Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 158 of 317

3141Mishkaat-al-Masabih

اپنی لونڈی کا نکاح کردینے کے بعد اسے اپنے لئے حرام سمجھو

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا زوج أحدكم عبده أمته فلا ينظرن إلى عورتها . وفي رواية : فلا ينظرن إلى ما دون السرة وفوق الركبة . رواه أبو داود

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دے تو پھر اس لونڈی کی شرمگاہ کو نہ دیکھو کیونکہ نکاح کے بعد وہ اپنے آقا کے لئے حرام ہوجاتی ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تو وہ اس لونڈی کے جسم کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے سے زانو کے اوپر تک ہے ( ابوداؤد) تشریح جب اپنے غلام کے ساتھ نکاح کردینے کی صورت میں یہ حکم ہے تو پھر کسی دوسرے کے غلام کے ساتھ اپنی لونڈی کا نکاح کردینے کی صورت میں یہ حکم بطریق اولی ہوگا کہ اس لونڈی کو اپنے لئے بالکل حرام سمجھا جائے۔ لہذا اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جب اس لونڈی کو بیاہ دیا جائے تو پھر اس کے جسم کی اس حد کو دیکھنا حرام ہوگا جو ناف اور زانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اس بارے میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ بیاہ ہوجانے کے بعد لونڈی اپنے آقا کے حق میں کسی غیر کی لونڈی کی مانند ہوجاتی ہے اور غیر کی لونڈی کے جسم کے مستور حصہ کی تفصیل اور اس کا حکم پیچھے حضرت ابوسعد کی روایت کی تشریح میں گزر چکا ہے لیکن حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ بیاہ ہوجانے کے بعد لونڈی کا سر عین اس کے جسم کا مستور حصہ) مرد کے ستر کی مانند ہے دونوں کے دلائل فقہ کی بڑی کتابوں میں مذکور ہیں۔

3142Mishkaat-al-Masabih

ران، جسم کا مستور حصہ ہے

وعن جرهد : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أما علمت أن الفخذ عورة . رواه الترمذي وأبو داود (2/205) 3113 - [ 16 ] ( ضعيف ) وعن علي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له : يا علي لا تبرز فخذك ولا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت . رواه أبو داود وابن ماجه (2/205) 3114 - [ 17 ] ( ضعيف ) وعن محمد بن جحش قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على معمر وفخذه مكشوفتان قال : يا معمر غط فخذيك فإن الفخذين عورة . رواه في شرح السنة

اور حضرت جرہد کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ران ستر ہے ( یعنی ران جسم کا وہ حصہ ہے جسے چھپا ہوا ہونا چاہئے ( ترمذی ابوداؤد) تشریح کتاب اسد الغابہ۔ میں یہ لکھا ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ مسجد میں حضرت جرہد کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ ان کی ران کھلی ہوئی ہے چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی ران ڈھانک لو کیونکہ ران ستر ہے۔ لہذا یہ ارشاد گرامی ان علماء کے مسلک کے خلاف دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ران ستر نہیں ہے، چناچہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کے متعلق ایک روایت یہ ہے کہ ان کے نزدیک ران ستر میں داخل نہیں ہے۔ اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ علی اپنی ران کو لوگوں کے سامنے مت کھو لو اور نہ زندہ شخص کی ران دیکھو اور نہ مردے کی ران دیکھو ( ابوداؤد ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ستر کے حکم میں زندہ اور مردہ دونوں برابر ہیں یعنی جس طرح زندہ شخص کے جسم کے ان حصوں کو دیکھنا ممنوع ہے جن کا چھپانا جانا شرعی طور پر ضروری ہے اسی طرح مردہ کے جسم کے ان حصوں کو دیکھنا بھی ممنوع ہے۔ اور حضرت محمد بن جحش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ حضرت معمر کے پاس سے اس حال میں گزرے کہ ان کی دونوں رانیں کھلی ہوئی تھیں چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ معمر اپنی رانوں کو چھپالو کیونکہ ران ستر ہے ( شرح السنۃ)

3143Mishkaat-al-Masabih

بغیر ضرورت تنہائی میں بھی ستر کھولنا اچھا نہیں ہے

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط وحين يفضي الرجل إلى أهله فاستحيوهم وأكرموهم . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم برہنہ ہونے سے اجتناب کرو اگرچہ تنہائی کیوں نہ ہو) کیونکہ پاخانہ اور اپنی بیوی سے مجامعت کے اوقات کے علاوہ تمہارے ساتھ ہر وقت وہ فرشتے ہوتے ہیں جو تمہارے اعمال لکھنے پر مامور ہیں لہذا تم ان فرشتوں سے حیاء کرو اور ان کی تعظیم کرو ( ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ تم ہر وقت اپنے ستر کو چھپائے رکھو اچھے کام کرتے رہو اور بری باتوں اور فحش اعمال سے اجتناب کرتے رہو تاکہ ان فرشتوں کی شان میں حیاء سوزی نہ ہو و اور ان کی تعظیم و تکریم میں کوئی فرق نہ آئے ابن ملک کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی ضررت مثلا مجامعت یا رفع حاجت وغیرہ کے علاوہ ستر کو کھولنا جائز نہیں ہے کیونکہ بڑی بےشرمی اور بےغیرتی کی بات ہے۔

3144Mishkaat-al-Masabih

عورت، مرد کو دیکھ سکتی ہے یا نہیں؟

وعن أم سلمة : أنها كانت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وميمونة إذ أقبل ابن مكتوم فدخل عليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احتجبا منه فقلت يا رسول الله أليس هو أعمى لا يبصرنا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفعمياوان أنتما ؟ ألستما تبصرانه ؟ رواه أحمد والترمذي وأبو داود

اور حضرت ام المؤمنین ام سلمہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رسول کریم ﷺ کے پاس موجود تھیں کہ اچانک ابن ام مکتوم جو ایک نابینا صحابی تھے آگئے، آنحضرت ﷺ نے ابن ام مکتوم کو دیکھ کر ان دونوں ازواج مطہرات سے فرمایا کہ ان سے چھپ جاؤ ام سلمہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ حکم سن کر میں نے عرض کیا کہ کیا وہ نابینا نہیں ہے؟ وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو یعنی اگر وہ اندھے ہیں تو تم تو اندھی نہیں ہو) احمد، ترمذی، ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مرد کا اجنبی یعنی غیرمحرم عورت کو دیکھنا حرام ہے اسی طرح عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنا بھی حرام ہے لیکن علماء یہ لکھتے ہیں کہ یہ تو یہ ارشاد گرامی ورع اور تقوی پر محمول ہے یا یہ کہ اس سے آنحضرت ﷺ کی مراد یہ تھی کہ عورت مرد کو بطور اختلاط نہ دیکھے یعنی ایسا ہونا چاہئے کہ دو اجنبی مرد و عورت ایک جگہ باہم ہوں اور دونوں ایک دوسرے سے بات چیت کریں اور عورت مرد کو شوق ودل چسپی کے ساتھ غور سے دیکھے، چناچہ اس بارے میں صحیح مسئلہ یہی ہے کہ عورت مرد کو دیکھ سکتی ہے۔ لیکن ناف سے زانوں تک کے حصہ پر نظر ڈالنا جائز نہیں ہے اس مسئلہ کی دلیل میں حضرت عائشہ کا یہ قول ہے کہ جب حبشی نیزہ بازی کر رہے تھے تو میں ان کو دیکھ رہی تھی حضرت عائشہ کی حبشیوں کو دیکھنا ٩ ھ کی بات ہے جب کہ حضرت عائشہ کی عمر ١٦ سال کی تھی اور پردہ کا حکم نافذ ہوچکا تھا لہذا اس سے معلوم ہوا کہ عورت کا مرد کو دیکھنا جائز ہے علاوہ اس کے جسم کے اس مذکورہ حصہ کے جو ستر میں داخل ہے لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ اجازت اس صورت میں ہے جب کہ جنسی خواہش سے مامون ہو اگر جنسی خواہش سے مامون نہ ہو تو پھر مرد کو بالکل نہ دیکھے۔

3145Mishkaat-al-Masabih

خلوت میں بھی اپنا ستر چھپائے رکھو

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك فقلت : يا رسول الله أفرأيت إن كان الرجل خاليا ؟ قال : فالله أحق أن يستحيى منه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت بہز بن حکیم اپنے والد حضرت حکیم سے اور وہ بہز کے دادا (حضرت معاویہ ابن حیدہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنا ستر چھپائے رکھو علاوہ اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے (کہ ان کے سامنے اپنا ستر چھپانا ضروری نہیں ہے) حضرت معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے بتائیے کہ آدمی جب خلوت تنہائی میں ہو تو کیا وہاں بھی اپنا ستر چھپائے رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لائق تر ہے کہ اس سے شرم کی جائے (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح آپ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ خلوت میں اگرچہ کوئی موجود نہیں ہوتا لیکن اس وقت بھی اپنا ستر کھولنا مناسب نہیں ہے کیونکہ حق تعالیٰ تو بہرصورت دیکھتا ہے جو انسانوں سے زیادہ اس بات کا لائق ہے کہ اس سے شرم و حیاء کی جائے لہذا اس سے معلوم ہوا کہ خلوت میں بھی ستر کو چھپائے رکھنا واجب ہے ہاں کسی ضرورت کی بناء پر کھولنا جائز ہے۔ حدیث میں ستر کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں بیوی اور لونڈی کا جو استثناء کیا گیا ہے کہ اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے سامنے اپنا ستر چھپانا ضروری نہیں ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ ملک اور نکاح جانبین یعنی مرد و عورت کے لئے ایک دوسرے کے ستر کی طرف دیکھنے کو مباح کردیتے ہیں۔

3146Mishkaat-al-Masabih

اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہو

وعن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان . رواه الترمذي (2/206) 3119 - [ 22 ] ( لم تتم دراسته ) وعن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تلجوا على المغيبات فإن الشيطان يجري من أحدكم مجرى الدم قلنا : ومنك يا رسول الله ؟ قال : ومني ولكن الله أعانني عليه فأسلم . رواه الترمذي

اور حضرت عمر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب بھی کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں یک جا ہوتا ہے تو وہاں ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے ( ترمذی) تشریح جب دو اجنبی مرد و عورت کہیں خلوت میں جمع ہوتے ہیں تو وہاں شیطان فورًا پہنچ جاتا ہے جو ان دونوں کے جنسی جذبات کو برانگیختہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ان پر جنسی ہیجان کا غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ بدرکای میں مبتلا ہوجاتے ہیں لہذا حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تم کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں یکجا ہونے کا کوئی موقع ہی نہ آنے دو کہ شیطان تمہارے درمیان آجائے اور تمہیں برائی کے راستہ پر لگا دے۔ اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ان عورتوں کے پاس تنہائی میں نہ جاؤ جن کے خاوند موجود نہ ہوں کیونکہ تہارے جسموں میں خون دوڑنے کی جگہ شیطان دوڑتا رہتا ہے یعنی شطیان کا بہکاوا اور اس کا تصرف انسان کے تمام رگ و پوست میں سرایت کرتا ہے ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا شیطان آپ ﷺ کے جسم میں بھی دوڑتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میرے جسم میں بھی دوڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے شیطان کے مقابلہ پر میری اعانت فرمائی ہے چناچہ میں اس سے محفوظ رہتا ہوں (ترمذی) تشریح یوں تو کسی غیرمحرم عورت کے پاس تنہائی میں جانا اس کے ساتھ اختلاط رکھنا ممنوع ہے لیکن اس حدیث میں ان عورتوں کا کہ جن کے خاوند گھر پر موجود نہ ہوں مثلًا باہر سفر میں گئے ہوں خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور پر شادی کے بعد چونکہ عورتوں کے جنسی جذبات بیدار ہوجاتے ہیں اور ان پر نفسانی خواہش کا غلبہ رہتا ہے اس لئے ان کے خاوند کی غیر موجودگی میں ان کے پاس تنہائی میں غیرمحرم مرد کا جانا برائی میں مبتلا ہوجانے کے بہت زیادہ احتمال رکھتا ہے۔ لفظ مجری الدم کا ترجمہ حضرت شیخ عبد الحق دہلوی نے خون دوڑنے کی جگہ یعنی رگ کیا ہے جیسا کہ یہاں نقل کیا گیا ہے لیکن ملا علی قاری نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ تمہارے اندر شیطان اس طرح دوڑتا ہے جس طرح تمہاری رگوں میں خون دوڑتا ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا،، یعنی جس طرح تمہاری رگوں میں خون دوڑتا رہتا ہے اور تم اسے دیکھ نہیں پاتے ایسے ہی تم پر شیطان اس طرح مسلط اور چھپا ہوا ہے کہ باوجودیکہ وہ تم پر اپنا تصرف کرتا رہتا ہے لیکن تم اسے دیکھ نہیں پاتے مآل کار اور نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ لفظ اسلم مضارع متکلم کے صیغہ کے ساتھ منقول ہے اور بعض روایتوں میں صیغہ ماضی کے ساتھ بھی نقل ہوا ہے اور یہ دونوں صحیح ہیں چناچہ مضارع متکلم کا ترجمہ تو وہی ہے جو یہاں نقل کیا گیا اور اگر اسے صیغہ ماضی کے ساتھ پڑھا جائے تو پھر اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کے مقابلہ پر میری اعانت فرمائی ہے چونکہ وہ شیطان میرے حق میں مسلمان یعنی مطیع و مغلوب ہوگیا ہے۔

3147Mishkaat-al-Masabih

غلام، اپنی مالکہ کے حق میں اجنبی مرد کی طرح ہے

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى فاطمة بعبد قد وهبه لها وعلى فاطمة ثوب إذا قنعت به رأسها لم يبلغ رجليها وإذا غطت به رجليها لم يبلغ رأسها فلما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم ما تلقى قال : إنه ليس عليك بأس إنما هو أبوك وغلامك . رواه أبو داود

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لائے اس وقت حضرت فاطمہ کی خدمت میں وہ غلام بھی موجود تھا جو ان کو آنحضرت ﷺ نے عطا کیا تھا اور حضرت فاطمہ کے جسم پر ایک ایسا چھوٹا کپڑا تھا کہ جب وہ اس سے اپنے سر کو چھپاتیں تو پاؤں کھل جاتے اور جب اس سے اپنے پاؤں کو چھپاتیں تو ان کا سر کھلا رہ جاتا تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ کو اس پریشانی میں دیکھا کہ وہ شرم وحیاء کی وجہ سے اپنے پورے جسم کو چھپانے کی غیر معمولی کوشش میں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں تو فرمایا کہ فاطمہ اتنا کیوں پریشان ہوتی ہو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ جس سے تم اتنا شرما رہی ہو وہ کوئی غیر نہیں ہے بلکہ تمہارا باپ ہے یا تمہارا غلام۔ ( ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے حضرت امام شافعی نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کا غلام اس کا محرم ہے یعنی پردہ وغیرہ کے بارے میں جو محرم کا حکم ہے وہی اس کے غلام کا ہے جب کہ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک غلام اپنی مالکہ کے حق میں اجنبی مرد کی طرح ہوتا ہے لہذا غلام کے لئے اپنی مالکہ کے جسم کے صرف انہی حصوں کی طرف نظر اٹھانا جائز ہے جن حصوں کی طرف ایک اجنبی مرد نظر اٹھا سکتا ہے یعنی چہرہ اور ہاتھ پاؤں۔ حنفیہ کی طرف سے اس حدیث کے بارے میں حضرت امام شافعی کا یہ جواب دیا جاتا ہے کہ حضرت امام شافعی جو بات کہتے ہیں وہ اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ غلام جو حضرت فاطمہ کے پاس تھا اس وقت نابالغ ہو۔

3148Mishkaat-al-Masabih

عورتوں میں مخنث کے آنے کی ممانعت

عن أم سلمة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان عندها وفي البيت مخنث فقال : لعبد الله بن أبي أمية أخي أم سلمة : يا عبد الله إن فتح الله لكم غدا الطائف فإني أدلك على ابنة غيلان فإنها تقبل بأربع وتدبر بثمان فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا يدخلن هؤلاء عليكم

ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف فرما تھے اور گھر میں ایک مخنث بھی موجود تھا وہ مخنث حضرت عبداللہ بن امیہ سے کہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے کہنے لگا کہ عبداللہ اگر اللہ تعالیٰ نے کل آپ لوگوں کو طائف پر فتح بخشی تو میں آپ کو غیلان کی بیٹی دکھلاؤں گا جو چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے رسول کریم ﷺ نے جب اس مخنث کی بات سنی تو فرمایا کہ یہ مخنث تمہارے پاس نہ آیا کریں ( بخاری ومسلم) تشریح لفظ مخنث نون کے زیر کے ساتھ یعنی مخنث بھی لکھا پڑا جاتا ہے اور نون کے زبر کے ساتھ مخنث بھی استعمال ہوتا ہے لیکن زیادہ صحیح زیر کے ساتھ یعنی مخنث ہی ہے جب کہ مشہور زبر کے ساتھ یعنی عام طور پر مخنث لکھا پڑھا جاتا ہے مخنث اس شخص کو کہتے ہیں جو عادات واطوار بول چال اور حرکات و سکنات میں عورتوں کے مشابہ ہو جس کو ہمارے ہاں زنانہ اور زنخا کہتے ہیں۔ یہ مشابہت کبھی تو خلقی طور پر ہوتی ہے اور کبھی مصنوعی طور پر اختیار کی جاتی ہے خلقی طور پر جو مشابہت ہوتی ہے اس میں کوئی گناہ نہیں کیونکہ یہ ایک قدرتی چیز ہوتی ہے جس میں انسانی اختیار کو دخل نہیں ہوتا۔ ہاں جو مشابہت مصنوعی ہوتی ہے کہ بعض مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرلیتے ہیں اور اپنے رہن سہن عادات واطوار اور بول چال میں اپنے آپ کو بالکل عورت ظاہر کرتے ہیں یہ بہت برائی اور گناہ کی بات ہے ایسے لوگ لعنت کے مستحق ہیں کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ان عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو جو مردوں کے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ یہاں حدیث میں جس مخنث کا ذکر کیا گیا ہے اس کا نام ہئیت تھا بعض نے اس کا نام ماطع لکھا ہے اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ پہلے آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں میں آیا جایا کرتا تھا کیونکہ ازواج مطہرات کا یہ گمان تھا کہ یہ خلقی طور پر اوصاف مردانگی سے عاری اور جذبات نفسانی سے خالی ہے اسے عورتوں کی طرف نہ کوئی رغبت و حاجت ہے اور نہ جنسیات سے اسے کوئی دلچسپی ہے بلکہ یہ آیت (غیر اولی الاربۃ) میں سے ہے جن کا ذکر قرآن مجید نے کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے پردہ کرنا عورتوں کے لئے واجب نہیں ہے مگر جب آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سنی جو جنسی معاملات میں اس کی دلچسپی کی مظہر تھی تو آپ ﷺ کو اندازہ ہوگیا کہ مخنث آیت (غیر اولی الاربۃ) میں سے نہیں ہے بلکہ اولی الاربۃ میں سے ہیں اور جنسیات کی طرف خواہش ورغبت رکھتے ہیں لہذا آپ ﷺ نے فورا منع کردیا کہ اب مخنث گھروں میں داخل نہ ہوا کریں اور عورتوں کے پاس آیا جایا نہ کریں۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کی روشنی میں نہ صرف یہ کہ مخنث کے لئے گھروں میں داخل ہونے اور عورتوں کے پاس آنے جانے کی ممانعت ہے بلکہ خصی اور مجبوب کا بھی یہی حکم ہے اور پردہ وغیرہ کے سلسلہ میں تینوں ان مردوں کی مانند ہیں جن سے پردہ کرنا عورتوں پر واجب ہے۔ جو چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے اس بات سے اس مخنث کا مقصد غیلان کی بیٹی تھی کہ جس کا نام بادیہ تھا کہ فربہی و تنومدی کو بیان کرنا تھا کیونکہ عام طور پر جس شخص کا جسم فربہ ہوتا ہے اس کے پیٹ پر چار شکن پڑے ہوتے ہیں جو سامنے سے چار ہی نظر آتے ہیں مگر پیچھے سے دیکھنے پر وہ آٹھ نظر آتے ہیں بایں طور کہ ان چاروں شکنوں کے سرے دونووں پہلوں کی طرف نمایاں ہوتے ہیں لہذا مخنث نے جو یہ بات کہی تو اس کی مراد یہی تھی کہ غیلان کی بیٹی جب آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار شکن نظر آتے ہیں اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو پیچھے آٹھ شکن معلوم ہوتے ہیں جو دراصل پیٹ کے ان چاروں شکنوں کے وہ دونوں طرف کے سرے ہوتے ہیں جو دونوں پہلوں کی طرف نمایاں ہوتے ہیں حاصل یہ ہے کہ عرب کے لوگ چونکہ فربہ جسم والی عورتوں کی طرف زیادہ میلان رکھتے تھے اس لئے اس مخنث نے غیلان کی بیٹی کی فربہی کو ظاہر کرنے کے لئے یہ طرز تعبیرا اختیار کیا۔

3149Mishkaat-al-Masabih

برہنگی کی ممانعت

وعن المسور بن مخرمة قال حملت حجرا ثقيلا فبينا أنا أمشي سقط عني ثوبي فلم أستطع أخذه فرآني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي : خذ عليك ثوبك ولا تمشوا عراة . رواه مسلم

اور حضرت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ ایک دن اپنی کسی ضرورت کے تحت میں نے ایک بڑا بھاری پتھر اٹھایا اور اسے لے کر چلا تو راستہ میں میرا کپڑا یعنی تہبند میرے بدن سے گرپڑا جس کی وجہ سے میرا ستر کھل گیا مگر میں بوجھ کی وجہ سے فوری طور پر اپنے کپڑے کو اٹھا نہیں سکا اور اسی دوران رسول کریم ﷺ نے مجھے برہنگی کی حالت میں دیکھ لیا چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فورا اپنا کپڑا اٹھاؤ اور ستر پوشی کرو اور پھر آپ ﷺ نے یہ عام حکم دیا کہ ننگے نہ چلا کرو (مسلم)

3150Mishkaat-al-Masabih

شرم وحیا کا انتہائی درجہ

وعن عائشة قالت : ما نظرت أو ما رأيت فرج رسول الله صلى الله عليه و سلم قط . رواه ابن ماجه

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ستر کی طرف کبھی نظر نہیں اٹھائی یا یہ فرمایا کہ میں نے آپ ﷺ کا ستر کبھی نہیں دیکھا ( ابن ماجہ) تشریح حرف او دراصل راوی کے اس شک کو ظاہر کرتا ہے کہ روایت میں (ما نظرت) میں نے کبھی نظر نہیں اٹھائی کے الفاظ ہیں یا (ما رایت) میں نے کبھی نہیں دیکھا کے الفاظ نقل ہوئے ہیں بہرحال ان دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ان کے مفہوم و مطلب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ ہیں کہ نہ تو آنحضرت ﷺ نے میرا ستر کبھی دیکھا اور نہ کبھی میں نے آنحضرت ﷺ کا ستر دیکھا۔ ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ اگرچہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا ستر دیکھ سکتے ہیں لیکن آداب زندگی اور شرم وحیا کا انتہائی درجہ یہی ہے کہ شوہر اور بیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھیں۔

3151Mishkaat-al-Masabih

حسین عورت کی طرف اچانک نظر اٹھ جانے کے بد پھر فوا اپنی نظرپھیرلینے کا اجر

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلم ينظر إلى محاسن امرأة أول مرة ثم يغض بصره إلا أحدث الله له عبادة يجد حلاوتها . رواه أحمد

اور حضرت ابوامامہ نبی کریم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کی نظر پہلی مرتبہ (بلا قصدوارادہ) کسی عورت کے حسن و جمال کی طرف اٹھ جائے اور پھر فورًا اپنی نظر پھیر لینے کا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک عبادت پیدا کر دے گا جس سے وہ شخص لذت حاصل کرے گا ( احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے چونکہ اپنے رب کی فرمانبرداری میں ایک حسن و جمال کی طرف اٹھی ہوئی نظر کو فورًا پھیرلیا اور اس طرح اس نے گویا اپنے جما لیاتی ذوق کو تسکین پہنچانے کی بجائے اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے اپنے نفس کی خواہش کو پامال کردیا اس لئے حق تعالیٰ اس کے اس فعل (نظر پھیر لینے) کو ایسی عبادت میں تبدیل کر دے گا جس کی وجہ سے وہ اپنے قلب و دماغ میں حکم الٰہی کی تعمیل کے نتیجہ میں حاصل ہونیوالے مخصوص سکون قلب کی لذت محسوس کرے گا اور یہ لذت دراصل اس تلخی کا بدلہ ہوگی جو اس نے اپنے نفس کی خواہش پر صبر و ضبط کر کے برداشت کی تھی۔

3152Mishkaat-al-Masabih

ممنوع النظرچیز کی طرف قصدا دیکھنے والے کے لئے وعید

وعن الحسن مرسلا قال : بلغني أن رسول صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله الناظر والمنظور إليه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

اور حضرت حسن بصری نے بطریق ارسال روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے صحابہ سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص پر کہ جس نے (بلا عذر و بغیر اضطرار) دیکھا اور اس پر کہ جس کو دیکھا گیا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو (بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو اس چیز کی طرف قصد و ارادہ دیکھے جس کو دیکھنا جائز نہیں ہے وہ چیز خواہ کوئی اجنبی عورت ہو یا کسی کا ستر ہو یا اور کوئی ممنوع النظر چیز ہو۔ اسی طرح اس کو بھی مستحق لعنت قرار دیا گیا ہے جس کو دیکھا جائے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس نے بغیر عذر اور اضطرار کے قصدًا اپنے آپ کو دکھایا ہو مثلًا کوئی عورت اپنے اپ کو قصدًا کسی اجنبی مرد کو دکھائے تو اس صورت میں وہ بھی اس لعنت میں داخل ہوگی ہاں اگر کسی عورت کو کسی اجنبی مرد نے اس طرح دیکھا کہ اس میں اس عورت کے قصد و ارادہ کو قطعًا دخل نہ ہو تو وہ بھی اس لعنت کا مورد نہیں بنے گی۔

3153Mishkaat-al-Masabih

نکاح کے ولی اور عورت سے نکاح کی اجازت لینے کا بیان

ولی لغوی طور پر کا رساز منتظم کو کہتے ہیں یعنی وہ شخص جو کسی کام کا منتظم ہو لیکن یہاں ولی سے مراد وہ شخص ہے جو کسی عورت کے نکاح کا متولی و ذمہ دار ہوتا ہے، بایں طور کہ اس عورت کے نکاح کا اختیار اسے حاصل ہوتا ہے۔ اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے یہ معلوم ہوگا کہ نکاح کے بارے میں ولی کی اجازت کا حاصل ہونا اور عورت کی رضا معلوم کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ ولایت یعنی کسی کے ولی ہونے کا حق کن کن لوگوں کو حاصل ہے چناچہ جاننا چاہئے کہ نکاح کے سلسلہ میں ولایت کے اختیار اس کے ان رشتہ دار کو حاصل ہوتے ہیں جو عصبہ بنفسہ ہوں اگر کئی عصبات بنفسہ ہوں تو ان میں مقدم وہ ہوگا جو وراثت میں مقدم ہو گویا اس بارے میں عصبات کی وہ ترتیب رہے گی جو وراثت میں ہوتی ہے اگر عصبات بنفسہ میں کوئی نہ ہو تو ماں کو ولایت حاصل ہوگی پھر دادی کو ( قنیہ میں اس کے برعکس ترتیب مذکور ہے) پھر بیٹی کو پھر پوتی کو پھر نواسی کو پھر پوتے کی بیٹی کو اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو پھر نانا کو ولایت حاصل ہوگی پھر حقیقی بہن کو پھر سوتیلی بہن کو پھر ماں کی اولاد کو ( خواہ مرد یا عورت ہوں) پھر اسی ترتیب کے مطابق ان کی اولاد کو اور اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر ذوی الارحام کو حاصل ہوگی ذوی الارحام میں سب سے پہلے پھوپھیاں ولی ہوں گی ان کے بعد ماموں ان کے بعد خالائیں ان کے بعد چچا کی بیٹیاں اور ان کے بعد اسی ترتیب کے مطابق ان کی اولاد اور اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو حق ولایت مولیٰ الموالات کو حاصل ہوگا مولیٰ الموالات کے معنی باب الفرائض میں بیان ہوچکے ہیں) اگر مولیٰ الموالات بھی نہ ہو تو پھر بادشاہ وقت ولی ہوگا بشرطیکہ وہ مسلمان ہو اس کے بعد بادشاہ وقت کا کوئی نائب مثلًا قاضی بھی ولی ہوسکتا ہے بشرطیکہ بادشاہ کی طرف سے اس کو یہ اختیار دیا گیا ہو اس کے بعد قاضی کے نائبوں کو حق ولایت حاصل ہوگا بشرطیکہ اپنا نائب بنانے کی اجازت واختیار قاضی کو حاصل ہو اگر قاضی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہوگی تو پھر اس کا کوئی بھی نائب ولی نہیں ہو سکے گا۔ ولایت کا حق حاصل ہونے کے لئے آزاد ہونا عاقل ہونا بالغ ہونا اور مسلمان ہونا شرط ہے لہذا کوئی غلام کسی کا ولی نہیں ہوسکتا کوئی نابالغ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا، کوئی دیوانہ کسی کا ولی نہیں ہوسکتا اور پاگل کسی کا ولی نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی کافر کسی مسلمان کا ولی ہوسکتا ہے، اسی طرح کوئی مسلمان بھی کی کافر کا ولی نہیں ہوسکتا الاّ یہ کہ عام سبب پایا جائے جیسے کوئی مسلمان کسی کافرہ لونڈی کا آقا ہو یا مسلمان بادشاہ یا بادشاہ کا نائب ہو تو اس صورت میں مسلمان کافر کا ولی ہوسکتا ہے۔

3154Mishkaat-al-Masabih

نکاح سے پہلے عورت کی اجازت حاصل کرلینی چاہئے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تنكح الأيم حتى تستأمر ولا تنكح البكر حتى تستأذن . قالوا : يا رسول الله وكيف إذنها ؟ قال : أن تسكت (2/208) 3127 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الأيم أحق بنفسها من وليها والبكر تستأذن في نفسها وأذنها صماتها . وفي رواية : قال : الثيب أحق بنفسها من وليها والبكر تستأمر وإذنها سكوتها . وفي رواية : قال : الثيب أحق بنفسها من وليها والبكر يستأذنها أبوها في نفسها وإذنها صماتها . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایم (یعنی بیوہ بالغہ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت حاصل نہ کرلی جائے اسی طرح کنواری عورت (یعنی کنواری بالغہ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت حاصل نہ کرلی جائے یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس کنواری عورت کی اجازت کیسے حاصل ہوگی ( کیونکہ کنواری عورت تو بہت شرم وحیا کرتی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا اس طرح کہ وہ چپکی رہے یعنی کوئی کنواری عورت اپنے نکاح کی اجات مانگے جانے پر اگر بسب شرم و حیاء زبان سے ہاں نہ کرے بلکہ خاموش رہے تو اس کی یہ خاموشی بھی اس کی اجازت سمجھی جائے گی ( بخاری ومسلم) تشریح ایم اس عورت کو کہتے ہیں جس کا خاوند نہ ہو خواہ وہ باکرہ ہو (پہلے کبھی اس کی شادی نہ ہوئی ہو) خواہ ثیب ہو کہ پہلے اس کی شادی ہوچکی ہو اور پھر یا تو اس کا خاوند مرگیا ہو یا اس نے طلاق دیدی ہو) لیکن یہاں ایم سے مراد ثیب بالغہ ہے یعنی وہ عورت جو بالغہ ہو اور اس کا پہلا شوہر یا تو مرگیا ہو یا اس نے طلاق دے دی ہو۔ عورت سے اس کے نکاح کی اجازت حاصل کرنے کے سلسلے میں حدیث نے باکرہ کنواری اور ثیب بیوہ کا ذکر اس فرق کے ساتھ کیا ہے کہ ثیب کے بارے میں تو یہ فرمایا گیا کہ جب تک اس کا حکم حاصل نہ کرلیا جائے اور باکرہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تک کہ اس کی اجازت حاصل نہ کرلی جائے لہذا حکم اور اجازت کا یہ فرق اس لئے ظاہر کیا گیا ہے کہ ثیب یعنی بیوہ عورت اپنے نکاح کے سلسلہ میں زیادہ شرم و حیاء نہیں کرتی بلکہ وہ خود کھلے الفاظ میں اپنے نکاح کا حکم کرتی ہے یا کم سے کم صریح اشارات کے ذریعہ اپنی خواہش کا ازخود اظہار کردیتی ہے اور اس بارے میں کوئی خاص جھجک نہیں ہوتی اس کے برخلاف باکرہ یعنی کنواری عورت چونکہ بہت زیادہ شرم و حیاء کرتی ہے اس لئے وہ نہ تو کھلے الفاظ میں اپنے نکاح کا حکم کرتی ہے اور نہ صریح اشارات کے ذریعہ ہی اپنی خواہش کا اظہار کرتی ہے ہاں جب اس کے نکاح کی اجازت اس سے لی جائے تو وہ اپنی رضا مندی و اجازت دیتی ہے بلکہ زیادہ تر تو یہ ہوتا ہے کہ طلب اجازت کے وقت وہ زبان سے اجازت دینا بھی شرم کے خلاف سمجھتی ہے اور اپنی خاموشی و سکوت کے ذریعہ ہی اپنی رضا مندی کا اظہار کردیتی ہے۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے حکم یا اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں ہوتا لیکن فقہاء کے یہاں اس بارے میں تفصیل ہے اور وہ یہ کہ تمام عورتوں کی چار قسمیں ہیں اول ثیب بالغہ یعنی وہ بیوہ عورت جو بالغ ہو ایسی عورت کے بارے متفقہ طور پر تمام علماء کا قول یہ ہے کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ وہ عاقلہ ہو یعنی دیوانی نہ ہو اگر عاقلہ نہ ہوگی تو ولی کی اجازت سے اس کا نکاح ہوجائے گا۔ دوم باکرہ صغیرہ یعنی وہ کنواری لڑکی جو نابالغ ہو، اس کے بارے میں بھی تمام علماء کا متفقہ طور پر یہ قول ہے کہ اس کے نکاح کے لئے اس کی اجازت کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا ولی اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کرسکتا ہے۔ سوم ثیب صغیرہ یعنی وہ بیوہ جو بالغ نہ ہو اس کے بارے میں حنفی علماء کا تو یہ قول ہے کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر ہوسکتا ہے لیکن شافعی علماء کہتے ہیں کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔ چہارم باکرہ بالغہ یعنی وہ کنواری جو بالغہ ہو، اس کے بارے میں حنفی علماء تو یہ کہتے ہیں کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں لیکن شافعی علماء کے نزدیک جائز ہے۔ گویا تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ حنفی علماء کے نزدیک ولایت کا مدار صغر پر ہے یعنی ان کے نزدیک ولی کو عورت کی اجازت کے بغیر نکاح کردینے کا حق اسی صورت میں حاصل ہوگا جب کہ وہ کمسن یعنی نابالغ ہو خواہ وہ باکرہ کنواری ہو یا ثیب بیوہ ہو جب کہ شافعی علماء کے نزدیک ولایت کا مدار بکارت پر ہے یعنی ان کے نزدیک ولی کو عورت کی اجازت کے بغیر نکاح کردینے کا حق اس صورت میں حاصل ہوگا جب کہ وہ باکرہ ہو خواہ بالغ ہو یا نابالغ ہو۔ لہذا یہ حدیث حنفیہ کے نزدیک بالغہ پر محمول ہے خواہ وہ ثیب ہو یا باکرہ ہو اور آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی حدیث (ولا تنکح البکر حتی تستاذن) (کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت حاصل نہ کرلی جائے) شوافع کے قول کے خلاف ایک واضح دلیل ہے۔ اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایم یعنی وہ عورت جو بیوہ بالغہ اور عاقلہ ہو اپنے نکاح کے معاملہ میں اپنے ولی سے زیادہ خود اختیار رکھتی ہے اور کنواری لڑکی جو بالغ ہو بھی اس کی حق دار ہے کہ اس کے نکاح کی اس سے اجازت حاصل کی جائے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان سے اجازت دے بلکہ اس کی شرم و حیاء کے پیش نظر اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت کے لئے کافی ہے) ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ثیب یعنی بیوہ عورت اپنے بارے میں اپنے والی سے زیادہ خود اختیار رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے بھی اس کے نکاح کی اجازت حاصل کی جائے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے۔ اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ثیب اپنے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ خود اختیار رکھتی ہے اور کنواری لڑکی بھی اس کا باپ اس کے نکاح کے بارے میں اجازت حاصل کرے اور اس کی اجازت اس کا چپ رہنا ہے ( مسلم) تشریح اپنے ولی سے زیادہ خود اختیار رکھتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ بیوہ عورت اپنے نکاح کی اجازت دینے یا نہ دینے کے معاملے میں بالکل خود مختار ہے اور یہ کہ جب تک وہ خود اپنی زبان سے اجازت نہ دے دے اس کا نکاح نہیں ہوگا بخلاف کنواری عورت کے کہ اس کے لئے زبان سے اجازت دینا ضروری نہیں ہے بلکہ وہ خاموشی کے ذریعہ بھی اپنی اجازت کا اظہار کرسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں باقی تفصیل و تشریح وہی ہے جو اس سے پہلے ذکر کی گئی ہے۔ یہاں جو کئی رواتیں نقل کی گئی ہیں ان میں صرف تھوڑا سا اختلاف ہے مفہوم و معنی کے اعتبار سے تمام روایتیں تقریبًا یکساں ہیں۔

3155Mishkaat-al-Masabih

بیوہ اپنی مرضی کے خلاف ہوجانیوالے نکاح کو رد کرسکتی ہے

وعن خنساء بنت خذام : أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك فأتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فرد نكاحها . رواه البخاري وفي رواية ابن ماجه : نكاح أبيها

اور حضرت خنساء بنت خذام سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی اجازت حاصل کئے بغیر) کردیا جب کہ وہ بیوہ اور بالغہ تھیں چناچہ انہوں نے اس عقد کو ناپسند کیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنا معاملہ لے کر حاضر ہوئیں لہذا آپ ﷺ نے ان کا نکاح یعنی ان کے والد کے نکاح کرنے کو رد کردیا (بخاری) اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کا نکاح جو ان کے والد نے کیا تھا رد کردیا۔

3156Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم تزوجها وهي بنت سبع سنين وزفت إليه وهي بنت تسع سنين ولعبها معها ومات عنها وهي بنت ثماني عشرة . رواه مسلم

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح کیا جب کہ ان کی عمر سات سال کی تھی اور جب وہ آنحضرت ﷺ کے گھر بھیجی گئیں تو ان کی عمر نو سال کی تھی اور ان کے کھیلنے کے لئے) کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب آنحضرت ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور حضرت عائشہ ؓ ہمیشہ کے لئے جدا ہوئے تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی (مسلم) تشریح یہ حدیث حضرت عائشہ کی ابتدائی زندگی کے تین اہم موڑ اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کی رفاقت کی مدت کو ظاہر کرتی ہے۔ چناچہ سات سال کی عمر میں حضرت عائشہ نبی کریم ﷺ کی زوجیت میں آئیں نو سال کی عمر میں رخصت ہو کر آستانہ نبوت میں لائی گئیں اور نو سال کی رفاقت کے بعد جب کہ ان کی عمر صرف اٹھارہ سال کی تھی آنحضرت ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ نو سال کی عمر بچپن کی عمر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ جب آنحضرت ﷺ کے ہاں تشریف لائیں تو ان کے ساتھ وہ کھلونے بھی آئے جن سے وہ اپنے گھر کھیلا کرتی تھیں اور یہ کھلونے بھی کیا تھے وہ گڑیاں تھیں جو عام طور پر بچیوں کا سب سے محبوب کھلونا ہوتی ہیں۔ چناچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب ان گڑیوں کو دیکھا تو ان پر اظہار ناپسندیدگی نہیں کیا لہذا اس سے یہ معلوم ہوا کہ گڑیوں کا بنانا جائز ہے اور بچیوں کو گڑیوں سے کھیلنا مباح ہے، اس کا سبب علماء نے یہ لکھا ہے کہ گڑیوں سے کھیلنا دراصل بچیوں کے لئے ایک سبق بھی ہے جس سے وہ اولاد کی پرورش سینا پرونا اور گھر کی اصلاح و انتظام کی تربیت حاصل کرتی ہیں تاہم اس بارے میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ ہجرت کا ہے اور اس وقت تک تصویر کی حرمت نازل نہیں ہوئی ہوگی۔ جب کہ علماء نے یہ کہا ہے کہ حضرت عائشہ اپنے ساتھ پڑیاں لے کر آئی تھیں ان میں صورتیں بنی ہوئی نہیں تھیں جو تصویروں میں ہوتی ہیں اور حرام ہیں بلکہ کپڑوں اور چیتھڑوں کو لپیٹ کر بغیر صورتوں کے یوں ہی بنائی گئی تھیں۔

3157Mishkaat-al-Masabih

کمسن لڑکی کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا

عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا نكاح إلا بولي . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي (2/209) 3131 - [ 6 ] ( صحيح ) وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي

حضرت ابوموسی نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ( احمد ترمذی) تشریح حنفیہ کے نزدیک اس حدیث کا تعلق نابالغہ اور غیر عاقلہ سے ہے یعنی کمسن لڑکی اور دیوانی کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا جب کہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد نے حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل کیا ہے چناچہ وہ کہتے ہیں کہ نکاح اسی وقت صحیح ہوتا ہے جب کہ ولی عقد کرے اور عورتوں کی عبارت کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوتا عورت خواہ اصیلہ ہو یا وکیلہ ہو۔ علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو نابالغہ اور غیر عاقلہ پر محمول نہ ماننے بلکہ رکھنے کی صورت میں) جمہور علماء نے نفی صحت پر اور امام ابوحنیفہ نے نفی کمال پر محمول کیا ہے۔ اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس عورت نے اپنا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر کیا تو اس کا نکاح باطل ہے اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، پھر اگر شوہر نے اس کے ساتھ مجامعت کی تو وہ مہر کی حق دار ہوگی کیونکہ شوہر نے اس کی شرم گاہ سے فائدہ اٹھایا ہے اور اگر کسی عورت کے ولی باہم اختلاف کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی بادشاہ ہے ( احمد ترمذی) تشریح اس کا نکاح باطل ہے، یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین بار ارشاد فرما کر گویا ولی کی اجازت کے بغیر ہونیوالے نکاح پر متنبہ کیا اور اس بات کی تاکید فرمائی کہ نکاح کے معاملہ میں ولی کی اجازت ومرضی کو بنیادی درجہ حاصل ہونا چاہئے، اس طرح یہ حدیث اور اسی مضمون کی دوسری حدیثیں ارشاد گرامی (الایم احق بنفسہا من ولیہا) (ایم کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کا حکم حاصل نہ کرلیا جائے) کے معارض و برعکس ہیں اس لئے حنفیہ کی طرف سے اس حدیث کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر کفو سے نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے یا یہ کہ جو کمسن لڑکی یا لونڈی اور یا مکاتبہ اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گی تو اس کا نکاح باطل ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہ حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث یہ دونوں فنی طور پر اس درجہ کی نہیں ہیں کہ انہیں کسی مسلک کے خلاف بطور دلیل اختیار کیا جاسکے کیونکہ ان دونوں حدیثوں کے صحیح ہونے میں محدثین نے کلام کیا ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی عورت کے ولی آپس میں اختلاف و نزاع کرتے ہیں اور کسی فیصلہ پر متفق نہیں ہو پاتے توہ سب کالعدم ہوجاتے ہیں اور اس صورت میں ولایت کا حق بادشاہ وقت کو حاصل ہوتا ہے ورنہ تو یہ معلوم ہی ہے کہ ولی کی موجودگی میں بادشاہ کو ولایت کا حق حاصل نہیں ہوتا۔

3158Mishkaat-al-Masabih

بغیر گواہوں کے نکاح صحیح نہیں ہوتا

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة . والأصح أنه موقوف على ابن عباس . رواه الترمذي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ عورتیں زنا میں مبتلا ہوتی ہیں جو بغیر گواہوں کے اپنا نکاح کرتی ہیں اس روایت کے بارے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حضرت ابن عباس پر موقوف ہے یعنی یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نہیں ہے بلکہ خود حضرت ابن عباس کا قول ہے (ترمذی) تشریح نکاح کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ دو گواہوں کے سامنے منعقد ہو چناچہ اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ بغیر گواہوں کے نکاح صحیح نہیں ہوتا۔ تمام ائمہ کا بھی یہی مسلک ہے اور صحابہ وتابعین سے بھی یہی منقول ہے۔

3159Mishkaat-al-Masabih

نکاح کی طلب اجات کے وقت عورت کی خاموشی ہی اس کی رضا ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اليتيمة تستأمر في نفسها فإن صمتت فهو إذنها وإن أبت فلا جواز عليها . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي (2/210) 3134 - [ 9 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه الدارمي عن أبي موسى

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بالغہ کنواری عورت سے اس کے نکاح کے بارے میں اجازت حاصل کی جائے اور اگر وہ طلب اجازت کے وقت خاموش رہے تو اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر جبر نہ کیا جائے ( ترمذی ابوداؤد، نسائی) دارمی نے اس روایت کو حضرت ابوموسی سے نقل کیا ہے۔ تشریح شادی بیاہ کا معاملہ انسانی زندگی کا بڑا اہم موڑ ہوتا ہے اس موڑ پر زوجین کی مرضی و خواہش کے علی الرغم والدین اور ولی و سرپرست کا کوئی بھی فیصلہ اور اس میں ادنیٰ درجہ کی کوتاہی اور غیر دانشمندی زوجین کی پوری زندگی کو جہنم بنا دیتی ہے۔ اس لئے شریعت نے ہر بالغ مسلمان کو خواہ مرد ہو یا عورت یہ حق دیا ہے کہ وہ اس مرحلہ پر اپنی مرضی و خواہش اور اپنی پسند و ناپسند کا پورا پورا اظہار کرے۔ خاص طور پر عورتوں کے بارے میں ان کے ماں باپ اور ولی سرپرست پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملہ میں اپنی ذاتی پسند و ناپسند ہی کو مدار قرار نہ دیں بلکہ عورت کو خود بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیں اور اس کی اجازت ومرضی ہی کو اصل فیصلہ سمجھیں۔ پھر اس کی اجازت کے بارے میں یہ آسانی بھی دی گئی ہے کہ اگر کوئی عورت شرم وحیا کی وجہ سے اپنی اجازت ومرضی کا زبان سے اظہار نہیں کرسکتی تو اس کی خاموشی ہی کو اس کی اجازت سمجھا جائے۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ عورت کی خاموشی کو اس کی اجازت کا قائم مقام ہونا صرف اس کے ولی کے حق میں ہے یعنی عورت اگر اپنے ولی کی طلب اجازت کے موقع پر خاموش رہے تو اس کی خاموشی اس کی اجازت سمجھی جائے گی اور اگر ولی کے علاوہ کوئی اور اجازت طلب کرے تو اس صورت میں عورت کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ زبان سے اجازت دے۔

3160Mishkaat-al-Masabih

غلام کا نکاح اس کے آقا کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں ہوتا

وعن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أيما عبد تزوج بغير إذن سيده فهو عاهر . رواه الترمذي وأبو داود والدرامي

اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے وہ زانی ہے ( ترمذی، ابوداؤد، دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ مملوک کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں ہوتا لہذا اگر کوئی مملوک اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گا اور اس نکاح کے بعد منکوحہ سے مجامعت کرے گا تو یہ فعل حرام ہوگا اور وہ زنا کار کہلائے گا چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے کہ غلام کا نکاح اس کے آقا کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہوتا اور نکاح کے بعد اگر آقا اجازت دے دے تب بھی وہ عقد صحیح نہیں ہوتا جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ آقا کی اجازت کے بغیر نکاح تو ہوجاتا ہے مگر اس کا نافذ ہونا یعنی صحیح ہونا آقا کی اجازت پر موقوف رہتا ہے کہ جب آقا اجازت دے دے گا تو صحیح ہوجائے گا جیسا کہ فضولی کے نکاح کا حکم ہے۔