Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 276 of 315

5501Mishkaat-al-Masabihصحیح

ابن صیاد کے قصے کا بیان

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَشُكُّ أَنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ابْنُ صيَّادٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «كِتَابِ الْبَعْثِ والنشور»

نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ بیان کیا کرتے تھے ، اللہ کی قسم ! مجھے کوئی شک نہیں کہ مسیح دجال ابن صیاد ہی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی کتاب البعث و النشور ۔

5502Mishkaat-al-Masabihضعیف

ابن صیاد کے قصے کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدْ فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے حرہ کے دن ابن صیاد کو نہ پایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5503Mishkaat-al-Masabihضعیف

ابن صیاد کے قصے کا بیان

وَعَنْ أَبِي\nبَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «يمْكث أَبُو الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ» . ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: «أَبُوهُ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُود. فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا هُوَ مجندل فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَفَ عَن رَأسه فَقَالَ: مَا قلتما: وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا ينَام قلبِي\nرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال کے والدین تیس سال تک (بے اولاد) رہیں گے اور ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا ، پھر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا جو کانا ، بڑے دانتوں والا اور بہت ہی کم منافع پہنچانے والا ہو گا ، اس کی آنکھیں سوئیں گی لیکن اس کا دل نہیں سوئے گا ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے والدین کے متعلق ہمیں تعارف کرایا ، فرمایا :’’ اس کا والد طویل القامت ، پتلا ہو گا اور اس کی ناک لمبی ہو گی ، اس کی والدہ موٹی لمبے ہاتھوں والی ہو گی ۔‘‘ ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچے کی ولادت کی خبر سنی تو میں اور زبیر بن عوام ؓ گئے حتی کہ ہم اس کے والدین کے پاس پہنچ گئے ، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو صفات بیان کی تھیں وہ ان میں موجود تھیں ، ہم نے ان سے کہا : کیا تمہارا کوئی بچہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم تیس سال تک (بے اولاد) رہے ، اور ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا ، پھر ہمارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو کانا ، لمبے دانتوں والا اور انتہائی کم نفع مند ہے ، اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم ان دونوں کے پاس سے نکلے تو وہ ایک چادر میں لپٹا ہوا دھوپ میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی آواز پست تھی ، اس نے اپنے سر سے کپڑا اٹھایا تو یہ کہا : تم دونوں نے یہ کیا کہا تھا ؟ ہم نے کہا : ہم نے جو کہا تھا کیا تو نے اسے سن لیا تھا ؟ اس نے کہا : ہاں ، میری آنکھیں سوتی ہیں جبکہ میرا دل نہیں سوتا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5504Mishkaat-al-Masabihضعیف

ابن صیاد کے قصے کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ\nأَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَابُهُ فَأَشْفَقَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِن يَكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ. فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن يكن هُوَ فَلَيْسَتْ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَإِلَّا يكن هُوَ فَلَيْسَ لَك أتقتل رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ» . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّال. رَوَاهُ فِي شرح السّنة\nوَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ\n

جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے مدینہ میں ایک بچے کو جنم دیا جس کی آنکھ نہیں تھی ، اس کی کچلیاں نظر آ رہی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ وہ دجال نہ ہو ، آپ ﷺ نے اسے ایک چادر کے نیچے کچھ غیر واضح باتیں کرتے ہوئے پایا ، اس کی والدہ نے اسے اطلاع کر دی ، کہا : عبداللہ ! یہ تو ابو القاسم (ﷺ) ہیں ، وہ چادر سے نکلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کیا ہوا ؟ اللہ اسے ہلاک کرے ، اگر وہ اس (ابن صیاد) کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی تو وہ (اپنے دل کی بات) بیان کر دیتا ۔‘‘ پھر ابن عمر ؓ سے مروی حدیث کے معنی کی مثل حدیث بیان کی ، عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو یہ وہی (دجال) ہے تو پھر تم اسے قتل کرنے والے نہیں ہو ، اسے قتل کرنے والے تو عیسیٰ بن مریم ؑ ہیں ، اور اگر وہ (دجال) نہ ہوا تو پھر کسی ذمی شخص کو قتل کرنے کا تمہیں کوئی حق حاصل نہیں ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ مسلسل خوف زدہ رہے کہ وہ دجال ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

5505Mishkaat-al-Masabihصحیح

عیسیٰ ؑ کے نزول کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ليوشكَنَّ\nأَن ينزلَ فِيكُم ابنُ مَرْيَم حكَمَاً عَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تكون السَّجْدَة الْوَاحِدَة خيرامن الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: فاقرؤا إِن شئْتم\n[وإِنْ من أهل الْكتاب إِلاّ ليُؤْمِنن بِهِ قبل مَوته] الْآيَة. مُتَّفق عَلَيْهِ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! البتہ قریب ہے کہ ابن مریم (عیسیٰ ؑ) تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کے طور پر نازل ہوں گے ، وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو مار ڈالیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال کی اتنی ریل پیل ہو گی کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ، حتی کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا ۔‘‘ پھر ابوہریرہ ؓ فرماتے : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :’’ اہل کتاب کا ہر فرد ان (عیسیٰ ؑ) کی موت سے پہلے ان پر ضرور ایمان لے آئے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5506Mishkaat-al-Masabihصحیح

عیسیٰ ؑ کے نزول کا بیان

وَعنهُ قا ل: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَيَتْرُكَنَّ الْقِلَاصَ فَلَا يسْعَى عَلَيْهَا ولتذهبن الشحناء وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُم»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! ابن مریم (عیسیٰ ؑ) حکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے ، وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے ، جزیہ موقوف کر دیں گے ، جوان اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ان سے کوئی کام نہیں لیا جائے گا ، عداوت و رنجش اور باہمی بغض و حسد جاتا رہے گا ، وہ مال کی طرف بلائیں گے لیکن اسے کوئی لینے والا نہیں ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\nاور صحیحین کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب ابن مریم ؑ تمہارے درمیان نزول فرمائیں گے ، اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا ۔‘‘\n

5507Mishkaat-al-Masabihصحیح

عیسیٰ ؑ کے نزول کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة» . قا ل: فَينزل عِيسَى بن مَرْيَمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ: لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ الله هَذِه الْأمة . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي\n

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا وہ (قرب) قیام قیامت تک غالب آتے رہیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ ابن مریم ؑ نازل ہوں گے تو ان کا امیر کہے گا : تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں ، وہ فرمائیں گے ، نہیں ، اللہ نے اس امت کو جو عزت بخشی ہے اس وجہ سے تم خود ہی ایک دوسرے کے امام ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5508Mishkaat-al-Masabihضعیف

عیسیٰ ؑ کے نزول کا بیان

عَن عبد الله بن عَمْرو قا ل: قا ل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْزِلُ عِيسَى بن مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ مَعِي فِي قَبْرِي فأقوم أَنا وَعِيسَى بن مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبَى بَكْرٍ وَعُمَرَ» . رَوَاهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ الْوَفَاءِ

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ زمین پر نازل ہوں گے ، شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہو گی ، وہ پینتالیس سال رہیں گے پھر فوت ہو جائیں گے ۔ انہیں میری قبر کے ساتھ ہی میرے قریب دفن کر دیا جائے گا ۔ میں اور عیسیٰ بن مریم ، ابوبکر و عمر کے درمیان سے ایک ہی قبر سے کھڑے ہوں گے ۔‘‘ ابن جوزی نے اسے کتاب الوفا میں ذکر کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء ۔

5509Mishkaat-al-Masabihصحیح

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

عَن شعبةَ عَن قَتَادَة عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» . قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كفصل إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أنس أَو قَالَه قَتَادَة؟ مُتَّفق عَلَيْهِ

شعبہ ، قتادہ سے ، وہ انس ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح بھیجے گئے ہیں ۔‘‘ شعبہ نے بیان کیا ، میں نے قتادہ ؒ سے سنا وہ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے ۔ جس طرح ان دونوں (انگلیوں) میں سے ایک کو دوسری پر فضیلت حاصل ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ آیا انہوں نے اسے انس ؓ سے نقل کیا ہے یا قتادہ ؒ کا اپنا بیان ہے ۔ متفق علیہ ۔

5510Mishkaat-al-Masabihصحیح

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

وَعَن جَابر قا ل: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: «تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ؟ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو ، ان کی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے ہوئے سنا :’’ تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو ، حالانکہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے ، میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ روئے زمین پر جو ذی روح آج موجود ہے وہ سو سال گزرنے کے بعد زندہ نہیں ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5511Mishkaat-al-Masabihصحیح

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روئے زمین پر جو نفس آج موجود ہے ، سو سال گزرنے کے بعد وہ زندہ نہیں ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5512Mishkaat-al-Masabihصحیح

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُونَهُ عَنِ السَّاعَةِ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أصغرِهم فَيَقُول: «إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کچھ اعرابی لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ سے قیامت کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا :’’ اگر یہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھے ہونے سے پہلے تمہاری قیامت تم پر قائم ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

5513Mishkaat-al-Masabihضعیف

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

عَن الْمُسْتَوْرد بن شَدَّاد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هذِه هذِه» وأشارَ بأصبعيهِ السبَّابةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

مستور بن شداد ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے قیامت کے ظہور کے ساتھ بھیجا گیا ہے ، میں اس پر اسی طرح سبقت لے گیا ہوں جس طرح یہ اس پر سبقت لے گئی ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں ، انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

5514Mishkaat-al-Masabihضعیف

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ» . قِيلَ لِسَعْدٍ: وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: خَمْسُمِائَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

سعد بن ابی وقاص ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ میری امت اپنے رب کے ہاں عاجز نہیں آئے گی کہ وہ انہیں آدھا دن مؤخر کر دے ۔‘‘ سعد ؓ سے دریافت کیا گیا ، آدھے دن کی کیا مقدار ہے ؟ انہوں نے فرمایا : پانچ سو سال ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

5515Mishkaat-al-Masabihضعیف

قرب قیامت اور فوت شدہ پر قیامت قائم ہونے کا بیان

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهِ فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی طرح ہے جسے اس کے اول سے آخر تک پھاڑ دیا گیا ہو اور وہ اپنے آخر میں ایک دھاگے کے ساتھ متعلق ہو ، قریب ہے کہ وہ دھاگہ بھی ٹوٹ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

5516Mishkaat-al-Masabihصحیح

قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ . وَفِي رِوَايَةٍ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ: اللَّهُ الله . رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا قیامت قائم نہیں ہو گی ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کسی ایک پر قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک وہ اللہ اللہ کہتا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5517Mishkaat-al-Masabihصحیح

قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ» . رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5518Mishkaat-al-Masabihصحیح

قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ» . وَذُو الْخَلَصَةِ: طَاغِيَةُ دَوْسٍ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کے سرین ذوالخلصہ کے گرد (طواف کرتے ہوئے) چھلکیں (یعنی حرکت کریں) گے ۔ اور ذوالخلصہ دوس قبیلے کا صنم ہے جس کی وہ دورِ جاہلیت میں پوجا کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

5519Mishkaat-al-Masabihصحیح

قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ: (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ)\nأَنَّ ذَلِكَ تَامًّا. قَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتُوُفِّيَ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِين آبَائِهِم» . رَوَاهُ مُسلم\n

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ رات اور دن ختم نہیں ہوں گے حتی کہ لات اور عزی کی پوجا کی جائے گی ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ ذات جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تا کہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے خواہ مشرک اسے ناگوار جانیں ۔‘‘ تو میں خیال کرتی تھی کہ یہ (حکم تمام زمانوں کو) شامل ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (دین کے مکمل کرنے) میں جو اللہ چاہے گا وہی ہو جائے گا ، پھر اللہ ایک خوشگوار ہوا چلائے گا اس وقت جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ وفات پا جائے گا ، اور صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی ، وہ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

5520Mishkaat-al-Masabihصحیح

قیامت بُرے لوگوں پر ہی قائم ہو گی

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ» لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ عَامًا «فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ فِي النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ» قَالَ: فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ فَيَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا الناسُ هَلُمَّ إِلى ربِّكم وقفوهُم إِنَّهم مسؤولونَ. فَيُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ. فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ: «فَذَلِكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ: «لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ» فِي «بَاب التَّوْبَة»\n

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دجال نکلے گا تو وہ چالیس قیام کرے گا ۔‘‘ (عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال ’’ پھر اللہ عیسی بن مریم ؑ کو بھیجے گا گویا وہ عروہ بن مسعود ہیں ، وہ اس (دجال) کو تلاش کریں گے اور اسے قتل کریں گے ، پھر وہ لوگوں کے درمیان سات سال رہیں گے ، کسی دو کے درمیان کوئی عداوت نہیں ہو گی ، پھر اللہ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا تو وہ روئے زمین پر موجود ان تمام لوگوں کی روح قبض کر لے گی جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان یا خیر ہو گی ، حتی کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندر گھس جائے گا تو وہ وہاں پہنچ کر اسے دبوچ لے گی ۔‘‘ فرمایا :’’ بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں کی طرح سبک اور تیز جبکہ درندوں کی طرح سخت (وحشی) ہوں گے ، وہ کسی نیکی کو نیکی سمجھیں گے نہ برائی کو برائی ، شیطان روپ بدل کر ان کو کہے گا : کیا تم حیا نہیں کرتے ؟ وہ کہیں گے : تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو ؟ چنانچہ وہ انہیں بتوں کی پوجا کرنے کی تلقین کرے گا ، اور وہ اسی حالت میں ہوں گے ، ان کا رزق بہت زیادہ ہو گا ، ان کی زندگی خوشگوار ہو گی ، پھر صور پھونک دیا جائے گا ، جو شخص اسے سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک جانب جھکائے گا اور ایک جانب اٹھائے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا ، وہ بے ہوش ہو جائے گا اور تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے ، پھر اللہ شبنم کی طرح بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ (جی) پڑیں گے ، پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے ، پھر کہا جائے گا : لوگو ! اپنے رب کی طرف آؤ ، (فرشتوں سے کہا جائے گا) انہیں کھڑا کرو کیونکہ ان سے حساب لیا جائے گا ، پھر (فرشتوں سے کہا جائے گا) آگ والوں (جہنمیوں) کو نکال لاؤ (الگ کر دو) ۔ کہا جائے گا : کتنے میں سے کتنے ؟ کہا جائے گا : ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔‘‘ فرمایا :’’ یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ، اور یہ وہ دن ہے جس دن پنڈلی سے کپڑا ہٹا دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n اور معاویہ ؓ سے مروی حدیث :’’ ہجرت منقطع نہیں ہو گی ‘‘ باب التوبۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔\n