عورت کے ولی کے لئے ایک ضروری ہدایت
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه إن لا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے پاس کوئی شخص نکاح کا پیغام بھیجے اور تم اس شخص کی دینداری اور اس کے اخلاق سے مطمئن ہو تو اس کا پیغام منظور کر کے اس سے نکاح کردو اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوجائے گا ( ترمذی)
تشریح
یہ ارشاد گرامی دراصل عورتوں کے سرپرست اور ولیوں سے ایک خطاب اور ان کے لئے ایک ضروری ہدایت ہے کہ اگر کوئی دیندار اور اچھے اخلاق واطوار کا حامل شخص تمہاری بیٹی یا تمہاری بہن وغیرہ سے نکاح کا پیغام بھیجے تو منظور کرلو اور اس سے نکاح کردو اگر ایسا نہ کرو گے بلکہ ایسے شخص کے پیغام کو نظر انداز کر کے کسی مالدار یا ثروت دار شخص کے پیغام کی انتظار میں رہو گے جیسا کہ اکثر دینداروں کی عادت ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اکثر عورتیں بغیر خاوند کے بیٹھی رہ جائیں گی اور اکثر مرد بغیر بیوی کے پڑے رہیں گے اس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ بدکاری اور برائیوں کا عام چلن ہوجائے گا بلکہ ان عورتوں کے سرپرست اور ولی بڑی بری قسم کی عار و غیرت میں مبتلا ہوں گے پھر جو لوگ ان کو عار اور غیرت دلائیں گے وہ ان سے لڑنے جھگڑنے لگیں گے آخرکار اس برائی وفحاشی اور لڑائی جھگڑے سے ایک ہمہ گیر فتنہ و فساد کی شکل پیدا ہوجائے گی۔ طیبی کہتے ہیں کہ ایک طرح سے یہ حدیث حضرت امام مالک کی دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ کفائت زوجین میں سے ایک دوسرے کا کفو ہونے کا لحاظ صرف دین کے وصف میں کیا جائے گا گویا ان کے نزدیک ایک دوسرے کا کفو صرف دین میں ہوسکتا ہے جبکہ علماء کی اکثریت کا مسلک یہ ہے کہ ان چاروں اوصاف میں ایک دوسرے کا کفو شریک ہونے کا لحاظ کیا جائے (١) دین حریت نسب پیشہ چناچہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کافر سے نہ کیا جائے نہ کسی غیر معلوم النسب سے کیا جائے۔ اور کسی سودا گر یا اچھے پیشے والے کی بیٹی کا نکاح کسی حرام یا مکروہ پیشہ والے سے نہ کیا جائے۔ لیکن اس بارے میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اگر کسی عورت کا ولی اور خود وہ عورت کسی غیرکفو والے سے نکاح کرنے پر راضی ہوجائے تو نکاح صحیح ہوجائے گا۔
محبت کرنیوالی عورت سے نکاح کرو
وعن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت معقل بن یسار کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم ایسی عورت سے نکاح کرو جو اپنے خاوند سے محبت کرنیوالی ہو اور زیادہ بچے جننے والی ہو کیونکہ دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ( ابوداؤد نسائی)
تشریح
منکوحہ عورت میں مذکورہ بالا دو صفتوں کو ساتھ ساتھ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں بچے تو بہت پیدا ہوتے ہوں مگر وہ اپنے خاوند سے محبت کم کرتی ہو تو اس صورت میں خاوند کو اس کی طرف رغبت کم ہوگی اور اگر کوئی عورت خاوند سے محبت تو بہت کرے مگر اس کے یہاں بچے زیادہ نہ ہوں تو اس صورت میں مطلوب حاصل نہیں ہوگا اور مطلوب امت محمدیہ ﷺ کی کثرت سے جو ظاہر ہے کہ زیادہ بچے ہونے کی صورت میں ممکن ہے اگر مسلمان عورتوں کے ہاں زیادہ بچے ہوں گے تو امت میں کثرت ہوگی جو پیغمبر اسلام ﷺ کے نزدیک پسندیدہ اور مطلوب ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نکاح سے پہلے یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ کون سی عورت اپنی آئندہ زندگی میں ان اوصاف کی حامل ثابت ہوسکتی ہے تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ کسی خاندان و کنبہ کا عام مشاہدہ اس کی کسی عورت کے لئے ان صفتوں کا معیار بن سکتا ہے چناچہ ان اکثر لڑکیوں میں یہ صفتیں موجود ہوسکتی ہیں جن کے خاندان و قرابت داروں میں ان صفتوں کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے عام طور پر چونکہ اقرباء کے طبعی اوصاف ایک دوسرے میں سرایت کئے ہوتے ہیں اور عادت ومزاج میں کسی خاندان و کنبہ کا ہر فرد ایک دوسرے کے ساتھ یکسانیت رکھتا ہے اس لئے کسی خاندان کی لڑکی کے بارے میں اس کے خاندان کے عام مشاہدہ کے پیش نظر ان اوصاف کا اندازہ لگا لینا کوئی مشکل نہیں ہے۔ بہرکیف اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شوہر سے بہت زیادہ محبت کرنیوالی اور بچے پیدا کرنیوالی عورت سے نکاح کرنا مستحب ہے نیز یہ کہ زیادہ بچے ہونا بہتر اور پسندیدہ ہے کیونکہ اس سے آنحضرت ﷺ کا مقصد یعنی امت کی زیادتی و کثرت کا فخر حاصل ہوتا ہے ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں نکاح کرنے سے مراد یہ تعلیم دینا ہے کہ تمہاری جن بیویوں میں یہ اوصاف موجود ہوں ان کے ساتھ زوجیت کے تعلق کو ہمیشہ قائم رکھو اور اس بات کی کوشش کرو کہ آپس میں کبھی کوئی تفرقہ اور جدائی نہ ہو۔
کنواری سے نکاح کرنا زیادہ بہتر ہے
وعن عبد الرحمن بن سالم بن عتبة بن عويم بن ساعدة الأنصاري عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بالأبكار فإنهن أعذب أفواها وأنتق أرحاما وأرضى باليسير . رواه ابن ماجه مرسلا
اور حضرت عبدالرحمن بن سالم بن عتبہ بن عویمر بن ساعدہ انصاری اپنے والد حضرت سالم اور وہ عبدالرحمن کے دادا یعنی حضرت عتبہ تابعی سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں کنواری عورتوں سے نکاح کرنا چاہئے کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں یعنی کنواری عورتیں شیریں زبان وخوش کلام ہوتی ہیں کہ وہ بد زبانی فحش گوئی میں مبتلا نہیں ہوتیں) اور زیاد بچے پیدا کرنیوالی ہوتی ہیں نیز وہ تھوڑے پر بھی راضی رہتی ہیں (یعنی تھوڑا مال و اسباب پانے پر بھی راضی رہتی ہیں) اس روایت کو ابن ماجہ نے بطریق ارسال نقل کیا ہے؟
تشریح
اس ارشاد گرامی کے ذریعہ کنواری عورتوں کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بیوہ عورتوں میں نہیں پائی جاتیں مثلا کنواری عورت زیادہ بچے پیدا کرنے کے قابل ہوتی ہے کیونکہ اس کے رحم میں حرارت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کا رحم مرد کا مادہ تولید بہت جلد قبول کرلیتا ہے لیکن یہ چیز محض ظاہری اسباب کے درجہ کی ہے جو حکم الٰہی کے بغیر کوئی اہمیت نہیں رکھتی، کنواری عورتوں کی ایک نفسیاتی خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ تھوڑے سے مال و اسباب پر بھی راضی وخوش رہتی ہیں ان کا شوہر انہیں جو کچھ دے دیتا ہے اسی کو برضا ورغبت قبول کرلیتی ہیں اور اس پر قانع رہتی ہیں کیونکہ وہ بیوہ عورت کی طرح پہلے سے کسی خاوند کا کچھ دیکھے ہوئے تو ہوتی نہیں کہ انہیں کمی بیشی کا احساس ہو اور وہ اپنے شوہر سے زیادہ مال و اسباب کا مطالبہ کریں۔
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم تر للمتحابين مثل النكاح . رواه ابن ماجه
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے شخص تو نے نکاح کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ہوگی جو دو محبت کرنیوالوں کے درمیان محبت کو زیادہ کرے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ نکاح کے ذریعہ جس طرح خاوند اور بیوی کے درمیان بغیر کسی قراب کے بےپناہ محبت والفت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس طرح کا کوئی تعلق ایسا نہیں ہے جو دو شخصوں کے درمیان جو ایک دوسرے کے لئے بالکل اجنبی ہوں اس درجہ کی محبت والفت پیدا کر دے۔
آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی فضیلت
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أراد أن يلقى الله طاهرا مطهرا فليتزوج الحرائر . رواه ابن ماجه
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس بات کا خواہشمند ہو کہ وہ زنا کی نجاست سے پاکی کی حالت میں اور پاکیزہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے تو اسے چاہئے کہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔
تشریح
اس کی وجہ عام طور پر آزاد عورتیں لونڈیوں کی بہ نسبت زیادہ پاک و پاکیزہ ہوتی ہیں اس لئے ان کی پاکیزگی مخالطت و مباشرت کے ذریعہ ان کی شوہروں میں سرایت کرتی ہے پھر یہ کہ آزاد عورتیں اپنی اولاد کو جو ادب وسلیقہ اور تہذیب سکھا سکتی ہیں وہ لونڈیوں کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ جب وہ خود بھی کمتر و پست حیثیت ہوتی ہیں تو اپنی اولاد کو ادب وتہذیب اور اخلاق سے کیسے مزین کرسکتی ہیں۔
وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه يقول : ما استفاد المؤمن بعد تقوى الله خيرا له من زوجة صالحة إن أمرها أطاعته وإن نظر إليها سرته وإن أقسم عليه أبرته وإن غاب عنها نصحته في نفسها وماله . روى ابن ماجه الأحاديث الثلاثة
اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن اللہ تعالیٰ کے تقوی کے بعد جو سب سے بہتر چیز اپنے لئے منتخب کرتا ہے وہ نیک بخت و خوب صورت بیوی ایسی بیوی کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر شوہر اس کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ اس کی تعمیل کرتی ہے جب وہ اس کی طرف دیکھتا ہے تو وہ اپنے حسن اور پاکیزگی اور اپنی خوشی سلیقگی وپاک سیرتی سے) اس کا دل خوش کرتی ہے جب وہ اس کو قسم دیتا ہے تو اس قسم کو پورا کرتی ہے اور جب اس کا خاوند موجود نہیں ہوتا تو وہ اپنے نفس کی بارے میں یہ خیرخواہی کرتی ہے کہ اس کو ضائع وخراب ہونے سے بچاتی ہے اور اس میں کوئی خیانت نہیں کرتی) مذکورہ بالا تینوں حدیثیں ابن ماجہ نے نقل کی ہیں۔
تشریح
اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کو اور ممنوعات سے بچنے کو تقوی کہتے ہیں لہذا ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا نیک و صالح بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور ممنوعات سے اجتناب کے بعد اپنی دینی اور دنیاوی بھلائی کے لئے جو سب سے بہتر چیز پسند کرتا ہے وہ نیک بخت وخوب صورت بیوی ہے۔ وہ اس کی تعمیل کرتی ہے، کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو گناہ و معصیت کا باعث نہیں ہوتیں یعنی وہ اپنے شوہر کی انہیں باتوں اور انہی احکام کی تعمیل کرتی ہے جو شریعت کے خلاف اور اللہ کی ناراضگی کا باعث نہیں ہوتے، یہ قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ مخلوق یعنی کسی شخص کا کوئی بھی ایسا حکم تعمیل نہ کرنا چاہئے جو خالق یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق ہو۔ وہ اس کی قسم کو پورا کرتی ہے، کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش ومرضی پر اپنے شوہر کی خواہش ومرضی کو مقدم رکھتی ہے مثلا جب اس کا شوہر اس کو کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم دیتا ہے جو اس کی خواہش کے خلاف ہوتا ہے تو وہ اپنی خواہش کو چھوڑ کر وہ اپنے شوہر کی قسم ومرضی کے مطابق وہی کام کرتی ہے یا جب اس کا شوہر اس کو کسی ایسے کام کے نہ کرنی کی قسم دیتا ہے جو اس کی خواہش کے مطابق ہے تو وہ اپنی خواہش کی پرواہ کئے بغیر اپنے شوہر کی قسم ومرضی کی مطابق اس کام کو ترک کردیتی ہے۔
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين فليتق الله في النصف الباقي
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس بندہ نے نکاح کیا اس نے اپنا آدھا دین پورا کرلیا اب اسے چاہئے کہ باقی آدھے کے بارے میں اللہ سے ڈرے۔
تشریح
انسان کے جسم میں دو چیزیں ایسی ہیں جو عام طور پر دین میں فساد و نقصان کا سبب بنتی ہی یعنی شرمگاہ اور پیٹ لہذا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شخص نے نکاح کر کے شرمگاہ کے فتنہ و فساد سے نجات پائی تو اب اسے چاہئے کہ پیٹ کے فتنے و فساد کو دور کرنے کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے یعنی حلال کمائی اور حلال رزق ہی کے ذریعہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرے تاکہ دین کی بھلائی پوری حاصل ہو۔
وعن عائشة قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة . رواهما البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ بہت زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جو محنت کے لحاظ سے آسان ہو یہ دونوں روایتیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔
تشریح
محنت کے لحاظ سے آسان نکاح، سے مراد وہ نکاح ہے جس میں بیوی کا مہر کم ہو اور عورت زیادہ مال و اسباب اور حیثیت سے زیادہ ضروریات زندگی یعنی روٹی کپڑا طلب کر کے مرد کو پریشان نہ کرے بلکہ مشورہ کی طرف سے جو کچھ اور جیسا کیسا مل جائے برضا ورغبت اسی پر قانع رہے۔
منسوبہ کو دیکھنے اور جن اعضاء کو چھپانا واجب ان کا بیان
مخطوبہ سے مراد وہ عورت ہے جس سے نکاح کا پیغام دیا گیا ہو عورت سے مراد جس کے وہ اعضاء ہیں جن جن کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ منسوبہ کو دیکھنے کا مسئلہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور اکثر علماء کے نزدیک اپنی منسوبہ کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا جائز ہے خواہ منسوبہ اس بات کی اجازت دے یا نہ دے۔ حضرت امام مالک کے ہاں اپنی منسوبہ کو نکاح سے پہلے دیکھنا اسی صورت میں جائز ہے جب کہ اس کی اجازت حاصل ہو اس کی اجازت کے بغیر دیکھنا جائز نہیں ہے لیکن ایک روایت کے مطابق حضرت امام مالک کے ہاں منسوبہ کو دیکھنا مطلقا ممنوع ہے۔ اس بارے میں فقہی مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ مرد اپنی منسوبہ کو دیکھنے کی بجائے کسی تجربہ کار اور معتمد عورت کو بھیج دے تاکہ وہ اس کی منسوبہ کو دیکھ کر مطلوبہ معلومات فراہم کر دے۔
اپنی منسوبہ کو دیکھ لینا مستحب ہے
عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني تزوجت امرأة من الأنصار قال : فانظر إليها فإن في أعين الأنصار شيئا . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں ایک انصاری عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو اس بارے میں آپ ﷺ کی کیا ہدایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس عورت کو دیکھ لو تو اچھا ہے کیونکہ بعض انصاریوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہے ( مسلم)
تشریح
آپ ﷺ کی اس ہدایت کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ بعض انصاریوں کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے جس سے طبیعت میں تکدر پیدا ہوتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ تم اپنی منسوبہ کو دیکھ کر یہ اطمینان کرلو کہ اس کی آنکھوں میں تو کوئی نقص نہیں ہے۔ علامہ نووی نے (فی اعین الانصار شیأ) کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ بعض انصاریوں کی آنکھیں کیری یا کرنجی ہوتی ہیں بہرکیف اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خیر خواہی کے نکتہ نظر سے کسی چیز کا عیب و نقصان بیان کردینا جائز ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کا پیغام بھیجنے سے پہلے اپنی منسوبہ کو دیکھ کر مرد سے اس کے حالات بتادے نیز اس بارے میں مسئلہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ اپنی منسوبہ کا صرف منہ اور اس کی ہتھیلیاں ہی دیکھنا مباح ہے اگرچہ جنسی ہیجان سے مامون نہ ہو کیونکہ اس کے لئے یہ دونوں اعضاء ستر کے حکم میں نہیں ہے۔
کسی عورت کے جسم کا حال اپنے شوہر سے بیان نہ کرو
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تباشر المرأة المرأة فتنعتها لزوجها كأنه ينظر إليها
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی عورت اپنا برہنہ جسم کسی دوسری عورت کے برہنہ جسم سے نہ لگائے اور نہ اس عورت کے جسم کا حال اپنے خاوند کے سامنے بیان کرے ( کیونکہ اپنے خاوند کے سامنے کسی اجنبی عورت کے جسم کا حال بیان کرنا ایسا ہی ہے) جیسا کہ اس کا خاوند اس عورت کے جسم کو خود دیکھ رہا ہو ( بخاری ومسلم)
تشریح
کسی عورت کا اپنے جسم کو برہنہ کر کے کسی دوسری عورت کے برہنہ جسم سے مس کرنا اور پھر اس عورت کے جسم کی خصوصیات یعنی گداز پن وغیرہ اپنے شوہر کے سامنے بیان کرنا انتہائی معیوب بات ہے چناچہ آپ ﷺ نے اس سے عورتوں کو منع کیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف بےشرمی کی بات اور غیر اخلاقی حرکت ہے بلکہ اس سے یہ بھی خطرہ ہے کہ اس کا خاوند کسی اجنبی عورت کے جسم کی پرکشش خصوصیات سن کر نفسانی ہیجان اور گندے خیالات میں مبتلا ہوجائے جو فتنہ و برائی کی جڑ ہے۔
عورتوں اور مردوں کے لئے چند ہدایات
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل ولا المرأة إلى عورة المرأة ولا يفضي الرجل إلى الرجل في ثوب واحد ولا تفضي المرأة إلى المرأة في ثوب واحد . رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ستر کی طرف نہ دیکھے کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ستر کی طرف نہ دیکھے دو برہنہ مرد ایک کپڑے میں جمع نہ ہوں اور نہ دو برہنہ عورتیں ایک کپڑے میں جمع ہوں ( مسلم)
تشریح
شریعت نے مرد و عورت کے جسم کے جن حصوں اور اعضاء کو باہم دیکھنے اور چھونے کی ممانعت کی ہے ان کو ستر کہا جاتا ہے اور جسم کے ان حصوں کو عام نظروں سے چھپانا ڈھانکنا ضروری ہے اس بارے میں جو فقہی تفصیل ہے وہ اس طرح ہے کہ مرد کا ستر اس کے جسم کا وہ حصہ ہے جو زیرناف سے گھٹنوں کے نیچے تک ہوتا ہے اس کے جسم کے اس حصہ کو بلا ضرورت دیکھنا نہ تو کسی مرد کے لئے جائز ہے اور نہ کسی عورت کے لئے ہاں اس مرد کی بیوی یا لونڈی دیکھ سکتی ہے، مرد کے جسم کے اس حصہ کے علاوہ بقیہ حصوں کو دیکھنا مرد کے لئے بھی جائز ہے اور عورت کے لئے بھی بشرطیکہ عورت جنسی ہیجان سے مامون ہو اگر عورت جنسی ہیجان سے مامون نہ ہو تو پھر وہ غیر مرد کے جسم کے کسی بھی حصہ کو مطلقًا نہ دیکھے۔ اسی طرح عورت کا ستر عورت کے حق میں اس کے جسم کا زیر ناف سے زانوں تک کا حصہ ہے لہذا عورت کے جسم کے اس حصہ کو بلا ضرورت دیکھنا عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے جب کہ عورت کا ستر اجنبی مرد کے حق میں اس کا پورا جسم ہے، یعنی مرد کے لئے کسی اجنبی عورت کے جسم کے کسی بھی حصہ پر نظر ڈالنا جائز نہیں ہے ہاں ایک روایت کے مطابق عورت کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر اس کے ستر میں داخل نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اجنبی عورت کا ان اعضاء کا دیکھنا غیر مرد کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وہ مرد جنسی ہیجان سے مامون ہو اگر جنسی ہیجان سے مامون نہ ہو تو پھر اس کے لئے ان اعضاء کا دیکھنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ البتہ کسی خاص ضرورت کے وقت دیکھنا جائز ہوگا خواہ جنسی ہیجان سے مامون ہو یا مثلا گواہ کسی معاملہ میں گواہی کے وقت یا حاکم کسی معاملہ کے فیصلہ کے وقت ہر حالت میں ان اعضاء کو دیکھ سکتا ہے اسی طرح عورت کے ان اعضاء یعنی چہرہ اور ہاتھ پیر کو چھونا غیر مرد کے لئے جائز نہیں ہے اگرچہ وہ جنسی ہیجان سے مامون ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ عورت جوان ہو ہاں اگر عورت اتنی عمر رسیدہ ہو کہ نفسانی خواہش اس کی طرف مائل ہی نہ ہوتی ہو یا اتنا بڈھا ہو کہ خود بھی اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور اس عورت کے نفس کی طرف سے بھی مطمئن ہو تو اس صورت میں ان اعضاء کو چھونا جائز ہوگا۔ مرد کو اپنی بیوی کے جسم کا ہر حصہ دیکھنا جائز ہے اسی طرح اپنی اس لونڈی کا پورا جسم دیکھنا جائز ہے جس سے مجامعت حلال ہو۔ عورت کا ستر اس کے محرم کے حق میں اس کی پیٹھ، پیٹ اور زیرناف سے گھٹنوں کے نیچے تک کا حصہ ہے۔ لہذا کسی عورت کے جسم کے ان حصوں اور اعضاء کو دیکھنا اور چھونا اس کے محرم کے لئے جائز نہیں ہے اگرچہ وہ جنسی ہیجان سے مامون ہی کیوں نہ ہو چونکہ عورت کا سر چنڈلی بازو اور سینا اس کے محرم کے میں ستر نہیں ہے اس لئے ان اعضاء کو محرم دیکھ سکتا ہے بشرطیکہ جنسی ہیجان سے مامون ہو۔ مرد کے حق میں غیر کی لونڈی کا ستر اس کی محرمہ کے ستر کی مانند ہے یعنی پیٹھ، پیٹ اور زیر ناف سے گھٹنوں کے نیچے تک کا حصہ لہذا غیر کی لونڈی کے جسم کے ان حصوں اور اعضاء کو جو اس کے ستر کے حکم میں ہے دیکھنے اور چھونے کے بارے میں وہی تفصیل ہے جو اپنی محرمہ کے جسم کے مستور حصوں کو دیکھنے اور چھونے کی ہے۔ خوبصورت مرد کو نفسانی خواہش کے ساتھ دیکھنا یا اس کو ہاتھ لگانا حرام ہے کسی عورت کو اس سے نکاح کے ارادہ کے وقت یا کسی لونڈی کو اس کی خریداری کے وقت نفسانی خواہش کے خوف کے باوجود دیکھنا یا ہاتھ لگانا جائز ہے۔ غلام اپنی مالکہ یعنی مالک کی بیوی کے حق میں اجنبی مرد کی طرح ہے یعنی جس طرح اس کے لئے اجنبی مرد سے پردہ کرنا ضروری ہے اسی طرح غلام سے بھی پردہ کرنا چاہئے ایسے ہی ہیجڑا اور خواجہ سرا بھی مرد کی مانند ہے۔ علماء فقہ لکھتے ہیں کہ اجنبی عورت پر نظر ڈالنا حرام ہے خواہ یہ نظر ڈالنا نفسانی خواہش کے تحت ہو یا اس کے بغیر۔ دو برہنہ مرد ایک کپڑے میں جمع نہ ہوں کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ دو ننگے مردوں کا ایک کپڑے میں یکجا ہونا یا دو ننگی عورتوں کا ایک کپڑے میں اکٹھا ہونا اگرچہ بحسب عادت کسی برائی کا محل نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود یہ حرام اور مکروہ ہے کیونکہ یہ چیز بہرحال شرم وحیا کے منافی ہے۔
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت گزینی کی ممانعت
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يبتن رجل عند امرأة ثيب إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم . رواه مسلم (2/203) 3102 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم والدخول على النساء فقال رجل : يا رسول الله أرأيت الحمو ؟ قال : الحمو الموت
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خبردار کوئی مرد کسی ثیب عورت کے ساتھ شب نہ گزارے الاّ یہ کہ وہ مرد منکوح یعنی خاوند ہو یا محرم ہو ( مسلم ٩)
تشریح
یہاں رات گزرانے سے مراد تنہائی میں ملنا ہے لہذا اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مرد کسی اجنبی ثیب عورت کے ساتھ کسی جگہ تنہائی میں اکٹھا نہ ہو خواہ رات ہو یا دن ہو۔ ثیب اس عورت کو کہتے میں جس سے جماع ہوچکا ہو یا جو خاوند کرچکی ہو لیکن یہاں ثیب سے مراد جوان عورت ہے خواہ وہ کنواری ہو یا غیر کنواری ہو محرم سے مراد ہے جس سے نکاح کرنا ابدی طور پر ناجائز ہو جیسے بیٹا بھائی اور داماد وغیرہ اگرچہ یہ محرمیت دودھ کے رشتہ ہی کی وجہ سے کیوں نہ ہو۔ اور حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اجنبی عورتوں کے نزدیک جانے سے اجتناب کرو جبکہ وہ تنہائی میں ہوں یا ننگی کھلی بیٹھی ہوں ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! حمو کے بارے میں آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے؟ کی ا ان کے لئے بھی یہ ممانعت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ حمو تو موت ہے (بخاری ومسلم تشریح حمو شوہر کے قرابت داروں کو کہتے ہیں جیسے بھائی یعنی عورت کا دیور وغیرہ ہاں شوہر کا باپ اور شوہر کا بیٹا حمو میں داخل نہیں ہے۔ حمو تو موت ہے، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت انسانی کی ظاہری اور دنیوی زندگی کو ہلاک کردیتی ہے اس طرح حمو کا تنہائی میں غیر محرم عورت کے پاس جانا اس کی دینی اور اخلاقی زندگی کو ہلاکت و تباہی کے راستہ پر ڈال دیتا ہے کیونکہ عام طور پر لوگ غیر محرم عورتوں کے ساتھ حمو کے خلط ملط کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لئے ان کے عورتوں کے پاس آتے جاتے رہنے اور ان کے ساتھ بےمحابا نشست و برخواست رکھنے کی وجہ سے ان کا کسی برائی میں مبتلا ہوجانا زیادہ مشکل نہیں رہتا اس کی وجہ سے فتنے سر ابھارتے ہیں اور نفس برائیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ جملہ الحمو الموت ( یعنی حمو تو موت ہے لفظ موت کا ذکر دراصل اس محاورہ کی بنیاد پر جو اہل عرب کے ہاں عام طور پر کسی خطرناک چیز سے خوف دلانے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ اہل عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ شیر مرگ ہے یا بادشاہ آگ ہے۔ چناچہ ان جملوں کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ شیر کے قریب جانا موت کی آغوش میں چلا جانا ہے یا بادشاہ کی قربت آگ کی قربت کی مانند ہے لہذا ان سے بچنا چاہئے۔
معالج عورت کا جسم دیکھ سکتا ہے
وعن جابر : أن أم سلمة استأذنت رسول الله في الحجامة فأمر أبا طيبة أن يحجمها قال : حسبت أنه كان أخاها من الرضاعة أو غلاما لم يحتلم . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ نے رسول کریم ﷺ سے سینگی کھچوانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے حضرت ابوطیبہ کو سینگی کھینچنے کا حکم دیا حضرت جابر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت ابوطیبہ کو سینگی کھینچنے کا حکم دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت ام سلمہ کے دودھ شریک بھائی تھے یا ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے ( مسلم ٩
تشریح
حضرت جابر کا اپنے گمان کا اظہار کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ام سلمہ کو سینگی کھچوانے کی ضروری حاجت نہیں تھی کیونکہ ضرورت کے وقت اجنبی مرد کے لئے بھی جائز ہے کہ وہ کسی عورت کے سینگی کھینچے اور فصد کھولے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بھی معالج علاج معالجہ کے وقت عورت کے پورے جسم کو دیکھ سکتا ہے۔
کسی اجنبی عورت پر اچانک نظرپڑجانے کا مسئلہ
وعن جرير بن عبد الله قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نظر الفجاءة فأمرني أن أصرف بصري . رواه مسلم
اور حضرت جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے کسی اجنبی عورت پر ناگہاں نظر پڑجانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں اپنی نظر فورًا پھیر لوں (مسلم
تشریح
اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ کسی اجنبی عورت کی طرف دیکھتا نہ رہے بلکہ فورًا اپنی نظر پھیر لے اور پھر دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھے، کیونکہ پہلی نظر جو بلا قصد و ارادہ پڑی ہے معاف ہے مگر فی الفور نظر پھیرلینا چونکہ واجب ہے اس لئے پہلی نظر کے بعد اس عورت کی طرف دیکھتے رہنا گناہ کی بات ہے چناچہ قرآن کریم کی اس آیت میں بھی یہی حکم ہے آیت (قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ) ( 24۔ النور 30) مؤمنوں سے کہدیجئے کہ اپنی نظریں پست کریں،، ہاں کسی ضرورت کے وقت مثلا نکاح وغیرہ کے لئے پہلی نظر کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے اگر کسی عورت کے جسم کے کسی حصے پر زخم وغیرہ ہو یا فصد کھلوانی ہو اور یا جسم کا کوئی حصہ کسی مرض کی وجہ سے معالج کو دیکھنا ہو تو وہ اپنے جسم کے صرف اسی حصہ کو دکھائے جہاں زخم ہو یا جس جگہ فصد کھلوانی ہو اور یا جس حصہ کو دکھانا ضروری ہو اور جس کے باقی حصہ کو کپڑے سے چھپائے رکھے۔
کسی اجنبی عورت کو دیکھ کر برا خیال پیدا ہو تو بیوی کے پاس چلے جانا چاہئے
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المرأة تقبل في صورة شيطان وتدبر في صورة شيطان إذا أحدكم أعجبته المرأة فوقعت في قلبه فليعمد إلى امرأته فليواقعها فإن ذلك يرد ما في نفسه . رواه مسلم
اور حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اور شیطان کی صورت میں جاتی ہے۔ لہذا جب تم میں سے کسی کو کوئی اجنبی عورت اچھی لگے اور وہ اس کے دل میں گھر کرنے لگے تو اسے چاہئے کہ وہ فورًا اپنی بیوی کے پاس چلا جائے اور اس سے مباشرت کرلے کیونکہ یہ مباشرت اس چیز کو ختم کر دے گی جو اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے ( یعنی جنسی خواہش (مسلم
تشریح
عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے الخ یہ دراصل گندے خیالات، برے وسوسوں اور گمراہی میں مبتلا کرنے کے سلسلہ میں عورت کو شیطان کے ساتھ مشابہت دینے کا ایک اسلوب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شیطان انسانوں کے دل و دماغ میں برے خیالات ڈال کر گمراہ کرتا ہے اسی طرح عورت کا جمال مرد کی نظر کو اپنا اسیربنا کر اس کے دل کو بری خواہشات اور گندے خیالات کی گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے لہذا اجنبی عورت کو دیکھنا فتنہ و شر کا باعث بن جاتا ہے اس سے علماء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ عورت کو تو یہ چاہئے کہ وہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے اور کسی ضرورت کے تحت باہر نکلے تو بناؤ سنگار کر کے نہ نکلے اور مرد کو یہ چاہئے کہ وہ اجنبی عورت کی طرف نہ دیکھے اور نہ اس کے کپڑوں کی طرف نظر کرے۔ اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ مرد اپنی بیوی کو مباشرت کے لئے دن میں اپنے پاس بلا لے اگرچہ بیوی کسی ایسے کام میں مشغول ہو جس کو اس وقت چھوڑ دینا ممکن ہو کیونکہ بسا اوقات مرد پر جنسی ہیجان کا غلبہ ہوتا ہے کہ مباشرت میں تاخیر اس کے دل میں اور دماغ میں یا جسم کی کسی تکلیف ومرض کا باعث بن جاتی ہے۔
اپنی منسوبہ کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا مستحب ہے
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا خطب أحدكم المرأة فإن استطاع أن ينظر إلى ما يدعوه إلى نكاحها فليفعل . رواه أبو داود (2/204) 3107 - [ 10 ] ( صحيح ) وعن المغيرة بن شعبة قال خطبت امرأة فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل نظرت إليها ؟ قلت : لا قال : فانظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما . رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ نکاح کا پیغام بھیجے تو اگر وہ اس عورت کے ان اعضاء کو دیکھنے پر قادر ہو جو اس کو نکاح کی رغبت دلاتے ہیں (یعنی ہاتھ اور چہرہ تو ایک نظر دیکھ لے ( ابوداؤد)
تشریح
جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ اپنی منسوبہ کو نکاح کا پیغام بھیجنے سے پہلے ایک نظر دیکھ لینا مستحب ہے کیونکہ اگر وہ عورت پسند آگئی اور طبیعت کو بھا گئی تو اس نکاح کے بعد وہ اس عورت کیوجہ سے بدکاری سے بچا رہے گا جو نکاح کا اصل مقصود ہے اس موقع پر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ایک موقع پر جو یہ فرمایا گیا ہے کہ کسی عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح نہ کیا جائے تو اس حکم کا یہ مقصد نہیں ہے کہ حسن و جمال کو ملحوظ ہی نہ رکھا جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی حسین و جمیل عورت سے نکاح کرنے میں کوئی دینی نقصان و فساد ہو تو اس دینی نقصان کوتاہی سے بالکل صرف نظر کر کے اس سے محض اس بناء پر نکاح نہ کیا جائے کہ وہ حسن و جمال کی حامل ہے۔ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے منگنی کا ارادہ کیا تو رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نے اس عورت کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس عورت کو ایک نظر دیکھ لو کیونکہ دیکھ لینا بہت مناسب و بہتر ہے ( احمد ترمذی نسائی (ابن ماجہ دارمی) تشریح یعنی اگر تم اپنی منسوبہ کو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد اس سے نکاح کرو گے تو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت، الفت بہت زیادہ ہوگی کیونکہ جب منسوبہ کو دیکھ لینے کے بعد نکاح ہوتا ہے تو عام طور پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا اور نہ اپنے اس انتخاب پر کوئی شرمندگی و پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔
کسی اجنبی عورت پر نظرپڑجائے تو فورا اپنی بیوی سے تسکین حاصل کرلو
وعن ابن مسعود قال : رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم امرأة فأعجبته فأتى سودة وهي تصنع طيبا وعندها نساء فأخلينه فقضى حاجته ثم قال : أيما رجل رأى امرأة تعجبه فليقم إلى أهله فإن معها مثل الذي معها . رواه الدارمي
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ کی نظر ایک عورت پر پڑی تو وہ آپ ﷺ کو اچھی لگی چناچہ آپ ﷺ فورًا ام المؤمنین حضرت سودہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور چند عورتیں ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ان عورتوں نے خلوت کردی (یعنی حضرت سودہ کے پاس سے اٹھ کر باہر آگئیں) پھر آپ ﷺ نے اپنی ضرورت پوری کی (یعنی حضرت سودہ سے مجامعت فرمائی) اور فرمایا کہ جس مرد کی کسی ایسی عورت پر نظرپڑ جائے جو اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ فورًا اپنی بیوی کے پاس چلا جائے اور اس کے ذریعہ جنسی تسکین حاصل کرلے تاکہ اس کی جنسی خواہش پوری ہوجائے اور برے خیالات میں مبتلا نہ ہو کیونکہ اس کی بیوی کے پاس بھی وہی چیز ہے جو اس عورت کے پاس ہے ( دارمی)
تشریح
اس عورت پر آنحضرت کی نظر پڑجانا ایک اتفاقی امر تھا جس پر کوئی اختیار نہیں تھا اور پھر اس عورت کا آپ ﷺ کی نظر میں اچھا لگنا انسانی طبیعت وجبلت کا تقاضا تھا جو ایک فطری امر ہے۔
عورت بیگانی نظروں سے چھپنے کی چیز ہے
وعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان . رواه الترمذي
اور حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے چناچہ جب کوئی عورت اپنے پردہ سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو مردوں کی نظر میں اچھا کر کے دکھاتا ہے ( ترمذی)
تشریح
المرأۃ عورۃ۔ کا لفظی ترجمہ ہے عورت ستر ہے یعنی جس طرح ستر (شرمگاہ) کو عام نظروں سے چھپاتی ہے اسی طرح عورت بھی ایک ایسی چیز ہے جس کو بیگانے مرد کی نظروں سے چھپ کر پردہ میں رہنا چاہئے اور جس طرح سب کے سامنے ستر کو کھولنا ایک برا فعل سمجھا جاتا ہے اسی طرح عورت کا بھی لوگوں کے سامنے آنا برا ہے۔
کسی عورت پر اتفاقی نظر پڑجانے کے بعد دوسری نظر ڈالنا جائز نہیں ہے
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والدارمي
اور حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ علی نظر پڑجانے کے بعد پھر نظر نہ ڈالو (یعنی اگر کسی عورت پر ناگہاں ظر پڑجائے تو پھر اس کے بعد دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھو) کیونکہ تمہارے لئے پہلی نظر تو جائز ہے ( جبکہ اس میں قصد و ارادہ کو قطعًا داخل نہ ہو) مگر دوسری نظر جائز نہیں ہے ( احمد ترمذی ابوداؤد دارمی)