Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 277 of 315

5521Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ» قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ. قَالُوا: أَرْبَعُونَ شَهْرًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ. قَالُوا: أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ: أَبَيْتُ. «ثُمَّ يَنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ» قَالَ: «وَلَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ لَا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يركب»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو مرتبہ صور پھونکے جانے کا درمیانی وقفہ چالیس ہو گا ۔‘‘ انہوں نے کہا : ابوہریرہ ! چالیس دن ؟ انہوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے پوچھا : چالیس ماہ ؟ انہوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا ، انہوں نے کہا : چالیس سال ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ پھر اللہ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا تو وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح سبزیاں اُگ آتی ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ انسان کی ایک ہڈی کے سوا باقی سارا جسم گل سڑ جائے گا ، وہ ریڑھ کی ہڈی کا آخری سرا ہے ، اور روز قیامت تمام مخلوق اسی سے دوبارہ بنائی جائے گی ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ انسان کو مٹی کھا جائے گی ، البتہ ریڑھ کی ہڈی کا آخری سرا باقی رہ جائے گا ، اسی سے وہ پیدا کیا گیا اور اسی سے دوبارہ بنایا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5522Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟‘‘ متفق علیہ ۔

5523Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: قا ل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ - وَفِي رِوَايَة: يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْأُخْرَى - ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أينَ الجبَّارونَ أينَ المتكبِّرونَ؟ . رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ لے گا ، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لے گا ، پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، جابر و متکبر کہاں ہیں ؟ پھر وہ زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ان کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا ، پھر فرمائے گا ، میں بادشاہ ہوں ، جابر و متکبر کہاں ہیں ؟‘‘ رواہ مسلم ۔

5524Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ علىأصبع ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا اللَّهُ. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ. ثُمَّ قَرَأَ: (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يشركُونَ)\nمُتَّفق عَلَيْهِ\n

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک یہودی عالم نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : محمد ! روزِ قیامت اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا ، زمینوں کو ایک انگلی پر ، پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر ، پانی و مٹی کو ایک انگلی پر ، اور باقی ساری مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا ، پھر انہیں بلائے گا اور فرمائے گا ، میں بادشاہ ہوں ، میں اللہ ہوں ، رسول اللہ ﷺ اس بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیے ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا ، اور روزِ قیامت تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے ، پاک ہے وہ ذات اور بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5525Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: (يَوْمَ تُبَدَّلُ الأرضُ غيرَ الأَرْض والسَّماواتُ)\nفَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «عَلَى الصِّرَاطِ» . رَوَاهُ مُسلم\n

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :’’ اس روز زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا ۔‘‘ کے متعلق دریافت کیا کہ اس روز لوگ کہاں ہوں گے ؟ فرمایا :’’ پل پر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5526Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت سورج اور چاند کو لپیٹ دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5527Mishkaat-al-Masabihضعیف

صور پھونکنے کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّورِ قَدِ الْتَقَمَهُ وَأَصْغَى سَمْعَهُ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ ونِعمَ الْوَكِيل . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں جبکہ صور (پھونکنے) والے نے اس (صور) کو اپنے منہ کے ساتھ لگا رکھا ہے ، اپنے کان اور اپنی پیشانی کو جھکا رکھا ہے اور وہ انتظار کر رہا ہے کہ اسے پھونک مارنے کا کب حکم ملتا ہے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو : ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5528Mishkaat-al-Masabihضعیف

صور پھونکنے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

عبداللہ بن عمرو ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صور ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

5529Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى (فإِذا نُقر فِي النَّاقور)\n: الصّور قَالَ: و (الرجفة)\n: النَّفْخَةُ الْأُولَى وَ (الرَّادِفَةُ)\n: الثَّانِيَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَة بَاب\n

ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (فَإِذَا نُقِرَ فِیْ النَّاقُوْرِ) کی تفسیر میں فرمایا : (الرَّاجِفَۃُ) سے پہلی بار صور پھونکا جانا جبکہ (الرَّادِفَۃُ) سے دوسری بار صور پھونکا جانا مراد ہے ۔ امام بخاری ؒ نے اسے ترجمۃ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری (کتاب الرقاق باب ۴۳ قبل ح ۶۵۱۷ تعلیقا) ۔

5530Mishkaat-al-Masabihضعیف

صور پھونکنے کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nسَعِيدٍ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبُ الصُّورِ وَقَالَ: «عَن يَمِينه جِبْرِيل عَن يسَاره مِيكَائِيل»\n

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے صور والے (اسرافیل ؑ) کا ذکر کیا اور فرمایا :’’ اس کے دائیں جبرائیل ؑ اور اس کے بائیں میکائیل ؑ ہوں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ رزین (لم اجدہ)

5531Mishkaat-al-Masabihصحیح

صور پھونکنے کا بیان

وَعَن أبي\nرزين الْعقيلِيّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُعِيدُ الله الْخلق؟ مَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: «أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي قَوْمِكَ جَدْبًا ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَتِلْكَ آيَةُ اللَّهِ فِي خلقه (كَذَلِك يحيي اللَّهُ الْمَوْتَى)\nرَوَاهُمَا رزين\n

ابو رزین عقیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ مخلوق کو دوبارہ کیسے پیدا فرمائے گا ۔ اور اس کی مخلوق میں کون سی نشانی (موجود) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم کبھی اپنی قوم کی خشک و سخت وادی سے گزرے ہو ؟ پھر تم وہاں سے گزرتے ہو تو وہ سرسبز و شاداب لہلہا رہی ہوتی ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اللہ کی اس کی مخلوق میں نشانی ہے ، اللہ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا ۔‘‘ دونوں احادیث رزین نے نقل کی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔

5532Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لأحدٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کو روزِ قیامت سفید سرخی مائل زمین پر جمع کیا جائے گا ، وہ (زمین) میدے کی روٹی کی طرح ہو گی اس میں کسی کے لیے کوئی نشان نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5533Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَتَكَفَّأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السّفر نُزُلاً لِأَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ. فَقَالَ: بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخبرُك بِنُزُلِ أهل الجنةِ يومَ القيامةِ؟ قَالَ: «بَلَى» . قَالَ: تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَدَامِهِمْ؟ بَالَامٌ وَالنُّونُ. قَالُوا: وَمَا هَذَا؟ قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ ألفا. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت زمین ایک روٹی کی طرح ہو گی جسے الجبار (اللہ تعالیٰ) اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے اس طرح الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی دوران سفر اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے ۔‘‘ اتنے میں ایک یہودی آیا اور اس نے کہا : ابو القاسم ! رحمن آپ پر برکت نازل فرمائے ، کیا میں آپ کو روزِ قیامت اہل جنت کی میزبانی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ضرور بتاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : زمین ایک روٹی کی طرح ہو گی جس طرح نبی ﷺ نے فرمایا ، پھر نبی ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور ہنسنے لگے حتی کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ، پھر اس (یہودی) نے کہا : کیا میں آپ کو ان کے سالن کے متعلق نہ بتاؤں ؟ (اس نے خود ہی بتایا) بالام اور نون ، صحابہ کرام ؓ نے کہا : یہ کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا : بیل اور مچھلی ، ان دونوں کی کلیجی کے ساتھ ، گوشت کا ٹکڑا جو کہ علیحدہ لٹک رہا ہوتا ہے ، اس کے ساتھ ستر ہزار افراد کھائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5534Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ: رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ. تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ باتو وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ يمسوا . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ تین فرقوں میں جمع کیے جائیں گے ، رغبت کرنے اور ڈرنے والے ایک اونٹ پر دو (سوار) ہوں گے ، ایک اونٹ پر تین ہوں گے ، ایک اونٹ پر چار ہوں گے اور ایک اونٹ پر دس ہوں گے ، جبکہ باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ، جب وہ قیلولہ کریں گے تو وہ ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ، جب وہ رات گزاریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی ، جہاں وہ صبح کریں گے وہ صبح کرے گی اور جہاں وہ شام کریں گے وہ (شام کے وقت) ان کے ساتھ شام کرے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5535Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» ثُمَّ قَرَأَ: (كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فاعلين)\nوَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَزَالُوا مرتدين على أَعْقَابهم مذْ فَارَقْتهمْ. فَأَقُول كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دمت فيهم)\nإِلى قَوْله (الْعَزِيز الْحَكِيم)\nمُتَّفق عَلَيْهِ\n

ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بے ختنہ اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جیسا کہ ہم نے پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ ہم ایسے ہی لوٹائیں جائیں گے ، یہ ہماری طرف سے ایک وعدہ ہے جسے ہم پورا کر کے رہیں گے ۔‘‘ اور روزِ قیامت سب سے پہلے ابراہیم ؑ کو لباس پہنایا جائے گا ، اور میرے اصحاب سے بعض کو جہنم میں لے جانے کے لیے پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا : یہ میرے اصحاب ہیں ، یہ میرے اصحاب ہیں ! تو وہ کہے گا : آپ کے بعد یہ لوگ اپنی ایڑھیوں کے بل پھر گئے تھے ، تو میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے عیسیٰ ؑ نے کہا تھا :’’ جب تک میں ان میں تھا تو میں ان پر نگران تھا ..... العزیز الحکیم ۔‘‘ تک ۔ متفق علیہ ۔

5536Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگ روزِ قیامت ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے ، وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! وہ (قیامت کا) معاملہ اس سے بہت سنگین ہو گا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5537Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! کافر کو روز قیامت اس کے چہرے کے بل کیسے چلایا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ ذات جس نے اسے دنیا میں پاؤں پر چلایا اس پر قادر نہیں کہ وہ روزِ قیامت اسے اس کے چہرے کے بل چلائے ؟‘‘ متفق علیہ ۔

5538Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ: لَا تَعْصِنِي؟ فَيَقُولُ لَهُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ. فَيَقُول إِبراهيم: يَا رب إِنَّك وَعَدتنِي أَلا تخزني يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ثُمَّ يُقَالُ لِإِبْرَاهِيمَ: مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ فَيُؤْخَذُ بقوائمه فَيُلْقى فِي النَّار . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابراہیم ؑ روزِ قیامت اپنے والد آزر سے ملیں گے تو آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا ، ابراہیم ؑ اسے فرمائیں گے : کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کرو ، ان کا والد ان سے کہے گا : آج میں تمہاری مخالفت و نافرمانی نہیں کرتا ، ابراہیم ؑ عرض کریں گے : رب جی ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو روزِ قیامت مجھے رسوا نہیں کرے گا ؟ اس سے زیادہ رسوائی کیا ہے کہ میرا والد (تیری رحمت سے) سب سے زیادہ دور ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے ، پھر ابراہیم ؑ سے کہا جائے گا : تمہارے قدموں تلے کیا ہے ؟ وہ دیکھیں گے تو وہاں (آزر کی بجائے) ایک گھنے بالوں والا بجو ہو گا ، جو اپنی غلاظت کے ساتھ لت پت ہو گا ، اس کو اس کے پاؤں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

5539Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے حتی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا ، اور وہ ان کے منہ تک ہوتا ہوا ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5540Mishkaat-al-Masabihصحیح

حشر کا بیان

وَعَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُمُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا» وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ. رَوَاهُ مُسلم

مقداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ روزِ قیامت سورج مخلوق کے قریب ہو جائے گا حتی کہ وہ میل کی مسافت کے برابر ان کے قریب ہو گا ، اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں (ڈوبے) ہوں گے ، ان میں سے کسی کے ٹخنوں تک ہو گا ، کسی کے گھٹنوں تک ہو گا ، کسی کے ازار باندھنے کی جگہ تک اور بعض کے منہ تک ہو گا ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔