Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 306 of 315

6101Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْهَا\nقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي» . رَوَاهُ أَحْمد\n

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے علی کو برا بھلا کہا تو اس نے مجھے برا بھلا کہا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

6102Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ\nعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں عیسیٰ ؑ کی ایک مشابہت ہے ، یہودی ان سے دشمنی رکھتے ہیں ، حتیٰ کہ وہ ان کی والدہ (مطہرہ) پر تہمت لگاتے ہیں جبکہ نصاریٰ ان سے محبت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ انہوں نے انہیں ایسے مقام پر فائز کر دیا جس کے وہ حق دار نہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے فرمایا : دو قسم کے لوگ میرے (حق کے) متعلق ہلاک ہو جائیں گے ، افراط سے کام لینے والا محبّ وہ میرے متعلق ایسا افراط کرے گا جو مجھ میں نہیں ہے ، اور دشمنی رکھنے والا کہ میری دشمنی اسے اس پر آمادہ کرے گی کہ وہ مجھ پر بہتان لگائے گا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

6103Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنِ\nالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد\n

براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ ﷺ نے علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا ، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا ۔‘‘ اس کے بعد عمر ؓ علی سے ملے تو انہوں نے علی ؓ سے کہا : ابن ابی طالب ! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

6104Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن\nبُرَيْدَة قَالَ: خطب أبي بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ» ثُمَّ خَطَبَهَا عليٌّ فزوَّجها مِنْهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ\n

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر و عمر ؓ نے فاطمہ ؓ سے شادی کا پیغام بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو چھوٹی (کم سن) ہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے انہیں پیغام بھیجا تو آپ نے ان کی شادی ان سے کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی ۔

6105Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے باب علی کے سوا تمام دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6106Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن\nعَليّ قَالَ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ آتِيهِ بِأَعْلَى سَحَرٍ فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے ہاں جو میرا مقام و مرتبہ تھا وہ مخلوق میں سے کسی اور کا نہیں تھا ، میں سحری کے اول وقت (رات کے آخری چھٹے حصے) میں آپ ﷺ کے پاس آتا تو میں کہتا ، اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو ، اگر آپ کھانس دیتے تو میں اہل خانہ کے پاس واپس چلا جاتا ، ورنہ میں آپ کے ہاں داخل ہو جاتا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

6107Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِن كَانَ متأخِّراً فارفَعْني وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَافِهِ - أَوِ اشْفِهِ -» شَكَّ الرَّاوِي قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مریض تھا ، رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے ، اور اس وقت میں کہہ رہا تھا ، اے اللہ ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو مجھے (موت کے ذریعے) راحت عطا فرما ، اور اگر ابھی دیر ہے تو پھر مجھے صحت عطا فرما ، اور اگر یہ آزمائش ہے تو پھر مجھے صبر عطا فرما ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کیسے کہا ہے ؟‘‘ میں نے آپ کو دوبارہ سنا دیا ، آپ نے اسے اپنا پاؤں مارا اور فرمایا :’’ اے اللہ ! انہیں عافیت عطا فرما ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اسے شفا عطا فرما ۔‘‘ راوی کو اس میں شک ہوا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد مجھے تکلیف نہیں ہوئی ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6108Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ان حضرات سے ، جن پر رسول اللہ ﷺ مرتے دم تک خوش رہے ، اس امر خلافت کا کوئی شخص حق دار نہیں ، انہوں نے نام گنوائے ، علی ، عثمان ، زبیر ، طلحہ ، سعد اور عبد الرحمن ؓ ۔ رواہ البخاری ۔

6109Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن قيس بن حازِم قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ شل دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے غزوۂ احد میں نبی ﷺ کو (دشمن کے وار سے) بچایا تھا ۔ رواہ البخاری ۔

6110Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟» قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّاً وحَوَاريَّ الزبيرُ» مُتَّفق عَلَيْهِ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے غزوۂ احزاب کے روز فرمایا :’’ کون شخص میرے پاس لشکر کی خبر لائے گا ؟‘‘ زبیر ؓ نے عرض کیا : میں ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کا ایک حواری (مخلص معاون) ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ؓ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6111Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ؟» فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: «فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کون شخص بنو قریظہ جائے اور ان کے متعلق خبر میرے پاس لائے ؟‘‘ میں گیا ، اور جب میں واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے فرمایا :’’ تجھ پر میرے والدین فدا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6112Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن عليٍّ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «يَا سَعْدُ ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو سعد بن مالک ؓ کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کرتے (یعنی میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں) نہیں سنا ، کیونکہ غزوۂ احد کے موقع پر میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد ! تیر اندازی کرو ، میرے والدین تم پر قربان ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6113Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيل الله. مُتَّفق عَلَيْهِ

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی راہ میں تیر چلانے والا میں پہلا عربی شخص ہوں ۔ متفق علیہ ۔

6114Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدِمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي» إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَ: أَنَا سَعْدٌ قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ (کسی غزوہ سے واپس) مدینہ آئے تو رات بھر جاگتے رہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کاش کوئی مرد صالح میرے لیے پہرہ دیتا ، اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز (جھنکار) سنی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں سعد ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ یہاں کیسے آئے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق خوف سا پیدا ہوا تو میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۔ متفق علیہ ۔

6115Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجراح. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر امت کے لیے ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6116Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن ابْن أبي مليكَة قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ: مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَت: أَبُو بكر. فَقيل: ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ. قِيلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بن الْجراح. رَوَاهُ مُسلم

ابن ابی ملیکہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے اس وقت سنا جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کسی کو خلیفہ نامزد کرتے تو آپ کسے نامزد فرماتے ؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر ؓ ، پوچھا گیا : پھر ابوبکر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : عمر ؓ ، پوچھا گیا : عمر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : ابوعبیدہ بن جراح ؓ ۔ رواہ مسلم ۔

6117Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ» . وَزَادَ بَعْضُهُمْ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلِيًّا. رَوَاهُ مُسلم\n

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ اور زبیر ؓ حرا پر تھے کہ پتھر نے حرکت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھہر جا ، تجھ پر نبی ، صدیق اور شہید ہیں ۔‘‘ اور بعض راویوں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کا اضافہ نقل کیا ہے اور علی ؓ کا ذکر نہیں کیا ۔ رواہ مسلم ۔

6118Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

عَن\nعبد الرَّحْمَن بن عَوْف أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر جنت میں ، عمر جنت میں ، عثمان جنت میں ، علی جنت میں ، طلحہ جنت میں ، زبیر جنت میں ، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ، سعد بن ابی وقاص جنت میں ، سعید بن زید جنت میں اور ابوعبیدہ (عامر) بن جراح جنت میں ہیں ۔‘‘ اسناہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6119Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَرَوَاهُ\nابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ\n

ابن ماجہ ؒ نے اسے سعید بن زید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

6120Mishkaat-al-Masabihصحیح

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ\nأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح\nوروى مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَفِيهِ: «وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ»\n

انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں ، اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں ، ان میں سے سب سے زیادہ با حیا عثمان ہیں ، علم میراث کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں ، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں ، حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں ، اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔\nاور معمر سے قتادہ کی سند سے مرسل روایت ہے ، اور اس میں ہے : قضا میں سب سے زیادہ عالم علی ؓ ہیں ۔‘‘\n