اسلام کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی قسم کھانے کا مسئلہ
وعن ثابت بن الضحاك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على ملة غير الإسلام كاذبا فهو كما قال وليس على ابن آدم فيما لا يملك ومن قتل نفسه بشيء في الدنيا عذب به يوم القيامة ومن لعن مؤمنا فهو كقتله ومن قذف مؤمنا بكفر فهو كقتله ومن ادعى دعوى كاذبة ليتكثر بها لم يزده الله إلا قلة
اور حضرت ثابت ابن ضحاک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اسلام کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ایسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر اس چیز کی نذر پوری کرنا واجب نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو اور جس شخص نے ( دنیا میں) اپنے آپ کو کسی چیز ( مثلاً چھری وغیرہ) سے ہلاک کرلیا تو وہ قیامت کے دن اسی چیز کے عذاب میں مبتلاء کیا جائے گا (یعنی اگر کسی شخص نے چھری گھونپ کر خود کشی کرلی تو قیامت میں اس کے ہاتھ میں وہی چھری دی جائے گی جس کو وہ اپنے جسم میں گھونپتا رہے گا اور جب تک کہ حق تعالیٰ کی طرف سے نجات کا حکم نہ ہوگا وہ مسلسل اسی عذاب میں مبتلا رہے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان پر لعنت کی تو وہ (اصل گناہ کے اعتبار سے) ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا ہو اور اسی طرح جس شخص نے کسی مسلمان پر کفر کی تہمت لگائی تو گویا اس نے اس مسلمان کو قتل کردیا (کیو ن کہ کفر کی تہمت لگانا اسباب قتل سے ہے لہٰذا کفر کی تہمت قتل کردینے کی مانند ہے) اور جھوٹا دعوی کرے تاکہ اس کے مال و دولت میں اضافہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال و دولت میں کمی کر دے گا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے مثلاً یوں قسم کھائی کہ اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی یا نصرانی ہوں، یا دین اسلام سے یا پیغمبر اسلام سے اور یا قرآن سے بیزار ہوں۔ اور پھر اس نے اس کے برخلاف کیا یعنی قسم کو جھوٹی کردیا، بایں طور کہ اس نے وہ کام کرلیا جس کے نہ کرنے کی اس نے قسم کھائی تھی تو وہ ایسا ہی یہودی و نصرانی ہوگیا یا دین اسلام یا پیغمبر اسلام یا قرآن سے بیزار ہوگیا کیونکہ قسم دراصل اس کام کو روکنے کے واسطے ہوتی ہے جس کے لئے وہ قسم کھائی گئی ہے۔ لہٰذا قسم کا سچ ہونا تو یہ ہے کہ قسم کھانے والا وہ کام نہ کرے اور اگر وہ اس کام کو کرے گا تو اپنی قسم میں جھوٹا ہوگا تو لا محالہ ویسا ہی ہوگا جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ حدیث کے اس ظاہری مفہوم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی قسم کھانے والا محض قسم کھانے کی وجہ سے اس قسم کو توڑنے کے بعد کافر ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اس طرح کی قسم کھا کر ایک صریح حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اس قسم کو جھوٹی کر کے گویا کفر کو برضا ورغبت اختیار کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ بتانا ہو کہ اس طرح کی قسم کھانے والا واقعۃً یہودی وغیرہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی مراد بطور تہدید و تنبیہ یہ ظاہر کرنا ہو کہ وہ شخص یہودیوں وغیرہ کی مانند عذاب کا مستوجب ہوتا ہے، چناچہ اس کی نظیر آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ (من ترک الصلوۃ فقد کفر) ( یعنی جس شخص نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا) اس ارشاد کا بھی یہی مطلب ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافروں کے عذاب سے مستوجب ہوتا ہے۔ اب ہی یہ بات کہ اس طرح قسم کھانا اگرچہ حرام ہے لیکن اگر کوئی شخص اس طرح قسم کھا ہی لے تو کیا شرعی طور پر اس کو قسم کہیں گے اور کیا اس قسم کو توڑنے کا کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ تو اس بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض علماء کا قول تو یہ ہے کہ یہ قسم ہے اور اگر اس قسم کو توڑا جائے گا تو اس شخص پر کفارہ واجب ہوگا، ان کو دلیل ہدایہ وغیرہ میں منقول ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس طرح کہنے پر قسم کا اطلاق نہیں ہوگا یعنی شرعی طور پر اس کو قسم نہیں کہیں گے اور جب یہ قسم ہی نہیں ہے تو اس کو توڑنے پر کفارہ بھی واجب نہیں ہوگا، ہاں اس طرح کہنے والا سخت گناہگار ہوگا خواہ وہ اپنی بات کو پورا کرے یا توڑ ڈالے۔ درمختار میں لکھا ہے کہ ( مذکورہ بالا مسئلہ میں) زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کی قسم کھانے والا ( اس قسم کے برخلاف عمل کرنے کی صورت میں کافر نہیں ہوجاتا خواہ وہ اس طرح کا تعلق گذرے ہوئے زمانہ سے ہو یا آنے والے زمانہ سے ہو بشرطیکہ وہ اس طرح کہنے کے بارے میں قسم ہی کا اعتقاد رکھتا ہو لیکن اگر وہ اس قسم کے ہونے سے لا علم ہو اور اس اعتقاد کے ساتھ یہ الفاظ ادا کرے کہ اس طرح کہنے والا اپنی بات کو جھوٹا ہونے کی صورت میں کافر ہوجاتا ہے تو خواہ وہ اس بات کا تعلق گذرے ہوئے زمانہ سے ہو یا آنے والے زمانہ میں کسی شرط کے پورا ہونے کے ساتھ وہ دونوں ہی صورتوں میں کفر کو خود برضا ورغبت اختیار کرنے کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔ اور کسی انسان پر اس چیز کی نذر پوری کرنا واجب نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً اگر کوئی شخص یوں کہے اگر میرا فلاں عزیز صحت یاب ہوجائے تو میں فلاں غلام آزاد کر دوں گا جب کہ ہو فلاں غلام درحقیقت اس کی ملکیت میں نہ ہو، تو اس صورت میں اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے، اگر اس کے بعد وہ غلام اس کی ملکیت ہی میں کیوں نہ آجائے ہاں اگر اس نے آزادی کو ملکیت کے ساتھ مشروط کردیا یعنی یوں کہا کہ اگر میرا فلاں عزیز صحت یاب ہوگیا اور فلاں غلام میری ملکیت میں آگیا یا فلاں غلام کو میں نے خرید لیا تو میں اس کو آزاد کر دوں گا تو اس صورت میں وہ غلام ملکیت میں آنے کے بعد یا خریداری کے بعد اس نذر کے مطابق آزاد ہوجائے گا۔ تاکہ اس کے مال و دولت میں اضافہ ہو یہ اکثر کے اعتبار سے دعویٰ کی علت و سبب کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر لوگ محض اپنے مال و دولت میں اضافہ کی خاطر جھوٹے وعدے کرتے ہیں مذکورہ ثمرہ ( یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے مال میں کمی کردیا جانا) مرتب ہوگا۔ جھوٹے وعدے کا مذکورہ ثمرہ محض مال و دولت ہی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہی ثمرہ ان لوگوں کے حق میں بھی مرتب ہوتا ہے جو اپنے احوال و فضائل اور کمالات کے بارے میں محض اس مقصد سے جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ عام انسانوں کی نظروں میں ان کا جاہ و مرتبہ زیادہ سے زیادہ بڑھے جیسا کہ نام نہاد اور بناوٹی صوفیوں اور پیروں کا شیوہ ہے۔
اگر قسم کو توڑ دینے ہی میں بھلائی ہو تو اس قسم کو توڑ دینا چاہئے
وعن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني والله إن شاء الله لا أحلف على يمين فأرى غيرها خيرا منها إلا كفرت عن يميني وأتيت الذي هو خير (2/276) 3412 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن عبد الرحمن بن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عبد الرحمن بن سمرة لا تسأل الإمارة فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أوتيتها عن غير مسألة أعنت عليها وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فكفر عن يمينك وأت الذي هو خير . وفي رواية : فأت الذي هو خير وكفر عن يمينك وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليكفر عن يمينه وليفعل . رواه مسلم (2/277) 3414 - [ 9 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله لأن يلج أحدكم بيمينه في أهله آثم له عند الله نم أن يعطي كفارته التي افترض الله عليه (2/277)
اور حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں کسی چیز پر قسم کھاؤں اور پھر اس قسم کے خلاف کرنے ہی کو بہتر سمجھوں تو میں اپنی قسم توڑ دوں گا اور اس کا کفارہ ادا کر دوں گا اس طرح اس چیز کو اختیار کروں گا جو بہتر ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کام کے بارے میں قسم کھاؤں کہ وہ کام نہ کروں گا مگر پھر سمجھوں کہ اس کام کو کرنا ہی بہتر ہے تو میں قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کروں گا اور اس کام کو کرلوں گا، اس مسئلہ کی مثالیں آگے آنے والی حدیث کی تشریح میں بیان ہونگی۔ اور حضرت عبد الرحمٰن ابن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک دن مجھ سے) فرمایا کہ عبد الرحمٰن! سرداری کی خواہش نہ کرو ( یعنی اس بات کی طلب نہ کرو کہ مجھے فلاں جگہ کا حاکم و سردار بنادیا جائے) کیونکہ اگر تمہاری طلب پر تمہیں سرداری دی جائے گی تو تم اس سرداری کے سپرد کر دئے جاؤ گے اور اگر بغیر طلب کے کہیں سرداری ملے گی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی، نیز اگر تم کسی بات پر قسم کھاؤ اور پھر دیکھو کہ اس قسم کا خلاف کرنا ہی اس قسم کو پوری کرنے سے بہتر ہے، تو تم اس قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کام کرو جو بہتر ہے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اس چیز کو عمل میں لاؤ جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح سرداری کی خواہش نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ سرداری وسیاست کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی دشوار اور سخت ذمہ داری کی چیز ہے اس کے فرائض اور حقوق کی ادائیگی ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ صرف چند ہی لوگ اس کا بار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا نفس کی حرص میں مبتلا ہو کر سرداری وسیاست کی خواہش نہ کرو کیونکہ اگر تم اپنی طلب پر سرداری وسیاست پاؤ گے تو پھر تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا بایں معنی کہ اس کے فرائض کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد نہیں کی جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر چہار طرف شر و فساد برپا ہوں گے اور تم مخلوق اللہ کی نظروں میں بڑی بےآبروئی کے ساتھ اس منصب کے نااہل قرار دے دیئے جاؤ گے، ہاں اگر بلا طلب تمہیں سرداری وسیاست کے مرتبہ سے نوازا جائے گا تو اس صورت میں حق تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد کی جائے گی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے معاملات انتظام و انصرام درست ہوں گے اور مخلوق اللہ کی نظروں میں تمہاری بہت زیادہ عزت و وقعت ہوگی۔ اور وہی کام کرو گے جو بہتر ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی گناہ کی بات پر قسم کھاؤ مثلاً یوں کہو کہ اللہ کی قسم! میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ یا۔ اللہ کی قسم میں فلاں شخص کو جان سے مار ڈالوں گا۔ یا۔ اللہ کی قسم میں اپنے باپ سے کلام نہیں کروں گا۔ تو اس صورت میں اس قسم کو توڑ ڈالنا ہی واجب ہوگا اور اس قسم کے توڑنے کا کفارہ دینا ہوگا۔ اور اگر کسی ایسی بات پر قسم کھائی جائے جس کے خلاف کرنا، اس سے بہتر ہو مثلاً یوں کہا جائے کہ اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی سے ایک مہینہ تک صحبت نہیں کروں گا یا اسی طرح کی کسی اور بات پر قسم کھائی جائے تو اس صورت میں اس قسم کو توڑ دینا محض اولیٰ ہوگا۔ اس بارے میں زیادہ تفصیل ابتداء باب میں گذر چکی ہے۔ یہاں جو روایتیں نقل کی گئی ہیں ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی روایت سے تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ جب کہ دوسری روایت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کفارہ قسم توڑنے کے بعد ادا کرنے چاہئے، چناچہ اس مسئلہ پر تینوں ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کردینا جائز ہے لیکن حضرت امام شافعی کے ہاں یہ جواز اس تفصیل کے ساتھ ہے کہ اگر کفارہ کی ادائیگی روزہ کی صورت میں ہو تو قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہوگا اور اگر کفارہ کی ادائیگی غلام آزاد کرنے، یا مستحقین کو کھانا کھلانے اور یا کپڑا پہنانے کی صورت میں ہو تو پھر قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کی ادائیگی جائز ہوگی، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کی ادائیگی کسی صورت میں جائز نہیں ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جن احادیث سے تقدیم کفارہ مفہوم ہوتا ہے ان میں حرف واو محض جمع کے لئے ہے اس سے تقدیم و تاخیر کا مفہوم مراد نہیں ہے اور نہ حقیقتا وہ احادیث تقدیم و تاخیر پر دلالت کرتی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی بات پر قسم کھائے اور پھر وہ یہ سمجھے کہ ( اس کے خلاف کرنا ہی) قسم پوری کرنے سے بہتر ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کفارہ ادا کر دے اور اس کام کو کرلے ( یعنی قسم توڑ دے )۔ ( مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! تم میں سے کسی شخص کا اپنی قسم پر اصرار کرنا ( یعنی اس قسم کو پوری کرنے ہی کی ضد کرنا) جو اپنے اہل و عیال سے متعلق ہو، اللہ تعالیٰ کے نزیک اس کو زیادہ گناہگار بناتا ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے جو اس پر فرض کردیا گیا ہے۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر قسم توڑنے میں بظاہر حق تعالیٰ کے نام کی عزت و حرمت کی ہتک ہے اور قسم کھانے والا بھی اس کو اپنے خیال کے مطابق گناہ ہی سمجھتا ہے لیکن اس قسم کو پوری کرنے ہی پر اصرار کرنا جو اہل و عیال کی کسی حق تلفی کا باعث ہوتی ہے زیادہ گناہ کی بات ہے! گویا اس حدیث کا مقصد بھی یہ واضح کرنا ہی کہ قسم کے برخلاف عمل کی بھلائی ظاہر ہونے کی صورت میں قسم کو توڑ دینا اور اس کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔
کسی تنازعہ کی صورت میں قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا
3415 - [ 10 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يمينك على ما يصدقك عليه صاحبك . رواه مسلم (2/277) 3416 - [ 11 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اليمين على نية المستحلف . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری قسم اس وقت صحیح ہوتی ہے جب تمہارا ساتھی ( یعنی قسم دینے والا) تمہیں سچا سمجھے۔ ( مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قسم سچی ثابت ہونے کے سلسلے میں اس شخص کی نیت و ارادہ کا اعتبار ہوگا جس نے تمہیں قسم دی ہے اس میں قسم کھانے والے کی نہ تو نیت کا اعتبار ہوگا اور نہ اس کے توریہ و تاویل کا اعتبار کیا جائے گا لیکن اس حکم کا تعلق کسی تنازعہ کی اس صورت سے ہے جب کہ، قسم دینے والے کا کوئی حق و مطالبہ قسم کھانے والے پر ہو اور قسم کھانے والے کے توریہ و تاویل سے اس کا حق ساقط ہوتا ہو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی مقدمہ کے سلسلہ میں اگر قاضی وحاکم مدعا علیہ کو قسم دلائے تو اس میں قاضی وحاکم کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، ہاں اگر کسی کی حق تلفی کا کوئی معاملہ نہ ہو یا کوئی قسم دینے والا نہ ہو تو پھر توریہ میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بطور خاص جب کہ اس توریہ کی وجہ سے کسی کا فائدہ ہوتا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم کی مراد یہ تھی کہ یہ میری دینی بہن ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم کا اعتبار، قسم دینے والے کی نیت پر ہوتا ہے۔ ( مسلم )
لغو قسم پر مواخذہ نہیں ہو گا
عن عائشة رضي الله عنها قالت : أنزلت هذه الآية : ( لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ) في قول الرجل : لا والله وبلى والله . رواه البخاري وفي شرح السنة لفظ المصابيح وقال : رفعه بعضهم عن عائشة رضي الله عنه
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْ اَيْمَانِكُمْ ) 2۔ البقرۃ 225) یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرتا۔ اس شخص کے حق میں نازل ہوئی ہے جو لا واللہ اور بلی واللہ کہتا ہے۔ ( بخاری) شرح السنۃ میں یہ روایت بلفظ مصابیح نقل کی گئی ہے، نیز شرح السنۃ میں کہا گیا ہے کہ بعض راویوں نے یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ مرفوعاً نقل کی ہے ( یعنی ان راویوں کے مطابق یہ حدیث آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے )۔
تشریح
اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ آپس میں گفتگو کرتے وقت بات بات پر یہ کہا کرتے تھے کہ لا واللہ ( اللہ کی قسم ہم نے یہ کام نہیں کیا) یا اور بلی واللہ ( اللہ کی قسم ہم نے یہ کام کیا ہے) ان الفاظ سے ان کا مقصود قسم کھانا نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنی بات پر زور پیدا کرنے کے لئے یا بطور تکیہ کلام وہ ان الفاظ کو بیان کرتے تھے، چناچہ اس صورت میں قسم واقع نہیں ہوتی اور اس کو لغو قسم کہتے ہیں۔ حضرت امام شافعی نے اس بات پر عمل کیا ہے، ان کے نزدیک لغو قسم اس قسم کو کہتے ہیں جو بلا قصد زمانہ ماضی یا زمانہ مستقبل، زبان سے صادر ہو جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک لغو قسم اس قسم کو کہتے ہیں جو کسی ایسی بات پر کھائی جائے جس کے بارے میں قسم کھانے والے کا گمان یا تو یہ ہو کہ وہ صحیح ہے لیکن واقعتا وہ صحیح نہ ہو، چناچہ اس کی تفصیل ابتداء باب میں گذر چکی ہے۔
غیر اللہ کی قسم کھانے کی مما نعت
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحلفوا بآبائكم ولا بأمهاتكم ولا بالأنداد ولا تحلفوا بالله إلا وأنتم صادقون . رواه أبو داود والنسائي (2/278) 3419 - [ 14 ] ( لم تتم دراسته ) وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من حلف بغير الله فقد أشرك . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم نہ تو اپنے باپوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنی ماؤں کی اور نہ بتوں کی اور اللہ کی قسم بھی تم اس صورت میں کھاؤ جب کہ تم سچے ہو ( یعنی جھوٹی قسم نہ کھاؤ خواہ اس کا تعلق گذشتہ زمانہ سے ہو یا آئندہ زمانہ سے )۔ ( ابوداؤد، نسائی) ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے اللہ کے غیر کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ روایت کیا اس کو ترمذی نے۔ ( ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے غیر اللہ کی قسم اس کی تعظیم کے اعتقاد کے ساتھ کھائی اس نے شرک جلی یا شرک خفی کا ارتکاب کیا، کیونکہ اس طرح اس نے اس تعظیم میں غیر اللہ کو شریک کیا جو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے۔ عام طور پر لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے کسی عزیز یا تعلق والے کی انتہائی محبت میں اس کی قسم کھاتے ہیں جیسے یوں کہتے ہیں کہ بیٹے کی قسم، یا اس کے سر کی یا اس کی جان کی قسم تو یہ بھی گناہ سے خالی نہیں اگرچہ اس پر شرک کا حکم عائد نہ ہوتا ہو ہاں اگر قدیم عادت کی بنا پر کسی کی زبان سے بلا قصد مثلاً یوں نکل گیا کہ اپنے باپ کی قسم، یا اپنے بیٹے کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا ہے تو اس پر گناہ اور شرک کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے امانت کی قسم کھائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ( ابوداؤد و نسائی) حضرت امام اعظم ابوحنیفہ چونکہ اس کو تسلیم کرتے ہیں بایں وجہ کہ امین اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہونے کی بنا پر امانت اس کی صفات میں سے ہے اس لئے ان کے نزدیک اس میں کفارہ واجب ہوتا ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ امانت اللہ سے مراد کلمہ توحید ہے۔
اسلام سے بیزاری کی قسم کا مسئلہ
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف بالأمانة فليس منا . رواه أبو داود (2/278) 3421 - [ 16 ] ( لم تتم دراسته ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال : إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال وإن كان صادقا فلن يرجع إلى الإسلام سالما . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص یوں کہے کہ ( اگر میں نے ایسا کیا ہو یا ایسا نہ کیا ہو تو) میں اسلام سے بری ہوں، لہٰذا اگر وہ اپنی بات میں جھوٹا ہے، یعنی واقعتا اس نے وہ کام کیا ہے تو وہ اسلام سے بیزار ہوگیا۔ گویا یہ ارشاد تو اس طرح قسم کھانے کی شدید ممانعت کو ظاہر کرنے کے لئے بطور مبالغہ فرمایا گیا ہے۔ اگر وہ شخص اپنی بات میں سچا ہے یعنی واقعتا اس نے وہ کام نہیں کیا ہے تو اس صورت میں بھی اس کا اس طرح کہنا گناہ سے خالی نہیں ہے کیونکہ اس طرح کی قسم کھانے سے مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اس روایت میں مذکورہ قسم کو منعقدہ قسم پر محمول کیا ہے جیسا کہ انہوں نے حضرت ثابت کی روایت نمبر پانچ) میں مذکور قسم کو بھی منعقدہ قسم پر محمول کیا ہے چناچہ اس کی وضاحت حضرت ثابت کی روایت کی
تشریح
میں گذر چکی ہے، لیکن ملا علی قاری نے اس کو غموس قسم پر محمول کیا ہے، اس کتاب کے مؤلف کے نزدیک یہ دونوں قسمیں منعقدہ پر بھی محمول ہوسکتی ہیں اور غموس پر بھی۔
آنحضرت ﷺ بعض مواقع پر کس طرح قسم کھاتے تھے
وعن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا اجتهد في اليمين قال : لا والذي نفس أبو القاسم بيده . رواه أبو داود (2/279) 3423 - [ 18 ] ( ضعيف ) وعن أبي هريرة قال : كانت يمين رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا حلف : لا وأستغفر الله . رواه أبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب ( بعض مواقع پر) اپنی قسم میں زور پیدا کرنا چاہتے تو اس طرح قسم کھاتے تھے نہیں! قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ( یہ بات نہیں بلکہ یہ بات ہے )۔ ( ابوداؤد)
تشریح
ابوالقاسم سرکار دو عالم ﷺ کی کنیت مبارک تھی۔ آنحضرت ﷺ کی قسم کے ان الفاظ میں زور بیان اور شدت و تاکید بایں معنی ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے کمال وقدرت اور آنحضرت ﷺ کی عبودیت کامل نیز آپ ﷺ کے نفس مبارک کے مسخر ومطیع ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب قسم کھاتے تھے تو آپ ﷺ کی قسم اس طرح ہوتی تھی۔ لا واستغفر اللہ۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح ان الفاظ کو قسم کہنا بایں وجہ ہے کہ یہ الفاظ اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے قسم ہی کہ مشابہ ہیں، کیونکہ ان الفاظ کے معنی ہیں اگر یہ بات اس کے برخلاف ہو تو میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں اور ظاہر ہے کہ اس طرح کہنا اپنی بات اور اپنے مطلب کو مضبوط و مؤ کد کرنا ہے لہٰذا یہ قسم ہی کہ حکم میں ہوا۔
قسم کے ساتھ|" انشاء اللہ |" کہنے کا مسئلہ
مرفوع وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله ليه وسلم قال : من حلف على يمين فقال : إن شاء الله فلا حنث عليه . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي وذكر الترمذي جماعة وقفوه على ابن عمر
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو کسی بات پر قسم کھائے اور قسم کے ساتھ ہی انشاء اللہ بھی کہہ دے تو اس پر حنث ( کا اطلاق) نہیں ہوگا۔ ( ترمذی) ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) نیز امام ترمذی نے کچھ محدثین کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس روایت کو حضرت ابن عمر پر موقوف کیا ہے ( یعنی ان محدثین کے نزدیک یہ روایت حضرت ابن عمر کا ارشاد ہے )۔
تشریح
حنث کے معنی ہیں گناہ اور قسم توڑنا چناچہ قسم توڑنے والے کو حانث کہا جاتا ہے، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جس قسم کے الفاظ کے ساتھ لفظ انشاء اللہ کہہ دیا جائے وہ قسم منعقد نہیں ہوگی اور جب وہ قسم منعقد ہی نہیں ہوگی تو اس کو توڑنے پر کفارہ بھی واجب نہیں ہوگا، اسی طرح تمام عقد و معاملات کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر الفاظ عقد کے ساتھ لفظ انشاء اللہ متصل ہو تو وہ عقد والا معاملہ منعقد نہیں ہوگا، چناچہ اکثر علماء اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے البتہ حضرت ابن عباس کا قول یہ تھا کہ اگر لفظ انشاء اللہ متصل ہو تو بھی یہی حکم ہے۔ اس بارے میں متصل اور منفصل کی حد یہ ہے کہ قسم کے الفاظ کے بعد کسی اور بات میں مشغول ہوئے بغیر فوراً انشاء اللہ کہا گیا تو یہ متصل ہے اور اگر اس قسم کے الفاظ کے بعد کسی دوسری بات میں مشغول ہو تو پھر انشاء اللہ کہا تو منفصل ہے! بعض علماء نے متصل کی حد کچھ اور بھی بیان کی ہے جس کی تفصیل مرقات میں دیکھی جاسکتی ہے۔
غیر مناسب قسم توڑ دو اور اس کا کفارہ ادا کر و
عن أبي الأحوص عوف بن مالك عن أبيه قال : قلت : يا رسول الله أرأيت ابن عم لي آتيه فلا يعطيني ولا يصلني ثم يحتاج إلي فيأتيني فيسألني وقد حلفت أن لا أعطيه ولا أصله فأمرني أن آتي الذي هو خير وأكفر عن يميني . رواه النسائي وابن ماجه وفي رواية قال : قلت : يا رسول الله يأتيني ابن عمي فأحلف أن لا أعطيه ولا أصله قال : كفر عن يمينك
اور ابواحوص عوف ابن مالک اپنے والد ( حضرت مالک) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ میرے چچا کے بیٹے کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں کہ جب میں ( اپنی کسی ضرورت کے موقع پر) اس سے ( کچھ مال و اسباب) مانگتا ہوں تو وہ مجھ کو ( کچھ) نہیں دیتا اور میرے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا ہے۔ لیکن جب خود اس کو مجھ سے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے مانگتا ہے مگر میں نے ( اس کو اس کے عمل کی سزا دینے کے لئے کے خود تو مجھ کو کچھ دیتا نہیں، لیکن مجھ سے مانگنے کے لئے آجاتا ہے) اس بات پر قسم کھالی ہے کہ میں نہ تو اس کو کچھ دوں گا اور نہ اس سے حسن سلوک کروں گا۔ آنحضرت ﷺ نے ( یہ سن کر) مجھے حکم فرمایا کہ میں وہ کام کروں جو بہتر ہے ( یعنی اس کی ضرورت پوری کروں اور اس کے ساتھ حسن سلوک کروں) اور قسم توڑنے کا کفارہ دوں۔ ( نسائی، ابن ماجہ) اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ملک نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے چچا کا بیٹا میرے پاس ( کچھ مانگنے) آتا ہے تو میں قسم کھا لیتا ہوں کہ نہ تو میں اس کو کچھ دوں گا اور نہ اس کے ساتھ حسن سلوک کروں گا آپ ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا تم اپنی قسم ( توڑ دو اور اس) کا کفارہ دو۔
عن أبي هريرة وابن عمر رضي الله عنهم قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تنذروا فإن النذر لا يغني من القدر شيئا وإنما يستخرج به من البخيل
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر دونوں راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم نذر نہ مانو کیونکہ نذر تقدیر کی کسی چیز کو دور نہیں کرتی البتہ نذر کے ذریعہ بخیل کا ( کچھ مال ضرور) خرچ ہوتا ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کے ذریعہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں سخی و بخیل کے درمیان ایک بڑا لطیف فرق بتایا گیا ہے کہ سخی کی شان تو یہ ہوتی ہے کہ وہ بلاواسطہ نذر، ازخود اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے لیکن بخیل کو اس کی توفیق نہیں ہوتی، اگر اسے کچھ مال خرچ کرنا ہوتا ہے تو اس کے لئے نذر کو واسطہ بناتا ہے اور یہ کہتے ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اللہ کے نام پر اتنا مال خرچ کروں گا، اس طرح سخی تو ایثار کا وصف اختیار کرتا ہے اور بخیل غرض کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے نذر کے ماننے کو بالکل مکروہ قرار دیا ہے، لیکن قاضی نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام طور پر لوگوں کی عادت ہے کہ وہ نذر ( یعنی اللہ کی راہ میں اپنا کچھ مال خرچ کرنے) کو کسی فائدہ کے حصول اور کسی ضرورت و حاجت کے پوری ہونے پر معلق کردیتے ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا کیونکہ یہ بخیلوں کا کام ہے، سخی تو جب اللہ تعالیٰ کا تقرب اور اس کی خو شنودی حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اس میں عجلت کرتا ہے اور فوراً ہی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیتا ہے، لیکن اس کے برخلاف بخیل کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کا دل یہ گوارا نہیں کرتا کہ اپنے ہاتھ سے اپنا مال کسی کو دے ہاں اس کی کوئی غرض ہوتی ہے تو وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے چناچہ یا تو وہ اپنی حاجت پوری ہونے کے بعد اللہ کے نام پر اپنا کچھ مال نکال دیتا ہے یا اللہ کی راہ میں اپنا کچھ مال نکالنے کو حصول نفع یا دفع مضرت پر معلق کردیتا ہے یعنی یہ نذر مانتا ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا یا مجھے فلاں نقصان نہ پہنچا تو میں اپنا اتنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا اور ظاہر ہے کہ اس بات سے تقدیر کا فیصلہ نہیں بدل جاتا لہٰذا اس صورت میں بھی اس کو مال خرچ کرنے کی نوبت نہیں آتی، ہاں کبھی اس کی نذر، تقدیر کے فیصلہ کے موافق ہوجاتی ہے تو گویا وہ نذر اس بخیل کو اپنا وہ مال خرچ کرنے پر مجبور کردیتی ہے جس کو وہ خرچ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نذر سے منع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نذر ماننے کے بعد اس کو پورا کرنے میں سستی وکاہلی نہ کی جائے کیونکہ جب کسی نے نذر مانی تو اس نذر کو پورا کرنا اس کے ذمہ واجب ہوگیا لہٰذا اس واجب کی ادائیگی میں تاخیر مناسب نہیں ہے۔ اور بعض علماء کے نزدیک یہاں نذر کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ اس اعتقاد و خیال کے ساتھ نذر مانی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کو مقدر نہیں کیا ہے وہ نذر سے ہوجائے گا۔ لہٰذا نذر سے منع کرنا اس اعتبار سے ہے نہ کہ مطلق نذر سے منع کرنا مقصود ہے۔
جس نذر کو پورا کرنے میں گناہ ہوتا ہو اسے پورا نہ کرو
وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه . رواه البخاري (2/280) 3428 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا وفاء لنذر في معصية ولا فيما لا يملك العبد . رواه مسلم وفي رواية : لا نذر في معصية الله
اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی نذر مانے جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے ( یعنی اس نذر کو پورا کرے) اور جو شخص ایسی نذر مانے جس سے اللہ تعالیٰ کی معصیت ( نافرمانی) ہوتی ہو تو وہ اس کی معصیت نہ کرے ( یعنی ایسی نذر کو پورا نہ کرے )۔ ( بخاری) اور حضرت عمران ابن حصین سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو نذر گناہ کا باعث ہو اس کو پورا کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس چیز کی نذر پوری کرنا جائز ہے جس کا وہ بندہ مالک نہ ہو۔ ( مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نذر سے اللہ تعالیٰ کی معصیت ( نافرمانی) ہوتی ہو اس کو پورا کرنا جائز نہیں۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کرنے کی نذر مانے مثلاً یوں کہے کہ اگر میری فلاں حاجت پوری ہوگئی تو میں ناچ گانے کی محفل منعقد کروں گا یا یوں کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کرنے کے لئے قوالی کرنے کو اپنے اوپر واجب کرتا ہوں تو ایسی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں ہے اور نہ اس صورت میں نذر کو پوری نہ کرنے میں کفارہ واجب ہوگا۔ چناچہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا قول یہی ہے، جب کہ اس صورت میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک قسم کا کفارہ واجب ہوگا۔ حدیث کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کی نذر ماننا جو اپنی ملکیت میں نہ ہو اس نذر کو پورا کرنے کو جائز نہیں رکھتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے غلام یا کسی دوسرے شخص کی کسی چیز کے بارے میں یہ نذر مانے کہ میں اللہ کی راہ میں اس غلام کو آزاد کرتا ہوں یا اللہ کے واسطے اس چیز کو دینا اپنے اوپر واجب کرتا ہوں تو اس صورت میں اس نذر کے صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس غلام کو آزاد کرنا یا اس چیز کو اللہ کے واسطے دینا اس کے ذمہ لازم نہیں ہوگا۔
وعن عقبة بن عامر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كفارة النذر كفارة اليمين . رواه مسلم
اور حضرت عقبہ ابن عامر رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نذر کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔ ( مسلم)
تشریح
اگر کوئی شخص کسی چیز کا نام لئے بغیر محض نذر مانے مثلاً صرف یوں کہے کہ میں نذر مانتا ہوں تو اس پر کفارہ واجب ہوگا اور اگر وہ نذر میں بلا تعیّن عدد کے روزے کی نیت کرے تو اس پر تین روزے رکھنے واجب ہوں گے اور اگر میں صدقہ کی نیت کرے تو صدقہ فطر کی مانند دس مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہوگا۔
نذر کی جن باتوں کو پورا کرنا ممکن نہ ہو ان کو پورا نہ کرنے کی اجازت
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : بينا النبي صلى الله عليه و سلم يخطب إذا هو برجل قائم فسأله عنه فقالوا : أبو إسرائيل نذر أن يقوم ولا يقعد ولا يستظل و لا يتكلم ويصوم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : مروه فليتكلم وليستظل وليقعد وليتم صومه . رواه البخاري (2/281) 3431 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى شيخا يهادى بين ابنيه فقال : ما بال هذا ؟ قالوا : نذر أن يمشي إلى بيت الله قال : إن الله تعالى عن تعذيب هذا نفسه لغني . وأمره أن يركب (2/281) 3432 - [ 7 ] ( صحيح ) وفي رواية لمسلم عن أبي هريرة قال : اركب أيها الشيخ فإن الله غني عنك وعن نذرك
اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک آپ ﷺ کی نظر ایک شخص پر پڑی جو کھڑا تھا آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں دریافت فرمایا ( اس کا نام کیا ہے اور یہ اس وقت کیوں کھڑا ہے؟ ) تو لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ابواسرائیل ہے اور اس نے یہ نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے گا، نہ بیٹھے گا، نہ سائے میں آئے گا اور نہ ( بالکل) بولے گا اور ( ہمیشہ) روزے رکھے گا رسول کریم ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا کہ اس سے کہو، بولے، سایہ میں آئے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ ( بخاری)
تشریح
اس شخص نے جن باتوں کی نذر مانی تھی ان میں سے جس بات پر عمل کرنا اس کے لئے ممکن تھا اس کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا اور جن باتوں پر عمل کرنا کسی وجہ سے ممکن نہ تھا ان کو پورا نہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ روزے کو پورا کرے یعنی اپنی نذر کے مطابق ہمیشہ روزے رکھا کرے، کیونکہ اطاعات و عبادات کی نذر کو پورا کرنا لازم ہے اور ہمیشہ روزے رکھنا اس شخص کے لئے ایک بہتر عمل ہے جو اس پر قادر ہو، لیکن واضح رہے کہ اس صورت میں وہ پانچ روزے مستثنیٰ ہوتے ہیں جو شرعاً وعرفاً ممنوع ہیں اور اگر وہ ان پانچ روزوں کی بھی نیت کرے گا تو ان روزوں کو توڑنا اس پر واجب ہوگا اور حنفیہ کے نزدیک روزہ توڑنے کا کفارہ اس پر واجب ہوگا۔ جن باتوں پر عمل کرنا ممکن نہ تھا ان میں سے ایک تو بولنا تھا جو شرعی طور پر یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص بالکل ہی نہ بولے کیونکہ بعض مواقع پر بولنا واجب ہے،۔ جیسے نماز میں قرأت، سلام کا جواب دینا اور اس کو ترک کرنا گناہ ہے، چناچہ آپ ﷺ نے اس کو بولنے کا حکم دیا، اسی طرح بالکل نہ بیٹھنا اور سایہ میں نہ آنا انسان کے بس سے باہر ہے، اس لئے آپ ﷺ نے اس کو بیٹھنے اور سایہ میں آنے کا حکم دیا۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ( بیت اللہ کے سفر کے دوران) ایک بوڑھے کو دیکھا جو ( ضعف اور کمزوری کی وجہ سے) اپنے دو بیٹوں کے درمیان ( ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھے) راستہ چل رہا تھا آپ ﷺ نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اس شخص نے ( بیت اللہ کو) پیادہ پا جانے کی منت مان رکھی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس طرح اپنے آپ کو عذاب ( تکلیف) میں ڈالنے کی اللہ کو پرواہ نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو سواری پر چلنے کا حکم دیا۔ ( بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے اس بوڑھے سے فرمایا کہ بڑے میاں! سواری پر چلو کیونکہ اللہ تعالیٰ تم سے اور ( تمہیں تکلیف میں ڈالنے والی) تمہاری اس منت سے بےنیاز ہے۔ تشریح چونکہ وہ شخص اپنے بڑھاپے اور ضعف کی وجہ سے پیادہ پا چلنے سے عاجز و معذور تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کو سواری پر چلنے کا حکم فرمایا۔ حضرت امام شافعی نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسی منت کی صورت میں سواری پر چلنے کی وجہ سے منت ماننے والے پر ( بطور کفارہ) کوئی چیز واجب نہیں ہوتی لیکن امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس پر جانور ( یعنی بکری یا اس کے مثل) ذبح کرنا واجب ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ایک چیز کو اپنے اوپر لازم کرلینے کے بعد اس کو پورا کرنے سے قاصر رہنا ہے، حضرت امام شافعی کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ مظہر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ نظر مانے کہ میں پیادہ پا بیت اللہ جاؤں گا تو اس کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں چناچہ حضرت امام شافعی تو یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ شخص بیت اللہ کا سفر پیادہ پا طے کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو وہ پیادہ پا جائے اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو بطور کفارہ جانور ذبح کرے اور سواری پر سفر طے کرے۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص خواہ پیادہ پا چلنے پر قادر ہو یا نہ قادر ہو، بہر صورت سواری کے ذریعہ سفر کرے اور جانور ذبح کرے۔ حنفی علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ میں پیادہ پا بیت اللہ جانا اپنے اوپر لازم کرتا ہوں تو اس پر حج یا عمرہ واجب ہوتا ہے، اب وہ اپنی نیت کے مطابق ان دونوں میں سے جس کو چاہے پورا کرے۔ ( یعنی اگر اس نے یہ کہتے وقت حج کی نیت کی تھی تو حج کرے اور اگر عمرہ کی نیت کی تھی تو عمرہ کرے) اور اگر یوں کہے کہ میں پیادہ پا حرم جانا یا پیادہ پا مسجد حرام جانا اپنے اوپر لازم کرتا ہوں۔ تو حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا مگر صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک اس پر حج یا عمرہ واجب ہوجاتا ہے۔ اور اگر یوں کہے کہ میں بیت اللہ جانا اپنے اوپر لازم کرتا ہوں تو اس صورت میں متفقہ طور پر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا یعنی اس پر حج یا عمرہ واجب نہیں ہوگا۔ اگر کوئی شخص پیادہ پا حج کو جانے کی نذر مانے تو اس پر واجب ہے۔ کہ وہ گھر سے پیادہ پا روانہ ہو اور جب تک کہ طواف زیارت سے فارغ نہ ہوجائے کوئی سواری استعمال نہ کرے اور اگر پیادہ پا عمرے کو جانے کی نذر مانی ہو تو جب تک کہ سر نہ منڈالے سواری پر نہ چڑھے۔ اور اگر نذر ماننے والے نے کسی عذر کی وجہ سے یا بلا عذر پورا راستہ یا آدھے سے زیادہ سواری پر طے کیا تو جانور ذبح کرنا اس پر واجب ہوگا اور اگر آدھے راستہ سے کم سواری کا استعمال کیا تو اس کے بقدر ایک بکری کی قیمت میں سے صدقہ کرنا واجب ہوگا۔
نذر ماننے والے کے ورثاء پر نذر پوری کرنا واجب ہے یا نہیں ؟
وعن ابن عباس : أن سعد بن عبادة رضي الله عنهم استفتى النبي صلى الله عليه و سلم في نذر كان على أمه فتوفيت قبل أن تقضيه فأفتاه أن يقضيه عنها
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول کریم ﷺ سے اس نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں نے مانی تھی اور اس کو پورا کرنے سے پہلے وہ مرگئی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے سعد کو یہ فتویٰ دیا کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے اس نذر کو پورا کریں۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت سعد کی والدہ کی نذر کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مطلق نذر مانی تھی، بعض تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے روزے کی نذر مانی تھی، بعض کا قول یہ ہے کہ ان کی نذر غلام کو آزاد کرنے کی تھی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صدقہ کی نذر مانی تھی، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انہوں نے یا تو مالی نذر مانی تھی یا ان کی نذر مبہم تھی چناچہ اس کی تائید دار قطنی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا کہ ان کی طرف سے پانی پلاؤ۔ اگر کسی شخص نے کوئی نذر مانی ہو اور اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے مرگیا ہو تو اس کے بارے میں جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ اس شخص کے وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے جب کہ وہ نذر غیر مالی ہو، اسی طرح اگر نذر مالی ہو اور اس میت نے کچھ ترکہ نہ چھوڑا ہو تو اس صورت میں بھی اس کے وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہوگا، البتہ مستحب ہوگا، لیکن علماء ظواہر اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے بموجب یہ کہتے ہیں کہ وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا۔ جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ اس نذر کو خود وارث نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے کہ اس کو پورا کرنا واجب ہوگا۔ البتہ مستحب ہوگا۔ لیکن علماء ظواہر اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے بموجب یہ کہتے ہیں کہ وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا۔ جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ اس نذر کو خود وارث نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے کہ اس کو پورا کرنا اس پر واجب ہو اور جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے تو اول تو یہ حدیث وجوب پر دلالت ہی نہیں کرتی دوسرے یہ کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت سعد کی والدہ نے ترکہ چھوڑا ہو اور اس ترکہ سے ان کی نذر پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہو یا یہ کہ محض تبرعاً یہ حکم دیا گیا ہو۔
اپنا سارا مال خیرات کردینے کی ممانعت
وعن كعب بن مالك قال : قلت : يا رسول الله إن من توبتي أن أنخلع من مالي صدقة إلى الله وإلى رسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمسك بعض مالك فهو خير لك . قلت : فإني أمسك سهمي الذي بخيبر . وهذا طرف من حديث مطول
اور حضرت کعب ابن مالک کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری مکمل اور پوری طرح توبہ کا تقاضہ تو یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دست کش ہوجاؤں اور اس کو اللہ اور اس کے رسول کے لئے خیرات کر دوں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے حق میں بہتر یہ ہے کہ تم کچھ مال روک لو۔ میں نے عرض کیا ( اچھا! ) میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔ ( بخاری ومسلم) یہ روایت ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے۔
تشریح
جب رسول کریم ﷺ غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تو تین صحابہ، حضرت کعب ابن مالک، حضرت مرارہ ابن ربیع اور حضرت ہلال ابن امیہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہ گئے، جب آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے تو ان تینوں صحابہ پر بہت خفاء ہوئے اور لوگوں کو ان تینوں سے بات چیت کرنے سے منع فرما دیا، یہ اس صورت حال سے سخت پریشان ہوئے اور اپنی اس کوتاہی اور ندامت و شرمساری کے ساتھ بارگاہ حق جل مجدہ میں دعا وزاری اور توبہ و استغفار کرنے لگے، چند دنوں کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے حق میں یہ آیت (وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا) 9۔ التوبہ 118) نازل ہوئی چناچہ اسی موقع پر حضرت مالک نے جناب رسالت مآب (علیہ الصلوۃ والسلام) میں عرض کیا کہ میں اس معافی کے شکرانہ کے طور پر اور اپنی توبہ کو کامل کرنے کے لئے یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس جو کچھ مال ہے سب صدقہ و خیرات کر دوں جس پر انہیں یہ حکم دیا گیا کہ کچھ مال بچا کر رکھ لو۔ بظاہر اس حکم کا مقصد یہ تھا کہ دو تہائی مال روک کر ایک تہائی مال صدقہ کردو۔ نیز آنحضرت ﷺ نے ان کو سارا مال صدقہ کرنے سے اس لئے منع کیا کہ مبادا انہیں اپنی ضروریات زندگی کے لئے کچھ مال کی احتیاج ہو اور اس صورت میں صبر و توکل کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ جائے، اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ایسے معاملات میں ہر شخص کے مرتبہ ومقام کو مد نظر رکھ کر ہی کوئی حکم دیتے تھے، چناچہ ایک طرف تو حضرت کعب کا یہ واقعہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو اپنا سارا مال صدقہ کرنے سے منع کردیا، دوسری طرف حضرت ابوبکر صدیق کی مثال ہے کہ جب انہوں نے اپنا سارا مال و اسباب آنحضرت ﷺ کے قدموں میں لا کر ڈال دیا اور سب کچھ اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا تو آپ ﷺ نے ان کو اس سے منع نہیں کیا کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق کی شان بالکل جدا گانہ تھی، وہ صبر و توکل برضاء مولیٰ کے جس اونچے مرتبہ پر فائز تھے اس کی بنا پر اس کا ہلکا سا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ کسی بھی مرحلہ پر اپنی اور اپنی کسی بھی سخت سے سخت ضرورت کے موقع پر صبر و توکل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں گے۔ کتاب کے مؤلف نے اس حدیث کو اس باب میں شاید اس لئے نقل کیا ہے کہ حضرت کعب کا مذکورہ قول نذر کے مشابہ ہے بایں طور کہ حضرت کعب نے اپنے اوپر ایک ایسے امر کو ( یعنی اپنا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کو) واجب کیا۔ جو ایک مخصوص صورت حال ( یعنی قبولیت توبہ) کی وجہ سے ان پر مطلقاً واجب نہیں تھا۔
گناہ کی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں
عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا نذر في معصية وكفارته كفارة اليمين . رواه أبو داود والترمذي والنسائي
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا گناہ کی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں ہے اور اس نذر کا کفارہ قسم کے کفارہ جیسا ہے۔ ( بو داؤد، ترمذی، نسائی)
تشریح
گناہ کی نذر کے بارے میں تفصیلی بحث پچھلے صفحات میں گذر چکی ہے، یہ حدیث اس مسئلہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کی دلیل ہے اور حضرت امام شافعی کے مسلک کے برخلاف ہے۔
وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من نذر نذرا لم يسمه فكفارته كفارة يمين . ومن نذر نذرا لا يطيقه فكفارته كفارة يمين . ومن نذر نذرا أطاقه فليف به . رواه أبو داود وابن ماجه ووقفه بعضهم على ابن عباس
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص غیر معین نذر مانے ( یعنی صرف یہ کہے کہ میں نذر مانتا ہوں اور اس بات کا تعین نہ کرے کہ کس چیز کی نذر مان رہا ہے۔ مثلاً روزے کی نذر مان رہا ہے یا صدقہ کی؟ ) تو اس نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ( یعنی غیر معین نذر کی صورت میں اس کو وہ کفارہ ادا کرنا ہوگا جو قسم توڑنے کی صورت میں دیا جاتا ہے) اسی طرح جو شخص کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو گناہ ہے تو ( اس کو پورا کرنا جائز نہیں اور) اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے نیز جو شخص ایسی چیز کی نذر مانے جس کو پورا کرنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ( جیسے کوئی شخص پہاڑ اٹھانے پاپیادہ بیت اللہ جانے کی نذر مانے یا اسی طرح کی ناممکن العمل کسی بھی چیز کو اپنے اوپر بطور نذر واجب کرے) تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے اور جو شخص ایسی چیز کی نذر مانے جس کو پورا کرنے کی ہو طاقت رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ اس نذر کو پورا کرے ( ابوداؤد، ابن ماجہ) بعض راویوں نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس پر موقوف کیا ہے۔
صرف اس نذر کو پورا کرو جو جائز ہے
وعن ثابت بن الضحاك قال : نذر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ينحر إبلا ببوانة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد ؟ قالوا : لا قال : فهل كان فيه عيد من أعيادهم ؟ قالوا : لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوف بنذرك فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك ابن آدم . رواه أبو داود
اور حضرت ثابت ابن ضحاک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے یہ نذر مانی کہ وہ بوانہ میں ( جو مکہ کے نشیبی علاقہ میں واقع ایک جگہ کا نام تھا) اونٹ ذبح کرے گا، پھر وہ شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو اپنی ( نذر کی) خبر دی۔ رسول کریم ﷺ نے ( صحابہ سے) دریافت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں اس مقام پر کوئی بت تھا جس کی پرستش کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا وہاں کفار کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں! اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ( اس شخص کو مخاطب) کر کے فرمایا کہ تم اپنی نذر کو پورا کرو، نیز ابن آدم اس چیز کی نذر کو پورا کرنا بھی ضروری نہیں ہے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔ ( ابوداؤد)
تشریح
اس جگہ کے بارے میں آپ ﷺ کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ اگر وہاں زمانہ جاہلیت میں کوئی بت تھا جس کی پرستش کی جاتی تھی یا وہاں کفار کا کوئی میلہ لگتا تھا جہاں وہ سیر تماشے اور ناچ گانے میں مشغول ہوتے تھے تو اس صورت میں اس شخص کو اپنے نذر پوری کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ اس طرح کفار کے ساتھ مشابہت نہ ہو لیکن جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ وہاں ان دونوں میں سے کوئی چیز بھی نہیں تھی تو آپ ﷺ نے اس شخص کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔
دف بجانے کی نذر کو پورا کرنے کا حکم
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنه أن امرأة قالت : يا رسول الله إني نذرت أن أضرب على رأسك بالدف قال : أوفي بنذرك . رواه أبو داود وزاد رزين : قالت : ونذرت أن أذبح بمكان كذا وكذا مكان يذبح فيه أهل الجاهلية فقال : هل كان بذلك المكان وثن من أوثان الجاهلية يعبد ؟ قالت : لا قال : هل كان فيه عيد من أعيادهم ؟ قالت : لا قال : أوفي بنذرك
اور حضرت ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے ( حضرت عبداللہ ابن عمر) سے رویت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں نے نذر مانی ہے کہ ( جب آپ ﷺ جہاد سے واپس تشریف لائیں تو) تو میں آپ ﷺ کے سامنے دف بجاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔ ( ابوداؤد) اور رزین نے اس روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ اس عورت نے ( یہ بھی) کہا کہ اور میں نے یہ نذر مانی ہے کہ میں فلاں فلاں مقام پر جہاں زمانہ جاہلیت میں لوگ ذبح کرتے تھے، جانور ذبح کروں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا وہاں زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا؟ اس عورت نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا وہاں کفار کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا؟ عورت نے کہا کہ نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دف بجانا مباح ہے! جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ صرف اس چیز کی نذر ماننی چاہئے جو اطاعت ( یعنی بھلائی) کی قسم سے ہو وہ اس حدیث کے بارے میں یہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگرچہ دف بجانا کوئی اطاعت نہیں ہے بلکہ مباح ہے لیکن اس عورت نے چونکہ آنحضرت ﷺ کے لئے اپنے جذبات عقیدت و محبت کی بنا پر یہ نذر مانی تھی کہ آنحضرت ﷺ جب جہاد کے معرکوں سے فارغ ہو کر خیر و عافیت کے ساتھ واپس تشریف لائیں گے تو میں دف بجاؤں گی، لہٰذا اس اعتبار سے اس دف کا بجانا بھی گویا طاعت کی قسم سے ہوا۔
تہائی مال سے زیادہ صدقہ کرنے کی ممانعت
وعن أبي لبابة : أنه قال للنبي صلى الله عليه و سلم : إن من توبتي أن أهجر دار قومي التي أصبت فيها الذنب وأن أنخلع من مالي كله صدقة قال : يجزئ عنك الثلث . رواه رزين
اور حضرت ابولبابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میری تمام و کمال توبہ یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے اور یہ کہ میں اپنے تمام مال کو خیرات کرنے کے لئے اس سے دست کش ہوجاؤں آپ ﷺ نے فرمایا تہائی مال کا صدقہ تمہارے لئے کافی ہے۔ ( رزین)
تشریح
حضرت ابولبابہ کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک بہت بڑا عجیب، سبق آموز اور عدیم المثال واقعہ ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا جو یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا۔ تو بنو قریظہ نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنے صحابی ابولبابہ کو ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم اپنے بارے میں ان سے مشورہ کریں آنحضرت ﷺ نے اس پیغام کو منظور فرما لیا اور ابولبابہ کو ان کے پاس بھیج دیا، جب بنو قریظہ نے ابولبابہ کو دیکھا تو ان کے مرد و عورت اور بچے بوڑھے سب ہی ان کے آگے رونے اور گڑ گڑانے لگے ان کی اس کیفیت کو دیکھ کر ابولبابہ کا دل پسیج گیا، پھر انہوں نے ابولبابہ سے پوچھا کہ اگر ہم حکم محمدی کو مان لیں اور اپنے آپ کو ان کے حوالہ کریں تو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ اس کے جواب میں ابولبابہ نے اپنے حلق پر ہاتھ پھیر کر ظاہر کیا کہ تمہیں ذبح کر ڈالیں گے۔ ابولبابہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات کہی اور ہنوز وہاں سے قدم نہیں اٹھایا تھا کہ میں متنبہ ہوا اور اس بات پر سخت نادم ہوا کہ تو نے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں خیانت کی۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْ ا اَمٰنٰتِكُمْ ) 8۔ الانفال 27) اے ایمان والو! نہ تو اللہ اور رسول کی امانت ( یعنی ان کے پیغام و احکام) میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ پھر کیا تھا، ایسا لگا جیسے احساس ندامت و شرمندگی نے ابولبابہ کے قلب و شعور پر بجلی گرا دی ہو، وہ بےتاب ہوگئے اور دیوانہ وار مسجد نبوی ﷺ پہنچے اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا اور یہ اعلان کیا کہ جب تک میں توبہ نہ کرلوں اور پھر جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہ کرلے مجھ پر کھانا پینا حرام ہے! جب نماز کا وقت آتا تو ان کے بیٹے آتے اور ان کو کھول دیتے پھر جب وہ نماز پڑھ لیتے ان کے ہاتھ باندھ دیتے لوگ ان کے پاس آتے تو کھولنے کے لئے کہتے تو انکار کردیتے اور فرماتے کہ جب تک رسول کریم ﷺ خود آ کر نہ کھولیں گے میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا، چناچہ مسلسل سات دن تک اسی طرح اس ستون سے بندھے کھڑے رہے یہاں تک کہ غش کھا کر گرپڑے، آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی ہے۔ اب تو اپنے آپ کو کھول ڈالو، انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک رسول کریم ﷺ اپنے دست مبارک سے مجھے نہیں کھولیں گے میں خود اپنے آپ کو ہرگز نہیں کھولوں گا، چناچہ آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے انہیں کھولا اسی موقع پر حضرت ابولبابہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی توبہ کو کامل کرنے کے لئے میں یہ محسوس کرتا ہوں مجھے اپنے سارے اثاثہ سے دست کش ہونا چاہئے چناچہ اول تو میں اپنا وہ آبائی اور قومی گھر چھوڑتا ہوں جو بنی قریظہ کے قبیلہ میں واقع ہے اور دوسرے میں اپنا وہ تمام مال و اسباب اللہ کی راہ میں خیرات کردینا چاہتا ہوں۔ گھر چھوڑنے کے لئے ابولبابہ نے اس لئے کہا کہ وہ اس جگہ سے دور ہوجائیں جہاں شیطان نے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان کو گناہ میں مبتلا کیا اور اس گناہ کا ظاہری سبب بنو قریظہ کے تئیں ان کا جذبہ ہمدردی تھا اور اس جذبہ ہمدردی کا اظہار انہوں نے اس لئے کیا کہ ان کے اہل و عیال اور مال و اسباب سب کچھ بنو قریظہ کے قبضہ میں تھا۔ گھر چھوڑنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے حکم دیا اس کا حدیث میں کوئی ذکر نہیں ہے، بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ ابولبابہ کا گھر چھوڑ دینا طاعت کی قسم سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کو جائز رکھا، البتہ صدقہ کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ سارا مال خیرات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے سارے مال کا تہائی حصہ خیرات کرنا حصول مقصد کے لئے کافی ہے۔