قیامت کے دن مقتول کا استغاثہ
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته ورأسه بيده وأوداجه تشخب دما يقول : يا رب قتلني حتى يدنيه من العرش . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه
اور حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو اس طرح پکڑ کر لائے گا کہ قاتل کی پیشانی اور اس کا سر مقتول کے ہاتھ میں ہوگا اور خود اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوں گا اور اس کی زبان پر یہ الفاظ ہوں گے پروردگار! (اس نے) مجھے قتل کیا ہے (میری فریاد رسی) کر یہاں تک کہ مقتول اس قاتل کو (کھینچتا ہوا) عرش الہٰی کے قریب تک لے جائے گا۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث سے یہ ارشارہ ملتا ہے کہ مقتول قیامت کے دن اپنا پورا حق طلب کرے گا نیز یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف سے مقتول کو راضی و مطمئن کر دے گا۔
اپنی مظلو میت کے دن حضرت عثمان کی تقریر
وعن أبي أمامة بن سهل بن حنيف أن عثمان بن عفان رضي الله عنه أشرف يوم الدار فقال : أنشدكم بالله أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث : زنى بعد إحصان أو كفر بعد إسلام أو قتل نفس بغير حق فقتل به ؟ فو الله ما زنيت في جاهلية ولا إسلام ولا ارتددت منذ بايعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا قتلت النفس التي حرم الله فبم تقتلونني ؟ رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه وللدارمي لفظ الحديث
اور حضرت امامہ ابن سہل ابن حنیف کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ابن عفان، دار کے دن مکان کی چھت پر چڑھے اور (بلوائیوں کو مخاطب کر کے) فرمایا کہ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں) کہ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کسی مرد مؤمن کی خون ریزی (کسی صورت میں جائز نہیں ہوتی الاّ یہ کہ تین باتوں میں کوئی ایک بات پیش نہ آجائے (١) نکاح کرنے کے بعد زنا کرنا۔ (٢) اسلام لانے کے بعد کافر ہوجانا۔ (٣) اور کسی کو ناحق قتل کردینا کہ اس کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا پس قسم ہے اللہ کی میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں زنا کیا ہے اور نہ زمانہ اسلام میں اور جب سے رسول کریم ﷺ سے بیعت کی ہے آج تک اسلام سے نہیں پھیرا ہوں اور نہ میں نے کسی ایسے شخص کو قتل کیا جس کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، تو (خدارا مجھے بتاؤ تم مجھے کس بناء پر قتل کرنا چاہتے ہو؟ اس روایت کو ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے اور حدیث کے الفاظ دارمی کے ہیں۔
تشریح
یوم الدار یعنی دار (گھر) کا دن سے وہ دن مراد ہیں جن میں تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی کے مخالف بلوائیوں نے ان کے مکان کو محاصرہ میں لے رکھا تھا، چناچہ انہی دنوں میں حضرت عثمان غنی نے اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر بلوائیوں کے سامنے مذکورہ بالا جملے ارشاد فرمائے۔ نکاح کرنے کے بعد زنا کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرے اس کو سنگسار کرنا مشروع ہے۔ محصن اس شخص کو کہتے ہیں جو مسلمان ہو، آزاد ہو، مکلف ہو اور نکاح صحیح کے ساتھ اپنی عورت سے جماع کرچکا ہو۔ اور حدیث کے الفاظ دارمی نے نقل نہیں کئے ہیں بلکہ اس کی روایت میں صرف اصل حدیث کے الفاظ ( لایحل دم امرء مسلم) الخ ہیں،
قاتل، توفیق خیر سے محروم رہتا ہے
وعن أبي الدرداء عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يزال المؤمن معنقا صالحا ما لم يصب دما حراما فإذا أصاب دما حراما بلح . رواه أبو داود
اور حضرت ابودرداء رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان اس وقت تک نیکی کی طرف سبقت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادائیگی میں مشغول رہتا ہے جب تک کہ وہ خون حرام کا ارتکاب نہیں کرتا اور جب وہ خون حرام کا مرتکب ہوتا ہے تو تھک جاتا ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مومن جب تک خون سے اپنا ہاتھ نہیں رنگتا، اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کو برابر نیکی کرنے اور بھلائی کی طرف سبقت کرنے کی توفیق دی جاتی ہے لیکن جب وہ کسی کو ناحق قتل کردیتا ہے تو وہ اس گناہ کی شامت سے نیکی و بھلائی حاصل کرنے سے باز رہتا ہے گویا یہ قتل ناحق کا وبال ہے کہ قاتل کا قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ خیر کی توفیق سے محروم رہتا ہے اگرچہ سارے گناہوں کا یہی وبال ہوتا ہے لیکن یہ گناہ اور تمام گناہوں کی بہ نسبت زیادہ سخت ہے۔
قتل ناحق، ناقابل معافی جرم ہے
وعنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل ذنب عسى الله أن يغفره إلا من مات مشركا أو من يقتل مؤمنا متعمدا . رواه أبو داود
اور حضرت ابودرداء رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر گناہ کے بارے میں یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا مگر اس شخص کو نہیں بخشے گا، جو شرک کی حالت میں مرجائے یا جس نے کسی مسلمان کا قتل عمد کیا ہو۔ (ابو داؤد) نسائی نے اس روایت کو حضرت معاویہ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
بظاہر اس حدیث سے یہ مفہوم ہوتا کہ جس طرح شرک کا گناہ ناقابل معافی ہے اسی طرح قتل عمد کے گناہ بخشش نہیں ہوتی لیکن اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ قتل کا گناہگار مدت دراز تک شدید ترین عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد بخش دیا جائے گا ان کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے۔ ا یت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَا ءُ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلً ا بَعِيْدًا) 4۔ النساء 116) اللہ تعالیٰ شرک کے گناہ کو نہیں بخشتا، شرک کے علاوہ اور گناہوں کو جس کو وہ چاہئے بخش دیتا ہے۔ جہاں تک اس حدیث کے ظاہری مفہوم کا سوال ہے تو یہ قتل کی شدید ترین مذمت اور اس کی سخت ترین سزا کے اظہار پر محمول ہے یا اس سے یہ مراد ہے کہ جو شخص قتل مسلم کو حلال جان کر کسی مسلمان کو قتل کرے گا اس کو نہیں بخشا جائے گا علاوہ ازیں لفظ متعمدًا کے (قتل عمد کی بجائے) یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ جو شخص کسی مؤمن کے قتل کا اس لئے قصد کرے کہ وہ مؤمن ہے تو اس شخص کی بخشش نہ ہوگی۔
باپ سے اولاد کا قصاص نہ لیا جائے۔
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقام الحدود في المساجد ولا يقاد بالولد الوالد . رواه الترمذي والدارمي
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسجدوں میں حدود جاری نہ کی جائیں اور نہ اولاد کے (قتل کے) بدلے میں باپ کو قتل کیا جائے (بلکہ باپ سے دیت (یعنی مالی معاوضہ لیا جائے )۔ ترمذی، دارمی)
تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ زنا، چوری، یا اسی قسم کے دوسرے جرائم حدود (یعنی ان کی شرعی سزائیں) مساجد میں جاری نہ کی جائیں، اسی طرح قصاص بھی اسی حکم میں داخل ہے کہ کسی قاتل کو بطور قصاص مسجد میں قتل نہ کیا جائے کیونکہ مسجدیں فرض نماز پڑھنے کے لئے ہیں یا فرض نماز کے توابع کے لئے ہیں جیسے نفل نمازیں یا ذکر وشغل اور دینی علوم کا پڑھنا پڑھانا۔ حدیث کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ اگر باپ اپنی اولاد کو قتل کر دے تو اس کو مقتول اولاد کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے اس بارے میں فقہی تفصیل یہ ہے کہ اگر بیٹا اپنے ماں باپ کو قتل کر دے تو اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ بیٹے کو بطور قصاص قتل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر ماں باپ، بیٹے کو مار ڈالے تو اس میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، امام ابوحنیفہ امام شافعی اور امام احمد تو یہ فرماتے ہیں کہ باپ کو بطور قصاص قتل نہ کیا جائے، امام مالک کا قول یہ ہے کہ اگر باپ نے بیٹے کو ذبح کر کے مار ڈالا ہے تو اس صورت میں باپ کو بطور قصاص قتل کیا جاسکتا ہے اور اگر اس نے بیٹے کو تلوار سے ختم کیا ہے تو پھر اس سے قصاص نہ لیا جائے! یہ ملحوظ رہے کہ اس بارے میں ماں کا حکم بھی وہی ہے جو باپ کا ہے، نیز دادا دادی اور نانی بھی ماں اور باپ کے حکم میں ہیں۔
باپ بیٹے ایک دوسرے کے جرم میں قابل مواخذہ نہیں
وعن أبي رمثة قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم مع أبي فقال : من هذا الذي معك ؟ قال : ابني اشهد به قال : أما إنه لا يجني عليك ولا تجني عليه . رواه أبو داود والنسائي وزاد في شرح السنة في أوله قال : دخلت مع أبي على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى أبي الذي بظهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : دعني أعالج الذي بظهرك فإني طبيب . فقال : أنت رفيق والله الطبيب
اور حضرت ابورمثہ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ والد نے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے، آپ گواہ رہیے آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نہ تو یہ تمہیں اپنے گناہ کی وجہ سے مبتلا کرے گا اور نہ تم اس کو اپنے گناہ کی وجہ سے مبتلا کرو گے۔ (ابو داؤد، نسائی) اور صاحب مصابیح نے شرح السنۃ میں اس روایت کے شروع میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ ابورمثہ نے کہا کہ جب میں نے اپنے والد کے ہمراہ رسول کریم ﷺ کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی تو وہ اس کی حقیقت نہ سمجھ سکے اور کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ آپ کی پشت پر جو چیز ہے میں اس کا علاج کروں کیونکہ میں طبیب ہوں، رسول کریم نے فرمایا تم (تو بس) رفیق ہو، طبیب (تو) اللہ ہے۔
تشریح
آپ گواہ رہئے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات کے گواہ رہئے کہ یہ میرا صلبی بیٹا ہے اور اس گواہ بنانے سے مقصود یہ تھا کہ اگر مجھ سے کوئی جرم جیسے قتل وغیرہ سرزد ہوجائے تو میرے اس بیٹے سے مواخذہ کیا جائے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ باپ بیٹے ایک دوسرے کے جرم میں قابل مواخذہ ہوتے تھے لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنے اس ارشاد نہ تمہیں یہ اپنے گناہ کی وجہ سے مبتلا کرے گا الخ کے ذریعہ ابورمثہ کے والد پر یہ واضح کردیا کہ اگر تمہارے بیٹے نے کوئی جرم کیا تو اس کی وجہ سے تمہیں نہیں پکڑا جائے گا اور نہ اس گناہ کی وجہ سے آخرت میں تم سے پرستش ہوگی، اسی طرح اگر تم سے کوئی جرم و گناہ سرزد ہوجائے تو دنیا وآخرت میں تمہارے بیٹے سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا، یہ صرف زمانہ جاہلیت کا رواج ہے کہ باپ بیٹے ایک دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑے جاتے تھے، یہ ایک منصفانہ طرز عمل تھا جو اب ختم کردیا گیا ہے۔ کیونکہ میں طبیب ہوں اس جملہ کے ذریعہ ابورمثہ کے والد نے گویا طب و دانائی کا دعوی کیا، ان کی یہ بات جس سے ان کی ناسمجھی اور بےادبی مترشح تھی، آنحضرت ﷺ کو سخت ناپسند ہوئی، چناچہ آپ نے ان سے فرمایا کہ تم تو بس رفیق ہو، بایں معنی کہ تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ جب تم کسی مریض کو دیکھو تو اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر کوئی نسخہ اور دوا تجویز کردو اس کے علاج کے دوران اس کے ساتھ نرمی و مہربانی کی خو اختیار کرو اور جو چیز بظاہر اس کے لئے نقصان دہ ہوتی ہو اس سے اس کو دور رکھنے کی کوشش کرو اس کے علاوہ اور تمہارے بس میں کیا ہے؟ کیا شفا تمہارے ہاتھ میں ہے؟ کیا مرض کی حقیقت تک تمہارے علم وفن کی رسائی ہوجاتی ہے؟ ہرگز نہیں طبیب تو اللہ ہے کیونکہ مرض کی حقیقت بھی وہی جانتا ہے اور دوا کی حقیقت بھی اسی کے علم میں ہے اور شفا بھی صرف اسی ذات پاک کے ہاتھ میں ہے۔ جو بقا کے ساتھ موصوف ہے، اس ذات پاک کے علاوہ کوئی بڑی سے بڑی طاقت شفا نہیں دے سکتی۔
بیٹے سے باپ کا قصاص لیا جائے
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن سراقة بن مالك قال : حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقيد الأب من ابنه ولا يقيد الابن من أبيه . رواه الترمذي ( لم تتم دراسته ) وضعفه
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے اور وہ حضرت سراقہ ابن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، آپ بیٹے سے باپ کا قصاص لیتے تھے لیکن باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیتے تھے۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
تشریح
یعنی اگر بیٹا اپنے باپ کو مار ڈالتا ہے تو باپ کو قصاص میں بیٹے کو قتل کردیا جاتا ہے لیکن اگر باپ اپنے بیٹے کو مار ڈالتا ہے تو باپ کو بیٹے کے قصاص میں قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ اس سے خون بہا (خون کا مالی معاوضہ) لیا جاتا تھا۔
غلام کے قصاص میں آزاد کو قتل کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
وعن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قتل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي وزاد النسائي في رواية أخرى : ومن خصى عبده خصيناه
اور حضرت حسن بصری (تابعی) حضرت سمرۃ (صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اس کو قتل کردیں گے اور جو شخص (اپنے غلام کے) اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹ دیں گے۔ (ترمذی، ابودؤ اد، ابن ماجہ، دارمی) اور نسائی نے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔ کہ جو شخص اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اس کو خصی کردیں گے۔
تشریح
جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے گا ہم اس کو قتل کردیں گے دیں گے، یہ آپ ﷺ نے بطور زجر و تشدید اور تنبیہ فرمایا کہ لوگ اپنے غلاموں کو مار ڈالنے سے باز رہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک شخص نے سخت ترین ممانعت تنبیہ کے باوجود بھی جب چوتھی یا پانچویں بار شراب پی لی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو قتل کردو، لیکن جب وہ آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں غلام سے مراد وہ شخص ہے جو غلام بھی رہا ہو اور پھر آزاد کردیا گیا ہو، اگرچہ ایسے شخص کو غلام نہیں کہا جاتا لیکن اس کے سابق حال کے اعتبار سے اس کو یہاں غلام تعبیر کیا گیا۔ اور بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس آیت کریمہ (اَلْحُ رُّ بِالْحُ رِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْ ثٰى بِالْاُنْ ثٰى) 2۔ البقرۃ 178) کے ذریعہ منسوخ ہے! اس بارے میں جہاں تک فقہی مسئلہ کا تعلق ہے تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے غلام کو قتل کر دے تو اس کو غلام کے بدلے میں قتل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر اس نے اپنے غلام کو قتل کردیا تو اس غلام کے بدلے میں اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام اعظم کے سوا تینوں ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ آیت کریمہ (اَلْحُ رُّ بِالْحُ رِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْ ثٰى بِالْاُنْ ثٰى) 2۔ البقرۃ 178) کے بموجب کسی آزاد شخص کو نہ تو اپنے غلام کے بدلے میں قتل کیا جائے اور نہ کسی دوسرے کے بدلے میں۔ حضرت ابر اہیم نخعی اور حضرت سفیان ثوری کا قول یہ ہے کہ مقتول غلام کے بدلے میں قاتل آزاد کو قتل کیا جائے خواہ وہ مقتول اس کا اپنا غلام ہو یا کسی دوسرے کا۔ اور جو شخص اعضاء کاٹے گا الخ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی آزاد کسی غلام کے اعضاء جسم کاٹ ڈالے تو اس کے بدلے میں اس آزاد کے اعضاء جسم نہ کاٹے جائیں علماء کے اس اتفاق سے یہ ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہم اس کے اعضاء کاٹ دیں گے یا تو زجر و تنبیہ پر محمول ہے یا منسوخ ہے۔
قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل متعمدا دفع إلى أولياء المقتول فإن شاؤوا قتلوا وإن شاؤوا أخذوا الدية : وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون خلفة وما صالحوا عليه فهو لهم . رواه الترمذي
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قتل عمد کا ارتکاب کرے اس کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے چاہے وہ اس کو (مقتول کے بدلے میں) قتل کردیں اور چاہے اس سے دیت یعنی خون بہا لے لیں اور خون بہا (کی مقدار و تعداد) یہ ہے کہ تیس اونٹنیاں وہ ہوں جو (تین برس کی ہو کر) چوتھے برس میں لگی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ ہوں جو پانچویں برس میں لگی ہوں اور چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں (اس کے علاوہ) اور جس چیز پر صلح ہوجائے تو وہ اس کے حق دار ہوں گے (یعنی دیت جو مقتول کے ورثاء کا حق ہے اس کی اصل مقدار و تعداد تو یہ ہے ہاں اگر ورثاء اس سے کم پر راضی ہوجائیں تو قاتل پر وہی واجب ہوگا۔
تشریح
دیت یعنی خون بہا کے بارے میں حضرت امام شافعی اور امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ (دیت میں جو سو اونٹ مشروع ہیں وہ اس طرح کے ہونے چاہئیں پچیس بنت مخاض، پچیس بنت لبون پچیس حقہ اور پچیس جزعہ! ان کی دلیل حضرت سائب ابن یزید کی یہ حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (خون بہا میں) چار طرح کے اونٹ دینے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ حدیث ثابت ہوتی تو صحابہ اختلاف کرنے کی بجائے متفقہ طور سے اسی حدیث پر عمل کرتے۔
قصاص ودیت کے بارے میں سب مسلمان برابر ہیں
وعن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المسلمون تتكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم ويرد عليهم أقصاهم وهم يد على من سواهم ألا لا يقتل مسلم بكافر ولا ذو عهد في عهده . رواه أبو داود والنسائي (2/290) 3476 - [ 31 ] ( صحيح ) ورواه ابن ماجه عن ابن عباس
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قصاص اور دیت میں سب مسلمان برابر ہیں اور ایک ادنیٰ مسلمان بھی امان دے سکتا ہے اور دور والا مسلمان بھی حق رکھتا ہے اور سب مسلمان ایک ہاتھ کی طرح ہوتے ہیں (یعنی تمام مسلمان غیر مسلموں کے مقابلہ میں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہونے میں ایک ہاتھ کی مانند ہوتے ہیں کہ جس طرح کسی چیز کو پکڑنے یا سکون و حرکت کے موقع پر ایک ہاتھ کے تمام اجزاء میں کوئی مخالفت یا جدائی نہیں ہوتی اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ غیروں کے مقابلے پر متحد ومتفق رہیں اور آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں) اور خبر دار! کافر کے بدلے میں مسلمان نہ مارا جائے اور نہ عہد والے (یعنی ذمی) کو مارا جائے جب تک کہ وہ عہد وضمان میں ہے۔ ابوداؤد، نسائی) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
سب مسلمان برابر ہیں کا مطلب یہ ہے کہ قصاص اور خون بہا کے لینے دینے میں سب مسلمان برابر ہیں اور یکساں ہیں شریف اور رزیل میں، چھوٹے درجہ والا کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے، یا بڑی ذات والے کے خون بہا کی مقدار پوری دی جائے اور چھوٹی ذات والے کے خون بہا کی مقدار کم دی جائے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ اگر کوئی باحیثیت آدمی کسی کم حیثیت والے کو قتل کردیتا تھا وہ تو قصاص میں اس کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس عوض میں اس کے قبیلے کے ان چند آدمیوں کو قتل کردیا جاتا تھا جو زیردست ہوتے تھے۔ اور ایک ادنیٰ مسلمان بھی امان دے سکتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں کا کوئی ادنیٰ ترین فرد جیسے غلام یا عورت کسی کافر کو امان دے دے تو سب مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کافر کو امان دیں اور اس کے جان ومال کی حفاظت کا جو عہد اس مسلمان کی طرف سے کیا گیا ہے اس کو نہ توڑیں۔ اور دور والا مسلمان بھی حق رکھتا ہے اس جملہ کے دو مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ایسے مسلمان نے جو درالحرب سے دور رہ رہا ہے کسی کافر کو امان دے رکھی ہے تو ان مسلمانوں کے لئے جو دار الحرب کے قریب ہیں یہ جائز نہیں ہے کہ اس مسلمان کے عہد امان کو توڑ دیں۔ دوسرے معنی یہ ہے کہ جب مسلمانوں کا لشکر دار الحرب میں داخل ہوجائے اور مسلمانوں کا امیر لشکر کے ایک دستہ کو کسی دوسری سمت میں بھیج دے اور پھر وہ دستہ مال غنیمت لے کر واپس آئے تو وہ مال غنیمت صرف اسی دستہ کا حق نہیں ہوگا، بلکہ وہ سارے لشکر والوں کو تقسیم کیا جائے گا۔ جب تک کہ وہ عہد وضمان میں ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو کافر جزیہ (ٹیکس) ادا کر کے اسلامی سلطنت کا وفادار شہری بن گیا ہے اور اسلامی سلطنت نے اس کے جان ومال کی حفاظت کا عہد کرلیا ہے تو جب تک وہ ذمی ہے اور اپنے ذمی ہونے کے منافی کوئی کام نہیں کرتا اس کو مسلمان قتل نہ کرے بلکہ اس کی حفاظت کو ذمہ داری سمجھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی قانون حکومت کی نظر میں ایک ذمی کے خون کی بھی وہی قیمت ہے جو ایک مسلمان کے خون کی ہے لہٰذا اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو ناحق قتل کر دے تو اس کے قصاص میں اس کے قاتل مسلمان کو قتل کردینا چاہئے جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ اس نکتہ سے حدیث کے اس جملہ کافر کے بدلے میں مسلمان کو نہ مارا جائے کا مفہوم بھی واضع ہوگیا کہ یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہے نہ کہ ذمی! حاصل یہ ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک کسی مسلمان کو حربی کافر کے قصاص میں تو قتل نہ کیا جائے لیکن ذمی کے قصاص میں قتل کیا جائے اور حضرت امام شافعی کے نزدیک کسی مسلمان کو کسی کافر کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے خواہ وہ کافر حربی ہو یا ذمی۔
مقتول یا زخم خوردہ کے ورثاء کا حق
وعن أبي شريح الخزاعي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أصيب بدم أو خبل والخبل : الجرح فهو بالخيار بين إحدى ثلاث : فإن أراد الرابعة فخذوا على يديه : بين أن يقتص أو يعفو أو يأخذ العقل فإن أخذ من ذلك شيئا ثم عدا بعد ذلك فله النار خالدا فيها مخلدا أبدا . رواه الدارمي
اور حضرت ابوشریح خزاعی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص قتل ناحق یا زخم کی وجہ سے غم زدہ ہو (یعنی جس کے مورث کو ناحق قتل کردیا گیا ہو، یا اس کے جسم کا کوئی عضو کاٹ دیا گیا ہو) تو وہ تین چیزوں میں کسی ایک چیز کو اختیار کرنے کا حقدار ہے اور اگر وہ ( ان تینوں چیزوں سے زائد) کسی چوتھی کا طلب گار ہو تو اس کا ہاتھ پکڑ لو ( یعنی اس کو وہ چوتھی طلب کرنے سے منع کردو) اور وہ تین چیزیں یہ ہیں (١) یا تو وہ قصاص لے لے (٢) یا معاف کر دے۔ (٣) اور یا مالی معاوضہ لے لے۔ پھر اگر اس نے ان چیزوں میں کسی ایک چیز کو اختیار کیا اور اس کے بعد کسی دوسری چیز کا اضافہ کیا (یعنی مثلا پہلے تو اس نے معاف کردیا اور پھر بعد میں قصاص یا مالی معاوضہ کا مطالبہ کیا) تو اس کے لئے ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس میں اس کو ہمیشہ رکھا جائے گا کبھی اس سے نہیں نکلے گا۔ (دارمی)
تشریح
( خالدا فیہا مخلدا) اس جملہ میں تاکید کے بعد تاکید کا اسلوب سخت زجر و تنبیہ اور شدید وعید کے اظہار کے لئے ہے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے بارے میں جو وضاحت پہلی فصل میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نمبر سات کے ضمن میں کی جا چکی ہے وہی وضاحت یہاں بھی پیش نظر رہنی چاہئے۔
وعن طاووس عن ابن عباس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قتل في عمية في رمي يكون بينهم بالحجارة أو جلد بالسياط أو ضرب بعصا فهو خطأ عقله الخطأ ومن قتل عمدا فهو قود ومن حال دونه فعليه لعنة الله وغضبه لا يقبل منه صرف ولا عدل . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت طاوس ابن عباس ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کے درمیان پتھراؤ میں یا کوڑوں اور لاٹھیوں کی اندھا دھند مار میں مار جائے (یعنی یہ نہ پتہ چلے) کہ اس کا قاتل کون ہے) تو یہ قتل (گناہ نہ ہونے کے اعتبار سے) قتل خطاء کے حکم میں ہوگا (کیونکہ وہ بلا قصد قتل مارا گیا ہے) اور اس کی دیت، قتل خطا کی دیت ہے اور جو شخص جان بوجھ کر مارا گیا تو اس کا قتل، قصاص کو واجب کرے گا اور جو شخص قصاص لینے میں حائل (مزاحم) ہو اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہے نہ اس کے نفل قبول کئے جائیں گے اور نہ فرض۔ (ابو داؤد، نسائی)
تشریح
لوگوں کے درمیان پتھراؤ الخ کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً زید کسی ایسی جگہ گھر گیا جہاں دو مخالف گروہ آپس میں لڑ رہے تھے۔ اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر پتھراؤ ہو رہا تھا کہ اچانک ایک پتھر اس (زید) کے آ کر لگا۔ اور وہ مرگیا۔ گویا اگر کوئی شخص پتھر کی ضرب سے مرجائے بلکہ یوں کہے کہ یہاں پتھر کا ذکر محض اتفاقی ہے مراد یہ ہے کہ کسی بھی مثقل (بھاری) چیز کی ضرب سے مرجائے تو یہ قتل قصاص کو واجب نہیں کرتا بلکہ اس میں دیت واجب ہوتی ہے اور دیت بھی وہ جو قتل خطاء میں واجب ہوتی ہے۔ فقہا کی اصطلاح میں اس کو قتل کو شبہ عمد کہتے ہیں، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک شبہ عمد کی تعریف یہ ہے کہ وہ قتل جو کسی غیر دھار دار چیز سے واقع ہوا ہو اگرچہ وہ کوئی ایسی چیز سے نہ ہو جس سے اکثر ہلاکت واقع ہوجاتی ہو لیکن صاحبین اور حضرت امام شافعی کے نزدیک شبہ عمد کی تعریف یہ ہے کہ وہ قتل جو باارادہ قتل کسی ایسی چیز سے ہوا ہو جس سے اکثر ہلاکت واقع نہ ہوتی ہو اور جو قتل کسی ایسی چیز سے ہوا جس سے اکثر ہلاکت واقع ہوجاتی ہو قتل عمد میں داخل ہوگا، لہٰذا حدیث میں مذکورہ چیزیں یعنی پتھر اور لاٹھی، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک تو اپنے مطلق معنی پر محمول ہیں کہ خواہ وہ ہلکی ہوں یا بھاری جب کہ صاحبین اور حضرت امام شافعی کے نزدیک یہ چیزیں ہلکی ( غیر مثقل) ہونے پر محمول ہیں گویا خلاصہ یہ نکلا کہ جو قتل مثقل (بھاری) چیز کے ذریعہ ہوا اس میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک قصاص واجب نہیں ہوگا اور صاحبین اور حضرت امام شافعی کے نزدیک مذکورہ بالا تفصیل کا اعتبار کیا جائے گا۔ قتل کی قسمیں فقہا کے نزدیک قتل کی پانچ قسمیں ہیں۔ (١) قتل عمد۔ (٢) قتل شبہ عمد۔ (٣) قتل خطا۔ (٤) قتل جاری مجری خطا۔ (٥) قتل بسبب۔ (١) قتل عمد یہ ہے کہ مقتول کو کسی چیز سے مارا جائے جو اعضاء کو جدا کر دے (یا اجزاء جسم کو پھاڑ ڈالے) خواہ وہ ہتھیار کی قسم سے ہو یا پتھر، لکڑی، کھیاچ کی قسم سے کوئی تیز (دھار دار) چیز ہو اور مادہ آگ کا شعلہ ہو، صاحبین کے نزدیک قتل عمد کی تعریف یہ ہے کہ مقتول بارادہ قتل کسی ایسی چیز سے مارا جائے جس سے عام طور پر انسان کو ہلاک کیا جاسکتا ہے قتل عمد کا مرتکب سخت گناہگار ہوتا ہے اور اس قتل کی سزا قصاص (یعنی مقتول کے بدلے میں قاتل کو قتل کردینا) ہے الاّ یہ کہ مقتول کے ورثاء اس کو معاف کردیں یا دیت (مالی معاوضہ) لینے پر راضی ہوجائیں، اس میں کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ قتل شبہ عمد۔ یہ ہے کہ مقتول کو مذکورہ بالا چیزوں (ہتھیار اور دھار دار چیز وغیرہ) کے علاوہ کسی اور چیز سے قصدًا ضرب پہنچائی گئی ہو قتل کی یہ صورت بھی (باعتبار ترک عزیمت اور عدم احتیاط) گنہگار کرتی ہے، لیکن اس میں قصاص کی بجائے قاتل کے عاقلہ (برادری کے لوگوں) پر دیت مغلظہ واجب ہوتی ہے (دیت مغلظہ چار طرح کے سو اونٹوں کو کہتے ہیں، لیکن اگر ہلاکت واقع نہ ہو تو قصاص واجب ہوتا ہے یعنی اس کی وجہ سے مرنے کی بجائے مضروب کا کوئی عضو کٹ گیا ہو تو مارنے والے کا بھی وہی عضو کاٹا جائے گا۔ قتل خطاء کی دو قسمیں ہیں، ایک تو یہ کہ خطاء کا تعلق قصد سے ہو، مثلا ایک چیز کا شکار گمان کر کے تیر یا گولی کا نشان بنایا گیا مگر وہ آدمی نکلا یا کسی شخص کو حربی کافر سمجھ کر تیر یا گولی کا نشانہ بنایا مگر وہ مسلمان نکلا۔ دوسرے یہ کہ خطا کا تعلق فعل سے ہو مثلا کسی خاص نشانہ پر تیر یا گولی چلائی گئی مگر وہ تیر یا گولی بہک کر کسی آدمی کے جالگی۔ قتل جاری مجریٰ خطاء کی صورت یہ ہے مثلا ایک شخص سوتے میں کسی دوسرے شخص پر جا پڑا اور اس کو ہلاک کر ڈالا! قتل خطاء اور جاری مجریٰ خطاء میں کفارہ لازم آتا ہے اور عاقلہ پر دیت واجب ہوتی ہے، نیز ان صورتوں میں (باعتبار ترک عزیمت) گناہ بھی ہوتا ہے۔ قتل بسبب یہ ہے کہ مثلا کسی شخص نے دوسرے شخص کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر کنواں کھدایا کوئی پتھر رکھ دیا اور کوئی تیسرا شخص اس کنویں میں گر کر یا اس پتھر سے ٹھوکر کھا کر مرگیا۔ اس صورت میں عاقلہ پر دیت واجب ہوتی ہے کفارہ لازم نہیں آتا۔ یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ قتل کی پہلی چار قسمیں یعنی عمد، شبہ عمد اور جاری مجریٰ خطاء میں قاتل، مقتول کی میراث سے محروم ہوجاتا ہے (اور وہ صورت کہ مقتول، قاتل کا مورث ہو) اور پانچویں قسم یعنی قتل بسبب میں قاتل، مقتول کی میراث سے محروم نہیں ہوتا۔
قاتل سے دیت لینے کے بعد پھر اس کو قتل کردینا قابل معافی جرم ہے۔
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا أعفي من قتل بعد أخذ الدية . رواه أبو داود
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (مقتول کے ولی اور وارثوں میں سے) جو شخص (قاتل سے) دیت (خون بہا) لینے کے بعد اس کو قتل کرے گا میں اس کو معاف نہیں کروں گا (بلکہ اس کو بھی بطور قصاص قتل کرا دوں گا۔ (ابو داؤد )
زخمی کردینے والے کو معاف کرنے کا اجر
وعن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من رجل يصاب بشيء في جسده فتصدق به إلا رفعه الله به درجة وحط عنه خطيئة . رواه الترمذي وابن ماجه
اور حضرت ابودرداء کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کے بدن کے کسی حصہ کو زخمی کیا گیا اور اس نے زخمی کرنے والے کو معاف کردیا (یعنی اس سے بدلہ نہیں لیا بلکہ درگزر کیا اور تقدیر الہٰی پر صابر رہا) تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کرے گا اور اس کا ایک گناہ معاف کر دے گا۔ (ترمذی، ابن ماجہ )
ایک آدمی کو کئی آدمی مل کر قتل کریں تو سب ہی قصاص کے سزاوار ہوں گے
عن سعيد بن المسيب : أن عمر بن الخطاب قتل نفرا خمسة أو سبعة برجل واحد قتلوه قتل غيلة وقال عمر : لو تمالأ عليه أهل صنعاء لقتلتهم جميعا . رواه مالك (2/292) 3482 - [ 37 ] ( صحيح ) وروى البخاري عن ابن عمر نحوه
اور حضرت سعید ابن مسیب راوی ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب (خلیفۃ المسلمین) نے ایسے پانچ یا سات آدمیوں کی ایک جماعت کو قتل کیا جنہوں نے فریب اور دھوکے سے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔ نیز حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر صنعاء والے سب اس شخص کو قتل کردیتے یا قاتلوں کی مدد کرتے تو میں ان سب کو قتل کردیتا۔ (مالک) امام بخاری نے بھی حضرت ابن عمر سے اسی مانند نقل کیا ہے۔
تشریح
صنعاء یمن کا ایک مشہور شہر ہے جو آج کل اپنے ملک کا دار الحکومت بھی ہے، حضرت عمر نے صنعاء کا ذکر یا تو اس لئے کیا کہ جن قاتلوں کو انہوں نے قتل کیا تھا قصاص میں، وہ سب ہی صنعا کے ہی رہنے والے تھے، یا یہ کہ اہل عرب کے ہاں کسی چیز کی زیادتی اور کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے کلام میں صنعا مثل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ اگر ایک شخص کو قتل کرنے میں کئی آدمی شریک ہوں تو قصاص میں ان سب کو قتل کردینا چاہئے۔
قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو پکڑ کر اللہ سے فریاد کرے گا
وعن جندب قال : حدثني فلان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يجيء المقتول بقاتله يوم القيامة فيقول : سل هذا فيم قتلني ؟ فيقول : قتلته على ملك فلان . قال جندب : فاتقها . رواه النسائي
اور حضرت جندب کہتے ہیں کہ مجھے فلاں صحابی نے (کہ جن کا نام یا تو حضرت جندب ہی نے نہ لیا یا انہوں نے نام لیا لیکن راوی کے ذہن میں وہ نام نہیں رہا (یہ حدیث بیان کی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو (پکڑ کر) لائے گا اور (اللہ تعالیٰ سے) فریاد کرے گا کہ اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھ کو کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ قاتل کہے گا کہ میں نے اس کو فلاں شخص کی سلطنت میں قتل کیا تھا جندب نے (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) کہا کہ تم اس سے بچو۔ (نسائی )
تشریح
بظاہر مقتول کے سوال اور قاتل کے جواب میں کوئی مطابقت نظر نہیں آتی، کیونکہ مقتول نے تو قتل کا سبب پوچھا تھا نہ کہ قتل کی جگہ کو دریافت کیا تھا؟ اس بارے میں شارحین لکھتے ہیں کہ قاتل کے جملہ میں نے اس کو فلاں شخص کی سلطنت میں قتل کیا تھا کی مراد یہ ہے کہ میں فلاں حاکم یا فلاں بادشاہ یا فلاں دنیا دار کے زمانہ میں اس کی مدد سے یا اس کے ایماء پر اس قتل کا ارتکاب کیا تھا لیکن یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب کہ روایت میں لفظ ملک میم کے پیش کے ساتھ (یعنی ملک) ہو اور اگر زبر کے ساتھ (یعنی ملک) ہے تو پھر یہ معنی مراد ہوں گے کہ میں نے اس کو جھگڑے کے دوران قتل کیا تھا جو میرے اور اس کے درمیان فلاں شخص (مثلا زید کی عملداری میں ہوا تھا اس اعتبار سے قاتل کا مذکورہ جملہ بیان واقعہ کے لئے ہوگا۔ جندب کے قول تم اس سے بچو سے مراد مخاطب کو قتل اور قتل میں مدد دینے سے نیز جھگڑا فساد کرنے سے جو عام طور پر قتل کا باعث ہوتا ہے، روکنا ہے، طیبی کہتے ہیں کہ حضرت جندب نے ایک بادشاہ کو نصیحت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی تھی اور مذکورہ جملہ کا مخاطب وہی بادشاہ تھا، اس سے حضرت جندب کا مقصود یہ تھا کہ بادشاہ کسی ظالم کی مدد نہ کرے۔
قاتل کی مدد کرنے والے کے بارے میں وعید
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعان على قتل مؤمن شطر كلمة لقي الله مكتوب بين عينيه آيس من رحمة الله . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص آدھا جملہ کہہ کر بھی کسی مؤمن کے قتل میں مدد کرے کا (یعنی مثلاً اقتل پورا نہیں کہا بلکہ صرف اق کہا) تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوا ہوگا یہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مسلمان کو قتل کرنا گناہ کی شدت و سختی میں کفر کے مشابہ ہے، اس اعتبار سے یہ جملہ یہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہے گویا کفر کا کنایۃً پیرایہ اظہار ہے کیونکہ آیت کریمہ (اِنَّه لَا يَايْ َ سُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ ) 12۔ یوسف 87) ترجمہ۔ اللہ کی رحمت سے کافروں کی قوم ہی ناامید ہوتی ہے۔ کے بموجب اللہ کی رحمت سے نا امیدی صرف کافر کے لئے ہے۔ اس جملہ کا ماحصل یہ ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن مذکورہ علامت کے ذریعہ خلائق کے درمیان رسوا ہوگا۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ حدیث کا مفہوم یا تو ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید وتہدید پر محمول ہے، یا پھر اس کا محمول وہ شخص ہے جو قتل مؤمن میں معاونت کو حلال جان کر اس کا مرتکب ہو۔
قاتل کے مددگار کو تعزیرًا قید کیا جائے۔
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أمسك الرجل الرجل وقتله الآخر يقتل الذي قتل ويحبس الذي أمسك . رواه الدارقطني
اور حضرت ابن عمر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جب ایک شخص کسی آدمی کو پکڑے اور دوسرا اس کو قتل کر دے تو (مقتول کے بدلہ میں) اس شخص کو قتل کیا جائے جس نے اس کو قتل کیا ہے اور پکڑنے والے کو سزائے قید دی جائے۔ (دار قطنی)
تشریح
جس طرح کسی عورت کو ایک شخص پکڑے اور دوسرا شخص اس سے زنا کرے تو پکڑنے والے پر حد جاری نہیں کی جاتی اسی طرح مقتول کو پکڑنے والے سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ اس کو بطریق تعزیر قید کیا جائے گا اور قید کی مدت کا انحصار حاکم وقاضی کی رائے پر ہوگا کہ وہ جتنی مدت کے لئے مناسب سمجھے سزائے قید دے۔ یہ شارحین کی تصریح ہے لیکن یہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ مقتول کو پکڑنا دراصل اس کے قتل میں معاونت کرنا ہے اور دوسری احادیث کی روشنی میں قتل کے مددگار کی سزا بھی قصاص ہی ہے، اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ شمنی نے ملتقی میں مذکور یہ مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو شیر یا کسی اور درندے کے سامنے ڈال دے اور وہ شیر یا درندہ اس شخص کو مار ڈالے تو اس صورت میں ڈالنے والے پر قصاص واجب ہوگا اور نہ دیت بلکہ اس کے لئے سزا ہے کہ جب تک وہ توبہ نہ کرے اس کو قید میں ڈالا جائے اور اس طرح مارا جائے کہ اس کا جسم درد کرنے لگے۔
دیت کے معنی اور اس کی قسمیں :
دیات جمع ہے دیت کی جس کے معنی ہیں مالی معاوضہ گویا دیت اس مال کو کہتے ہیں جو جان کو ختم کرنے یا کسی شخص کے جسمانی اعضاء کو ناقص (مجروح) کرنے کے بدلہ میں دیا جاتا ہے! عنوان میں جمع کا لفظ دیات دیت کی انواع (قسموں) کے اعتبار سے لایا گیا ہے اس سے یہ اظہار مقصود ہے کہ دیت کی مختلف قسمیں ہیں مثلا ایک دیت تو وہ ہوتی ہے جو کسی کو جان سے مار ڈالنے کے بدلہ میں دی جاتی ہے اور ایک دیت وہ ہوتی ہے جو اعضاء کے نقصان کے بدلے میں دی جاتی ہے۔ پھر نوعیت و حیثیت کے اعتبار سے بھی دیت دو طرح کی ہوتی ہے ایک تو مغلظہ کہلاتی ہے اور دوسری کو مخففہ کہتے ہیں۔ دیت مغلظہ تو یہ ہے کہ چار طرح کی سو اونٹنیاں ہوں یعنی پچیس بنت مخاض (جو ایک سال کی ہو کر دوسرے سال میں لگی ہو) پچیس بنت لبون (جو دو سال میں لگی ہوں) پچیس حقہ (جو تین سال کی ہو کر چوتھے سال میں لگی ہوں) اور پچیس جذعہ (جو چار سال کی ہو کر پانچویں سال میں لگی ہوں) یہ تفصیل حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت ابویوسف کے مسلک کے مطابق ہے، حضرت امام شافعی اور حضرت امام محمد کے نزدیک دیت مغلظہ یہ ہے کہ تین طرح کی اونٹنیاں ہوں یعنی تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس مثنہ (جو پانچ سال کی ہو کر چھٹے سال میں لگی ہوں) اور سب حاملہ ہوں۔ دیت مغلظہ اس شخص پر واجب ہوتی ہے جو قتل شبہ عمد کا مرتکب پایا گیا ہو۔ دیت مخففہ یہ ہے کہ اگر سونے کی قسم سے دیت دی جائے تو اس کی مقدار ایک ہزار دینار (اشرفی) ہے اور اگر چاندی کی قسم سے دی جائے تو دس ہزار درہم دیئے جائیں گے اور اگر اونٹ کی قسم سے دے تو پانچ طرح کے سو اونٹ دینے ہوں گے یعنی بیس ابن مخاض (وہ اونٹ جو ایک سال کی ہو کر دوسرے سال میں لگے ہوں) بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون، بیس جذعہ دیت مخففہ اس شخص پر واجب ہوتی ہے جو قتل خطاء یا قتل جاری مجریٰ خطا اور یا قتل تسبیب کا س مرتکب پایا گیا ہو۔
عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : هذه وهذه سواء يعني الخنصر والإبهام . رواه البخاري
حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اور یہ یعنی (آپ ﷺ نے سب سے چھوٹی انگلی اور انگوٹھے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ) چھنگلیا اور انگوٹھا (دیت کے اعتبار سے) دونوں برابر ہیں۔ (بخاری )
تشریح
اگر کوئی شخص کسی کے دونوں ہاتھ یا دونوں پاؤں کاٹ دے تو چونکہ اس نے ایک انسان کو اس کی منفعت ایک بہت بڑے ذریعہ سے محروم کردیا اس لئے اس پر (بطور سزا) پوری دیت واجب ہوگی اس اعتبار سے ہر انگلی کانٹے پر پوری دیت (یعنی سو اونٹ) کا دسواں حصہ دینا واجب ہوگا، اسی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ انگوٹھے اور چھنگلیا کی دیت برابر ہے اگرچہ انگوٹھے میں دو گانٹھ اور چھنگلیا میں تین گانٹھ ہوتی ہیں لیکن اصل میں منفعت میں دونوں انگلیوں کے مساوی ہونے کے اعتبار سے گانٹھ کی کمی زیادتی کا اعتبار نہیں ہوگا جس طرح کہ دائیں اور بائیں میں فرق نہیں ہوتا اور جب ہر انگلی میں پوری دیت کا دسواں حصہ واجب ہوگا تو انگلی کی ہر گانٹھ کی دیت میں اسی حساب کا اعتبار ہوگا کہ انگلی کی دیت میں دسویں حصہ کا تہائی دینا ہوگا اور انگوٹھے کی ہر ایک گانٹھ کی دیت میں دسویں حصہ کا آدھا دینا ہوگا کیونکہ انگوٹھے میں دو گانٹھ ہوتی ہیں اور انگلیوں میں تین تین گانٹھیں ہوتی ہیں۔