Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 100 of 317

1981Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ شعبان کے دنوں کو بڑی احتیاط سے شمار کرتے تھے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتحفظ من شعبان مالا يتحفظ من غيره . ثم يصوم لرؤية رمضان فإن غم عليه عد ثلاثين يوما ثم صام . رواه أبو داود

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ شعبان کے دنوں کو اس قدر احتیاط سے شمار کرتے تھے کہ اور کسی مہینے پر اتنی توجہ مبذول نہیں فرماتے تھے۔ پھر آپ ﷺ رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے، اگر انتیس تاریخ کو مطلع ابر آلود ہوتا اور چاند کی رویت ثابت نہ ہوتی تو تیس دن پورے کرنے کے بعد روزہ شروع کرتے تھے۔ (ابو داؤد) تشریح آپ ﷺ کا معمول تھا کہ شعبان کے مہینے پر آپ ﷺ کی خاص توجہ رہتی تھی اور اس کے دنوں کو بڑی احتیاط اور محافظت کے ساتھ شمار کرتے رہتے تھے تاکہ رمضان کے چاند کے بارے میں کوئی خربطہ پیدا نہ ہو، شعبان کے علاوہ اور کسی مہینے پر آپ ﷺ کی اس قدر توجہ مبذول نہیں ہوتی تھی کیونکہ کسی دوسرے مہینے سے کوئی شرع امر متعلق نہیں تھا البتہ حج کا مہینہ ایسا ہوتا تھا جس سے ایک شرع فریضہ متعلق تھا سو وہ نادر ہے کہ نہ تو اس کا تعلق ہر شخص سے اور نہ ہر سال فرض ہے۔

1982Mishkaat-al-Masabih

چاند دیکھ کر روزہ رکھنا چاہئے

وعن أبي البختري قال : خرجنا للعمرة فلما نزلنا ببطن نخلة تراءينا الهلال . فقال بعض القوم : هو ابن ثلاث . وقال بعض القوم : هو ابن ليلتين فلقينا ابن عباس فقلنا : إنا رأينا الهلال فقال بعض القوم : هو ابن ثلاث وقال بعض القوم : هو ابن ليلتين . فقال : أي ليلة رأيتموه ؟ قلنا : ليلة كذا وكذا . فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مده للرؤية فهو لليلة رأيتموه وفي رواية عنه . قال : أهللنا رمضان ونحن بذات عرق فأرسلنا رجلا إلى ابن عباس يسأله فقال ابن عباس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى قد أمده لرؤيته فإن أغمي عليكم فأكملوا العدة . رواه مسلم

حضرت ابوالبختری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عمرہ کرنے کی غرض سے اپنے شہر کوفہ سے نکلے جب ہم لوگ بطن نخلہ میں جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے ٹھہرے تو چاند دیکھنے کے لئے ایک جگہ جمع ہوئے چاند دیکھنے کے بعد بعض لوگوں نے کہا کہ یہ چاند تیسری شب کا ہے اور دوسرے بعض لوگوں نے کہا کہ دوسری شب کا ہے اس کے بعد جب ابن عباس ؓ سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس سے لوگوں کا بیان عرض کیا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تم نے چاند کس رات دیکھا تھا؟ ہم نے کہا کہ ایسی اور ایسی رات (یعنی مثلا پیر یا منگل کی رات) میں دیکھا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان کی مدت کو چاند دیکھنے پر موقوف کیا ہے (یعنی جب چاند دیکھا جائے گا تو رمضان کی ابتداء ہوگی) لہٰذا چاند اسی رات کا ہے کہ جس رات میں تم نے اسے دیکھا ہے۔ ابوالبختری ہی کی ایک روایت یوں ہے کہ ہم نے ذات عرق میں کہ جو مذکورہ بالا بطن نخلہ کے قریب ایک مقام ہے چاند دیکھا، چناچہ ہم نے ایک شخص کو حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں ان سے یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ یہ چاند کس رات کا ہے؟ کیونکہ ہمارے درمیان مذکورہ بالا اختلاف پیدا ہوگیا تھا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شعبان کی مدت کو رمضان کا چاند دیکھنے کے وقت تک دراز کیا ہے۔ لہٰذا اگر انتیس تاریخ کو مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ (یعنی شعبان کے تیس دن پورے کرو) اور اس کے بعد روزہ رکھو۔ (مسلم) تشریح حاصل یہ ہے کہ رمضان کا مدار چاند دیکھنے پر ہے چاند کے بڑا ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے بلکہ منقول ہے کہ چاند رات میں چاند کا بڑا ہونا قرب قیامت کی علامت ہے۔ یہاں جو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ وہ اگرچہ بظاہر مختلف معلوم ہوتی ہیں مگر درحقیقت اس احتمال کے پیش نظر ان میں کوئی منافات نہیں ہے کہ ان لوگوں نے ذات عرق میں جمع ہو کر چاند دیکھا ہو پھر ان میں اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں ایک آدمی حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں بھیجا گیا ہو۔ انہوں نے اس وقت آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل فرما دیا پھر جب سب لوگ بطن نخلہ میں پہنچے تو اس بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے بالمشافہ سوال کیا چناچہ حضرت ابن عباس ؓ نے انہیں آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کی روشنی میں مذکورہ بالا جواب دیا، چاند دیکھنے کے بارے میں کچھ مسائل ذہن نشین کرلیجئے۔ اگر شعبان کی تیس تاریخ کو دن میں زوال سے پہلے یا زوال کے بعد چاند نظر آئے تو وہ شب آئندہ کا چاند سمجھا جائے گا لہٰذا اس دن نہ رمضان کی ابتداء کا حکم دیا جائے گا۔ اور نہ اس دن روزہ رکھنے کے لئے کہا جائے گا اسی طرح اگر رمضان کی تیس تاریخ کو چاند نظر آئے تو نہ اس دن روزہ افطار کیا جائے گا اور نہ اس دن کو یوم عید قرار دیا جائے گا۔ شعبان کی تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کرنا واجب علی الکفایہ ہے۔ اگر کسی ایک جگہ چاند کی رویت ثابت ہوجائے تو تمام جگہوں کے لوگوں کو اگلے روز روزہ رکھنا واجب ہوگا اس سلسلے میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہ ہوگا۔ مثلا اگر دہلی میں جمعہ کی شب میں چاند کی رویت ہوجائے اور دوسرے شہروں میں ہفتہ کی شب میں چاند دیکھا جائے تو ہفتہ کی شب میں چاند دیکھنے کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ تمام شہروں میں دہلی کی رویت معتبر ہوگی اور سب جگہ جمعہ کے روز سے روزہ رکھنا لازم ہوگا۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کی ظاہری روایت یہی ہے اور حنفیہ کے جمہور علماء کا اسی پر اعتماد و فتویٰ ہے جب کہ امام شافع اور امام احمد کے مسلک میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے ان حضرات کے ہاں ایک شہر والوں کا چاند دیکھنا دوسرے شہر والوں کے لئے کافی نہیں ہے۔ جس شخص نے رمضان کا چاند دیکھا ہو اور اس کی شہادت و خبر کسی وجہ سے قابل قبول نہ ہو تو خود اس کو اپنی رویت کے مطابق روزہ رکھنا چاہیے اگر وہ خود بھی روزہ نہیں رکھے گا تو اس پر قضا لازم آئے گی۔

1983Mishkaat-al-Masabih

سحری کھانے کا حکم

عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسحروا فإن في السحور بركة

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھنے کے لئے سحر کے وقت کچھ نہ کچھ کھا لینا چاہئے چناچہ ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ سحری کھاؤ چاہے وہ ایک گھونٹ پانی ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو، یہ حکم وجوب کے طور پر نہیں ہے بلکہ بطور استحباب ہے۔ سحر رات کے آخری حصے کو کہتے ہیں سحور سین کے زبر کے ساتھ اسم ہے یعنی سحور طعام سحر کو کہتے ہیں اور سین کے پیش کے ساتھ مصدر ہے جس کے معنی ہیں سحر کے وقت کھانا یہاں اس روایت میں یہ لفظ سحور اسم نقل کیا گیا ہے چناچہ محدثین کے نزدیک روایت محفوظ میں یہ لفظ یوں ہی ہے البتہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ بہتر اور مناسب سحور مصدر ہی ہے کیونکہ حدیث کے مفہوم کے پیش نظر برکت کا تعلق فعل یعنی سحر کے وقت کھانے سے ہے نہ کہ اس کا تعلق اسم یعنی طعام سے ہے۔ برکت سے مراد یہ ہے کہ سحری کھانا چونکہ در اصل سنت نبوی پر عمل کرنا ہے اس لئے اس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اجر عظیم حاصل ہوتا ہے بلکہ روزہ رکھنے کی قوت بھی آتی ہے۔

1984Mishkaat-al-Masabih

سحر کے وقت کھانا اہل ایمان اور اہل کتاب کے درمیان ایک امتیاز ہے

وعن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر . رواه مسلم

حضرت عمر وبن العاص ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہمارے روزے اور اہل کتاب (یعنی یہود و نصاری) کے روزے کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔ (مسلم) تشریح اہل کتاب کے ہاں رات میں سو رہنے کے بعد کھانا حرام تھا اسی طرح مسلمانوں کے ہاں بھی ابتداء اسلام میں یہی حکم تھا مگر بعد میں مباح ہوگیا لہٰذا سحری کھانے سے اہل کتاب کی مخالفت لازم آتی ہے جو اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کا ایک ذریعہ ہے۔

1985Mishkaat-al-Masabih

افطار میں جلدی بھلائی ہے

وعن سهل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر

حضرت سہل ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے بھلائی کے ساتھ رہیں گے۔ (بخاری مسلم) تشریح افطار میں جلدی کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب کے غروب ہوجانے کے بعد افطار میں دیر نہ لگائی جائے، شہروں میں غروب آفتاب کی علامت یہ ہے کہ مشرق کی جانب سیاہی بلند ہوجائے یعنی جہاں سے صبح صادق شروع ہوتی ہے وہاں تک پہنچ جائے تو آسمان کے بیچوں بیچ سیا ہی کا پہنچنا شرط نہیں ہے۔ غروب آفتاب کے بعد افطار میں جلدی کرنے سے اہل کتاب کی مخالفت بھی ہوتی ہے کیونکہ وہ افطار میں اس وقت تک تاخیر کرتے ہیں جب کہ ستارے خوب اچھی طرح نہیں نکل آتے مسلمانوں میں اہل بدعت یعنی روافض کے یہاں بھی اسی پر عمل ہے لہٰذا ان کی مخالفت بھی ہوجاتی ہے۔ صحیح احادیث کے بموجب مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے افطار کرنا سنت ہے۔

1986Mishkaat-al-Masabih

افطار کا وقت

وعن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أقبل الليل من ههنا وأدبر النهار من ههنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم

حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب ادھر سے رات آئے (یعنی مشرق کی جانب سے رات کی سیاہی بلند ہو) اور ادھر (مغرب) دن جائے اور سورج (پورا) ڈوب جائے تو سمجھو کہ روزہ دار نے افطار کیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح وغربت الشمس (اور سورج ڈوب جائے) دراصل اپنے ماقبل کے جملوں کی تاکید کے طور پر استعمال فرمایا گیا حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جب افطار کا وقت ہوگیا تو گویا روزہ دار نے افطار کرلیا چاہے اس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس جملے کا معنی یہ ہے کہ روزہ دار افطار کے وقت میں داخل ہوگیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس جملے کے معنی مراد ہوں کہ جب مذکورہ وقت آجائے تو روزہ کو افطار کرلینا چاہئے۔

1987Mishkaat-al-Masabih

روزہ پر روزہ رکھنے کا مسئلہ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوصال في الصوم . فقال له رجل : إنك تواصل يا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : وأيكم مثلي إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے روزہ پر روزہ پر رکھنے سے منع فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ تو روزہ پر روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کون شخص میری طرح ہے، میں تو اس طرح رات گزارتا ہوں میرا پروردگار کھلاتا ہے اور میری پیاس بجھاتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح روزہ پر روزہ، کا مطلب یہ ہے کہ دو یا دو سے زائد روزے اس طرح مسلسل رکھے جائیں کہ درمیان میں افطار نہ ہو روزہ پر روزہ رکھنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ ضعف کا سبب ہوتا ہے جس کی وجہ سے دوسری عبادات و طاعات میں نقصان و حرج واقع ہوتا ہے۔ اس مسئلہ میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ آیا آنحضرت ﷺ کے علاوہ اور لوگوں کے لئے روزہ پر روزہ رکھنا جائز ہے یا حرام اور مکروہ؟ چناچہ بعض حضرات تو اس شخص کے لئے جواز کے قائل ہیں جو اس پر قادر ہو، یہ حضرات کہتے ہیں کہ اس صورت میں حدیث بالا میں مذکورہ ممانعت صرف رحمت و شفقت کے طور پر ہے ان کی دلیل حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو وصال یعنی روزہ پر روزہ رکھنے سے ان پر رحمت و شفقت کے پیش نظر منع فرمایا ہے۔ نیز بعض صحابہ مثلا حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ وغیرہ اور بعض تابعین مثلا حضرت عبداللہ بن معمر، عامر بن عبداللہ بن زبیر اور حضرت ابراہیم تیمی رحمھما اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ یہ حضرات روزہ پر روزہ رکھتے تھے۔ اکثر علماء کہتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک اور امام شافعی رحمھما اللہ نے اسے مکروہ کہا ہے اگرچہ اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ مکروہ تحریمی ہے جمہور علماء کا کہنا یہ ہے کہ روزہ پر روزہ رکھنا آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے ہے اور حدیث کے ظاہر مفہوم سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اس بنا پر اہل سلوک کہ جو ریاضت و مجاہدہ اور نفس کشی کا زیادہ شوق اور ذوق رکھتے ہیں ایک چلو پانی سے ہر روزہ کا افطار کرلیا کرتے تھے تاکہ روزہ پر روزہ رکھنے کا اطلاق نہ ہو سکے۔ یطعمنی ربی ویسقینی کی مراد کے بارے میں کئی اقوال ہیں مختار اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے ظاہری کھلانا پلانا مراد نہیں ہے آپ ﷺ غذائے جسمانی سے قطعا مستغنی تھے اور جب دنیاوی طور پر محبت مجازی اور مسرت حسی میں اس کا تجربہ ہے تو محبت حقیقی اور مسرت معنوی کا کیا کہنا کہ اس کی وجہ سے علائق دنیا سے جتنا بھی استغنا ہو کم ہے۔

1988Mishkaat-al-Masabih

روزہ کی نیت کب کی جائے

عن حفصة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي وقال أبو داود : وقفه على حفصة معمر والزبيدي وابن عيينه ويونس الأيلي كلهم عن الزهري

حضرت حفصہ ؓ راویہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص روزے کی نیت فجر سے پہلے نہ کرے تو اس کا روزہ کامل نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور امام ابوداؤد فرماتے ہیں معمر، زبیدی ابن عیینہ اور یونس ایلی ان تمام نے اس روایت کو زہری سے نقل کیا ہے اور حضرت حفصہ ؓ پر موقوف کیا ہے یعنی اس حدیث کو حضرت حفصہ ؓ عناہ کا قول کہا ہے۔ تشریح اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر روزہ کی نیت رات ہی سے نہ کی جائے تو روزہ درست نہیں ہوتا خواہ روزہ فرض ہو یا واجب ہو یا نفل۔ لیکن اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں چناچہ حضرت امام مالک (رح) کا تو یہی مسلک ہے کہ روزہ میں نیت رات ہی سے کرنی شرط ہے خواہ روزہ کسی نوعیت کا ہو، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا بھی یہی قول ہے لیکن نفل کے معاملے میں ان دونوں کے یہاں اتنا فرق ہے کہ اگر روزہ نفل ہو تو امام احمد کے ہاں زوال سے پہلے بھی نیت کی جاسکتی ہے اور امام شافعی کے نزدیک آفتاب غروب ہونے سے پہلے تک بھی نیت کر لینی جائز ہے۔ حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ رمضان نفل اور نذر معین کے روزہ میں آدھے دن شرعی یعنی زوال آفتاب سے پہلے پہلے نیت کر لینی جائز ہے لیکن قضاء کفارہ اور نذر مطلق میں حنفیہ کے یہاں بھی رات ہی سے نیت کرنی شرط ہے ان تمام حضرات کی دلیلیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔

1989Mishkaat-al-Masabih

سحری کا آخری وقت ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سمع النداء أحدكم والإناء في يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه . رواه أبو داود

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر تم میں سے کوئی شخص (فجر کی) اذان سنے اور اس کے ہاتھوں میں برتن ہو (کہ جس سے وہ پینے یا کچھ کھانے کا ارادہ رکھتا ہو تو) برتن رکھ نہ دے بلکہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔ (ابو داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر سحر کے وقت کوئی شخص کھانا پینا چاہتا ہو مگر فجر کی اذان شروع ہوگئی تو وہ محض اذان کی آواز سن کر اپنا کھانا نہ چھوڑ دے لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ حکم اس صورت کے لئے ہے جب کہ یہ یقین یا گمان غالب ہو کہ صبح نہیں ہوئی اور سحر کا وقت باقی ہے اور اگر اس بات کا یقین یا گمان غالب ہو کہ صبح ہوگئی ہے اور سحر کا وقت باقی نہیں رہا ہے تو پھر کھانا پینا نہ چھوڑ دینا چاہئے ابن مالک فرماتے ہیں کہ اگر طلوع صبح کا علم نہ ہو تو کھانا پینا موقوف نہ کرے اور اگر یہ معلوم ہو کہ صبح طلوع ہوگئی ہے یا طلوع صبح کا شک بھی ہو تو کھانا پینا چھوڑ دے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ حدیث میں مذکور اذان سے مراد مغرب کی اذان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اذان سن کر کھانا پینا چھوڑ دینا مسنون ہے مگر افطار کے وقت اگر کوئی شخص مغرب کی اذان سنے اور وہ کچھ پی رہا ہو تو اس صورت میں پینا نہ چھوڑے بلکہ پہلے پی لے پھر نماز کے لئے جائے۔

1990Mishkaat-al-Masabih

وقت ہوجانے پر افطار میں جلدی کرنے کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : أحب عبادي إلي أعجلهم فطرا . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندوں میں سب سے زیادہ پیارا وہ بندہ ہے جو وقت ہوجانے پر افطار میں جلدی کرے۔ (ترمذی) تشریح جلد افطار کرنے والے کو اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہونے کی فضیلت اس لئے حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعے نہ صرف یہ کہ سنت کی اتباع کرنا بلکہ اہل کتاب اور روافض کی مخالفت بھی کرتا ہے۔

1991Mishkaat-al-Masabih

کھجور اور پانی سے افطار باعث برکت ہے

وعن سلمان بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي . ولم يذكر : فإنه بركة غير الترمذي

حضرت سلمان بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے جو شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ کھجور باعث برکت ہے اور اگر کوئی شخص کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے اس روایت کو احمد و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی نے نقل کیا ہے مگر لفط فانہ برکۃ ترمذی کے علاوہ کسی اور نے ذکر نہیں کیا ہے۔ تشریح کھجور اور پانی سے افطار کرنے کا حکم استحباب کے طور پر ہے اور کھجور سے افطار کرنے میں بظاہر حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت معدہ خالی ہوتا ہے اور کھانے کی خواہش پوری طرح ہوتی تو اس صورت میں جو چیز کھائی جاتی ہے اسے معدہ اچھی طرح قبول کرتا ہے لہٰذا ایسی حالت میں جب شیرینی معدہ میں پہنچتی ہے تو بدن کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ شیرینی کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے قوائے جسمانی میں قوت جلدی سرایت کرتی ہے خصوصا قوت باصرہ کو شیرینی سے بہت فائدہ پہنچتا ہے اور چونکہ عرب میں شیرینی اکثر کھجور ہی کی ہوتی ہے اور اہل عرب کے مزاج اس سے بہت زیادہ مانوس ہیں اس لئے کھجور سے افطار کرنے کے لئے فرمایا گیا کھجور نہ پانے کی صورت میں پانی سے افطار کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ ظاہر و باطنی طہارت و پاکیزگی کے لئے فال نیک ہے۔

1992Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی افطاری

وعن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن فتميرات فإنلم تكن تميرات حسى حسوات من ماء . رواه الترمذي وأبو داود . وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز مغرب سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ہوتیں تو چند یعنی تین چلو پانی پی لیتے (ترمذی، ابوداؤد اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح ایک روایت میں جو ابویعلیٰ سے منقول ہے یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ تین کھجوروں سے یا کسی ایسی چیز سے جو آگ کی پکی ہوئی نہ ہوتی تھی۔ روزہ کھولنا پسند فرماتے تھے۔ بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مقیم لوگوں کے لئے یہ مسنون ہے کہ وہ کھجوروں سے پہلے آب زمزم پی کر روزہ افطار کریں یا ان دونوں کو ملا کر ان سے روزہ افطار کریں تو یہ بالکل غلط بلکہ اتباع سنت نبوی کے بھی خلاف ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں بہت دنوں تک مقیم رہے مگر آپ ﷺ سے ایسا کوئی عمل منقول نہیں ہے۔

1993Mishkaat-al-Masabih

روزہ افطار کرانے والے کو روزہ دار جیسا ثواب ملتا ہے

وعن زيد بن خالد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فطر صائما أو جهز غازيا فله مثل أجره . رواه البيهقي في شعب الإيمان ومحيي السنة في شرح السنة وقال صحيح

حضرت زید بن خالد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص روزہ دار کو افطار کراتا ہے یا کسی غازی کا سامان درست کرتا ہے تو اس کو اسی کے ثواب جیسا ثواب ملتا ہے اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے نیز محی السنۃ نے بھی اسے شرح السنہ میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کو اس کے روزے کی وجہ سے اور غازی کو اس کے جہاد کا جیسا ثواب ملتا ہے ویسا ہی ثواب کسی کو روزہ افطار کرانے والے اور کسی مجاہد کا سامان جہاد درست کرنے والے کو بھی ملتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعے ایک نیک کام میں مددگار ہوتا ہے۔

1994Mishkaat-al-Masabih

افطار پر ارشاد گرامی

وعن ابن عمر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أفطر قال : ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله . رواه أبو داود

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ افطار کرتے تو یہ فرماتے۔ پیاس چلی گئی رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو ثواب ثابت ہوگیا۔ (ابو داؤد) تشریح اس ارشاد گرامی میں امت کے لئے عبادات کی ترغیب ہے کہ عبادات میں مشقت تو بہت تھوڑی ہے کیونکہ وہ ختم ہوجاتی ہے مگر اجر وثواب زیادہ ہے اس لئے کہ وہ باقی و ثابت رہنے والا ہے۔

1995Mishkaat-al-Masabih

افطار کی دعا

وعن معاذ بن زهرة قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أفطر قال : اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت . رواه أبو داود مرسلا

حضرت معاذ بن زہرہ (تابعی) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب افطار کرتے تو یہ فرماتے۔ اے اللہ میں نے تیرے ہی لئے روزہ رکھا اور اب تیرے ہی رزق سے افطار کرتا ہوں۔ (اس روایت کو ابوداؤد نے بطریق ارسال نقل کیا ہے) تشریح ابن ملک کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا افطار کے بعد پڑھا کرتے تھے اس دعا میں ولک صمت کے بعد یہ الفاظ و بک آمنت و علیک توکلت عام طور سے پڑھے جاتے ہیں یہ الفاظ اگرچہ حدیث سے ثابت نہیں ہیں مگر معنی کے اعتبار سے صحیح ہیں ابن ماجہ نے روایت کیا ہے کہ روزہ دار افطار کے وقت جو دعا مانگتا ہے وہ رد نہیں کی جاتی بلکہ قبول ہوتی ہے افطار کے وقت آپ ﷺ سے یہ پڑھنا بھی منقول ہے یا واسع الفضل اغفرلی نیز یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ یہ بھی پڑھا کرتے تھے۔ الحمدللہ الذی اعاننی فصمت و رزقنی فافطرت۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے میری مدد کی کہ میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا کہ میں نے افطار کیا۔

1996Mishkaat-al-Masabih

جلدی افطار کرنے کا ثمرہ

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصارى يؤخرون . رواه أبو داود وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دین اسلام ہمیشہ غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں دیر کرتے ہیں۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ) تشریح جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہود و نصاریٰ افطار میں اتنی تاخیر کرتے ہیں کہ ستارے گنجان یعنی پوری طرح نکل آتے ہیں اور اس زمانہ میں روافض بھی ان کی پیروی کرتے ہیں لہٰذا وقت ہوجانے پر جلدی افطار کرنے میں اہل باطل کی مخالفت ہوتی ہے اور دین کا غلبہ اور دین کی شوکت ظاہر ہوتی ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دین کے دشمنوں کی مخالفت دین کی مضبوطی اور غلبہ کا باعث ہے اور ان کی موافقت دین کے نقصان کا ذریعہ ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے آیت (یا ایہا الذی امنوا لاتتخذوا الیہود و النصاریٰ اولیاء بعضہم اولیاء بعض ومن یتولہم منکم فانہ منہم)۔ اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ ان میں سے بعض بعض لوگوں کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص ان سے دوستی کرے گا وہ ان ہی میں سے ہوگا۔

1997Mishkaat-al-Masabih

جلدی افطار کرنا مسنون ہے

وعن أبي عطية قال : دخلت أنا ومسروق على عائشة فقلنا : يا أم المؤمنين رجلان من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم أحدهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة والآخر : يؤخر الإفطار ويؤخر الصلاة . قالت : أيهما يعجل الإفطار ويعجل الصلاة ؟ قلنا عبد الله بن مسعود . قالت : هكذا صنع رسول الله صلى الله عليه و سلم والآخر أبو موسى . رواه مسلم

حضرت ابوعطیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ام المومنین! آنحضرت ﷺ کے صحابہ ؓ میں دو اشخاص ہیں ان میں سے ایک صاحب تو جلدی افطار کرتے ہیں اور جلدی نماز پڑھتے ہیں دوسرے صاحب دیر کر کے افطار کرتے ہیں دیر کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ جلدی افطار کرنے والے اور نماز پڑھنے والے کون صاحب ہیں؟ ہم نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا یہی معمول تھا اور دوسرے صاحب جو افطار میں اور نماز میں دیر کرتے تھے حضرت ابوموسیٰ ؓ تھے۔ (مسلم) تشریح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بڑے اونچے درجے کے عالم اور فقیہ تھے اس لئے انہوں نے سنت کے مطابق عمل کیا۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ بھی بڑے جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کا عمل بیان جواز کی خاطر تھا یا انہیں کوئی عذر لاحق ہوگا یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ایسا کبھی کبھی (کسی مصلحت و مجبوری کی خاطر) کرتے ہوں گے۔

1998Mishkaat-al-Masabih

سحری رکت ہے

وعن العرباض بن سارية قال : دعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى السحور في رمضان فقال : هلم إلى الغداء المبارك . رواه أبو داود والسنائي

حضرت عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا اور فرمایا کہ بابرکت کھانے کے لئے آؤ۔ (ابو داؤد، نسائی)

1999Mishkaat-al-Masabih

بہترین سحری

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم سحور المؤمن التمر . رواه أبو داود

ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مومن کے لئے سحری کا بہترین کھانا کھجور ہے۔ ( ابوداؤد )

2000Mishkaat-al-Masabih

روزہ کو پاک کرنے کا بیان

اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ کن چیزوں سے روزہ جاتا رہتا ہے اور کن چیزوں سے روزہ کا ثواب باطل ہوجاتا ہے نیز یہ کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن سے روزہ کا ثواب کم ہوجاتا ہے لہٰذا ان تمام چیزوں سے اجتناب اور پرہیز ضروری ہے جس نے روزہ پر کسی بھی حیثیت سے اثر پڑتا ہو۔ اگرچہ روزہ کے مفسدات وغیرہ آئندہ صفحات میں مذکور احادیث کے ضمن میں متفرق طور پر آئیں گے لیکن مناسب معلوم ہوا کہ اس موقع پر ایسے تمام مسائل یکجا طور پر فقہ کی معتبر کتابوں کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دئیے جائیں تاکہ قارئین کو فائدہ اور آسانی ہو اس لئے امداد الفتاح شرح نور الایضاح سے ماخوذ مسائل یہاں نقل کئے جاتے ہیں، یہ کتاب عرب میں بھی معتبر اور مروج ہے نیز اس کتاب میں یہ مسائل بڑی ترتیب کے ساتھ مذکور ہیں بعض مسائل درمختار سے بھی اخذ کئے گئے۔