Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 305 of 315

6081Mishkaat-al-Masabihصحیح

حضرت عثمان ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن أبي\nسلهة مولى عُثْمَان رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْم الدَّار قُلْنَا: أَلا نُقَاتِل؟ قَالَ: لَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا فَأَنَا صَابِرٌ نَفسِي عَلَيْهِ\n

عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام ابوسہلہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ عثمان ؓ سے مخفی طور پر کوئی بات کر رہے تھے ، اور عثمان ؓ کا رنگ متغیر ہو رہا تھا ، جب محاصرے کا دن تھا تو ہم نے کہا : کیا ہم لڑائی نہیں کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک امر کی وصیت کی ہے اور میں اپنے آپ کو اس کا پابند رکھوں گا ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

6082Mishkaat-al-Masabihصحیح

حضرت عثمان ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن أبي\nحبيبةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا - أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً - فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ» وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النبوَّة»\n

ابو حبیبہ سے روایت ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے جبکہ عثمان اس میں محصور تھے ، اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو سنا کہ وہ عثمان ؓ سے بات کرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں ، انہیں اجازت مل گئی ، وہ کھڑے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف دیکھو گے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اختلاف اور فتنہ دیکھو گے ۔‘‘ کسی نے آپ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو ۔‘‘ اور آپ اس (امیر) کے متعلق عثمان ؓ کی طرف اشارہ فرما رہے تھے ۔ امام بیہقی نے دونوں احادیث دلائل النبوۃ میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

6083Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان تینوں کے مناقب کا بیان

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے ، ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے ، اس نے حرکت کی تو آپ نے اس پر اپنا پاؤں مار کر فرمایا :’’ احد ! ٹھہر جاؤ ، تم پر ایک نبی ہے ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

6084Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان تینوں کے مناقب کا بیان

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» . فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثمَّ قَالَ: الله الْمُسْتَعَان. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ کے ایک باغ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، ایک آدمی آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے لیے دروازہ کھول دو ، اور اسے جنت کی بشارت دو ۔‘‘ چنانچہ میں نے اس شخص کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ ابوبکر ؓ تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی دروازہ کھولنے کا کہا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے لیے بھی دروازہ کھول دو ، اور اسے بھی جنت کی بشارت سناؤ ۔‘‘ چنانچہ میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا تو وہ عمر ؓ تھے ، میں نے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں بھی جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ایک اور آدمی نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے بھی جنت کی بشارت سنا دو ، ان مصائب کے بعد جن سے ان کا واسطہ پڑے گا ۔‘‘ تو وہ عثمان ؓ تھے ، میں نے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں بتایا تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ۔ پھر فرمایا : اللہ ہی سے مدد درکار ہے ۔ متفق علیہ ۔

6085Mishkaat-al-Masabihصحیح

ان تینوں کے مناقب کا بیان

عَن ابْن عمر قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِي الله عَنْهُم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کہا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6086Mishkaat-al-Masabihضعیف

ان تینوں کے مناقب کا بیان

عَن جابرن أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ كَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ» قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ وَأَمَّا نَوْطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رات مجھے خواب میں ایک مرد صالح دکھایا گیا گویا وہ ابوبکر ؓ ہیں ، جو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معلق ہیں ، عمر ابوبکر کے ساتھ معلق ہیں ، اور عثمان عمر کے ساتھ معلق ہیں ۔‘‘ جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا : مرد صالح سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں ، اور دوسرے جو ایک دوسرے کے ساتھ معلق ہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس دین کے والی ہیں ، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

6087Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ آپ میرے لیے ایسے ہیں جیسے موسی ؑ کے لیے ہارون ؑ تھے ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6088Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مؤمنٌ وَلَا بيغضني إِلَّا مُنَافِق. رَوَاهُ مُسلم

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں ، علی ؓ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو اگایا اور ہر ذی روح کو پیدا فرمایا ! نبی امی ﷺ نے مجھے عہد دیا کہ مومن شخص ہی مجھ سے محبت کرے گا اور صرف منافق شخص ہی مجھ سے دشمنی رکھے گا ۔ رواہ مسلم ۔

6089Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ الله أقاتلهم حَتَّى يَكُونُوا مثلنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِي اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعَلي: «أَنْت مني وَأَنا مِنْك» فِي بَاب «بُلُوغ الصَّغِير»\n

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر فرمایا :’’ میں کل ایک ایسے شخص کو پرچم عطا کروں گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح عطا فرمائے گا ، وہ شخص اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اسے محبوب رکھتے ہیں ۔‘‘ چنانچہ جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور وہ سب پرامید تھے کہ وہ (پرچم) اسے عطا کیا جائے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں بلاؤ ۔‘‘ وہ آپ کے پاس لائے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا تو وہ ایسے شفایاب ہوئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ، آپ ﷺ نے پرچم انہیں عطا فرمایا تو علی ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں ان سے لڑتا رہوں حتیٰ کہ وہ ہمارے جیسے (یعنی مسلمان) ہو جائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یونہی چلتے رہو حتیٰ کہ تم ان کے میدان میں اترو ، پھر انہیں اسلام کی دعوت پیش کرو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے کیا حقوق ان پر واجب ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر تمہارے ذریعے اللہ کسی ایک آدمی کو ہدایت عطا فرما دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n اور براء ؓ سے مروی حدیث آپ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ تو مجھ سے اور میں تم سے ہوں ‘‘ باب بلوغ الصغیر میں ذکر کی گئی ہے ۔\n

6090Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے دوست ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6091Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن زيد بن أَرقم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں جس کا دوست ہوں ، علی اس کے دوست ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

6092Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن حبشِي بن جُنَادَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلَا يُؤَدِّي عني إِلَّا أَنا وَعلي» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\nوَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي جُنَادَة\n

حُبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، اور میری طرف سے کوئی ادائیگی نہ کرے سوائے میرے اور علی کے ۔‘‘ ترمذی ، اور امام احمد نے اسے ابوجناوہ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و احمد ۔

6093Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلم تُؤاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أُحُدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو علی ؓ اشکبار آنکھوں کے ساتھ آئے اور عرض کیا : آپ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے ، لیکن آپ نے میرے اور کسی اور کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میرے دنیا اور آخرت میں بھائی ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6094Mishkaat-al-Masabihصحیح

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ» فجَاء عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج جو میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے ۔‘‘ علی ؓ ان کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ تناول فرمایا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6095Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ «حَسَنٌ غَرِيبٌ»

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز طلب کرتا تو آپ مجھے عطا فرماتے اور جب میں خاموش رہتا تو آپ طلب کیے بغیر مجھے عطا فرما دیتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6096Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَالَ: رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غَيْرَ شَرِيكٍ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں دار حکمت ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، اور انہوں نے فرمایا : بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس میں عن الصنابحی کا ذکر نہیں کیا ، اور ہم شریک کے علاوہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی سے نہیں جانتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6097Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ\nجَابِرٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، طائف کے روز رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی ۔ لوگوں نے کہا : آپ کی اپنے چچا زاد کے ساتھ سرگوشی طویل ہو گئی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اس سے سرگوشی نہیں کی ، بلکہ اللہ نے اس سے سرگوشی کی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6098Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ\n

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! میرے اور تمہارے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں اس مسجد میں سے گزرے ۔‘‘ علی بن منذر بیان کرتے ہیں ، میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا : اس حدیث کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے اور تیرے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں مسجد سے راستے کا کام لے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6099Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

وَعَن\nأم عطيَّة قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عليّاً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا ، اس میں علی ؓ بھی تھے ، ام عطیہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! مجھے موت نہ دینا حتیٰ کہ تو مجھے علی ؓ کو دکھا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6100Mishkaat-al-Masabihضعیف

علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان

عَنْ\nأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا\n

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ منافق شخص علی سے محبت کرے گا نہ مومن شخص ان سے دشمنی رکھے گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔