Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,333 hadiths in order · Page 195 of 317

3881Mishkaat-al-Masabih

غزوئہ حنین کے قیدیوں کی واپسی

وعن مروان والمسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام حين جاءه وفد من هوازن مسلمين فسألوه أن يرد إليهم أموالهم وسبيهم فقال : فاختاروا إحدى الطائفتين : إما السبي وإما المال . قالوا : فإنا نختار سبينا . فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فأثنى على الله بما هو أهله ثم قال : أما بعد فإن إخوانكم قد جاؤوا تائبين وإني قد رأيت أن أرد إليهم سبيهم فمن أحب منكم أن يطيب ذلك فليفعل ومن أحب منكم أن يكون على حظه حتى نعطيه إياه من أول ما يفيء الله علينا فليفعل فقال الناس : قد طيبنا ذلك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنا لا ندري من أذن منكم ممن لم يأذن فارجعوا حتى يرفع إلينا عرفاؤكم أمركم . فرجع الناس فكلمهم عرفاؤهم ثم رجعوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبروه أنهم قد طيبوا وأذنوا . رواه البخاري

اور حضرت مروان اور حضرت مسور ابن مخرمہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اس وقت (خطبہ ارشاد کرنے کے لئے) کھڑے ہوئے جب قبیلہ ہوازن کے لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے قیدی واپس کر دئیے جائیں، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ دونوں چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو اختیار کرلو یعنی یا تو قیدیوں کو رہا کرا لے جاؤ یا مال واپس لے لو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اپنے قیدیوں کو رہا کرانا پسند کرتے ہیں تب رسول کریم ﷺ نے (صحابہ کے سامنے) یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ پہلے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جس کا وہ مستحق ہے اور پھر فرمایا کہ! بعد ازاں یہ (قبیلہ ہوازن کے لوگ) جو تمہارے (دینی یا نسبی) بھائی ہیں (اپنے کفر وشرک سے) توبہ کر کے (اور مسلمان ہو کر) تمہارے پاس آئے ہیں، میں نے اس چیز کو مناسب سمجھا ہے کہ ان کو ان کے قیدی واپس کر دے) اور جو شخص اپنے حصہ پر قائم رہنا چاہے تاوقتیکہ ہم اس کا عوض اس پہلے آنے والے مال میں سے نہ دے دیں جو اللہ تعالیٰ ہمیں غنیمت کے طور پر عطا کرے تو وہ ایسا ہی کرے (یعنی جو شخص اپنے حصے کے قیدی کو بغیر معاوضہ نہ دینا چاہے تو وہ ہمیں بتائے کہ وہ کیا معاوضہ لے گا تاکہ ہم یہ انتظام کردیں کہ اب کہیں سے جو سب سے پہلے مال غنیمت آئے اس میں سے اس کا وہ معاوضہ ادا کردیا جائے! لوگوں نے (یعنی بعض صحابہ یا بلا امتیاز تمام صحابہ نے) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم اس پر (یعنی قیدیوں کو واپس کردینے پر) خوشی کے ساتھ آمادہ ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہمیں (اس مجمع میں ) یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ تم میں سے کون شخص راضی ہے اور جو شخص راضی نہیں ہے اس کا امتیاز نہیں کیا جاسکتا لہٰذا تم سب لوگ (اپنے اپنے گھر) لوٹ جاؤ اور اپنے خاندان و قبیلہ کے سرداروں سے اس بارے میں مشورہ کرلو) تاآنکہ تمہارے (وہ) سردار تفصیل کے ساتھ) ہمارے سامنے تمہارا فیصلہ پیش کریں۔ چناچہ سب لوگ لوٹ کر چلے گئے اور جب ان کے سرداروں نے ان سے گفتگو کرلی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں واپس آئے اور آپ ﷺ کی بتایا کہ وہ (قیدیوں کو واپس کردینے پر) راضی ہیں اور انہوں نے (اس امر کی) اجازت دے دی ہے۔ (بخاری) تشریح مکہ مکرمہ سے شمال مشرقی جانب طائف کے لئے جو راستہ جاتا ہے اس راستے پر ایک وسیع میدان ملتا ہے جس کے اطراف میں پہاڑیاں ہیں اور اس سے گذرنے کے بعد چھوٹی سی بستی ملتی ہے، اس میدان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے آس پاس قبیلہ ہوازن کے لوگ آباد تھے اور یہیں فتح مکہ کے بعد وہ غزوہ ہوا تھا جس کو غزوہ حنین یا غزوہ ہوازن کہتے ہیں۔ اس غزوہ میں غزوہ میں غنیمت کا بہت زیادہ مال مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور دشمن کے بیشمار بال بچے قیدی بنا کر مدینے لائے گئے تھے جن کو صحابہ کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے چناچہ جب اس غزوہ کے بعد قبیلہ ہوازن کے لوگ مشرف بہ اسلام ہوگئے تو وہ دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور اپنے مال اور اپنے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، چونکہ ان کا مال اور قیدی مجاہدین اسلام (یعنی صحابہ) کی ملکیت ہوگئے تھے اور ان کی اجازت کے بغیر ان کی ملکیت کو واپس کرنا جائز نہیں تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں صحابہ کے سامنے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا اور ان سے مذکورہ اجازت طلب کی۔

3882Mishkaat-al-Masabih

گرفتاری کے بدلے گرفتاری

وعن عمران بن حصين قال : كانت ثقيف حليفا لبني عقيل فأسرت ثقيف رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وأسر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا من بني عقيل فأوثقوه فطرحوه في الحرة فمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فناداه : يا محمد يا محمد فيم أخذت ؟ قال : بجريرة حلفائكم ثقيف فتركه ومضى فناداه : يا محمد يا محمد فرحمه رسول الله صلى الله عليه و سلم فرجع فقال : ما شأنك ؟ قال : إني مسلم . فقال : لو قلتها وأنت تملك أمرك أفلحت كل الفلاح . قال : ففداه رسول الله صلى الله عليه و سلم بالرجلين اللذين أسرتهما ثقيف . رواه مسلم

اور حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف، بنو عقیل کا حلیف تھا، چناچہ جو قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں کو گرفتار کرلیا تو رسول کریم ﷺ کے صحابہ نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو گرفتار کرلیا اور اس کو مضبوطی سے باندھ کر حرہ میں ڈال دیا۔ رسول کریم ﷺ ادھر سے گذرے تو اس (قیدی) نے پکارا محمد ﷺ! محمد ﷺ مجھے کس جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے حلیف، قبیلہ ثقیف (کے لوگوں کے جرم میں یعنی قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے ہمارے دو مسلمانوں کو پکڑ لیا ہے، ان کے بدلے میں تمہیں پکڑ لیا گیا ہے۔ (یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اس کو اس کے حال پر (اس جگہ) چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئے، اس نے آنحضرت ﷺ کو پھر پکارا محمد ﷺ! محمد! رسول کریم ﷺ کو اس پر رحم آگیا، آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا کہ تم کس حال میں ہو؟ اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں آپ ﷺ نے فرمایا (کاش! ) تم یہ بات اس وقت کہتے، جب تم خود اپنے اختیار کے مالک تھے (یعنی جب کہ تم قید ہونے سے پہلے اپنے اوپر اختیار رکھتے تھے اور تم پر کوئی دباؤ نہیں تھا اگر اس وقت بطریق رغبت کے یہ کہتے کہ میں مسلمان ہوں تو تم نجات پا جاتے کامل نجات (یعنی دنیا میں تو یہ نجات ملتی کہ قید نہ ہوتے اور آخرت میں دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا پاتے) راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے اس کو ان دونوں آدمیوں کے بدلے میں جن کو ثقیف نے گرفتار کیا تھا چھوڑ دیا۔ (مسلم) تشریح ثقیف عرب کے ایک بڑے اور مشہور قبیلہ کا نام ہے۔ جو بنو ہوازن کی ایک شاخ اور طائف میں آباد تھا، اسی طرح بنوعقیل بھی ایک تھا، یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ زمانہ جاہلیت کے عرب میں یہ دستور تھا کہ قبائل آپس میں ایک دوسرے کے درمیان حلف وقسم کے ساتھ یہ عہد و پیمان کیا کرتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے برے بھلے کام کے ساتھی ہوں گے اور ہم میں سے کسی ایک کا دشمن دوسرے کا بھی دشمن اور کسی ایک کا دوست دوسرے کا بھی دوست ہوگا، لیکن جب اسلام کا زمانہ آیا تو زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق وہ قسما قسمی تو جائز رہی جس کا تعلق حق اور جائز باتوں سے تھا لیکن جس کا تعلق ناحق اور ناجائز باتوں سے تھا اس کو ختم کردیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اسلام کا جو حلف ہے وہ کافی ہے۔ بنو عقیل کے ایک آدمی کو گرفتار کرلیا یعنی قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے جن دو صحابہ کو پکڑ کر اپنے یہاں قید کرلیا تھا ان کے بدلے میں مسلمانوں نے بنوعقیل ایک آدمی پکڑ کر اپنے یہاں باندھ دیا، کیونکہ اس وقت قبائل کا باہمی دستور یہی تھا کہ ایک حلیف کے جرم میں دوسرے حلیف کے حلیف کے آدمی پکڑ لیا جاتا تھا چناچہ مسلمانوں نے بھی اسی دستور کے مطابق عمل کیا اور بظاہر اس میں مصلحت بھی تھی۔ حرہ مدینہ کے مضافات میں پہاڑی علاقہ کے اس قطعہ کو کہا جاتا تھا جس کی زمین کالی پتھریلی تھی۔ میں مسلمان ہوں الخ ان الفاظ کے ذریعہ اس شخص نے گویا یہ بتانا چاہا کہ میں پہلے ہی سے مسلمان ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو غیر مسلم، مسلمانوں کی قید میں ہو اور وہ یہ دعوی کرلے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کی بات کو اس وقت تک تسلیم نہ کیا جائے جب تک کہ اس کا دعوی گواہی کے ذریعہ ثابت نہ ہوجائے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعہ اس شخص کی یہ مراد ہو میں اب اسلام قبول کرتا ہوں۔ بہرحال آنحضرت ﷺ نے اس کے دعوی اسلام کو قبول نہیں کیا کیونکہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ تو ازراہ نفاق اپنے اسلام کا دعویٰ کر رہا ہے یا بطریق اضطرار وہ اس دعوے پر مجبور ہے اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے جھوٹا سمجھتے ہوئے دارالحرب جانے دیا۔ اس اعتبار سے اس شخص کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ معاملہ گویا آپ ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔

3883Mishkaat-al-Masabih

جنگ بدر کے قیدیوں میں سے آنحضرت ﷺ کے داماد ابوالعاص کی رہائی کا واقعہ

عن عائشة رضي الله عنها قالت : لما بعث أهل مكة في فداء أسرائهم بعثت زينب في فداء أبي العاص بمال وبعثت فيه بقلادة لها كانت عند خديجة أدخلتها بها على أبي العاص فلما رآها رسول الله صلى الله عليه و سلم رق لها رقة شديدة وقال : إن رأيتم أن تطلقوا لها أسيرها وتردوا عليها الذي لها فقالوا : نعم وكان النبي صلى الله عليه و سلم أخذ عليه أن يخلي سبيل زينب إليه وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم زيد بن حارثة ورجلا من الأنصار فقال : كونا ببطن يأحج حتى تمر بكما زينب فتصحباها حتى تأتيا بها . رواه أحمد وأبو داود

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب (جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ پر غلبہ اور فتح عطا فرمائی اور ان میں سے کچھ کو قتل کر دئیے گئے اور کچھ قیدی بنا کر مدینہ لائے گئے اور پھر آنحضرت ﷺ نے ان کی رہائی کے بدلے میں مال طلب کیا تو) اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کی رہائی کا معاوضہ روانہ کیا، (آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی) حضرت زینب نے بھی (اپنے شوہر) ابوالعاص کی رہائی کے بدلے میں کچھ مال بھیجا جس میں ان کا وہ ہار بھی تھا جو (پہلے) حضرت خدیجہ کے پاس تھا اور اس کو انہوں نے ابوالعاص کے ساتھ زینب کے نکاح کے وقت ان کو (جہیز میں) دیا تھا جب رسول کریم ﷺ نے وہ ہار دیکھا تو زنیب کے لئے آپ ﷺ پر رقت طاری ہوگئی (یعنی) اس وقت اپنی بیٹی حضرت زینب کی غربت و تنہائی کا احساس کر کے اور حضرت خدیجہ کی رفاقت کی یاد تازہ ہوجانے کی وجہ سے جن کے گلے میں وہ ہار رہتا تھا آپ ﷺ کا دل امنڈ آیا) اور آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کی خاطر اس کے قیدی (ابو العاص) کو (بلا معاوضہ) رہا کردو اور اس (زینب) کو اس کی (وہ سب) چیزیں (جو اس نے ابوالعاص کی رہائی کی لئے بھیجی ہیں) واپس کردو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ بہتر ہے (ہم زینب کا مال واپس کر کے ابوالعاص کو بلا معاوضہ رہا کردیتے ہیں) چناچہ (ابو العاص کو رہا کردیا گیا اور رہائی کے وقت) آنحضرت ﷺ نے ابوالعاص سے یہ عہد وعدہ لیا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس زینب کے آنے کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں (یعنی آپ ﷺ نے ابوالعاص کو رہا کرتے وقت ان سے کہا کہ یہ پختہ وعدہ کرو کہ مکہ پہنچ کر زینب کو میرے پاس مدینہ آنے دو گے اور اس کا راستہ نہیں روگے) اور پھر رسول کریم ﷺ نے زید ابن حارثہ اور انصار میں سے ایک شخص کو (مکہ) روانہ کیا اور ان سے کہا کہ تم لوگ بطن یا جج میں ٹھہر جانا، جب زنیب (مکہ سے روانہ ہو کر) وہاں تمہارے پاس آجائے تو تم اس کے ساتھ ہوجانا اور (مدینہ) لے آنا۔ (احمد، ابوداؤد ) تشریح آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں اور ابوالعاص ابن ربیع جو عبدالعزی ابن عبد شمس ابن عبد مناف کے پوتے تھے، ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے بھانجے تھے اور حضرت زنیب کے شوہر ہونے کی وجہ سے داماد بھی تھے۔ حضرت خدیجہ، آنحضرت ﷺ سب سے پہلی زوجہ مطہرہ ہیں، آپ ﷺ کی ساری اولاد علاوہ ابراہیم کے حضرت خدیجہ ہی کے بطن سے تھی۔ ابراہیم جن کا کم سنی میں انتقال ہوگیا تھا حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے۔ حضرت زینب جو ایک کافر یعنی ابوالعاص کے نکاح میں تھیں تو اس کا سبب یہ تھا کہ اس وقت مسلمان عورت کا کافر مرد کے ساتھ نکاح جائز تھا، نیز مکہ سے حضرت زینب کو لانے کے لئے آنحضرت ﷺ کی طرف سے ایسے دو آدمیوں کا بھیجا جانا جو حضرت زینب کے شرعی محرم نہیں تھے ایک بالکل مخصوص نوعیت کا معاملہ تھا اور وہ ایک ایسی صورت تھی جو ( امن) کی صورت کہلائی جاسکتی ہے کہ حضرت زینب چونکہ صاحبزادی رسول تھیں اس لئے ان کے ساتھ کسی غیر محرم کا ہونا کسی قسم کے شک وشبہ سے بالا تر تھا اور کسی خوف و خطرہ کے پیدا ہونے کا سوال نہیں تھا۔ ویسے یہ ایک عام مسئلہ ہے کہ عورت کو کسی نا محرم کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہے بطن یا حج ایک جگہ کا نام تھا جو مکہ سے تقریبا آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس لفظ یا جج کو صاحب قاموس نے یا اور دونوں جیم کے ساتھ یعنی یا جج لکھا ہے اور علماء نے اس کو نون اور یا و جیم کے ساتھ یعنی ناجج بھی نقل کیا ہے چناچہ مشکوۃ المصابیح کے اکثر قدیم نسخوں میں یہ لفظ ناجج ہی مذکور ہے۔ حضرت زینب جب مکہ سے مدینہ آگئیں تو ابوالعاص مکہ ہی میں رہے اور کفر کی حالت پر قائم رہے، کچھ دنوں کے بعد ان کو تجارت کی غرض سے شام کا سفر کرنا پڑا، جب مدینہ کے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ابوالعاص اس سفر میں مدینہ کے قریب سے گذرنے والے ہیں تو انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ ابوالعاص جیسے ہی مدینہ کے علاقہ میں داخل ہوں ان کا سارا مال چھین لیا جائے، اس اسکیم کی خبر حضرت زینب کو پہنچی تو ان کا دل شوہر کی محبت میں بےتاب ہوگیا، فورًا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا مسلمانوں میں سے کسی ایک کے عہد امان کا اعتبار نہیں ہے۔ حضرت زینب نے کہا کہ تو پھر یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ گواہ رہئے کہ میں ابوالعاص کو عہد امان دیتی ہوں۔ جب صحابہ نے یہ حال دیکھا تو ان کے لئے اپنی اسکیم پر عمل کرنا قطعًا ممکن نہیں رہا تاہم وہ بغیر ہتھیار واسلحہ کے مدینہ کے قریب ابوالعاص کی گزر گاہ پر پہنچے اور ان سے ملے تو کہا کہ ابوالعاص تم قریش کے ایک معزز شریف اور صاحب حیثیت فرد ہو اور پیغمبر اسلام کے چچا کے بیٹے بھی ہو ( اس نسبت سے تمہارے حق میں اس سے بہتر اور کوئی راہ نہیں ہے کہ) تم مسلمان ہوجاؤ تاکہ ( تمہیں آخرت کی فلاح ونجات تو ملے ہی گی) تمہارا یہ سب مال بھی تمہارے ہی پاس رہے۔ ابوالعاص نے ( یہ سن کر) کہا تم نے جو یہ کہا ہے ( کہ مسلمان ہوجانے کی وجہ سے مال محفوظ رہے گا) تو یہ ایک قطعی نامناسب اور غیرموزوں بات ہے میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے اسلام کو مال و دولت ( کی کثافت) سے گندہ کروں! اس کے بعد ابوالعاص مکہ روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر لوگوں کا مال ان کے سپرد کیا اور پھر ( سب کو جمع کر کے) کہا کہ مکہ والو! تم لوگوں کے مال تمہارے پاس پہنچ گئے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، پہنچ گئے۔ پھر ابوالعاص نے ان کے سامنے اعلان کیا کہ تم سب گواہ رہو! میں مسلمان ہوگیا ہوں اشھدان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ۔ اس کے بعد حضرت ابوالعاص نے مکہ میں اپنا گھر بار، دوست عزیز اور مال و اسباب سب کچھ چھوڑ کر راہ ہجرت اختیار کی اور مدینہ پہنچ کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، آنحضرت ﷺ نے بکمال محبت والفت ان کو خوش آمدید کہا اور حضرت زینب کو ان کی سپردگی میں دے دیا۔ اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابوالعاص کے مدینہ پہنچنے پر حضرت زینب سے ان کا دوبارہ ( از سر نو) نکاح کیا تھا یا پہلا ہی نکاح باقی رکھا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو ابوالعاص سے بہت زیادہ تعلق تھا، خاص طور سے ان کے مسلمان ہوجانے کے بعد تو آپ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور ان سے بہت خوش رہا کرتے تھے۔ وہ حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں جنگ یمامہ کے دوران شہید ہوئے۔

3884Mishkaat-al-Masabih

جنگ بدر کے قیدیوں میں سے قتل کئے جانے والے کفار

وعنها : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أسر أهل بدر قتل عقبة بن أبي معيط والنضر بن الحارث ومن على أبي عزة الجمحي . رواه في شرح السنة والشافعي وابن إسحاق في السيرة (2/402) 3972 - [ 13 ] ( لم تتم دراسته ) وعن ابن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أراد قتل عقبة بن أبي معيط قال : من للصبية ؟ قال : النار . رواه أبو داود

اور حضرت عائشہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بدر (کی جنگ میں مجاہدین اسلام کے خلاف لڑنے) والوں (میں سے جن کفار کو قید کیا تھا ان میں سے عقبہ ابن ابومعیط اور نضر ابن حارث کو قتل کرا دیا اور ابوغرہ کو (بلا معاوضہ رہا کر کے) ممنوع کیا۔ (شرح السنۃ) تشریح امام وقت (یعنی و اسلامی مملکت کے سربراہ) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جو غیر مسلم (دشمن کے لوگ) اس کی قید میں ہوں اور وہ اسلام قبول نہ کریں تو وہ چاہے ان کو موت کے گھاٹ اتار دے۔ چاہے غلام بنا کر رکھے اور چاہے مسلمانوں کے عہد امان کی بناء پر ان کو آزاد کر کے چھوڑ دے، البتہ ان کو ممنوع کرنا یعنی بلا کسی معاوضہ کے ان کو رہا کردینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کا جواز منسوخ ہوگیا ہے۔ اور حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب عقبہ ابن معیط کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا تو (اس نے) کہا کہ (میرے بچوں کو کون پالے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا آگ۔ (ابو داؤد) تشریح آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ بچوں کو آگ پالے گی، گویا ان بچوں کے ضائع ہوجانے کے مفہوم کا حامل ہے، یعنی اگر آگ اس چیز کی صلاحیت رکھتی کہ وہ کسی کی مددوگار وغمخوار ہوسکتی تو یقینا وہ بچوں کی بھی مددوگار وکفیل ہوتی لیکن چونکہ وہ ایسی ہی نہیں رکھتی اس لئے بچوں کا کوئی دوسرا مددگار وکفیل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تباہی لازمی ہے۔ یا آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ تو اب اپنی فکر کر کہ دوزخ کی آگ تیرا ٹھکانا بننے والی ہے، بچوں کی فکر میں مبتلا نہ ہو کہ ان کی پرورش نہ تجھ پر منحصر ہے اور نہ کسی دوسرے پر، ان کا مددگار وکفیل اللہ کی ذات ہے وہی ان کی پرورش کرائے گا۔

3885Mishkaat-al-Masabih

جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں دیا گیا اختیار

وعن علي رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن جبريل هبط عليه فقال له : خيرهم يعني أصحابك في أسارى بدر : القتل والفداء على أن يقتل منهم قابلا مثلهم قالوا الفداء ويقتل منا . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام)، آنحضرت کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کو جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں اختیار دے دیجئے کہ خواہ وہ ان کو قتل کردیں یا فدیہ لے لیں (یعنی مال لے کر ان کو چھوڑیں دیں) لیکن فدیہ لینے کی صورت میں آئندہ سال ان (صحابہ) کے اتنے ہی (یعنی ستر) آدمی مارے جائیں گے۔ صحابہ نے (اس اختیار کو سن کر) عرض کیا کہ ہم فدیہ لینے کو اور اپنے ستر آدمیوں کے مارے جانے کو اختیار کرتے ہیں۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح جنگ بدر میں مکہ کے جو کفار قریش مسلمانوں کے مقابلہ پر آئے تھے ان میں سے ستر کفار قریش قتل کر دئیے گئے تھے اور ستر ہی کی تعداد گرفتار کر کے مدینہ لائی گئی تھی، جب یہ ستر قیدی مدینہ میں پہنچے تو آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صاحب الرائے صحابہ سے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جائے، آیا ان کو قتل کردیا جائے یا فدیہ یعنی مالی معاوضہ لے کر ان کو رہا کردیا جائے؟ حضرت ابوبکر نے یہ مشورہ دیا کہ آپ ﷺ ان کو قتل نہ کرائیے بلکہ زندہ چھوڑ دیجئے عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو کفر سے توبہ کی توفیق عطا فرما دے اور یہ مسلمان ہوجائیں، البتہ ان سے فدیہ لے لیجئے تاکہ ان سے فدیہ کے طور پر جو مال حاصل ہو وہ آپ کے رفقاء (یعنی مسلمانوں کی تقویت اور ان کی کچھ دینی و دنیوی ضروریات کے تکمیل کا ذریعہ بن جائے۔ حضرت عمر فاروق نے عرض کیا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سب کی گردن اڑا دیجئے کیونکہ یہ کفر وشرک کے پیشوا اور سردار ہیں (ان کی موت سے کفر وشرک پر کاری ضرب لگے گی) اور (جہاں تک ان کی رہائی کے ذریعہ کچھ مالی منفعت حاصل ہوجانے کا سوال ہے تو) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مال حاصل کرنے سے مستغنی وبے نیاز بنا رکھا ہے! آنحضرت ﷺ نے یہ اختلاف آراء دیکھتے ہوئے (حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے مشورہ پر) صحابہ کو اختیار دے دیا کہ تم لوگ دونوں چیزوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرلو کہ چاہے تو اپنے قیدیوں کی گردن اڑا دو اور چاہے فدیہ لے کر ان کو آزاد کردو لیکن یہ واضح رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں یہ مقدر ہوچکا ہے کہ آئندہ سال تم میں ستر آدمی شہید ہوں گے اور فی الجملہ کفار کو فتح بھی حاصل ہوگی۔ صحابہ نے اس انتباہ کے باوجود فدیہ لینے کو اختیار کیا۔ جب آئندہ سال غزوہ احد ہوا اور میدان جنگ میں مسلمانوں کو زبردست مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ ایک موقع پر پسپائی کی صورت بھی اختیار کرنی پڑی، تو آنحضرت ﷺ نے ایک سال پہلے جس چیز سے متنبہ کیا تھا وہ سامنے آئی یعنی اس غزوہ میں مسلمانوں کو اپنی ستر قیمتی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور ان ستر شہیدوں میں حضرت حمزہ ابن عبدالمطلب اور حضرت مصعب ابن عمیر جیسے جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے۔ ہنگامہ جنگ کے بعد حضرت عمر فاروق دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق دونوں رو رہے ہیں انہوں نے پوچھا کہ آپ کیوں رہے ہیں؟ مجھے بھی بتائیے تاکہ میں بھی رو وں! آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھیوں پر رو رہا ہوں جنہوں نے فدیہ لینے کو اختیار کیا تھا اور (آپ ﷺ کے نزدیک ایک درخت کھڑا تھا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ) مجھے اس درخت سے بھی زیادہ قریب سے ان کا عذاب دیکھایا گیا ہے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر ان پر عذاب نازل کیا جاتا تو اس عذاب سے عمر اور سعد ابن معاذ کے علاوہ اور کسی کو نجات نہیں ملتی حضرت سعد ابن معاذ بھی حضرت عمر فاروق کی اس رائے کے حامی تھے کہ ان قیدیوں سے فدیہ نہیں لینا چاہئے بلکہ ان کو قتل کردینا ہی مناسب ہے) بہرحال صحابہ کرام نے فدیہ لینے کو اختیار کیا تو اس کی بنیاد ان قیدیوں کے تئیں ان (صحابہ) کی یہ انتہائی خواہش اور رغبت تھی کہ اگر یہ قتل ہونے سے بچ گئے تو کبھی نہ کبھی مسلمان ہوجائیں نیز آئندہ سال خود اپنے شہید ہوجانے کی تمنا بھی اس کا محرک بنی اس کے ساتھ ہی ان قیدیوں کے اہل و عیال اور ان کے اقرباء کے ساتھ ان (صحابہ) کا جذبہ ترحم بھی اس کا متقاضی ہوا کہ یہ قیدی قتل نہ کئے جائیں۔ اس موقع پر ایک یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں کو دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو پسند کرنے کا اختیار دے دیا گیا تھا اور اسی اختیار کی بناء پر انہوں نے ایک چیز کو پسند کرلیا تو پھر ان پر عتاب کیوں ہوا، یہ عتاب اس اختیار کے منافی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اختیار دینا دراصل امتحان و آزمائش تھا کہ دیکھیں یہ لوگ (مسلمان اس چیز کو اختیار کرتے ہیں جو پسندیدہ حق ہے یا اس چیز کو اختیار کرتے ہیں جو ان کے دل کی خواہش کے مطابق ہے۔ اسی اعتبار سے وہ لوگ گویا اس امتحان و آزمائش میں کامیاب نہیں رہے کیونکہ انہوں نے اس چیز کو اختیار کیا جس کو ان کے دل نے چاہا لہٰذا ان پر عذاب ہوا۔ علامہ تورپشتی نے اس اختیار دینے والی) حدیث کو بعید جانا ہے کیونکہ یہ بظاہر اس بات کے مخالف ہے جو قرآن کریم سے مفہوم ہوتی ہے نیز ترمذی نے اس روایت پر غرابت کا حکم لگایا ہے لیکن میں نے کہا ہے کہ غریب روایت کے ذریعہ کوئی بات ثابت کرنا موجب طعن نہیں ہے کیونکہ غریب روایت کبھی صحیح بھی ہوتی ہے۔

3886Mishkaat-al-Masabih

قیدیوں کی تحقیق وتفتیش

عن عطية القرظي قال : كنت في سبي قريظة عرضنا على النبي صلى الله عليه و سلم فكانوا ينظرون فمن أنبت الشعر قتل ومن لم ينبت لم يقتل فكشفوا عانتي فوجدوها لم تنبت فجعلوني في السبي . رواه أبو داود وابن ماجه . والدارمي

اور حضرت عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنو قریظہ کے جو لوگ قیدی بنا کر لائے گئے تھے ان میں میں بھی تھا ہمیں نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت صحابہ نے (یہ طریقہ اختیار کیا کہ قیدیوں میں جو چھوٹی عمر والے تھے ان کے زیر ناف حصے کو کھول کھول کر دیکھ رہے تھے جس کے (زیر ناف حصے پر بال اگ آئے تھے اس کو قتل کردیا جاتا، کیونکہ زیر ناف حصے پر بال اگ آنا بلوغ کی علامت ہے، لہٰذا ایسے شخص کو مسلمانوں سے لڑنے والا شمار کیا جاتا تھا) اور جس کے بال نہ اگے ہوئے تھے اس کو قتل نہیں کیا جاتا تھا (کیونکہ اس کو ذریت یعنی بچوں میں شمار کیا جاتا تھا چناچہ میرے زیر ناف حصہ کو بھی کھولا گیا اور جب وہاں اگے ہوئے بال نہیں پائے گئے تو مجھ کو قیدیوں ہی میں (زندہ) رکھا گیا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ، دارمی) تشریح علامہ تورپشتی فرماتے ہیں کہ زیر ناف حصے پر بالوں کے اگ آنے کو بلوغ کی علامت قرار دینا ضروری مصلحت کی بناء پر تھا کیونکہ اگر ان قیدیوں سے بلوغ کی واقعی علامت یعنی احتلام اور عمر بلوغ کو پوچھا جاتا تو وہ اپنی ہلاکت کے خوف سے یقینا صحیح بات نہ بتاتے۔

3887Mishkaat-al-Masabih

کفار مکہ کے مسلمان ہوجانے والے غلاموں کو واپس کرنے سے آنحضرت ﷺ کا انکار

وعن علي رضي الله عنه قال : خرج عبدان إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني الحديبية قبل الصلح فكتب إليه مواليهم قالوا : يا محمد والله ما خرجوا إليك رغبة في دينك وإنما خرجوا هربا من الرق . فقال ناس : صدقوا يا رسول الله ردهم إليهم فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : ما أراكم تنتهون يا معشر قريش حتى يبعث الله عليكم من يضرب رقابكم على هذا . وأبى أن يردهم وقال : هم عتقاء الله . رواه أبو داود

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے دن (مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان) معاہدہ لکھے جانے سے پہلے کچھ غلام (مکہ سے آ کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے ان کے مالکوں نے آنحضرت ﷺ کو لکھا کہ محمد ﷺ اللہ کی قسم یہ غلام تمہارے پاس اس لئے نہیں پہنچے ہیں کہ وہ تمہارے دین کی طرف رغبت رکھتے ہیں بلکہ یہ لوگ غلامی ( سے نجات پانے کی غرض سے بھاگ کر گئے ہیں ( جب صحابہ میں سے) چند لوگوں نے ( یہ مکتوب دیکھا تو) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ان کے مالکوں نے بالکل صحیح لکھا ہے آپ ﷺ ان غلاموں کو ان کے مالکوں کے پاس واپس بھیج دیجے ( یہ سن کر رسول کریم ﷺ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا کہ قریش والو میں دیکھتا ہوں کہ تم اپنی سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آؤ گے تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ تم پر اس شخص کو مسلط نہ کر دے جو تمہارے اس فیصلے کہ ان غلاموں کو ان کے مالکوں کے پاس واپس بھیج دیا جائے اور اس طرح ان کے مسلمان ہوجانے کے بعد ان کو دار الحرب کے حوالے کردیا جائے) کی بناء پر تمہاری گردن اڑا دے اور پھر آپ ﷺ نے ان غلاموں کی واپسی کے مطالبہ کو رد کردیا اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ (ابو داؤد) تشریح آنحضرت ﷺ اس لئے غضبناک ہوئے کہ صحابہ نے ان غلاموں کے حق میں اپنی ذاتی رائے کو شرعی حکم کے مقابل پیش کیا اور گویا ان کے مالکوں کے دعوے کی گواہی دی، چناچہ ان غلاموں کے حق میں شرعی حکم یہ تھا کہ وہ چونکہ دار الحرب سے نکل آنے کے سبب محض اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے معصوم اور آزاد ہوگئے تھے ان کو ان کے پاس دارالحرب واپس کردینا جائز نہیں تھا، لہٰذا صحابہ کا ان کی واپسی کے مطالبہ کی تائید کرنا جبر و زیادتی پر ان کے مالکوں کی مدد کرنے کے مترادف تھا۔

3888Mishkaat-al-Masabih

حضرت خالد کی طرف سے عدم احتیاط کا ایک واقعہ

عن ابن عمر قال : بعث النبي صلى الله عليه و سلم خالد بن الوليد إلى بني جذيمة فدعاهم إلى الإسلام فلم يحسنوا أن يقولوا : أسلمنا فجعلوا يقولون : صبأنا صبأنا فجعل خالد يقتل ويأسر ودفع إلى كل رجل منا أسيره حتى إذا كان يوم أمر خالد أن يقتل كل رجل منا أسيره فقلت : والله لا أقتل أسيري ولا يقتل رجل من أصحابي أسيره حتى قدمنا إلى النبي صلى الله عليه و سلم فذكرناه فرفع يديه فقال : اللهم إني أبرأ إليك مما صنع خالد مرتين . رواه البخاري

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خالد ابن ولید کو (ایک قبیلہ) بنی جذیمہ میں بھیجا، خالد نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، وہ لوگ اضطراب و سراسیمگی کے عالم میں یہ اچھی طرح سے نہیں کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے (یعنی وہ اپنی زبانوں سے اسلام کا کلمہ پوری طرح ادا نہیں کرسکے) بلکہ انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ (صبأنا صبأنا) یعنی ہم نے اپنا دین چھوڑ دیا، خالد نے (جب ان کی زبان سے یہ سنا تو) ان (کے بعض لوگوں) کو قتل کرنا اور (بعض کو) گرفتار کرنا شروع کردیا اور پھر ہم (لوگ جو ان کے ساتھ تھے ان) میں سے ہر شخص کو اس کا قیدی سپرد کردیا (یعنی جو لوگ قیدی بنائے گئے ان کو ہمارے درمیان تقسیم کر کے ایک ایک قیدی ہر ایک کے سپرد کردیا اور یہ حکم دیا کہ ہم ان قیدیوں کی اس وقت تک حفاظت و نگرانی کریں جب تک کہ ہمیں ان کو قتل کردینے کا حکم نہ دیا جائے) چناچہ جب ایک (وہ) دن آیا (جس میں خالد نے ان قیدیوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا) تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے (یہ حکم سن کر) میں (یعنی ابن عمر) نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی شخص اپنی قیدی کو قتل کرے گا (بلکہ ہم لوگ اپنے قیدیوں کو اس وقت تک اپنی حفاظت میں رکھیں گے جب تک کہ ہم دربار رسالت میں نہ پہنچ جائیں اور اس بارے میں کوئی آخری حکم حاصل نہ کریں چناچہ ہم نے اپنے قیدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھا) یہاں تک کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے پورا واقعہ بیان کیا، آنحضرت ﷺ نے (واقعہ کی تفصیل سن کر) اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے یہ کہا کہ اے اللہ! میں تیرے حضور میں خالد کے عمل سے اپنی بیزاری وبے رضائی کا اظہار کرتا ہوں۔ آپ نے یہ الفاظ دو مرتبہ ارشاد فرمائے۔ (بخاری) تشریح خطابی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے بار گاہ رب العزت میں حضرت خالد کے عمل سے اس لئے اظہار بیزاری فرمایا کہ خالد نے اس موقع پر احتیاط کی راہ اختیار نہیں کی اور اس بات میں غور وتامل نہیں کیا کہ وہ لوگ صبأنا سے کیا مراد رکھتے تھے کیونکہ یہ لفظ صبأنا دین اسلام اختیار کرلینے کے مفہوم کا بھی احتمال رکھتا تھا لیکن خالد نے محض یہ دیکھ کر کہ ان لوگوں نے قبولیت اسلام کے مفہموم کو واضح طور پر ظاہر کرنے والے الفاظ اسلمنا استعمال کرنے سے روگرادنی کی ہے اس لئے انہوں نے ان لوگوں کی بات کو تسلیم نہیں کیا اور ان کے کہے ہوئے مذکور الفاظ کو ان کے بد دین ہوجانے پر محمول کر کے ان کو قتل کرنا اور قیدی بنانا شروع کردیا۔

3889Mishkaat-al-Masabih

ام ہانی کی طرف سے اپنے ایک عزیز کو امان دینے کا واقعہ

عن أم هانئ بنت أي طالب قالت : ذهبت إلى رسول الله عام الفتح فوجدته يغتسل وفاطمة ابنته تستره بثوب فسلمت فقال : من هذه ؟ فقلت : أنا أم هانئ بنت أبي طالب فقال : مرحبا بأم هانئ فلما فرغ من غسله قام فصلى ثماني ركعات ملتحفا في ثوب ثم انصرف فقلت : يا رسول الله زعم ابن أمي علي أنه قاتل رجلا أجرته فلان بن هبيرة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أجرنا من أجرت يا أم هانئ قالت أم هانئ وذلك ضحى . متفق عليه . وفي رواية للترمذي : قالت : أجرت رجلين من أحمائي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أمنا من أمنت

حضرت ام ہانی بنت ابوطالب کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال (یعنی فتح مکہ کے موقع پر) میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آنحضرت ﷺ اس وقت غسل فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کپڑے سے آپ ﷺ کا پردہ کئے ہوئے تھیں۔ میں نے سلام عرض کیا، آپ ﷺ نے پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں ہوں ام ہانی بنت ابوطالب! آپ ﷺ نے فرمایا۔ ام ہانی خوش آمدید! پھر جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو جسم پر کپڑے لپیٹے ہوئے آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور (نماز چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور جب نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے یعنی حضرت علی نے بتایا ہے کہ وہ اس شخص کو قتل کرنے والے ہیں جس کو میں نے اپنے گھر میں پناہ دی ہے یعنی فلاں شخص کو جو ہبیرہ کا بیٹا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ام ہانی جس کو تم نے پناہ دی ہے (گویا) اس کو ہم نے پناہ دی۔ حضرت ام ہانی کہتی ہیں کہ یہ واقعہ چاشت کے وقت کا ہے! اور ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت ام ہانی نے (آنحضرت ﷺ سے) عرض کیا کہ میں نے دو آدمیوں کو پناہ دی ہے جو میرے خاوند کے رشتہ دار ہیں!؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہماری طرف سے اس شخض کے لئے امان ہے جس کو تم نے امان دی ہے۔ تشریح حضرت ام ہانی کا اصل نام فاختہ تھا اور بعض نے عاتکہ بیان کیا ہے۔ یہ ابوطالب کی بیٹی اور حضرت علی کی حقیقی بہن ہیں، ہبیرہ ان کے خاوند کا نام ہے، جب ام ہانی نے فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا تو ہبیرہ سے ان کی جدائی واقع ہوگئی کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہوا۔ جس شخص نے حضرت ام ہانی نے پناہ دی تھی وہ اس کے خاوند ہبیرہ کی اولاد میں سے تھا، اغلب یہ ہے کہ وہ ام ہانی کے علاوہ ہبیرہ کی کسی اور بیوی کے بطن سے تھا حضرت علی نے ان کی پناہ کو قبول نہ کرتے ہوئے اس شخص کو قتل کر ڈالنا چاہا تو ام ہانی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر صورت حال بیان کی، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کی پناہ کو قبول کیا اور وہ شخص حضرت علی کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گیا۔ ترمذی نے جو روایت نقل کی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس وقت ام ہانی ہی کے مکان میں غسل فرما رہے تھے، لیکن یہاں بخاری ومسلم کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے مکان میں یا حضرت فاطمہ کے گھر میں نہا رہے تھے، اس صورت میں دونوں روایتوں کے درمیان یوں مطابقت ہوگی کہ بخاری ومسلم کی روایت میں یہ عبارت مقرر مانی جائے کہ آنحضرت ﷺ میرے گھر میں غسل فرما رہے تھے یا پھر یہ کہا جائے کہ ترمذی کی روایت میں جو واقعہ نقل کیا گیا ہے وہ کسی اور موقع کا ہے اور بخاری ومسلم کی روایت کسی اور موقع سے متعلق ہے۔

3890Mishkaat-al-Masabih

عورت کے عہد امان کی پاسداری سارے مسلمانوں پر لازم ہے

عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن المرأة لتأخذ للقوم يعني تجير على المسلمين . رواه الترمذي

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عورت کسی قوم کے لئے ( عہد) لیتی ہے یعنی وہ مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتی ہے۔ (ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان عورت، کسی کافر کو یا کافروں کی کسی جماعت کو امان و پناہ دے دے تو یہ سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس عورت کے عہد امان کو ملحوظ رکھ کر اس کافر کو یا کافروں کی اس جماعت کو امان و پناہ دیں اور اس عہد امان کو توڑیں نہیں۔

3891Mishkaat-al-Masabih

اپنے عہدامان کو توڑنے والے کے بارے میں وعید

وعن عمرو بن الحمق قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أمن رجلا على نفسه فقتله أعطي لواء الغدر يوم القيامة . رواه في شرح السنة

اور حضرت عمرو بن حمق کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی کو اس کی جان کی امان دے اور پھر اس کو مار ڈلے تو قیامت کے دن اس کو بدعہدی کا نشان دیا جائے گا۔ (شرح السنۃ) تشریح اس کو بدعہدی کا نشان دیا جائے گا اس جملہ کے ذریعہ کنایۃً یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس شخص کو میدان حشر میں تمام مخلوق کے سامنے ذلیل ورسوا کیا جائے گا۔ دوسری حدیثوں میں یہ بیان کیا گیا ہے قیامت کے دن عہد شکن کو ایک ایسا نشان دیا جائے گا جس کے ذریعہ اس کو پہچانا جائے گا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا۔

3892Mishkaat-al-Masabih

معاہدہ کی پوری طرح پابندی کرنے چاہئے

وعن سليم بن عامر قال : كان بين معاوية وبين الروم عهد وكان يسير نحو بلادهم حتى إذا انقضى العهد أغار عليهم فجاء رجل على فرس أو برذون وهو يقول : الله أكبر الله أكبر وفاء لا غدر فنظر فإذا هو عمرو ابن عبسة فسأله معاوية عن ذلك فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان بينه وبين قوم عهد فلا يحلن عهدا ولا يشدنه حتى يمضي أمده أو ينبذ إليهم على سواء . قال : فرجع معاوية بالناس . رواه الترمذي وأبو داود

اور حضرت سلیم ابن عامر (تابعی) کہتے ہیں کہ امیر معاویہ اور رومیوں کی درمیان (یہ) معاہدہ ہوا تھا کہ (اتنے دنوں تک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے) اور حضرت معاویہ ( اس معاہدہ کے زمانہ میں) رومیوں کے شہروں میں گشت ( کر کے حالات کا اندازہ) لگایا کرتے تھے تاکہ جب معاہدہ کی مدت گذر جائے تو وہ ان ( رومیوں) پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں ( اور ان کے ٹھکانوں کو تخت و تاراج کردیں جب کہ اگر وہ گشت کے ذریعہ ان کے حالات اور ٹھکانوں کا جائزہ لینے کی بجائے اطمینان کے ساتھ اپنے کیمپ میں پڑے رہتے اور پھر معاہدہ کی مدت ختم ہونے پر حملہ کرتے تو ان رومیوں کے چوکنا ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ جنگی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا تھا پھر ( انہی دنوں میں جب کہ امیر معاویہ اپنے لشکر والوں کے ساتھ رومیوں کے شہر میں پھر رہے تھے) ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار یہ کہتے ہوئے آئے کہ اللہ اکبر، اللہ اکبر، وفا کو ملحوظ رکھو نہ کہ بد عہدی کو! یعنی تم پر معاہدہ کو پورا کرنا لازم ہے نہ کہ تم معاہدہ کی خلاف ورزی کرو ( گویا انہوں نے یہ واضح کیا کہ تم لوگ معاہدہ کے زمانے میں دشمنوں کے شہروں میں گشت لگاتے ہو تو یہ اپنے عہد کی پاسداری کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ عہد شکنی اور معاہدہ کی خلاف ورزی کے حکم میں داخل ہے) جب لوگوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ شخص ( ایک صحابی) حضرت عمرو ابن عبسہ ہیں، حضرت امیر معاویہ نے ان سے اس بات کو پوچھا ( کہ رومیوں کے شہروں میں ہمارا پھرنا، عہد شکنی کے مرادف کے سے ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص اور کسی قوم کے درمیان معاہدہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے عہد کو نہ توڑے اور نہ باندھے، آ ن کہ اس معاہدہ کی مدت گذر جائے یا وہ ان کو مطلع کر کے برابری کی بنیاد پر اپنا عہد توڑے دے ( یعنی مجبوری یا مصلحت کی بناء پر مدت کے دوران ہی معاہدہ توڑنا ضروری ہوگیا ہو اور فریق مخالف کو پہلے سے آگاہ کردیا گیا ہو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا ہم اس کو توڑتے ہیں، اب ہم اور تم دونوں برابر ہیں کہ جس کی ( جو مرضی ہو کرے) حدیث کے راوی حضرت سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ! حضرت ابن عبسہ کی یہ بات اور آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث سن کر اپنے لوگوں کے ساتھ ( رومیوں کے شہر سے اپنے کیمپ میں) واپس چلے آئے۔ (تر مذی، ابوداؤد ) تشریح اور نہ باندھے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کسی بھی فعل سے معاہدہ کے مقصد ومنشاء میں کوئی تغیر تبدیلی نہ کرے! گویا اس جملہ کی مراد ایفاء عہد میں کسی طرح کا تغیر نہ کرنا ہے، ورنہ شدنہ کہ جس کے معنی اپنے عہد کو باندھنا اور مستحکم کرنا ہے، شریعت کی نظر میں مستحسن و مطلوب ہے۔

3893Mishkaat-al-Masabih

ایفاء عہد اور احتر ام قاصد کی اہمیت

وعن أبي رافع قال : بعثني قريش إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ألقي في قلبي الإسلام فقلت : يا رسول الله إني والله لا أرجع إليهم أبدا قال : إني لا أخيس بالعهد ولا أحبس البرد ولكن ارجع فإن كان في نفسك الذي في نفسك الآن فارجع . قال : فذهبت ثم أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأسلمت . رواه أبو داود (2/405) 3982 - [ 6 ] ( لم تتم دراسته ) وعن نعيم بن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لرجلين جاءا من عند مسيلمة : أما والله لولا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكما . رواه أحمد وأبو داود

اور حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ ( صلح حدیبیہ کے موقع پر) کفار قریش نے مجھے ( اپنا قاصد بنا کر) رسول کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا، جب میری نظر رسول کریم ﷺ پر پڑی، تو ( بےاختیار میرے دل میں اسلام ( کی صداقت و حقانیت) نے گھر کرلیا، میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اللہ کی قسم، میں اب کبھی بھی ان ( کفار قریش کے پاس واپس نہیں جاؤں گا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نہ تو عہد کو توڑا کرتا ہوں اور نہ قاصدوں کو روکا کرتا ہوں، البتہ تم ( اب تو) واپس چلے جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہ چیز ( یعنی اسلام) قائم رہے وقت موجود ہے تو پھر ( میرے پاس) چلے آنا۔ حضرت ابورافع کہتے ہیں کہ ( آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق، میں (مکہ) واپس ہوگیا اور پھر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آگیا اور اسلام قبول کرلیا ( یعنی اپنے اسلام کا اعلان کردیا۔ ( ابوداؤد) تشریح چونکہ ابورافع کفار مکہ کی طرف سے کوئی پیغام لے کر آئے تھے اس لئے آنحضرت نے ان کو اپنے پاس نہیں روکا، تاکہ وہ مکہ واپس جا کر کفار قریش کو ان کے پیغام کا جواب دے دیں، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو جو حکم دیا اس کا مطلب یہی تھا کہ اسلام نے تمہارے دل میں گھر لیا ہے اور اب مسلمان ہونے سے تمہیں کوئی چیز نہیں روک سکتی، لیکن احتیاط اور ایفاء عہد کا تقاضا یہ ہے کہ تم ابھی اپنے اسلام کا اظہار و اعلان نہ کرو بلکہ پہلے تم مکہ واپس جاؤ او کفار قریش نے جو ذمہ داری تمہارے سپرد کی تھی اس کو پورا کر آؤ یعنی انہوں نے تمہیں جس بات کا جواب لانے کے لئے یہاں بھیجا تھا ان کو وہ جواب پہنچاؤ اور پھر اس کے بعد وہاں سے ہمارے پاس آ کر اپنے اسلام کا اظہار و اعلان کرنا۔ اور حضرت نعیم ابن مسعود ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان دونوں آدمیوں سے فرمایا جو مسیلمہ کے پاس سے آئے تھے کہ یاد رکھو! اللہ کی قسم اگر قاصد کو مارنا شرعی طور پر ممنوع نہ ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اڑا دیتا۔ (احمد ابوداؤد ) تشریح مسیلمہ ایک شخص کا نام ہے جس نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اسی لئے اس کو مسلیمہ کذاب کہا جاتا ہے۔ وہ دو شخص جو مسیلمہ کذاب کے پاس سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے تھے ان میں سے ایک کا نام عبداللہ ابن نواحہ تھا اور دوسرے کا نام ابن اثال تھا ان دونوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ کہا تھا کہ نشھد ان مسیلمۃ رسول اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، اسی لئے آپ ﷺ نے خفا ہو کر مذکورہ الفاظ ارشاد فرمائے۔

3894Mishkaat-al-Masabih

زما نئہ جا ہلیت کے ان معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم جو اسلام کے منافی نہ ہوں

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في خطبة : أوفوا بحلف الجاهلية فإنه لا يزيد يعني الإسلام إلا شدة ولا تحدثوا حلفا في الإسلام . رواه الترمذي من طريق ابن ذكوان عن عمرو وقال : حسن وذكر حديث علي : المسلمون تتكافأ في كتاب القصاص

اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک دن) اپنے خطبہ کے دوران یہ فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کی قسم کو پورا کرو، کیونکہ وہ یعنی اسلام اس قسم کو زیادہ ہی ( مضبوط) کرتا ہے ( مطلب یہ ہے کہ اپنی قسم اور اپنے عہد کو پورا کرنا اسلام میں کہیں زیادہ ضروری ہے اس اعتبار سے اسلامی احکام اور ایفاء عہد و حلف میں کوئی تضاد نہیں ہے) اور اسلام میں حلف یعنی قسما قسمی کو رواج نہ دو۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسین ابن ذکوان کی سند سے بہ روایت حضرت عمرو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ تشریح قسم کو پورا کرو کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے قبل اپنے زمانہ جاہلیت میں اپنے ما بین ایک دوسرے کی مدد کرنے کا عہد و پیمان باندھا ہو یا قسما قسمی کی ہو تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم اوفوا بالعقود ( اپنے معاہدوں کو پورا کرو) کے بموجب اس عہدوپیمان اور قسموں کو پورا کرو جو اسلام کی تعلیمات و عقائد کے منفی اور دین میں نقصان کا سبب نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ (وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان)۔ (المائدہ ٥ ٢) اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو۔ حاصل یہ کہ اسلام لانے کے بعد زمانہ جاہلیت کے اس عہد و پیمان اور قسم کو پورا کرنا ممنوع ہے جس کا تعلق فتنہ و فساد اور خون ریزی وغیرہ سے ہو جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے (لا حلف فی الاسلام اور زمانہ جاہلیت کے جس عہد و پیمان اور قسم کا تعلق مظلوم و بےکس لوگوں کی امداد و اعانت، قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک اور اسی طرح کے دوسرے نیک امور سے ہو، اسلام ان کا مؤید اور مضبوط کرنے والا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے حدیث (ایما حلف کان فی الجاھلیۃ لم یزدہ الاسلام الا شدۃ) اسلام میں حلف یعنی قسما قسمی کو رواج نہ دو کیونکہ مسلمانوں پر ایک دوسرے کی مدد اعانت اور باہمی حسن سلوک واجب ہونے کے لئے ان کے مذہب اسلام کی تعلیم و تلقین کافی ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ اسلام میں حلف کو رواج نہ دو میں جو ممانعت بیان کی گئی ہے اس کے بارے میں دونوں احتمال ہیں ایک تو یہ کہ یہ ممانعت جنس کے لئے ہو لیکن ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک دوسرا ہی احتمال زیادہ قومی اور صائب ہے چناچہ مظہر کا یہ قول بھی اس بات کی تائید کرتا ہے جو مذکورہ بالا حدیث کی وضاحت کے طور پر ہے کہ اس ارشاد گرامی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اگر تم نے اپنے زمانے جاہلیت میں (یعنی مسلمان ہونے سے پہلے) یہ قسم کھائی ہو کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے تو (اب مسلمان ہوجانے کے بعد بھی) اس قسم کو پورا کرو یعنی اپنے باہمی معاہدہ حلف کے مطابق ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو بشرطیکہ جس کی مدد کی جائے وہ حق پر ہو لیکن اسلام میں اس طرح کی قسم کو رواج نہ دو جس کا تعلق تمہیں ایک دوسرے کا وارث قرار دینے سے ہو (جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ کوئی بھی دو شخص آپس میں ایک دوسرے سے قسم کے ساتھ عہد کیا کرتے تھے کہ اگر میں پہلے مرگیا تو تم میرے وارث ہو گے اور اگر تم پہلے مرگئے تو میں تمہارا وارث ہوں گا) وذکر حدیث علی المسلمون تتکا فادمائھم فی کتاب القصاص۔ اور حضرت علی کی یہ روایت، المسلمون تتکا فادمائھم کتاب القصاص میں نقل کی جا چکی ہے۔

3895Mishkaat-al-Masabih

قا صد اور ایلچیوں کو قتل نہیں کیا جا سکتا

عن ابن مسعود قال : جاء ابن النواحة وابن أثال رسولا مسيلمة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال لهما : أتشهدان أني رسول الله ؟ فقالا : نشهد أن مسيلمة رسول الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : آمنت بالله ورسوله ولو كنت قاتلا رسولا لقتلتكما . قال عبد الله : فمضت السنة أن الرسول لا يقتل . رواه أحمد

حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ مسیلمہ (مدعئی نبوت) کے دو قاصد ابن نواحہ اور ابن اثال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اس حقیقت کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ان دونوں نے کہا کہ نہیں! بلکہ) ہم اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ خدا کا رسول ہے۔ نبی کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ( میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا! ) اگر میں قاصدوں اور ایلچیوں کو قتل کرنے والا ہوتا تو یقینًا میں تم دونوں کو بھی قتل کردیتا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کے پیش نظر) پھر یہ سنت جاری ہوگئی ( یعنی یہ ضابطہ قرار پایا) کہ کسی قاصد و ایلچی کو قتل نہ کیا جائے ( خواہ کتنی ہی غیر مناسب بات کیوں نہ کرے اور قتل ہی کا سزا وار کیوں نہ ہو۔ ( احمد ) تشریح ان ایلچیوں نے جو جواب دیا اس کے ذریعہ انہوں نے گویا آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار اور مسیلمہ کذاب کے خود ساختہ رسالت کا اقرار کیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تو اس کے ذریعہ گویا آپ ﷺ نے اپنے جذبہ طلب حق، صفت حلم و بربادی اور ان کے عذاب الٰہی میں جلد ہی مبتلا ہونے کا اظہار کیا نیز ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس یعنی ( مسیلمہ کذاب) کی نبوت کے انکار اور اس کے دعوے کے جھوٹا ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔

3896Mishkaat-al-Masabih

غنیمت کا مال مسلمانوں کے لئے حلال ہے

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فلم تحل الغنائم لأحد من قبلنا ذلك بأن الله رأى ضعفنا وعجزنا فطيها لنا

حضرت ابوہریرہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا پس غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی ( امت کے لئے حلال نہیں تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ( مالی طور پر) کمزور عاجز دیکھا تو اس ( مال غنیمت) کو ہمارے لئے حلال قرار دیا۔ تشریح طیبی کہتے ہیں کہ فلم تحل میں حرف فا ( پس) عاطفہ ہے جس کے ذریعہ ارشاد گرامی کے ان جملوں پر عطف کیا گیا ہے جو اس سے پہلے فرمائے گئے تھے، حاصل یہ کہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے وہ دراصل اس ارشاد گرامی کا تتمہ ہے جو یہاں نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس باب کی تیسری فصل میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں منقول ہے۔

3897Mishkaat-al-Masabih

مقتول سے چھینا ہوا مال قاتل کا ہے

وعن أبي قتادة قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم عام حنين فلما التقينا كانت للمسلمين جولة فرأيت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين فضربته من ورائه على حبل عاتقه بالسيف فقطعت الدرع وأقبل علي فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت ثم أدركه الموت فأرسلني فلحقت عمر بن الخطاب فقلت : ما بال الناس ؟ قال : أمر الله ثم رجعوا وجلس النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه فقلت : من يشهد لي ؟ ثم جلست ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم مثله فقمت فقال : ما لك يا أبا قتادة ؟ فأخبرته فقال رجل : صدق وسلبه عندي فأرضه مني فقال أبو بكر : لا ها الله إذا لا يعمد أسد من أسد الله يقاتل عن الله ورسوله فيعطيك سلبه . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدق فأعطه فأعطانيه فاتبعت به مخرفا في بني سلمة فإنه لأول مال تأثلته في الإسلام

اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ ( فتح مکہ کے بعد) غزوہ حنین کے سال ہم ( جہاد کے لئے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب کافروں سے ہمارا مقابلہ ہوا تو ( کچھ دیر کے لئے) مسلمانوں کو شکست کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان پر غالب آگیا ہے، میں نے اس کے پیچھے سے اس کی گردن کی رگ پر تلوار کا ( بھر پور) وار کر کے اس کی زرہ کاٹ ڈالی، مجھ پر جھپٹ پڑا اور اس نے اتنے زور سے مجھے دبوچا کہ اس کی وجہ سے موت کا مزہ آگیا ( یعنی میں مرنے کے قریب ہوگیا، پھر ( میرے ایک اور وار سے) موت نے اسے دبا لیا اور میں اس سے چھوٹ گیا، اس کے بعد میں حضرت عمر ابن خطاب سے ملا اور کہا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا (کہ دشمن کے مقابلہ سے بھاگ رہے!؟ ) انہوں نے کہا اللہ کا حکم یہی ہے یعنی یہ جو کچھ ہو رہا ہے قضا وقدر الہیٰ کے مطابق ہو رہا ہے۔ پھر لوگ ( اس عارضی پسپائی کے بعد دوبارہ لڑنے کے لئے میدان جنگ میں) واپس آگئے اور نبی کریم ﷺ ( ایک جگہ) بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جو شخص دشمن کے) کسی آدمی کو قتل کر دے اور اس کے قتل کرنے کا کوئی گواہ ہو ( اور خواہ ایک ہی گواہ ہو تو مقتول کا چھینا ہوا مال اسی ( قتل کرنے والے) شخص کا ہوگا۔ ( یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور ارادہ کیا کہ اس مشرک کو قتل کرنے کا واقعہ بیان کروں، لیکن ( دل میں) میں نے کہا کہ میری گواہی کون شخص دے گا ( کہ میں نے اس مشرک کو قتل کیا ہے۔ ) آخر میں بیٹھ گیا، نبی کریم ﷺ نے اسی طرح پھر فرمایا ( کہ جو شخص دشمن کے کسی آ دمی کو قتل کرنے کا کوئی گواہ ہو تو مقتول کا چھینا ہوا مال اسی کا ہوگا) میں نے پھر ( کھڑے ہو کر اپنے واقعہ بیان کرنا چاہا لیکن میں نے دل میں) کہا کہ میری گواہی کون شخص دے گا!؟ اور میں پھر بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے پھر اسی طرح (تیسری مرتبہ) فرمایا میں ( جب اس مرتبہ بھی) کھڑا ہوا ( لیکن زبان سے کچھ نہ کہہ سکا) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوقتادہ! کیا بات ہے (تم کسی غرض مند اور طالب حاجت کی طرح بار بار کھڑے ہوتے ہو اور بیٹھ جاتے ہو مگر زبان سے کچھ نہیں کہتے؟ ) تب میں نے آنحضرت ﷺ کو بتایا ( کہ میں نے فلاں مشرک کو قتل کیا ہے) ایک شخص نے ( میری بات سن کر) کہا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں اور اس مشرک کا مال میرے پاس موجود ہے، آپ ﷺ ان کو میری طرف سے راضی کر دیجئے ( کہ یہ اپنے حق سے دستبر دار ہوجائیں اور ان کو اس مشرک کے مال کے عوض کوئی اور چیز دے دی جائے یا ان کو اس بات پر رضا مند کر دیجئے کہ یہ میرے ساتھ کسی اور طرح مصالحت کرلیں )۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ( یہ سن کر اس شخص سے) کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا، رسول کریم ﷺ اس معاملہ میں ان ( ابوقتادہ) کی مرضی کے خلاف کوئی ارادہ نہیں کریں گے ابوقتادہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خو شنودی کے لئے ( دشمن سے) لڑتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس مال پر ان ( ابوقتادہ) کا حق ہے وہ تمہیں دے دیں!؟ نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا کہ ابوبکر ٹھیک کہتے ہیں، تم ابوقتادہ کو اس مشرک ( مقتول) کا مال دے دو۔ چناچہ اس شخص نے اس کا مال مجھ کو دے دیا اور میں نے ( بعد میں) اس مال کے ذریعہ ایک باغ خریدا جو قبیلہ بنو سلمہ میں واقع تھا اور یہ سب سے پہلا مال تھا جو مجھے اسلام لانے کے بعد حاصل ہوا۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس غزوہ ( جنگ) میں مسلمانوں کو کچھ دیر کے لئے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ اسلامی لشکر کے کچھ لوگوں نے ایک موقع پر پسپائی اختیار کی جس سے دشمن کے لشکر کو بظاہر حاوی ہونے کا موقع مل گیا لیکن آنحضرت ﷺ میدان جنگ میں اپنی جگہ پر قائم رہے، آپ ﷺ ایک خچر پر سوار تھے جس کی باگ حضرت عباس ابن عبد المطلب اور حضرت ابوسفیان بن الحارث نے تھام رکھی تھی۔ اس عارضی پسپائی کے موقع پر جب کہ اسلامی لشکر میں تقریبا افراتفری کا عالم تھا آپ ﷺ نہ صرف بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کے مقابلے پر ڈٹے رہے بلکہ آگے بڑھ بڑھ کر دشمن کے لشکر پر تن تنہا حملہ کرنے کا ارادہ کرتے تھے اور یہ فرمائے جاتے تھے۔ انا النبی لا کذب، انا ابن عبد المطلب۔ یعنی میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور جھوٹ نہیں کہتا سچا نبی ہوں۔ لیکن یہ دونوں حضرات جنہوں نے آپ ﷺ کے خچر کی باگ تھام رکھی تھی آپ ﷺ کو روک دیتے تھے، آخر کار حق تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو ثابت قدمی بخشی اور اس نے دوبارہ دشمن پر حملہ کر کے اس کے لشکر کو تہس نہس کردیا اور آخر فتح حاصل کی۔

3898Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت کی تقسیم

وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أسهم للرجل ولفرسه ثلاثة أسهم : سهما له وسهمين لفرسه

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( مال غنیمت میں سے) ایک شخص اور اس کے گھوڑے کے لئے تین حصے دئیے یعنی ایک حصہ تو خود اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اکثر علماء کا مسلک اسی حدیث کے مطابق ہے، جب کہ بعض علماء کے نزدیک مال غنیمت میں سوار مجاہد کے دو حصے ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے سوار مجاہد کو دو حصے دئیے جیسا کہ اسی باب کی دوسری فصل میں منقول روایت سے واضح ہوگا، نیز حضرت علی اور حضرت ابوموسی ٰ اشعری سے بھی یہی منقول ہے بلکہ ھدایہ نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر سے بھی یہی نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب اس بارے میں خود حضرت ابن عمر کی دو روایتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اس روایت کو ترجیح دی جائے گی جو ان کے علاوہ دوسرے نے نقل کی ہے

3899Mishkaat-al-Masabih

مال غنیمت میں غلام اور عو رتوں کا کوئی حصہ مقرر نہیں

وعن يزيد بن هرمز قال : كتب نجدة الحروري إلى ابن عباس يسأله عن العبد والمرأة يحضران لمغنم هل يقسم لهما ؟ فقال ليزيد : اكتب إليه أنه ليس لهما سهم إلا أن يحذيا . وفي رواية : كتب إليه ابن عباس : إنك كتبت إلي تسألني : هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغزو بالنساء ؟ وهل كان يضرب لهن بسهم ؟ فقد كان يغزو بهن يداوين المرضى ويحذين من الغنيمة وأما السهم فلم يضرب لهن بسهم . رواه مسلم

اور حضرت یزید ابن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے غلام اور عورت کے بارے میں یہ دریافت کیا تھا کہ جب وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہو تو ان کو بھی اس مال غنیمت سے حصہ دیا جائے یا نہیں؟ حضرت ابن عباس نے یزید ( یعنی مجھ سے) فرمایا کہ تم ( میری طرف سے) نجدہ کو یہ جواب لکھ دو کہ ان دونوں کا حصہ مقرر نہیں ہے البتہ ( تقسیم کے وقت) ان کو یوں ہی کچھ دے دیا جائے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس ( نجدہ) کو یہ جواب لکھا کہ تم نے خط لکھ کر مجھ سے یہ دریافت کیا تھا کہ کیا رسول کریم ﷺ جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جایا کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان ( عورتوں) کو مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے؟ تو ( اس کا جواب یہ ہے کہ) آنحضرت جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے جو بیماروں کی دوا دارو کرتی تھیں ( اور زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں) اور ان کو مال غنیمت میں سے یوں ہی کچھ دے دیا جاتا تھا لیکن ان کے لئے حصہ مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ ( مسلم) تشریح نجدہ اس شخص کا نام ہے جو خوارج یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کے مخالفین کا سردار تھا اور حروری دراصل حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک آبادی کا نام تھا، کہا جاتا ہے کہ خوارج کا سب سے پہلا اجتماع اسی آبادی میں ہوا تھا اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ غلام بچوں اور عورتوں کو مال غنیمت میں سے یوں ہی کچھ دے دیا جائے۔ یعنی حصہ سے کم دیا جائے پورا حصہ نہ دیا جائے، حنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ اور ھدایہ میں لکھا ہے کہ غلام کو مال غنیمت میں سے کچھ اس صورت میں دیا جائے جب کہ وہ جنگ میں شریک رہ کر دشمن سے لڑا ہو، اسی طرح عورت کو بھی اس صورت میں دیا جائے جب کہ وہ بیمار اور زخمی مجاہدین کی تیمار داری اور ان کی دوا دارو کرے۔

3900Mishkaat-al-Masabih

مخصوص طور پر بعض مجا ہدوں کو ان کے حصے سے زائد دیا جا سکتا ہے

وعن سلمة بن الأكوع قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بظهره مع رباح غلام رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا معه فلما أصبحنا إذا عبد الرحمن الفزاري قد أغار على ظهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقمت على أكمة فاستقبلت المدينة فناديت ثلاثا يا صباحاه ثم خرجت في آثار القوم أرميهم بالنبل وأرتجز وأقول : أنا ابن الأكوع واليوم يوم الرضع فما زلت أرميهم وأعقر بهم حتى ما خلق الله من بعير من ظهر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا خلفته وراء ظهري ثم اتبعتهم أرميهم حتى ألقوا أكثر من ثلاثين بردة وثلاثين رمحا يستخفون ولا يطرحون شيئا إلا جعلت عليه آراما من الحجارة يعرفها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه حتى رأيت فوارس رسول الله صلى الله عليه و سلم ولحق أبو قتادة فارس رسول الله صلى الله عليه و سلم بعبد الرحمن فقتله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير فرساننا اليوم أبو قتادة وخير رجالتنا سلمة . قال : ثم أعطاني رسول الله صلى الله عليه و سلم سهمين : سهم الفارس وسهم الراجل فجمعهما إلي جميعا ثم أردفني رسول الله صلى الله عليه و سلم وراءه على العضباء راجعين إلى المدينة . رواه مسلم (2/407) 3990 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينفل بعض من يبعث من السرايا لأنفسهم خاصة سوى قسمة عامة الجيش (2/407) 3991 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : نفلنا رسول الله صلى الله عليه و سلم نفلا سوى نصيبنا من الخمس فأصابني شارف والشارف : المسن الكبير

اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ ( مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان معاہدہ ہوجانے کے بعد حدیبیہ سے واپسی کے دوران راستہ میں) رسول کریم ﷺ نے اپنی، سواری کے اونٹ رباح کے ساتھ، جو رسول کریم ﷺ کے غلام تھے، آگے روانہ کر دئیے میں بھی رباح کے ساتھ ہو لیا، ( ہم دونوں نے رات میں ایک جگہ قیام کیا اور) جب صبح ہوئی تو ہمیں معلوم ہوا کہ عبدالرحمن فزاری نے ( جو مسلمانوں کا ایک مشہور دشمن اور کافر تھا) رسول کریم ﷺ کے اونٹوں پر چھاپہ مارا اور ان کو ہنکا کرلے گیا، میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور مدین کی طرف منہ کر کے تین مرتبہ یا صباحاہ ( یعنی خبردار! دشمن آپہنچا) کا نعرہ بلند کیا اور تیر پر تیر پھینکتا ہوا اس قوم یعنی عبدالرحمن اور اس کے ساتھیوں کے نشانات قدم پر ( یعنی ان کے پیچھے) چل پڑا اس وقت میری زبان پر ( بلند آواز میں) رجز یعنی رزمیہ شعر تھے، میں نے کہا تھا (انا ابن الاکوع والیوم یوم الرضع) یعنی ( اے دین کے دشمنو! کان کھول کر سن لو) میں اکوع کا بیٹا ہوں، آج کا دن برے لوگوں ( یعنی تم دشمنان دین) کے ہلاک ہونے کا دن ہے! میں اسی طرح برابر تیر مارتا اور ان کی سواریوں کی کونچیں کاٹتا ( آ گے بڑھتا) رہا یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ کے اونٹوں میں سے اللہ کا پیدا کیا ہوا ایسا کوئی اونٹ باقی نہیں بچا جس کو میں نے اپنے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو، میں تیر برساتا ہوا ان کا تعاقب جاری رکھے ہوئے تھا یہاں تک کہ انہوں نے ہلکا ہوجانے کے خیال سے اپنی تیس سے زیادہ چادریں اور تیس کپڑے پھینک دئیے ( یعنی وہ بھاگتے ہوئے اپنی چادریں اور کپڑے بھی پھینکتے جا رہے تھے تاکہ جسم ہلکا ہوجانے کی وجہ سے بھاگنے میں آسانی ہو) اور وہ جس چیز کو بھی پھینکتے تھے میں اس پر نشان کے طور پر پتھر رکھ دیتا تھا تاکہ رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء ( اگر پیچھے سے آئیں تو) اس کو پہچان لیں یہاں تک میں نے رسول کریم ﷺ کے سواروں کو ( آتے دیکھا اور پھر ( یہ دیکھا کہ) حضرت ابوقتادہ نے جنہیں رسول کریم ﷺ کا سوار کہا جاتا تھا، عبدالرحمن کو جا لیا ( جس نے آنحضرت ﷺ کے اونٹوں کو ہنکا لے جانا چاہا تھا) اور اس کو قتل کردیا۔ پھر ( اس ہنگامہ کے ختم ہونے کے بعد) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج ہمارے سواروں میں سب سے بہتر سوار ابوقتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر پیادہ سلمہ ابن اکوع ہیں۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ( جب ان کافروں سے ہاتھ لگے ہوئے مال کو ہمارے درمیان تقسیم فرمایا تو) مجھ کو دو حصے دئیے ( ایک حصہ سوار کا ( کہ وہ بحسب اختلاف مسلک دو حصے ہیں یا تین حصے) اور ایک حصہ پیادہ کا، دونوں حصے اکٹھا کر کے مجھے عطا فرمائے اور پھر رسول کریم ﷺ نے اپنی اونٹنی عضباء پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ( مسلم ) تشریح رضع دراصل راضع کی جمع ہے جیسے ارکع کی جمع رکع ہے! راضع پاجی اور کمینہ شخص کو کہتے ہیں آرام ( پہلے الف کے مد کے ساتھ) ارم کی جمع ہے جیسے عنب کی جمع اعناب ہے! ارم اس پھتر کو کہتے ہیں جو منگل و میدان میں راستہ یا کسی دفینہ کے نشان و علامت کے طور پر نصب کیا گیا ہو۔ اہل عرب کی یہ عادت تھی جب وہ راستہ میں کوئی چیز پاتے اور اس کو اپنے ساتھ نہ لے جاسکتے تو اس پر بطور نشان کو یا پتھر رکھ دینے یا پتھروں کا ڈھیر کر کے اس کے نیچے اس کو چھپا دیتے اور پھر آ کر اسی نشان سے وہ چیز نکال کرلے جاتے۔ حضرت سلمہ اگرچہ پیادہ تھے لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کو پیادہ کا حصہ دینے کے ساتھ سوار کا حصہ بھی دیا کیونکہ یہ سارا معرکہ ایک طرح سے انہی کی جدوجہد سے سر ہوا گویا وہ اس غزوے کے ایک بڑے منتظم بھی تھے، اس سے معلوم ہوا کہ امام وقت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مال غنیمت میں سے کسی ایسے مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دے دے۔ جس نے جہاد میں بہت زیادہ محنت و جدوجہد کی ہو تاکہ لوگ جہاد میں زیادہ سے زیادہ محنت و جدوجہد کرنے کی طرف راغب ہوں اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جن لوگوں کو جہاد کے لئے بھیجتے تھے ان میں سے بعض لوگوں کے لئے عام لشکر والوں کی بہ نسبت مخصوص طور پر کچھ زیادہ حصہ لگا دیا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت بعض مجاہدوں کو ان کے مقررہ حصوں سے کچھ زیادہ دے دیا کرتے تھے تاکہ انہیں دشمنوں کے مقابلہ پر لڑنے کی ترغیب ہو۔ اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے ہم لوگوں کو خمس مال میں سے ہمارے مقررہ حصوں کے علاوہ بھی کچھ زیادہ مرحمت فرمایا چناچہ میرے حصے میں ایک شارف آئی اور شارف اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو بوڑھی اور بڑی ہو۔ (بخاری ومسلم )