آداب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 143 · 281 hadiths · Page 1 of 15

4525Mishkaat-al-Masabih

آداب کا بیان

ادب کے معنی ہیں وہ قول و فعل جس کو اچھا اور قابل تعریف کہا جائے یا ادب کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کو درستی و اچھائی کے ساتھ اچھے موقع پر کہا جائے اور ہر کام کو احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ادب کا مطلب یہ ہے کہ نیکی، بھلائی کی راہ کو اختیار کیا جائے اور گناہ و برائی کے راستہ سے اجتناب کیا جائے۔ بعض حضرات کے نزدیک ادب کے معنی یہ ہیں کہ اپنے بڑے بزرگ کی عزت و توقیر کی جائے اور اپنے سے چھوٹے کے ساتھ شفقت و محبت اور نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ ادب اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے چونکہ انسانی زندگی اور تہذیب و معاشرت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق احادیث نقل کی جائے گی۔

4526Mishkaat-al-Masabih

سلام کا بیان

سلام کے معنی ہیں نقائص و عیوب سے برأت و نجات پانا۔ سلام اللہ تعالیٰ کا ایک اسم پاک ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو ہر عیب و آفت اور تغیر و فنا سے پاک اور محفوظ ہے۔ سلام اسلامی تہذیب و معاشرت کا ایک خاص رکن ہے اس کے لئے جو الفاظ مقرر کئے گئے وہ السلام علیک ہے اس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تیرے حال سے واقف ہے لہذا غفلت اختیار نہ کر، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک کا تجھ پر سایہ ہے یعنی اللہ کی حفاظت و نگہبانی میں ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ اللہ معک۔ یعنی اللہ تیرے ساتھ ہے اکثر علماء کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ تجھ پر سلامتی ہو یعنی تو مجھ سے سلامتی میں ہے اور مجھ کو بھی اپنے سے سلامتی میں رکھ۔ اس صورت میں سلام سلم سے مشتق ہوگا جس کے معنی مصالحت کے ہیں اور اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ تو مجھ سے حفظ وامان میں رہ اور مجھ کو بھی حفظ وامان میں رکھ۔ منقول ہے کہ سلام کرنے کا طریقہ اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ میں مشروع ہوا تھا اور اس کا مقصد ایک ایسی علامت کو رائج کرنا تھا جس کے ذریعہ مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز کیا جاسکے تاکہ ایک مسلمان، دوسرے مسلمان سے تعرض نہ کرے گویا اس کلمہ کو اپنی زبان سے ادا کرنے والا اس بات کا اعلان کرتا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور پھر یہ طریقہ مستقل طور پر مشروع قرار پایا۔

4527Mishkaat-al-Masabih

فرشتوں کو حضرت آدم کا سلام

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلق الله آدم على صورته طوله ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم على أولئك النفر وهم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك فذهب فقال السلام عليكم فقالوا السلام عليك ورحمة الله قال فزادوه ورحمة الله . قال فكل من يدخل الجنة على صورة آدم وطوله ستون ذراعا فلم يزل الخلق ينقص بعده حتى الآن . ( متفق عليه )

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ گز کی تھی جب اللہ نے ان کو بنایا تو ان سے فرمایا جاؤ اور اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جماعت فرشتوں کی تھی جو وہاں بیٹھی ہوئی تھی پھر سنو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتی ہے وہ جو جواب دے گا وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا جواب ہے۔ چناچہ حضرت آدم اس حکم الٰہی کی تعمیل میں فرشتوں کی اس جماعت کے پاس گئے اور کہا کہ السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا۔ السلام علیک و (رح) (یعنی تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو) آنحضرت نے فرمایا کہ گویا آدم کے سلام کے جواب میں ورحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا پھر آپ نے فرمایا کہ پس جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ آدم کی صورت پر ہوگا بایں طور پر کہ اس کی لمبائی ساٹھ گز کی ہوگی یعنی جنت میں جانے والے حضرت آدم کے قد کی مذکورہ بلندی اور ان کے حسن و جمال کے ساتھ وہاں داخل ہوں گے۔ پھر حضرت آدم کے بعد لوگوں کی ساخت برابر کم ہوتی رہی یہاں تک کہ موجودہ مقدار کو پہنچی۔ (بخاری، مسلم) تشریح اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا۔ اس ارشاد گرامی کے معنی میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی احادیث صفات میں سے ہے جس کے حقیقی مفہوم و مطلب تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لئے اس بارے میں کوئی تاویل و توجہیہ کرنے کے بجائے سکوت ہی بہتر ہے جیسا کہ اس قسم کے ان اقوال و ارشادات کے بارے میں سکوت اختیار کیا جاتا ہے جو متشابہات کہلاتے ہیں علماء سلف اسی قول کی طرف مائل ہیں جب کہ بعض دوسرے حضرات اس ارشاد گرامی کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں جن سے مشہور تاویل یہ ہے کہ فلاں معاملہ کی صورت مسئلہ یہ ہے یا صورت حال یوں ہے ظاہر ہے کہ جس طرح کسی مسئلہ یا حال کی کوئی ظاہر صورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ صورت کا لفظ استعمال کر کے حقیقت میں اس مسئلہ یا حال کی صفت و کیفیت مراد ہوتی ہے اس طرح یہاں اللہ کی صورت کا لفظ سے مراد اللہ کی صفت جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صفت پر بنایا اور ان کو صفات کے ساتھ موصوف کیا جو صفات کریمہ باری تعالیٰ کا پر تو ہے چناچہ اللہ نے ان کو، حیّ، عالم، قادر، مرید، متکلم، سمیع اور بصیر بنایا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف، شرف و عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ جیسا کہ روح اللہ اور بیت اللہ میں روح اور بیت کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لطیف و جمیل صورت پر پیدا کیا جو اسرار و لطائف پر مشتمل ہے اور جس کو اس نے اپنی قدرت کاملہ کے ذریعہ اپنے پاس سے عطا کیا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی ضمیر حضرت آدم کی طرف راجع ہے یعنی اللہ نے آدم کو انہی کی صورت پر بنایا مطلب یہ ہے کہ وہ ابتداء آفرینش سے ہی شکل پر تھے دوسرے انسانوں کی طرح ان کی تخلیق اس تدریجی طور پر نہیں ہوئی تھی کہ پہلے وہ نطفہ تھے پھر مضغہ ہوئے پھر جنین، پھر طفل، پھر صبی اور پھر پورے مرد ہوئے بلکہ وہ ابتداء ہی میں تمام اعضاء وجوارح، کامل شکل و صورت اور ساٹھ گز کے قد کے پورے انسان بنائے گئے تھے لہذا اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا سے مراد آدم کی تخلیق و پیدائش کی حقیقت کو واضح کرنا ہے اور چونکہ دیگر صفات کے برخلاف قد کی لمبائی ایک غیر معروف چیز تھی اس لئے اس کو خاص طور پر ذکر کیا اسی طرح چونکہ لمبائی پر چوڑائی بھی قیاس کی جاسکتی ہے اور اجمالی طور پر اس کا تصور ذہن میں آسکتا ہے لہذا چوڑائی کو ذکر نہیں کیا۔ ورحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا اس کے ذریعہ سلام کے جواب کے سلسلے میں ایک تہذیب و شائستگی اور ادب فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا چناچہ افضل طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص السلام علیک کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام وحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے اسی طرح اگر کوئی السلام علیک ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے ایک روایت میں ورحمۃ اللہ کے بعد ومغفرۃ کا لفظ بھی منقول ہے حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام کے جواب میں وعلیک السلام کے بجائے السلام علیک کہنا بھی درست ہے کیونکہ معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک افضل یہی ہے کہ جواب میں وعلیک السلام یا وعلیکم السلام ہی کہا جائے رہی یہ بات کہ فرشتوں نے حضرت آدم کے سلام کے جواب میں وعلیک کے بجائے السلام علیک کیوں کہا تو ہوسکتا ہے کہ ملائکہ نے بھی یہ چاہا ہوگا کہ سلام کرنے میں وہ خود ابتداء کریں، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب دو آدمی ملتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سلام میں ابتداء کرنا چاہتا ہے تو دونوں ہی ایک دوسرے سے السلام علیک یا السلام علیک یا السلام علیکم کہتے ہیں لیکن یہ بات واضح رہے کہ جواب کے درست و صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جواب سلام کے بعد واقع ہو نہ کہ دونوں ایک ساتھ واقع ہوں جیسا کہ فاستمع مایحیونک سے واضح ہوتا ہے چناچہ فاسمتع میں حرف فاتعقیب کے لئے ہے جو مذکورہ وضاحت کی دلیل ہے عام طور پر لوگ اس مسئلہ سے بہت غافل ہیں اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر دو شخص ملیں اور دونوں ایک ہی ساتھ السلام علیکم کہیں تو دونوں میں سے ہر ایک پر جواب دینا واجب ہوگا۔ حدیث کا آخری جملہ، تقدیم و تاخیر، پر دلالت کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم کا قد ساٹھ گز تھا ان کے بعد لوگوں کے قد بتدریج کوتاہ ہوتے گئے پھر جنت میں داخل ہوں گے تو سب کے قد دراز ہوجائیں گے جیسا کہ حضرت آدم کا قد تھا۔

4528Mishkaat-al-Masabih

افضل اعمال

وعن عبد الله بن عمرو أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الإسلام خير ؟ قال تطعم الطعام وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف . و

اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم سے دریافت کیا کہ اہل اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے آپ نے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور ہر شناسا وناشناسا کو سلام کرنا۔ (بخاری ومسلم) تشریح اور دو اوصاف کی تخصیص، سائل کے حال کے مناسبت سے ہے لہذا مختلف اوقات میں مختلف اعمال کو افضل فرمانا کہ کسی موقع پر کسی عمل کو افضل فرمایا اور کسی موقع پر کسی کو، سائل کے احوال کے اختلاف و تفاوت پر مبنی ہوتا تھا دریافت کرنے والا جس مزاج و احوال کا آدمی ہوتا تھا اور اس کا رجحان جس نیک خصلت کی ضد کی طرف ہوتا اس کے سامنے اسی نیک خصلت کو افضل قرار دیا جاتا تھا مثلا کسی شخص نے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ اور آپ جانتے تھے کہ اس شخص کے مزاج میں بخل ہے تو اس سے فرماتے کہ کھانا کھلانا، سب سے بہتر ہے لہذا یہاں جس شخص نے سوال کیا تھا آپ نے اس کے احوال کے مناسبت سے اس سے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور ہر آشنا و ناآشنا کو سلام کرنا بہتر عمل ہے۔ لفظ تقری (تا کے پیش کے ساتھ) اقراء سے مشتق ہے اور اس کے معنی پڑھوانے کے ہیں یہ لفظ تاء کے زبر کے ساتھ منقول ہے جو قرأت سے مشتق ہے اور جس کے معنی پڑھنے کے ہیں اگر موخر الذکر صورت میں مفہوم زیادہ بہتر طور پر واضح نہیں ہوتا لہذا اس کی توجہیہ یہ کی جائے گی کہ سلام کرنے والا چونکہ مسلم علیہ (جس کو سلام کیا گیا ہے) کے جواب دینے کے باعث ہوتا ہے اس لئے گوایا وہ اس کی زبان سے وہ کلمہ پڑھواتا ہے جس کا تعلق سلام اور اس کے جواب سے ہے۔ اس حدیث یہ بات واضح ہوئی کہ سلام کا تعلق شناسائی کے حقوق سے نہیں ہے بلکہ یہ ان حقوق میں سے ہے جو اسلام نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے تئیں عائد کئے ہیں اس طرح مریض کی عیادت اور اس جیسے دوسرے امور بھی اسلامی حقوق و واجبات سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے واضح ہوگا۔

4529Mishkaat-al-Masabih

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے کیا حقوق ہیں؟

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمؤمن على المؤمن ست خصال يعوده إذا مرض ويشهده إذا مات ويجيبه إذا دعاه ويسلم عليه إذا لقيه ويشمته إذا عطس وينصح له إذا غاب أو شهد لم أجده في الصحيحين ولا في كتاب الحميدي ولكن ذكره صاحب الجامع برواية النسائي .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان پر مسلمان کے چھ حق ہیں (ایک تو یہ ہے کہ) جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو دوسرا مسلمان اس کی عیادت کرے دوسرے یہ کہ جب کوئی مسلمان مرجائے تو دوسرا مسلمان اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو تیسرے یہ کہ جب کوئی مسلمان کھانے پر بلائے تو بلایا جانے والا مسلمان اس کی دعوت کو قبول کرے (بشرطیکہ کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو۔ جیسے کہ اس دعوت میں باجا گا جا وغیرہ ہو یا اس دعوت کا تعلق اظہار فخر و ریا کاری سے ہو۔ چوتھے یہ کہ جب کوئی مسلمان ملے تو اس کو سلام کرے پانچویں یہ کہ جب کوئی مسلمان چھینکے اور الحمدللہ کہے تو اس کا جواب دے یعنی یرحمک اللہ کہے اور اگر چھینکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو وہ جواب کا مستحق نہیں ہوگا۔ اور چھٹے یہ کہ ایک مسلمان کی ہر حالت میں خیر خواہی کرے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب اور مشکوۃ کے مولف کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو نہ تو صحیحین (بخاری و مسلم) میں پایا ہے اور حمیدی کی کتاب میں، البتہ اس کو صاحب جامع الاصول نے نقل کیا ہے۔ تشریح خیر خواہی کرے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ ہر حالت میں ایک دوسرے کے خیر خواہ و ہمدرد ہیں جو مسلمان سامنے ہے اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کی جائے اور جو نظروں سے دور ہے اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کریں، یہ طرز عمل اختیار نہ کرنا چاہیے کہ جب کسی مسلمان کے سامنے آئیں تو اس کے ساتھ تملق یعنی خوشامد چاپلوسی کا رویہ اپنائیں اور جب وہ سامنے نہ ہو تو غیبت کریں یہ خالص منافقانہ رویہ ہے اور منافقوں کی خاصیت ہے۔

4530Mishkaat-al-Masabih

تعلق دوستی قائم کرنے کا بہترین ذریعہ سلام ہے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أو لا أدلكم على شيء إذا فعلمتموه تحاببتم ؟ أفشوا السلام بينكم رواه مسلم ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم جب تک کہ ایمان نہ لاؤ جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے اور تمہارا ایمان اس وقت کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم اللہ کی رضاء خوشنودی کے لئے آپس میں تعلق و دوستی قائم نہ کرو۔ نیز آپ نے فرمایا اور کیا میں تمہیں ایک ایسا ذریعہ نہ بتادوں جس کو تم اختیار کرو تو آپس میں دوستی کا تعلق قائم ہوجائے اور وہ ذریعہ یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کا چلن عام کرو یعنی آشنا و ناآشنا سب کو سلام کرو۔ (مسلم ) تشریح مشکوۃ کے ان صحیح و معتمد نسخوں میں کہ جو اونچے درجہ کے مشائخ کے سامنے پڑھے گئے ہیں لفظ ولا تو منوا نون کے حذف کے ساتھ ہے اور یہ حذف نون حتی تومنوا کے مجانست و مقارنت کی وجہ سے ہے تاہم بعض نسخوں میں یہ لفظ نون کے ساتھ یعنی ولا تو منون منقول ہے اور یہ نحوی قاعدہ کے مطابق ہے۔

4531Mishkaat-al-Masabih

کون کس کو سلام کرے؟

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم الراكب على الماشي والماشي على القاعد والقليل على الكثير .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سواری پر ہو وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی زیادہ تعداد والے آدمیوں کو سلام کریں۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو شخص سواری پر ہو۔۔۔ الخ۔۔ یہ حکم اصل میں تواضع و انکساری کی طرف راغب کرنے کے لئے ہے کہ کیونکہ جو شخص سواری پر ہے اس کو گویا اللہ نے پیدل چلنے والے پر برتری و فوقیت عطا فرمائی ہے لہذا اس کو فروتنی ہی اختیار کرنی چاہیے اسی طرح جو لوگ کم تعداد میں ہوں اور وہ لوگ ایسے لوگوں کو ملیں جو تعداد میں ان سے زیادہ ہوں تو ان کو بھی چاہیے کہ تواضع و انکساری کی بنا پر اور اکثریت کے احترام کے پیش نظر سلام کرنے میں ابتداء کریں۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کچھ لوگوں سے ملے اور یہ چاہے کہ ان سب کو سلام کرنے کے بجائے ان میں سے چند کو سلام کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ سلام کا اصل مقصد آپس میں موانست و الفت کو فروغ دینا ہے جب کہ بعض دوسرے مخصوص لوگوں کو سلام کرنا گویا باقی لوگوں کو وحشت و اجنبیت میں مبتلا کرنا ہے اور یہ چیز اکثر اوقات نفرت و عداوت کا بھی سبب بن جاتی ہے۔ لیکن بازار اور شارع عام کا حکم اس سے الگ ہے کہ اگر بازار میں یا شارع عام پر بہت سے لوگ آ رہے ہوں تو وہاں بعض لوگوں کو سلام کرنا کافی ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص بازار میں شارع عام پر ملنے والے ہر شخص کو سلام کرنے لگے تو وہ اسی کام کا ہو کر رہ جائے گا اور اپنے امور کی انجام دہی سے باز رہے گا۔

4532Mishkaat-al-Masabih

کون کس کو سلام کرے؟

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم الصغير على الكبير والمار على القاعد والقليل على الكثير . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا چھوٹا بڑے کو گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔ (بخاری) تشریح علماء نے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ بالا حکم سرراہ ملاقات کے وقت کا ہے مثلا ایک شخص ادھر سے آ رہا ہے اور دوسرا ادھر سے جا رہا ہو اور دونوں آپس میں ملیں تو اس صورت کے لئے یہ حکم ہے کہ ان دونوں میں جو شخص چھوٹا ہو وہ بڑے کو سلام کرے لیکن وارد ہونے یعنی کسی کے پاس یا مجلس میں جانے کی صورت میں سلام کی ابتداء وارد کو کرنی چاہیے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اور خواہ وہ کم تعداد والے لوگ ہوں یا زیادہ تعداد والے لوگ۔

4533Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت صلی اللہ عنلیہ وسلم کی انکساری وشفقت

وعن أنس قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على غلمان فسلم عليهم .

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کچھ لڑکوں کے پاس گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ تشریح آنحضرت کا یہ عمل مبارک کہ آپ نے بچوں کو سلام کیا درحقیقت آپ کے وصف تواضع و انکساری اور دنیا والوں کو تئیں کمال شفقت و محبت کا مظہر ہے۔

4534Mishkaat-al-Masabih

غیر مسلم کو سلام کرنے کا مسئلہ۔

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تبدؤوا اليهود ولا النصارى بالسلام وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا یہودیوں اور عیسائیوں کو سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تم راستے میں ان میں سے کسی سے ملو تو ان کو تنگ ترین راستے پر چلے جانے پر مجبور کرو۔ (بخاری ومسلم) تشریح سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم ان کو السلام علیکم نہ کہو کیونکہ سلام میں پہل کرنا درحقیقت اسلامی تہذیب کا بخشا ہوا ایک اعزاز ہے جس کے مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اسلامی تہذیب کے پیرو ہوں اور مسلمان ہیں اس اعزاز کا استحقاق ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوسکتا جو دین دشمن اور اللہ کے باغی ہیں اسی طرح ان باغیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلام اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ذریعہ الفت و محبت کے مراسم کو قائم کرنا بھی جائز نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے۔ آیت (لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ)۔ ترجمہ۔ آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں۔ ہاں اگر وہ لوگ سلام میں خود پہل کریں اور السلام علیک یا السلام علیکم کہیں تو اس کے جواب میں صرف علیک یا علیکم کہہ دیا جائے اور علماء نے لکھا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ غیر مسلم کے جواب میں ھداک اللہ کہا جائے نیز بعض علماء نے لکھا ہے کہ کسی ضرورت و مجبوری کی بناء پر یہود و نصاری کے ساتھ سلام میں پہل کرنی جائز ہے اور یہی حکم ان مسلمانوں کا بھی ہے جو بدعت اور فسق میں مبتلا ہوں۔ اسلامی سلطنت میں رہنے والے کسی مسلمان نے کسی اجنبی کو سلام کیا اور پھر معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہے تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ اپنے سلام کو واپس کرنے کا مطالبہ کرے یعنی یوں کہے کہ اسرجعت سلامی میں اپنے سلام کو واپس کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری جو دین کے دشمن ہیں اور اپنے مکر و فریب کی طاقتوں کے ذریعہ اللہ کے جھنڈے کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں اس سلوک کے مستحق ہیں کہ جب وہ راستہ میں ملیں تو ان پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ یکسو ہو کر گزرنے پر مجبور ہوجائیں اور ان پر راستہ تنگ ہوجائے تاکہ اسلام کی عظمت و شوکت اور مسلمانوں کا دبدبہ ظاہر ہر۔ مشکوۃ کے بعض حواشی میں یہ مطلب لکھا ہے کہ ان کو یہ حکم دو کہ وہ ایک طرف ہوجائیں اور کنارے پر چلیں تاکہ راستے کا درمیانی حصہ مسلمانوں کی آمدورفت کے لئے مخصوص رہے۔

4535Mishkaat-al-Masabih

یہودیوں کی شرارت

وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سلم عليكم اليهود فإنما يقول أحدهم السام عليك . فقل وعليك . ( متفق عليه )

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا جب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تو اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ السام علیک۔ (یعنی تمہیں موت آئے) لہذا تم ان کے جواب میں یہ کہو و علیک (یعنی تمہیں موت آئے) (بخاری ومسلم)

4536Mishkaat-al-Masabih

یہودیوں کی شرارت

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا وعليكم ( متفق عليه )

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اہل کتاب یعنی یہود و نصاری تمہیں سلام کریں تو تم ان کے جواب میں کہو وعلیکم۔ (بخاری ومسلم) تشریح پہلی روایت میں لفظ فقل اور وعلیک بصیغہ مفرد ہے اور اس روایت میں فقولوا اور وعلیکم بصیغہ جمع ہے اسی طرح اور روایتوں میں وعلیک اور وعلیکم واؤ کے ساتھ اور بغیر واؤ کے دونوں طرح منقول ہے مشکوۃ کے مؤلف نے یہاں جو روایت نقل کی ہے اس میں ان دونوں کو واؤ کے ساتھ نقل کیا ہے موطا کی روایت میں علیک بغیر واؤ کے اور دارقطنی کی روایت میں علیکم بغیر واؤ کے منقول ہے اور علماء نے لکھا ہے کہ زیادہ صحیح اور مختار قول یہ ہے کہ مذکورہ لوگوں کے سلام کے جواب میں یہ لفظ بغیر واؤ کے یعنی علیک یا علیکم ہی کہا جائے تاکہ اس چیز میں مشارکت لازم نہ آئے جو ان کی زبان سے ادا ہوتی ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس لفظ کا مطلب یہ ہوگا کہ جس موت کو برا سمجھ کر گویا ہمیں اس کی بدعا دے رہے ہو اس میں ہم اور تم برابر ہیں کہ ہم سب ہی کو موت یعنی مرنا ہے۔ بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ حرف واؤ یہاں مشارکت کے نہیں ہے بلکہ استیناف کے لئے ہے اس صورت میں یہ لفظ مفہوم کے اعتبار سے اس جملہ کا قائم مقام ہوگا کہ وعلیکم ما تستحقونہ من الذم۔ اور تجھ پر وہ برائی پڑے جس کا تو مستحق ہے) تاہم یہ بات واضح رہے کہ یہ لفظ احادیث میں چونکہ دونوں طرح منقول ہے کہ بعض روایتوں میں واؤ کے ساتھ اور بعض روایتوں میں بغیر واؤ کے، اس لئے اس سلسلے میں درست بات یہ ہے کہ دونوں طرح کہنا جائز ہے۔ نووی کہتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اہل کتاب کے سلام کا جواب دیا جائے لیکن وعلیکم السلام نہ کہا جائے یعنی جواب دینے والا نہ تو علیکم السلام کہے اور نہ علیک السلام بلکہ صرف وعلیکم یا علیک کہے بلکہ وعلیکم بھی اس صورت میں کہے جب وہ ایک سے زائد ہوں اگر ایک ہی ہو تو علیکم نہ کہے۔ کیوں کہ اس طرح اس کی تعظیم و توقیر لازم آئے گی۔

4537Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا حلم

وعن عائشة قالت استأذن رهط من اليهود على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليكم . فقلت بل عليكم السام واللعنة . فقال يا عائشة إن الله رفيق يحب الرفق في الأمر كله قلت أولم تسمع ما قالوا ؟ قال قد قلت وعليكم . وفي رواية عليكم ولم يذكر الواو . وفي رواية للبخاري . قالت إن اليهود أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك . قال وعليكم فقالت عائشة السام عليكم ولعنكم الله وغضب عليكم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم مهلا يا عائشة عليك بالرفق وإياك والعنف والفحش . قالت أو لم تسمع ما قالوا ؟ قال أو لم تسمعي ما قلت رددت عليهم فيستجاب لي فيهم ولا يستجاب لهم في . وفي رواية لمسلم . قال لا تكوني فاحشة فإن الله لا يحب الفحش والتفحش . ( متفق عليه )

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن یہودی کی ایک جماعت نے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی چناچہ ان کو اجازت دے دی گئی اور جب وہ آپ کے پاس آئے تو کہا کہ بلکہ تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو آنحضرت نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ محبت و نرمی کرنے والا ہے اور ہر کام میں محبت و نرمی کو پسند کرتا ہے میں نے عرض کیا کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے سلام کے بجائے کیا لفظ کہا ہے؟ آنحضرت نے فرمایا بیشک میں نے سنا ہے اور میں نے ان کے جواب میں کہا ہے کہ وعلیکم اور ایک روایت میں یہ لفظ علیکم ہے یعنی واؤ کا ذکر نہیں ہے (بخاری ومسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ایک دن کچھ یہودی نبی کریم کے پاس آئے اور انہوں نے السلام علیکم کہنے کے بجائے یہ کہا کہ السام علیکم آنحضرت نے ان کے جواب میں فرمایا وعلیکم۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ یہودیوں کی یہ بدتمیزی مجھ سے برداشت نہ ہوئی اور میں نے ان کے جواب میں کہا کہ تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کی لعنت ہو اور تم پر اللہ کا غضب ٹوٹے۔ آنحضرت نے جب میری زبان سے ایسے الفاظ سنے تو فرمایا کہ عائشہ ؓ رک جاؤ! تمہیں نرمی اختیار کرنی چاہیے نیز سخت گوئی اور لچر باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا لفظ کہا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور کیا تم نے نہیں سنا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے میں نے اس پر کیا جواب دیا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے حق میں میری دعا یا بددعا تو قبول ہوتی ہے لیکن میرے حق میں ان کی دعا یا بددعا قبول نہیں ہوتی اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عائشہ ؓ تم لچر باتیں کرنے والی مت بنو کیونکہ اللہ تعالیٰ لچر باتوں کو اور بہ تکلف لچر باتیں بنانے کو پسند نہیں کرتا۔

4538Mishkaat-al-Masabih

مسلم اور غیر مسلم کی مخلوط مجلس میں سلام کرنے کا طریقہ

وعن أسامة بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود فسلم عليهم . ( متفق عليه )

اور حضرت اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرکین باہم بیٹھے ہوئے تھے اور مشرکین میں بت پرست بھی تھے اور یہودی بھی، چناچہ آپ نے مجلس والوں کو سلام کیا۔ تشریح نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کسی ایسی جماعت کے پاس سے گزرے یا کسی ایسی مجلس میں پہنچے جس میں مسلمان بھی ہوں اور غیر مسلم بھی اور مسلمان خواہ ایک ہی ہو یا کئی ہوں تو مسنون یہ ہے کہ مسلمانوں یا مسلمان کا قصد کر کے پوری جماعت کو سلام کرے نیز علماء نے لکھا ہے کہ اس صورت میں چاہے تو السلام علیکم کہے اور نیت یہ رکھے کہ اس سلام کے اصل مخاطب مسلمان ہیں اور چاہے یوں کہے۔ آیت (السلام علی من اتبع الھدی)، نیز علماء یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر کسی مشرک وغیر مسلم کو خط لکھا جائے تو مسنون یہ ہے کہ مکتوب الیہ کو السلام علیکم لکھنے کی بجائے وہی الفاظ لکھے جو آنحضرت نے ہرقل روم کے بادشاہ کو لکھے تھے۔ آیت (سلام علی من اتبع الھدی)۔

4539Mishkaat-al-Masabih

راستہ کے حقوق

وعن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إياكم والجلوس بالطرقات . فقالوا يا رسول الله ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فيها . قال فإذا أبيتم إلا المجلس فأعطوا الطريق حقه . قالوا وما حق الطريق يا رسول الله قال غض البصر وكف الأذى ورد السلام والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر .

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔ یہ سن بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمارے لئے راستوں میں بیٹھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں ہے جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ (یعنی راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے ہمارے پاس چوں کہ کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ہم اپنی مجلس رکھا کریں اس لئے جب ہم چند لوگ کہیں مل جاتے ہیں تو وہیں راستہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دینی و دنیاوی امور کے بارے میں باہمی رائے اور مشورہ اور مذاکرات کرتے ہیں ایک دوسرے کی حالت دریافت کرتے ہیں اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے علاج معالجہ تجویر کرتے ہیں اگر آپ میں کوئی رنجش وعناد ہوتا ہے تو صلح و صفائی کرتے ہیں اور اپنے معاملات کو طے کرنے کی تدبیر پر غور کرتے ہیں) نبی ﷺ نے فرمایا جب تم مجبوری کی بناء پر بیٹھنے کے علاوہ دوسری صورت سے انکار کرتے ہو پھر راستہ کو اس کا حق ادا کرو۔ یعنی اگر ایسی صورت ہو کہ راستے میں بیٹھنے سے اجتناب کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہو اور تمہیں ایسی جگہ بیٹھنا پڑے جو راستہ پر واقع ہو تو راستے کا حق ادا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ راستے کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا آنکھوں کا بند کرنا یعنی حرام چیزوں پر نظر ڈالنا، ایذا رسانی سے باز رہنا یعنی تنگ راستہ کردینے یا کسی اور طرح گزرنے والوں کو ایذاء نہ پہنچانا، سلام کا جواب دینا اور لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔ (بخاری ومسلم) تشریح سلام کا جواب دینا یہاں سلام کرنے کا حکم دینے کے بجائے سلام کو جواب دینے کی ہدایت کرنا اس مسنون امر کے پیش نظر ہے کہ چلنے اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔

4540Mishkaat-al-Masabih

راستہ کے حقوق

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذه القصة قال وإرشاد السبيل . رواه أبو داود عقيب حديث الخدري هكذا .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم سے اس مضمون کے سلسلے میں نقل کرتے ہیں کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص راستہ بھول جائے یا جو شخص راستہ نہ جانتا ہو اس کو راستہ بتانا بھی ایک حق ہے اس روایت کو ابوداؤد نے حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت کے بعد اسی طرح نقل کیا ہے جیسا کہ صاحب مصابیح نے اور ان کی اتباع میں صاحب مشکوۃ نے یہاں نقل کیا ہے۔

4541Mishkaat-al-Masabih

راستہ کے حقوق

وعن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذه القصة قال وتغيثوا الملهوف وتهدوا الضال . رواه أبو داود عقيب حديث أبي هريرة هكذا ولم أجدهما في الصحيحين .

اور حضرت عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے اس مضمون کے سلسلے میں نقل کرتے ہیں کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایک حق یہ بھی ہے کہ مظلوم کی فریاد رسی کی جائے اور گم کردہ راہ کو راستہ بتایا جائے۔ اس روایت کو حضرت ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے بعد اسی طرح نقل کیا ہے اور میں نے ان دونوں حدیثوں کو صحیحین یعنی بخاروی ومسلم میں نہیں پایا۔

4542Mishkaat-al-Masabih

اسلامی معاشرہ کے چھ باہمی حقوق

وعن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمسلم على المسلم ست بالمعروف يسلم عليه إذا لقيه ويجيبه إذا دعاه ويشمته إذا عطس ويعوده إذا مرض ويتبع جنازته إذا مات ويحب له ما يحب لنفسه رواه الترمذي والدارمي . ( حسن )

حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان پر مسلمان کے چھ حقوق ہیں جو حسن سلوک سے متعلق ہیں جب کوئی مسلمان ملے تو اس کو سلام کرنا جب کوئی مسلمان کھانے کے لئے یا کسی اور غرض سے بلائے تو اس کو قبول کرنا جب کوئی مسلمان چھینکے تو اس پر یرحمک اللہ کہنا جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنا، جب کسی مسلمان کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جانا اور مسلمان کے لئے اس چیز کو پسند کرنا جس کو خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (ترمذی، دارمی)

4543Mishkaat-al-Masabih

سلام کے ثواب میں اضافہ، باعث بننے والے الفاظ

وعن عمران بن حصين أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم فرد عليه ثم جلس . فقال النبي صلى الله عليه وسلم عشر . ثم جاء لآخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فرد عليه فقال ثلاثون . رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی مجلس میں ایک شخص آیا اور کہا السلام علیکم نبی ﷺ نے اس کے سلام کے جواب دیا پھر وہ شخص بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس شخص کے لئے دس نیکیاں لکھی گئی ہیں پھر ایک شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ نبی ﷺ نے اس کے سلام کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا کہ اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں اس کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نبی ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی گئی ہیں۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔ تشریح مذکورہ بالا ارشاد گرامی کا تعلق سلام کرنے والے کے ساتھ ہے اگر سلام کرنے والا السلام علیکم کہے اور جس کو سلام کیا گیا ہے وہ اس کے جواب میں ورحمۃ اللہ کے لفظ کا اضافہ کرے یعنی وعلیکم السلام و (رح) کہے یا سلام کرنے والا السلام علیکم و (رح) کہے اور جواب دینے والا وبرکاتہ کے لفظ کے اضافہ کرے یعنی یوں کہے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اضافہ ثواب کے سلسلے میں اس کا حکم بھی یہی ہوگا اور یہی حکم مغفرتہ کے اضافہ کا بھی ہے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث میں مذکور ہے۔

4544Mishkaat-al-Masabih

سلام کے ثواب میں اضافہ، باعث بننے والے الفاظ

وعن معاذ بن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه وزاد ثم أتى آخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ومغفرته فقال أربعون وقال هكذا تكون الفضائل . رواه أبو داود . ( إسناده صحيح )

اور حضرت معاذ بن انس ؓ نے بھی نبی کریم ﷺ سے اوپر کی حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے جس میں معاذ ؓ نے یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں پھر ایک اور شخص یعنی چوتھا شخص آیا اور کہا کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اس کے لئے چالیس نیکیاں لکھی گئی ہیں۔ نیز یہ فرمایا کہ اسی طرح سے ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یعنی سلام کرنے والا جس قدر الفاظ بڑھاتا جائے گا اسی قدر اس کے ثواب میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ (ابوداؤد) تشریح علماء نے لکھا ہے کہ سلام کرنے کے سلسلے میں افضل یہ ہے کہ سلام کرنے والا یوں کہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یعنی جمع کی ضمیر علیکم استعمال کی جائے اگرچہ جس کو سلام کیا جا رہا ہے وہ ایک ہی شخص کیوں نہ ہو اسی طرح جس شخص کو سلام کیا گیا ہے وہ جواب میں یوں کہے وعلیکم السلام یعنی وہ بھی جمع کی ضمیر استعمال کرے اور واؤ لگائے۔ واضح رہے کہ سلام کا ادنیٰ درجہ السلام علیکم کہنا ہے اور اگر السلام علیک کہا جائے تو بھی کافی ہوگا اور جواب میں ادنیٰ درجہ وعلیک السلام اور وعلیکم السلام ہے اور اگر واؤ نہ لگایا جائے تو بھی کافی ہوگا۔ علماء کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ اگر جواب میں صرف علیکم کہا جائے تو جواب پورا نہیں ہوگا اور اگر جواب میں وعلیکم کہا جائے یعنی واؤ لگایا جائے تو اس صورت میں دونوں قول ہیں۔