Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 98 of 317

1941Mishkaat-al-Masabih

خدا کے نام پر سوال نہ کرو

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يسأل بوجه الله إلا الجنة . رواه أبو داود

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی ذات واسطے سے جنت کے علاوہ اور کوئی چیز نہ مانگو۔ (ابو داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات کے واسطے سے لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگو یعنی کسی کے سامنے ان الفاظ کے ساتھ دست سوال دراز نہ کرو کہ ذات الٰہی کے واسطے سے یا بالواسطہ اللہ مجھے فلاں چیز دو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام بہت بڑا ہے اور اس کی ذات و اس کے اسم کی یہ شان نہیں ہے۔ کہ اس کو واسطہ بنا کر دنیا کی حقیر چیزیں مانگی جائیں ہاں اس کے واسطہ سے جنت مانگو یعنی یوں کہو کہ اے اللہ! ہم تیری ذات کریم کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں جنت میں داخل کیجئے۔

1942Mishkaat-al-Masabih

ابو طلحہ (رض) کا جذبہ سخاوت

عن أنس بن مالك قال : كان أبو طلحة أكثر أنصاري بالمدينة مالا من نخل وكان أحب أمواله إليه بيرحاء وكانت مستقبل المسجد وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب قال أنس فلما نزلت ( لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون ) قام أبو طلحة فقال يا رسول الله إن الله تعالى يقول : ( لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون ) وإن أحب مالي إلي بيرحاء وإنها صدقة لله أرجو برها وذخرها عند الله فضعها يا رسول الله حيث أراك الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بخ بخ ذلك مال رابح وقد سمعت ما قلت وإني أرى أن تجعلها في الأقربين . فقال أبو طلحة أفعل يا رسول الله فقسمها أبو طلحة في أقاربه وفي بني عمه

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ؓ مدینہ کے انصار میں کھجوروں کے اعتبار سے بہت زیادہ مال دار تھے اپنے مال میں انہوں سب سے زیادہ پسند اپنا باغ بیر حاء (نامی) تھا جو مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، رسول کریم ﷺ بھی اکثر اس باغ میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا پانی پیتے تھے جو بہت اچھا (یعنی شیریں یا یہ کہ بلا کسی شک و شبہہ کے حلال و پاک تھا) حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی نیکی (یعنی جنت) کو اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم وہ چیز (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جو تمہارے نزدیک پسندیدہ ہے۔ تو حضرت ابوطلحہ ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! چونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی یعنی جنت تک نہیں پہنچ سکتے تا وقتیکہ اپنی اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تمہارے نزدیک پسندیدہ ہے لہٰذا بیر حاء جو تمام مال میں مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے میں اسے اللہ کے واسطے صدقہ کرتا ہوں اور (اس آیت کریمہ کے پیش نظر) اس سے نیکی کی امید رکھتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ اللہ کے نزدیک میرے لئے ذخیر آخرت ہوگا۔ پس یا رسول اللہ! اسے قبول فرمائیے (اور) جہاں اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو بتائے (یعنی جس جگہ آپ ﷺ مناسب سمجھیں اسے خرچ فرمائیے) رول کریم ﷺ نے فرمایا شاباش! شاباش! یہ باغ نفع پہنچانے والا مال ہے جو کچھ تم نے کہا ہے میں نے سن لیا ہے میرے نزدیک مناسب ہے کہ تم اس باغ کو اپنے (محتاج) اقرباء میں تقسیم کردو (تاکہ صدقہ کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا ثواب بھی مل جائے) ابوطلحہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کے ارشاد کے مطابق ہی عمل کروں گا، چناچہ ابوطلحہ ؓ نے اس باغ کو اپنے اقرباء اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جہاں یہ احتمال ہے کہ بنی عمہ (چچا کے بیٹے) اقاربہ کا بیان ہو وہیں یہ احتمال بھی ہے کہ اقا رب سے چچا کے بیٹوں کے علاوہ دوسرے اقرباء مراد ہوں۔

1943Mishkaat-al-Masabih

ہر جاندار کا پیٹ بھرنا بہترین صدقہ ہے

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة أن تشبع كبدا جائعا . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک بہترین صدقہ یہ بھی ہے کہ کسی جاندار کا جو بھوکا ہو پیٹ بھرا جائے۔ (بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ کوئی جاندار، خواہ مسلمان ہو، یا کافر اور خواہ جانور ہو اگر بھوکا ہے تو اس کو کھانا کھلانا ایک بہترین صدقہ ہے ہاں اس حکم سے موذی جانور مستثنی ہیں جن کو مار ڈالنے ہی کا حکم دیا گیا ہے یعنی سانپ وغیرہ کو کھلانا پلانا اچھا اور مناسب نہیں ہے۔

1944Mishkaat-al-Masabih

بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے جو چیز خرچ کرسکتی ہے اس کا بیان

مشکوۃ کے مؤلف علیہ الرحمۃ بعض مقامات پر کوئی عنوان متعین نہیں کرتے بلکہ صرف باب لکھ کر اگلا باب شروع کردیتے ہیں اور اس کے تحت وہ احادیث نقل کردیتے ہیں جو پچھلے ابواب کی متمات اور ملحقات ہوتی ہیں چناچہ یہاں بھی موصوف نے صرف باب لکھ کر باب شروع کیا ہے کوئی متعین عنوان نہیں لکھا ہے۔ مگر مشکوۃ کے بعض دوسرے نسخوں میں اس موقع پر یہ عنوان لکھا ہوا ہے باب ماینفقہ المرأۃ من مال بعلہا یعنی بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے جو چیز خرچ کرسکتی ہے اس کا بیان۔

1945Mishkaat-al-Masabih

بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے خرچ کرسکتی ہے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذ أنفقت المرأة من طعام بيتها غير مفسدة كان لها أجرها بما أنفقت ولزوجها أجره بما كسب وللخازن مثل ذلك لا ينقص بعضهم أجر بعض شيئا

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے گھر کھانے میں سے صدقہ دیتی ہے بشرطیکہ وہ اسراف نہیں کرتی تو اسے اس کے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو مال کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے اور داروغہ (مطبخ کے نگران) کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے (جیسا کہ مالک کو ثواب ملتا ہے) اور ان میں سے کسی کے ثواب میں دوسرے کے ثواب کی وجہ سے کمی نہیں ہوتی (یعنی ہر ایک کو پورا ثواب ملتا ہے) (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ شوہر نے بیوی کو اپنے مال سے صدقہ و خیرات کرنے کی اجازت دے رکھی ہو خواہ اس نے صراحۃً اجازت دی ہو یا دلالۃً۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اہل حجاز کا یہ معمول تھا کہ انہوں نے اپنی مہمان نوازی اور سخاوت کے پیش نظر اپنی بیویوں اور اپنے خدمت گاروں (مثلا داروغہ مطبخ وغیرہ) کو یہ اجازت دے رکھی تھی کہ وہ مہمانوں کی بھر پور ضیافت کریں اور فقراء و مساکین نیز پڑوس کے لوگوں کو کھانا وغیرہ کھلا دیا کریں، چناچہ آنحضرت ﷺ اس ارشاد گرامی کے ذریعے اپنی امت کو ترغیب دلائی کہ یہ نیک اور اچھی عادت اختیار کریں۔

1946Mishkaat-al-Masabih

بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے خرچ کرسکتی ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أنفقت المرأة من كسب زوجها من غير أمره فلها نصف أجره

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے شوہر کی کمائی (کے مال) میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ خیرات دیتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس کی اجازت کے بغیر، کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز وہ صدقہ میں دے رہی ہے خاص طور پر اس کی اجازت شوہر نے نہیں دی ہوئی ہے لیکن وہ شوہر کی صراحۃ یا دلالۃ اجمالی رضا جانتی ہو اور وہ چیز تھوڑی اور کمتر ہو کہ اس کو دینے کو کوئی منع نہیں کرتا جیسے ہمارے یہاں عام طور پر عورتیں دروازوں پر مانگنے والوں کو آٹے کی چٹکی روٹی کا ٹکڑا یا ایک آدھ پیسہ دے دیتی ہیں۔

1947Mishkaat-al-Masabih

آقا کے حکم سے صدقہ دینے والے خدمت گار کا ثواب

وعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخازن المسلم الأمين الذي يعطي ما أمر به كاملا موفرا طيبة به نفسه فيدفعه إلى الذي أمر له به أحد المتصدقين

حضرت ابوموسی اشعری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو دیانت دار مسلمان داروغہ (یعنی ملازم جیسے خزانچی وغیرہ) وہ چیز کہ جسے دینے کا مالک نے حکم کیا ہو بغیر کسی نقصان کے خوش دلی کے ساتھ اس شخص کو دے کہ جس کے لئے مالک نے حکم دیا ہے تو وہ صدقہ کرنے والے دو اشخاص میں سے ایک ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اپنے آقا ومالک کے مال میں سے صدقہ و خیرات دینے والے ملازم کے لئے اس حدیث میں چار شرطیں مذکور ہوئی ہیں۔ (١) صدقہ و خیرات کے لئے مالک کا حکم ہونا (٢) مالک نے جتنا مال صدقہ میں دینے کا حکم دیا ہو وہ بغیر کسی کمی کے پورا دینا (٣) خوش دلی کے ساتھ دینا۔ اس شرط کا اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ مالک جو مال صدقہ میں دینے کا حکم دیتا ہے بعض ملازم اسے خوش دلی کے ساتھ نہیں دیتے (٤) مالک نے جس شخص کو مال دینے کا حکم دیا ہے اسی کو دینا اس کے علاوہ کسی دوسرے فقیر و مسکین کو نہ دینا۔ لفظ متصدقین (صدقہ دینے والے دو اشخاص) تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے یعنی ایک تو مالک کہ جس کا مال صدقہ میں دیا گیا اور دوسرا ملازم جس کے ذریعے صدقہ دیا گیا اس طرح ملازم ان دونوں میں ایک ہوا۔ مشکوۃ کے ایک اور صحیح نسخہ میں متصدقین جمع کے صیغے کے ساتھ منقول ہے اس طرح اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ملازم بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔ بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ جو ملازم مسلمان اور امانت دار ہو کہ اس کا مالک صدقہ میں جو کچھ دینے کا حکم کرتا ہو وہ پورا پورا اور خوش دلی کے ساتھ دیتا ہو، نیز صدقہ کا مال اسی شخص کو دیتا ہو جس کو دینے کے لئے مالک نے حکم دیا ہو تو اس ملازم کو بھی اس کے مالک کے ثواب کی مانند ثواب ملتا ہے۔

1948Mishkaat-al-Masabih

میت کے لئے صدقہ کا ایصال ثواب

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : إن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : إن أمي افتلتت نفسها وأظنها لو تكلمت تصدقت فهل لها أجر إن تصدقت عنها ؟ قال : نعم

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا خیال ہے کہ اگر (وہ مرنے سے پہلے) کچھ کہنے پاتیں تو صدقہ دینے کی (ضرور) وصیت کرتیں لہٰذا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو انہیں اس صدقہ کا ثوب مل جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ (بخاری ومسلم) تشریح یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی مرحوم عزیز کی طرف سے بطور صدقہ کچھ مال وغیرہ دے تو اس میت کو ثواب ملتا ہے اسی طرح میت کے لئے دعائے استغفار وغیرہ بھی کار آمد ہے چناچہ اہل سنت والجماعت کے متفقہ طور پر یہی مسلک ہے ہاں بدنی عبادت نماز و روزہ اور تلاوت قرآنی وغیرہ کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں لیکن اس بارے میں بھی قابل اعتمال اور زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ میت کو عبادت بدنی کا بھی ثواب پہنچتا ہے۔ چناچہ امام عبداللہ یافعی (رح) نے لکھا ہے کہ ایک عالی بزرگ شیخ عبدالسلام (رح) کو ان کے انتقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو شیخ مرحوم نے فرمایا کہ ہم تو دنیا میں کہا کرتے تھے کہ تلاوت قرآن کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا مگر اس عالم میں آ کر ہم نے معاملہ برعکس دیکھا ہے۔

1949Mishkaat-al-Masabih

بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے

عن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في خطبته عام حجة الوداع : لا تنفق امرأة شيئا من بيت زوجها إلا بإذن زوجها . قيل : يا رسول الله ولا الطعام ؟ قال : ذلك أفضل أموالنا . رواه الترمذي

حضرت ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول کریم ﷺ حجۃ الوداع میں اپنے خطبہ میں فرماتے تھے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر گھر میں سے کچھ خرچ نہ کرے۔ (خواہ صراحۃ ہو یا دلالۃ) عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! کیا کھانے میں سے بھی خرچ نہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کھانا ہمارے اموال میں نفیس ترین چیز ہے۔ (ترمذی) تشریح آپ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جب شوہر کی اجازت کے بغیر ان چیزوں کو خرچ کرنا جائز نہیں ہے جو کھانے سے کم تر درجہ کی ہیں تو کھانا خرچ کرنا کیسے درست ہوگا، جب کہ یہ افضل ترین چیز ہے۔ بظاہر اس حدیث میں اور اس بارے میں ذکر کی گئی گزشتہ احادیث میں تعارض نظر آتا ہے لیکن ان احادیث کی تشریحات اگر سامنے ہوں تو پھر کوئی تعارض نظر نہیں آئے گا کیونکہ ان تشریحات کے ذریعے احادیث میں تطبیق بیان کردی گئی ہے۔

1950Mishkaat-al-Masabih

بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے

وعن سعد قال : لما بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم النساء قامت امرأة جليلة كأنها من نساء مضر فقالت : يا نبي الله إنا كل على آبائنا وأبنائنا وأزواجنا فما يحل لنا من أموالهم ؟ قال : الرطب تأكلنه وتهدينه . رواه أبو داود

حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی (یعنی ان سے احکام شریعت پر عمل کرنے کا عہد لیا) تو ان میں ایک بڑے قد کی یا بڑے مرتبہ کی عورت کھڑی ہوئی جو غالباً قبیلہ مضر سے معلوم ہوتی تھی اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارا بار اپنے والدین، اپنی اولاد اور اپنے شوہروں پر ہے، کیا ان کا مال ہمارے لئے ان کی اجازت کے بغیر حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو تازہ مال ہو اسے کھاؤ اور بطور تحفہ کے بھیجو۔ (ابو داؤد) تشریح تازہ مال سے وہ چیزیں مراد ہیں جو دیر پا نہ ہوں بلکہ جلدی خراب ہوجاتی ہوں جیسے سالن ترکاری اور دودھ وغیرہ۔ لہٰذا ان چیزوں کے استعمال میں اجازت کی ضرورت نہیں کیونکہ عام طور سے لوگ ان کو خرچ کرنے سے منع نہیں کرتے گویا اس طرح ان چیزوں کے خرچ کرنے کے لئے دلالۃ اجازت حاصل ہوتی ہے بخلاف ان چیزوں کے جو خشک اور خراب نہ ہونے والی ہوں کہ ان کے خرچ کرنے کے لئے اجازت و رضاء کا حاصل ہونا ضروری ہے۔

1951Mishkaat-al-Masabih

مالک کی اجازت کے بغیر خرچ کرنا مناسب نہیں ہے

عن عمير مولى آبي اللحم قال : أمرني مولاي أن أقدد لحما فجاءني مسكين فأطعمته منه فعلم بذلك مولاي فضربني فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فدعاه فقال : لم ضربته ؟ فقال يعطي طعامي بغير أن آمره فقال : الأجر بينكما . وفي رواية قال : كنت مملوكا فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم : أأتصدق من مال موالي بشيء ؟ قال : نعم والأجر بينكما نصفان . رواه مسلم

حضرت ابواللحم ؓ کے آزاد کردہ غلام عمیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے آقا کے حکم کے مطابق گوشت (کو سکھانے کے لئے اس) کے پارچے بنا رہا تھا کہ میرے پاس ایک مسکین و فقیر آیا میں نے اسے اس میں سے کھانے کے لئے دے دیا۔ جب میرے آقا کو اس کا علم ہوا تو اس نے مجھے مارا میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے پورا ماجرا کہہ سنایا۔ آپ ﷺ نے میرے آقا کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ میرے کھانے میں سے بغیر میری اجازت کے دے دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (اگر تم صدقہ کرنے کا حکم دے دیتے یا اس کے صدقہ کرنے سے تم راضی و خوش ہوتے تو) تم دونوں ثواب کے حق دار ہوتے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ عمیر نے کہا کہ میں ایک شخص کا غلام تھا چناچہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں اپنے مالک کے مال میں کچھ (یعنی قلیل و کمتر درجہ کی چیز جس کے خرچ کرنے کی عام طور پر اجازت ہوتی ہے) بطور صدقہ خرچ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اور اس کا ثواب تم دونوں کو آدھا آدھا ملے گا (مسلم) تشریح علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے عمیر کی شکایت پر ان کے آقا ابواللحم سے جو کچھ کہا یا عمیر کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مالک کے مال میں غلام و ملازم کو مطلقاً تصرف کا حق حاصل ہے بلکہ آپ ﷺ نے تو صرف اس بات پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا کہ غلام و ملازم کو کسی ایسی بات پر مارا جائے جسے مالک تو غلطی یا اپنا نقصان تصور کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ مالک کے حق میں غلطی یا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کے اس میں بہتری و بھلائی ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے ابواللحم ؓ کو ترغیب دلائی کہ ان کے غلام نے ان کے حق میں چونکہ بہتر اور نیک کام ہی کیا ہے۔ اس لئے اس سے درگرزر کریں اور ثواب کو غنیمت جانیں جو ان کا مال خرچ ہونے کی وجہ سے انہیں ملا ہے۔ گویا یہ ابواللحم کے لئے آپ ﷺ کی رہنمائی اور تعلیم تھی نہ کہ عمیر کے فعل کی تقریر یعنی عمیر کے فعل کو آپ نے جائز قرار نہیں دیا۔

1952Mishkaat-al-Masabih

صدقہ دے کر اسے واپس لینے یا خریدنے کی ممانعت

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : حملت على فرس في سبيل الله فأضاعه الذي كان عنده فأردت أن أشتريه وظننت أنه يبيعه برخص فسألت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا تشتره ولا تعد في صدقتك وإن أعطاكه بدرهم فإن العائد في صدقته كالكلب يعود في قيئه . وفي رواية : لا تعد في صدقتك فإن العائد في صدقته كالعائد في قيئه

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو اللہ کی راہ میں سواری کے لئے گھوڑا دیا (یعنی ایک مجاہد کے پاس گھوڑا نہیں تھا اس لئے میں نے اسے گھوڑا دے دیا) اس شخص نے اس گھوڑے کو جو اس کے پاس تھا ضائع کردیا (یعنی اس نے گھوڑے کی دیکھ بھال نہیں کی جس کی وجہ سے گھوڑا دبلا ہوگیا) میں نے سوچا کہ میں وہ گھوڑا اس سے خرید لوں اور خیال تھا کہ وہ اس گھوڑے کو سستے داموں بیچ دے گا، مگر (خریدنے سے پہلے) میں نے اس بارے میں رسول کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو اور نہ اپنا دیا ہو صدقہ واپس لو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے (گویا یہ حقیقۃ نہیں بلکہ صورۃ اپنا صدقہ واپس لینا ہے) کیونکہ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس لینے والا شخص اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لو ( خواہ واپس لینا صورۃ ہی کیوں نہ ہو) کیونکہ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس لینے والا اس شخص کی مانند ہے جو قے کرے اور اسے چاٹ لے۔ (بخاری ومسلم) تشریح حضرت عمر ؓ کے ذہن میں گھوڑے کے سستے داموں حاصل ہوجانے کا خیال اس لئے پیدا ہوا کہ گھوڑا چونکہ دبلا ہوگیا تھا اس صورت میں ظاہر ہے کہ اس کی اصلی قیمت نہیں لگتی یا پھر انہوں نے ایسا خیال اس لئے قائم کیا کہ میں نے چونکہ اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا تھا اس لئے ہوسکتا ہے کہ وہ بھی اس وقت میرے ساتھ رعایت و مروت کا معاملہ کرے۔ ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث کے ظاہری الفاظ و مفہوم کے پیش نظر بعض حضرات کا مسلک یہ ہے کہ اپنا دیا ہوا صدقہ خریدنا حرام ہے لیکن اکثر علماء کہتے ہیں کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس طرح صرف قبح لغیرہ لازم آتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جس شخص کو صدقہ کا مال دیا جاتا ہے وہ اس مال کو جب صدقہ دینے والے ہی کے ہاتھوں بیچتا ہے تو اس بناء پر کہ اس نے اس کو صدقہ دے کر اس کے ساتھ احسان کیا ہے وہ اسے سستے داموں ہی بیچ دیتا ہے لہٰذا صدقہ دینے والا اس صورت میں بقدر رعایت مال جو اس صدقہ ہی کا حصہ تھا، واپس لینے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہرحال صحیح اور قابل اعتماد قول یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد لا تشتریہ (اسے نہ خریدو) نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔

1953Mishkaat-al-Masabih

صدقہ میں دیا ہو امال واپس ہوجانے کی ایک صورت

وعن بريدة قال : كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ أتته امرأة فقالت يا رسول الله إني كنت تصدقت على أمي بجارية وإنها ماتت قال : وجب أجرك وردها عليك الميراث . قالت يا رسول الله إنه كان عليها صوم شهر أفأصوم عنها قال : صومي عنها . قالت يا رسول الله إنها لم تحج قط أفأحج عنها قال : نعم حجي عنها . رواه مسلم

حضرت بریدہ ؓ راوی ہیں کہ دن میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک عورت آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو بطور صدقہ دی تھی اب میری ماں مرگئی ہے (کیا میں اسے واپس لے لوں اور اس طرح وہ لونڈی دوبارہ میری ملکیت میں آجائے گی یا نہیں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا (صدقہ دینے کی وجہ سے) تمہارا ثواب تو ثابت ہوگیا (یعنی اس کا ثواب تمہیں یقینا مل گیا) اور اب میراث نے اس لونڈی کو تمہیں واپس کردیا۔ اس عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے ذمہ مہینہ بھر کے روزے تھے تو میں اس کی طرف حقیقۃ یا حکما روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی طرف سے روزے رکھ لو۔ پھر اس عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ماں نے کبھی حج نہیں کیا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کرلو۔ (مسلم) تشریح وردہا علیک المیراث (میراث نے تمہیں اس لونڈی کو واپس کردیا) میں میراث کی طرف واپس کرنے کی نسبت مجازی ہے چناچہ اس جملے کے حقیقی معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لونڈی کو میراث کے ذریعے تمہیں واپس کردیا اور وہ لونڈی بسبب ارث کے تمہاری ملکیت ہوگئی گویا وہ تمہارے پاس حلال ذریعے اور حلال طریقے سے آئی۔ اس مفہوم کا حاصل یہ ہے کہ صدقہ میں دیا ہوا مال واپس لینے کی جو ممانعت کی گئی ہے صورت مذکورہ کا تعلق اس ممانعت سے نہیں ہے کیونکہ یہ امر اختیاری نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہ صورت ہے کہ صدقہ میں دیا ہوا مال بطور میراث ملکیت میں آیا ہے جو ظاہر ہے کہ بالکل جائز ہے۔ سائلہ کو روزے رکھنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی اجازت کا مطلب یہ تھا کہ حقیقۃ روزہ نہ رکھو بلکہ حکما رکھو اور فدیہ کی ادائیگی ہے چناچہ جمہور علماء کا مسلک یہی ہے کہ اگر کسی شخص کا انتقال اس حالت میں ہوجائے کہ اس کے ذمہ فرض روزے ہوں تو یہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مرنے والے کی طرف سے روزے نہ رکھے بلکہ اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اس کے ورثاء اس کی طرف سے فدیہ ادا کریں۔ اس مسئلے کو تفصیل کے ساتھ اختلاف مذاہب انشاء اللہ روزہ کی قضا کے بیان کے ضمن میں بیان کیا جائے گا تاہم اس موقع پر اصولی طور پر یہ جان لیجئے یہ عبادت کی کئی قسمیں ہیں اول عبادت مالی جس کا تعلق صرف مال کی ادائیگی سے ہوگا جیسے زکوٰۃ دوم عبادت بدنی کہ جس کا تعلق صرف نفس و بدن کی مشقت و محنت سے ہو جیسے نماز اور سوم مرکب یعنی وہ عبادت جس کا تعلق مال اور نفس و بدن دونوں سے ہو جیسے حج۔ لہٰذا عبادت مالی میں تو نیابت جائز ہے خواہ حالت اختیار ہو یا حالت اضطرار و ضرورت کیونکہ اس کا مقصود فقیر و مفلس کی حاجت روائی ہے سو وہ نائب کے ادا کرنے سے بھی ادا ہوجاتا ہے۔ عبادت بدنی میں نیابت کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ عبادت بدنی کا مقصود اپنے نفس کو محنت و مشقت میں مبتلا کرنا ہوتا ہے جو نائب کے کرنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ مرکب میں نیابت کسی مجبوری و ضرورت کے وقت تو جائز ہے لیکن حالت قدرت و اختیار میں جائز نہیں ہے البتہ نفلی حج کی صورت میں حالت قدرت و اختیار میں بھی نیابت جائز ہے کیونکہ نفل کا دائرہ وسیع تر ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ نعم حجی عنہا (ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ کا مفہوم دونوں صورتوں سے متعلق ہے کہ خواہ اس پر حج واجب تھا یا نہیں، اسی طرح اس نے حج کی وصیت کی تھی یا نہیں؟ چناچہ وارث کے لئے جائز ہے کہ وہ مورث کی طرف سے چاہے تو کسی دوسرے کو حج کرا دے اور چاہے تو خود ہی حج کرلے، خود حج کرنے کی صورت میں مورث کی اجازت شرط نہیں ہے جب کہ اگر کسی دوسرے سے حج کرائے تو اس کے لئے مورث کی اجازت شرط ہوگی۔ واللہ اعلم اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد سے کتاب الزکوۃ پوری ہوئی اب کتاب الصوم شروع ہوتی ہے رب العزت اس کی تکمیل کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

1954Mishkaat-al-Masabih

صوم کے معنی :

لغت میں صوم اور صیام کے معنی ہیں امساک یعنی مطلقاً رکنا! اصطلاح شریعت میں ان الفاظ کا مفہوم ہے فجر سے غروب آفتاب تک روزہ کی نیت کے ساتھ کھانے پینے، جماع کرنے اور بدن کے اس حصے میں وہ اندر کے حکم میں ہو کسی چیز کے داخل کرنے سے رکے رہنا نیز روزہ دار کا مسلمان اور حیض و نفاس سے پاک ہونا اس کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے۔

1955Mishkaat-al-Masabih

روزہ کب فرض ہوا؟

روزہ کب فرض ہواَ؟ ماہ رمضان کے روزے ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد شعبان کے مہینے میں تحویل قبلہ کے دس روز بعد فرض کئے گئے بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے قبل کوئی روزہ فرض نہیں تھا جب کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے قبل بھی کچھ ایام کے روزے فرض تھے جو اس ماہ رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد منسوخ ہوگئے۔ چناچہ بعض حضرات کے نزدیک تو عاشورہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ فرض تھا اور بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ ایام بیض (قمری مہینے کی تیرہویں، چودھویں اور پندرہویں راتوں کے دن) کے روزے فرض تھے۔ رمضان کے روزے کی فرضیت کے ابتدائی دنوں میں بعض احکام بہت سخت تھے مثلاً غروب آفتاب کے بعد سونے سے پہلے کھانے پینے کی اجازت تھی مگر سونے کے بعد کچھ بھی کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی۔ چاہے کوئی شخص بغیر کھائے پئے ہی کیوں نہ سو گیا ہو، اسی طرح جماع کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں جائز نہ تھا۔ مگر جب یہ احکام مسلمانوں پر بہت شاق گزرے اور ان احکام کی وجہ سے کئی واقعات بھی پیش آئے تو یہ احکام منسوخ کر دئیے گئے اور کوئی سختی باقی نہ رہی۔

1956Mishkaat-al-Masabih

روزے کی اہمیت وفضیلت :

روزے کی اہمیت و فضیلت اسلام کے جو پانچ بنیادی ارکان ہیں ان میں روزے کا تیسرا درجہ ہے گویا روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے اس اہم رکن کی جو تاکید اور بیش از بیش اہمیت ہے اسے ماہرین شریعت ہی بخوبی جان سکتے ہیں روزہ کا انکار کرنے والا کافر اور اس کا تارک فاسق اور اشد گنہگار ہوتا ہے چناچہ در مختار کے باب مایفسد الصوم میں یہ مسئلہ اور حکم نقل کیا گیا ہے کہ ولہ اکل عمداً اشہرۃ بلا عذر یقتل، جو شخص رمضان میں بلا عذ علی الاعلان کھاتا پیتا نظر آئے اسے قتل کردیا جائے۔ روزہ کی فضیلت کے بارے صرف اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ بعض علماء نے اس اہم ترین اور باعظمت رکن کے بےانتہا فضائل دیکھ کر اس کو نماز جیسی عطیم الشان عبادت پر ترجیح اور فضیلت دی ہے اگرچہ یہ بعض ہی علماء کا قول ہے جب کہ اکثر علماء کا مسلک یہی ہے کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے اور اسے روزہ پر بھی ترجیح و فضیلت حاصل ہے مگر بتانا تو صرف یہ ہے کہ جب اس بات میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ نماز افضل ہے یا روزہ؟ تو اب ظاہر ہے کہ نماز کے علاوہ اور کوئی بھی دوسرا عمل اور دوسرا رکن روزے کی ہمسری نہیں کرسکتا۔

1957Mishkaat-al-Masabih

روزے کے فوائد۔

روزہ کے فوائد کسی بھی عبادت اور کسی بھی عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور پروردگار کی رحمت کاملہ اس عمل اور عبادت کرنے والے کو دین اور دنیا دونوں جگہ اپنی آغوش میں چھپالے ظاہر ہے کہ اس اعتبار سے روزہ کا فائدہ بھی بڑا ہی عظیم الشان ہوگا مگر اس کے علاوہ روزے کے کچھ اور بھی روحانی اور دینی فوائد ہیں جو اپنی اہمیت و عظمت کے اعتبار سے قابل ذکر ہیں لہٰذا ان میں سے کچھ فائدے بیان کئے جاتے ہیں۔ (١) روزہ کی وجہ سے خاطر جمعی اور قلبی سکون حاصل ہوتا ہے نفس امارہ کی تیزی و تندی جاتی رہتی ہے، اعضاء جسمانی اور بطور خاص وہ اعضاء جن کا نیکی اور بدی سے براہ راسات تعلق ہوتا ہے جیسے ہاتھ، آنکھ، زبان، کان اور ستر وغیرہ سست ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گناہ کی خواہش کم ہوجاتی ہے اور معصیت کی طرف رجحان ہلکا پڑجاتا ہے۔ چناچہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب نفس بھوکا ہوتا ہے تو تمام اعضاء سیر ہوتے ہیں یعنی انہیں اپنے کام کی رغبت نہیں ہوتی اور جب نفس سیر ہوتا ہے تو تمام اعضاء بھوکے ہوتے ہیں انہیں اپنے کام کی طرف رغبت ہوتی ہے اس قول کو وضاحت کے ساتھ یوں سمجھ لیجئے کہ جسم کے جتنے اعضاء ہیں قدرت نے انہیں اپنے مخصوص کاموں کے لئے پیدا کیا ہے مثلاً آنکھ کی تخلیق دیکھنے کے لئے ہوئی ہے گویا آنکھ کا کام دیکھنا ہے لہٰذا بھوک کی حالت میں کسی بھی چیز کو دیکھنے کی طرف راغب نہیں ہوتی ہاں جب پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو آنکھ اپنا کام بڑی رغبت کے ساتھ کرتی ہے اور ہر جائز و ناجائز چیز کو دیکھنے کی خواہش کرتی ہے اسی پر بقیہ اعضاء کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ (٢) روزہ کی وجہ سے دل کدورتوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے کیونکہ دل کی کدورت آنکھ، زبان اور دوسرے اعضاء کے فضول کاموں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یعنی زبان کا ضرورت و حاجت سے زیادہ کلام کرنا، آنکھوں کا بلا ضرورت دیکھنا، اسی طرح دوسرے اعضاء کا ضرورت سے زیادہ اپنے کام میں مشغول رہنا افسردگی دل اور رنجش قلب کا باعث ہے اور ظاہر ہے کہ روزہ دار فضول گوئی اور فضول کاموں سے بچا رہتا ہے بدیں وجہ اس کا دل صاف اور مطمئن رہتا ہے اس طرح پاکیزگی دل اور اطمینان قلب اچھے و نیک کاموں کی طرف میلان ورغبت اور درجات عالیہ کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔ (٣) روزہ مساکین و غرباء کے ساتھ حسن سلوک اور ترحم کا سبب ہوتا ہے کیونکہ جو شخص کسی وقت بھوک کا غم جھیل چکا ہوتا ہے اسے اکثر و بیشتر وہ کر بناک حالت یاد آتی ہے چناچہ وہ جب کسی شخص کو بھوکا دیکھتا ہے تو اسے خود اپنی بھوک کی وہ حالت یاد آجاتی ہے جس کی وجہ سے اس کا جذبہ ترحم امنڈ آتا ہے۔ (٤) روزہ دار اپنے روزہ کی حالت میں گویا فقراء مساکین کی حالت بھوک کی مطابقت کرتا ہے بایں طور کہ جس اذیت اور تکلیف میں وہ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسی تکلیف اور مشقت کو روزہ دار بھی برداشت کرتا ہے اس وجہ سے اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے جیسا کہ ایک بزرگ بشرحافی کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص ان کی خدمت میں جاڑے کے موسم میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کانپ رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس اتنے کپڑے موجود تھے جو ان کو سردی سے بچا سکتے تھے۔ مگر وہ کپڑے الگ رکھے ہوئے تھے۔ اس شخص نے یہ صورت حال دیکھ کر ان سے بڑے تعجب سے پوچھا کہ آپ نے سردی کی اس حالت میں اپنے کپڑے الگ رکھ چھوڑے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے بھائی فقراء و مساکین کی تعداد بہت زیادہ ہے مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں ان کے کپڑوں کا انتظام کروں لہٰذا (جو چیز میرے اختیار میں ہے اسی کو غنیمت جانتا ہوں کہ) جس طرح وہ لوگ سردی کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں اس طرح میں بھی سردی کی تکلیف برداشت کر رہا ہوں اس طرح میں بھی ان کی مطابقت کر رہا ہوں۔ یہی جذبہ ہمیں ان اولیاء عارفین کی زندگیوں میں بھی ملتا ہے جن کے بارے میں منقول ہے کہ وہ کھانے کے وقت ہر ہر لقمہ پر یہ دعائیہ کلمات کہا کرتے تھے۔ اللہم لا تواخذنی بحق الجائعین۔ اے اللہ مجھ سے بھوکوں کے حق کے بارے میں مواخذہ نہ کیجئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں منقول ہے کہ جب قحط سالی نے پورے ملک کو اپنے مہیب سایہ میں لے لیا باوجودیکہ خود ان کے پاس بےانتہا غلہ کا ذخیرہ تھا مگر وہ صرف اس لئے پیٹ بھر کر نہیں کھاتے تھے کہ کہیں بھوکوں کا خیال دل سے اتر نہ جائے نیز یہ انہیں اس طرح بھوکوں اور قحط زدہ عوام کی تکلیف و مصیبت سے مشابہت اور مطابقت حاصل رہے۔

1958Mishkaat-al-Masabih

ماہ رمضان میں شیاطین قید کردئیے جاتے ہیں

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب السماء . وفي رواية : فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب جهنم وسلسلت الشياطين . وفي رواية : فتحت أبواب الرحمة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں نیز شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت کے الفاظ آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کی بجائے یہ ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں سے اس بات کی طرف کنایہ مقصود ہے کہ اس ماہ مقدس کے شروع ہوتے ہیں باری تعالیٰ کی پے در پے رحمتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے اور بندوں کے اعمال بغیر کسی مانع اور رکاوٹ کے صعود کرتے ہیں نیز باب قبولیت واہو جاتا ہے کہ بندہ جو دعا مانگتا ہے بارگاہ الوہیت میں شرف قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔ جنت کے دروازے کھو لے جاتے ہیں سے اس طرف کنایہ مقصود ہے کہ بندہ کو ان نیک اور اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائی جاتی ہے جو دخول جنت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں سے اس بات کی طرف کنایہ مقصود ہے کہ روزہ دار ایسے کاموں سے بچا رہتا ہے جو دوزخ میں داخل ہونے کا باعث ہوتے ہیں اور یہ ظاہر ہی ہے روزہ دار کبیرہ گناہوں سے سے محفوظ و مامون رہتا ہے اور جو صغیرہ گناہ ہوتے ہیں وہ اس کے روزے کی برکت سے بخش دیئے جاتے ہیں۔ شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ ان شیاطین کو جو سرکش و سرغنہ ہوتے ہیں زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے اور ان کی وہ قوت سلب کرلی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ بندوں کو بہکانے پر قادر ہوتے ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ جملہ دراصل اس بات کی طرف کنایہ ہے کہ ماہ رمضان میں شیاطین لوگوں کو بہکانے سے باز رہتے ہیں اور بندے نہ صرف یہ کہ ان کے وسوسوں اور ان کے اوہام کو قبول نہیں کرتے بلکہ ان کے مکر و فریب کے جال میں پھنستے بھی نہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ روزہ کی وجہ سے انسان کی قوت حیوانیہ مغلوب ہوجاتی ہے جو غیظ و غضب اور شہوت کی جڑ ہے اور طرح طرح کے گناہوں کا باعث ہوتی ہے اس کے برخلاف قوت عقلیہ غالب اور قوی ہوجاتی ہے جو طاعات اور نیکی کا باعث ہوتی ہے چناچہ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں دوسرے مہینوں کی بہ نسبت گناہ کم صادر ہوتے ہیں اور عبادات و اطاعات میں زیادتی ہوتی ہے۔

1959Mishkaat-al-Masabih

جنت میں داخل ہونے کے لئے روزہ داروں کا مخصوص دروازہ

وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الجنة ثمانية أبواب منها : باب يسمى الريان لا يدخله إلا الصائمون

حضرت سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان رکھا گیا اور اس دروازے سے صرف روزہ داروں کا داخلہ ہی ہو سکے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح ریان کے معنی ہیں سیراب اس کی پوری وضاحت اور تفصیل باب افضل الصدقہ کی حدیث نمبر ٣ کی تشریح میں گزر چکی ہے۔

1960Mishkaat-al-Masabih

ماہ رمضان کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه . ومن قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه . ومن قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ (یعنی شریعت کو سچ جانتے ہوئے اور فرضیت رمضان کا اعتقاد رکھتے ہوئے) اور طلب ثواب کی خاطر (یعنی کسی خوف یا ریاء کے طور پر نہیں بلکہ خالصۃ للہ) رمضان کا روزہ رکھا تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے نیز جو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کی خاطر رمضان میں کھڑا ہوا تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے اسی طرح جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ (یعنی شب قدر کی حقیقت کا ایمان و اعتقاد رکھتے ہوئے) اور طلب ثواب کی خاطر کھڑا ہوا تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے۔ (بخار ومسلم) تشریح رمضان میں کھڑا ہونے، سے مراد یہ ہے کہ رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھے، تلاوت قرآن کریم اور ذکر اللہ وغیرہ میں مشغول رہے نیز اگر حرم شریف میں ہو تو طواف وعمرہ کرے یا اسی طرح کی دوسری عبادات میں اپنے آپ کو مصروف رکھے۔ شب قدر میں کھڑا ہونے، کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر عبادت الٰہی اور ذکر اللہ میں مشغول رہے خواہ اس رات کے شب قدر ہونے کا اسے علم ہو یا نہ ہو۔ غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔ تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے۔ کے بارے میں علامہ نووی فرماتے ہیں کہ مکفرات (یعنی وہ اعمال جو گناہوں کو ختم کرنے والے ہوتے ہیں) صغیرہ گناہوں کو تو مٹا ڈالتے ہیں اور کبیرہ گناہوں کو ہلکا کردیتے ہیں اگر کسی خوش نصیب کے نامہ اعمال میں گناہ کا وجود نہیں ہوتا تو پھر مکفرات کی وجہ سے جنت میں اس کے درجات بلند کر دئیے جاتے ہیں۔