Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 99 of 317

1961Mishkaat-al-Masabih

روزہ کا ثواب

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف قال الله تعالى : إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به يدع شهوته وطعامه من أجلي للصائم فرحتان : فرحة عند فطره وفرحة عند لقاء ربه ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك والصيام جنة وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب وفإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بنی آدم کے ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے بایں طور کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مگر روزہ کہ وہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا (یعنی روزہ کی جو جزا ہے اسے میں ہی جانتا ہوں اور وہ روزہ دار کو میں خود ہی دوں اس بارے میں کوئی دوسرا یعنی فرشتہ بھی واسطہ نہیں ہوگا کیونکہ روزہ دار) اپنی خواہش اور اپنا کھانا صرف میرے لئے ہی چھوڑتا ہے (یعنی وہ میرے حکم کی بجا آوری میری رضاء و خوشنودی کی خاطر اور میرے ثواب کی طلب کے لئے روزہ رکھتا ہے) روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی تو روزہ کھولنے کے وقت اور دوسری خوشی (ثواب ملنے کی وجہ سے) اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت، یاد رکھو روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے زنزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ لطف اور پسندیدہ ہے اور روزہ سپر ہے (کہ اس کی وجہ سے بندہ دنیا میں شیطان کے شر و فریب سے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے) لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہو تو وہ نہ فحش باتیں کرے اور نہ بےہودگی کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے اور اگر کوئی (نادان جاہل) اسے برا کہے یا اس سے لڑنے جھگڑنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (بخاری ومسلم) تشریح نیک عمل کے اجر کے سلسلے میں ادنیٰ درجہ دس ہے کہ نیکی تو ایک ہو مگر ثواب اس کا دس گناہ ملے، پھر اس کے بعد نیک عمل کرنے والے کے صدق خلوص پر انحصار ہوتا ہے کہ اس کی ریاضت و مجاہدہ اور اس کے خلوص و صدق نیت میں جتنی پختگی اور کمال بڑھتا رہتا ہے اسی طرح اس کے ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بعض حالات میں ایک نیکی پر سات سو گناہ ثواب ملتا ہے گویا یہ آخری درجہ ہے لیکن بعض مقامات و اوقات ایسے بھی ہیں جہاں کی جانے والی ایک نیکی اس سے بھی زیادہ اجر وثواب سے نوازی جاتی ہے چناچہ منقول ہے کہ مکہ میں ایک نیک عمل کے بدلے میں ایک لاکھ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ الاالصوم (مگر روزہ) سے ثواب کی اہمیت و فضیلت کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ کا ثواب بےانتہاء اور لامحدود ہے جس کی مقدار سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔

1962Mishkaat-al-Masabih

روزہ کی بے انتہا فضیلت کیوں؟

روزہ اور اس کے ثواب کی اس فضیلت کے دو سبب ہیں اول تو یہ کہ روزہ دوسرے لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے، دوسری عبادتوں کے برخلاف کہ ان میں یہ وصف نہیں ہے جتنی بھی عبادات ہیں وہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں جب کہ روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا صرف روزہ دار ہی کو ہوتا ہے۔ لہٰذا روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوتا ہے کہ اس میں ریاء اور نمائش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد فانہ لی کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ روزہ خاص میرے ہی لئے ہے کیونکہ روہ تو صورۃ اپنے لئے وجود نہیں رکھتا جب کہ دوسری عبادتیں صورتا اپنے لئے وجود رکھتی ہیں۔ دوم یہ کہ روزہ میں نفس کشی اور جسم وبدن کا ہلکان و نقصان ہے نیز روزہ کی حالت میں انتہائی کرب و تکلیف کی صورتیں بھوک و پیاس پیش آتی ہیں اور ان پر صبر کرنا پڑتا ہے جب کہ دوسری عبادتوں میں نہ اتنی تکلیف ومشقت ہوتی ہے اور نہ اپنی خواہش و طبیعت پر اتنا جبر چناچہ باری تعالیٰ نے اپنے ارشاد یدع شہوتہ کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ روزہ دار اپنی خواہش کو چھوڑ دیتا ہے یعنی روزہ کی حالت میں جو چیزیں ممنوع ہیں وہ ان سب سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے۔ لفظ شہوتہ کے بعد لفظ طعامہ کا ذکر کیا تو تخصیص بعد تعمیم کے طور پر ہے یا پھر شہوت سے مراد تو جماع ہے اور طعام سے جماع کے علاوہ دوسری چیزیں مراد ہیں جو روزہ کو توڑنے والی ہوتی ہیں۔ افطار کے وقت روزہ دار کو خوشی دو وجہ سے ہوسکتی ہے یا تو اس لئے کہ وہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ روزہ دار اپنے آپ کو اللہ رب العزت کے حکم اور اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ محسوس کرتا ہے، یا پھر یہ کہ وہ عبادت کی توفیق اور اس کی نورانیت کی وجہ سے اپنے آپ کو مطمئن ومسرور محسوس کرتا ہے، جو ظاہر ہے کہ خوشی کا سبب ہے اس کے علاوہ دنیاوی اور جسمانی طور پر بھی یوں خوشی محسوس ہوتی ہے کہ دن بھر کی بھوک و پیاس کے بعد اسے کھانے پینے کو ملتا ہے۔ حدیث کے آخری جملے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص روزہ دار کو برا بھلا کہے یا اس سے لڑنے کا ارادہ کرے تو وہ اس شخص کو انتقاما برا بھلا نہ کہے اور نہ اس سے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہوجائے بلکہ اس شکص سے یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں اور یہ بات یا تو زبان سے کہے تاکہ دشمن اپنے ناپاک ارادوں سے باز رہے کیونکہ جب روزہ دار اپنے مقابل سے یہ کہے گا کہ میں روزہ دار ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لئے میرے لئے تو یہ جائز نہیں کہ میں تم سے لڑوں جھگڑوں اور جب میں خود لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں تو تمہارے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ ایسی صورت میں تم مجھ سے لڑائی جھگڑے کا ارادہ کرو کیونکہ یہ اصول ومروت کے خلاف ہے ظاہر ہے کہ یہ انداز اور پیرایہ دشمن کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے غلط ارادوں سے باز رہے۔ یا اس کے یہ معنی ہوں کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لئے اس وقت تمہارے لئے زبان درازی مناسب اور لائق نہیں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کی حفاظت میں ہوں۔ یا پھر یہ کہ ایسے موقع پر روزہ دار اپنے دل میں یہ کہہ لے کہ میں روزہ دار ہوں میرے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ میں روزہ حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا کروں یا کسی کو اپنی زبان سے برا کہوں۔ لفظ الاالصوم کے سلسلے میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ حدیث کے بعض شارحین اس موقع پر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ روزہ کی یہ خصوصیت کس وجہ سے ہے؟ تاہم ہمارے اوپر یہ بات واجب اور لازم ہے کہ بغیر کسی شک و شبہہ کے اس کی تصدیق کرے ہاں بعض محققین علماء نے اس خصوصیت کے کچھ اسباب بیان کئے ہیں چناچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روزہ ہی وہ عبادت ہے جو ایام جاہلیت میں بھی اہل عرب کے یہاں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مخصوص تھی یعنی جس طرح کفار و مشرکین سجدہ وغیرہ اللہ کے علاوہ دوسری چیزون کے لئے بھی کرتے تھے اسی طرح وہ روزہ میں بھی اللہ کے علاوہ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے بلکہ روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے رکھتے تھے۔ اس طرح اس نکتہ کے ذریعے بھی اس کی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ درحقیقت جو شخص روزہ رکھتا ہے اور اس طرح وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضاء کی خاطر اپنا کھانا پینا اور دوسری خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایک طرح کی لطافت و پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گویا وہ اس بارے میں باری تعالیٰ کے اوصاف و خلق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے بایں طور کہ جس طرح اللہ رب العزت کھانے پینے سے منزہ اور پاک ہے اس طرح بھی دن میں اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات و علائق سے منزہ رکھتا ہے لہٰذا اس سبب سے روزہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے۔ عبرت خیز و عبرت آموز! ابھی آپ نے اوپر پڑھا ہے کہ عرب کے مشرکین تک روزہ میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں کرتے تھے ان کا روزہ بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص قرار دیتے تھے لیکن اب روزہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں رہ گیا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اب بعض بزرگوں کے نام پر اور ان کے لئے بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو گمراہی و ضلالت کے اس راستے سے بچائے اور صرف اپنی مرضیات تابع و پابند بنائے آمین۔

1963Mishkaat-al-Masabih

ماہ رمضان کے فضائل وبرکات

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد : يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ن ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة . رواه الترمذي وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات کو قید کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا اور اعلان کرنے والا فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے بھلائی (یعنی نیکی وثواب) کے طلب گار! اللہ کی طرف متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے برائی سے باز آ جا کیونکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے یعنی اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے وسیلے میں بہت لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتا ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ تو بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائے۔ اور یہ اعلان رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔ (ترمذی ابن ماجہ، امام احمد نے بھی اس روایت کو ایک شخص سے نقل کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی شیاطین کو اس لئے قید کردیا جاتا ہے تاکہ وہ روزہ داروں کو نہ بہکائیں اور ان کے دلوں وسوسوں اور گندے خیالات کا بیج نہ بوئیں چناچہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے ماہ رمضان میں اکثر گناہ گار گناہوں سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں البتہ بعض بدبخت ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس ماہ مبارک میں بھی گناہ و معصیت سے باز نہیں آتے تو اس کی وجہ وہ اثرات ہوتے ہیں جو رمضان سے قبل ایام میں شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ان کے طبائع بد میں راسخ ہوجاتے ہیں یعنی چونکہ ان کے ذہن و فکر اور ان کی عملی قوت پہلے ہی سے شیطان کے زیر اثر ہوتی ہے اور ان کا نفس اس کا عادی ہوچکا ہوتا ہے اس لئے ایسے لوگ اپنی عادت سے مجبور ہو کر رمضان میں بھی گناہ و معصیت سے نہیں بچ پاتے۔ اللہ کی طرف متوجہ ہوجا۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بندگی اس کی عبادت اور اس کی رضا و خوشنودی کے کامون میں زیادہ سے زیادہ مشغول رہنے کی کوشش کر کیونکہ یہ وقت ایسا ہے کہ اگر تھوڑا بھی نیک عمل کیا جائے گا تو اس کا ثواب ملے گا اور معمولی درجہ کی نیکی بھی سعادت و نیک بختی کے اونچے درجے پر پہنچائے گی۔ اسی طرح برائی سے باز آ جا۔ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ و معصیت کے راستے کو چھوڑ دے، نیکی و بہتری کی راہ اپنا لے اپنے کئے ہوئے گناہوں سے توبہ کر اور اللہ کی طرف اپنی توجہ لگا دے کیونکہ قبولیت دعا اور مغفرت کا یہ بہترین وقت ہے۔

1964Mishkaat-al-Masabih

ماہ رمضان کے فضائل وبرکات

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتاكم رمضان شهر مبارك فرض الله عليكم صيامه تفتح فيه أبواب السماء وتغلق فيه أبواب الجحيم وتغل فيه مردة الشياطين لله فيه ليلة خير من ألف شهر من حرم خيرها فقد حرم . رواه أحمد والنسائي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے رمضان کا بابرکت مہینہ آگیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر روزے فرض کئے ہیں اس مہینے میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں نیز اسی مہینے میں سرکش شیطانوں کو طوق پہنایا جاتا ہے اور اس میں یعنی پورے ماہ رمضان کی راتوں میں یا آخری عشرہ رمضان کی راتوں میں اللہ کی ایک خاص رات ہے جو باعتبار ثواب کے ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی اس ایک رات میں عمل کرنا ان ہزار مہینوں میں عمل کرنے سے کہ جن میں لیلۃ القدر نہ ہو کہیں زیادہ افضل و بہتر ہے) لہٰذا جو شخص اس رات کی بھلائی سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا۔ (احمد و نسائی) تشریح ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے الفاظ و تغل فیہ مردۃ الشیاطین سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان میں صرف وہی شیطان قید کئے جاتے ہیں جو سرکش اور سرغنہ ہیں گویا اس طرح وہ اشکال خود بخود رفع ہوجاتا ہے جو ابھی اس سے پہلی حدیث کی تشریح کے ضمن میں گزرا ہے اس صورت میں اس حدیث نمبر ٥ کے الفاظ صفدت الشیاطین و مردۃ کا عطف شیطان پر عطف تفسیر وبیان کی نوعیت سے ہوگا۔ ملا علی قاری کے اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ اس سے پہلے حدیث کی تشریح میں اس اشکال کی طرف جو یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ شیاطین کے مقید ہوجانے کے باوجود بھی جو لوگ اس ماہ مبارک میں گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا ایک جواب تو یہ دیا گیا تھا کہ اس کی وجہ وہ اثرات ہوتے ہیں جو رمضان سے قبل ایام میں شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ان کی طبائع بند میں راسخ ہوتے ہیں۔ اسی اشکال کا ایک دوسرا جواب ملا علی قاری نے اس حدیث کے مفہوم کی روشنی میں دیا ہے کہ رمضان میں دراصل وہی شیطان مقید ہوتے ہیں جو سرکش اور سرغنہ ہوتے ہیں چھوٹے موٹے قسم کے شیطان چونکہ آزاد رہتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کو بہکاتے ہیں جن کی وجہ سے رمضان میں بھی گناہوں کا صدور بند نہیں ہوتا۔ مگر اسی باب کی پہلی حدیث سے چونکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مطلقاً شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں اس میں سرکش شیطان کی کوئی تخصیص نہیں ہے لہٰذا ملا علی قاری کا یہ جواب کچھ زیادہ جاندار معلوم نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں حضرت مولنا شاہ محمد اسحق دہلوی (رح) کی تقریر سب سے بہتر ہے جس سے نہ صرف یہ کہ مسئلہ مذکور میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا بلکہ اس بارے میں منقول تمام احادیث میں تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ حضرت موصوف فرماتے ہیں کہ سرکش شیطانوں کا قید ہونا جیسا کہ یہ حدیث بتارہی ہے مخصوص افراد کی نسبت سے ہے اسی طرح مطلقا شیاطین کا قید ہونا جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث سے ثابت ہوا دوسرے مخصوص افراد کی نسبت سے ہے مطلب یہ ہے کہ سرکش شیاطین کو تو فاسق لوگوں کو بہکانے سے روک دیا جاتا ہے چناچہ ایسے لوگ رمضان میں گناہ کم کرتے ہیں البتہ چھوٹے موٹے شیطان انہیں بہکاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ گناہ ان سے سرزد ہوتے رہتے ہیں اور مطلقاً شیاطین صلحاء اور نیک لوگوں کو بہکانے سے روک دئیے جاتے ہیں چناچہ وہ کبیرہ گناہوں سے باز رہتے ہیں اور اگر بتقاضائے بشریت ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا اشکال کا ایک دوسرا جواب یہ ہے کہ کچھ گناہ تو ایسے ہوتے ہیں جو شیاطین کے بہکانے سے سرزد ہوتے ہیں اور کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جو خود اپنے نفس کے تقاضہ سے صادر ہوتے ہیں چناچہ جو گناہ شیطان کے بہکانے سے سرزد ہوتے ہیں ان گناہوں سے تو لوگ رمضان میں محفوظ رہتے ہیں اور جو گناہ خود اپنے نفس کے تقاضہ سے ہوتے ہیں وہ رمضان میں بھی صادر ہوتے رہتے ہیں۔ من حرم خیرہا (جو شخص اس رات کی بھلائی سے محروم رہا) کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس مقدس رات میں عبادت الٰہی کے لئے شب بیدایری کی توفیق نہیں ہوتی اگر وہ کم سے کم رات کے ابتدائی اور آخری حصوں ہی میں جاگ لیتا اور اللہ کی بندگی کرتا جب بھی اسے اس رات میں عبادت کی فضیلت حاصل ہوجاتی کیونکہ منقول ہے کہ جس شخص نے کم سے کم عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو اسے بھی لیلۃ القدر کی سعادتوں سے اپنا حصہ مل جائے گا۔ فقد حرم (وہ ہر بھلائی سے محروم رہا) بطور مبالغہ ارشاد فرمایا گیا ہے اور اس سے مراد کامل ثواب سے محروم رہنا ہے۔

1965Mishkaat-al-Masabih

روزہ قیامت کے روز پروردگار سے شفاعت کرے گا

وعن عبد الله بن عمرو : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الصيام والقرآن يشفعان للعبد يقول الصيام : أي رب إني منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فيه ويقول القرآن : منعته النوم بالليل فشفعني فيه فيشفعان . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن دونوں بندہ کے لئے شفاعت کریں گے۔ چناچہ روزہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں نے اس کو کھانے اور دوسری خواہشات مثلا پانی، جماع اور غیبت وغیرہ) سے دن میں روکے رکھا لہٰذا میری طرف سے بھی اس کے حق میں شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا کہ میں نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا، لہٰذا میری طرف سے بھی اس کے حق میں شفاعت قبول فرما۔ چناچہ ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (بیہقی) تشریح قرآن سے مراد تلاوت قرآن ہے علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ قرآن سے تہجد اور تلاوت قرآن و عبادت وغیرہ کے لئے شب بیداری مراد ہے روزہ اور قرآن دونوں کی شفاعت کا ثمرہ یہ ہوگا کہ غالباً روزہ کی شفاعت سے تو گناہ ختم کر دئیے جائیں گے اور قرآن کی شفاعت سے درجات عالیہ نصیب ہوں گے۔

1966Mishkaat-al-Masabih

شب قدر سے محرومی

وعن أنس بن مالك قال : دخل رمضان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا الشهر قد حضركم وفيه ليلة خير من ألف شهر من حرمها فقد حرم الخير كله ولا يحرم خيرها إلا كل محروم . رواه ابن ماجه

حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تمہارے لئے یہ مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات (یعنی شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لہٰذا جو شخص اس رات کی سعادت سے محروم رہا کہ اسے پوری رات یا کم سے کم رات کے کچھ حصوں میں بھی جاگنے اور عبادت الٰہی میں مشغول ہونے کی توفیق نہ ہوئی تو وہ ہر سعادت و بھلائی سے محروم رہا۔ اور یاد رکھو شب قدر کی سعادت سے حرمان نصیب ہی محروم ہوتا ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح ارشاد گرامی تمہارے لئے یہ مہینہ آیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کا مقدس و بابرکت مہینہ دین و دنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں اپنے دامن میں لئے آگیا لہٰذا اس کے آنے کو غنیمت جانو دن میں روزے رکھ کر اور رات میں عبادت الٰہی یعنی تراویح و تلاوت قرآن اور تہجد وغیرہ میں مشغول ہو کر اس مہینے کی برکتیں ور سعادتیں حاصل کرو، حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ لیلۃ القدر کی سعادتوں سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو سعادت و بھلائی کے معاملے میں بدنصیب ہوتا ہے اور جسے عبادت کا ذوق نہیں ہوتا۔

1967Mishkaat-al-Masabih

رمضان، برکات وسعادت کا مہینہ

وعن سلمان قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان فقال : يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله تعالى صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة وشهر يزداد فيه رزق المؤمن من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجره شيء قلنا : يا رسول الله ليس كلنا يجد ما نفطر به الصائم . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة من ماء ومن أشبع صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار ومن خفف عن مملوكه فيه غفر الله له وأعتقه من النار . رواه البيهقي

حضرت سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے (جمعہ کا یا بطور تذکیر و نصیحت) خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! باعظمت مہینہ تمہارے اوپر سایہ فگن ہو رہا ہے (یعنی ماہ رمضان آیا ہی چاہتا ہے) یہ بڑا ہی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں قیام (عبادت خداوندی) جاگنا نفل قرار دیا ہے جو اس ماہ مبارک میں نیکی (یعنی نفل) کے طریقے اور عمل کے بارگاہ حق میں تقرب کا طلبگار ہوتا ہے تو وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے جس نے رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا ہو (یعنی رمضان میں نفل اعمال کا ثواب رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں فرض اعمال کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور جس شخص نے ماہ رمضان میں (بدنی یا مالی) فرض ادا کی تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں ستر فرض ادا کئے ہوں (یعنی رمضان میں کسی ایک فرض کی ادائیگی کا ثواب دوسرے دنوں میں ستر فرض کی ادائیگی کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور ماہ رمضان صبر کا مہینہ ہے (کہ روزہ دار کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے رکا رہتا ہے) وہ صبر جس کا ثواب بہشت ہے ماہ رمضان غم خواری کا مہینہ ہے لہٰذا اس ماہ میں محتاج و فقراء کی خبر گیری کرنی چاہئے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں (دولت مند اور مفلس ہر طرح) مومن کا (ظاہر اور معنوی) رزق زیادہ کیا جاتا ہے جو شخص رمضان میں کسی روزہ دار کو (اپنی حلال کمائی سے) افطار کرائے تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش و مغفرت کا ذریعہ اور دوزخ کی آگ سے اس کی حفاظت کا سبب ہوگا اور اس کو روزہ دار کے ثواب کی مانند ثواب ملے گا بغیر اس کے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سب تو ایسے نہیں ہیں جو روزہ دار کی افطاری کے بقدر انتظام کرنے کی قدرت رکھتے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی عنایت فرماتا ہے جو کسی روزہ دار کو ایک گھونٹ لسی یا کھجور اور یا ایک گھونٹ پانی ہی کے ذریعے افطار کرا دے اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلائے تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض (یعنی حوض کوثر) سے اس طرح سیراب کرے گا کہ وہ (اس کے بعد) پیاسا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ بہشت میں داخل ہوجائے اور ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے درمیانی حصہ بخشش ہے یعنی وہ مغفرت کا زمانہ ہے اور اس کے آخری حصے میں دوزخ کی آگ سے نجات ہے (مگر تینوں چیزیں مومنین کے لئے ہی مخصوص ہیں کافروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے) اور جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام و لونڈی کا بوجھ ہلکا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اسے آگ سے نجات دے گا۔ تشریح اور اس کی راتوں میں قیام نفل قرار دیا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کی راتوں میں نماز تراویح اور اسی قسم کی دوسری سنت مؤ کدہ عبادتوں کے لئے شب بیداری کو نفل قرار دیا ہے لہٰذ جس نے شب بیداری کی اور نماز تراویح وغیرہ پڑھی وہ عظیم اجر وثواب سے نوازا جائے گا اور جو شخص اسے ترک کرے گا وہ نہ صرف یہ کہ خیر بھلائی کی سعادتوں سے محروم رہے گا، بلکہ حق تعالیٰ کے عتاب میں بھی گرفتار ہوگا۔ اس جملے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز تراویح کو نفل قرار دیا ہے کیونکہ نماز تراویح تو سنت مؤ کدہ ہے اور اس کی بڑی تاکید ہے چناچہ ابوداؤد کی باب فی شہادۃ الواحد علی رویۃ ہلال رمضان میں ایک روایت منقول ہے جس کے یہ الفاظ ہیں فامر بلال فنادی فی الناس ان یقوموا وان یصوموا (یعنی جب رمضان کے چاند کی گواہی گزر چکی تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو اعلان کرنے کا حکم دیا چناچہ انہوں نے اعلان کیا کہ قیام کیا جائے یعنی نماز تراویح پڑھی جائے اور روزہ رکھا جائے۔ یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے، اس لئے فرمایا کہ یہ تو معلوم ہی ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد پیاس کو وجود ہی باقی نہیں رہے گا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے، آیت (انک لا تظماء فیہا)، بیشک تم جنت میں پیاسے نہیں ہوگے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ شخص اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ رمضان کے ابتدائی یعنی اول عشرہ کو رحمت فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب کہ باری تعالیٰ کی رحمت عام کا نزول ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اگر اس کی رحمت نہ ہو تو پھر نہ کوئی روزہ رکھے اور نہ کوئی تراویح وغیرہ پڑھے۔ اپنے غلام و لونڈی کا بوجھ ہلکا کیا کرو، کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزہ دار اپنے خدمت گار اور ملازم کے ساتھ انتہائی مروت اور محبت و رحمت کا معاملہ کرے اور ان کے فرائض خدمت میں آسانی اور رعایت کرے اس طرح عام دنوں کی بہ نسبت روزہ کی حالت میں ان پر اپنی خدمت اور دوسرے کاموں کا بوجھ نہ ڈالے۔

1968Mishkaat-al-Masabih

رمضان میں اسیروں کی رہائی

وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل شهر رمضان أطلق كل أسير وأعطى كل سائل . رواه البيهقي

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا ماہ مقدس شروع ہوتا تو رسول کریم ﷺ ہر قیدی کو رہائی بخشتے اور ہر سائل کی مراد پوری فرماتے۔ تشریح قیدی سے مراد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو حقوق اللہ کے لئے قید ہوتے تھے اور وہ لوگ بھی مراد لئے جاسکتے ہیں جو حقوق العباد کی خاطر قید کئے جاتے تے، جو لوگ حقوق العباد کی خاطر قید ہوتے تھے ان کی رہائی سے مراد یہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ ایسے قیدیوں کو صاحب حقوق سے کہہ کر آزاد کرایا کرتے تھے ایک احتمال یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ صرف انہیں قیدیوں کو چھوڑ دیتے تھے جو خود آپ ﷺ کے حقوق کی خاطر قید ہوتے تھے یوں تو جود و سخا آنحضرت ﷺ کا امتیازی وصف تھا اور آپ ﷺ رمضان کے علاوہ دوسرے ایام میں بھی ہر سائل کا سوال پورا کیا کرتے تھے مگر ماہ رمضان میں آپ ﷺ کے وصف جود و سخا کی کچھ اور ہی کیفیت ہوا کرتی تھی چناچہ حدیث کے آخری الفاظ اور ہر سائل کی مراد پوری فرماتے کی مراد یہ ہوگی کہ آپ ﷺ رمضان میں اپنی عادت اور اپنے معمول سے بھی زیادہ عطاء و سخاوت فرمایا کرتے تھے۔

1969Mishkaat-al-Masabih

استقبال رمضان کے لئے بہشت کی زیارت

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الجنة تزخرف لرمضان من رأس الحول إلى حول قابل . قال : فإذا كان أول يوم من رمضان هبت ريح تحت العرش من ورق الجنة على الحور العين فيقلن : يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بنا . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رمضان کے استقبال کے لئے جنت شروع سال سے آخر سال تک اپنی زیب وزینت کرتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب چناچہ جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کئے نیچے جنت کے درختوں کے پتوں سے حور عین کے سر پر ہوا چلتی ہے پھر حوریں کہتی ہیں اے ہمارے پروردگار! اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے شوہر بنا دے کہ ان (کی صحبت و ہم نشینی کے سرور و کیف) ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہمارے دیدار و وصل سے ٹھنڈک پائیں۔ (یہ تینوں روایتیں بیہقی شعب الایمان میں درج کی ہیں)۔ تشریح شروع سال سے مراد محرم کا ابتدائی دن ہے لیکن یہ بھی بعید نہیں کہ جنت و رمضان کے اعتبار سے شروع سال سے مراد شوال کا ابتدائی دن ہو۔ حاصل یہ کہ رمضان اور رمضان کی برکات یعنی کثرت و مغفرت اور بلندی درجات وغیرہ کے آنے کی خوشی میں جنت تمام سال اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے شوہر بنا دے، بندہ سے اللہ کے وہ نیک و فرمانبردار بندے مراد ہیں جو رمضان کے دنوں میں روزہ رکھتے ہیں اور راتوں میں نماز تراویح میں مشغول رہتے ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی منقول ہے کہ جو بندہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے تو اس کے ہر دن کے روزہ کے بدلے میں اسے موتیوں کے خیمے میں حور عین میں سے ایک زوجہ عطا کی جاتی ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے حور مقصورات فی الخیام۔

1970Mishkaat-al-Masabih

روزہ دار کو رمضان کی آخری رات میں مغفرت عطا ہوتی ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : يغفر لأمته في آخر ليلة في رمضان . قيل : يا رسول الله أهي ليلة القدر ؟ قال : لا ولكن العامل إنما يوفى أجره إذا قضى عمله . رواه أحمد

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ان کی (یعنی میری امت) کے روزہ دار افراد کی رمضان کی آخری رات میں بخشش ہوجاتی ہے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! کیا وہ لیلۃ القدر ہے؟ (جس میں بخشش کی جاتی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ کام کرنے والا جب اپنا کام کر چکتا ہے تو اسے اسی وقت اس کی پوری مزدوری دے دی جاتی ہے۔ (احمد) تشریح آپ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ مغفرت کی یہ سعادت لیلۃ القدر کی وجہ سے عطا نہیں ہوتی بلکہ اس عظیم فریضہ کی تکمیل کی وجہ سے ملتی ہے جس کی ادائیگی کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دیا ہے اور وہ روزہ رکھنا ہے روایت کے الفاظ یغفر لامتہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی نہیں ہے بلکہ یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کے اپنے الفاظ ہیں جس کے ذریعے انہوں نے آپ ﷺ کے الفاظ کا مفہوم ادا کیا ہے اور بعینہ آپ ﷺ کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں۔ کہ وہ یہ ہیں یغفر لامتی۔

1971Mishkaat-al-Masabih

بغیر چاند ہوئے نہ روزہ شروع کرو اور نہ ختم کرو

عن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له . وفي رواية قال : الشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين

حضرت ابن عمر ؓ روی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (شعبان کی تیرویں تاریخ کو رمضان کی نیت سے) روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اسی طرح روزہ اس وقت ختم نہ کرو جب تک کہ عید کا چاند نہ دیکھ لو لہٰذا (تیسویں شب یعنی انتیسویں تاریخ کو) اگر (گرد و غبار اور ابر وغیرہ یا کسی اور سبب سے) چاند نظر نہ آئے تو اس کا اعتبار کرو (یعنی اس مہینے کو تیس دن کا سمجھ لو) ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی تیس رات کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو (رمضان کی نیت سے) روزہ نہ رکھو اور اگر انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ ہو اور چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کرو (یعنی تیس دن کا مہینہ سمجھو)۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو یا معتبر شہادت اور معتبر ذرائع سے جب تک رویت ہلال ثابت نہ ہوجائے نہ تو روزہ رکھو اور روزہ ختم کر کے عید مناؤ۔ مہینہ کبھی انتیس رات کا بھی ہوتا ہے، سے دراصل اس بات کی ترغیب دلانا مقصود ہے کہ تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کیا جائے، چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ شعبان کی انتیسویں تارخ کو لوگوں پر واجب کفایہ ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں۔

1972Mishkaat-al-Masabih

بغیر چاند ہوئے نہ روزہ شروع کرو اور نہ ختم کرو

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ چاند دیکھنے کے بعد روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار یعنی عید کرو، لہٰذا انتیسویں تاریخ کو اگر ابر وغیرہ ہوجائے اور رویت ہلال ثابت نہ ہو تو شعبان کے مہینے کو تیس دن کا قرار دو (اسی طرح رمضان کے مہینے کا بھی اعتبار کرو) بخاری ومسلم)

1973Mishkaat-al-Masabih

نجوم کے قواعد سے چاند کا ثبوت معتبر نہیں ہوتا

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنا أمة أمية لا تكتب ولا تحسب الشهر هكذا وهكذا وهكذا . وعقد الإبهام في الثالثة . ثم قال : الشهر هكذا وهكذا وهكذا . يعني تمام الثلاثين يعني مرة تسعا وعشرين ومرة ثلاثين

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہم اہل عرب امی قوم ہیں کہ حساب کتاب نہیں جانتے مہینہ اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے (لفظ اتنا تین مرتبہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو مرتبہ بند کیں اور پھر کھول دیں) اور تیسری مرتبہ میں ہاتھوں کی انگلیاں بند کر کے پھر نو انگلیاں تو کھول دیں اور انگوٹھا بند کئے رکھا جس کا مطلب یہ تھا کہ کبھی تو مہینے میں ایک کم تیس دن ہوتے ہیں یعنی انتیس کا مہینہ ہوتا ہے اور پھر فرمایا مہینہ اتنا اور اتنا (اور اس مرتبہ آپ ﷺ نے تیس کا عدد بتانے لئے پہلے کی طرح تیس مرتبہ میں انگوٹھا بند نہیں رکھا) یعنی پورے تیس دن کا ہوتا ہے آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ کبھی تو مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اہل عرب کو امی اس لئے فرمایا گیا کہ وہ جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے ویسے ہی رہتے تھے پڑھتے لکھتے نہیں تھے۔ مگر آپ ﷺ نے یہ اکثر کے اعتبار سے فرمایا ہے کیونکہ اگرچہ عرب میں تعلیم عام نہیں تھی اور اکثریت بےپڑھے لکھے لوگوں کی تھی مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ لوگ علم کے زیور سے آراستہ ہوتے ہی تھے یا اس جملے سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اہل عرب حساب کتاب اچھی طرح نہیں جانتے۔ بہرحال حدیث کے معنی یہ ہیں کہ نجوم کے قواعد پر عمل کرنا ہمارا شیوہ اور طریقہ نہیں ہے اور نہ نجوم کے قواعد و حساب سے جیسا کہ جنتری وغیر میں لکھا ہوتا ہے چاند کا ثبوت معتبر ہوسکتا ہے بلکہ اس بارے میں ہمارا علم صرف رویت ہلال سے متعلق ہے کہ اگر چاند دیکھا جائے گا یا چاند کی رویت شرعی قواعد و ضوابط کے تحت ثابت ہوجائے گی تو روزہ شروع ہوگا یا اس کا اختتام ہوگا اسی بات کے آخر میں وضاحت کی گئی کہ کسی مہینے میں چاند انتیس تاریخ کو ہوتا ہے اور کسی مہینے میں تیس تاریخ کو۔ روایت کی آخری عبارت کے دونوں جملے یعنی تمام الثلثین اور یعنی مرۃ تسعا الخ راوی کے الفاظ ہیں پہلے جملہ سے تو راوی نے آنحضرت ﷺ کے آخری اشارے کو بیان کیا ہے اور دوسرے جملے کے ذریعے دونوں چیزوں کی وضاحت کردی ہے۔

1974Mishkaat-al-Masabih

رمضان اور ذی الحجہ کے مہینے

وعن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شهرا عيد لا ينقصان : رمضان وذو الحجة

حضرت ابوبکرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عید کے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ ناقص نہیں ہوتے۔ (بخاری ومسلم) تشریح رمضان کو عید اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ یہ عید کے قریب ہوتا ہے بہرحال حدیث کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ایک سال میں رمضان اور ذی الحجہ دونوں مہینے ناقص یعنی انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے یا اس کے معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں یہ دونوں مہینے ناقص نہیں ہوئے ہوں گے۔ یا پھر اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دونوں مہینے حکم اور ثواب کے اعتبار سے ناقص نہیں ہوتے اگرچہ ان میں سے ایک انتیس دن کا اور دوسرا تیس دن کا ہو یا دونوں ہی انتیس انتیس دن کے ہوں مگر ثواب پورے تیس دن کا ہی ملتا ہے۔

1975Mishkaat-al-Masabih

رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صوما فليصم ذلك اليوم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک دن یا دو دن قبل روزہ نہ رکھے ہاں جو شخص روزہ رکھنے کا عادی ہو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممانعت اس شخص کے حق میں نہیں ہے جو ان ایام میں روزہ رکھنے کا عادی ہو مثلا کوئی شخص پیر یا جمعرات کے دن نفل روزہ رکھنے کا عادی ہو اور اتفاق سے شعبان کے انتیس یا تیس تاریخ اسی دن ہوجائے تو اس کے لئے اس دن روزہ رکھنا ممنوع نہیں ہے ہاں جو شخص ان دنوں میں روزہ رکھنے کا عادی نہ ہو وہ نہ رکھے؟ تاہم اتنی بات ملحوظ رہے کہ یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ رمضان سے ایک دن یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت اس لئے ہے تاکہ نفل اور فرض دونوں روزوں کا اختلاط نہ ہوجائے اور اہل کتاب کے ساتھ مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ فرض روزوں کے ساتھ دوسرے روزے بھی ملا لیتے تھے۔ مظہر کا قول ہے کہ شعبان کے آخری ایام میں رمضان سے صرف ایک دن یا دو دن قبل روزہ رکھنا مکرو ہے۔ مولانا اسحق رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس روزے سے منع کیا جا رہا ہے وہ یوم الشک کا روزہ نہیں بلکہ مطلقاً شعبان کے آخری ایام میں رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے البتہ جو شخص ان ایام میں روزہ رکھنے کا عادی ہو وہ اس ممانعت سے مستثنی ہے۔

1976Mishkaat-al-Masabih

شعبان کے آخری نصف مہینے میں روزہ رکھنے کی ممانعت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انتصف شعبان فلا تصوموا . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب شعبان کا آدھا مہینہ گزر جائے تو روزے نہ رکھو (ابو داؤد)، ترمذی ابن ماجہ، دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ شعبان کے آخری نصف مہینے میں قضا یا کسی واجب روزہ کے علاوہ اور روزے نہ رکھے جائیں مگر یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور اس کا تعلق امت کی آسانی و شفقت سے ہے یعنی آپ ﷺ نے رمضان کے بالکل قریبی ایام میں روزے رکھنے سے اس لئے منع فرمایا ہے تاکہ ان روزوں کی وجہ سے لوگوں کو ضعف و نا تو انی لاحق نہ ہوجائے کہ جس کی وجہ سے رمضان کے روزے دشوار اور بھاری ہوجائیں۔ قاضی کا قول ہے کہ اس ممانعت کا تعلق اس شخص سے ہے کہ جس کو پے در پے متواتر روزے کی طاقت میسر نہ ہو لہٰذا اس کے لئے ان دنوں میں روزے نہ رکھنا ہی مستحب ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو قوت برداشت نہ رکھتے ہوں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ وہ روزہ کی غیر متحمل مشقت سے بچ کر اس دن ذکر و دعا میں مشغول رہیں ہاں جن لوگوں کے اندر قوت برداشت ہو ان کے لئے شعبان کے آخری نصف مہنے میں روزے رکھنے ممنوع نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ شعبان میں پورے مہینے میں روزے رکھا کرتے تھے۔

1977Mishkaat-al-Masabih

شعبان کے دنوں کو یاد رکھو

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحصوا هلال شعبان لرمضان . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ رمضان کے لئے شعبان کا مہینہ شمار کرو۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ ماہ شعبان کے دنوں کو گنتے رہو اور انہیں یاد رکھو تاکہ رمضان کی آمد کا علم رہے۔ آنحضرت ﷺ شعبان کے پورے مہینے میں روزے رکھتے تھے ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صرف دو مہینوں یعنی شعبان اور رمضان میں متواتر روزے رکھتے تھے دیکھا ہے۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح یعنی نبی کریم ﷺ جس طرح رمضان کے پورے مہینے میں روزے رکھا کرتے تھے۔ ایسے ہی شعبان کے پورے مہینے میں بھی روزے سے رہتے تھے اس حدیث کی مفصل وضاحت انشاء اللہ باب صیام التطوع میں مذکور ہوگی۔

1978Mishkaat-al-Masabih

یوم الشک کے روزہ کا مسئلہ

وعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال : من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت عمار بن یاسر ؓ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے یوم الشک کو روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح شعبان کی تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ کی وجہ سے چاند نہیں دیکھا گیا مگر ایک شخص نے چاند دیکھنے کی شہادت دی اور اس کی شہادت قبول نہیں کی گئی اسی طرح دو فاسق لوگوں نے چاند دیکھنے کی گواہی دی اور ان کی گواہی قبول نہیں کی گئی اس کی صبح کو جو دن ہوگا یعنی تیس تاریخ کو یوم الشک (شک کا دن) کہلائے گا کیونکہ اس دن کے بارے میں یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ رمضان شروع ہوگیا ہو اور یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ رمضان شروع نہ ہوا ہو لہٰذا اس غیر یقینی صورت کی وجہ سے اسے شک کا دن کہا جاتا ہے ہاں اگر انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ نہ ہو اور کوئی بھی شخص چاند نہ دیکھے تو تیس تاریخ کو یوم الشک نہ کہیں گے۔ اس حدیث میں اسی دن کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یوم الشک کو رمضان یا کسی واجب کی نیت سے روزہ رکھنا مکروہ ہے البتہ اس دن نفل روزہ رکھنے کے بارے میں کچھ تفصیل ہے، چناچہ اگر کوئی شخص شعبان کی پہلی ہی تاریخ سے نفل روزہ رکھتا چلا آ رہا ہو یا تیس تاریخ اتفاق سے اس دن ہوجائے کہ جس میں کوئی شخص روزہ رکھنے کا عادی ہو جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے تو اس کے لئے اس دن روزہ رکھنا افضل ہوگا۔ اسی طرح یوم الشک کو روزہ رکھنا اس شخص کے لئے بھی افضل ہے جو شعبان کے آخری تین دنوں میں روزے رکھتا ہو اور اگر یہ صورتیں نہ ہوں تو پھر یوم الشک کا مسئلہ یہ ہے کہ خواص تو اس دن نفل کی نیت کے ساتھ روزہ رکھ لیں اور عوام دوپہر تک کچھ کھائے پئے بغیر انتظار کریں اگر چاند کی کوئی قابل قبول شہادت نہ آئے تو دوپہر کے بعد افطار کرلیں۔ حضرت ابن عمر ؓ اور دوسرے صحابہ کا یہ معمول نقل کیا جاتا ہے کہ یہ حضرات شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کرتے اگر چاند دیکھ لیتے یا معتبر شہادت کے ذریعے رویت ہلال کا ثبوت ہوجاتا تو اگلے روز روزہ رکھتے ورنہ بصورت دیگر ابرو غبار وغیرہ سے مطلع صاف ہونے کی صورت میں روزہ نہ رکھتے ہاں اگر مطلع صاف نہ ہوتا تو روزہ رکھ لیتے تھے اور علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ان کا یہ روزہ نفل ہوتا تھا۔ خواص سے مراد وہ لوگ ہیں جو شک کے دن کے روزے کی نیت کرنا جانتے ہوں اور جو لوگ اس دن کے روزے کی نیت کرنا نہ جانتے ہوں انہیں عوام کہا جاتا ہے چناچہ اس دن روزہ کی نیت یہ ہے کہ جو شخص اس دن کہ جس میں رمضان کے بارے میں شک واقع ہو رہا ہے روزہ رکھنے کا عادی نہ ہو وہ یہ نیت کرے کہ میں آج کے دن نفل روزے کی نیت کرتا ہوں اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اگر آج رمضان کا دن ہو تو یہ روزہ رمضان کا بھی ہے اس طرح نیت کرنی مکروہ ہے۔ کہ اگر کل رمضان کا دن ہو تو یہ روزہ رمضان میں محسوب ہو اور اگر رمضان کا دن نہ ہو تو نفل یا کسی اور واجب میں محسوب ہو۔ تاہم اگر کسی نے اس طرح کرلیا اور اس دن رمضان کا ہونا ثابت ہوگیا تو وہ روزہ رمضان ہی میں محسوب ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اس نیت کے ساتھ روزہ رکھے کہ اگر آج رمضان کا دن ہوگا تو میرا بھی روزہ ہوگا اور اگر رمضان کا دن نہیں ہوگا تو میرا روزہ بھی نہیں ہوگا۔ تو اس طرح نہ نفل کا روزہ ہوگا اور نہ رمضان کا ہوگا چاہے اس دن رمضان کا ہونا ہی ثابت کیوں نہ ہوجائے۔

1979Mishkaat-al-Masabih

شہادت ہلال

وعن ابن عباس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني رأيت الهلال يعني هلال رمضان فقال : أتشهد أن لا إله إلا الله ؟ قال : نعم قال : أتشهد أن محمدا رسول الله ؟ قال : نعم . قال : يا بلال أذن في الناس أن يصوموا غدا . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم کیا اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں؟ اس نے کہا ہاں اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا کہ بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص مستور الحال ہو یعنی اس کا فاسق ہونا معلوم نہ ہو تو رمضان کے چاند کے بارے میں اس کی شہادت معتبر اور قابل قبول ہوگی نیز یہ کہ رمضان کے چاند کی گواہی دیتے ہوئے لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہلال رمضان شریف شہادت میں صرف ایک شخص کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے چناچہ حنفی مسلک میں صحیح مسئلہ یہی ہے کہ ہلال رمضان کی رویت ایک عادل یا مستور الحال شخص کی شہادت سے ثابت ہوجاتی ہے نیز یہ کہ ہلال رمضان کی شہادت میں لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے مگر ایک شخص کی گواہی اسی صورت میں معتبر ہوگی جب کہ مطلع ابرو غبار آلود ہو اگر عید کی چاند رات کو ابرو غبار ہو تو پھر دو مرد یا ایک مرد اور دو عادل و آزاد عورتوں کی شہادت ہی معتبر ہوگی نیز یہ کہ اس موقع پر لفظ شہادت کا استعمال بھی شرط ہوگا پھر موقع و محل کے پیش نظر شہادت کی صورت بھی بدلتی رہتی ہے۔ مطلع صاف ہو تو جماعت کثیرہ کی شہادت ضروری ہوگی۔

1980Mishkaat-al-Masabih

شہادت ہلال

وعن ابن عمر قال : تراءى الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه و سلم أني رأيته فصام وأمر الناس بصيامه . رواه أبو داود والدارمي

حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ چاند دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہوئے چناچہ میں نے رسول کریم ﷺ کو بتایا کہ میں نے چاند دیکھا ہے آپ ﷺ نے روزہ رکھ لیا اور دوسرے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ( ابوداؤد، نسائی)