کسی خاص جگہ نماز پڑھنے کی نذر مانی جائے اور پھر اس نماز کو -r-nدوسری جگہ پڑھ لیا جائے تو نذر پوری ہوجائے گی
وعن جابر بن عبد الله : أن رجلا قام يوم الفتح فقال : يا رسول الله لله عز و جل إن فتح الله عليك مكة أن أصلي في بيت المقدس ركعتين قال : صلى الله عليه و سلم ههنا ثم عاد فقال : صل ههنا ثم أعاد عليه فقال : شأنك إذا . رواه أبو داود والدارمي
اور حضرت جابر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص مسجد نبوی ﷺ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے عز وجل سے یہ نذر مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مکہ کی فتح عطاء کرے گا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم اسی جگہ ( مسجد حرام میں) نماز پڑھ لو ( کیونکہ یہاں نماز پڑھنا افضل ہے باوجودیکہ بیت المقدس جا کر وہاں نماز پڑھنے کی بہ نسبت یہاں نماز پڑھ لینا زیادہ آسان وسہل ہے) اس شخص نے پھر یہی عرض کیا آنحضرت ﷺ نے یہی جواب دیا کہ اس جگہ نماز پڑھ لو، جب اس نے تیسری مرتبہ بھی یہی عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب تمہیں اختیار ہے ( یعنی اگر تم یہاں نماز پڑھنا نہیں چاہتے تو تم جانو، تمہیں اپنی نذر کے مطابق بیت المقدس میں نماز پڑھنے کا اختیار ہے۔ ( ابوداؤد، دارمی)
تشریح
شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی نذر مانے اور پھر اس نماز کو مسجد حرام میں پڑھ لے تو اس کی نذر پوری ہوجائے گی لیکن اگر اس نماز کو وہ مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں پڑھے گا تو نذر پوری نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی نذر مانے اور پھر اس نماز کو مسجد حرام یا مسجد نبوی میں پڑھ لے تو اس کی نذر پوری ہوجائے گی! گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی جگہ نماز پڑھنے کی نذر مانی جائے اور اس نماز کو کسی ایسی دوسری جگہ پڑھ لیا جائے جو اس جگہ سے زیادہ فضیلت کی حامل ہو تو نذر پوری ہوجائے گی۔ لیکن حنفی علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں ہمارا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جگہ نماز پڑھنے کی نذر مانے اور پھر اس نماز کو کسی ایسی دوسری جگہ پڑھے جو اس جگہ سے کم فضیلت کی حامل ہو تو بھی نذر پوری ہوجائے گی۔
نذر کا کوئی جزو اگر ناممکن العمل ہو تو اس کا کفارہ
وعن ابن عباس : أن أخت عقبة بن عامر رضي الله عنهم نذرت أن تحج ماشية وأنها لا تطيق ذلك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله لغني عن مشي أختك فلتركب ولتهد بدنة . رواه أبو داود والدارمي وفي رواية لأبي داود : فأمرها النبي صلى الله عليه و سلم أن تركب وتهدي هديا وفي رواية له : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله لا يصنع بشقاء أختك شيئا فلتركب ولتحج وتكفر يمينها (2/283) 3442 - [ 17 ] ( لم تتم دراسته ) وعن عبد الله بن مالك أن عقبة بن عامر سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن أخت له نذرت أن تحج حافية غير مختمرة فقال : مروها فلتختمر ولتركب ولتصم ثلاثة أيام . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ عقبہ ابن عامر کی بہن نے یہ نذر مانی کہ وہ پیدل حج کریں گی لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتی تھی چناچہ نبی کریم ﷺ نے ( حضرت عقبہ سے) فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں ہے، لہٰذا انہیں چاہئے کہ وہ ( جب پیدل نہ چل سکیں تو) سوری پر بیٹھ جائیں اور اس کے مال کا کفارہ کے طور پر بدنہ ذبح کریں ( حنفیہ کے نزدیک بدنہ سے مراد اونٹ یا گائے ہے۔ لیکن شوافع کے نزدیک بدنہ کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے) ( ابوداؤد، دارمی) ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کو اس کی مشقت کا کوئی ثواب نہیں دے گا ( یعنی تمہاری بہن جو اس طرح مشقت برداشت کریں گی اس کا انہیں کچھ ثواب نہیں ملے گا) لہٰذا انہیں چاہئے کہ وہ ( جب پیدل نہ چل سکیں تو) سوری پر بیٹھ کر حج کا سفر پورا کریں اور اپنی قسم کا کفارہ دیں۔
تشریح
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں کہ جو ذبح کرنے کے لئے حرم بھیجا جائے! ہدی کا کم سے کم درجہ بکری ہے اور اس کا اعلیٰ درجہ بدنہ یعنی اونٹ یا گائے ہے۔ اس حدیث میں بدنہ ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ بطور استحباب ہے! قاضی کہتے ہیں کہ پیادہ پا حج کے لئے جانا چونکہ طاعات کی قسم سے ہے اس لئے اس کی نذر پوری کرنا واجب ہے اور اس کے ساتھ ہر وہ عمل لاحق ہوجاتا ہے جس کو ترک کرنا جائز نہیں ہے الاّ یہ کے کوئی شخص اس کی ادائیگی سے عاجز ہو۔ لہٰذا ترک کی صورت میں فدیہ ( کفارہ) واجب ہوا گا۔ اب اس بارے میں اختلاف ہے کہ بطور کفارہ کس جانور کو ذبح کرنا واجب ہوگا؟ چناچہ حضرت علی کا قول ہے کہ اس حدیث کے بموجب بدنہ واجب ہوگا، بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جس طرح میقات سے تجاوز کر جانے کی وجہ سے بکری واجب ہوتی ہے اسی طرح اس صورت میں بھی بکری واجب ہوگی، انہوں نے اس حدیث میں بدنہ ذبح کرنے کے حکم کو استحباب پر محمول کیا ہے، یہی قول امام مالک کا بھی ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کا قول بھی یہی ہے۔ اور اپنے قسم کا کفارہ دیں کے بارے میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس حکم میں کفارہ سے مراد کفارہ جنایت ہے اور وہ ہدی ہے، یا روزہ ہے جو ہدی کا قائم مقام ہے اور جس کا ذکر بھی اگلی حدیث میں کیا گیا ہے کفارہ کے با رہے میں یہ تاویل اس لئے کی جاتی ہیں تاکہ یہ روایت اس بارے میں منقول دوسری روایتوں کے مطابق ہوجائے، حاصل یہ کہ یہاں قسم کے کفارہ سے وہ کفارہ مراد نہیں ہے جو قسم توڑنے کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن مالک کہتے ہیں کہ جب عقبہ ابن عامر نے ( سفر حج کے دوران) اپنی بہن کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے پوچھا جنہوں نے نذر مانی تھی کہ وہ پیادہ پا، ننگے پاؤں اور ننگے سر حج کو جائیں گی، تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ان کو حکم دو کہ وہ اپنا سر ڈھانکیں اور سواری پر بیٹھ جائیں، نیز انہیں چاہئے کہ وہ تین روزے رکھیں۔ ( ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح سر ڈھانکنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ عورت کا سر اور بال ستر ہیں۔ یعنی اس کے جسم کے یہ وہ حصے ہیں جس کو چھپانا اس پر واجب ہے اور اس کا کھلا رکھنا گناہ ہے اور سواری پر بیٹھنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ وہ پیدل چلنے سے عاجز تھیں اور اس کی وجہ سے وہ سخت مشقت و تکلیف میں مبتلا تھیں۔ چونکہ اوپر کی حدیث میں ہدی کا ذکر ہے اس لئے یہاں وہ تین روزے رکھیں کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر وہ ہدی ( یعنی جانور ذبح کرنے) سے عاجز ہوں تو تین روزے رکھ لیں۔ یا پھر روزے رکھنے کے لئے اس لئے فرمایا گیا کہ قسم کے کفارہ کی جو کئی قسمیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کفارہ کی قسموں سے عاجز ہو تو وہ تین روزے رکھے اب ان تین روزوں کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تین روزے قسم کے کفارہ کے طور پر رکھے جائیں تو تین دن پے در پے رکھنے واجب ہیں اس کے علاوہ کی صورت میں اختیار ہے کہ جس طرح چاہے رکھے گا۔
ناجائز نذر کا کفارہ دینا واجب ہے
وعن سعيد بن المسيب : أن أخوين من الأنصار كان بينهما ميراث فسأل أحدهما صاحبة القسمة فقال : إن عدت تسألني القسمة فكل مالي في رتاج الكعبة فقال له عمر : إن الكعبة غنية عن مالك كفر عن يمينك وكلم أخاك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يمين عليك ولا نذر في معصية الرب ولا في قطيعة الرحم ولا فيما لا يملك . رواه أبو داود
اور حضرت سعید ابن مسیب کہتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں کو کسی کی میراث ملی تھی ( جسے ان دونوں کے درمیان تقسیم ہونا باقی تھا) چناچہ ان دونوں میں سے ایک بھائی نے ایک دوسرے بھائی سے اس میراث کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو اس دوسرے بھائی نے کہا کہ ( میں یہ نذر مانتا ہوں کہ) اگر اب تم پھر مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کرو گے تو میرا سارا مال کعبہ میں خرچ کیا جائے گا۔ جب یہ صورت حال حضرت عمر فاروق ( کے علم میں آئی تو انہوں) نے فرمایا کہ کعبہ تمہارے مال سے بےپرواہ ہے۔ ( یعنی کعبہ کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ تم اپنا مال اس کی نذر کرو) اور چونکہ تمہارے اوپر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے اس لئے) تم اپنی قسم کا ( یعنی اس ناجائز نذر کا) کفارہ ادا کرو اور ( جب تمہارا بھائی اس میراث کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کرے تو اس معاملہ میں) تم اپنے بھائی سے بات چیت کرو ( یعنی اس میراث کو تقسیم کر کے اس کا مطالبہ پورا کرو) کیونکہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر اس قسم ( یعنی اس طرح کی نذر) کو پورا کرنا واجب نہیں ہے اور پروردگار کی معصیت کی نذر جائز نہیں ہے ( یعنی جس نذر کا تعلق پروردگار کی نافرمانی اور کسی گناہ سے ہو اس کو پورا نہ کرنا چاہئے) اور نہ اس نذر کو پورا کرنا چاہئے جو قرابت داری کو منقطع کرنے سے متعلق ہو اور جس چیز کا انسان مالک نہ ہو، اس کی نذر پوری کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ ( بلکہ جو نذر ناجائز ہونے کی وجہ سے پوری نہ کی جائے اس کا کفارہ دینا واجب ہے )۔ ( ابوداؤد)
تشریح
تاج الکعبہ کا لفظی ترجمہ ہے کعبہ کا دروازہ کیونکہ تاج بڑے دروازہ ( پھاٹک) کو کہتے ہیں لیکن تاج کعبہ سے کعبہ کا دروازہ مراد نہیں ہے، بلکہ نفس کعبہ مراد ہے۔
عن عمران بن حصين قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : النذر نذران : فمن كان نذر في طاعة فذلك لله فيه الوفاء ومن كان نذر في معصية فذلك للشيطان ولا وفاء فيه ويكفره ما يكفر اليمين . رواه النسائي
حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نذر دو قسم کی ہے ( ایک تو یہ کہ) کوئی شخص طاعت ( یعنی حق تعالیٰ کی بندگی) کی نذر مانے، یہ نذر خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، اس طرح کی نذر کو پورا کرنا واجب ہے اور دوسری یہ کہ کوئی شخص گناہ کی نذر مانے، یہ نذر شیطان کے لئے ہے، اس طرح کی نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے، بلکہ ایسی صورت میں وہ کفارہ ادا کیا جائے جو قسم توڑنے کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ ( نسائی )
جان قربان کرنے کی نذر کا مسئلہ
وعن محمد بن المنتشر قال : إن رجلا نذر أن ينحر نفسه إن نجاه الله من عدوه فسأل ابن عباس فقال له : سل مسروقا فسأله فقال له : لا تنحر نفسك فإنك إن كنت مؤمنا قتلت نفسا مؤمنة وإن كنت كافرا تعجلت إلى النار واشتر كبشا فاذبحه للمساكين فإن إسحاق خير منك وفدي بكبش فأخبر ابن عباس فقال : هكذا كنت أردت أن أفتيك . رواه رزين
اور حضرت محمد ابن منتشر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو دشمن سے نجات دلا دے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کر ڈالے گا، چناچہ جب اس کو اپنے دشمن سے نجات مل گئی تو ( اس نے اس مسئلہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا حضرت ابن عباس نے اس سے فرمایا کہ یہ مسئلہ مسروق ( تابعی) سے پوچھو، اس شخص نے مسروق سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے آپ کو ذبح نہ کرو، کیونکہ اگر تم مسلمان ہو تو ( اس صورت میں) تم ایک مسلمان کو قتل کرنے کے مرتکب ہو گے اور اگر تم کافر ہو تو ( اس صورت میں گویا) تم دوزخ میں جانے میں جلدی کرو گے، لہٰذا اگر تمہارے بارے میں یہ حکم ہے کہ ( تم دنبہ خرید کر مسکینوں کے لئے اس کو ذبح کرو، حضرت اسحاق تم سے بہتر تھے جن کا بدلہ ایک دنبہ کو قرار دیا گیا، جب اس شخص نے حضرت ابن عباس کو ( حضرت مسروق کے اس فتویٰ سے آگاہ کیا) تو انہوں نے فرمایا کہ حقیقت یہی ہے، میں خود تمہیں یہ فتویٰ دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ( رزین)
تشریح
حضرت مسروق ابن اجدع کا شمار اونچے درجہ کے تابعین میں ہوتا ہے۔ ان کی علمی فضیلت اور فقہی حیثیت اپنے زمانہ میں ایک امتیازی شان رکھتی تھی۔ مرہ ابن شرحبیل کا قول ہے کہ کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسا سپوت نہیں جنا، انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وفات سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا۔ مگر دربار رسالت میں حاضری کی سعادت سے محروم رہے تھے، چناچہ انہوں نے چاروں خلفاء راشدین اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے تحصیل علم کیا تھا اس لئے جب اس شخص نے حضرت ابن عباس ؓ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اپنی جلالت علم کے باوجود اس شخص کو حضرت مسروق سے مسئلہ پوچھنے کے لئے کہا، اس سے جہاں حضرت مسروق کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے، وہیں حضرت ابن عباس کے جذبہ احتیاط اور ان کے کمال صبر ودیانت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ حدیث میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے اس کو اپنے دشمن کے ہاتھوں مرنا نہایت شدید اور فضیحت ناک معلوم ہوتا تھا، چناچہ اس نے التجا کی کہ پروردگار! اصل موت مجھ پر سخت نہیں ہے اور نہ میں اپنے زندگی کے خاتمہ سے گبھراتا ہوں، میں اپنی جان اپنے ہاتھوں تجھے سونپتا ہوں اور اپنے آپ کو تیرے نام پر قربان کرتا ہوں لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنا مجھ پر سخت شاق ہے اس لئے اگر تو مجھے دشمن سے نجات دے گا تو میں اپنے آپ کو تیرے نام پر قربان کر دوں گا یہ تو گویا اس کا جذبہ اور اس کی ایک طبعی خواہش تھی لیکن اس نے یہ نہیں جانا کہ اپنے آپ کو ہلاک کرلینا اس سے کہیں زیادہ سخت اور حرام ہے۔ چناچہ حضرت مسروق نے اس کے سامنے اس مسئلہ کو بڑے لطیف انداز میں واضح کیا کہ اگر تم مسلمان ہو اور اپنے آپ کو قتل کر ڈالتے ہو تو اس طرح درحقیقت تم ایک مسلمان کو قتل کرنے کے مرتکب گردانے جاؤ گے اور یہ معلوم ہونا چاہئے کہ نفس مؤمن کو قتل کرنے والے کے بارے میں اس آیت کریمہ ( وَلَا تَقْتُلُوْ ا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا) 4۔ النساء 29) کے بموجب دوزخ کے دائمی عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے اور اگر تم کافر ہو تو اس صورت میں تمہارا اپنے آپ کو قتل کردینا، اس بات کے مترادف ہوگا کہ تم دوزخ میں جانے میں جلدی کر رہے ہو، کیونکہ اگر تم بقید حیات رہتے ہو تو عجب نہیں کہ حق تعالیٰ تمہیں راہ ہدایت سے نوازے اور تم اسلام قبول کر کے دائمی نجات پاؤ۔ بہر حال کسی بھی صورت میں تمہارا اپنے آپ کی قتل کردینا نہ صرف یہ کہ نامشروع ہے بلکہ غیر معقول بھی ہے۔ حدیث کا یہ جملہ حضرت اسحاق تم سے بہتر تھے جن کا بدلہ ایک دنبہ کو قرار دیا گیا تھا بعض علماء کے اس قول پر مبنی ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو خواب دیکھا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں تو وہ بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ لیکن اس بارے میں مشہور و مختار اور صحیح قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو خواب میں جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ حضرت اسماعیل تھے۔ چناچہ جلال الدین سیوطی نے وضاحت کی ہے کہ اس واقعہ میں اہل کتاب نے سخت تحریف و تکذیب سے کام لیا ہے، سابقہ آسمانی کتابوں میں اصل نام اسماعیل تھا جس کو اہل کتاب نے حذف کر کے اسحاق بنادیا۔ در مختار میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی تو حضرت ابراہیم کے واقعہ کی موافقت میں اس پر بکری ذبح کرنا واجب ہوگا لیکن حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ ایسی نذر لغو ہوگی، اسی طرح اپنے آپ کو یا اپنے غلام کو ذبح کرنے کی نذر بھی لغو ہوگی لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک اس صورت میں ایک بکری ذبح کرنا واجب ہوگا! اور اگر کسی نے اپنے باپ یا اپنے دادا کو اور یا اپنی ماں کو ذبح کرنے کی نذر مانی تو تمام علماء کے نزدیک اس کی نذر لغو ہوگی۔
اصطلاح شریعت میں قصاص کا مفہوم ہے، قاتل کی جان لینا، جس شخص نے کسی کو ناحق قتل کردیا ہو اس کو مقتول کے بدلے میں قتل کردینا! یہ لفظ قص اور قصص سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں کسی کے پیچھے پیچھے جانا، چونکہ مقتول کا ولی قاتل کا پیچھا پکڑتا ہے تاکہ اسے مقتول کے بدلے میں قتل کرائے اس لئے قاتل کی جان لینے کو قصاص کہا جاتا ہے، ویسے قصاصات کے معنی مساوات ( برابری) کے بھی ہیں۔ قصاص پر اس معنی کا اطلاق اس طرح ہوتا ہے کہ جب قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کردیا جاتا ہے تو مقتول کا ولی اور قاتل یا مقتول اور قاتل برابر ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ قصاص میں قاتل کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو قاتل نے مقتول کے ساتھ کیا تھا۔
عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث : النفس بالنفس والثيب الزاني والمارق لدينه التارك للجماعة
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا مسلم انسان کہ جو اس امر کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس کا خون بہاناجائز نہیں الاّ یہ کہ ان تین باتوں میں کوئی ایک بات پیش آجائے (١) ناحق قتل کرنا کہ خون کے بدلے میں خون (یعنی قصاص) لیا جائے (لیکن یہ مقتول کے ولی کا حق ہے کہ وہ اس بارے میں شریعت کے مقرر کردہ اصول کے مطابق قاتل سے بدلہ لے)۔ ( ٢) شادی شدہ (مسلمان، مکلف اور آزاد) کا زنا کرنا (اس کو سنگ سار کو کیا جائے (٣) اپنے دین سے نکلنے اور اپنی جماعت کو چھوڑنے والا (یعنی مسلمان مرتد ہوجائے اس کو قتل کرنا جائز ہے) (بخاری ومسلم )
تشریح
یہ جملہ جو اس امر کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلا شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں دراصل لفظ مسلم کی وضاحت وبیان اور اس کے موکد کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے، نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ محض کلمہ شہادت پڑھ لینا خون بہانے کے ناجائز ہونے کے لئے کافی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص (جو پہلے سے مسلمان نہ ہو یا جس کا مسلمان ہونا معلوم نہ ہو) محض زبان سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور آنحضرت کی رسالت کی شہادت دے دے تو اس شخص کا ناحق خون بہانا بھی اسی طرح ناجائز ہوگا جس طرح کسی دوسرے جانے پہنچانے مسلمان کا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان کا خون بہانا قطعا جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز پیش آجائے اول تو یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو ناحق قتل کر دے تو خون کا بدلہ خون کے اصول کے تحت اس کو قتل کیا جاسکتا ہے، دوم یہ کہ اگر کوئی شادی شدہ شخص جو مکلف، مسلمان اور آزاد ہو، زنا کا مرتکب ہو تو اس کو سنگسار کردیا جائے اور سوم یہ کہ جو مسلمان دین سے نکل آئے یعنی مرتد ہوجائے اس کو قتل کردینا بھی جائز ہے۔ اپنی جماعت چھوڑنے والا یہ مارق کی صفت مؤ کدہ ہے یعنی جو شخص قولًا یا فعلًا اور یا اعتقادًا مرتد ہوجائے کہ وہ اسلام کو ترک کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے مسلمانوں کی قوم سے علیحدگی اختیار کرے تو اس شخص کو قتل کردینا واجب ہے بشرطیکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ نہ کرلے۔ حدیث میں ایسے شخص (یعنی مرتد کو) مسلمان کے۔ ذلیل میں ذکر کرنا اس اس کی پہلی حالت کے اعتبار سے مجازًا ہے۔ یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو حنفیہ کے مسلک کے مطابق اس عورت کو قتل نہ کرنا چاہئے۔
خون ناحق کرنے والا رحمت خداوندی سے محروم رہتا ہے
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن يزال المؤمن في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما . رواه البخاري
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا تاوقتیکہ کوئی مسلمان خون حرام (یعنی ناحق) قتل کا مرتکب نہ ہو وہ ہمیشہ اپنے دین کی وسعت و کشادگی میں رہتا ہے۔ (بخاری)
تشریح
یوں تو ہر برائی انسان کی دینی و اخلاقی زندگی کے لئے زوال کا باعث اور غضب الٰہی کا موجب ہوتی ہے لیکن یہاں بطور خاص خون ناحق کے مذموم ترین فعل کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک کوئی شخص کسی کے خون ناحق سے اپنا ہاتھ نہیں رنگتا اس پر رحمت الٰہی کا ہاتھ رہتا ہے اور اس کو حق تعالیٰ کی امید رحمت اور اس کی بخشش و مغفرت کا سہارا اپنے وسیع دامن میں لئے رہتا ہے لیکن جب کوئی شخص خون ناحق سے اپنے ہاتھ سے رنگ لیتا ہے تو اس پر تنگی مسلط ہوجاتی ہے اور وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہوجاتا ہے جو رحمت الٰہی سے ناامید و محروم ہیں۔
قیامت میں سب سے پہلے خون کے بارے میں پرسش ہوگی
وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء
اور حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا وہ خون ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق میں سے جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ انسان کے خون کا مقدمہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہوگی۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ منہیات میں سے جس چیز کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کا مقدمہ ہوگا اور مامورات میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہوگئی۔
جس شخص نے کلمہ پڑھ لیا وہ معصوم الدم ہوگیا
وعن المقداد بن الأسود أنه قال : يا رسول الله أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فاقتتلنا فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعهما ثم لاذ مني بشجرة فقال : أسلمت لله وفي رواية : فلما أهويت لأقتله قال : لا إله إلا الله أأقتله بعد أن قالها ؟ قال : لا تقتله فقال : يا رسول الله إنه قطع إحدى يدي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقتله فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله وإنك بمنزلته قبل أن يقول كلمته التي قال (2/285) 3450 - [ 5 ] ( متفق عليه )
اور حضرت مقداد ابن اسود سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اگر (مجھے کوئی کافر مل جائے) اور ہمارے درمیان لڑائی چھڑ جائے اور وہ کافر میرے ہاتھ پر تلوار کا وار کر کے کاٹ دے اور پھر ایک درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ پکڑ کر یہ کہے کہ میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اور جوں ہی میں اس کو مار ڈالنے کا ارادہ کروں تو وہ کہے کہ لا الہ الا اللہ تو کیا میں اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلنے کے بعد اس کو قتل کرسکتا ہوں؟ آنحضرت فرمایا نہیں اس کو قتل نہ کرو مقداد نے عرض کیا یا رسول اللہ اس نے جو میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اس کے باوجود) اس کو قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم اس کو قتل کرو گے تو وہ اس جگہ پہنچ جائے گا، جہاں تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ پہنچ جاؤ گے جہاں وہ کلمہ پڑھنے سے پہلے تھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس کو کلمہ پڑھنے کے بعد قتل کردیا تو جس طرح تم نے اس کو قتل کرنے سے پہلے معصوم الدم تھے اب وہ اسلام لانے کی وجہ سے معصوم الدم ہوگیا اور جس طرح وہ کلمہ اسلام پڑھنے سے پہلے غیر معصوم الدم تھا اب تم اس کو قتل کردینے کی وجہ سے غیر معصوم الدم ہوگئے۔ اس کو مزید وضاحت کے ساتھ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کلمہ اسلام پڑھنے سے پہلے اس شخص کو اس کے کافر ہونے کی وجہ سے قتل کردینا درست تھا اب اس کے مسلمان ہوجانے کے بعد اس کو قتل کردینے کی وجہ سے تمہیں قتل کردینا درست ہوگا۔
جس شخص نے کلمہ پڑھ لیا وہ معصوم الدم ہوگیا
وعن أسامة بن زيد قال : بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أناس من جهينة فأتيت على رجل منهم فذهبت أطعنه فقال : لا إله إلا الله فطعنته فقتلته فجئت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : أقتلته وقد شهد أن لا إله إلا الله ؟ قلت : يا رسول الله إنما فعل ذلك تعوذا قال : فهلا شققت عن قلبه ؟ (2/285) 3451 - [ 6 ] ( صحيح ) وفي رواية جندب بن عبد الله البجلي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت يوم القيامة ؟ . قاله مرارا . رواه مسلم
اور حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمیں قبیلہ جہینہ کے لوگوں کے مقابلہ پر بھیجا چناچہ ( ان کے مقابلہ کے دوران) میں ایک شخص پر جھپٹا اور اس پر نیزہ کا حملہ کرنا چاہا کہ اس نے (لاالہ الا اللہ) کہہ دیا لیکن میں نے اس میں اپنا نیزہ پیوست کر کے اس کو قتل کردیا۔ پھر جب میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں واپس آیا اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا (صد افسوس) کہ تم نے اس صورت میں قتل کردیا جب کہ اس نے (لاالہ الا اللہ) پڑھ تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس نے محض قتل سے بچنے کے لئے کلمہ پڑھا تھا! آپ ﷺ نے فرمایا تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا لیا تھا؟۔ اور جندب ابن عبداللہ بجلی نے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب قیامت کے دن کلمہ (لا الہ الا اللہ) اپنے پڑھنے والے یعنی (مقتول) کی طرف سے جھگڑتا ہوا تمہارے پاس آئے گا تو اس وقت تم اس کو کیا جواب دو گے۔ آنحضرت ﷺ نے (خوف دلانے کے لئے) یہ الفاظ کئی بار ارشاد فرمائے۔ (مسلم)
تشریح
تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا؟ آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس شخص کے باطن کے مطابق فرمایا کہ اگر تم اس شخص کے باطن پر مطلع ہوسکتے تھے تو تم اس کا دل چیر کر دیکھ لیتے اور یہ معلوم کرتے کہ آیا اس شخص نے محض اپنے آپ کو ہلاکت سے بچانے کے کلمہ (لا الہ الا اللہ) پڑھا تھا یا واقعۃ یہ کلمہ اس کے قلب کے صدق اخلاص کے ساتھ اس کی زبان سے نکلا تھا! لیکن ظاہر ہے کہ تم نہ اس کے دل کو چیر کر اس کے باطن کو دیکھ سکتے تھے اور نہ فوری طور پر اس کے باطن کا حال کسی اور ذریعہ سے تمہیں معلوم ہوسکتا تھا اس لئے معقول بات تو یہ تھی کہ تم اس کے ظاہر پر حکم لگاتے یعنی اس کے کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے اس کو مؤمن سمجھ لیتے اور اس کو قتل کرنے سے باز رہتے۔ ادھر حضرت اسامہ نے یہ گمان کیا کہ ایسی حالت میں جب میرا نیزہ موت بن کر اس کے سر پر پہنچ چکا ہے اب اس کا ایمان قبول کرنا فائدہ مند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس شخص کا کام تمام کردیا، یہ گویا ان کا اجتہاد تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان پر یہ تو ظاہر فرما دیا کہ تم سے اجتہادی خطاء ہوگئی ہے لیکن ان پر دیت لازم نہیں کی کیوں کہ مجتہد اپنی خطاء اجتہاد میں معذور ہوتا ہے ہاں اس بات کے لئے آپ ﷺ نے بہر حال اپنی خفگی کا بھی اظہار فرمایا کہ اس کی اصل حیثیت و حقیقت ظاہر ہونے تک تم پر توقف لازم تھا لیکن تم نے توقف نہ کر کے اپنے اجتہاد پر عمل کیا۔
معاہد کو قتل کرنے کی ممانعت
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين خريفا . رواه البخاري
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص عہد والے کو قتل کرے گا وہ جنت کی بو نہیں پائے گا اور جنت کی بو چالیس برس کی راہ سے آتی ہے۔ (بخاری)
تشریح
معاہد یعنی عہد والا اس کافر کو کہتے ہیں جس نے امام وقت (سربراہ مملکت اسلامی) سے جنگ وجدل نہ کرنے کا عہد کرلیا ہو خواہ وہ ذمی ہو یا غیر ذمی۔ اس روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جنت کی بو چالیس برس کی راہ سے آتی ہے۔ جب کہ ایک روایت میں ستر برس ایک روایت میں سو برس مؤطا میں پانچ سو برس اور فردوس میں ہزار برس کے الفاظ ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان روایتوں میں یہ فرق واختلاف دراصل اشخاص و اعمال کے مختلف ہونے اور درجات کے تفاوت کی بناء ہے چناچہ (میدان حشر میں) بعض لوگوں کو جنت کی بو ہزار برس کی راہ سے بعض لوگوں کو پانچ سو برس کی راہ سے آئے گی، اسی طرح بعض لوگ جنت کی اس بو کو ایک سو برس اور بعض لوگ ستر برس اور چالیس برس کی مسافت آتی ہوئی محسوس کریں گے بہرکیف ان تمام مذکورہ اعداد سے تحدید مراد نہیں ہے بلکہ طول مسافت مراد ہے۔ نیز جنت کی بو نہ پانے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ شخص ہمیشہ کے لئے جنت کی بو سے محروم رہے گا۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں جب مقربین اور علماء جنت کی بو پائیں گے۔ وہ شخص اس وقت جنت کی بو سے محروم رہے گا۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس ارشاد سے مراد معاہد کو قتل کرنے کی سخت مذمت بیان کرنا اور قتل کرنے والے کے خلافت سخت الفاظ میں تنبیہ وتہدید کا اظہار کرنا ہے۔
خودکشی کرنے والے کے بارے میں وعید
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا ومن تحسى سما فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا ومن قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا (2/286) 3454 - [ 9 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذي يخنق نفسه يخنقها في النار والذي يطعنها يطعنها في النار . رواه البخاري (2/286) 3455 - [ 10 ] ( متفق عليه ) وعن جندب بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح فجزع فأخذ سكينا فحز بها يده فما رقأ الدم حتى مات قال الله تعالى : بادرني عبدي بنفسه فحرمت عليه الجنة
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کرلی وہ شخص ہمیشہ دوزخ میں گرایا جائے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور کبھی اس سے نہیں نکلے گا۔ جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں پئے گا وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اس سے کبھی نہیں نکلے گا۔ اور جس شخص نے لوہے کے (کسی) ہتھیار (جیسے چھری وغیرہ) سے اپنے آپ کو مار ڈالا اس کا وہ ہتھیار دوزخ کی آگ میں اس کے ہاتھ میں ہوگا جس کو وہ اپنے پیٹ میں گھونپے گا اور دوزخ میں ہمیشہ رہے گا اس سے کبھی نہیں نکلے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
لفظ مخلدا اور ابدًا خالدًا کی تاکید ہیں۔ حاصل حدیث کا یہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص جس چیز کے ذریعہ خود کشی کرے گا آخرت میں اس کو ہمیشہ کے لئے اسی چیز کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ لیکن یہاں ہمیشہ سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خود کشی کو حلال جان کر ارتکاب کریں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے، یا پھر ہمیشہ ہمیشہ سے مراد یہ ہے کہ خود کشی کرنے والے مدت دراز تک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے گلا گھونٹ کر اپنے آپ کو مار ڈالا وہ دوزخ میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا اور جس شخص نے اپنے آپ کو نیزہ مار کر خود کشی کرلی وہ دوزخ میں (بھی) اپنے آپ کو نیزے مارے گا۔ اور حضرت جندب ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک دن فرمایا تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص تھا (جو کسی طرح) زخمی ہوگیا تھا چناچہ (جب زخم کی تکلیف شدید ہونے کی وجہ سے) اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو چھرئی اٹھائی اور اپنے (اس) ہاتھ کو کاٹ ڈالا (جس میں زخم تھا) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زخم نہ رکا اور وہ مرگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میرے بندے نے اپنی جان کے بارے میں میرے فیصلہ کا انتظار نہیں کیا (بلکہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا) لہٰذا میں نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح میں نے جنت کو حرام کردیا اس بات پر محمول ہے کہ اس نے خود کشی کو حلال جانا تھا اور چونکہ ایک حرام چیز کے بارے میں حلال کا عقیدہ رکھنا صریحا کفر ہے اس لئے اس پر دخول جنت کو حرام کردیا گیا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک وہ دوزخ میں جا کر اپنے کئے کی سزا نہ چکھ لے، اس کو اول مرحلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں جانے سے محروم کردیا گیا۔
خودکشی حرام یعنی اپنے آپ کو ہلاک کرلینا دنیا کے کسی مہذب قانون اور سماج میں جائز نہیں ہے۔ اس کا تعلق دراصل اس بات سے ہے کہ انسان جو کچھ ہے یعنی اس کا ظاہر بھی اور اس کا باطن بھی کیا وہ خود اس کا مالک ہے؟ یا اس کا ظاہر و باطن سب کچھ کسی اور کی ملکیت ہے؟ یہ بالکل بدیہی بات ہے کہ انسان بذات خود اپنے وجود کا مالک نہیں ہے بلکہ اس کا وجود اس دنیا میں صرف ایک امانت کے طور پر ہے خود اس کے لئے بھی اور دنیا والوں کے لئے بھی اور اس کا مالک حقیقی وہ ذات پاک ہے جس نے اس کو تخلیق سے نوازا ہے اور اس دنیا میں پیدا کیا ہے، پھر کیا امانت میں خیانت نہیں ہے یہ کہ انسان اپنے وجود کو نقصان پہنچائے کیا یہ جرم نہیں ہے کہ بندہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے جس کا ظاہر و باطن سب کچھ پروردگار کی ملکیت ہے؟ یقینایہ ایک بڑا جرم ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا درحقیقت غیر کی ملکیت میں تصرف کرنا ہے اور کسی بندہ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ پروردگار کی ملکیت میں تصرف کرے اسی لئے شریعت نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے اور اسے گناہ کبیرہ کہا ہے اور اس کے مرتکب کو بڑے درد ناک عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
خود کشی کے بارے میں ایک سبق آموز واقعہ
وعن جابر : أن الطفيل بن عمرو الدوسي لما هاجر النبي صلى الله عليه و سلم إلى المدينة هاجر إليه وهاجر معه رجل من قومه فمرض فجزع فأخذ مشاقص له فقطع بها براجمه فشخبت يداه حتى مات فرآه الطفيل بن عمرو في منامه وهيئته حسنة ورآه مغطيا يديه فقال له : ما صنع بكل ربك ؟ فقال : غفر لي بهجرتي إلى نبيه صلى الله عليه و سلم فقال : ما لي أراك مغطيا يديك ؟ قال : قيل لي : لن تصلح منك ما أفسدت فقصها الطفيل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم وليديه فاغفر . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو طفیل ابن عمرو دوسی بھی ہجرت کر کے آنحضرت ﷺ کے پاس آگئے ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی (اتفاق سے) وہ شخص مدینہ میں بیمار ہوگیا اور (جب مرض نے شدت اختیار کی) اس سے صبر نہ ہوسکا، چناچہ اس نے تیر کی پیکان لے کر اس نے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے، اس کی وجہ سے اس کے دونوں ہاتھوں سے اتنا خون جاری ہوا کہ وہ مرگیا (اس کے انتقال کے بعد ایک دن) طفیل بن عمرو نے اس شخص نے اس سے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ اس شخص نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وجہ سے بخش دیا ہے کہ میں نے اس کے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی پھر طفیل نے کہا کہ میں تمہیں اپنے دونوں ہاتھ چھپائے ہوئے دیکھ رہا ہوں اس شخص نے (بڑی حسرت کے ساتھ) کہا کہ (پروردگار کی طرف سے) مجھ سے کہا گیا ہے کہ جس چیز کو تم نے خود خراب کیا ہے ہم اس کو درست نہیں کریں گے جب طفیل نے یہ خواب رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! اس کو اور اس کے دونوں ہاتھوں کو بخش دے۔ (مسلم )
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے وطن سے ہجرت کر کے نبی کریم ﷺ کے پاس چلے جانے کی یہ برکت تھی کہ مہاجر کو حق تعالیٰ کی مغفرت ورحمت ہوتی ہے اور اگر مہاجر کسی گناہ میں مبتلا ہوجاتا تھا تو آنحضرت ﷺ کے استغفار کی وجہ سے اس کی بخشش ہوجاتی تھی۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے روضہ اطہر کی زیارت، آپ ﷺ کی حیات مبارک میں آپ کی جسمانی زیارت کے مانند ہے لہٰذا آپ کی حیات مبارک میں آپ کی زیارت کرنے والوں کو حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی جو برکت ہوتی تھی آپ ﷺ کے روضہ اطہر کے زیارت کرنے والے کو بھی اسی نعمت عظمی کی امید رکھنی چاہئے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ تو کفر کا باعث ہے اور نہ دوزخ کے دائمی عذاب کا موجب ہے، چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب اپنے کئے کی سزا پالینے کے بعد جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
مقتول کے ورثاء کو قصاص اور دیت دونوں میں سے کسی ایک کو لینے کا اختیار ہے
وعن أبي شريح الكعبي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثم أنتم يا خزاعة قد قتلتم هذا القتيل من هذيل وأنا والله عاقله من قتل بعده قتيلا فأهله بين خيرتين : عن أحبوا قتلوا وإن أحبوا أخذا العقل . رواه الترمذي والشافعي . وفي شرح السنة بإسناده وصرح : بأنه ليس في الصحيحين عن أبي شريح وقال :
اور حضرت ابوشریح کعبی رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (فتح مکہ کے دن جو خطبہ ارشاد فرمایا اور جس کا ابتدائی حصہ حرم مکہ کے باب میں گزر چکا ہے، اس کے آخر الفاظ یہ تھے) فرمایا اے خزاعہ! تم نے اس مقتول کو جو قبیلہ ہذیل کا ایک فرد تھا قتل کیا ہے اور میں اللہ کی قسم، اس کا خون بہا دینے کا ذمہ دار ہوں، اب اس کے بعد (اس حکم سے مطلع کیا جاتا ہے کہ) اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر دے تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ (١) چاہے وہ قاتل کو مار ڈالیں۔ (٢) چاہے اس سے خون بہا لے لیں۔ (ترمذی، شافعی) شرح السنۃ میں یہ روایت شافعی کی اسناد کے ساتھ مذکور ہے اور شرح السنۃ کے مصنف علامہ بغوی نے یہ صراحت کی ہے کہ یہ حدیث بخاری ومسلم میں ابوشریح سے منقول نہیں ہے، لیکن بغوی نے کہا ہے کہ بخاری ومسلم میں یہ روایت ابوہریرہ ؓ منقول ہے حالانکہ اس میں بھی بالمعنی منقول ہے۔
تشریح
حدیث کا واقعاتی پس منظر یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں قبیلہ ہذیل نے قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، چناچہ قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے اب آ کر اپنے مقتول کے بدلے میں قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کو قتل کردیا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں قبیلوں کے درمیان متوقع فتنہ و فساد کو روکنے کے لئے قبیلہ ہذیل کے اس مقتول کا خون بہا دے دیا جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا اور میں اللہ کی قسم اس خون بہا دینے کا ذمہ دار ہوں پھر آپ ﷺ نے اس کے بعد اس سلسلہ میں یہ شرعی قانون بیان فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کو ناحق مار دے تو مقتول کے ورثاء کا حق یہ ہے کہ چاہئے وہ قاتل کو قتل کردیں اور چاہئے قاتل سے خون بہا لے لیں چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا مسلک یہی ہے اور اس اعتبار سے یہ ارشاد گرامی ان دونوں کے مسلک کی دلیل ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء کو قاتل سے خون بہا لینے کا حق اسی صورت میں حاصل ہوگا جب کہ قاتل خود بھی اس پر راضی ہو، اگر قاتل خون بہا دینے پر راضی نہ ہو تو مقتول کے ورثاء کو صرف یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ قاتل کو قتل کردیں، کہا جاتا ہے کہ حضرت امام شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان حضرات کے نزدیک اس ارشاد گرامی کی تاویل یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ چاہے وہ قاتل کو قتل کردیں چاہے اس سے خون بہا لے لیں اگر خون بہا ان کو دیا جائے۔ حالانکہ ان سے بھی بالمعنی منقول ہے اس کے ذریعہ مصنف مشکوۃ نے گویا صاحب مصابیح امام بغوی پر اعتراض کیا ہے بخاری ومسلم میں یہ حدیث بالمعنی تو مذکور ہے لیکن اصل حالت میں یعنی یہاں کے مذکور الفاظ کے ساتھ نہ تو ابوشریح سے اور نہ ابوہریرہ ؓ منقول ہے جیسا کہ خود بغوی نے کہا ہے کہ یہ روایت بخاری ومسلم میں نہیں ہے اور پھر اس روایت کو یوں فصل اول میں کیوں نقل کیا ہے کیونکہ فصل اول میں تو وہی حدیثیں نقل کی جاتی ہیں جو بخاری ومسلم میں مذکور ہوں۔
عورت کے مرد قاتل کو قتل کیا جا سکتا ہے۔
وعن أنس : أن يهوديا رض رأس جارية بين حجرين فقيل لها : من فعل بك هذا ؟ أفلان ؟ حتى سمي اليهودي فأومأت برأسها فجيء باليهودي فاعترف فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فرض رأسه بالحجارة
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل ڈالا (یعنی ایک پتھر پر اس کا سر رکھ کر دوسرے پتھر سے اس پر ضرب ماری) چناچہ (جب لڑکی کا نزاعی بیان لیا گیا تو) اس سے پوچھا گیا کہ تمہارے ساتھ کس نے یہ معاملہ کیا ہے، کیا فلاں شخص نے؟ کیا فلاں شخص نے؟ (یعنی جن جن لوگوں پر شبہ تھا ان کا نام لیا گیا یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو لڑکی نے اپنے سر کے اشارے سے بتایا کہ ہاں اس نے ایسا کیا ہے۔ پھر اس یہودی کو حاضر کیا گیا اور اس نے اپنے جرم کا اقرار کیا، لہٰذا رسول کریم ﷺ نے اسی طرح اس یہودی کا سر کچلنے کا حکم فرمایا اور اس کا سر پتھروں سے کچلا گیا۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
بظاہر یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اس یہودی نے لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا تھا اسی طرح اس یہودی کا بھی دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا ہو، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح اگر کوئی عورت کسی مرد کو قتل کر دے تو مقتول مرد کے بدلے میں اس عورت کو قتل کیا جاسکتا ہے، اسی طرح مقتول عورت کے بدلے میں اس کے مرد قاتل کو بھی قتل کی جاسکتا ہے۔ چناچہ اکثر علماء کا یہی قول ہے، نیز یہ حدیث اس امر پر بھی دلالت ہے کہ ایسے بھاری پتھر سے کسی کو ہلاک کردینا جس کی ضرب سے عام طور پر ہلاکت واقع ہوجاتی ہو، قصاص کا بموجب ہے۔ چناچہ اکثر علماء اور تینوں ائمہ کا یہی قول ہے لیکن امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر پتھر کی ضرب سے ہلاکت واقع ہوجائے تو اس کی وجہ سے قصاص لازم نہیں ہوتا۔ وہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس یہودی سے قصاص لینے کا سوال ہے تو اس کا تعلق سیاسی اور وقتی مصالحی سے تھا۔
جو جیسا کرے اس کو ویسی ہی سزا دو
وعنه قال : كسرت الربيع وهي عمة أنس بن مالك ثنية جارية من الأنصار فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأمر بالقصاص فقال أنس بن النضر عم أنس بن مالك لا والله لا تكسر ثنيتها يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أنس كتاب الله القصاص فرضي القوم وقبلوا الأرش فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ربیع نے جو حضرت انس ابن مالک کی پھوپھی تھیں، ایک انصاری لڑکی کے دانت توڑ دئیے اس لڑکی کے رشتہ دار استغاثہ لے کر، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آنحضرت ﷺ نے بدلہ لینے کا حکم فرمایا (یعنی یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ ربیع کے بھی دانت توڑے جائیں) انس ابن نضر نے جو انس بن مالک کے چچا تھے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ایسا نہیں ہوگا، اللہ کی قسم ربیع کے دانت نہیں توڑے جائیں گے آنحضرت نے فرمایا۔ انس! اللہ کا حکم بدلہ لینے کا ہے لیکن (خدا نے ایسا کیا) کہ لڑکی کے خاندان والے (ربیع کے دانت نہ توڑے جانے پر) راضی ہوگئے اور دیت (مالی معاوضہ) قبول کرلیا چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض بندگان اللہ ایسے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر اللہ کی قسم کھا بیٹھیں تو خداوند تعالیٰ ان کی قسم پوری کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ربیع، انس اور مالک یہ تینوں بھائی تھے ان کے والد کا نام نضر تھا، مالک کے لڑکے کا نام انس تھا گویا چچا اور بھتیجے دونوں ایک نام سے موسوم تھے اس حدیث میں جن ربیع کا ذکر ہے وہ انس یعنی، حضرت انس ابن مالک کی پھوپھی تھیں اور دوسرے انس یعنی حضرت انس بن نضر کی بہن تھیں۔ حضرت انس ابن نضر کا یہ کہنا کہ یا رسول اللہ! ایسا نہیں ہوگا، رسول کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت اور آپ کے فیصلہ کو ماننے کا انکار کرنے کے طور پر نہیں تھا بلکہ اس کی بناحق تعالیٰ کے اس فضل و کرم کی توقع اور امید پر تھی کہ وہ مدعی کو راضی اور ان کے دل میں ڈال دے گا کہ وہ قصاص (یعنی بدلہ لینے) کو معاف کردیں، چناچہ حق تعالیٰ نے ان کی امید و توقع کو پورا کیا اور لڑکی کے خاندان والوں نے دیت قبول کر کے قصاص کو معاف کردیا۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ابن نضر کے بارے میں یہ مدحیہ کلمات ارشاد فرمائے کہ حضرت انس ابن نضر اللہ کے ان بندگان خاص میں سے ہیں جو اگر کسی بات پر قسم کھالیتے ہیں تو اللہ ان کو حانث نہیں کرتا بلکہ ان کی اس بات کو پورا کرتا ہے اور قسم کو سچی کرتا ہے۔ اے انس اللہ کا حکم بدلہ لینے کا ہے اس ارشاد سے آنحضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت (وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس) تا۔ (والسن بالنسن) کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ کسی ایسی بات پر قسم کھانا جائز ہے جس کے واقع ہونے کا قسم کھانے والے کو گمان ہو، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ کسی شخص کے منہ پر اس کی تعریف و توصیف کا اظہار کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے اس شخص کے کسی فتنہ و برائی میں مبتلا ہوجانے کا خوف نہ ہو اور تیسری بات یہ ثابت ہوئی کہ قصاص کو معاف کردینا مستحب ہے۔
مقتول کافر کے بدلے میں قاتل مسلمان کو قتل کیا جاسکتا ہے یہ نہیں ؟
وعن أبي جحيفة قال : سألت عليا رضي الله عنه هل عندكم شيء ليس في القرآن ؟ فقال : والذي فلق الحبة وبرأ النسمة ما عندنا إلا ما في القرآن إلا فهما يعطى رجل في كتابه وما في الصحيفة قلت : وما في الصحيفة ؟ قال : العقل وفكاك الأسير وأن لا يقتل مسلم بكافر . رواه البخاري وذكر حديث ابن مسعود : لا تقتل نفس ظلما في كتاب العلم
اور حضرت جحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے اناج کو پیدا کیا اور جان کو وجود بخشا میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو قرآن میں موجود نہ ہاں قرآن کی وہ سمجھ (مجھ کو ضرور دی گئی) جو کسی انسان کو عطا ہوسکتی ہے، نیز ہمارے پاس کچھ چیزیں ہیں جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہیں میں نے عرض کیا کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہیں؟ انہوں نے فرمایا (ناحق قتل) کا خون بہا، اس کی مقدار اور اس کے احکام اور قیدی کو چھوڑنے (کا ثواب لکھا ہے) اور یہ لکھا ہے کہ کافر (جو ذمی نہ ہو) کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہ کیا جائے۔ (بخاری)
تشریح
ہاں قرآن کی وہ سمجھ جو کسی بھی انسان کو عطا ہوسکتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ فہم عطا فرمایا ہے جس سے میں قرآن کے معنی و احکام کا استنباط کرتا ہوں، اس کے اجمال واشارات سے مطلع ہوجاتا ہوں اور اسی فہم کے ذریعہ میری رسائی ان پوشیدہ علوم اور باطنی اسرار تک ہوجاتی ہے جو علماء راسخین اور ارباب یقین پر منکشف ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس کچھ ایسی چیزیں ہیں جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس سے وہ نوشتہ مراد ہے جس میں حضرت علی نے خون بہا وغیرہ کے کچھ احکام و مسائل لکھ کر اس کو اپنی تلوار کی نیام میں رکھ رکھا تھا۔ علماء نے لکھا ہے کہ اس نوشتہ میں مذکورہ بالا تین چیزوں کے علاوہ اور بہت سی چیزوں کے احکام و مسائل لکھے ہوئے تھے، جن کو یہاں ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ اس باب میں صرف قصاص اور خون بہا کا ذکر کرنا مقصود ہے، البتہ قیدی بعض نوعیت کے اعتبار سے چونکہ قریب القتل ہوتا ہے اس مناسبت سے اس کا بھی ذکر کردیا گیا۔ کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہ کیا جائے گا بہت سے صحابہ وتابعین، تبع تابعین اور تینوں اماموں کا مسلک یہی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کافر کو قتل کر دے میں مقتول کافر کے بدلے میں قاتل مسلمان کو قتل نہ کیا جائے خواہ وہ مقتول کافر ذمی ہو یا حربی ہو لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور اکثر علماء کا مسلک یہ ہے کہ اگر یہ مقتول کافر ذمی ہو تو اس کے بدلے میں قاتل مسلمان کو قتل کیا جاسکتا ہے جو حدیث ان کے مسلک کی دلیل ہے وہ مرقات میں مذکور ہے۔ حضرت ابوجحیفہ نے حضرت علی ؓ سے سوال کیا اس کی بنیاد یہ تھی۔ کہ شیعہ جن کا وجود مختلف صورتوں میں اس زمانہ میں تھا کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اہل بیت کے مخصوص افراد اور خاص طور پر حضرت علی کو علم وحی کے کچھ ایسے اسرار ونکات بتائے ہیں جو ان کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں بتائے گئے! یا پھر حضرت ابوجحیفہ نے یہ سوال اس لئے کیا کہ حضرت علی کے زمانہ میں کوئی بھی شخص علم و تحقیق میں حضرت علی کا ہمسر نہیں تھا، ان کی اس غیر معمولی علمی خصوصیت و برتری نے سب ہی کو حیران کر رکھا تھا کہ آخر ان کے پاس اتنا علم کہاں سے آیا؟ بہرکیف حضرت علی نے قسم کھا کر بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے میرے دامن وعلم حکمت کو سب لوگوں سے زیادہ بھرا ہو یا دوسرے لوگوں کے سوا مجھے مخصوص طور پر تبلیغ و ارشاد سے نوازا ہو، بلکہ میرے پاس بھی وہی قرآن ہے۔ جو دوسروں کے پاس ہے اس سے زیادہ میرے پاس کچھ نہیں ہے، یا پھر وہ نوشتہ ہے۔ جس میں کچھ چیزوں کے احکام لکھے ہوئے ہیں اور وہ میرے پاس محفوظ ہیں۔ ہاں مجھ میں اور دوسروں میں جو علمی تفاوت ہے اس کی بنیاد فہم اور استعداد واستنباط ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے قرآن کی وہ سمجھ عطا کی ہے اس کے ذریعہ میں قرآن کے علوم ومعانی تک رسائی حاصل کرتا ہوں اور پھر اس سے احکام و مسائل نکالتا ہوں اور یہ مجھ ہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ حق تعالیٰ جس شخص کو بھی یہ سمجھ، ادارک اور فضیلت عطا فرما دے گا اس پر حکمت وعلوم کی راہیں منکشف ہوجائیں گی۔ الحاصل تمام علوم ومعنی کی بنیاد چونکہ قرآن کریم ہے۔ اسی لئے توفیق الٰہی اور تائید الٰہی سے جس شخص کو بھی قرآن کریم کا فہم حاصل ہوگیا اس پر تمام علوم اور حکمتوں کے دروازے کھل گئے یہ اور بات ہے کہ حق تعالیٰ اس نعمت سے کسی کسی ہی نوازتا ہے، چناچہ حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ قرآن میں تمام علوم ہیں لیکن (عام طور پر) لوگوں کے فہم (قرآن کی گہرائی تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں )۔ (وذکر حدیث بن مسعود لا تقتل نفس ظلما فی کتاب العلم )۔ اور حضرت ابن مسعود کی حدیث از راہ ظلم کسی کی جان نہ لی جائے کتاب العلم میں نقل کی جا چکی ہے۔
عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لزوال الدنيا أهون على الله من قتل رجل مسلم . رواه الترمذي والنسائي ووقفه بعضهم وهو الأصح (2/288) 3463 - [ 18 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه ابن ماجه عن البراء بن عازب (2/288) 3464 - [ 19 ] ( لم تتم دراسته ) وعن أبي سعيد وأبي هريرة عن رسول صلى الله عليه و سلم قال : لو أن أهل السماء والأرض اشتركوا في دم مؤمن لأكبهم الله في النار . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب
حضرت عبداللہ ابن عمرو سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری دنیا کا ختم ہوجانا ایک مرد مؤمن کے قتل ہوجانے سے زیادہ سہل ہے۔ (ترمذی، نسائی) اور بعض راویوں نے اس حدیث کو موقوف بیان کیا ہے (یعنی یہ کہا ہے کہ یہ حدیث نبوی نہیں ہے بلکہ عبداللہ ابن عمرو کا قول ہے) اور یہی زیادہ صحیح ہے، نیز ابن ماجہ نے اس روایت کو ( عبداللہ ابن عمرو کی بجائے) حضرت براء ابن عازب سے نقل کیا ہے۔
تشریح
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چیزیں زمین و آسمان وغیرہ مسلمانوں کے لئے پیدا کی ہیں تاکہ وہ پروردگار کی عبادت کریں اور چیزوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین رکھیں، لہٰذا جس شخص نے کسی مسلمان کو کہ جس کے لئے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے، قتل کیا اس نے گویا پوری دنیا کو فنا کے گھاٹ اتار دیا، چناچہ اسی نکتہ کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے ( مَنْ قَتَلَ نَفْسً ابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا) 5۔ المائدہ 32)۔ جس شخص نے کسی کو ناحق قتل کیا (یعنی بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے ملک میں فتنہ فساد پھیلانے کی سزا دی جائے، اس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا۔ اور حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر (یہ ثابت ہوجائے کہ آسمان والے اور زمین والے سب کے سب کسی ایک مرد مؤمن کے قتل میں شریک ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو دوزخ کی آگ میں الٹا ڈال دے گا امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح بعض شارحین نے لکھا ہے لفظ اکبہم فعل لازم ہے اور لفظ کبہم فعل متعدی ہے لہٰذا یہاں کسی راوی سے سہو ہوگیا ہے کہ اس نے لکبہم کی بجائے لاکبہم نقل کردیا ہے، لیکن ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ لفظ اکبہ قاموس میں لازمی اور متعدی دونوں طرح نقل کیا گیا ہے، اس اعتبار سے زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ ثقہ اور عادل راویوں کی طرف خطا اور سہو کی نسبت کرنے سے اولی اور احوط یہ ہے کہ بعض بلکہ تمام اہل لغت کی طرف خطا کی نسبت کردی جائے۔ بہرکیف چونکہ یہاں لفظ اکبہم ہے اس لئے اس موقع پر یہ تحقیق پیش کی گئی، جامع صغیر میں اس روایت کے یہ الفاظ منقول ہیں (لکبہم اللہ عزوجل فی النار)۔