Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 298 of 315

5941Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nجابرٍ أنَّ رسولَ الله جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسَقِ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ فَفَنِيَ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ولقام لكم» رَوَاهُ مُسلم\n

جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ ﷺ سے کھانا طلب کیا ، آپ نے اسے ایک وسق جو دیئے ، وہ آدمی ، اس کی بیوی اور ان کا مہمان اس سے کھاتے رہے لیکن جب اس شخص نے وہ ناپ لئے تو وہ ختم ہو گئے ، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اسے نہ ناپتے تو تم اس سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے لیے ہمیشہ رہتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5942Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nعَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ يَقُولُ: «أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ» فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِيَ امْرَأَتِهِ فَأَجَابَ وَنَحْنُ مَعَه وَجِيء بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا فَنَظَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يلوك لقْمَة فِي فَمه ثُمَّ قَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى النَّقِيعِ وَهُوَ مَوْضِعٌ يُبَاعُ فِيهِ الْغَنَمُ لِيُشْتَرَى لِي شَاةٌ فَلَمْ تُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاة أَن أرسل إِلَيّ بهَا بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمِي هَذَا الطَّعَامَ الْأَسْرَى»\nرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ\n

عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار میں سے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک قبر پر گورکن کو ہدایات دیتے ہوئے سنا :’’ اس کے پاؤں کی جانب سے کھلی کرو ، اس کے سر کی جانب سے کھلی کرو ۔‘‘ جب آپ واپس آئے تو اس (میت) کی عورت کی طرف سے دعوت کا پیغام دینے والا آپ کو ملا تو آپ نے دعوت قبول فرمائی اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے ، کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، پھر لوگوں نے (ہاتھ) بڑھایا ، انہوں نے کھانا کھایا ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے منہ میں لقمہ چباتے ہوئے فرمایا :’’ میں ایک ایسی بکری کا گوشت پاتا ہوں جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے ۔‘‘ اس عورت نے اپنے وضاحتی پیغام میں عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے نقیع کی طرف ، جو کہ بکریوں کی خرید و فروخت کا مرکز ہے ، آدمی بھیجا تھا تا کہ وہ میرے لیے ایک بکری خرید لائے ، لیکن وہاں نہ ملی تو میں نے اپنے پڑوسی کی طرف بھیجا ، اس نے ایک بکری خریدی ہوئی تھی ، کہ وہ اس کی قیمت کے عوض اسے میری طرف بھیج دے ، لیکن وہ (پڑوسی) نہ ملا تو میں نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اسے میری طرف بھیج دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

5943Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَقد\nيرقى إِلَى الْحسن بِتَعَدُّد طرقه)\nوَعَن حَازِم بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ حُبَيْشِ بن خَالِد - وَهُوَ أَخُو أمِّ مَعْبَد - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُخْرِجَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَدَلِيلُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ اللَّيْثِي مَرُّوا عَلَى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوا مِنْهَا فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا من ذَلِك وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمِلِينَ مُسْنِتِينَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ فِي كِسْرِ الْخَيْمَةِ فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ معبد؟» قَالَتْ: شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ. قَالَ: «هَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟» قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «أَتَأْذَنِينَ لِي أَنْ أَحْلِبَهَا؟» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلباً فاحلبها. فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا وَسَمَّى اللَّهَ تَعَالَى وَدَعَا لَهَا فِي شَاتِهَا فتفاجت عَلَيْهِ وَردت وَاجْتَرَّتْ فَدَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ فَحَلَبَ فِيهِ ثجَّاً حَتَّى علاهُ الْبَهَاءُ ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رَوُوا ثُمَّ شَرِبَ آخِرَهُمْ ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ ثَانِيًا بَعْدَ بَدْءٍ حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا وَبَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي «الِاسْتِيعَابِ» وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ «الْوَفَاءِ» وَفِي الحَدِيث قصَّةٌ\n

حزام بن ہشام اپنے والد سے ، وہ اپنے دادا حبیش بن خالد ، جو کہ ام معبد کے بھائی ہیں ، سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب مکہ سے نکالا گیا تو آپ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف مہاجر کی حیثیت سے روانہ ہوئے ۔ آپ ﷺ کے ساتھ ابوبکر اور ابوبکر کے آزاد کردہ غلام عمار بن فہیرہ تھے اور ان کی راہنمائی کرنے والے عبداللہ اللیشی تھے ، وہ ام معبد کے دو خیموں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس سے گوشت اور کھجور کے متعلق دریافت کیا تا کہ وہ اس سے خرید لیں ۔ لیکن انہیں اس کے ہاں کوئی چیز نہ ملی ، جبکہ ان کے پاس زادِراہ نہیں تھا اور وہ قحط سالی کا شکار ہو چکے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے خیمے کے ایک کونے میں ایک بکری دیکھی تو فرمایا :’’ ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟‘‘ اس نے بتایا کہ یہ لاغر پن کی وجہ سے ریوڑ کے ساتھ نہیں جا سکتی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : یہ اس لائق نہیں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دھو لوں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے والدین قربان ہوں ، اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو ضرور دھو لیں ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے طلب فرمایا ، اس کے تھن کو اپنا دست مبارک لگایا ، اللہ تعالیٰ کا نام لیا ، ام معبد کے لیے اس بکری کے بارے میں دعائے خیر فرمائی ، اس نے پاؤں کھول دیئے ، دودھ چھوڑ دیا ، اور وہ جگالی کرنے لگی ، آپ نے ایک برتن منگایا جو ایک جماعت کو آسودہ کر سکتا تھا ، اس میں دودھ دھویا اور اتنا دھویا کہ اس پر جھاگ آ گیا ، پھر آپ نے ام معبد کو پلایا حتیٰ کہ وہ خوب سیراب ہو گئی ، پھر اپنے ساتھیوں کو پلایا حتیٰ کہ وہ سیراب ہو گئے ، پھر آپ نے ان سب کے آخر پر خود پیا ، پھر آپ نے اس برتن میں دوسری مرتبہ دودھ دھویا حتیٰ کہ برتن بھر گیا ، اس (دودھ) کو ام معبد کے پاس چھوڑ دیا ، پھر آپ نے اس سے اسلام پر بیعت لی پھر سب اس کے پاس سے کوچ کر گئے ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔\n شرح السنہ ، ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور ابن الجوزی نے اسے کتاب الوفاء میں روایت کیا ہے ، اور حدیث میں طویل قصہ ہے ۔\n

5944Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

عَن أَنس أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ تَحَدَّثَا عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ\nفِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينقلبان وبيد كل مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عصى أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بلغ أَهله\nرَوَاهُ البُخَارِيّ\n

انس ؓ سے روایت ہے کہ اُسید بن حضیر اور عبادہ بن بشیر ؓ اپنے کسی مسئلہ کے بارے میں نبی ﷺ سے گفتگو کرتے رہے حتیٰ کہ شدید تاریک رات میں رات کا کافی حصہ گزر گیا ، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے ، ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی سی لاٹھی تھی ، چنانچہ ان دونوں میں سے ایک کی لاٹھی نے روشنی پیدا کر دی حتیٰ کہ وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے ، لیکن جب ان دونوں کی راہیں الگ الگ ہوئیں تو دوسرے کے لیے اس کی لاٹھی نے روشنی پیدا کر دی ، دونوں میں ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلنے لگا حتیٰ کہ وہ اپنے گھر پہنچ گیا ۔ رواہ البخاری ۔

5945Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

وَعَن جَابر قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ وَدَفَنْتُهُ مَعَ آخَرَ فِي قبر\nرَوَاهُ البُخَارِيّ\n

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب غزوۂ احد کا وقت آیا تو رات کے وقت میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا : میں اپنے متعلق سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے سب سے پہلے میں شہید ہوں گا ، رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کے علاوہ میں اپنے بعد تجھ سے زیادہ عزیز شخص کوئی نہیں چھوڑ کر جا رہا ، میرے ذمے کچھ قرض ہے اسے ادا کرنا اور اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، صبح ہوئی تو وہ پہلے شہید تھے ، میں نے انہیں ایک دوسرے شخص کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا ۔ رواہ البخاری ۔

5946Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

وَعَن عبد الرَّحْمَن بن أبي بكر إِنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فَقُرَاءَ وَإِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْده طَعَام اثْنَيْنِ فليذهب بثالث وَإِن كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سادس» وَأَن أَبَا بكر جَاءَ بِثَلَاثَة فَانْطَلق النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَإِنَّ أَبَا بكر تعَشَّى عِنْد النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ الله. قَالَت لَهُ امْرَأَته: وَمَا حَبسك عَن أضيافك؟ قَالَ: أوما عَشَّيْتِيهِمْ؟ قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ فَغَضِبَ وَقَالَ: لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ أَنْ لَا تَطْعَمَهُ وَحَلَفَ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا. فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا؟ قَالَتْ: وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَام فِي «المعجزات»\n

عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے کو ساتھ لے جائے ، جس شخص کے پاس چار افراد کا کھانا ہو تو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو ساتھ لے جائے ۔‘‘ اور ابوبکر ؓ تین کو ساتھ لے کر آئے ، نبی ﷺ دس کو ساتھ لے کر گئے ، ابوبکر ؓ نے شام کا کھانا نبی ﷺ کے ہاں کھایا ، پھر وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ نماز عشاء پڑھ لی گئی ، پھر واپس تشریف لے آئے اور وہیں ٹھہر گئے حتیٰ کہ نبی ﷺ نے کھانا کھایا ، پھر جتنا اللہ نے چاہا رات کا حصہ گزر گیا تو وہ واپس اپنے گھر چلے گئے ، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا : آپ کو آپ کے مہمانوں کے ساتھ آنے سے کس نے روکا تھا ؟ انہوں نے پوچھا : کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا ؟ انہوں نے عرض کیا : انہوں نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ تشریف لے آئیں ، وہ ناراض ہو گئے اور کہا : اللہ کی قسم ! میں بالکل کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ عورت نے بھی قسم کھا لی کہ وہ اسے نہیں کھائے گی اور مہمانوں نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ بھی کھانا نہیں کھائیں گے ۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا : یہ (حلف اٹھانا) شیطان کی طرف سے تھا ۔ انہوں نے کھانا منگایا ، خود کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا ، وہ لقمہ اٹھاتے تو اس کے نیچے سے اور زیادہ ہو جاتا تھا ، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : بنو فراس کی بہن ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم ! یہ اب پہلے سے بھی تین گنا زیادہ ہے ۔ چنانچہ انہوں نے کھایا اور اسے نبی ﷺ کی خدمت میں بھی بھیجا ، بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا ۔ متفق علیہ ۔\n اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی حدیث ((کُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِیْحَ الطَّعَامِ)) باب المعجزات میں گزر چکی ہے ۔\n

5947Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

عَن عَائِشَة قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُرَى عَلَى قَبْرِهِ نُورٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نجاشی فوت ہوئے تو ہم باہم گفتگو کرتے تھے کہ ان کی قبر پر مسلسل روشنی نظر آ رہی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5948Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

وَعَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: لَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ثِيَابه كَمَا تجرد مَوْتَانَا أَمْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رجل إِلَّا وذقته فِي صَدْرِهِ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ؟ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ فَقَامُوا فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا : معلوم نہیں کہ جس طرح ہم اپنے فوت ہونے والے دیگر افراد کے (بوقت غسل) کپڑے اتار دیتے تھے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے بھی کپڑے اتار دیں یا ہم کپڑوں سمیت غسل دیں ، جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی حتیٰ کہ ان میں سے ہر شخص کی تھوڑی اس کے سینے کے ساتھ لگنے لگی ۔ پھر گھر کے ایک کونے سے کسی نے ان سے بات کی مگر صحابہ کو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون تھا ، (اس نے کہا) نبی ﷺ کو کپڑوں سمیت غسل دو ، وہ کھڑے ہوئے اور آپ کو اس طرح غسل دیا کہ آپ کی قمیص آپ پر تھی ، وہ قمیص کے اوپر پانی گراتے تھے اور آپ کی قمیص کے ساتھ ملتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

5949Mishkaat-al-Masabihضعیف

کرامتوں کا بیان

وَعَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطَأَ الْجَيْشَ بِأَرْضِ الرُّومِ أَوْ أُسِرَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا يَلْتَمِسُ الْجَيْشَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَسَدِ. فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَارِثِ أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَيْتَ وَكَيْتَ فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ لَهُ بَصْبَصَةٌ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِهِ كُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَهْوَى إِلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى بَلَغَ الْجَيْشَ ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»

ابن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سفینہ ؓ سرزمین روم میں لشکر سے بچھڑ گئے ، یا انہیں قید کر لیا گیا ، وہ لشکر کی تلاش میں دوڑنے لگے تو اچانک شیر سے سامنا ہو گیا ، انہوں نے فرمایا : ابو الحارث (شیر کی کنیت) ! میں رسول اللہ ﷺ کا آزاد کردہ غلام ہوں ، میرے ساتھ یہ یہ مسئلہ بنا ہے ، شیر دم ہلاتا ہوا آپ کے سامنے آیا ، حتیٰ کہ وہ آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا ، جب وہ کہیں سے (خوفناک) آواز سنتا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ، پھر وہ ان کی طرف آ جاتا حتیٰ کہ وہ لشکر کے ساتھ جا ملے پھر شیر واپس چلا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5950Mishkaat-al-Masabihضعیف

کرامتوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ قَالَ: قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: انْظُرُوا قبر النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فاجعلوا مِنْهُ كُوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ فَفَعَلُوا فَمُطِرُوا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

ابو الجوزاء بیان کرتے ہیں ، مدینہ والے شدید قحط کا شکار ہو گئے تو انہوں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا تو انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ کی قبر کی طرف دیکھو (جاؤ) اور اس میں سے آسمان کی طرف کچھ سوراخ بنا دو حتیٰ کہ ان پر کوئی پردہ نہ ہو ، انہوں نے ایسے ہی کیا تو ان پر خوب بارش ہوئی حتیٰ کہ گھاس اگ آئی اونٹ اس قدر فربہ ہو گئے کہ وہ چربی سے پھول گئے اور اس سال کا نام عام الفتق یعنی (خوشحالی کا سال) رکھا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

5951Mishkaat-al-Masabihضعیف

کرامتوں کا بیان

وَعَن سعيد بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: لَمَّا كَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَسْجِدَ وَكَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

سعید بن عبد العزیز بیان کرتے ہیں ، جب حرا کا واقعہ ہوا تو نبی ﷺ کی مسجد میں تین روز تک اذان ہوئی نہ نماز اور نہ ہی سعید بن مسیّب مسجد سے باہر نکل سکے ، انہیں نماز کا وقت ، نبی ﷺ کی قبر مبارک سے آنے والی مبہم سی آواز سے معلوم ہوتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

5952Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي كُلِّ سَنَةٍ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

ابو خلدہ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابو العالیہ سے کہا ، کیا انس ؓ نے نبی ﷺ سے احادیث سنی ہیں ؟ انہوں نے کہا : انہوں نے آپ ﷺ کی دس سال خدمت کی ہے اور نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی جس کی وجہ سے ان کا باغ سال میں دو مرتبہ پھل دیا کرتا تھا ، اور اس میں کستوری جیسی خوشبو آتی تھی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5953Mishkaat-al-Masabihصحیح

کرامتوں کا بیان

عَن عُرْوَة بن الزبير أَنَّ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ خاصمته أروى بنت أويس إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَادَّعَتْ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وماذا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِن كَانَت كَاذِبَة فَعم بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذهب بصرها ثمَّ بَينا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ وَأَنَّهُ رَآهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ: أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدٍ وَأَنَّهَا مَرَّتْ على بئرٍ فِي الدَّار الَّتِي خاصمته فَوَقَعت فِيهَا فَكَانَت قبرها\n

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے متعلق ارویٰ بنت اوس نے مروان بن حکم کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے میری کچھ زمین حاصل کر لی ہے ، سعید ؓ نے جواب دیا : کیا میں رسول اللہ ﷺ سے حدیث سن لینے کے بعد بھی ان کی زمین کے کچھ حصہ پر قبضہ کروں گا ؟ مروان نے کہا : تم نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے بالشت بھر زمین ناحق حاصل کی تو اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔‘‘ تب مروان نے کہا : اس کے بعد میں آپ سے کوئی ثبوت نہیں مانگتا ۔ سعید نے دعا فرمائی : اے اللہ ! اگر وہ جھوٹی ہے تو اسے اندھی بنا دے اور اسے اس کی زمین میں موت دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، جب وہ فوت ہوئی تو وہ اندھی ہو چکی تھی اور وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گری اور فوت ہو گئی ۔\nاور صحیح مسلم میں محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر سے اس کے ہم معنی روایت ہے کہ انہوں نے اسے بینائی سے محروم دیواروں کو ٹٹولتے ہوئے دیکھا ، اور وہ کہتی تھی : مجھے سعید کی بددعا لگ گئی اور وہ گھر کے اس کنویں کے پاس سے گزری جس کے متعلق اس نے ان (سعید ؓ) سے مقدمہ کیا تھا ، وہ اس میں گری اور وہی اس کی قبر بنی ۔ متفق علیہ ۔\n

5954Mishkaat-al-Masabihضعیف

کرامتوں کا بیان

وَعَن\nابْن عمر أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الْجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى\nرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة\n

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے ایک لشکر روانہ کیا ، اور ساریہ نامی شخص کو اس کا امیر مقرر کیا ، اس اثنا میں کہ عمر ؓ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ زور سے کہنے لگے : ساریہ ! پہاڑ کی طرف ، پھر لشکر کی طرف سے ایک قاصد آیا تو اس نے کہا : امیر المومنین ! ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو اس نے ہمیں شکست سے دوچار کر دیا تھا مگر اچانک کسی نے زور سے آواز دی : ساریہ ! پہاڑ کو نہ چھوڑو ۔ ہم نے اپنی پشتیں پہاڑ کی جانب کر لیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

5955Mishkaat-al-Masabihضعیف

کرامتوں کا بیان

وَعَنْ\nنُبَيْهَةَ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَعْبٌ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يَحُفُّوا بِقَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوا مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَزُفُّونَهُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ\n

نُبیہہ بن وہب سے روایت ہے کہ کعب ، عائشہ ؓ کے پاس گئے ، اہل مجلس نے رسول اللہ ﷺ کا تذکرہ کیا ، تو کعب نے فرمایا : ہر روز ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کو گھیر لیتے ہیں ، وہ اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں ، جب شام ہوتی ہے تو وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں ، اور اتنے ہی فرشتے اور اتر آتے ہیں اور وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں ، حتیٰ کہ جب (روز قیامت) آپ ﷺ اپنی قبر مبارک سے نکلیں گے تو آپ ستر ہزار فرشتوں کی معیت میں ہوں گے وہ آپ کو لے کر جلدی بھاگیں گے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

5956Mishkaat-al-Masabihصحیح

صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان

عَن الْبَراء قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَجَعَلَا يُقْرِآنِنَا الْقُرْآنَ ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ فَمَا جَاءَ حَتَّى قرأتُ: [سبِّح اسْم ربِّك الْأَعْلَى] فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم ؓ تشریف لائے ، انہوں نے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا ، پھر عمار ، بلال اور سعد ؓ آئے ، پھر عمر بن خطاب ؓ نبی ﷺ کے بیس صحابہ ؓ کے ساتھ تشریف لائے ، پھر نبی ﷺ تشریف لائے ۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی چیز پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا میں نے انہیں آپ ﷺ کی آمد پر خوش دیکھا ، حتیٰ کہ میں نے چھوٹی چھوٹی بچیوں اور بچوں کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ تشریف لا چکے ہیں ، جب آپ تشریف لائے تو میں سورۂ الاعلی کے ساتھ مفصل سورتوں میں سے کئی سورتیں پڑھ چکا تھا ۔ رواہ البخاری ۔

5957Mishkaat-al-Masabihصحیح

صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ» . فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتنَا فعجبنا لَهُ فَقَالَ النَّاس: نظرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَير وَكَانَ أَبُو بكر هُوَ أعلمنَا. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا :’’ اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو چاہے اپنے لیے پسند کر لے یا پھر وہ اس چیز کو اختیار کر لے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔‘‘ (یہ سن کر) ابوبکر ؓ رونے لگے ، اور عرض کیا : ہمارے والدین آپ پر فدا ہوں ! ہمیں ان کی اس حالت پر تعجب ہوا ، لوگوں نے کہا : اس بزرگ کو دیکھو ، رسول اللہ ﷺ ایک بندے کے متعلق بتا رہے ہیں کہ اللہ نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں پسند کر لے یا اس چیز کو پسند کر لے جو اس کے پاس ہے ، اور وہ کہہ رہا ہے ہمارے والدین آپ پر فدا ہوں ۔ چنانچہ جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ رسول اللہ ﷺ ہی تھے ، اور ابوبکر ؓ ہم سب سے زیادہ اس بات کو جاننے والے تھے ۔ متفق علیہ ۔

5958Mishkaat-al-Masabihصحیح

صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أحد بعد ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ من مَقَامِي هَذَا وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بعدِي وَلَكِنِّي أخْشَى عَلَيْكُم الدُّنْيَا أَن تنافسوها فِيهَا» . وَزَادَ بَعْضُهُمْ:: «فَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ من كَانَ قبلكُمْ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے آٹھ سال بعد شہدائے احد پر ایسے نماز جنازہ ادا کی جیسے آپ زندوں اور فوت شدہ لوگوں سے رخصت ہو رہے ہوں ، پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا :’’ میں تم سے آگے آگے ہوں ، میں تم پر گواہ رہوں گا ، مجھ سے تمہاری ملاقات حوض پر ہو گی ، میں اسے دیکھ رہا ہوں حالانکہ میں اپنی اس جگہ پر ہوں ، اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں ، مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ، لیکن مجھے تمہارے متعلق دنیا کا خدشہ ہے کہ تم اس کے متعلق باہم سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے ۔‘‘ اور بعض راویوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ تم باہم لڑو گے اور تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5959Mishkaat-al-Masabihصحیح

صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوِفِّيَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَإِنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَبِيَدِهِ سِوَاكٌ وَأَنَا مُسْنِدَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَتَنَاوَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: أُلَيِّنُهُ لَكَ؟ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنْتُهُ فَأَمَرَّهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا الله إِنَّ للموتِ سَكَراتٍ» . ثمَّ نصب يَده فَجَعَلَ يَقُولُ: «فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى» . حَتَّى قُبِضَ ومالت يَده. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے انعامات میں سے یہ بھی مجھ پر انعام ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں اور میری باری میں وفات پائی اس وقت آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، اور اللہ نے آپ کی وفات کے وقت میرے اور آپ ﷺ کے لعاب کو ایک ساتھ جمع کر دیا ، (وہ اس طرح کہ) عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ میرے پاس آئے تو ان کے ہاتھ میں مسواک تھی ، اور رسول اللہ ﷺ مجھ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، میں نے دیکھا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں ، میں نے پہچان لیا کہ آپ مسواک پسند کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، میں اسے آپ کے لیے لے لوں ، آپ نے اپنے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ، میں نے اسے حاصل کیا ، لیکن آپ کے لیے اسے چبانا مشکل تھا ، میں نے عرض کیا : کیا میں اسے آپ کی خاطر نرم کر دوں ؟ آپ نے اپنے سر مبارک سے اشارہ فرمایا کہ ہاں ، میں نے اسے نرم کر دیا ، اور آپ کے سامنے چمڑے کا ایک برتن تھا جس میں پانی تھا ، آپ اپنے ہاتھ پانی میں داخل فرماتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے اور فرماتے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، موت کی سختیاں ہوتی ہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور فرمانے لگے : (اے اللہ !) اعلی ساتھ نصیب فرما ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ کی روح قبض ہو گئی اور آپ کا دست مبارک جھک گیا ۔ رواہ البخاری ۔

5960Mishkaat-al-Masabihصحیح

صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مامن نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ من الصديقين والنبيين وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ. فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو نبی (مرض الموت میں) بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا و آخرت کے مابین اختیار دیا جاتا ہے ۔‘‘ اور جس مرض میں آپ کی روح قبض کی گئی ، اس مرض میں آپ پر ہچکی کا سخت حملہ ہوا تھا ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا ، انبیا ؑ ، صدیقین ، شہداء اور صالحین (کے ساتھ) ۔‘‘ میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔ متفق علیہ ۔