Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 297 of 315

5921Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nبُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جِبْرِيل بِأُصْبُعِهِ فَخَرَقَ بِهَا الْحَجَرَ فَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبریل نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا تو اس کے ساتھ پتھر میں سوراخ کر دیا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5922Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَن يعلى بن مرَّةَ الثَّقفي قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَه إِذ مَرَرْنَا بِبَعِير يُسْنَى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ فَوَضَعَ جِرَانَهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ فَجَاءَهُ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ قَالَ أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ العلفِ فَأحْسنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثمَّ سرنا فنزلنا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَقَالَ هِيَ شجرةٌ استأذَنَتْ ربّها عز وَجل أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمنخره فَقَالَ اخْرُج إِنِّي مُحَمَّد رَسُول الله قَالَ ثمَّ سرنا فَلَمَّا رَجعْنَا من سفرنا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعثك بِالْحَقِّ مَا رأَينا مِنْهُ رَيباً بعْدك. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

یعلی بن مرہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے تین معجزات دیکھے ، ہم سفر کر رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے اس پر پانی لایا جاتا تھا ، جب اس اونٹ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو وہ بلبلا اٹھا اور اپنی گردن (زمین پر) رکھ دی ، نبی ﷺ وہاں ٹھہر گئے اور فرمایا :’’ اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟‘‘ وہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے مجھے فروخت کر دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، ہم اللہ کے رسول ! آپ کو ویسے ہی ہبہ کر دیتے ہیں ، لیکن عرض یہ ہے کہ یہ جس گھرانے کا ہے ان کی معیشت کا انحصار صرف اسی پر ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لے جب تو نے اس کی یہ صورت بیان کی تو اس نے کثرت عمل اور قلت خوراک کی شکایت کی تھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ پھر ہم نے سفر شروع کیا حتیٰ کہ ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو نبی ﷺ سو گئے ، ایک درخت زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ اس نے آپ کو ڈھانپ لیا ، اور پھر واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ، جب رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو سلام کرے لہذا اسے اجازت دی گئی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم نے سفر شروع کیا تو ہم پانی کے قریب سے گزرے وہاں ایک عورت اپنے مجنون بیٹے کو لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ نبی ﷺ نے اسے اس کی ناک سے پکڑ کر فرمایا :’’ نکل جا ، کیونکہ میں محمد (ﷺ) اللہ کا رسول ہوں ۔‘‘ پھر ہم نے سفر شروع کر دیا ، جب ہم واپس آئے اور اسی پانی کے مقام سے گزرے تو آپ نے اس عورت سے اس بچے کے متعلق دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! ہم نے آپ ﷺ کے بعد اس کی طرف سے کوئی ناگوار چیز نہیں دیکھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5923Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بابنٍ لَهَا إِلى رَسُول اللَّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يارسول اللَّهِ إِنَّ ابْنِي بِهِ جُنُونٌ وَأَنَّهُ لَيَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا (فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا)\nفَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الجرو الْأسود يسْعَى. رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت اپنا بیٹا لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے بیٹے کو جنون ہے ، اور اسے صبح و شام اس کا دورہ پڑتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی تو اس نے ایک زور دار قے کی تو اس کے پیٹ سے کالے کتے کا پلا دوڑتا ہوا نکل گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

5924Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَن\nأنس بن مَالك قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالس حَزِين وَقد تخضب بِالدَّمِ من فعل أهل مَكَّة من قُرَيْش فَقَالَ جِبْرِيل يَا رَسُول الله هَل تحب أَن أريك آيَةً قَالَ نَعَمْ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ ادْعُ بِهَا فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ وَقَامَت بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حسبي حسبي. رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے جبکہ آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے اور آپ مکہ والوں کے ناروا سلوک سے خون سے رنگین ہو چکے تھے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ کو ایک نشانی دکھائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ جبریل ؑ نے آپ کے پیچھے سے ایک درخت دیکھا ، اور فرمایا : اسے بلائیں ، آپ نے اسے بلایا تو وہ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ، پھر آپ نے کہا : اسے واپس جانے کا حکم فرمائیں ، انہوں نے اسے حکم فرمایا تو وہ واپس چلا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے لیے کافی ہے ، میرے لیے کافی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

5925Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِي فَلَمَّا دنا مِنْهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولَهُ قَالَ وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «هَذِهِ السَّلَمَةُ» فَدَعَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهِدْهَا ثَلَاثًا فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ثُمَّ رجعتْ إِلى منبتِها. رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، ایک اعرابی آیا ، جب وہ قریب آ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اس نے کہا ، آپ جو فرما رہے ہیں اس پر کون گواہی دیتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ خار دار درخت ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور وہ وادی کے کنارے پر تھا ، وہ زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ وہ آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب کی تو اس نے تین مرتبہ گواہی دی کہ آپ کی شان وہی ہے جیسے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے ، پھر وہ اپنی اگنے کی جگہ پر چلا گیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔

5926Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِمَا أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوْتَ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ» فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ\n

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے کس طرح پتہ چلے کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کھجور کے اس درخت سے اس خوشے کو بلاؤں اور وہ گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں (تو پھر ٹھیک ہے) ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا تو وہ کھجور کے درخت سے اتر کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہو گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ واپس چلے جاؤ ۔‘‘ وہ واپس چلا گیا ، اور اعرابی نے اسلام قبول کر لیا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5927Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nأبي هريرةَ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذئبُ على تل فأقعى واستذفر فَقَالَ عَمَدت إِلَى رزق رزقنيه الله عز وَجل أخذتُه ثمَّ انتزعتَه مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذئبا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِن بعدكم وَكَانَ الرجل يَهُودِيّا فجَاء الرجل إِلَى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَأسلم وَخَبره فَصَدَّقَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا أَمارَة من أَمَارَاتٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَن يخرج فَلَا يرجع حَتَّى تحدثه نعلاه وَسَوْطه مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ کے چرواہے کے پاس آیا اور اس نے وہاں سے ایک بکری اٹھا لی ، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ اس کو اس سے چھڑا لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا ، اور وہاں سرین کے بل بیٹھ گیا اور دم دونوں پاؤں کے درمیان داخل کر لی ، پھر اس نے کہا : میں نے روزی کا قصد کیا جو اللہ نے مجھے عطا کی تھی اور میں نے اسے حاصل کر لیا تھا ، مگر تو نے اسے مجھ سے چھڑا لیا ۔ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن کی طرح کوئی بھیڑیا بولتے ہوئے نہیں دیکھا ، بھیڑیے نے کہا : اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ آدمی (محمد ﷺ) جو دو پہاڑوں کے درمیان واقع نخلستان (مدینہ) میں رہتا ہے ، وہ تمہیں ماضی اور حال کے واقعات کے متعلق بتاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ شخص یہودی تھا ، وہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے اس واقعہ کے متعلق آپ کو بتایا اور اسلام قبول کر لیا ۔ نبی ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی ، پھر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ قیامت سے پہلے کی نشانیاں ہیں ، قریب ہے کہ آدمی (گھر سے) نکلے ، پھر وہ واپس آئے تو اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان حالات کے متعلق بتائیں جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ کے ساتھ پیش آئے ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5928Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي الْعَلَاءِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ مِنْ قَصْعَةٍ مِنْ غُدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ قُلْنَا: فَمِمَّا كَانَتْ تُمَدُّ؟ قَالَ: مِنْ أَيْ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَت تمَدّ إِلا من هَهنا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ\n

ابوالعلاء ، سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک برتن سے دن بھر باری باری تناول کرتے رہے ، وہ اس طرح کہ دس کھا جاتے اور دس آ جاتے ۔ ہم نے کہا : کہاں سے بڑھایا جا رہا تھا ؟ انہوں (سمرہ ؓ) نے فرمایا : تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو ؟ اس میں اضافہ تو اس طرف سے ہو رہا تھا ، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

5929Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ» فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بدر کے روز تین سو پندرہ صحابہ کرام کے ساتھ روانہ ہوئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! یہ ننگے پاؤں ہیں تو انہیں سواری عطا فرما ، اے اللہ ! یہ ننگے بدن ہیں تو انہیں لباس عطا فرما ، اے اللہ ! یہ بھوک کا شکار ہیں تو انہیں شکم سیر فرما ۔‘‘ اللہ نے آپ ﷺ کو فتح عطا فرمائی ، آپ واپس آئے تو ان میں سے ہر آدمی کے پاس ایک یا دو اونٹ تھے ، ان کے پاس لباس بھی تھا اور وہ شکم سیر بھی تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5930Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ\nمَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قا ل: «إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَن الْمُنكر» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

ابن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری (دشمن کے خلاف) مدد کی جائے گی ، تم مال غنیمت حاصل کرو گے ، تم (بہت سے ملک) فتح کرو گے ، تم میں سے جو شخص یہ مذکورہ چیزیں پا لے تو وہ اللہ سے ڈرے ، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

5931Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَن\nجَابر بِأَن يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا فَقَالَ سممتِ هَذِهِ الشَّاةَ فَقَالَتْ مَنْ أَخْبَرَكَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي هَذِه فِي يَدي للذِّراع قَالَت نعم قَالَت قلت إِن كَانَ نَبيا فَلَنْ يضرّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعَاقِبهَا وَتُوفِّي بعض أَصْحَابُهُ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَاحْتَجَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ\n

جابر ؓ سے روایت ہے کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری میں زہر ملا دی ، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیج دیا ، رسول اللہ ﷺ نے دستی لی اور اس سے کھایا ، اور آپ کے چند صحابہ کرام ؓ نے بھی آپ کے ساتھ کھایا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ہاتھ (کھانے سے) اٹھا لو ۔‘‘ آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا :’’ کیا تو نے اس بکری میں زہر ملائی تھی ؟‘‘ اس نے کہا : آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے ہاتھ میں یہ جو دستی ہے اس نے مجھے بتایا ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، میں نے کہا : اگر تو وہ سچے نبی ہوئے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ، اور اگر وہ سچے نبی نہ ہوئے تو ہم اس سے آرام پا جائیں گے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو معاف فرما دیا اور اسے سزا نہ دی ، اور آپ کے جن صحابہ کرام نے بکری کا گوشت کھایا تھا وہ فوت ہو گئے ، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے ، ابوہند جو کہ انصار قبیلے بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے ، انہوں نے سینگ اور چھری کے ساتھ آپ ﷺ کے پچھنے لگائے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔

5932Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nسهل ابْن الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَت عَشِيَّةً فَجَاءَ فَارِسٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي طَلِعْتُ عَلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تِلْكَ غَنِيمَةٌ الْمُسْلِمِينَ غَدا إِن شَاءَ الله ثمَّ قَالَ مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ قَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَقَالَ: «اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَلْ حسستم فارسكم قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَسِسْنَا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسلم فَقَالَ إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصبَحت اطَّلَعت الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَلَمْ أَرَ أَحَدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ قَالَ لَا إِلَّا مُصَلِّيَا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بعدَها» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n

سہل بن حنظلیہ ؓ سے روایت ہے کہ غزوۂ حنین کے موقع پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا ، انہوں نے سفر جاری رکھا حتیٰ کہ پچھلا پہر ہو گیا ، ایک گھڑ سوار آیا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں فلاں فلاں پہاڑ کے اوپر چڑھا ہوں اور میں نے اچانک ہوازن قبیلے کو دیکھا ہے کہ وہ سب کے سب اپنے مویشیوں اور اپنے اموال کے ساتھ حنین کی طرف اکٹھے ہو رہے ہیں ، اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا :’’ ان شاء اللہ تعالیٰ کل وہ مسلمانوں کا مال غنیمت ہو گا ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا ؟‘‘ انس بن ابی مرثد الغنوی ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سوار ہو جاؤ ۔‘‘ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس گھاٹی کی طرف جاؤ حتیٰ کہ تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ ۔‘‘ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اپنی جائے نماز پر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز ادا کی ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نے اپنے گھڑ سوار کو محسوس کیا ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم نے محسوس نہیں کیا ، نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ دوران نماز اس گھاٹی کی طرف التفات فرماتے رہے حتیٰ کہ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا :’’ خوش ہو جاؤ ، تمہارا گھڑ سوار آ گیا ہے ۔‘‘ ہم بھی درختوں کے درمیان اس گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے تو وہ اچانک آ گیا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تو اس نے عرض کیا ، میں چلتا گیا حتیٰ کہ میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اس گھاٹی کے بلند ترین حصے پر تھا ، جب صبح ہوئی تو میں ان دونوں گھاٹیوں کے اطراف سے ہو آیا ہوں ، لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھا ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ کیا رات کے وقت تم (اپنے گھوڑے سے) نیچے اترے تھے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نماز پڑھنے یا قضائے حاجت کے علاوہ میں نہیں اترا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اس (رات) کے بعد کوئی بھی نیک عمل نہ کرو تو تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

5933Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nهُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لي فِيهِنَّ بِالْبركَةِ فَقَالَ خذهن واجعلهن فِي مِزْوَدِكَ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں کچھ کھجوریں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان میں برکت کے لیے دعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے انہیں اکٹھا کیا پھر میرے لیے ان میں برکت کی دعا فرمائی ، اور فرمایا :’’ انہیں لے لو اور انہیں اپنے توشہ دان میں رکھ لو ، جب بھی تم ان میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لینا اور انہیں مکمل طور پر باہر نہ نکالنا ۔‘‘ میں نے ان میں سے اتنے اتنے وسق کھجور اللہ کی راہ میں عطا کیے ، ہم خود بھی اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ، اور وہ میری کمر سے الگ نہیں ہوتا تھا حتیٰ کہ عثمان ؓ کی شہادت کے روز وہ منقطع ہو کر گر پڑا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5934Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَن\nابْن عبَّاس قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوِثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلِ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأطلع الله عز وَجل نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَليّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلَ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَال. رَوَاهُ أَحْمد\n

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، قریش نے ایک رات مکہ میں (دار الندوہ میں) مشورہ کیا تو ان میں سے کسی نے کہا جب صبح ہو تو اس کو قید کر دو ، ان کی مراد نبی ﷺ تھے ، کسی نے کہا : نہیں ، بلکہ اسے قتل کر دو ، اور کسی نے کہا ، نہیں بلکہ اسے (مکہ سے) نکال باہر کرو ، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو اس (منصوبے) پر مطلع کر دیا ، اس رات علی ؓ نے نبی ﷺ کے بستر پر رات بسر کی اور نبی ﷺ وہاں سے چل دیئے حتیٰ کہ آپ غار میں پہنچ گئے ، جبکہ مشرکین پوری رات علی ؓ پر پہرہ دیتے رہے اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ نبی ﷺ ہیں ۔ جب صبح ہوئی تو وہ ان پر حملہ آور ہوئے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ؓ ہیں ، اللہ نے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا ، انہوں نے پوچھا : تمہارا ساتھی کہاں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا ۔ انہوں نے آپ ﷺ کے قدموں کے نشانات کا کھوج لگایا ، جب وہ پہاڑ پر پہنچے تو ان پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ، وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اور غار کے پاس سے گزرے ، انہوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھا ، اور انہوں نے کہا : اگر وہ اس میں داخل ہوئے ہوتے تو اس کے دروازے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا ، آپ ﷺ نے وہاں تین روز قیام فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5935Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nأبي هُرَيْرَة أَنه قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لي من كَانَ هَا هُنَا من الْيَهُود فَجمعُوا لَهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صادقي عَنهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوكُمْ قَالُوا فلَان فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذبْتُمْ بل أبوكم فلَان فَقَالُوا صدقت وبررت قَالَ: «هَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ» قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثمَّ تخلفوننا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أبدا ثمَّ قَالَ لَهُم فَهَلْ أَنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنهُ قَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ: «هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِه الشَّاة سما» . قَالُوا نعم فَقَالَ مَا حملكم على ذَلِك فَقَالُوا أردنَا إِن كنت كذابا نستريح مِنْك وَإِن كنت نَبيا لم يَضرك. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہاں جتنے یہودی موجود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو ۔‘‘ چنانچہ وہ سب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیئے گئے آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کرنے لگا ہوں کیا تم اس کے متعلق مجھے سچ سچ بتاؤ گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ! ابوالقاسم ! رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ تمہارا باپ کون تھے ؟‘‘ انہوں نے بتایا : فلاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جھوٹ بولتے ہو ، بلکہ تمہارا باپ تو فلاں ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا : آپ نے سچ فرمایا اور اچھا کیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں تم سے کسی چیز کے متعلق دریافت کروں تو تم مجھے سچ سچ بتاؤ گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ابوالقاسم ! اگر ہم نے آپ سے جھوٹ بولا تو آپ سمجھ جائیں گے جس طرح آپ نے ہمارے باپ کے بارے میں (ہمارا جھوٹ) جان لیا تھا ۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ جہنمی کون ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : کچھ مدت کے لیے ہم اس میں جائیں گے ، پھر ہماری جگہ تم وہاں آ جاؤ گے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ہی اس میں ذلیل ہو کر رہو گے ، کیونکہ ہم اس میں تمہاری جگہ کبھی بھی داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تم سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں کیا تم مجھے سچ سچ جواب دو گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہاں ، ابوالقاسم ! آپ ﷺ نے پوچھا :’’ کیا تم نے اس بکری (کے گوشت) میں زہر ملایا ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہم نے اس لیے کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوئے تو ہمیں آپ سے آرام مل جائے گا اور اگر آپ سچے ہوئے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچے گا ۔ رواہ البخاری ۔

5936Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَن\nعَمْرو بن أخطَب الْأنْصَارِيّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الْفجْر وَصعد الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّى ثمَّ صعِد الْمِنْبَر فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَأَعْلَمُنَا أحفظنا. رَوَاهُ مُسلم\n

عمر بن اخطب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لے گئے ، ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ ظہر کا وقت ہو گیا پھر آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطاب فرمایا حتیٰ کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا ، پھر آپ نیچے تشریف لائے اور نماز پڑھائی ، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور (خطاب فرمایا) حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا آپ نے قیامت تک ہونے والے واقعات کے متعلق ہمیں بیان فرمایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم میں سے زیادہ عالم وہ ہے جو اس خطبے کو ہم میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

5937Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَأَلْتُ مَسْرُوقًا: مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ؟ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ ابْن مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: آذَنَتْ بِهِمْ شَجَرَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

معن بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے مسروق سے دریافت کیا جس رات جنوں نے قرآن سنا تھا اس کی خبر نبی ﷺ کو کس نے دی تھی ؟ انہوں نے بتایا : مجھے تمہارے والد یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ ان کے متعلق ایک درخت نے اطلاع دی تھی ۔ متفق علیہ ۔

5938Mishkaat-al-Masabihصحیح

معجزوں کا بیان

وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فجعلتُ أقولُ لعُمر أما ترَاهُ فَجعل لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بدر فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ الله قَالَ فَقَالَ عمر فوالذي بَعثه بِالْحَقِّ مَا أخطئوا الْحُدُود الَّتِي حد رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَني الله حَقًا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَن يَردُّوا عليَّ شَيْئا . رَوَاهُ مُسلم\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم عمر ؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے ، ہم نے چاند دیکھنے کا اہتمام کیا ، میری نظر تیز تھی ، لہذا میں نے اسے دیکھ لیا ، اور میرے سوا کسی نے نہ کہا کہ اس نے اسے دیکھا ہے ، میں عمر ؓ سے کہنے لگا : کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ؟ وہ اسے نہیں دیکھ پا رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ فرمانے لگے ، میں عنقریب اسے دیکھ لوں گا ۔ میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا ، پھر انہوں نے اہل بدر کے متعلق ہمیں بتانا شروع کیا ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے موقع پر کفار کے قتل گاہوں کے متعلق ایک روز پہلے ہی بتا رہے تھے :’’ کل ان شاء اللہ یہاں فلاں قتل ہو گا ، اور کل ان شاء اللہ یہاں فلاں قتل ہو گا ۔‘‘ عمر ؓ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! رسول اللہ ﷺ نے جس جس جگہ کی نشان دہی فرمائی تھی اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا (وہ وہیں وہیں قتل ہوئے تھے) راوی بیان کرتے ہیں ، ان سب کو ایک دوسرے پر کنویں میں ڈال دیا گیا پھر رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے اور فرمایا :’’ اے فلاں بن فلاں ! ، اے فلاں بن فلاں ! اللہ اور اس کے رسول نے تم سے جو وعدہ فرمایا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا ، کیونکہ اللہ نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا تھا میں نے تو اسے سچا پایا ہے ؟‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ بے روح جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ان سے جو کہہ رہا ہوں وہ اسے تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن وہ مجھے کسی چیز کا جواب نہیں دے سکتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5939Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَنْ أُنَيْسَةَ\nبِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى زَيْدٍ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ بَأْسٌ وَلَكِنْ كَيْفَ لَكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ؟» قَالَ: أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ. قَالَ: «إِذًا تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَاب» . قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ثمَّ ردَّ اللَّهُ بَصَره ثمَّ مَاتَ\n

اُنیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ زید کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری بیماری خطرناک نہیں ، لیکن تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب میرے بعد تمہاری عمر دراز ہو گی اور تم اندھے ہو جاؤ گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کروں گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تب تم بغیر حساب جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ راویہ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کی وفات کے بعد وہ نابینا ہو گئے پھر اللہ نے انہیں بصارت عطا فرمائی اور پھر انہوں نے وفات پائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

5940Mishkaat-al-Masabihضعیف

معجزوں کا بیان

وَعَنْ أُسَامَةَ\nبْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من تَقول عَليّ مالم أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . وَذَلِكَ أَنَّهُ بَعَثَ رَجُلًا فَكَذَبَ عَلَيْهِ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مَيِّتًا وَقد انشقَّ بَطْنه وَلم تقبله الأَرْض. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة\n

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے میرے ذمے ایسی بات لگائی جو میں نے نہ کہی ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ اور آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ آپ نے کسی آدمی کو (کہیں) بھیجا تو اس نے آپ پر جھوٹ بولا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے بددعا فرمائی ، اسے مردہ پایا گیا ، اس کا پیٹ چاک ہو چکا تھا اور زمین نے اسے قبول نہیں کیا ۔ دونوں احادیث کو امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔