Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 284 of 315

5661Mishkaat-al-Masabihضعیف

دیدار الٰہی کا بیان

وَعَن الشّعبِيّ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ. فَقَالَ كَعْبٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسَى فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ. قَالَ مسروقٌ: فَدخلت على عَائِشَة فَقلت: هَل رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعَرِي قُلْتُ: رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ (لقد رأى من آيَات ربّه الْكُبْرَى)\nفَقَالَتْ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِكَ؟ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ. مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ)\nفَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَمَرَّةً فِي أَجْيَادٍ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ\nوَرَوَى الشَّيْخَانِ مَعَ زِيَادَةٍ وَاخْتِلَافٍ وَفِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى)\n؟ قَالَتْ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْتِيهِ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ وَإِنَّهُ أَتَاهُ هَذِهِ الْمَرَّةَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي هِيَ صُورَتُهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ\n

شعبی ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن عباس ؓ ، کعب ؓ کو عرفات کے میدان میں ملے تو ابن عباس ؓ نے ان سے کسی چیز کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے (زور سے) اللہ اکبر کہا حتی کہ پہاڑوں نے انہیں جواب دیا ، ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم بنو ہاشم ہیں ، کعب ؓ نے فرمایا : اللہ نے اپنی رؤیت اور اپنے کلام کو محمد ﷺ اور موسی ؑ کے درمیان تقسیم فرمایا ہے ، موسی ؑ نے دو مرتبہ کلام کیا ہے جبکہ محمد ﷺ نے اسے دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ مسروق ؒ بیان کرتے ہیں میں عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے پوچھا کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم نے ایسی چیز کے متعلق بات کی ہے کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ، میں نے عرض کیا : ذرا سکون فرمائیں ، پھر میں نے یہ آیت تلاوت کی :’’ اس (رسول ﷺ) نے اپنے رب کی بعض بڑی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘ انہوں نے فرمایا : یہ (آیت) تمہیں کدھر لے جا رہی ہے ؟ اس سے مراد تو جبریل ؑ ہیں ، جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ یا جس کے متعلق آپ ﷺ کو (بیان کرنے کا) حکم دیا گیا تھا تو آپ نے اس میں سے کوئی چیز چھپا لی ؟ یا آپ وہ پانچ چیزیں جانتے تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ، اور وہی بارش برساتا ہے ۔‘‘ اور یہ (کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے) تو یہ بہت بڑا جھوٹ ہے ، لیکن آپ ﷺ نے جبریل ؑ کو دیکھا ہے اور آپ نے انہیں ان کی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ ہی دیکھا ہے ، ایک مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ اجیاد (مکہ کے نشیبی علاقے) کے پاس ، اس کے چھ سو پر ہیں ۔ اور اس نے افق کو بھر دیا تھا ۔\nامام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے کچھ اضافے اور کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے ، مسروق ؒ نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ پھر وہ قریب ہوا اور آگے بڑھا ، تو کمان کا یا اس سے بھی کم فرق رہ گیا ۔‘‘ کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ (جبریل ؑ) آدمی کی صورت میں آپ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے ، اور اس مرتبہ وہ اپنی اس صورت میں آئے تھے جو کہ ان کی اصل صورت ہے ، تو افق بھر گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و اصل الحدیث عند البخاری و مسلم ۔\n

5662Mishkaat-al-Masabihصحیح

دیدار الٰہی کا بیان

وَعَن ابْن مَسْعُود فِي قَوْلِهِ: (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى)\nوَفِي قَوْلِهِ: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى)\nوَفِي قَوْلِهِ: (رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى)\nقَالَ فِيهَا كُلِّهَا: رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ\nوَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى)\nقَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ\nوَلَهُ وَلِلْبُخَارِيِّ فِي قَوْلِهِ: (لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى)\nقَالَ: رَأَى رَفْرَفًا أَخْضَرَ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ\n

ابن مسعود ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ تو کمان یا اس سے بھی کم فرق رہ گیا ۔‘‘ اور ’’ آپ ﷺ نے جو کچھ دیکھا ، دل نے اس میں دھوکہ نہیں کھایا ‘‘ اور ’’ اور آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘ کے بارے میں فرمایا : ان تمام صورتوں میں آپ ﷺ نے جبریل ؑ کو دیکھا ہے ، ان کے چھ سو پر تھے ۔ متفق علیہ ۔\n اور ترمذی کی روایت میں ہے :’’ آپ نے جو دیکھا ، دل نے اس میں دھوکہ نہیں کھایا ۔‘‘ کے بارے میں فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ کو سبز جوڑے میں دیکھا ، اس نے زمین و آسمان کے درمیانی خلا کو پُر کر رکھا تھا ، اور ترمذی اور صحیح بخاری کی ، اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔‘‘ روایت میں ہے ، فرمایا : آپ ﷺ نے سبز لباس والے کو دیکھا اس نے افق بھر دیا تھا ۔ و الترمذی و قال : حسن صحیح ۔\n

5663Mishkaat-al-Masabihضعیف

دیدار الٰہی کا بیان

وسُئل مَالك بن أَنسٍ عَن قَوْله تَعَالَى (إِلى ربِّها ناظرة)\nفَقِيلَ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِلَى ثَوَابِهِ. فَقَالَ مَالِكٌ: كَذَبُوا فَأَيْنَ هُمْ عَنْ قَوْلُهُ تَعَالَى: (كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبونَ)\n؟ قَالَ مَالِكٌ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَعْيُنِهِمْ وَقَالَ: لَوْ لَمْ يَرَ الْمُؤْمِنُونَ رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ يُعَيِّرِ اللَّهُ الْكَفَّارَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ (كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لمحجوبون)\nرَوَاهُ فِي «شرح السّنة»\n

اور مالک بن انس ؒ سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے ۔‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا ، نیز انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ رب تعالیٰ کے ثواب کو دیکھنے والے ہوں گے ، امام مالک ؒ نے فرمایا : انہوں نے جھوٹ کہا ہے ، (اگر ایسے ہے) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ ہرگز نہیں ، بے شک وہ اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے ۔‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ امام مالک ؒ نے فرمایا : لوگ روز قیامت اپنی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کریں گے اور فرمایا : اگر مومن قیامت کے دن اپنے رب کا دیدار نہیں کریں گے تو پھر اللہ کافروں کو دیدار سے محرومی کی عار نہ دلاتا ، فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، بے شک وہ (کافر لوگ) اس روز اپنے رب کے دیدار سے روک دیے جائیں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5664Mishkaat-al-Masabihضعیف

دیدار الٰہی کا بیان

وَعَنْ\nجَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ نورٌ فَرفعُوا رؤوسَهم فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى (سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رحيمٍ)\nقَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِم فِي دِيَارهمْ . رَوَاهُ ابْن مَاجَه\n

جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ جنت والے اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ان کے لیے ایک نور چمکے گا ، وہ اپنے سر اٹھائیں گے تو اچانک ان کے اوپر سے رب تعالیٰ نے ان پر تجلی فرمائی ہو گی ، وہ فرمائے گا : جنت والو ! السلام علیکم !‘‘ فرمایا :’’ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان ہے :’’ مہربان رب کی طرف سے سلام کہا جائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ ان کی طرف دیکھے گا اور وہ اس کی طرف دیکھیں گے ، جب تک وہ اس کی طرف دیکھتے رہیں گے وہ کسی اور نعمت کی طرف توجہ نہیں کریں گے حتی کہ وہ ان سے حجاب کر لے گا اور اس کا نور باقی رہ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

5665Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَارُكُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً قَالَ: «فُضِّلَتْ عَلَيْهِنَّ بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «نَارُكُمُ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ» . وَفِيهَا: «عَلَيْهَا» و «كلهَا» بدل «عَلَيْهِنَّ» و «كُلهنَّ»

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری (یہ دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! اگر (یہ دنیا کی آگ ہی) ہوتی تو وہی کافی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (جہنم کی آگ) کو ان (آگ کی اقسام) پر انہتر درجے فضیلت و برتری دی گئی ہے ، وہ سب اس (دنیا کی آگ) کی حرارت و تپش کی طرح ہے ۔‘‘ اور الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں ۔\nاور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ تمہاری وہ آگ جو انسان جلاتا ہے ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں : ((علیھن)) اور ((کلھن)) کے بجائے ((علیھا)) اور ((کلھا)) کے الفاظ ہیں ۔ متفق علیہ ۔\n

5666Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سبعونَ ألفَ مَلَكٍ يجرُّونها» . رَوَاهُ مُسلم

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کو لایا جائے گا ، اس روز اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5667Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا يُرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہو گا ، وہ شخص وہ ہو گا جس کے جوتے اور تسمے آگ کے ہوں گے ، جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھولتا ہو گا جس طرح ہنڈیا کھولتی ہے ،‘‘ وہ یہ خیال کرے گا کہ کسی شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5668Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يغلي مِنْهُمَا دماغه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا ، اس نے آگ کے دو جوتے پہنے ہوں گے ، ان سے اس کا دماغ کھولے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5669Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُصْبَغُ فِي النارِ صَبْغَةً ثمَّ يُقَال: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ وَهَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ. فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شدَّة قطّ . رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت جہنم والوں میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جسے دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں میسر تھیں ، اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا : اے انسان ! کیا تم نے کبھی کوئی خیر و نعمت دیکھی تھی ؟ کیا کسی نعمت کا تیرے پاس سے کبھی گزر ہوا تھا ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! اللہ کی قسم ! نہیں ، (پھر) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں سب سے زیادہ بدحالی دیکھی ہو ، اسے جنت میں ایک بار گھما کر اس سے پوچھا جائے گا : اے انسان ! کیا تو نے کبھی کوئی بدحالی دیکھی تھی ؟ یا کبھی کوئی شدت و تنگی تیرے پاس سے گزری تھی ؟ وہ عرض کرے گا : رب جی ! اللہ کی قسم ! نہیں ، نہ تو کبھی بدحالی میرے پاس سے گزری اور نہ میں نے کبھی کوئی شدت و تنگی دیکھی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5670Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكَنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي . مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ ، جہنم والوں میں سے سب سے ہلکے عذاب میں گرفتار شخص سے فرمائے گا : اگر زمین کی تمام چیزیں تیری ملکیت ہوں تو کیا تو انہیں اس (عذاب کے) بدلے میں بطورِ فدیہ دے دے گا ؟ وہ عرض کرے گا : جی ہاں ، وہ فرمائے گا : میں نے تجھ سے ، جبکہ تو آدم ؑ کی پشت میں تھا ، اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ تو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے گا ، لیکن تو نے انکار کیا ، اور میرے ساتھ شرک کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5671Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّار إِلَى ترقوته» . رَوَاهُ مُسلم

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی ، ان میں سے کسی کے گھٹنوں تک پہنچی ہو گی ، ان میں سے کسی کے ازار بند تک پہنچی ہو گی اور ان میں سے کسی کی گردن کو دبوچے ہوئے ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5672Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَذِكْرُ حَدِيث أبي هُرَيْرَة: «إِذا اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا» . فِي بَابِ «تَعْجِيلِ الصَّلَوَات»\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم میں کافر کے دو کندھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رفتار سوار کی تین روز کی مسافت جتنا ہو گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کافر کی داڑھ احد (پہاڑ) کی مثل ہو گی ، اور اس کی جلد کی موٹائی تین رات کی مسافت جتنی ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\nاور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی .....۔‘‘ باب تعجیل الصلوات میں ذکر کی گئی ہے ۔\n

5673Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُوقِدَ عَلَى النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى ابْيَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَيْهَا أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى اسْوَدَّتْ فَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنم کی آگ ہزار برس جلائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی ، پھر اسے ہزار برس جلایا گیا تو وہ سفید ہو گئی ، پھر اسے ہزار برس جلایا گیا تو وہ سیاہ ہو گئی ، وہ سیاہ ترین ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5674Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مسيرَة ثَلَاث مثل الربذَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت کافر کی داڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی ، اس کی ران بیضاء (پہاڑ /مقام) کی طرح ہو گی ، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ تین رات کی مسافت ، جیسے (مدینہ سے) ربذہ ہے ، کے برابر ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5675Mishkaat-al-Masabihضعیف

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کافر کی جلد کی موٹائی بیالیس ہاتھ ہو گی ، اس کی داڑھ احد پہاڑ کی مثل ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جس طرح مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5676Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْكَافِرَ لَيُسْحَبُ لسانُه الفرسَخ والفرسخين يتوطَّؤُه النَّاس» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَيْثُ غَرِيب\n

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کافر اپنی زبان کو فرسخ (تین میل) اور دو فرسخ گھسیٹے گا اور لوگ اس کو پاؤں تلے روندیں گے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

5677Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَن\nأبي سعيد الْخُدْرِيّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يُتَصَعَّدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَيُهْوَى بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِي\n

ابوسعید ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ الصعود جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس پر (کافر) کو ستر سال تک مسلسل چڑھایا جائے گا اور اسی طرح (ستر سال تک) اسے مسلسل گرایا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5678Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْهُ\nعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي قَوْله: (كَالْمهْلِ)\nأَيْ كَعَكَرِ الزَّيْتِ فَإِذَا قُرِّبَ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطت فَرْوَة وَجهه فِيهِ\nرَوَاهُ التِّرْمِذِيّّّّّّّ\n

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے (کالمھل) کی تفسیر میں فرمایا :’’ وہ تل چھٹ کی طرح ہو گا ۔ جب اس کو اس کے چہرے کے قریب کیا جائے گا تو اس کے چہرے کی جلد اس میں گر جائے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5679Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رؤوسهم فَينفذ الْحَمِيم حَتَّى يخلص إِلَى جَوْفه فسلت مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کھولتا ہوا پانی ان (جہنم والوں) کے سروں پر ڈالا جائے گا تو وہ کھولتا ہوا پانی داخل ہو جائے گا حتی کہ وہ اس کے پیٹ کے اند تک پہنچ جائے گا اور اس کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا حتی کہ وہ اس کے قدموں سے نکل جائے گا ، اور یہ وہ صہر (گلا دینا) ہے پھر اسے اس کی پہلی ہی حالت پر لوٹا دیا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

5680Mishkaat-al-Masabihصحیح

جہنم اور جہنم والوں کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: (يُسْقَى مِنْ مَاءٍ صديد يتجرَّعُه)\nقَالَ: يُقَرَّبُ إِلَى فِيهِ فَيَكْرَهُهُ فَإِذَا أُدْنِي مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ. يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: (وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أمعاءهم)\nوَيَقُولُ: (وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوه بئس الشَّرَاب)\nرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ اسے پیپ پلائی جائے گی تو وہ اسے گھونٹ گھونٹ پیئے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا ، جب اسے اس کے قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ جل جائے گا ، اس کے سر کی جلد گر پڑے گی ، جب وہ اسے پیئے گا تو اس کی انتڑیاں کٹ جائیں گی حتی کہ وہ اس کی دبر (پیٹھ) کے راستے باہر نکل آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔’’ انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا ۔‘‘ اور وہ فرماتا ہے :’’ اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تل چھٹ کی طرح ہو گا ، چہروں کو بھون ڈالے گا ، برا پینا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔