Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 194 of 317
دشمن کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر اس کو قتل اور غارتگری جائز ہے
وعن عبد الله بن عون : أن نافعا كتب إليه يخبره أن ابن عمر أخبره أن ابن عمر أخبره أن النبي صلى الله عليه و سلم أغار على بني المصطلق غارين في نعمهم بالمريسيع فقتل المقاتلة وسبى الذرية
اور حضرت عبداللہ ابن عون سے روایت ہے کہ (حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ) حضرت نافع نے ان ( عبداللہ ابن عون) کو ایک مکتوب بھیجا جس میں حضرت نافع عمر نے ان (نافع) سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مصطلق پر اس وقت ٹوٹ پڑے تھے جب وہ مریسیع میں اپنے مویشیوں کے درمیان غافل پڑے تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا کرلے آئے ( بخاری ومسلم)
تشریح
نبی مطلق قبیلہ خزاع کی ایک شاخ تھی اور مریسع ایک جگہ کا نام تھا جو مکہ و مدینہ کے درمیان مدینہ منورہ سے تقریبا ستر ٧٠، اسی ٨٠ میل کے فاصلہ پر واقع تھا، یہاں کافی مقدار میں پانی موجود تھا جس پر بنی مصطلق کا تسلط تھا۔ لڑنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو لڑنے کی صلاحیت واہلیت رکھتے تھے یعنی عاقل وبالغ مرد اور ذریت سے ان کی عورتیں اور بچے مراد ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام دشمن اگر کہیں غافل پڑے ہوں تو ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور ان کی حالت غفلت میں ان کو قتل کردینا، نیز ان کے مال و اسباب پر قبضہ کرلینا جائز ہے۔
میدان جنگ سے متعلق ایک فوجی حکم
وعن أبي أسيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لنا يوم بدر حين صففنا لقريش وصفوا لنا : إذا اكثبوكم فعليكم بالنبل . وفي رواية : إذا أكثبوكم فارموهم واستبقوا نبلكم . رواه البخاري وحديث سعد : هو تنصرون سنذكره في باب فضل الفقراء . وحديث البراء : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم رهطا في باب المعجزات إن شاء الله تعالى
اور حضرت ابواسید کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے دن (میدان جنگ میں) جب کہ ہم قریش کے خلاف اور قریش مکہ ہمارے خلاف صف آراء ہوگئے تو ہمیں یہ حکم دیا کہ جب وہ (دشمن یعنی قریش مکہ) تمہارے (اتنے) قریب آجائیں (کہ تمہارے تیر ان تک پہنچ سکیں) تو ان پر تیر چلاؤ جب وہ تمہارے قریب آجائیں اور اپنے تیروں کو باقی رکھو یعنی اپنے سب تیر ختم نہ کر ڈالو بلکہ ان کو احتیاط کے ساتھ استعمال کر کے کچھ باقی بھی رکھو تاکہ دشمن تمہارے نہتے ہونے کا فائدہ اٹھا کر تم پر غالب نہ آجائے۔ (بخاری) (وحدیث سعد ہل تنصرون سنذکر فی باب فضل الفقراء وحدیث البراء بعث رسول اللہ ﷺ رہطا فی باب المعجزات ان شآء اللہ تعالیٰ )۔ اور حضرت سعد کی روایت (ہل تنصرورن باب فضل الفقراء) میں اور حضرت براء کی روایت بعث رسول اللہ ﷺ رہطا باب المعجزات میں ہم انشاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔
میدان جنگ میں لشکر کی تیار ی
عن عبد الرحمن بن عوف قال : عبأنا النبي صلى الله عليه و سلم ببدر ليلا . رواه الترمذي
حضرت عبدالرحمن ابن عوف کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بدر میں ہمیں رات کو تعبیہ کیا۔ (ترمذی)
تشریح
تعبیۃ کے لغوی معنی ہیں تیار ومرتب کیا کہ مجاہدین اسلام کے بدن پر ہتھیار لگائے ان کی صفیں قائم کیں اور ہر ایک مجاہد کو اپنے اپنے مقام پر جمایا یعنی جس کو جس جگہ مناسب سمجھا وہاں کھڑا کر کے بتایا کہ دن میں جب جنگ شروع ہو تو ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر اسی طرح قائم رہے
مجاہدین اسلام کے لئے امتیازی علامات
وعن المهلب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن بيتكم العدو فليكن شعاركم : حم لا ينصرون . رواه الترمذي وأبو داود (2/397) 3949 - [ 13 ] ( ضعيف ) وعن سمرة بن جندب قال : كان شعار المهاجرين : عبد الله وشعار الأنصار : عبد الرحمن . رواه أبو داود (2/397) 3950 - [ 14 ] ( حسن ) وعن سلمة بن الأكوع قال : غزونا مع أبي بكر زمن النبي صلى الله عليه و سلم فبيتناهم نقتلهم وكان شعارنا تلك الليلة : أمت أمت . رواه أبو داود
اور حضرت مہلب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( غزوہ خندق میں) ہم سے فرمایا کہ اگر دشمن تم پر شبخون مارے تو تمہاری ( یعنی مسلمانوں کی) علامت (حم لا ینصرون) کے الفاظ ہونے چاہئیں ( ترمذی ابوداؤد)
تشریح
فوجی اور جنگی قواعد و ضوابط میں عام طور سے یہ معمول ہوتا ہے کہ فوجیوں کے لئے کچھ مخصوص علامتیں اور نشان متعین کردیئے جاتے ہیں جن سے موافق و مخالف کے درمیان امتیاز کیا جاسکے یہ علامتیں غیر لفظی نشانات کی صورتوں میں تھی متعین ہوتی ہیں جو فوجیوں کے بدن اور وردیوں پر لگائے جاتے ہیں اور لفظی اشارات کی صورت میں بھی ہوتی ہیں جن کو زبان سے ادا کر کے اپنی حیثیت و حقیقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ چناچہ سربراہ لشکر کی طرف سے اپنے لشکر والوں کو پہلے سے یہ بتادیا جاتا ہے کہ اگر میدان جنگ میں یا کسی اور موقع پر تم سے پوچھا جائے کہ تم کون ہو تو یہ فلاں لفظ زبان سے ادا کرنا تاکہ اگر پوچھنے والا اپنے ہی لشکر کا فرد ہو تو تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ خاص طور پر شبخون مارے جانے کے وقت جب کہ عام افراتفری کا عالم ہوتا ہے اور اس موقع پر اپنے اور غیروں کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے اور اکثر اشتباہ ہوجاتا ہے ایسی علامات اور اشاراتی الفاظ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل کی رائج الوقت اصطلاحات میں ایسے اشاراتی الفاظ کو انگریزی میں کوڈ ورڈ (code werd) کہتے ہیں۔ لہٰذا غزوہ حنین کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ کو دشمن کی طرف سے شبخون مارے جانے کا خطرہ پیدا ہوا تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو آگاہ کردیا کہ وہ ایسی حالت میں اپنی علامت (حٰم لا ینصرون) کے الفاظ کو قرار دیں تاکہ اس کے ذریعہ یہ پہنچانا جائے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر ہے۔ ان الفاظ کے معنی یہ ہیں (اے حم کے اتارنے والے! دشمنوں کو کوئی مدد کو نہ ملے۔ اور حضرت سمرہ ابن جندب کہتے ہیں کہ (کسی غزوے میں) لفظ عبداللہ تو مہاجرین کی علامت تھی اور لفظ عبدالرحمن) انصار کی علامت تھی (ابو داؤد) اور حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہم نے (ایک مرتبہ) حضرت ابوبکر صدیق کے ہمراہ (یعنی ان کی سربراہی میں) جہاد کیا، چناچہ ہم نے ان (دشمنوں) پر شبخون مارا اور ان کو قتل کیا اور اس رات میں ہماری شناختی علامت امت امت کے الفاظ تھے (ان الفاظ کے معنی ہیں اے اللہ! دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار دے۔ (ابو داؤد)
صحابہ کرام جنگ کے وقت شور وشغب ناپسند کرتے تھے
وعن قيس بن عباد قال : كان أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يكرهون الصوت عند القتال . رواه أبو داود
اور حضرت قیس ابن عباد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ (میدان جنگ میں) لڑائی کے وقت (اللہ کا نام لینے کے علاوہ) آواز کے (شور وشغب) کو ناپسند کرتے تھے۔ (ابو داؤد)
تشریح
فوجیوں کی عام عادت ہوتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں لڑائی کے وقت شوروشغب چیخ و پکار اور بےمقصد نعرہ بازی کرتے ہیں اور اپنی شجاعت وبہادری کے نعرے بلند کرتے ہیں تاکہ دشمن پر ہیبت ورعب پڑے لیکن صحابہ اس بات کی کوئی حقیقت نہیں جانتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ کا نام بلند کرتے تھے (یعنی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا کرتے تھے) اور اگر ان کے منہ سے آواز بلند ہوتی تھی تو وہ صرف ذکر الہٰی پر مشتمل ہوتی تھی کیونکہ درحقیقت صرف اللہ ہی کا نام بلند کرنے میں دنیا وآخرت کی مطلب برآری ہے۔
دشمن کے بڑی عمر والوں کو قتل کرو اور چھوٹوں کو باقی رکھو
وعن سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اقتلوا شيوخ المشركين واستحيوا شرخهم أي صبيانهم . رواه الترمذي وأبو داود
اور حضرت سمرہ ابن جندب نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مشرکین (یعنی دشمنوں) کے بڑی عمر والے لوگوں کو قتل کرو اور چھوٹی عمر والوں یعنی ان (دشمنوں) کے بچوں کو زندہ رہنے دو۔ (بخاری، ابوداؤد)
تشریح
بڑی عمر والوں سے مراد یا تو یہ نوجوان ہیں جو بچوں کے مقابلے میں بڑے ہوتے ہیں یا وہ بڈھے مراد ہیں جو مضبوط قوی کے مالک ہوں اور لڑنے کی طاقت وقوت رکھتے ہوں۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے، شیخ فانی (یعنی بڈھے کھوسٹ) کو قتل کرنا درست نہیں ہے جو شیخ فانی جنگ میں اپنی عقل اور اپنی رائے کو مؤثر رکھتا ہو اور دشمن، لڑائی میں اس کی بتائی ہوئی تدبیروں پر عمل کرتا ہو تو اس کو قتل کرنا جائز ہے۔
دشمن کے شہر اور ان کے کھیت کھلیان وغیرہ کو جلا ڈالنا جائز ہے
وعن عروة قال : حدثني أسامة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان عهد إليه قال : أغر على أبنى صباحا وحرق . رواه أبو داود
اور حضرت عروہ کہتے ہیں کہ حضرت اسامہ نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ (جب رسول کریم ﷺ نے ان (اسامہ) کو (ایک لشکر کا امیر بنا کر جہاد کے لئے بھیجا تو) یہ ہدایت و تاکید کی کہ تم ابنا پر صبح کے وقت دھاوا بول دینا اور (دشمن کے گھر بار، کھیت کھلیان اور درخت و باغات کو) جلا ڈالنا۔ (ابو داؤد)
تشریح
ابنا ایک آبادی کا نام ہے۔ جو ملک شام میں واقع تھی اور جہاں حضرت اسامہ ابن زید کو مجاہدین اسلام کا سردار بنا کر جہاد کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام کے دشمنوں کے شہروں کو تاخت و تاراج کردینا، ان کے گھر بار، کھیت کھلیان اور درخت و باغات کو جلا دینا جائز ہے۔
دشمن پر اس وقت حملہ کرو جب وہ بالکل قریب آجائے
وعن أبي أسيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر : إذا أكثبوكم فارموهم ولا تسلوا السيوف حتى يغشوكم . رواه أبو داود
اور حضرت ابواسید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جنگ بدر کے دن (مجاہدین اسلام سے) فرمایا کہ (میدان جنگ میں) جب کفار (یعنی دشمن) تمہارے بالکل قریب آجائیں تو ان پر تیر چلانا اور تلوار اس وقت تک نیام سے نہ کھینچنا جب تک کہ وہ تمہارے بالکل قریب نہ پہنچ جائیں۔ (ابو داؤد)
دشمن کے مزدوروں کو قتل کرنے کی ممانعت
وعن رباح بن الربيع قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة فرأى الناس مجتمعين على شيء فبعث رجلا فقال : انظروا على من اجتمع هؤلاء ؟ فقال : على امرأة قتيل فقال : ما كانت هذه لتقاتل وعلى المقدمة خالد بن الوليد فبعث رجلا فقال : قل لخالد : لا تقتل امرأة ولا عسيفا . رواه أبو داود
اور حضرت رباح ابن ربیع کہتے ہیں کہ ہم نے ایک غزوے میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ (میدان جنگ میں تھے، آپ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ (ایک جگہ) کسی چیز کے پاس جمع ہو رہے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا اور فرمایا کہ وہاں جا کر دیکھو، لوگ کس چیز کے پاس جمع ہو رہے ہیں، اس شخص نے واپس آ کر عرض کیا کہ ایک عورت کو قتل کردیا گیا ہے، لوگ اس (کی نعش) کے پاس جمع ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا وہ عورت تو نہیں لڑ رہی تھی (پھر اس کو کیوں قتل کردیا گیا؟ ) لشکر کی اگلی صفوں کی کمان حضرت خالد ابن ولید کے سپرد تھی آپ ﷺ نے پھر اس شخص کو (ان کے پاس) بھیجا کہ وہ جا کر خالد سے یہ کہہ دے کہ کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔ (ابو داؤد)
تشریح
مزدور سے مراد وہ مزدور ہے جس کو میدان جنگ میں لڑنے کے لئے نہ لایا گیا ہو بلکہ خدمت اور دوسرے کام کاج کے لئے لایا گیا ہو۔
مجاہدین کو میدان جنگ بھیجتے وقت آنحضرت ﷺ کو ہدایات
وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : انطلقوا باسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله لا تقتلوا شيخا فانيا ولا طفلا صغيرا ولا امرأة ولا تغلوا وضموا غنائمكم وأصلحوا وأحسنوا فإن الله يحب المحسنين . رواه أبو داود
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجاہدین کو (جہاد کے لئے روانہ کرتے وقت) یہ ہدایت دیں کہ جاؤ اللہ کا نام لے کر اللہ کی تائید توفیق کے ساتھ اور اللہ کے رسول ﷺ کے دین پر، یہاں سے کوچ کرو! (یاد رکھو! ) شیخ فانی (یعنی بڈھے کھوسٹ) کی جان نہ مارنا، نہ چھوٹے لڑکے اور نہ عورت کو قتل کرنا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا، مال غنیمت کو جمع کرنا، آپس میں صلح صفائی رکھنا (اصلحوا کے ایک معنی تو یہی ہیں کہ ہم مجاہدین اپنے آپس کے تنازعات کو ختم کر کے ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ سے رہنا یا یہ معنی ہیں کہ اگر تم مصلحت دیکھو تو دشمن سے صلح کرلینا اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تم اپنے دینی اور دنیاوی معاملات کو ٹھیک ٹھاک رکھنا) اور آپس میں (ایک دوسرے کے ساتھ) نیکی و بھلائی کرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی اور بھلائی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (ابو داؤد )
تشریح
شیخ فانی کی جان نہ مارنا لیکن اگر کوئی بڈھا لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو یا اس کی رائے اور اس کی جنگی تدابیر دشمن کے لئے نفع بخش اور مؤثر ہوں تو اس کی جان مارنا جائز ہے۔ طفلا صغیرا میں صغیرا بدل اور بیان ہے لفظ طفل یعنی وہ لڑکا جو حد بلوغ کو نہ پہنچا ہو، اس حکم سے وہ لڑکا مستثنیٰ ہے جو دشمن کی قوم کا بادشاہ و سردار ہو یا جنگ میں حصہ لیتا ہو، اسی طرح سے عورت کو قتل کرنا ممنوع ہے، جو لڑائی میں شریک نہ ہو اور نہ اپنی قوم کی ملکہ اور جنگی معالات میں رائے اور تدبیرپیش کرنے والی ہو۔
بدر کے میدان جنگ میں زعماء مکہ کی دعوت مبارزت
وعن علي رضي الله عنه قال : لما كان يوم بدر تقدم عتبة بن ربيعة وتبعه ابنه وأخوه فنادى : من يبارز ؟ فانتدب له شباب من الأنصار فقال : من أنتم ؟ فأخبروه فقال : لا حاجة لنا فيكم إنما أردنا بني عمنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قم يا حمزة قم يا علي قم يا عبيدة بن الحارث . فأقبل حمزة إلى عتبة وأقبلت إلى شيبة واختلف بين عبيدة والوليد ضربتان فأثخن كل واحد منهما صاحبه ثم ملنا على الوليد فقتلناه واحتملنا عبيدة . رواه أحمد وأبو داود
اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کہتے ہیں کہ جب معرکہ بدر کا دن آیا (اور میدان جنگ میں مجاہدین اسلام اور کفار مکہ، ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہوگئے تو (کفار مکہ میں سے) ابن ربیعہ (لڑنے کے لئے صف میں سے نکل کر) آگے بڑھا، اس کا بھائی (یعنی شیبہ ابن ربیعہ) بھی آیا، عتبہ نے پکار کر کہا کون ہے جو (ہمارے مقابلہ پر) لڑنے کے لئے میدان میں آئے؟ (مجاہدین اسلام کی جانب سے) اس کا جواب انصار کے کئی جوانوں نے دیا (یعنی وہ عتبہ اور اس کے ساتھیوں سے لڑنے کے لئے صف میں سے نکل کر میدان میں آئے) عتبہ نے (ان کو دیکھا تو) پوچھا کہ تم کون ہو؟ ان جوانوں نے عتبہ کو بتایا کہ ہم (مدینہ کے) انصار ہیں، عتبہ نے کہا کہ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے (یعنی ہم تمہارے ساتھ لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے) بلکہ ہم تو اپنے چچا کے بیٹوں (یعنی مکہ سے ہجرت کر کے چلے جانے والے قریشی مسلمانوں) سے لڑنا چاہتے ہیں۔ (یہ سن کر) رسول کریم ﷺ نے (اپنی صف کی طرف مخاطب ہو کر) فرمایا حمزہ! تم کھڑے ہوجاؤ علی! تم کھڑے ہوجاؤ) عبیدہ ابن حارث! تم کھڑے ہوجاؤ (اور آگے بڑھ کر ان نشہ طاقت کے سرمستوں کا سرغرور وتکبر کچل دو ) چناچہ حمزہ عتبہ کے مقابلہ پر گئے (اور اس کو مار ڈالا) میں (یعنی علی) شیبہ کے مقابلہ پر گیا (اور اس کو مار ڈالا اور عبیدہ و ولید کے درمیان دو سخت وار ہوئے اور ان میں سے ایک نے اپنے مقابل کو زخمی اور نڈھال کردیا، پھر ہم نے ولید پر حملہ کیا اور اس کو مار ڈالا اور عبیدہ کو (جو ولید کے وار سے سخت زخمی ہوگئے تھے معرکہ کے میدان سے) اٹھا لائے۔ (احمد، ابوداؤد)
نئی کمک لانے کی غرض سے میدان جنگ سے بھاگ آنا جائز ہے
وعن ابن عمر قال : بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في سرية فحاص الناس حيصة فأتينا المدينة فاختفينا بها وقلنا : هلكنا ثم أتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا : يا رسول الله نحن الفارون . قال : بل أنتم العكارون وأنا فئتكم . رواه الترمذي . وفي رواية أبي داود نحوه وقال : لا بل أنتم العكارون قال : فدنونا فقبلنا يده فقال : أنا فئة من المسلمين وسنذكر حديث أمية بن عبد الله : كان يستفتح وحديث أبي الدرداء ابغوني في ضعفائكم في باب فضل الفقراء إن شاء الله تعالى
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے (کسی جگہ جہاد کرنے کے لئے) ہمارا ایک لشکر بھیجا (وہاں پہنچ کر ہمارے لشکر کے) لوگ بھاگ کھڑے ہوئے، چناچہ ہم مدینہ واپس آئے تو (مارے شرم و ندامت کے) اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے اور ہم نے (آپس میں اپنے دل میں) کہا کہ دشمنوں کے مقابلہ سے بھاگ کر ہم نے جو گناہ کیا ہے اس کی وجہ سے گویا ہم تو ہلاک ہوگئے پھر تم رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ (یا رسول اللہ ﷺ! ہم تو میدان چھوڑ کر بھاگ آنے والے لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کے (نہیں) بلکہ تم دوبارہ حملہ کرنے والے لوگ ہو اور میں تمہاری جماعت ہوں۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے بھی ایسی روایت نقل کی ہے۔ اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نہیں بلکہ تم دوبارہ حملہ کرنے والے لوگ ہو۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں (جب ہم نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ نے ہم سے کوئی جواب طلب کرنے یا کوئی سرزنش کرنے کے بجائے اس شفقت آمیز انداز میں ہماری ہمت بڑھائی ہے تو فرط عقیدت و محبت سے) ہم آپ ﷺ کے قریب پہنچے۔ اور آپ ﷺ کے دست مبارک کا بوسہ لیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں مسلمانوں کی جماعت ہوں۔
تشریح
عکر کے معنی ہیں لوٹنا جنگ میں واپس چلے جانا اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی لشکر اپنی کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ دشمن کے مقابلہ سے اس نیت کے ساتھ بھاگ آئے کہ اپنے مرکز سے نئی مدد لے کر پھر میدان جنگ میں آئیں گے تو یہ گناہ نہیں اور چونکہ تم لوگ اسی نیت کے ساتھ میدان جنگ سے بھاگ آئے ہو اس لئے ندامت اور شرمندگی محسوس کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں آپ ﷺ نے اپنی عظمت و برکت کی بناء پر اپنی تنہا ذات شریف کو ایک پوری جماعت قرار دیا جیسا کہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ آیت (ان ابراہیم کان امۃ)، نیز آپ ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ گویا اپنی مرکزیت کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ میری ذات مسلمانوں کے لئے منبع قوت و طاقت ہے، جہاں سے انہیں مدد ونصرت حاصل ہوتی ہے لہٰذا اے ابن عمر! تم اس عارضی پسپائی سے ہراساں اور دل گرفتہ نہ ہو میں تمہارا بھی مددگار و حامی اور ناصر ہوں۔ وسنذکر حدیث امیۃ بن عبداللہ کان یستفتح وحدیث ابی الدرداء ابغونی فی ضعفائکم فی باب فضل الفقرآء انشاء اللہ تعالیٰ اور امیہ ابن عبداللہ کی روایت کان یستفتح اور ابودرداء کی روایت ابغونی فی ضعفائکم ہم انشاء اللہ فضل الفقراء کے باب میں ذکر کریں گے۔
غزوہ طائف میں منجنیق کا استعمال
عن ثوبان بن يزيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم نصب المنجنيق على أهل الطائف . رواه الترمذي مرسلا
اور ثوبان ابن یزید سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل طائف کے مقابلہ پر منجنیق نصب کی۔ اس روایت کو ترمذی نے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔
تشریح
قدیم آلات حرب میں منجنیق کی حیثیت آج کل کے گولے پھینکنے والی توپ کی سی تھی۔ چناچہ یہ ایک ایسی دستی مشین تھی جس سے بڑے بڑے پتھر پھینکے جاتے تھے۔ بطور خاص جب کسی قلعہ وغیرہ کا محاصرہ کیا جاتا تو اس پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے جاتے تھے۔ طائف آج بھی حجاز کا ایک بڑا شہر ہے جو مکہ مکرمہ سے اصلا تو ٤٠۔ ٤٥ میل کے فاصلہ پر جنوب مشرق میں واقع ہے لیکن ابھی کچھ دنوں پہلے تک وہاں پہنچنے کے لئے ایسا کوئی سیدھا راستہ نہیں تھا جس سے گاڑیاں آ جاسکیں اور پختہ یا خام سڑک ہو، مکہ مکرمہ سے طائف کے لئے سڑک گئی تھی وہ پہاڑوں کا چکر کھاتی ہوئی جاتی تھی اس لئے یہ راستہ طویل ہوجاتا تھا اس راستہ سے مکہ مکرمہ سے طائف کا فاصلہ ٨٥ میل بتایا جاتا ہے، اسی راستہ میں منی وعرفات ملتے ہیں اور محققین کے نزدیک یہی وہ راستہ تھا جس سے آنحضرت ﷺ ابتداء میں تبلیغ کی غرض سے طائف تشریف لے گئے تھے۔ موجودہ طائف سے ڈھائی تین میل کے فاصلے پر جنوب مغرب کی طرف ایک چھوٹی سی بستی مثناۃ ہے یہ طائف ہی کا ایک حصہ سمجھی جاتی ہے، یہ بستی اس جگہ بتائی جاتی ہے جس کے قریب آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اصل طائف آباد تھا۔ یہاں دو باغوں میں دو چھوٹی چھوٹی مسجدیں بنی ہوئی ہیں ان میں سے ایک کو مسجد علی کہتے ہیں اور دوسرے کو مسجد الجعثی ان دونوں مسجدوں کے درمیان ایک وادی ہے جو وادی اوج کہلاتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ طائف میں طائف کا محاصرہ اسی جگہ فرمایا تھا اور غالبًا یہی وہ جگہ جہاں آپ ﷺ نے منجنیق نصب کی تھی۔
وہ کفار قیدی جو جنت میں داخل ہوں گے
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل . وفي رواية : يقادون إلى الجنة بالسلاسل . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس قوم پر تعجب کرتا ہے یعنی ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو زنجیروں میں بندھے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے) جو زنجیروں میں باندھ کر جنت کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کفار (دشمن) کے جو لوگ جہاد وغیرہ کے موقع پر قیدی بنائے جاتے ہیں اور ان کو زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر دارالاسلام میں لایا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو ایمان نصیب فرماتا ہے تو ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا اس اعتبار سے اگرچہ ان کے دخول جنت کا سبب ان کا ایمان قبول کرلینا ہے لیکن ظاہر میں گویا وہ زنجیروں اور بیڑیوں میں باندھ کر جنت میں داخل کئے گئے ہیں۔
دشمن کے جاسوس کو قتل کرنے کا حکم
وعن سلمة بن الأكوع قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم عين من المشركين وهو في سفر فجلس عند أصحابه يتحدث ثم انفتل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اطلبوه واقتلوه . فقتلته فنفلني سلبه (2/400) 3962 - [ 3 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم هوازن فبينا نحن نتضحى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاء رجل على جمل أحمر فأناخه وجعل ينظر وفينا ضعفة ورقة من الظهر وبعضنا مشاة إذ خرج يشتد فأتى جمله فأثاره فاشتد به الجمل فخرجت أشتد حتى أخذت بخطام الجمل فأنخته ثم اخترطت سيفي فضربت رأس الرجل ثم جئت بالجمل أقوده وعليه رحله وسلاحه فاستقبلني رسول الله صلى الله عليه و سلم والناس فقال : من قتل الرجل ؟ قالوا : ابن الأكوع فقال : له سلبه أجمع
اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) مشرکین، (دشمن) کا ایک جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جب کہ آپ ﷺ سفر کے دوران تھے، چناچہ اس جاسوس نے (ٹوہ لینے کے لئے) آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کیں اور پھر چلا گیا، نبی کریم ﷺ کو جب اس کے بارے میں معلوم ہوا تو (آپ ﷺ نے فرمایا اس کو تلاش کرو اور قتل کر ڈالو چناچہ میں نے اس کو (ڈھونڈھ نکالا اور) قتل کر ڈالا، آنحضرت ﷺ نے اس کا سامان و اسباب مجھے مرحمت فرمایا۔ ( بخاری ومسلم ) اور حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے ساتھ (قبیلہ قیس کی ایک شاخ) ہوازن کے خلاف جہاد میں شریک تھے (ایک دن) اس وقت جب کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، اچانک ایک شخص جو (دشمن کا جاسوس تھا اور) سرخ اونٹ پر سوار تھا آیا، اس نے اونٹ کو بٹھا دیا اور (ادھر ادھر) دیکھنے لگا (یعنی وہ ہماری حالت و کیفیت کی ٹوہ لینے لگا) اس وقت ہم (اپنی خستہ حالی اور پیادہ پائی کی وجہ سے) بہت نڈھال ہو رہے تھے، ہمارے پاس سواریوں کی کمی تھی اور ہم میں سے بعض لوگ پیدل تھے۔ چناچہ (جب اس شخص نے ہماری اس کمزوری کا اندازہ لگا لیا کہ ہم سواریوں کی کمی اور اپنی خستہ حالی کی وجہ سے پریشان اور نڈھال ہیں تو دشمن کو اس کی اطلاع دینے کے لئے) وہ اچانک (ہمارے درمیان سے) دوڑتا ہوا نکلا اور اپنے اونٹ کے پاس پہنچ کر (اس پر سوار ہونے کے بعد) اس کو کھڑا کیا اور وہ اونٹ اس کو لے کر تیزی سے دوڑنے لگا میں (نے یہ صورت حال دیکھی تو میں بھی اپنے لوگوں کے درمیان سے نکلا اور (اس شخص کے پیچھے) دوڑا یہاں تک کہ میں نے (اس کو جا لیا اور) اونٹ کی مہار پکڑ لی اور اس کو بٹھا دیا اور پھر اپنی تلوار سونت کر اس شخص کے سر پر (بھر پور) وار کیا (جس سے اس کا کام تمام ہوگیا) اس کے بعد اونٹ کو، جس پر اس شخص کا سامان اور اس کے ہتھیار تھے، کھینچتا ہوا لایا، جب رسول کریم ﷺ اور دوسرے لوگ میرے سامنے آئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس شخص کو کس نے قتل کیا ہے؟ صحابہ نے کہا کہ سلمہ ابن اکوع نے! آپ ﷺ نے فرمایا اس سارے سامان کے حقدار یہی (سلمہ) ہیں۔ بخاری ومسلم )
مدینہ کے عہد شکن یہودیوں کے متعلق فیصلہ
وعن أبي سعيد الخدري قال : لما نزلت بنو قريظة على حكم سعد بن معاذ بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم إليه فجاء على حمار فلما دنا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قوموا إلى سيدكم فجاء فجلس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هؤلاء نزلوا على حكمك . قال : فإني أحكم أن تقتل المقاتلة وأن تسبى الذرية . قال : لقد حكمت فيهم بحكم الملك . وفي رواية : بحكم الله
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب (مدینہ میں آباد) بنوقریظہ (کے یہودی) حضرت سعد ابن معاذ کو حاکم تسلیم کرلینے پر اتر آئے (یعنی وہ اس پر آمادہ ہوئے کہ سعد ابن معاذ جو فیصلہ کریں گے ہم اس کو تسلیم کرلیں گے، تو رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد کو بلانے کے لئے ایک آدمی بھیجا، سعد ابن معاذ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے اور جب وہ قریب پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے (حاضرین سے) کہا کہ تم لوگ اپنے سردار کی تعظیم یا ان کی مدد کے لئے کھڑے ہوجاؤ سعد ابن معاذ (آپ ﷺ کے قریب) آ کر بیٹھ گئے تو رسول کریم ﷺ نے (ان کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ یہ لوگ (یعنی بنو قریظہ کے یہودی) تمہیں حکم ماننے پر راضی ہوگئے ہیں۔ سعد ابن معاذ نے کہا کہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان (یہودیوں) میں سے جو لوگ لڑنے (کی صلاحیت رکھنے) والے ہیں ان کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا تم نے ان کے بارے میں بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے یعنی تم نے ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہے) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت سعد ابن معاذ بڑے اونچے درجہ کے صحابی اور مشاہیر انصار میں سے ہیں مدینہ کے انصار ان کو اپنا سردار اور بڑا مانتے تھے۔ بنو قریظہ مدینہ کے یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا، یہ قبیلہ حضرت سعد ابن معاذ کا حلیف اور اس کے یہودی ان کے عہد وامان میں تھے، جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ پہنچ کر وہاں کے قبائل یہود سے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان، باہمی میل ملاپ کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کے شہری اور سیاسی حقوق و مفادات کے تحفظ کے معاملات طے پائے تھے لیکن یہودیوں نے کچھ ہی دنوں بعد اس معاہدہ کو بالائے طاق رکھ دیا اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور ان کو نقصان پہنچانے کے اقدامات میں مشغول ہوگئے، چناچہ دوسرے یہودی قبائل کی طرح بنوقریظہ بھی اس عہد شکنی کے مرتکب ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ٥ ھ میں غزوہ خندق کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان (بنوقریظہ) کے خلاف جہاد کا ارادہ کیا اور ان کا محاصرہ کرلیا اور یہ محاصرہ پچیس ٢٥ روز تک جاری رہا جب بنو قریظہ بالکل مجبور ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ سعد ابن معاذ ہمارے بارے میں جو فیصلہ کریں گے ہم ان اس کو منظور کریں گے، ان کا خیال تھا کہ چونکہ ہم سعد کے حلیف اور ان کے عہد وامان میں ہیں اس لئے وہ ہماری رعایت کریں گے اور ہمیں اس محاصرہ سے نجات دلانے کی کوشش کریں گے، لیکن حضرت سعد نے اس تعلق کا لحاظ کئے بغیر وہی فیصلہ دیا جو ان یہودیوں کے حسب حال اور مصلحت و حکمت کے عین مطابق تھا۔ تم اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ اس حکم کے بارے میں امام نووی کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ صاحب فضل کی تعظیم و توقیر کی جائے اور اس کے آنے پر تعظیمًا کھڑا ہوجانا چاہئے چناچہ اکثر علماء نے اس مسئلہ میں اس ارشاد گرامی کو دلیل قرار دیا ہے اور بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا یہ حکم حضرت سعد کی تعظیم کرنے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ اس بنا پر تھا کہ ان (سعد) کی ران پر تیر کا زخم تھا جو غزوہ خندق میں ان کو لگا تھا اور اس کی وجہ سے وہ سواری پر سے خود اترنے سے مجبور تھے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور سواری پر سے اترنے میں سعد کی مدد کرو۔
سردار یمامہ کے اسلام لانے کا واقعہ
وعن أبي هريرة قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم خيلا قبل نجد فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له : ثمامة بن أثال سيد أهل اليمامة فربطوه بسارية من سواري المسجد فخرج إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ماذا عندك يا ثمامة ؟ فقال : عندي يا محمد خير إن نقتل تقتل ذا دم وإن تنعم تنعم على شاكر وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت فتركه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كان الغد فقال له : ما عندك يا ثمامة ؟ فقال : عندي ما قلت لك : إن تنعم تنعم على شاكر وإن تقتل تقتل ذا دم وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت . فتركه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كان بعد الغد فقال له : ما عندك يا ثمامة ؟ فقال : عندي ما قلت لك : إن تنعم تنعم على شاكر وإن تقتل تقتل ذا دم وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطلقوا ثمامة فانطلق إلى نخل قريب من المسجد فاغتسل ثم دخل المسجد فقال : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله يا محمد والله ما كان على وجه الأرض وجه أبغض إلي من وجهك فقد أصبح وجهك أحب الوجوه كلها إلي والله ما كان من دين أبغض إلي من دينك فأصبح دينك أحب الدين كله إلي و والله ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك فأصبح بلدك أحب البلاد كلها إلي . وإن خيلك أخذتني وأنا أريد العمرة فماذا ترى ؟ فبشره رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمره أن يعتمر فلما قدم مكة قال له قائل : أصبوت ؟ فقال : لا ولكني أسلمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لا يأتيكم من اليمامة حبة حنطة حتى يأذن فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم واختصره البخاري
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک لشکر کو (جہاد کرنے کے لئے) بخد کی طرف روانہ کیا، لشکر کے لوگ (قبیلہ) بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ کر (مدینہ) لائے جس کا نام ثمامہ ابن اثال تھا اور جو شہر یمامہ کا سردار تھا، اس شخص کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا (تاکہ وہ بھاگ نہ سکے) رسول کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس سے پوچھا کہ کہو ثمامہ! تمہارے پاس (کہنے سننے کو) کیا ہے؟ (یعنی بتاؤ تمہارا کیا حال ہے میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح کا سلوک کروں گا؟ ) ثمامہ نے کہا کہ میرے پاس بھلائی ہی بھلائی ہے یا میرے پاس بہت مال ہے، اگر آپ ﷺ (مجھ کو قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے (جو قتل ہی کئے جانے کا مستحق ہے، ان الفاظ کے ذریعہ گویا ثمامہ نے اپنی تقصیر کا اعتراف و اقرار کیا، یا اس کے ان الفاظ کا یہ مطلب تھا کہ اگر آپ ﷺ مجھے قتل کردیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا کیونکہ میری قوم میرا خون معاف نہیں کرے گی بلکہ آپ سے بدلہ لے گی، اس صورت میں اس نے گویا اپنی امارت اور اپنی ریاست و وجاہت کا دعوی کیا) اور اگر آپ (مجھے باعزت رہائی دے کر میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ایک شخص ساتھ اچھا سلوک کریں گے جو شکر گذار وقدر دان سے (یعنی میں بھی اس اچھے سلوک کا آپ ﷺ کو بدلہ دوں گا) اور اگر آپ ﷺ مال چاہتے ہیں تو مانگیے، جتنا مال چاہیں گے دیا جائے گا۔ (یہ باتیں سن کر) آنحضرت ﷺ نے اس کو (اس حال پر) چھوڑ دیا جب دوسرا دن آیا تو آنحضرت ﷺ نے پھر سے پوچھا کہ (کہو ثمامہ! تمہارے پاس) کہنے سننے کو کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس وہی چیز ہے جو میں کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ اچھا سلوک کریں گے تو ایک ایسے شخص کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے جو شکر گزار وقدردان ہے، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو مانگیے جتنا مال چاہیں گے دیا جائے گا۔ آنحضرت ﷺ نے (اس دن بھی یہ سن کر) اس کو (اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور جب تیسرا دن آیا تو آپ ﷺ نے پھر اس سے پوچھا کہ (کہو ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟ اس نے کہا وہی چیز ہے جو میں کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ اچھا سلوک کریں گے تو ایک ایسے شخص کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے جو شکر گذار وقدر دان ہے، اگر قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو مانگیے جتنا مال چاہیں گے دیا جائے گا، رسول کریم ﷺ نے (یہ سن کر) حکم دیا کہ ثمامہ کو رہا کردیا جائے۔ چناچہ (رہائی پانے کے بعد کچھ کہے سنے بغیر) کھجوروں کے ان درختوں (کے جھنڈ) میں چلا گیا جو مسجد نبوی ﷺ کے قریب تھے اور وہاں سے نہا دھو کر پھر مسجد نبوی میں آیا اور (آنحضرت ﷺ کے سامنے) کہا اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ یعنی میں (سچے دل کے اعتراف و اقرار کے ساتھ) گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور (پھر کہنے لگا کہ) اے محمد ﷺ اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ نفرت انگیز کوئی چہرہ نہیں تھا لیکن اب آپ ﷺ کا چہرہ مبارک میرے نزدیک (دنیا کے) سارے چہروں سے زیادہ پیارا ہے، اللہ کی قسم! میرے نزدیک آپ ﷺ کے دین سے زیادہ نفرت انگیز کوئی دین نہیں تھا لیکن اب آپ ﷺ کا دین میرے نزدیک سارے دینوں سے زیادہ پیارا ہے اور اللہ کی قسم! میرے نزدیک آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ نفرت انگیز کوئی شہر نہیں تھے لیکن اب میرے نزدیک سارے دنیا کے سارے شہروں سے زیادہ پیارا ہے۔ پھر (اس عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ) آپ ﷺ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا تھا جب کہ میں عمرہ (کرنے کے لئے مکہ جانے کا ارادہ کر رہا تھا تو اب آپ ﷺ مجھ کو کیا حکم دیتے ہیں (آیا میں عمرہ کے لئے مکہ جاؤں یا نہیں؟ ) رسول کریم ﷺ نے (پہلے تو) اس کو بشارت دی کہ اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے تمہیں شرف و عظمت انسانیت حاصل ہوگئی ہے اور تمہارے پہلے سارے گناہ بخش دیئے گئے ہیں) اور پھر ان کو عمرہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ثمامہ جب (عمرہ کرنے کے لئے) مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے ان سے کہا کہ تم تو بےدین ہوگئے ہو۔ ثمامہ نے جواب دیا کہ نہیں! میں نے رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے، میں بےدین نہیں ہوا ہوں اور (یاد رکھو! ) اللہ کی قسم! اب یمامہ سے تم کو گہیوں کا ایک دانہ بھی نہیں بھیجا جائے گا جب تک کہ رسول کریم ﷺ اس کی اجازت نہ دیں۔ (مسلم) اس روایت کو بخاری نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
جبیر ابن مطعم کو آنحضرت ﷺ کی طرف سے ترغیب اسلام
وعن جبير بن مطعم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في أسارى بدر : لو كان المطعم بن عدي حيا ثم كلمني في هؤلاء النتنى لتركتهم له . رواه البخاري
اور حضرت جبیر ابن مطعم کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر مطعم ابن عدی زندہ ہوتے اور مجھ سے ان ناپاک قیدیوں کے حق میں سفارش کرتے، تو میں ان (قیدیوں) کو ان (مطعم) کی سفارش پر رہا کردیتا۔ ( بخاری)
تشریح
حضرت جبیر اسلام قبول کرنے سے پہلے جنگ بدر کے موقع پر کفار کے ساتھ تھے اور مسلمانوں کے مقابلے پر لڑ رہے تھے جنگ کے بعد ان کفار میں سے جو لوگ قیدی بنا کر مدینہ لائے گئے ان میں حضرت جبیر بھی تھے اس طرح حضرت جبیر نے آنحضرت ﷺ سے یہ حدیث سنی تو کفر کی حالت میں، مگر اس کو بیان کیا اسلام قبول کرنے کے بعد۔ مطعم ابن عدی، حضرت جبیر کے والد تھے اور نوفل ابن عبد مناف کا پوتا ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ہم جد قرابتی تھے ان (مطعم) کا آنحضرت ﷺ پر ایک احسان تھا کہ جب آنحضرت ﷺ تبلیغ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے اور وہاں سے واپس آئے تو مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو اپنے نرغے میں لے کر نقصان پہنچانا چاہا مگر مطعم نے ان مشرکین کو آنحضرت ﷺ سے دور کیا اس لئے آنحضرت ﷺ نے جبیر کے سامنے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے جس کا ایک مقصد جبیر کی تالیف قلب اور ان کو اسلام کی طرف راغب کرنا تھا۔
حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ پر حملے کا ارادہ کرنے والے کفار مکہ گرفتار کر کے چھوڑ دینے کا واقعہ
وعن أنس : أن ثمانين رجلا من أهل مكة هبطوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم من جبل التنعيم متسلحين يريدون غرة النبي صلى الله عليه و سلم وأصحابه فأخذهم سلما فاستحياهم . وفي رواية : فأعتقهم فأنزل الله تعالى ( وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة ) رواه مسلم
اور حضرت انس راوی ہیں کہ (صلح حدیبیہ کے سال) نبی کریم ﷺ کے خلاف مکہ کے اسی آدمی ہتھیاروں سے لیس ہو کر تنعیم کے پہاڑ سے اتر آئے جن کا ارادہ یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ پر اچانک حملہ کر کے ان کو نقصان پہنچائیں لیکن آنحضرت ﷺ نے (لڑے بھڑے بغیر) ان سب کو بےبس اور ذلیل کر کے گرفتار کرلیا اور پھر ان کو زندہ چھوڑ دیا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ۔ اور پھر ان کو رہا کردیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ ) 48۔ الفتح 24) اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے نواح مکہ میں ان (کفار) کا ہاتھ تمہارے خلاف اور تمہارا ہاتھ ان کے خلاف بند رکھا۔ (مسلم)
جنگ بدر کے بعد مقتولین مکہ سے آنحضرت ﷺ کا خطاب
وعن قتادة قال : ذكر لنا أنس بن مالك عن أبي طلحة أن نبي الله صلى الله عليه و سلم أمر يوم بدر بأربعة وعشرين رجلا من صناديد قريش فقذفوا في طوي من أطواء بدر خبيث مخبث وكان ذا ظهر على قوم أقام بالعرصة ثلاث ليال فلما كان ببدر اليوم الثالث أمر براحلته فشد عليها رحلها ثم مشى وأتبعه أصحابه حتى قام على شفة الركي فجعل يناديهم بأسمائهم وأسماء آبائهم : يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان أيسركم أنكم أطعتم الله ورسوله ؟ فإنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا ؟ فقال عمر : يا رسول الله ما تكلم من أجساد لا أرواح لها ؟ قال النبي صلى الله عليه و سلم : والذي نفس محمد بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم . وفي رواية : ما أنتم بأسمع منهم ولكن لا يجيبون . متفق عليه . وزاد البخاري : قال قتادة : أحياهم الله حتى أسمعهم قوله توبيخا وتصغيرا ونقمة وحسرة وندما
اور حضرت قتادہ کہتے ہیں حضرت انس بن مالک نے حضرت ابوطلحہ کے حوالہ سے ہمارے سامنے یہ بیان کیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے جنگ بدر کے دن (مکہ کے) کفار قریش کے چوبیس (مقتولین) سرداروں کے بارے میں حکم دیا ( کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے) چناچہ ان کی نعشوں کو بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا جو ناپاک تھا اور ناپاک کرنے والا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی یہ عادت تھی کہ جب آپ ﷺ (جنگ میں) کسی قوم (یعنی دشمنوں) پر غلبہ اور فتح پالیتے تھے تو اس میدان جنگ میں تین راتیں قیام فرماتے تھے چناچہ (اسی عادت کے مطابق آپ ﷺ جنگ جیت لینے کے بعد بدر کے میدان میں بھی تین راتیں قیام فرما رہے اور جب تین دن گذر گئے تو آپ ﷺ نے اپنی سواری کے اونٹ پر کجاوہ باندھنے کا حکم دیا، چناچہ کجاوہ باندھ دیا گیا اور وہاں سے روانہ ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی آپ کے پیچھے ہو لئے (جب اس کنوئے پر پہنچے جس میں سرداران قریش کی نعشیں ڈالی گئی تھی تو) آپ ﷺ اس کنوئیں کے کنارے کھڑے ہوگئے اور ان سرداروں کو ان کا اور ان کے باپوں کا نام لے کر پکارنا شروع کیا کہ اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں (اور پھر گویا ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ) (اب) تمہیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ بلاشبہ ہمیں تو وہ چیز حاصل ہوگئی جس کا ہم سے ہمارے رب نے قطعی وعدہ کیا تھا ( یعنی تمہارے مقابلہ پر ہماری فتح اور باطل طاقتوں پر ہمارے غلبہ کا) اور کیا تم نے بھی وہ چیز پالی جس کا تم سے تمہارے پروردگار نے قطعی وعدہ کیا تھا یعنی تمہارے عذاب کا (مطلب یہ کہ ہم کو تو اللہ کے وعدے کے مطابق فتح و کامیابی حاصل ہوگئی کیا تم کو بھی عذاب ملا جس سے تمہارے پروردگار نے تمہیں ڈرایا تھا؟ گویا آنحضرت ﷺ کا یہ سوال ازراہ توبیخ تھا) حضرت عمر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ایسے جسموں کو مخاطب کر رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں!؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، ان (جسموں سے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم اس کو زیادہ سننے والے نہیں ہو اور ایک روایت میں یوں ہے کہ۔ تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن (فرق صرف اتنا ہے کہ تم جواب دینے پر قادر ہو اور) یہ جواب نہیں دے سکتے۔ (بخاری ومسلم) بخاری نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت قتادہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان (سرداران قریش) کو آنحضرت ﷺ کے خطاب کے وقت) زندہ کردیا تھا تاکہ وہ آنحضرت ﷺ کی بات سن لیں اللہ تعالیٰ کے سامنے) ان کو سرزنش ہو اور وہ ذلت و خواری، عذاب اور افسوس وپشیمانی کو محسوس کریں۔
تشریح
حضرت عبد الحق محدث دہلوی وغیرہ نے اس حدیث کے ذریعہ سماع موتی کے مسئلہ کو ثابت کیا ہے جس کہ اکثر حنفی علماء نے اس (سماع موتی) کا انکار کیا ہے، ان علماء کی طرف سے مختلف انداز میں جواب دئیے گئے ہیں جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں جیسے فتح القدیر وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔