Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 285 of 315

5681Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:\nلِسُرَادِقِ النَّارِ أَرْبَعَةُ جُدُرِ كِثَف كل جِدَار مسيرَة أَرْبَعِينَ سنة . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کی آگ کا چار دیواروں سے احاطہ کیا گیا ہے ، اور ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5682Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ يَهَرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلُ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر (جہنمیوں کے زخموں کی) پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو دنیا والے بدبو دار بن جاتے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5683Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: (اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُسلمُونَ)\nقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَو أَن قَطْرَة من الزقوم قطرات فِي دَارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ مَعَايِشَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامَهُ؟» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ\n

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تم مسلمان ہو ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر زقوم (تھوہر) کا ایک قطرہ دنیا میں گرا دیا جائے تو وہ زمین والوں پر ان کے اسبابِ زندگانی خراب کر دے ، تو اس شخص کی کیا حالت ہو گی جس کا کھانا ہی وہی ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

5684Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (وهم فِيهَا كَالِحُونَ)\nقَالَ: «تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسْطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تضرب سُرَّتَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور وہ اس (جہنم) میں اس طرح ہوں گے کہ ان کے ہونٹ سکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہوں گے اور دانت کھل گئے ہوں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ آگ انہیں جلا دے گی تو ان کے اوپر والے ہونٹ سکڑ جائیں گے حتی کہ وہ ان کے سر کے وسط میں پہنچ جائیں گے اور ان کے نچلے ہونٹ لٹک جائیں گے حتی کہ وہ ان کی ناف تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5685Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا فَتَبَاكَوْا فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ فَتَسِيلَ الدِّمَاءُ فَتَقَرَّحَ الْعُيُونُ فَلَوْ أَنَّ سُفُنًا أُزْجِيَتْ فِيهَا لجَرَتْ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»\n

انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! (اپنے گناہوں پر ڈرتے ہوئے) رویا کرو ، اگر تم (رونے کی) استطاعت نہ رکھو تو پھر اپنے آپ کو رونے پر آمادہ کرو ، کیونکہ جہنم والے جہنم میں روئیں گے حتی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پر اس طرح رواں ہوں گے جیسے وہ بہتی نالیاں ہیں ، اور پھر روتے روتے ان کے آنسو ختم ہو جائیں گے تو پھر خون بہنا شروع ہو جائے گا ، آنکھیں زخمی ہو جائیں گی (اور اس قدر آنسو اور خون بہے گا کہ) اگر اس میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ چلنا شروع کر دیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5686Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغُصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قطعتْ مَا فِي بطونِهم فيقولونَ: ادْعوا خَزَنَةَ جهنمَ فيقولونَ: أَلمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالُوا: فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ قَالَ: فيقولونَ: ادْعوا مَالِكًا فيقولونَ: يَا مالكُ ليَقْضِ علَينا ربُّكَ قَالَ: «فيُجيبُهم إِنَّكم ماكِثونَ» . قَالَ الْأَعْمَشُ: نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَإِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ. قَالَ: فَيَقُولُونَ: ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ: فيُجيبُهم: اخْسَؤوا فِيهَا وَلَا تُكلمونِ قَالَ: «فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَالنَّاسُ لَا يرفعونَ هَذَا الحديثَ. رَوَاهُ الترمذيُّ\n

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں پر بھوک ڈال دی جائے گی ، اور وہ (بھوک کی تکلیف) اس عذاب (کی تکلیف) کے برابر ہو گی جس میں وہ مبتلا ہوں گے ، وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کانٹے دار کھانے کے ذریعے کی جائے گی ، وہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا ، وہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی اس طرح کے کھانے سے فریاد رسی کی جائے گی جو حلق میں اٹک جانے والا ہو گا ، وہ یاد کریں گے کہ وہ دنیا میں ، حلق میں اٹک جانے والی چیزوں کو گزارنے کے لیے پانی پیا کرتے تھے ، وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو لوہے کے آنکڑوں کے ذریعے گرم کھولتا ہوا پانی ان کے قریب کیا جائے گا ، جب وہ ان کے چہروں کے قریب ہو گا تو وہ ان کے چہروں کو جلا دے گا ، اور ان کے پیٹ میں داخل ہو گا تو وہ پیٹ میں موجود ہر چیز کو کاٹ ڈالے گا ، وہ کہیں گے : جہنم کے دربانوں کو بلاؤ ، تو وہ جواب دیں گے ، کیا تمہارے رسول معجزات لے کر تمہارے پاس نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ، آئے تھے ، وہ کہیں گے : (پھر) پکارتے رہو ، اور کافروں کی پکار خسارے میں ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (کافر) کہیں گے : مالک کو بلاؤ ، وہ کہیں گے ، مالک ! تیرا رب ہمیں موت ہی دے دے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ انہیں جواب دے گا : بے شک تم ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں ٹھہرنے والے ہو ۔‘‘\nاعمش ؒ نے فرمایا : مجھے بتایا گیا کہ ان کی دعا اور مالک کے انہیں جواب دینے میں ہزار سال کا وقفہ ہو گا ۔ فرمایا :’’ وہ کہیں گے ، اپنے رب سے دعا کرو ، تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ، وہ عرض کریں گے : ہمارے پروردگار ! ہماری شقاوت ہم پر غالب آ گئی اور ہم گمراہ لوگ تھے ، ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ وہی کام کیے (جن پر تو ناراض ہوتا ہے) تو ہم ظالم ہوں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ انہیں جواب دے گا : ذلیل ہو کر اسی میں رہو ، اور مجھ سے کلام نہ کرو ۔‘‘ فرمایا :’’ اس وقت وہ ہر قسم کی خیر و بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے ، اور اس وقت وہ چیخ و پکار ، حسرت اور تباہی میں مبتلا ہو جائیں گے ۔‘‘\nاور عبداللہ بن عبد الرحمن ؒ (راوی) بیان کرتے ہیں ، لوگ اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔\n

5687Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنِ\nالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ» فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى لَوْ كَانَ فِي مَقَامِي هَذَا سَمِعَهُ أَهْلُ السُّوقِ وَحَتَّى سَقَطَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَيْهِ عِنْدَ رجلَيْهِ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نےرسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے آگاہ کر دیا ، میں نے تمہیں جہنم کی آگ سے آگاہ اور خبردار کر دیا ۔‘‘ آپ ﷺ بار بار یہ فرماتے رہے ، حتی کہ اگر آپ میری اس جگہ ہوتے تو بازار والے اسے سن لیتے ، اور حتی کہ آپ (کے کندھے) پر جو چادر تھی وہ آپ کے قدموں پر گر پڑی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔

5688Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَصَاصَةً مِثْلَ هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ الْجُمْجُمَةِ - أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الْأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أنْ تبلع أَصْلهَا أَو قعرها» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اتنا سیسہ ۔‘‘ آپ ﷺ نے پیالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ آسمان سے زمین کی طرف چھوڑا جائے اور وہ پانچ سو میل کی مسافت ہے ، تو وہ شام سے پہلے زمین پر پہنچ جائے ، اور اگر اسے زنجیر کے سرے سے چھوڑا جائے تو اسے اس کی اصل (پہلے کڑی) تک یا اس کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے متواتر چالیس سال لگیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5689Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَن\nأبي بُردةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ يسكنُه كلُّ جبَّارٍ رَوَاهُ الدَّارمِيّ\n

ابو بُردہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں ایک وادی ہے جسے ھَبْھَبْ کہا جاتا ہے ، اس میں ہر قسم کے سرکش اور باغی رہیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

5690Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

عَنِ ابْنِ\nعُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سبعمائةِ عامٍ وإِنَّ غِلَظَ جلدِه سَبْعُونَ ذراعان وَإِن ضرسه مثل أحد»\n

ابن عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں کے جسم ، جہنم میں بڑے ہو جائیں گے حتی کہ ان کی کان کی لو سے کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہو گی ، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہو گی اور اس کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

5691Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ\nاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُؤْكَفَةِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُمَا أَحْمد\n

عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں بختی اونٹوں کی طرح اژدہے ، ان میں سے ایک ڈسے گا تو وہ چالیس سال تک اس کے زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا ، اس میں پالان بندھوں خچروں کی طرح کے بچھو ہوں گے ، ان میں سے کوئی ڈسے گا تو وہ شخص چالیس سال تک اس کی زہر کا اثر محسوس کرتا رہے گا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد ۔

5692Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَن\nالحسنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ثَوْرَانِ مُكَوَّرَانِ فِي النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . فَقَالَ الْحَسَنُ: وَمَا ذَنْبُهُمَا؟ فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ الْحَسَنُ. رَوَاهُ البيهقيُّ فِي «كتاب الْبَعْث والنشور»\n

حسن بصری ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوہریرہ ؓ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت سورج اور چاند کو لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔‘‘ اس پر حسن ؒ نے عرض کیا : ان کا کیا گناہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کر رہا ہوں ، تب حسن بصری ؒ خاموش ہو گئے ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور ۔

5693Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الشَّقِيُّ؟ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلم يتركْ لَهُ مَعْصِيّة» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف بدنصیب شخص ہی جہنم میں جائے گا ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! بدنصیب شخص کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے اللہ کی خاطر کوئی نیک کام نہ کیا اور نہ اس کی خاطر کوئی گناہ چھوڑا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔\n

5694Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ رِجْلَهُ. تَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ فَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فإِنَّ اللَّهَ ينشئ لَهَا خلقا . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت اور جہنم نے بحث و مباحثہ کیا تو جہنم نے کہا : مجھے تکبر کرنے والوں اور سرکشوں کے لیے خاص کر دیا گیا ہے ، جنت نے کہا ، میری تو حالت یہ ہے کہ مجھ میں (زیادہ تر) صرف ضعیف اور کم رتبہ والے اور دنیا سے بیزار لوگ ہوں گے ، اللہ نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے ، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم فرماؤں گا ، اور جہنم سے فرمایا : تو میرا عذاب ہے ،میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا ، اور تم دونوں بھر جاؤ گی ، رہی جہنم تو وہ نہیں بھرے گی حتی کہ اللہ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی : بس ، بس ، بس تب وہ بھرے گی اور اس کا بعض حصہ ، بعض کے ساتھ مل جائے گا ، اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا ، رہی جنت تو اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5695Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَزَالُ جَهَنَّمَ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ العزَّةِ فِيهَا قدَمَه فينزَوي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنُهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ . مُتَّفق عَلَيْهِ\nوذكرَ حَدِيث أنسٍ: «حُفَّتِ الجنَّةُ بالمكارِه» فِي «كتاب الرقَاق»\n

انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں لوگوں کو ڈالا جائے گا تو وہ کہتی رہے گی : کچھ اور بھی ہے ؟ حتی کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا تو اس کا بعض حصہ بعض کے ساتھ مل جائے گا اور وہ کہے گی : تیری عزت و کرم کی قسم ! بس ، بس ! اور جنت میں مزید گنجائش ہو گی حتی کہ اللہ اس کے لیے ایک مخلوق پیدا فرمائے گا ، اور انہیں جنت کے زائد حصے میں بسائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔\n اور انس ؓ سے مروی حدیث ((حفت الجنۃ بالمکارہ)) کتاب الرقاق میں ذکر کی گئی ہے ۔\n

5696Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ثُمَّ حَفَّهَا بالمكارِه ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ . قَالَ: فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جبريلُ اذهبْ فانظرْ إِليها فذهبَ فنظرَ إِليها فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جبريلُ اذهبْ فانظرْ إِليها فذهبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے جنت کو پیدا فرمایا تو جبریل ؑ سے فرمایا : جاؤ اسے دیکھو ، وہ گئے اور انہوں نے اس کو اور اس کے رہنے والوں کے لیے اللہ نے جو کچھ تیار کر رکھا تھا اس کو دیکھا ، پھر واپس آئے تو عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! اس کے متعلق جو بھی سنے گا وہ اس میں داخل ہو گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے گرد ناگوار چیزوں کی باڑ لگا دی ، پھر فرمایا : جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر آئے اور عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی ایک بھی داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ فرمایا :’’ جب اللہ نے جہنم کو پیدا فرمایا تو فرمایا : جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر آئے اور عرض کیا ، رب جی ! تیری عزت کی قسم ! اس کے متعلق جو سنے گا وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے گرد شہوات کی باڑ لگا دی ، پھر فرمایا :’’ جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا تو (آ کر) عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

5697Mishkaat-al-Masabihصحیح

جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى بِنَا يَوْمًا الصَّلَاةَ ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «قَدْ أُرِيتُ الْآنَ مُذْ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قِبَلِ هَذَا الْجِدَارِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْر وَالشَّر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز ہمیں نماز پڑھائی ، پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلے کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا :’’ اب جب کے میں تمہیں نماز پڑھا رہا تھا تو مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور جہنم کے مناظر دکھائی دیے ، میں نے آج کے دن کی طرح نہ تو کوئی بھلی چیز دیکھی اور نہ ایسی کوئی بُری چیز دیکھی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5698Mishkaat-al-Masabihصحیح

مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ قومٌ منْ بَني تميمٍ فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ» قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَدَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ» . قَالُوا: قَبِلْنَا جِئْنَاكَ لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَلِنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ: «كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كلَّ شيءٍ» ثُمَّ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ أَدْرِكْ ناقتَكَ فقدْ ذهبتْ فانطلقتُ أطلبُها وايمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا قَدْ ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ بنو تمیم (قبیلے) کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بنو تمیم ! تم خوشخبری قبول کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، آپ نے ہمیں خوشخبری تو سنا دی ، آپ ہمیں عطا بھی فرمائیں ، اتنے میں اہل یمن سے کچھ لوگ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یمن والو ! تم خوشخبری قبول کرو ، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے قبول کیا ، اور ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں تا کہ ہم دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اور سب سے پہلے کیا چیز تھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تھا ، اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی ، اور اس کا عرش پانی پر تھا ، پھر اس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائی ، اور ذکر (لوح محفوظ) میں ہر چیز لکھی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر ایک آدمی میرے پاس آیا تو اس نے کہا : عمران ! اپنی اونٹنی کی خبر لو ، وہ جا چکی ہے ، میں اسے تلاش کرنے چلا گیا ، اللہ کی قسم ! میں نے خواہش کی کہ وہ چلی جاتی اور میں (وہاں سے) نہ اٹھتا ۔ رواہ البخاری ۔

5699Mishkaat-al-Masabihصحیح

مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان

وَعَن عمر قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الْخَلْقِ حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نسيَه . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک جگہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں طویل خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ نے ہمیں مخلوق کی ابتدا سے بتانا شروع کیا (اور بتاتے گئے) حتی کہ جنت والے اپنی منازل میں اور جہنم والے اپنی جگہوں میں داخل ہو گئے ۔ اور جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے اسے یاد رکھا ، اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا ۔ رواہ البخاری ۔

5700Mishkaat-al-Masabihصحیح

مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي فَهُوَ مَكْتُوب عِنْده فَوق الْعَرْش . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق سے پہلے ایک مکتوب (لوح محفوظ) تحریر کیا کہ میری رحمت ، میرے غضب پر غالب ہے اور وہ عرش کے اوپر اس کے پاس لکھا ہوا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔