حاصل تھی وہ دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت حاصل کرنے کے پابند نہیں تھے، چناچہ آپ نے ان سے فرما دیا کہ میرے پاس تمہارے آنے کی اجازت کی علامت بس یہی ہے کہ تم پردہ اٹھا کر دیکھو اگر میں سامنے موجود ہوں یا تمہیں یہ معلوم ہو کہ میں ہوں تو اندر چلے آؤ خواہ میں مخصوص لوگوں سے خفیہ بات ہی کیوں نہ کر رہا ہوں تمہیں اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہاں البتہ اگر کسی وقت میں تمہارا اند آنا مناسب نہیں سمجھوں گا اس وقت تمہیں اندر آنے سے منع کر دوں گا اس سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مرتبہ کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نگاہ نبوت میں کس قدر محبوبیت حاصل تھی اور ان پر نبی اکرم ﷺ کی کتنی زیادہ رعایت تھی آپ نے ان کو اپنا اتنا مقرب قرار دیا کہ گویا وہ گھر ہی کے ایک فرد ہوگئے تھے اور جب چاہتے گھر میں چلے آتے۔ لیکن واضح رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ مخصوص اجازت اس صورت سے متعلق تھی جب کہ حجرہ مبارکہ میں عورتوں کے آنے کا وقت نہیں رہتا تھا یا گھر میں عورتیں موجود نہیں ہوتی تھیں، خاص طور سے پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد تو یہ قید ضرور عائد ہوئی ہوگی۔
کسی دروازے پر پہنچ کر اپنی آمد کی اطلاع کرو تو نام بتاؤ۔
وعن جابر قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في دين كان على أبي فدققت الباب فقال من ذا ؟ فقلت أنا . فقال أنا أنا . كأنه كرهها .
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں ایک قرض کے معاملہ میں جو میرے باپ پر تھا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لئے دروازے کو کھٹکھٹایا، آپ نے اندر سے پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا میں ہوں، آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں ہوں، میں ہوں، گویا آپ نے میرے اس طرح جواب دینے کو برا سمجھا۔ (بخاری، مسلم)
تشریح
قرض کا وہ معاملہ جس سلسلے میں حضرت جابر ؓ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے یہ تھا کہ ان کے والد حضرت عبداللہ انصاری ؓ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے اور اپنے ذمہ کچھ قرض چھوڑ گئے تھے، جب قرض خواہوں نے حضرت جابر ؓ سے اس قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا اور ان کو تنگ کرنا شروع کردیا تو وہ مدد چاہنے کے لئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس قرض کی ادائیگی کا کوئی انتظام ہو اور قرض خواہوں سے نجات مل جائے اس وقت حضرت جابر ؓ کی ملکیت میں تھوڑی سی کھجوروں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا لیکن اس موقع پر نبی ﷺ کا معجزہ ظاہر ہوا کہ ان کھجوروں میں برکت ہوئی اور اتنی برکت ہوئی کہ حضرت جابر ؓ نے ان کھجوروں سے پورا قرض ادا کردیا اور اس کے بعد بھی وہ جوں کی توں باقی رہیں ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ میں ہوں کہنے کو آنحضرت ﷺ نے اس لئے برا سمجھا کہ اس جملہ کے ذریعہ ابہام کا ازالہ نہیں ہوتا اور صاحب خانہ پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ کون شخص ہے گویا یہ کہنے سے اس صورت میں صاحب خانہ کا یہ سوال کہ کون ہے جوں کا توں باقی رہتا ہے لہذا حضرت جابر ؓ کو چاہیے تھا کہ وہ نام لقب، یا کنیت بتاتے تاکہ یہ معلوم ہوجاتا کہ باہر دروازے پر کون شخص ہے اگرچہ بعض اوقات محض آواز پہچان لینے سے بھی شخصیت واضح ہوجاتی ہے خاص طور سے اس صورت میں جب کہ میں ہوں کہنے والا شخص ایسا ہو جس کے ساتھ ہر وقت اٹھنا بیٹھنا ہو یا اس سے راہ و رسم ہو، چناچہ ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے میں ہوں کی آواز سے حضرت جابر ؓ کی آواز کو پہچان لیا ہوگا مگر اس کے باوجود آپ نے اپنی ناگواری کا اظہار حضرت جابر ؓ کو اس ادب کی تعلیم کے طور پر کیا کہ کسی کے دروازے پر پہنچ کر اپنی آمد کی اطلاع دو صاف طرح سے اپنا نام بتاؤ محض یہ کہنے پر اکتفا نہ کرو کہ میں ہوں۔ یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جابر ؓ کے اس طرح کہنے کو اس لئے برا سمجھا کہ انہوں نے سلام کرنے کے ذریعہ اجازت حاصل کرنے کے طریقہ کو ترک کیا جو مسنون ہے۔ آنحضرت کا میں ہوں، میں ہوں، دو بار کہنا حضرت جابر ؓ کے اس جواب کو قبول کرنے سے انکار کے طور پر تھا اور اس کا مفہوم گویا یوں تھا کہ میں ہوں میں ہوں کیا کہتے ہو، اپنا نام کیوں نہیں بتاتے۔
بلانے والے کے دروازے پر بھی رک کر اندر آنے کی اجازت مانگنی چاہیے۔
وعن أبي هريرة قال دخلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد لبنا في قدح . فقال أبا هر الحق بأهل الصفة فادعهم إلي فأتيتهم فدعوتهم فأقبلوا فاستأذنوا فأذن لهم فدخلوا .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو آپ نے گھر میں ایک دودھ کا پیالہ رکھا ہوا پایا آپ نے مجھ سے فرمایا کہ ابوہریرہ ؓ اہل صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا لاؤ چناچہ میں ان کے پاس جا کر ان کو بلا لایا جب وہ لوگ آئے تو دروازے پر رک کر اندر آنے کی اجازت چاہی آپ نے ان کو اجازت دی تو وہ اندر آگئے۔ (بخاری، مسلم)
تشریح
ایک دوسری حدیث میں یہ بھی منقول ہے کہ اہل صفہ اندر آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے دودھ کا وہ پیالہ پیش کیا اور آپ کے معجزہ کے سبب سے ان سب نے اس پیالہ کے دودھ کو خوب سیر ہو کر پیا۔ واضح رہے کہ اہل صفہ ان صحابہ کی جماعت کو کہا جاتا تھا جو مدینہ میں نہ تو گھر بار رکھتی تھی اور نہ کوئی سلسلہ معاش بلکہ اپنے فقر و افلاس کے ساتھ مسجد نبوی کے باہر ایک چبوترہ پر جمع رہتی تھی اور ہمہ وقت آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر رہ کر اکتساب فیض کرتی تھی ان صحابہ کا تعلق انصار سے بھی تھا اور مہاجرین سے بھی یوں تو مدینہ کے عام مسلمان اپنی حثییت و استطاعت کے مطابق ان کے کھانے پینے کا انتظام کرتے رہتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ بذات خود اکثر و پیشتر ان سب کو اپنے پاس سے کھلاتے پلاتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کو بلانا، اجازت حاصل کرنے کو ساقط نہیں کرتا یعنی اگر کوئی شخص کسی کے بلانے پر اس کے گھر جائے تو اس کو بھی چاہیے کہ وہ دروازہ پر آ کر پہلے اجازت طلب کرے اور پھر گھر اندر جائے الاّ یہ کہ بلانے اور آنے میں زیادہ وقت کا فرق نہ ہو۔ آگے حدیث آرہی ہے جس میں فرمایا گیا کہ جب تم میں سے کسی شخص کو بلایا جائے اور وہ شخص اس کے ہمراہ آجائے جو بلانے گیا تھا تو اس کے ساتھ آنا ہی اس کے لئے اجازت ہے یعنی اس کو اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے چونکہ بظاہر یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث میں مطابقت نہیں رکھتی اس لئے ان دونوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء نے لکھا ہے کہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ بلا کر لانے والے ساتھ آنے کی صورت میں اجازت ہے یعنی اس کو اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے چونکہ بظاہر یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث سے مطابقت نہیں رکھتی اس لئے ان دونوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء نے لکھا ہے کہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ بلا کر لانے والے کے ساتھ آنے کی صورت میں اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی چناچہ اہل صفہ نے اسی لئے اجازت چاہی تھی کہ وہ لوگ حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ ہی چلے آتے تو ان کو اجازت حاصل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی یا یہ کہ وہ لوگ حضرت ابوہریرہ ؓ کے ہی ساتھ آئے تھے اس صورت میں ان کو اجازت حاصل کرنے کی ضرورت یا حاجت نہیں تھی لیکن چونکہ ان لوگوں پر ادب حیاء کا انتہائی غلبہ تھا اس لئے ان لوگوں نے اجازت حاصل کرنا ہی بہتر سمجھا یا ان لوگوں کو وہاں کوئی ایسی چیز محسوس ہوئی ہوگی جو اجازت حاصل کرنے کی مقتضی تھی یا یہ کہ ان لوگوں کو یہ حدیث ہی نہیں پہنچی ہوگی اس لئے انہوں نے اجازت حاصل کی۔ واللہ اعلم۔
اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں نہ جاؤ
عن كلدة بن حنبل أن صفوان بن أمية بعث بلبن أو جدابة وضغابيس إلى النبي صلى الله عليه وسلم والنبي صلى الله عليه وسلم بأعلى الوادي قال فدخلت عليه ولم أسلم ولم أستأذن فقال النبي صلى الله عليه وسلم ارجع فقل السلام عليكم أأدخل . رواه الترمذي وأبو داود .
حضرت کلدہ ابن حنبل ؓ کہتے ہیں کہ صفوان بن امیہ ؓ نے میرے ہاتھ رسول اکرم ﷺ کے لئے دودھ، ہرن کا بچہ اور ککڑی بھیجی اور اس وقت رسول اکرم ﷺ مکہ کے بالائی کنارہ پر جس کو معلی کہتے ہیں قیام پذیر تھے کلدہ کہتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں یونہی چلا گیا تو میں نے آپ کی قیام گاہ میں داخل ہونے سے پہلے سلام کیا اور نہ اندر آنے کی اجازت چاہی چناچہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرمایا واپس جاؤ یعنی یہاں سے نکل کر دروازہ پر جاؤ اور وہاں کھڑے ہو کر کہو السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں۔
بلا کر لانے والے کے ساتھ آنے کی صورت میں اجازت کی ضرورت نہیں۔
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا دعي أحدكم فجاء مع الرسول فإن ذلك إذن . رواه أبو داود . وفي رواية له قال رسول الرجل إلى الرجل إذنه .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو بلایا جائے اور وہ اسی کے ساتھ چلا آئے جو اس کو بلانے گیا ہے تو اس کے ساتھ آنا ہی اس کے لئے اجازت ہے۔ (ابوداؤد) اور ابوداؤد کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کسی شخص کا کسی شخص کو بلانے کے لئے آدمی بھیجنا ہی اس کی طرف سے اجازت ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا آدمی بھیج کر کسی کو اپنے گھر بلائے اور وہ بلا کر لانے والے ہی کے ساتھ چلا آئے تو اس صورت میں اس کو اس بات کی ضرورت نہیں ہوگی کہ وہ دروازہ پر کھڑے ہو کر پہلے اجازت مانگے اور پھر گھر میں داخل ہو۔
آنحضرت ﷺ کسی کے گھر جاتے تو اجازت مانگنے کے لئے دروازے پر کسی طرح کھڑے ہوتے۔
وعن عبد الله بن بسر قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتى باب قوم لم يستقبل الباب تلقاء وجهه ولكن من ركنه الأيمن أو الأيسر فيقول السلام عليكم السلام عليكم وذلك أن الدور لم يكن يومئذ عليها ستور . رواه أبو داود . وذكر حديث أنس قال عليه الصلاة والسلام السلام عليكم ورحمة الله في باب الضيافة
اور حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں رسول اکرم ﷺ جب کسی گھر جانے کے لئے اس کے دروازہ پر پہنچتے تو دروازہ کی طرف منہ کر کے کھڑے نہ ہوتے۔ بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے اور پھر اجازت مانگنے کے لئے فرماتے، السلام علیکم، السلام علیکم اور دروازہ کے سامنے نہ کھڑے ہونے کی وجہ یہ ہوا کرتی تھی کہ اس زمانہ میں دروازوں پر پردے نہ پڑے ہوئے تھے۔ اور انس ؓ کی یہ روایت قال (علیہ الصلوۃ والسلام) علیکم ورحمۃ اللہ باب الضیافۃ میں نقل کی جا چکی ہے۔
تشریح
ایک سے زائد بار سلام کرنے کی وجہ یہ تھی تاکہ صاحب خانہ اچھی طرح سن لے اور اجازت دے سکے واضح رہے کہ یہاں السلام علیکم جو دو بار ذکر کیا گیا ہے تو اسے تعداد مراد ہے دو بار پر اقتصار مراد نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ کسی کے دروازے پر کھڑے ہو کر تین بار سلام فرماتے تھے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ روایت کے آخری الفاظ دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہونے کی وجہ سے یہ سمجھا گیا ہے کہ اگر دروازے پر کواڑ ہوں یا اس پر پردے پڑے ہوئے ہوں تو اس صورت میں دروازے کے سامنے کھڑے ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن اصل سنت رعایت کے پیش نظر اولی یہی ہے کہ اس صورت میں بھی دروازے کے سامنے سے ہٹ کر دائیں یا بائیں طرف کھڑا ہو اور اس لئے بھی کہ بعض اوقات کواڑ یا پردہ کھولتے ہوئے دروازے کے سامنے کھڑے ہوئے شخص کی نظر اندر چلی جاتی ہے۔
اپنی ماں وغیرہ کے گھر میں بھی اجازت لے کر جاؤ۔
عن عطاء أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال استأذن على أمي ؟ فقال نعم فقال الرجل إني معها في البيت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم استأذن عليها فقال الرجل إني خادمها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم استأذن عليها أتحب أن تراها عريانة ؟ قال لا . قال فاستأذن عليها . رواه مالك مرسلا .
اور حضرت عطاء بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنی ماں کے پاس جانے میں بھی اجازت طلب کروں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ کیوں کہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت اس کے جسم کے اعضاء کھلے ہوئے ہوں جو بیٹے کو بھی دیکھنا جائز نہیں ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس کے ساتھ ہی رہتا ہوں (یعنی میں اور میری ماں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں اس صورت میں مجھے اجازت طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے گویا اس شخص نے گمان کیا کہ اجازت حاصل کرنا اسی شخص کے لئے مشروع ہے جو بیگانہ ہو اور کبھی کبھار آتا جاتا ہو تو اجازت حاصل کر کے جاؤ اس نے کہا کہ میں اپنی ماں کا خادم ہوں۔ آپ نے فرمایا بہر صورت اجازت حاصل کر کے اس کے پاس جاؤ اور فرمایا کیا تم پسند کرو گے کہ اپنی ماں کو برہنہ دیکھو یعنی تم اگر بغیر اجازت حاصل کئے اچانک اس کے پاس چلے جاؤ تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اس وقت وہ کسی وجہ سے برہنہ بیٹھی ہو اور تمہاری نظر اس پر پڑجائے۔ اس شخص نے کہا کہ ہرگز نہیں آپ نے فرمایا تو پھر اجازت حاصل کر کے اس کے پاس جایا کرو اس روایت کو امام مالک نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔
تشریح
اس سلسلے میں ماں ہی کے حکم میں دیگر محارم بھی ہیں خواہ ان سے نسبی تعلق ہو یا دودھ کا اور خواہ سسرالی، حاصل یہ ہے کہ جن عورتوں سے پردہ کرنا شرعی طور پر ضروری نہیں ہے اور جن کو محارم کہا جاتا ہے اگر ان کے پاس بھی جائے تو اجازت حاصل کئے بغیر نہ جانا چاہیے البتہ بیوی اس حکم سے مستثنی ہے۔
وعن علي رضي الله عنه قال كان لي من رسول الله صلى الله عليه وسلم مدخل بالليل ومدخل بالنهار فكنت إذا دخلت بالليل تنحنح لي . رواه النسائي .
اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے پاس رات کو بھی اور دن کو بھی آیا جایا کرتا تھا چناچہ جب میں رات کے وقت حاضر ہوتا تو آپ مجھے اجازت دینے کے لئے کنکھار دیتے تھے۔ (نسائی)
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ رات کے وقت اجازت دینے کی علامت کھنکارنا تھا رہی یہ بات کہ دن کے وقت حاضری کی صورت میں کون سی علامت مقرر تھی تو احتمال ہے کہ اس صورت کے لئے امربالعکس مراد ہو یعنی حضرت علی ؓ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رات کے وقت تو آنحضرت ﷺ کھنکارتے تھے جو میرے لئے اجازت کے مرادف ہوتا اور جب دن میں حاضر ہوتا تو خود کھنکار کر اندر جاتا تھا۔ اس حدیث سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کا کھنکارنا اجازت کی علامت تھا لیکن ایک دوسری روایت میں حضرت علی ؓ یہ فرماتے ہیں کہ جب میں رات کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ کھنکارتے تو میں واپس ہوجاتا اس لئے یہ واضح ہوتا ہے کہ کھنکارنا عدم اجازت کی علامت ہوتا ہے۔ لہذا بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھنکارنا صرف اجازت ہی کی علامت نہیں ہوتا بلکہ کوئی ایسا قرینہ ہوگا جس کے ذریعہ بعض اوقات تو کنکھارنا اجازت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور بعض اوقات اس کو عدم اجازت کی علامت سمجھتے ہوں گے لہذا وہ قرینہ جس صورت اجازت یا عدم اجازت کو ظاہر کرتا، حضرت علی ؓ اسی پر عمل کرتے۔
سلام نہ کرنے والے کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہ دو
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تأذنوا لمن لم يبدأ بالسلام رواه البيهقي في شعب الإيمان .
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص سلام سے پہل نہ کرے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہ دو۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس آنا چاہے لیکن وہ سلام کے ذریعہ اندر آنے کی اجازت طلب نہ کرے یا تمہارے پاس پہنچ کر تمہیں سلام نہ کرے تو اس کو اپنے پاس آنے یا اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت نہ دو بلکہ اس سے کہو کہ وہ دروازے پر واپس جا کر پہلے سلام کرے اور پھر اجازت پانے پر اندر آئے۔
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
مصافحہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے دست یکدیگر را گرفتن۔ دو آدمیوں کا باہم ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا۔ معانقہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے دست درگرون یکدیگر درآوردن۔ یعنی دو آدمیوں کا باہم ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالنا یا دو آدمیوں کا باہم ایک دوسرے کو سینے سے لگانا۔
مصافحہ اور معانقہ کے احکام
باہمی ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے نیز دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا چاہیے محض ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا غیر مسنون ہے کسی خاص موقع پر یا کسی خاص تقریب کے وقت مصافحہ ضروری سمجھنا غیر شرعی بات ہے چناچہ بعض مقامات پر جو یہ رواج ہے کہ کچھ لوگ عصر کی نماز یا جمعہ کے بعد ایک دوسرے کو مصافحہ کرتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور ہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ تخصیص وقت کے سبب اس طرح کا مصافحہ کرنا مکروہ ہے اور بدعت مذمومہ ہے ہاں اگر کوئی شخص مسجد میں آئے اور لوگ نماز میں مشغول ہوں یا نماز شروع کرنے والے ہوں اور وہ شخص نماز ہوجانے کے بعد ان لوگوں سے مصافحہ کرے تو یہ مصافحہ بلاشبہ مسنون مصافحہ ہے بشرطیکہ اس نے مصافحہ سے پہلے سلام بھی کیا ہو تاہم یہ واضح رہے کہ اگرچہ کسی متعین اور مکروہ وقت میں مصافحہ کرنا مکروہ ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وقت مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھائے تو اس کی طرف سے ہاتھ کھینچ لینا اور اس طرح بےاعتنائی برتنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس کی وجہ سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھانے والے شخص کو دکھ پہنچے گا اور کسی مسلمان کو دکھ نہ پہنچانا آداب کی رعایت سے زیادہ اہم ہے۔ جوان عورت سے مصافحہ کرنا حرام ہے اور اس بوڑھی عورت سے مصافحہ کرنے سے کوئی مضائقہ نہیں ہے جس کی طرف جنسی جذبات مائل نہ ہوسکتے ہوں چناچہ منقول ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اپنے دور خلافت میں ان بوڑھیوں سے مصافحہ کرتے تھے جن کا انہوں نے پیا تھا اسی طرح وہ بڈھا مرد جو جنسی جذبات کی فتنہ خیزیوں سے بےخوف ہوچکا ہو اس کو جوان عورت سے مصافحہ کرنا جائز ہے، عورت کی طرح خوش شکل مرد سے بھی مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جس کو دیکھنا حرام ہے اس کو چھونا بھی حرام ہے بلکہ چھونے کی حرمت دیکھنے کی حرمت سے زیادہ سخت ہے جیسا کہ مطالب المومنین میں مذکور ہے۔ صلوۃ مسعودی میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص سلام کرے تو اپنا ہاتھ بھی دے یعنی مصافحہ کے لئے ہاتھ دینا سنت ہے لیکن مصافحہ کا یہ طریقہ ملحوظ رہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھے محض انگلیوں کے سروں کو پکڑنے پر اکتفا نہ کرے کیوں کہ محض انگلیوں کے سروں کو پکڑنا مصافحہ کا ایسا طریقہ ہے جس کو بدعت کہا گیا ہے۔ معانقہ یعنی ایک دوسرے کو سینے سے لگانا مشروع ہے خاص طور سے اس وقت جب کہ کوئی شخص سفر سے آیا ہو جیسا کہ حضرت جعفر بن ابی طالب کی حدیث منقول ہے کہ لیکن اس کی اجازت اسی صورت میں ہے جب کہ اس کی وجہ سے کسی برائی میں مبتلا ہوجانے یا کسی شک وشبہ کے پیدا ہوجانے کا خوف نہ ہو۔ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے بارے میں منقول ہے کہ یہ دونوں حضرات معانقہ اور تقبیل یعنی ہاتھ کو منہ اور آنکھوں کے ذریعہ چومنے کی کراہت کے قائل ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ معانقہ کے بارے میں نہی (ممانعت) منقول ہے چناچہ فصل اول میں حضرت انس ؓ کی روایت سے یہ نہی ثابت ہوتی ہے یہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ جن روایتوں سے معانقہ کی اجازت ثابت ہوتی ہے ان کا تعلق اس زمانہ سے ہے جب کہ معانقہ کو ممنوع نہیں قرار دیا گیا تھا بہرحال اس سلسلے میں جو احادیث منقول ہیں اور جن کے درمیان بظاہر اختلاف نظر آتا ہے کہ بعض سے ممانعت کی اجازت ثابت ہوتی ہے اور بعض معانقہ کا تعلق محبت و اکرام کے جذبہ سے ہو وہ بلاشک و شبہ جائز ہے بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ معانقہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان جو اختلاف ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ جسم پر کپڑے نہ ہوں بدن پر قمیص و جبہ وغیرہ ہونے کی صورت میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ بالا اتفاق جائز ہے۔ تقبیل یعنی ہاتھ یا پیشانی وغیرہ چومنا بھی جائز ہے بلکہ بزرگان دین اور متبعین سنت علماء کے ہاتھ پر بوسہ دینے کو بعض حضرات نے مستحب کہا ہے لیکن مصافحہ کے بعد خود اپنا ہاتھ چومنا کچھ اصل نہیں رکھتا بلکہ یہ جاہلوں کا طریقہ ہے اور مکروہ ہے۔ امرائے سلطنت اور علماء مشائخ کے سامنے زمین بوسی کرنا حرام ہے زمین بوسی کرنے والا اس زمین بوسی پر راضی ہونے والا دونوں ہی گناہگار ہوتے ہیں۔ فقیہ ابوجعفر کہتے ہیں کہ سلطان و حاکم کے سامنے زمین بوسی اور سجدہ کرنے والا کافر ہوجاتا ہے بشرطیکہ اس کی زمین بوسی و سجدہ عبادت کی نیت نہ ہونے کی صورت میں بھی کافر ہوجاتا ہے واضح رہے کہ اکثر علماء کے نزدیک زمین بوسی کرنا، زمین پر ما تھا ٹیکنے یا ر خسارہ رکھنے سے ہلکا فعل ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ کسی عالم یا سلطان و حاکم کے ہاتھ کو چومنا ان کے علم و انصاف کی بناء پر اور دین کے اعزازو اکرام کے جذبہ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر ان کے ہاتھ چومنے کا تعلق کسی دنیاوی غرض و منفعت سے ہو تو سخت مکروہ ہوگا اگر کوئی شخص کسی عالم یا کسی بزرگ سے اس کا پیر چومنے کی درخواست کرے تو اس کو ہرگز نہیں ماننا چاہیے بچوں کو بوسہ سے پیار کرنے کی اجازت ہے اگرچہ غیر کا بچہ ہو بلکہ وہاں طفل پر بوسہ دینا مسنون ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جو بوسہ شرعی طور پر جائز ہے اس کی پانچ صورتیں ہیں ایک تو مودت و محبت کا بوسہ جیسے والدین کا اپنے بچہ کے رخسار کو چومنا، دوسرے احترام و اکرام اور رحمت کا بوسہ، جیسے اولاد کا اپنے والدین کے سر پر بوسہ دینا، تیسرے جنسی جذبات کے تحت بوسہ دینا جیسے شوہر کا بیوی کے چہرہ پر بوسہ لینا، چوتھے تحیۃ سلام کا بوسہ جیسے مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ہاتھ چومنا اور پانچویں وہ بوسہ جو بہن اپنے بھائی کی پیشانی کا لیتی ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھ اور چہرہ کا بوسہ دینا مکروہ ہے بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ چھوٹے بچے کا بوسہ لینا واجب ہے۔ امام نووی نے یہ لکھا ہے کہ شوہر بیوی کے علاوہ کسی اور جنسی جذبات کے تحت بوسہ لینا بالاتفاق حرام ہے خواہ وہ باپ ہو یا کوئی اور دوسرا۔
عن قتادة قال قلت لأنس أكانت المصافحة في أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال نعم . رواه البخاري . ( متفق عليه )
حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اکرم ﷺ کے صحابہ (باہمی ملاقات کے وقت سلام کے بعد مصافحہ کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں۔ (بخاری)
وعن أبي هريرة قال قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي وعنده الأقرع بن حابس . فقال الأقرع إن لي عشرة من الولد ما قبلت منهم أحدا فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال من لا يرحم لا يرحم متفق عليه . وحديث أبي هريرة أثم لكع في باب مناقب أهل بيت النبي صلى الله عليه وعليهم أجمعين إن شاء تعالى . وذكر حديث أم هانئ في باب الأمان
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے حسن بن علی ؓ کا بوسہ لیا تو ایک صحابی اقرع ابن حابس ؓ نے جو اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر تھے کہا کہ میرے دس بچے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کا کبھی بوسہ نہیں لیا۔ رسول اکرم ﷺ نے یہ سن کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا یعنی جو شخص اپنی اولاد یا مخلوق اللہ پر لطف و شفقت نہیں کرتا اس پر اللہ کی رحمت و شفقت نہیں ہوتی۔ (بخاری، مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت اثم لکع کو ہم انشاء اللہ مناقب اہل بیت نبی ﷺ وعلیھم اجمعین کے باب میں نقل کریں گے اور حضرت ام ہانی کی روایت باب الامان میں نقل کی جا چکی ہے۔
عن البراء بن عازب رضي الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان إلا غفر لهما قبل أن يتفرقا . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه . وفي رواية أبي داود قال إذا التقى المسلمان فتصافحا وحمدا الله واستغفراه غفر لهما . ( حسن أو صحيح )
حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان ملتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اللہ ان کو بخش دیتا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) اور ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان ملیں، ایک دوسرے سے مصافحہ کریں اللہ تعالیٰ کی حمد کریں اور بخشش چاہیں تو ان دونوں کو بخش دیا جاتا ہے۔
تشریح
حکیم ترمذی اور ابوالشیخ نے حضرت عمر ؓ سے بطریق مرفوع یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب دو مسلمان ملتے ہیں اور ان میں ایک اپنے دوسرے ساتھی کو سلام کرتا ہے تو ان میں سے وہ مسلمان اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے جو کشادہ پیشانی اور بشاشت کے ساتھ اپنے دوسرے ساتھی سے ملتا ہے اور پھر جب دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر سو رحمتیں نازل کرتا ہے نورے رحمتیں تو اس پر جس نے پہل کی اور دس رحمتیں اس پر جس سے مصافحہ کیا ہے۔
سلام کے وقت جھکنا ممنوع ہے۔
وعن أنس قال قال رجل يا رسول الله الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له ؟ قال لا . قال أفيلتزمه ويقبله ؟ قال لا . قال أفيأخذ بيده ويصافحه ؟ قال نعم . رواه الترمذي .
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی جب اپنے مسلمان بھائی یا اپنے دوست سے ملاقات کرے تو کیا وہ جھک جائے؟ آپ نے فرمایا نہیں اس شخص نے کہا کہ کیا اس سے گلے ملے اور اس کو بوسہ دے؟ آپ نے فرمایا نہیں اس نے کہا تو کیا اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس سے مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام کے وقت جھکنا، جیسا کہ کچھ لوگوں کا معمول ہے اور بعض جگہوں پر اس کا رواج ہے، خلاف سنت ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کو اس بنا پر ناپسند فرمایا کہ یہ چیز رکوع کے حکم میں ہے اور رکوع اللہ کی عبادت ہے۔ یحییٰ نے محی السنۃ سے نقل کیا ہے کہ سلام کے وقت پیٹھ جھکانا مکروہ ہے کیوں کہ اس کی ممانعت میں صحیح حدیث منقول ہے اور اگرچہ بعض اہل علم و صلاح نے اس کو اختیار کیا ہے لیکن ان کا فعل ہرگز قابل اعتبار و اعتماد نہیں ہے۔ مطالب المومنین میں حضرت شیخ ابومنصور ماتریدی سے نقل کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے سامنے زمین بوسی کرے یا اس کے آگے پیٹھ جھکائے تو اس کی وجہ سے کافر نہیں ہوگا البتہ گناہگار ہوگا کیونکہ کسی کے آگے زمین بوسی کرنا یا جھکنا تعظیم کی خاطر ہوتا ہے نہ کہ عبادت کی نیت سے ( اگر کوئی شخص عبادت کی نیت سے اس طرح کا فعل کرے گا تو وہ یقینا کافر ہوجائے گا)۔ بعض مشائخ نے اس فعل جھکنے کی ممانعت کو بڑی شدت اور سختی کے ساتھ بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ کاد الانحناء ان یکون کفرا یعنی جھکنا کفر کے نزدیک پہنچا دیتا ہے۔ جو حضرات معانقہ و تقبیل یعنی گلے لگانا اور ہاتھ وغیرہ چومنے کو مکروہ کہتے ہیں جیسا کہ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام محمد سے منقول ہے وہ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں تاہم جو حضرات ان چیزوں کی کراہت کے قائل نہیں ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ معانقہ و تقبیل مکروہ ہے جو تملق یعنی بیجا خوشامد اور تعظیم کے طور پر ہو یا جس معانقہ و تقبیل سے کسی برائی میں مبتلا ہوجانے یا شک و شبہ کے پیدا ہوجانے کو خوف ہو ورنہ اس صورت میں گلے لگنا اور ہاتھ وغیرہ چومنا جائز ہے جب کسی کو رخصت کیا جائے یا کوئی سفر سے آئے یا کسی سے بہت دنوں کے بعد ملاقات نصیب ہوئی ہو اور یا بوجہ اللہ کسی کی محبت کا غلبہ اس کا متقاضی ہو۔
سلام، مصافحہ سے پورا ہوتا ہے۔
وعن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال تمام عيادة المريض أن يضع أحدكم يده على جبهته أو على يده فيسأله كيف هو ؟ وتمام تحياتكم بينكم المصافحة . رواه أحمد والترمذي وضعفه .
اور حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر رکھے اور پھر پوچھے کہ اس کا کیا حال ہے اور تمہارا پورا سلام جو تم آپس میں کرتے ہو مصافحہ ہے یعنی جب تم سلام کرو تو مصافحہ کرو تاکہ سلام پورا اور کامل ہو اس روایت کو احمد و ترمذی نے نقل کیا ہے اور اس کو ضعیف کہا ہے۔
سفر سے آنے والے کے ساتھ معانقہ وتقبیل بلاکراہت جائز ہے۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت قدم زيد بن حارثة المدينة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فأتاه فقرع الباب فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم عريانا يجر ثوبه والله ما رأيته عريانا قبله ولا بعده فاعتنقه وقبله . رواه الترمذي .
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن حارثہ ؓ جو مشہور صحابی ہیں اور جن کو نبی اکرم ﷺ نے بیٹا بنایا تھا، کسی غزوہ یا کسی سفر سے لوٹ کر مدینے پہنچے تو اس وقت رسول اکرم ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، زید ؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے میرے گھر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اکرم ﷺ برہنہ بدن اپنے کپڑے یعنی چادر کو کھینچتے ہوئے زید ؓ سے ملنے کے لئے باہر تشریف لائے (یعنی اس وقت آنحضرت ﷺ کے جسم مبارک پر تہبند کے علاوہ کوئی کپڑا نہیں تھا اور آپ اسی حالت میں دروازہ پر تشریف لے گئے قسم ہے اللہ کی میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی آپ کو برہنہ نہیں دیکھا یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ نے کسی کے استقبال کے وقت اس طرح کا اظہار شوق و تمنا کیا ہو اور اس سے ملنے کے لئے برہنہ بدن باہر تشریف لے گئے ہوں بہر حال آپ نے حضرت زید کو گلے لگایا اور بوسہ دیا۔ (ترمذی)
تشریح
یہ حدیث اور اسی طرح حضرت جعفر بن ابوطالب ؓ کی حدیث جو آگے آئے گی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ معانقہ و تقبیل یعنی گلے لگانا اور پیشانی چومنا جائز ہے اور فقہاء نے اسی قول کو اختیار کیا ہے کہ سفر سے آنے والے کے ساتھ معانقہ و تقبیل بلاکراہت جائز ہے۔