Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 156 of 317

3101Mishkaat-al-Masabih

پھوپھیوں کے وارث نہ ہونے کے بارے میں حضرت عمرکا تعجب

وعن محمد بن أبي بكر بن حزم أنه سمع أباه كثيرا يقول : كان عمر بن الخطاب يقول : عجبا للعمة تورث ولا ترث . رواه مالك

اور حضرت محمد بن ابی بکر بن حزم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا جو اکثریہ کہا کرتے تھے کہ حضرت عمر فاروق فرماتے تھے کہ پھوپھی کے بارے میں تعجب ہے کہ اس کا بھتیجا تو اس کا وارث ہوجاتا ہے مگر وہ اپنے بھتیجے کی وارث نہیں ہوتی ( مالک) تشریح حضرت عمر کا یہ تعجب محض عقل و قیاس کی بنیاد پر ہے ورنہ اگر بجاآوری حکم کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے یا یہ بات پیش نظر ہو کہ اس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تو تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی پھوپھی مرجائے تو وہ اپنی پھوپھی کا وارث ہوسکتا ہے اس کے برعکس اگر وہ شخص مرجائے تو اس کی پھوپھی اس کی وارث نہیں ہوسکتی چناچہ حدیث کا یہ مفہوم اور حضرت عمر کا یہ تعجب ان علماء کے مسلک کے مطابق ہے جن کے نزدیک ذوی الارحام میت کے وارث نہیں ہوتے جب کہ پھوپھی ذوی الارحام میں سے ہونے کی وجہ سے ان علماء کے نزدیک اپنے بھتیجے کی وارث ہوسکتی ہے جو ذوی الارحام کو علم فرائض میں مذکورہ تفصیل کے مطابق میت کا وارث قرار دیتے ہیں۔

3102Mishkaat-al-Masabih

فرائض کا علم سیکھنے کا حکم

وعن عمر رضي الله عنه قال : تعلموا الفرائض وزاد ابن مسعود : والطلاق والحج قالا : فإنه من دينكم . رواه الدارمي

اور حضرت عمر فاروق سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ فرائض کے احکام و مسائل سیکھو نیز حضرت بن مسعود نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے طلاق اور حج کے احکام و مسائل بھی سیکھو انہوں نے کہا کہ اس کا سیکھنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ علم تمہاری دینی ضروریات میں سے ہے ( دارمی)

3103Mishkaat-al-Masabih

وصیتوں کا بیان

وصایا وصیت کی جمع ہے خطایا خطیۃ کی جمع ہے وصیت اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے وارثوں سے یہ کہہ جائے کہ میرے مرنے کے بعد یہ فلاں فلاں کام کرنا مثلا میری طرف سے مسجد بنوا دینا، کنواں بنوا دینا، یا مدرسہ اور خانقاہ وغیرہ میں اتنا روپیہ دیدینا یا فلاں شخص کو اتنا روپیہ یا مال دے دینا یا فقراء و مساکین کو طعام وغلہ یا کپڑے تقسیم کردینا وغیرہ وغیرہ اور یا جو فرائض و واجبات مثلًا نماز اور زکوٰۃ وغیرہ اس کی غفلت کی وجہ سے قضاء ہوگئے تھے ان کے بارے میں اپنے ورثاء سے کہے کہ یہ ادا کردینا یا ان کا کفارہ دے دینا اسی طرح بعض مواقع پر وصیت نصیحت کے معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ علماء ظواہر ( یعنی وہ علماء جو بہرصورت قرآن و حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہیں) کے نزدیک وصیت کرنا واجب ہے جبکہ دوسرے تمام علماء کے ہاں پہلے تو وصیت واجب تھی یعنی اپنے اختیار سے والدین اور رشتہ داروں کے لئے اپنے مال و اسباب میں سے حصے مقرر کرنا جانا ہر مال دار پر واجب تھا لیکن جب آیت میراث نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمام حصے متعین ومقرر فرما دئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اسی لئے وارث کے لئے وصیت کرنا درست نہیں ہے البتہ آیت میراث کے بعد بھی تہائی مال میں وصیت کرنے کا اختیار باقی رکھا گیا تاکہ اگر کوئی شخص اپنے آخری وقت میں فی سبیل اللہ مال خرچ کر کے اپنی عمر بھی کی تقصیرات مثلا بخل وغیرہ کا کفارہ اور مکافات کرنا چاہے تو یہ سعادت حاصل کرلے یا اگر اپنے کسی دوست یا دور کے رشتہ دار یا خادم وغیرہ کو کچھ دینا چاہے تو اس تہائی میں سے دیکر اپنا دل خوش کرلے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی قرض وغیرہ ہو یا اس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی ادائیگی و واپسی کی وصیت کر جائے اور اس بارے میں ایک وصیت نامہ لکھ کر اس پر گواہیاں کرا لے۔

3104Mishkaat-al-Masabih

وصیت نامہ لکھ رکھنے کا حکم

عن ابن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصية مكتوبة عنده

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس مسلمان مرد کے مال یا آپسی تعلقات کے معاملے میں کوئی بات وصیت کے قابل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو راتیں بھی وصیت لکھ رکھے بغیر نہ گزارے (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے ذمہ کسی کا کوئی حق ہو یا لوگوں کا کوئی معاملہ اس کے سپرد ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو راتیں گزرنے سے پہلے وصیت نامہ لکھ کر رکھ لے دو راتوں سے مراد عرصہ قلیل ہے یعنی کم سے کم عرصہ بھی ایسا نہ گزرنا چاہئے کہ جس میں وصیت نامہ لکھا ہوا نہ رکھا ہو کیونکہ انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، نہ معلوم کس لمحہ زندگی کا سلسلہ منقطع ہوجائے اور وصیت نامہ کی عدم موجودگی میں ورثاء کے لا علم ہو نیکی وجہ سے حق تلفی کا وبال اس دنیا سے اس کے ساتھ جائے۔ علماء ظواہر اسی حدیث کے پیش نظر وصیت کے واجب ہونے کے قائل ہیں حالانکہ یہ حدیث عمومی طور پر وصیت کے واجب ہونے پر دلالت نہیں کرتی البتہ اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص پر کسی کا قرض ہو یا اس کے پاس کسی کی امانت ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس قرض یا امانت کے بارے میں وصیت کر جائے۔ علماء لکھتے ہیں کہ جس معاملہ میں یعنی قرض اور امانت وغیرہ کے سلسلہ میں وصیت کرنا لازم ہو اس کا وصیت نامہ جلد سے جلد مرتب کرلینا مستحب ہے نیز یہ ضروری ہے کہ وصیت نامہ لکھ کر اس وصیت نامہ پر دو اشخاص کی گواہیاں ثبت کرا دی جائیں۔

3105Mishkaat-al-Masabih

اپنے ترکہ کے تہائی حصہ میں وصیت کی جاسکتی ہے

وعن سعد بن أبي وقاص قال : مرضت عام الفتح مرضا أشفيت على الموت فأتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم يعودني فقلت : يا رسول الله : إن لي مالا كثيرا وليس يرثني إلا ابنتي أفأوصي بمالي كله ؟ قال : لا قلت : فثلثي مالي ؟ قال : لا قلت : فالشطر ؟ قال : لا قلت : فالثلث ؟ قال : الثلث والثلث كثير إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس وإنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا أجرت بها حتى اللقمة ترفعها إلى في امرأتك (2/196) الفصل الثاني (2/196) 3072 - [ 3 ] ( لم تتم دراسته ) عن سعد بن أبي وقاص قال : عادني رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا مريض فقال : أوصيت ؟ قلت : نعم قال : بكم ؟ قلت : بمالي كله في سبيل الله . قال : فما تركت لولدك ؟ قلت : هم أغنياء بخير . فقال : أوص بالعشر فما زالت أناقصه حتى قال : أوص بالثلث والثلث كثير . رواه الترمذي

اور سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال اتنا سخت بیمار ہوا کہ موت کے کنارہ پر پہنچ گیا چناچہ جب رسول کریم ﷺ میری عیادت کے لئے میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس بہت مال ہے مگر ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے تو کیا میں اپنے سارے مال کے بارے میں وصیت کر جاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں پھر میں نے عرض کیا کہ کیا دو تہائی مال کے بارے میں وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا نصف کے لئے فرمایا نہیں، میں نے پوچھا کہ ایک تہائی کے لئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تہائی مال کے بارے میں وصیت کرسکتے ہو اگرچہ یہ بھی بہت ہے اور یاد رکھو اگر تم اپنے وارثوں کو مال دار وخوش حال چھوڑ جاؤ گے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو مفلس چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں جان لو تم اپنے مال کا جو بھی حصہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے جذبہ سے خرچ کرو گے تو تمہیں اس کے خرچ کا ثواب ملے گا یہاں تک کہ تمہیں اس لقمہ کا بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ تک لے جاؤ گے ( بخاری ومسلم) تشریح میرا کوئی وارث نہیں ہے سے حضرت سعد کی مراد یہ تھی کہ ذوی الفروض سے میرا کوئی وارث نہیں ہے یا یہ کہ ایسے وارثوں میں سے کہ جن کے بارے میں مجھے یہ خوف نہ ہو کہ وہ میرا مال ضائع کردیں گے علاوہ ایک بیٹی کے اور کوئی وارث نہیں ہے، حضرت سعد کے اس جملہ کی یہ تاویل اس لئے کی گئی ہے کہ حضرت سعد کے کئی عصبی وارث تھے۔ یہ حدیث جہاں اس بات کی دلیل ہے کہ مال جمع کرنا مباح ہے وہیں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وارثوں کے حق میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس میت کے وارث موجود ہوں تو اس کی وصیت اس کے تہائی مال سے زائد میں جاری نہیں ہوتی، البتہ اگر وہ ورثاء اپنی اجازت و خوشی سے چاہیں تو ایک تہائی سے زائد میں بھی بلکہ سارے ہی مال میں وصیت جاری ہوسکتی ہے بشرطیکہ سب وارث عاقل و بالغ اور موجود ہوں اور جس میت کا کوئی وارث نہ ہو تو اس صورت میں بھی اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ اس کی وصیت بھی ایک تہائی سے زائد میں جاری نہیں ہوسکتی۔ البتہ حضرت امام اعظم اور ان کے متبعین علماء اس صورت میں ایک تہائی سے زائد میں بھی وصیت جاری کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں نیز حضرت امام احمد اور حضرت اسحق کا بھی یہی قول ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ رشتہ داروں اور عزیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ان کے حق میں ہمیشہ خیر خواہی کا جذبہ رکھا جائے اور وارثوں کے تئیں شفقت و محبت ہی کے طریقے کو اختیار کیا جائے علاوہ ازیں اس حدیث سے اور بھی کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ اول یہ کہ اپنا مال غیروں کو دینے سے افضل یہ ہے کہ اس کو اپنے قرابتداروں پر خرچ کیا جائے دوم یہ کہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے سے ثواب ملتا ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی طلب پیش نظر ہو اور سوم یہ کہ اگر کسی مباح کام میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی نیت کرلی جائے تو وہ مباح کام بھی طاعت و عبادت بن جاتا ہے چناچہ بیوی اگرچہ جسمانی و دنیوی لذت و راحت کا ذریعہ ہے اور خوشی ومسرت کے وقت اس کے منہ میں نوالہ دینا محض ایک خوش طبعی ہے جس کا طاعت و عبادت اور امور آخرت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا مگر اس کے باوجود آنحضرت ﷺ نے یہ بتایا کہ اگر بیوی کے منہ میں نوالہ دینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی طلب کی نیت ہو تو اس میں ثواب ملتا ہے لہذا اس کے علاوہ دوسری حالتوں میں تو بطریق اولی ثواب ملے گا۔ الفصل الثانی حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ جب میں بیمار تھا تو رسول کریم ﷺ مجھے پوچھنے آئے چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کتنے مال کی وصیت کا تم نے ارادہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو اللہ کی راہ میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنے کا ارادہ کرلیا ہے آپ نے فرمایا اولاد کے لئے کیا چھوڑا میں نے عرض کیا کہ وہ خود مال دارخوشحال ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وصیت کرنا ہی چاہتے ہو تو اپنے مال کے دسویں حصہ کے بارے میں وصیت کردو حضرت سعد کہتے ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کی بتائی ہوئی اس مقدار کو بار بار کم کہتا رہا تو میرے اصرار پر آپ نے فرمایا کہ اچھا تہائی مال کے بارے میں وصیت کردو اگرچہ یہ تہائی بھی بہت ہے ( ترمذی)

3106Mishkaat-al-Masabih

وارث کے حق میں وصیت درست نہیں

وعن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في خطبته عام حجة الوداع : إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث . رواه أبو داود وابن ماجه وزاد الترمذي : الولد للفراش وللعاهر الحجر وحسابهم على الله (2/196) 3074 - [ 5 ] ( لم تتم دراسته ) ويروى عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة منقطع هذا لفظ المصابيح . وفي رواية الدارقطني : قال : لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة

اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیدیا ہے لہذا وارث کے لئے وصیت نہیں ہے ( ابوداؤد، ابن ماجہ) اور امام ترمذی نے یہ مزید نقل کیا ہے کہ بچہ صاحب فراش کیلئے ہے اور زنا کرنیوالے کے لئے پتھر ہے، نیز ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور حضرت ابن عباس نے نبی کریم ﷺ سے یہ نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا) کہ وارث کے لئے وصیت نہیں ہے مگر جب کہ وارث چاہیں، یہ حدیث منقطع ہے اور یہ مصابیح کے الفاظ ہیں۔ اور دارقطنی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہوتی مگر جب کہ وارث چاہیں۔ تشریح اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیدیا ہے الخ) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ورثاء کے لئے حصے متعین ومقرر فرما دیئے ہیں خواہ وہ کسی وارث کے حق میں یہ وصیت کر بھی جائے کہ اسے دوسرے وارثوں سے اتنا زیادہ حصہ دیا جائے تو شرعی طور پر اس کا کچھ اعتبار نہیں ہاں اگر تمام ورثاء عاقل وبالغ ہوں اور وہ برضاء ورغبت کسی وارث کو میت کی وصیت کے مطابق اس کے حصے سے زیادہ دیدیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں آیت میراث نازل ہونے سے پہلے اپنے اقرباء کے حق میں وصیت کر جانا واجب تھا مگر جب آیت میراث نازل ہوئی اور تمام ورثاء کے حصے متعین و مقرر ہوگئے تو وصیت کا واجب ہونا منسوخ ہوگیا۔ فراض ویسے تو عورت کو کہتے ہیں لیکن یہاں (الولد للفراش) میں فراش سے مراد صاحب فراش یعنی عورت کا مالک ہے۔ حدیث گرامی کے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے اور اس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوجائے تو اس بچہ کا نسب زنا کرنے والے سے قائم نہیں ہوتا بلکہ وہ صاحب فراش کی طرف منسوب ہوتا ہے خواہ وہ صاحب فراش زنا کرانے والی عورت کا خاوند ہو یا لونڈی ہونے کی صورت میں) اس کا آقا ہو اور یا وہ شخص جس نے شبہ میں مبتلا ہو کر اس عورت سے صحبت کرلی تھی۔ اور زنا کرنے والے کے لئے پتھر ہے یہ جملہ زنا کرنیوالے کی محرومی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جیسا کہ ہماری عام بول چال میں کسی ایسے شخص کے بارے میں کہ جسے کچھ نہیں ملتا کہہ دیا کرتے ہیں کہ اسے خاک پتھر ملے گا، لہذا اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زنا کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالے بچہ کا نسب چونکہ زنا کرنیوالے سے قائم نہیں ہوتا اس لئے ولد الزنا کی میراث میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا۔ یا پھر یہ کہ یہاں پتھر سے مراد سنگسار کرنا ہے کہ اس زنا کرنیوالے کو اگر وہ شادی شدہ تھا سنگسار کردیا جائے گا )۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس بدکاری میں مبتلا ہونیوالوں کا حساب و کتاب اللہ پر ہے کہ وہ ہر ایک کو ان کے کرتوت کے مطابق بدلہ دے گا۔ ویسے یہ جملہ ایک دوسرے معنی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور وہ یہ کہ جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو یہاں ہم زنا کرنیوالوں کو سزا دیتے ہیں بایں طور کہ ان پر حد جاری کرتے ہیں اب رہا وہاں یعنی آخرت کا معاملہ تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ومنشاء پر موقوف ہے چاہے تو مؤ اخذہ کرے اور چاہے تو اپنے بےپایاں رحم و کرم کے صدقہ میں انہیں بخش دے۔ مذکورہ بالا عبارت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخص زنا کرے یا کسی اور گناہ میں مبتلا ہو اور اس پر کوئی حد قائم نہ ہو یعنی دنیا میں اسے کوئی سزا نہ دی جائے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے وہ چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے اسے عذاب میں مبتلا کرے۔

3107Mishkaat-al-Masabih

کسی دوسرے کے حق میں وصیت کرکے اپنے ورثاء کا نقصان نہ پہنچاؤ

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الرجل ليعمل والمرأة بطاعة الله ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران في الوصية فتجب لهما النار ثم قرأ أبو هريرة ( من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار ) إلى قوله ( وذلك الفوز العظيم ) رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مرد اور عورت ساٹھ برس تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں مگر جب ان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو وصیت کے ذریعہ وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں لہذا ان کے لئے دوزخ ضروری ہوجاتی ہے، اس کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت کریمہ پڑھی ( وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِھَا اَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَا رٍّ ) 4۔ النساء 12) (یعنی ورثاء اپنے حصے کی وصیت پوری کرنے کے بعد جس کی وصیت کی جائے یا دین کے بعد بشرطیکہ وصیت کرنیوالا کسی کو ضرر نہ پہنچائے،۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت ارشاد ربانی ( ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) 9۔ التوبہ 89) (اور یہ بڑی کامیابی ہے) تک تلاوت کی ہے (ترمذی ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث حقوق العباد کی اہمیت ظاہر کرتی ہے کہ جو لوگ اپنی ساری زندگی عبادت الٰہی میں گزار دیتے ہیں مگر حقوق العباد کو نقصان پہنچانے سے اجتناب نہیں کرتے وہ اپنی تمام عبادتوں کے باوجود اللہ کی ناراضگی کا مورد بن جاتے ہیں چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ساٹھ سال تک عبادت کرتے ہیں مگر اپنی زندگی کے آخری لمحات میں یہ وبال اپنے سر لے لیتے ہیں کہ وہ اپنے مال میں تہائی سے زیادہ کی وصیت کسی غیر شخص کے حق میں کر جاتے ہیں یا اپنا سارا مال کسی ایک وارث کو ہبہ کردیتے تاکہ دوسرے وارثوں کو کچھ نہ ملے اور اس طرح وہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو وہ اتنے طویل عرصہ کی اپنی عبادتوں کے باوجود اپنے آپ کو دوزخ کے عذاب کا سزا وار بنا لیتے ہیں کیونکہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچانا حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے غیر مناسب و ناجائز ہی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی اور اس کی مقررہ ہدایات سے تجاوز بھی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کا ارشاد بیان کرنے کے بعد بطور تائید مذکورہ بالا آیت کریمہ پڑھی کیونکہ اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مورث کو چاہئے کہ وہ اپنے مال کے تہائی حصہ سے زائد کے بارے میں وصیت کر کے اپنے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

3108Mishkaat-al-Masabih

جائز وصیت کر جانیوالے کے لئے بشارت

عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات على وصية مات على سبيل وسنة ومات على تقى وشهادة ومات مغفورا له . رواه ابن ماجه

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص وصیت کر کے مرا یعنی جس شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے مال کا کچھ حصہ اللہ کی راہ میں مثلا فقراء کو دینے کی وصیت کی) تو وہ راہ مستقیم اور پسندیدہ طریقہ پر اور تقوی و شہادت پر مرا یعنی متقیوں اور شہیدوں میں داخل ہوا اور اس حال میں مرا کہ اس کی مغفرت کی گئی ( ابن ماجہ)

3109Mishkaat-al-Masabih

کافروں کو اعمال نیک کا ثواب نہیں پہنچتا

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن العاص بن وائل أوصى أن يعتق عنه مائة رقبة فأعتق ابنة هشام خمسين رقبة فأراد ابنه عمرو أن يعتق عنه الخمسين الباقية فقال : حتى أسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن أبي أوصى أن يعتق عنه مائة رقبة وإن هشاما أعتق عنه خمسين وبقيت عليه خمسون رقبة أفأعتق عنه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه لو كان مسلما فأعتقتم عنه أو تصدقتم عنه أو حججتم عنه بلغه ذلك . رواه أبو داود

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (حضرت شعیب) سے اور شعیب اپنے دادا (حضرت عبداللہ) سے نقل کرتے ہیں کہ عاص بن وائل نے یہ وصیت کی تھی کی میری طرف سے سو غلام آزاد کئے جائیں چناچہ پچاس غلام تو ان کے بیٹے ہشام نے آزاد کردیئے پھر جب ان کے دوسرے بیٹے عمرو نے یہ ارادہ کیا کہ باقی پچاس غلام اس وقت تک آزاد نہیں کروں گا جب تک کہ رسول کریم ﷺ سے نہ پوچھ لوں کہ آیا اپنے دل میں سوچا کہ میں یہ پچاس غلام اس وقت تک آزاد کرنا جائز اور مفید بھی ہے یا نہیں؟ چناچہ عمرو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے باپ عاص نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی طرف سے سو غلام آزاد کئے جائیں لہذا ہشام نے پچاس غلام آزاد کر دئیے ہیں ان پر یعنی ہشام ہی کے ذمہ یا میرے ذمہ پچاس غلام باقی رہ گئے ہیں تو کیا میں اپنے باپ کی طرف سے وہ باقی پچاس غلام آزاد کر دوں؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ تمہارے باپ عاص) اگر مسلمان ہوتے اور تم ان کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا ان کی طرف سے صدقہ کرتے یا ان کی طرف سے حج کرتے تو ان کو اس کا ثواب پہنچتا ( ابوداؤد) تشریح عاص بن وائل نے اسلام کا زمانہ پایا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ اسلام کی دولت سے بہرہ ور نہیں ہو سکے اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے ان کے دو بیٹے تھے ایک حضرت ہشام بن عاص اور دوسرے حضرت عمرو بن عاص ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے راستہ پر گامزن کیا چناچہ یہ دونوں مشرف باسلام ہوئے اور رسول کریم ﷺ کے صحابی ہونے کا اعزاز پایا ؓ آنحضرت ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ تمہارے والد عاص اگر مسلمان ہوتے اور اسلام ہی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوتے تو ان کی طرف سے جو بھی عباد دین کی جاتی اس کا ثواب انہیں پہنچتا لیکن چونکہ وہ مسلمان نہیں ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں اس دنیا سے چلے گئے تو اب تم ان کی طرف سے کوئی بھی عبادت کرو یا کوئی بھی نیک کام کرو اس کا ثواب انہیں نہیں پہنچے گا۔ لہذا حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ وغیرہ کافر کے لئے فائدہ مند نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے اسے عذاب سے نجات ملتی ہے جب کہ یہ مسلمان کے لئے مفید ہے۔

3110Mishkaat-al-Masabih

وارثوں کا حق مارنے والے کے لئے وعید

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة . رواه ابن ماجه (2/197) 3079 - [ 10 ] ورواه البيهقي في شعب الإيمان عن أبي هريرة رضي الله عنه

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا (ابن ماجہ) اور بیہقی نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ نقل کیا ہے۔ تشریح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو جنت کا وارث بنانے کا وعدہ بایں طور کیا ہے کہ (یرثون الفردوس) یعنی وہ مؤمن بہشت کے وارث ہوں گے چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اسی کے پیش نظر فرمایا کہ جو شخص ناجائز طور پر اپنے وارث کو میراث سے محروم کر دے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت کی وارثت سے محروم رکھے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص ابتداء ہی میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا۔

3111Mishkaat-al-Masabih

نکاح کا بیان

نکاح کے لغوی معنی ہیں جمع کرنا لیکن اس لفظ کا اطلاق مجامعت کرنے اور عقد کے معنی پر بھی ہوتا ہے کیونکہ مجامعت اور عقد دونوں ہی میں جمع ہونا اور ملنا پایا جاتا ہے لہذا اصول فقہ میں نکاح کے یہی معنی یعنی جمع ہونا بمعنی مجامعت کرنا مراد لینا چاہئے بشرطیکہ ایسا کوئی قرینہ نہ ہو جو اس معنی کے خلاف دلالت کرتا ہو۔ علماء فقہ کی اصطلاح میں نکاح اس خاص عقد و معاہدہ کو کہتے ہیں جو مرد و عورت کے درمیان ہوتا ہے اور جس سے دونوں کے درمیان زوجیت کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے نکاح کی اہمیت نکاح یعنی شادی صرف دو افراد کا ایک سماجی بندھن، ایک شخصی ضرورت، ایک طبعی خواہش اور صرف ایک ذاتی معاملہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ معاشرہ انسانی کے وجود وبقاء کا ایک بنیادی ستون بھی ہے اور شرعی نقطہ نظر سے ایک خاص اہمیت و فضیلت کا حامل بھی ہے۔ نکاح کی اہمیت اور اس کی بنیادی ضرورت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے شریعت محمدی ﷺ تک کوئی ایسی شریعت نہیں گزری ہے جو نکاح سے خالی رہی ہو اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ ایسی کوئی عبادت نہیں ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک مشروع ہو اور جنت میں بھی باقی رہے سوائے نکاح اور ایمان کے چناچہ ہر شریعت میں مرد و عورت کا اجتماع ایک خاص معاہدہ کے تحت مشروع رہا ہے اور بغیر اس معاہدہ کے مرد و عورت کا باہمی اجتماع کسی بھی شریعت و مذہب نے جائز قرار نہیں دیا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس معاہدہ کی صورتیں مختلف رہی ہیں اور اس کے شرائط و احکام میں تغیر و تبدل ہوتا رہا ہے۔ چناچہ اس بارے میں اسلام نے جو شرائط مقرر کی ہیں جو احکام نافذ کئے ہیں اور جو قواعد و ضوابط وضع کئے ہیں اس باب سے ان کی ابتداء ہو رہی ہے۔ نکاح کے فوائد وآفات نکاح کا جہاں سب سے بڑا عمومی فائدہ نسل انسانی کا بقاء اور باہم توالد وتناسل کا جاری رہنا ہے وہیں اس میں کچھ مخصوص فائدے اور بھی ہیں جن کو پانچ نمبروں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ -1 نکاح کرلینے سے ہیجان کم ہوجاتا ہے یہ جنسی ہیجان انسان کی اخلاقی زندگی کا ایک ہلاکت خیز مرحلہ ہوتا ہے جو اپنے سکون کی خاطر مذہب و اخلاق ہی کی نہیں شرافت و انسانیت کی بھی ساری پابندیاں توڑ ڈالنے سے گریز نہیں کرتا، مگر جب اس کو جائز ذرائع سے سکون مل جاتا ہے تو پھر یہ پابند اعتدال ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جائز ذریعہ صرف نکاح ہی ہوسکتا ہے۔ -2 نکاح کرنے سے اپنا گھر بستا ہے خانہ داری کا آرام ملتا ہے گھریلو زندگی میں سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے اور گھریلو زندگی کے اس اطمینان و سکون کے ذریعہ حیات انسانی کو فکر و عمل کے ہر موڑ پر سہارا ملتا ہے۔ -3 نکاح کے ذریعہ سے کنبہ بڑھتا ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو مضبوط و زبردست محسوس کرتا ہے اور معاشرہ میں اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے اپنا رعب داب قائم رکھتا ہے۔ -4 نکاح کرنے سے نفس مجاہدہ کا عادی ہوتا ہے کیونکہ گھر بار اور اہل و عیال کی خبر گیری و نگہداشت اور ان کی پرورش و پرداخت کے سلسلہ میں جدوجہد کرنا پڑتی ہے اس مسلسل جدوجہد کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بےعملی اور لاپرواہی کی زندگی سے دور رہتا ہے جو اس کے لئے دنیاوی طور پر بھی نفع بخش ہے اور اس کیوجہ سے وہ دینی زندگی یعنی عبادات و طاعات میں بھی چاق و چوبند رہتا ہے۔ -5 نکاح ہی کے ذریعہ صالح و نیک بخت اولاد پیدا ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی شخص کی زندگی کا سب سے گراں مایہ سرمایہ اس کی صالح اور نیک اولاد ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف دنیا میں سکون و اطمینان اور عزت ونیک نامی کی دولت حاصل کرتا ہے بلکہ اخروی طور پر بھی فلاح وسعادت کا حصہ دار بنتا ہے۔ یہ تو نکاح کے فائدے تھے لیکن کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو نکاح کی وجہ سے بعض لوگوں کے لئے نقصان و تکلیف کا باعث بن جاتی ہیں اور جنہیں نکاح کی آفات کہا جاتا ہے چناچہ ان کو بھی چھ نمبروں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ -1 طلب حلال سے عاجز ہونا یعنی نکاح کرنے کی وجہ سے چونکہ گھر بار کی ضروریات لاحق ہوجاتی ہیں اور طرح طرح کے فکر دامن گیر رہتے ہیں اس لئے عام طور پر طلب حلال میں وہ ذوق باقی نہیں رہتا جو ایک مجرد و تنہا زندگی میں رہتا ہے۔ -2 حرام امور میں زیادتی ہونا۔ یعنی جب بیوی کے آجانے اور بال بچوں کے ہوجانے کی وجہ سے ضروریات زندگی بڑھ جاتی ہیں تو بسا اوقات اپنی زندگی کا وجود معیار برقرار رکھنے کے لئے حرام امور کے ارتکاب تک سے گریز نہیں کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ ذہن وعمل سے حلال و حرام کی تمیز بھی اٹھ جاتی ہے اور بلا جھجک حرام چیزوں کو اختیار کرلیا جاتا ہے۔ -3 عورتوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہونا۔ اسلام نے عورتوں کو جو بلند وبالا حقوق عطا کئے ہیں ان میں بیوی کے ساتھ اچھے سلوک اور حسن معاشرت کا ایک خاص درجہ ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہیں جو بیوی کے حقوق کا لحاظ کرتے ہوں بلکہ بدقسمتی سے چونکہ بیوی کو زیردست سمجھ لیا جاتا ہے اس لئے عورتوں کے حقوق کی پامالی اور ان کے ساتھ برے سلوک و برتاؤ بھی ایک ذاتی معاملہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، حالانکہ یہ چیز ایک انسانی اور معاشرتی بد اخلاقی ہی نہیں ہے بلکہ شرعی طور پر بھی بڑے گناہ کی حامل ہے اور اس سے دین و دنیا دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ -4 عورتوں کی بد مزاجی پر صبر نہ کرنا عام طور پر شوہر چونکہ اپنے آپ کو بیوی سے برتر سمجھتا ہے اس لئے اگر بیوی کی طرف سے ذرا سی بھی بدمزاجی ہوئی تو ناقابل برداشت ہوجاتی ہے اور صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے فورا چھوٹ جاتا ہے۔ -5 عورت کی ذات سے تکلیف اٹھانا بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی بدمزاجی و بداخلاقی کی وجہ سے اپنے شوہروں کے لئے تکلیف و پریشانی کا ایک مستقل سبب بن جاتی ہیں اس کی وجہ سے گھریلو ماحول غیر خوشگوار اور زندگی غیر مطمئن و اضطراب انگیز بن جاتی ہے۔ -6 بیوی بچوں کی وجہ سے حقوق اللہ کی ادائیگی سے باز رہنا یعنی ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو اپنی گھریلو زندگی کے استحکام اور بیوی بچوں کے ساتھ حسن معاشرت کے ساتھ ساتھ اپنی دینی زندگی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوں جب کہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ بیوی بچوں اور گھر بار کے ہنگاموں اور مصروفیتوں میں پڑ کر دینی زندگی مضمحل وبے عمل ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ تو عبادات و طاعات کا خیال رہتا ہے نہ حقوق اللہ کی ادائیگی پورے طور پر ہو پاتی ہے۔ نکاح کے ان فوائد وآفات کو سامنے رکھ کر اب یہ سمجھئے کہ اگر یہ دونوں مقابل ہوں یعنی فوائد وآفات برابر، برابر ہوں، تو جس چیز سے دین کی باتوں میں زیادتی ہوتی ہو اسے ترجیح دی جائے مثلا ایک طرف تو نکاح کا یہ فائدہ ہو کہ اس کی وجہ سے جنسی ہیجان کم ہوتا ہے اور دوسری طرف نکاح کرنے سے یہ دینی نقصان سامنے ہو کہ عورت کی بدمزاجی پر صبر نہیں ہو سکے گا تو اس صورت میں نکاح کرنے ہی کو ترجیح دی جائے کیونکہ اگر نکاح نہیں کرے گا تو زنا میں مبتلا ہوجائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ چیز عورت کی بد مزاجی پر صبر نہ کرنے سے کہیں زیادہ دینی نقصان کا باعث ہے۔ نکاح کے احکام -1 حنفی مسلک کے مطابق نکاح کرنا اس صورت میں فرض ہوتا ہے جب کہ جنسی ہیجان اس درجہ غالب ہو کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زنا میں مبتلا ہوجانے کا یقین ہو اور بیوی کے مہر پر اور اس کے نفقہ پر قدرت حاصل نہ ہو اور یہ خوف نہ ہو کہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بجائے اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کا برتاؤ ہوگا۔ -2 نکاح کرنا اس صورت میں واجب ہوجاتا ہے جب کہ جنسی ہیجان کا غلبہ ہو مگر اس درجہ کا غلبہ نہ ہو کہ زنا میں مبتلا ہوجانے کا یقین ہو، نیز مہر و نفقہ کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہو اور بیوی پر ظلم کرنے کا خوف نہ ہو۔ اگر کسی شخص پر جنسی ہیجان کا غلبہ تو ہو مگر وہ مہر اور بیوی کے اخراجات کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر وہ نکاح نہ کرے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا جب کہ مہر اور نفقہ پر قادر شخص جنسی ہیجان کی صورت میں نکاح نہ کرنے سے گناہ گار ہوتا ہے۔ -3 اعتدال کی حالت میں نکاح کرنا سنت مؤ کدہ ہے اعتدال کی حالت سے مراد یہ ہے کہ جنسی ہیجان کا غلبہ تو نہ ہو لیکن بیوی کے ساتھ مباشرت و مجامعت کی قدرت رکھتا ہو اور مہر و نفقہ کی ادائیگی پر بھی قادر ہو۔ لہذا اس صورت میں نکاح نہ کرنیوالا گنہگار ہوتا ہے جب کہ زنا سے بچنے اور افزائش نسل کی نیت کے ساتھ نکاح کرنیوالا اجر وثواب سے نوازا جاتا ہے۔ -4 نکاح کرنا اس صورت میں مکروہ ہے جب کہ بیوی پر ظلم کرنے کا خوف ہو یعنی اگر کسی شخص کو اس بات کا خوف ہو کہ میرا مزاج چونکہ بہت برا اور سخت ہے اس لئے میں بیوی پر ظلم و زیادتی کروں گا تو ایسی صورت میں نکاح کرنا مکروہ ہے -5 نکاح کرنا اس صورت میں حرام ہے جبکہ بیوی پر ظلم کرنے کا یقین ہو یعنی اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو کہ میں اپنے مزاج کی سختی وتندی کی وجہ سے بیوی کے ساتھ اچھا سلوک قطعا نہیں کرسکتا بلکہ اس پر میری طرف سے ظلم ہونا بالکل یقینی چیز ہے تو ایسی صورت میں نکاح کرنا اس کے لئے حرام ہوگا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ شریعت نے نکاح کے بارے میں مختلف حالات کی رعایت رکھی ہے بعض صورتوں میں تو نکاح کرنا فرض ہوجاتا ہے بعض میں واجب اور بعض میں سنت مؤ کدہ ہوتا ہے جب کہ بعض صورتوں میں نکاح کرنا مکروہ بھی ہوتا ہے اور بعض میں تو حرام ہوجاتا ہے لہذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اسی صورت کے مطابق عمل کرے جو اس کی حالت کے مطابق ہو۔ نکاح کے مستحبات جب کوئی شخص نکاح کرنا چاہے خوہ مرد ہو یا عورت تو چاہئے کہ نکاح کا پیغام دینے سے پہلے ایک دوسرے کے حالات کی اور عادات واطوار کی خوب اچھی طرح جستجو کرلی جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی ایسی چیز معلوم ہو جو طبیعت ومزاج کے خلاف ہو نیکی وجہ سے زوجین کے درمیان ناچاقی وکشیدگی کا باعث بن جائے۔ یہ مستحب ہے کہ عمر، عزت، حسب اور مال میں بیوی خاوند سے کم ہو اور اخلاق و عادات خوش سلیقی وآداب حسن و جمال اور تقوی میں خاوند سے زیادہ ہو اور مرد کے لئے یہ بھی مسنون ہے کہ وہ جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اس کو نکاح سے پہلے دیکھ لے بشرطیکہ یہ یقین ہو کہ میں اگر اس کو پیغام دوں گا تو منظور ہوجائے گا۔ مستحب ہے کہ نکاح کا اعلان کیا جائے گا اور نکاح کی مجلس اعلانیہ طور پر منعقد کی جائے جس میں دونوں طرف سے اعزہ و احباب نیز بعض علماء وصلحا بھی شریک۔ اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ نکاح پڑھانے والا نیک بخت و صالح ہو اور گواہ عادل وپرہیزگارہوں۔ ایجاب و قبول اور ان کے صحیح ہونے کی شرائط نکاح ایجاب و قبول کے ذریعہ منعقد ہوتا ہے اور ایجاب و قبول دونوں ماضی کے لفظ کے ساتھ ہونے چاہئیں (یعنی ایسا لفظ استعمال کیا جائے جس سے یہ بات سمجھی جائے کہ نکاح ہوچکا ہے) جیسے عورت یوں کہے کہ میں نے اپنے آپ کو تمہاری زوجیت میں دیا، یا عورت کا ولی، مرد سے یہ کہے کہ میں نے فلاں عورت کا جس کا نام یہ ہے، تمہارے ساتھ نکاح کیا اور اس کے جواب میں مرد یہ کہے کہ میں نے منظور کیا یا ایجاب میں سے کوئی ایک ماضی کے لفظ کے ساتھ ہو جیسے عورت یہ کہے کہ مجھ سے نکاح کرلو یا عورت کا ولی، مرد سے یہ کہے کہ فلاں عورت سے جس کا نام یہ ہے نکاح کرلو اور اس کے جواب میں مرد یہ کہے کہ میں نے نکاح کرلیا۔ یا اس کا برعکس ہو، جیسے مرد یہ کہے کہ میں نے تمہارے ساتھ اپنا نکاح کرلیا اور اس کے جواب میں عورت یہ کہے کہ میں منظور کرتی ہوں اور اگر مرد، عورت سے یوں کہے کہ کیا تم نے اپنے آپ کو میری زوجیت میں دیا؟ یا کہے کہ کیا تم نے مجھے قبول کیا اور اس کے جواب میں عورت ( ہاں میں نے دیا یا ہاں میں نے قبول کیا کہنے کی بجائے) صرف یہ کہے کہ ہاں دیا۔ یا ہاں قبول کیا ( یعنی لفظ میں نہ کہے) تو اس صورت میں بھی نکاح ہوجاتا ہے۔ البتہ گواہوں کے سامنے صرف یہ کہنے سے کہ ہم بیوی خاوند ہیں، نکاح نہیں ہوتا۔ جس طرح ایجاب و قبول میں ماضی کا لفظ استعمال کرنا ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ایجاب و قبول میں خاص کر نکاح اور تزوجی کا لفظ استعمال کیا جائے مثلا یوں کہا جائے کہ میں نے تمہارے ساتھ نکاح کیا یا تمہارے ساتھ تزویج کیا۔ یا نکاح وتزویج کے ہم معنی کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا جائے مثلا یوں کہا جائے کہ میں نے تمہارے ساتھ نکاح کیا یا تہارے ساتھ تزویج کیا یا نکاح وتزویج کے ہم معنی کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا جائے جو نکاح کا مطلب صراحۃ ادا کرتا ہو جیسے مرد یوں کہے کہ میں نے تمہیں اپنی بیوی بنا لیا یا یوں کہے کہ میں تمہارا شوہر ہوگیا یا یوں کہے کہ تم میری ہوگئیں۔ اور نکاح وتزویج یا اس کا ہم معنی لفظ صراحۃً استعمال نہ کیا جائے بلکہ کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جائے جس سے کنیۃً نکاح کا مفہوم سمجھا جاتا ہو تو یہ بھی جائز ہے بشرطیکہ وہ لفظ ایسا ہو جس کے ذریعہ سے کسی ذات کامل کی ملکیت فی الحال حاصل کی جاتی ہو جیسے ہبہ کا لفظ یا صدقہ کا لفظ یا تملیک کا لفظ یا بیع وشراء کا لفظ جیسے بیوی یوں کہے کہ میں نے اپنی زوجیت تمہیں ہبہ کردی، یا میں نے اپنی ذات تمہیں بطور صدقہ دیدی یا میں نے تمہیں اپنی ذات کا مالک بنادیا یا یوں کہے کہ میں نے تمہیں اس قدر روپیہ کے عوض خرید لیا اور ان سب کے جواب میں مرد یہ کہے کہ میں نے قبول کیا، لیکن اس کے صحیح ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ متکلم نے اس لفظ سے نکاح مراد لیا ہو اور کوئی قرینہ اس پر دلالت کرتا ہو اور اگر کوئی قرینہ نہ ہو تو قبول کرنیوالے نے متکلم کی مراد کی تصدیق کردی ہو نیز گواہوں نے بھی سمجھ لیا ہو کہ اس لفظ سے مراد نکاح ہے خواہ انہوں نے کسی قرینہ سے سمجھا ہو یا بتادینے سے سمجھا ہو۔ ایجاب و قبول کے وقت عاقدین ( دولہا دولہن) میں سے ہر ایک کے لئے دوسرے کا کلام سننا ضروری ہے خواہ وہ بالاصالۃ ( یعنی خود) سنیں خواہ بالوکالۃ ( یعنی ان کے وکیل سنیں) اور خواہ بالولایۃ سنیں (یعنی ان کا ولی سنے) ایجاب و قبول کے وقت دو گواہوں کی موجودگی نکاح صحیح ہونے کی شرط ہے اور یہ گواہ خواہ دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہو، گواہوں کا آزاد ہونا ضروری ہے لونڈی یا غلام گواہوں کی گواہی معتبر نہیں ہوگی، اسی طرح گواہوں کا عاقل اور مسلمان ہونا بھی ضروری ہے مسلمانوں کی گواہی ہر حال میں کافی ہوگی خواہ وہ پرہیزگار ہوں یا فاسق ہوں اور خواہ ان پر حد قذف لگائی جا چکی ہو۔ گواہوں کا بینا ہونا یا زوجین کا رشتہ دار نہ ہونا شرط نہیں ہے، چناچہ اندھو کی گواہی اور زوجین کے رشتہ داروں کی گواہی معتبر ہوگی خواہ وہ زوجین کے یا ان میں سے کسی ایک کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں، گواہوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ دونوں ایجاب و قبول کے الفاظ کو ایک ساتھ سنیں اور سن کر یہ سمجھ لیں کہ نکاح ہو رہا ہے گو ان الفاظ کے معنی نہ سمجھیں ( مثلا ایجاب و قبول کسی ایسی زبان میں ہو جسے وہ نہ جانتے ہوں) اگر دونوں گواہ ایجاب و قبول کے الفاظ ایک ساتھ نہ سنیں بلکہ الگ الگ سنیں تو نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص سے کہا کہ میری فلانا بالغ لڑکی کا نکاح فلاں شخص کے ساتھ کردو اور اس شخص نے اس لڑکی کا نکاح اس باپ اور ایک دوسرے مرد کی موجودگی میں کیا تو یہ جائز ہوگا لیکن اگر باپ موجودہ ہو تو پھر دونوں مردوں یا ایک مرد اور عورتوں کی موجودگی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوگا۔

3112Mishkaat-al-Masabih

جوانوں کو نکاح کرنے کا حکم

عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء

حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو شخص مجامعت کے لوازمات (یعنی بیوی بچوں کا نفقہ اور مہر ادا کرنے) کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ نکاح کرلے کیونکہ نکاح کرنا نظر کو بہت چھپاتا ہے اور شرم گاہ کو بہت محفوظ رکھتا ہے ( یعنی نکاح کرلینے سے اجنبی عورت کی طرف نظر مائل نہیں ہوتی اور انسان حرام کاری سے بچتا ہے) اور جو شخص جماع کے لوازمات کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ رکھنا اس کے لئے خصی کرنے کا فائدہ دے گا (یعنی جس طرح خصی ہوجانے سے جنسی ہیجان ختم ہوجاتا ہے اسی طرح روزہ رکھنے سے بھی جنسی ہیجان ختم ہوجاتا ہے (بخاری ومسلم) تشریح اس خطاب عام کے ذریعہ نبی کریم ﷺ نے جوانوں کو نکاح کی ترغیب دلاتے ہوئے نکاح کے دو بڑے فائدے ظاہر فرمائے ہیں ایک تو یہ کہ انسان نکاح کرنے سے اجنبی عورتوں کی طرف نظر بازی سے بچتا ہے اور دوسری طرف حرام کاری سے محفوظ رہتا ہے۔ جوانی کی حد انسان بالغ ہونے کے بعد جوان کہلاتا ہے لیکن جوانی کی یہ حد کہاں تک ہے؟ اس میں اختلاف ہے چناچہ امام شافعی کے نزدیک جوانی کی حد تیس برس کی عمر تک ہے جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک انسان چالیس برس کی عمر تک جوان کہلانے کا مستحق رہتا ہے۔

3113Mishkaat-al-Masabih

تبتل کی ممانعت

وعن سعد بن أبي وقاص قال : رد رسول الله صلى الله عليه و سلم على عثمان ابن مظعون التبتل ولو أذن له لاختصينا

اور حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون کو تبتل (یعنی نکاح ترک کرنے) سے منع کردیا تھا اگر آنحضرت ﷺ ان کو تبتل کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی خصی ہوجاتے ( بخاری ومسلم) تشریح تبتل کے معنی ہیں عورتوں سے انقطاع اور ترک نکاح، نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین) کے ہاں تبتل ایک اچھا اور پسندیدہ فعل ہے کیونکہ ان کے نزدیک دینداری کی آخری حد یہ ہے کہ انسان عورتوں سے اجتناب کرے اور نکاح وغیرہ سے پرہیز کرے۔ لیکن جس طرح عیسائیت یا بعض دوسرے مذاہب میں نکاح کو ترک کردینا اور لذائذ زندگی سے کنارہ کش ہوجانا عبادت اور نیکی وتقوی کی آخری حد سمجھا جاتا ہے اس طرح کی کوئی بات اسلام میں نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامیہ نے نکاح کو انسانی زندگی کے لئے ایک ضرورت قرار دے کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ لذائذ زندگی سے مکمل کنارہ کشی اور خود ساختہ تکالیف برداشت کرنا عبادت نہیں ہے بلکہ رہبانیت ہے جسے اس دین فطرت میں کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ ہاں امام شافعی اتنا ضرور کہتے ہیں کہ بغیر نکاح زندگی گزارنا افضل ہے لیکن امام شافعی کا یہ قول بھی نکاح کے بارے میں شریعت اسلامیہ کے بنیادی منشاء کے منافی نہیں ہے کیونکہ اول تو اس کا تعلق صرف فضیلت سے ہے اور دوسرے یہ کہ یہ فضیلت بھی نفس نکاح یعنی کرنے یا نہ کرنے) کے بارے میں نہیں ہے بلکہ صرف تخلی للعبادۃ (یعنی عبادت کے لئے مجرد رہنا) کے نکتہ نظر سے ہے گویا امام شافعی کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ عبادات میں مشغول رہنا نکاح کی مشغولیت سے افضل ہے۔ چناچہ ملا علی قاری نے مرقات میں امام شافعی کی دلیلیں نقل کرنے کے بعد امام اعظم ابوحنیفہ کی بہت سی دلیلیں نقل کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ تجرد بغیر نکاح رہنے کے مقابلہ میں تاہل نکاح کرنا ہی افضل ہے۔ بہرکیف حضرت عثمان بن مظعون نے جب آنحضرت ﷺ سے تبتل کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا کیونکہ اسلام مسلمانوں کے ہاں نکاح کے ذریعہ افزائش نسل کو پسند کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ اللہ کے حقیقی نام لیوا موجود رہیں اور وہ ہمیشہ کفر و باطل کے خلاف جہاد کرتے رہیں۔ اسی سلسلہ میں حدیث کے راوی حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے یہ کہا کہ اگر آنحضرت ﷺ حضرت عثمان کو تبتل کی اجازت دیدیتے تو ہم سب اپنے آپ کو خصی کر ڈالتے تاکہ ہمیں عورتوں کی ضرورت نہ پڑتی اور نہ ہمیں عورتوں سے متعلق کسی برائی میں مبتلا ہونے کا خوف رہتا۔ طیبی کہتے ہیں کہ اس موقع کے مناسب تو یہ تھا کہ حضرت سعد یہ کہتے کہ آنحضرت ﷺ حضرت عثمان کو تبتل کی اجازت دیدیتے تو ہم بھی تبتل کرتے۔ مگر حضرت سعد نے یہ کہنے کی بجائے یہ کہا کہ ہم سب اپنے آپ کو خصی کر ڈالتے لہذا حضرت سعد نے یہ بات دراصل بطور مبالغہ کہی یعنی اپنی اس بات سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر آنحضرت ﷺ حضرت عثمان کو اجازت دے دیتے تو ہم بھی تبتل میں اتنا مبالغہ اور اتنی سخت کوشش کرتے کہ آخر کار خصی کی مانند ہوجاتے۔ گویا اس جملہ سے حضرت سعد کی مراد حقیقۃً خصی ہوجانا نہیں تھا کیونکہ یہ فعل یعنی اپنے آپ کو خصی کر ڈالنا جائز نہیں ہے۔ اور علامہ نووی کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے یہ بات اس وجہ سے کی کہ ان کا گمان یہ تھا کہ خصی ہوجانا جائز ہے حالانکہ انکا یہ گمان حقیقت و واقعہ کے خلاف تھا کیونکہ خصی ہوجانا انسان کے لئے حرام ہے خواہ چھوٹی عمر کا ہو یا بڑی عمر کا اس موقع پر جانوروں کے بارے میں جان لینا چاہئے کہ ہر اس جانور کو خصی کرنا حرام جو غیر ماکول یعنی کھایا نہ جاتا ہو اور جو جانور کھایا جاتا ہے اس کو خصی کرنا چھوٹی عمر میں تو جائز ہے لیکن بڑی عمر میں حرام ہے۔ جانوروں کو خصی کرنے کے بارے میں مذکورہ بالا تفصل علامہ نووی شافعی نے لکھی ہے جب کہ فقہ حنفی کی کتابوں اور مختار اور ہدایہ میں بڑی عمر اور چھوٹی عمر کی تفصیل کے بغیرصرف یہ لکھا ہے کہ جانوروں کو خصی کرنا جائز ہے۔

3114Mishkaat-al-Masabih

دیندار عورت سے نکاح کرنا بہتر ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تنكح المرأة لأربع : لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك (2/198) 3083 - [ 4 ] ( صحيح ) وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدنيا كلها متاع وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة . رواه مسلم (2/199) 3084 - [ 5 ] ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی عورت سے نکاح کرنے کے بارے میں چار چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اول اس کا مالدار ہونا دوم اس کا حسب نسب والی ہونا سوم اس کا حسین و جمیل ہونا اور چہارم اس کا دین دار ہونا لہذا دیندار عورت کو اپنا مطلوب قرار دو اور خاک آلودہ ہوں تیرے دونوں ہاتھ ( بخاری ومسلم) تشریح حسب ونسب والی سے مراد وہ عورت ہے جو نہ صرف اپنی ذات میں شرف و بلندی اور وجاہت رکھتی ہو بلکہ وہ جس خاندان و قبیلہ کی فرد ہو وہ خاندان و قبیلہ بھی عزت و وجاہت اور شرف و بلندی کا حامل ہو چناچہ انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسی عورت سے بیاہ کرے جو باحیثیت و باعزت خاندان و قبیلہ کی فرد ہو تاکہ اس عورت کی وجہ سے اپنی اولاد کے نسب میں شرف و بلندی کا امتیاز حاصل ہو۔ بہرکیف حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ عورت سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں مذکورہ چار چیزوں کو بطور خاص ملحوظ رکھتے ہیں کہ کوئی شخص تو مالدار عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگ اچھے حسب ونسب کی عورت کو بیوی بنانا پسند کرتے ہیں بہت سے لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ایک حسین و جمیل عورت ان کی رفیقہ حیات بنے اور کچھ نیک بندے دین دار عورت کو ترجیح دیتے ہیں لہذا دین و مذہب سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ دین دار عورت ہی کو اپنے نکاح کے لئے پسند کرے کیونکہ اس میں دنیا کی بھی بھلائی ہے اور آخرت کی بھی سعادت ہے۔ اور خاک آلودہ ہوں تیرے دونوں ہاتھ ویسے تو یہ جملہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے ذلت و خواری اور ہلاکت کی بددعا کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہاں اس جملہ سے یہ بددعا مراد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد دین دار عورت کو اپنا مطلوب قرار دینے کی ترغیب دلانا ہے۔

3115Mishkaat-al-Masabih

قریش کی نیک بخت عورتوں کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير نساء ركبن الإبل صالح نساء قريش أحناه على ولد في صغره وأرعاه على زوج في ذات يده

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اونٹوں پر سوار ہونیوالی بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو چھوٹے بچوں پر بہت شفیق ہوتی ہیں اور اپنے شوہر کے اس مال کی جو ان کے قبضہ میں ہوتا ہے بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں ( بخاری ومسلم) تشریح اونٹوں پر سوار ہونیوالی عورتوں سے مراد عرب کی عورتیں کیونکہ عرب کی عورتیں عام طور پر اونٹ کی سواری کی عادی ہوتی تھیں لہذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ عرب کی عورتوں میں بہترین عورتیں قریش کی نیک بخت عورتیں ہیں۔

3116Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کا فتنہ زیادہ نقصان دہ ہے

وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تركت بعدي فتنة أضر على الرجال من النساء

اور حضرت حضرت اسامہ ابن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد ایسا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے جو مردوں کے حق میں عورتوں کے فتنہ سے زیادہ ضرر رساں ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مردوں کے حق میں عورتوں کے فتنے کو سب سے زیادہ ضرررساں اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ اول تو مردوں کی طبائع عام طور پر عورتوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں دوسرے یہ کہ مرد عام طور پر عورتوں کی خواہشات کے زیادہ پابند ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حارم امور میں گرفتار ہوتے ہیں اور عورتوں ہی کی وجہ سے آپس کے لڑائی جھگڑے نفرت و عداوت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ چناچہ اس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ عورتیں ہی ہیں جن کی بےجا نازبرداریاں مردوں کو دنیا داری کی طرف راغب کرتی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ دنیاداری سے زیادہ اور کون سی چیز ضرررساں ہوسکتی ہے کیونکہ سرکار دوعالم ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ حب الدنیا رأس کل خطیئۃ دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ ارشاد گرامی اپنے بعد سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عورتوں کے فتنے آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں کم تھے اور ان کا زیادہ ظہور آپ ﷺ کے بعد ہوا کیونکہ اس وقت حق کا غلبہ تھا اور نیکی کی طاقت تمام برائیوں کو دبائے ہوئے تھی جب کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آہستہ آہستہ باطل کی قوت بڑھتی گئی اور برائیوں کا غلبہ ہوتا گیا۔

3117Mishkaat-al-Masabih

عورت کے فتنہ سے بچو

وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الدنيا حلوة خضرة وإن الله مستخلفكم فيها فينظر كيف تعملون فاتقوا الدنيا واتقوا النساء فإن أول فتنة بني إسرائيل كانت في النساء . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنیا شیریں اور سبز جاذب نظر ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس دنیا کا خلیفہ بنایا ہے اس لئے وہ ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس دنیا میں کس طرح عمل کرتے ہو لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں کے فتنہ سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کا باعث سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کی صورت میں تھا ( مسلم) تشریح دنیا شیریں اور سبز ہے، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شیرنی طبیعت کے لئے ایک مرغوب چیز ہوتی ہے اور اس طرح سبز چیز آنکھوں کو بہت بھاتی ہے اسی طرح دنیا بھی دل کو بہت پیاری لگتی ہے اور آنکھوں کو بھی بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا کا خلیفہ بنایا ہے الخ، کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہی اس کا حقیقی مالک وحاکم ہے تمہیں اس نے زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر گویا اس دنیا کے تصرفات میں تمہیں اپنا وکیل بنایا ہے لہذا اللہ تعالیٰ تمہیں ہر وقت دیکھتا ہے کہ تم اس زمین پر اس کے بار خلافت کو کس طرح اٹھا رہے ہو اور اپنی عملی زندگی کے ذریعہ تصرفات دنیا میں حق وکالت کس طرح ادا کر رہے ہو؟ یا اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کا خلیفہ وارث بنایا ہے، لہذا ان کے پاس جو کچھ تھا وہ سب تمہیں دیدیا ہے اور اب وہ تمہیں دیکھتا ہے کہ تم اپنے اسلاف کے احوال و کوائف سے کس طرح عبرت پکڑتے ہو اور ان کے اموال و میراث میں کس طرح تصرف و انتظام کرتے ہو۔ دنیا سے بچو الخ، کا مطلب یہ ہے کہ دنیا مکروفریب کا بچھا ہوا ایک جال ہے اس جال سے حتی الامکان بچتے رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جال میں پھنس کر دنیا کے ظاہری مال وجاہ پر اپنی دینداری گنوا بیٹھو کیونکہ دنیا کو ثبات نہیں ہے یہ ایک فنا ہو جانیوالی چیز ہے پھر اس فناء کے بعد کل جب تم ہمیشہ کی زندگی کے لئے اٹھائے جاؤ گے تو اس کی حلال چیزوں کا حساب دینا ہوگا اور اس کی حرام چیزوں پر عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے۔ اسی طرح عورتوں کے مکروفریب سے بھی بچتے رہو، کیونکہ ایک مشت خاک کا یہ دل فریب مجسمہ جہاں نیک عورت کی صورت میں اللہ کی ایک نعمت ہے وہیں بری عورت کے روپ میں فتنہ عالم بھی ہے ایسا نہ ہو کہ بری عورتوں کی مکاریاں یا اپنی بیویوں کی بےجانازبرداریاں تمہیں ممنوع و حرام چیزوں کی طرف مائل کردیں اور ان کی وجہ سے تم تباہی و ہلاکت کی کھائیوں میں دکھیل دئیے جاؤ۔ بنی اسرائیل پر تباہی کے دروازے کھولنے والا پہلا فتنہ عورت تباہیوں کے دروازے کھلنے کا پہلا سبب اور ذریعہ بنا۔ چناچہ اس کی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک شخص جس کا نام بلعم بن باعور تھا۔ بہت مستجاب الدعوات تھا، اسے اسم اعظم یاد تھا جس کے ذریعہ وہ اپنی ہر دعا مقبول کرا لیتا تھا، چناچہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جباروں سے لڑنے کے لئے علاقہ شام میں واقع بنی کنعان کے ایک حصہ میں خیمہ زن ہوئے تو بلعم کی قوم کے لوگ بلعم کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے پیروکاروں کا ایک عظیم لشکر لے کر ہمیں قتل کرنے اور اس علاقہ سے نکالنے کے لئے آئے ہیں تم ان کے لئے کوئی ایسی بددعا کرو کہ وہ یہاں سے واپس بھاگ جائیں۔ بلعم نے جواب دیا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تم وہ نہیں جانتے بھلا میں اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) اور اس کے ماننے والوں کے حق میں بددعا کیسے کرسکتا ہوں؟ اگر میں ان کے لئے بددعا کرتا ہوں تو میری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔ جب اس قوم کے لوگوں نے بہت منت سماجت کی اور وہ بددعا کرنے پر اصرار کرتے رہے تو بلعم نے کہا کہ اچھا میں استخارہ کروں گا اور دیکھوں گا کہ کیا حکم ہوتا ہے پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کروں گا۔ بلعم کا یہ معمول تھا کہ وہ بغیر استخارہ کوئی بھی کام نہیں کرتا تھا چناچہ اس نے جب استخارہ کیا تو خواب میں اسے ہدایت کی گئی کہ پیغمبر اور مؤمنوں کے حق میں ہرگز بددعا مت کرنا! بلعم نے اس خواب سے اپنی قوم کو مطلع کیا اور بددعا نہ کرنے کے لئے اپنے ارادہ کا پھر اظہار کیا قوم کے لوگوں نے غور و فکر کے بعد ایک طریقہ اختیار کیا کہ اور وہ یہ کہ وہ لوگ اپنے ساتھ بیش قیمت تحفے لے کر بلعم کے پاس آئے اور پھر اس کے سامنے بہت ہی زیادہ منت سماجت کی، روئے گڑگڑائے اور اسے اتنا مجبور کیا کہ آخر کار وہ ان کے جال میں پھنس ہی گیا چناچہ وہ بددعا کرنے کی غرض سے اپنے گدھے پر سوار ہو کر جستان پہاڑ کی طرف چلا جس کے قریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا لشکر مقیم تھا، راستہ میں کئی مرتبہ گدھا گرا جسے وہ مار مار کر اٹھاتا رہا یہاں تک کہ جب یہ سلسلہ دراز ہوا اور بلعم بھی اپنے گدھے کو مار مار کر اٹھاتا ہوا پریشان ہوگیا تو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے گدھے کو گویائی عطاء کی چناچہ گدھا بولا کہ نادان بلعم! تجھ پر افسوس ہے کیا تو یہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں جا رہا ہے تو مجھے آگے چلانے کی کوشش کر رہا ہے اور ملائکہ میرے آگے آ کر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں بلعم نے جب چشم حیرت سے گدھے کو بولتے دیکھا تو بجائے اس کے کہ اس تنبیہ پر اپنے ارادہ سے باز آجاتا گدھے کو وہیں چھوڑا پیادہ یا پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں بددعا کرنے لگا مگر یہاں بھی قدرت الٰہی نے اپنا یہ کرشمہ دکھایا کہ بلعم اپنی بددعا میں جب بھی حضرت موسیٰ اور ان کے لشکر کا نام لینا چاہتا اس کی زبان سے بنی اسرائیل کے بجائے بلعم کی قوم کا نام نکلتا۔ یہ سن کر اس کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ بلعم یہ کیا حرکت ہے بنی اسرائیل کی بجائے ہمارے حق میں بددعا کر رہے ہو؟ بلعم نے کہا کہ اب میں کیا کروں یہ حق تعالیٰ میرے قصد و ارادہ کے بغیر میری زبان سے تمہارا نام نکلوا رہا ہے۔ لیکن بلعم پھر بھی اپنی بددعا سے باز نہ آیا اور اپنی سی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ عذاب الٰہی کی وجہ سے بلعم کی زبان اس کے منہ سے نکل کر سینہ پر آ پڑی پھر تو گویا بلعم کی عقل بالکل ہی ماری گئی اور دیوانہ وار کہنے لگا کہ لو اب تو میری دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہوگئی اس لئے اب ہمیں بنی اسرائیل کی تباہی کے لئے کوئی دوسرا جال تیار کرنا پڑے گا۔ پھر اس نے مشورہ دیا کہ تم لوگ اپنی اپنی عورتوں کو اچھی طرح آراستہ پیراستہ کر کے اور ان کے ہاتھو میں کچھ چیزیں دے کر ان چیزوں کو فروخت کرنے کے بہانہ سے عورتوں کو بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دو اور ان سے کہ دو کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص تمہیں اپنے پاس بلائے تو انکار نہ کرنا یاد رکھو اگر بنی اسرائیل میں سے ایک بھی شخص کسی عورت کے ساتھ بدکاری میں مبتلا ہوگیا تو تہاری ساری کوششیں کامیاب ہوجائیں گی۔ چناچہ بلعم کی قوم نے اس مشورہ پر عمل کیا اور اپنی عورتوں کو بنا سنوار کر بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دیا وہ عورتیں جب لشکر میں پہنچیں اور ان میں سے ایک عورت جس کا نام کسی بنت صور تھا، بنی اسرائیل کے ایک سردار زمزم بن شلوم نامی کے سامنے سے گزری تو وہ اس عورت کے حسن و جمال کا اسیر ہوگیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لے گیا اور ان سے کہنے لگا کہ کیا آپ اس عورت کو میرے لئے حرام قرار دیتے ہیں؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ہاں، اس عورت کے پاس ہرگز مت جانا تو زمزم نے کہا کہ میں اس بارے میں آپ کا حکم نہیں مانوں گا چناچہ وہ اس عورت کو اپنے خیمہ میں لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ منہ کالا کیا بس پھر کیا تھا حکم الٰہی نے قہر کی شکل اختیار کرلی اور اس سردار کی شامت عمل سے ایک ایسی وبا پورے لشکر پر نازل ہوئی کہ آن کی آن میں ستر ہزار آدمی ہلاک و تباہ ہوگئے ادھر جب فحاص کو کہ جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کا پوتا اور ایک قوی ہیکل آدمی تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نگہبان تھا یہ معلوم ہوا کہ ہمارے ایک سردار کی شامت عمل نے قہر الٰہی کو دعوتی دیدی ہے تو فورًا اپنا ہتھیار لے کر زمزم کے خیمہ میں داخل ہوا اور پلک جھپکتے ہی زمزم اور اس عورت کا کام تمام کر ڈالا اور پھر بولا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی شخص کی وجہ سے ہم سب کو ہلاک وتباہ کردیا ہے چناچہ ان دونوں کے قتل ہوتے ہی وہ وباء جو عذاب الٰہی کی صورت میں نازل ہوئی تھی ختم ہوگئی۔

3118Mishkaat-al-Masabih

وہ تین چزیں جن میں نحوست ہوتی ہے

وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشؤم في المرأة والدار والفرس . متفق عليه . وفي رواية : الشؤم في ثلاثة : في المرأة والمسكن والدابة

اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عورت گھر اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے عورتوں میں، مکان میں اور جانور میں ( بخاری ومسلم) تشریح شوم ضد ہے یمن کی جس کے معنی ہیں بےبرکتی اور اسی کو نحوست کہتے ہیں، لہذا حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی تو تفصیل کے ساتھ سمجھ لیجئے کہ نحوست سے کیا مراد ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ گھر کی نحوست سے گھر کی تنگی اور بری ہمسائیگی مراد ہے یعنی جو گھر تنگ و تاریک ہو اور اس کا پڑوس برا ہو تو وہ گھر تکلیف و پریشانی کا باعث ہوجاتا ہے عورت کی نحوست سے مہر کی زیادتی اور اس کی بدمزاجی و زبان درازی اور بانجھ پن مراد ہے یعنی جس عورت کا مہر زیادہ مقرر کیا گیا ہو وہ بد مزاجی وتند خو زبان دراز ہو اور یہ کہ بانجھ ہو تو ایسی عورت راحت و سکون کی بجائے اذیت وکوفت کا ذریعہ بن جاتی ہے اسی طرح گھوڑے کی نحوست سے اس کا شوخ ہونا مٹھا قدم ہونا اور اس پر وار ہو کر جہاد نہ کیا جانا مرا ہے یعنی جو گھوڑأ ایسا ہو کہ اپنی خوشی کی وجہ سے پریشان کرتا ہو، سست رفتار ہوا اور مٹھا ہو اور اس پر سوار ہو کر جہاد کرنے کی بھی نوبت نہ آئی ہو تو وہ گھوڑا اپنے مالک کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ کچھ علماء یہ کہتے ہیں کہ ان تین چیزوں میں نحوست کے اظہار کرنے کا مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ اگر بالفرض کسی چیز میں نحوس کا ہونا اپنی کوئی حقیقت رکھتا تو ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی گویا اس تشریح سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کسی چیز میں نحوست کا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا چناچہ یہ کہنا کہ فلاں چیز منحوس ہے یا فلاں چیز میں نحوست ہے صرف ایک واہمہ کے درجہ کی چیز ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر واقعۃً نحوست کسی چیز میں ہوا کرتی تو ان تین چیزوں میں ضرور ہوتی کیونکہ یہ تین چیزیں نحوست کے قابل ہوسکتی تھی۔ چناچہ یہ ارشاد ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر کے دائرہ سے باہر ہوتی تو وہ نظربد تھی یعنی کائنات کی ہر جنبش و حرکت اور یہاں کا ذرہ ذرہ پابند تقدیر ہے اس عالم میں صرف وہی ظہور میں آتا ہے جو پہلے سے مقدر ہوچکا ہو کوئی چیز تقدیر سے باہر نہیں ہے اور اگر بفرض محال کوئی چیز مقدرات کے دائرہ سے باہر ہوتی تو وہ نظربد ہے ( کہ جسے عام طور پر نظر لگنا کہتے ہیں) لہذا جس طرح اس ارشاد کا مقصد یہ ظاہر کرنا نہیں ہے کہ نظربد تقدیر کے دائرہ کار سے باہر ہے اسی طرح مذکورہ بالا تینوں چیزوں کے ساتھ نحوس کا ذکر کرنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کے ذریعہ دراصل امت کے لوگوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس ایسا مکان ہو جس میں رہنا وہ ناپسند کرتا ہو یا کسی کی ایسی بیوی ہو جس کے ساتھ صحبت و مباشرت اسے ناگوار ہو یا کسی کے پاس ایسا گھوڑا ہو جو اسے اچھا معلوم نہ ہوتا ہو تو ان صورتوں میں یہ چیزیں چھوڑ دینی چاہئیں یعنی مکان والا اس مکان سے منتقل ہوجائے بیوی والا اس کو طلاق دیدے اور گھوڑے والا اس گھوڑے کو بیچ دے۔ حدیث کی ان توضیحات کی روشنی میں یہ بات صاف ہوگئی کہ یہ ارشاد گرامی طیرۃ منہی عنہا ( بد شگونی لینے کی ممانعت کے منافی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ جو یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ یہ مکان منحوس ہے یا فلاں عورت یا فلاں گھوڑا سبز قدم ہے تو یہ بات یہاں مراد نہیں ہے۔

3119Mishkaat-al-Masabih

اپنے نکاح کے لئے کنواری عورت کو ترجیح دو

وعن جابر : قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزوة فلما قفلنا كنا قريبا من المدينة قلت : يا رسول الله إني حديث عهد بعرس قال : تزوجت ؟ قلت : نعم . قال : أبكر أم ثيب ؟ قلت : بل ثيب قال : فهلا بكرا تلاعبها وتلاعبك . فلما قدمنا لندخل فقال : امهلوا حتى ندخل ليلا أي عشاء لكي تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک جہاد میں ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے چناچہ جب ہم ( جہاد سے) واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میری نئی شادی ہوئی تھی ( کہ میں جہاد میں چلا گیا اب اگر حکم ہو تو میں آگے چلا جاؤں تاکہ اپنے گھر جلد سے جلد پہنچ سکوں) آپ ﷺ نے فرمایا تم نے نکاح کیا ہے میں نے عرض کیا کہ ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا بیوی کنواری تھی یا بیوہ تھی؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ تھی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو تم نے کنواری سے کیوں نکاح نہیں کیا؟ تاکہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی پھر جب ہم مدینہ پہنچ گئے اور ہم سب نے اپنے اپنے گھروں میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی ٹہر جاؤ ہم رات میں (یعنی شام کے وقت) گھروں میں داخل ہوں گے تاکہ جس عورت کے بال پراگندہ ہوں وہ کنگھی چوٹی کرلے اور وہ عورت جس کا خاوند موجود نہیں تھا ( بلکہ ہمارے ساتھ جہاد میں گیا تھا) اپنے زائد بال صاف کرلے (بخاری ومسلم) تشریح تم اس کے ساتھ کھیلتے الخ، سے آپ کی بےتکلفی اور کمال الفت ورغبت مراد ہے مطلب یہ ہے کہ کنواری عورت سے نکاح کرنے میں آپس کی زندگی زیادہ الفت ورغبت کے ساتھ گزرتی ہے اور بےتکلفی اور چاہت زیادہ ہوتی ہے اس کے برخلاف بیوہ عورت جب کسی دوسرے کی زوجیت میں آتی ہے چونکہ اس کا دل پہلے خاوند کی یاد کی کسک محسوس کرتا ہے دوسرے یہ کہ اگر رہن سہن اور میل ملاپ میں اس دوسرے خاوند کو اپنے پہلے خاوند کی طرح نہیں پاتی تو اس کی طبیعت اچاٹ ہوجاتی ہے ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اتنی زیادہ بےتکلف اور خوش مزاج ثابت نہیں ہوتی جتنی ایک کنواری عورت ہوتی ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں میں جانے میں جلدی نہ کرو بلکہ کچھ دیر توقف کرو تاکہ تمہاری بیویاں رات سے پہلے اپنا بناؤ سنگھار کر کے تمہاری مجامعت کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیں اور جب تم رات میں ان کے پاس پہنچو تو تمہیں کسی قسم کا کوئی تکدر اور کوئی بےلطفی نہ ہو۔ اس موقع پر یہ خلجان پیدا ہوسکتا ہے کہ دوسری حدیثوں میں تو اپنے گھر واپس آنیوالے مسافر کو رات کے وقت گھر میں داخل ہونے سے منع فرمایا گیا ہے جب کہ یہاں رات کے وقت گھروں میں داخل ہونے کو فرمایا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ گھر لوٹنے والے مسافر کو رات کے وقت گھر میں داخل ہونے کی جو ممانعت ہے اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ بغیر اطلاع کے یکایک گھر میں چلا جائے اور اگر گھر والوں کو پہلے سے اطلاع ہو جیسا کہ اس موقع پر ہوا تو اس صورت میں رات کے وقت اپنے گھر میں داخل ہونا ممنوع نہیں ہوگا۔

3120Mishkaat-al-Masabih

وہ تین شخص جن کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة حق على الله عونهم : المكاتب الذي يريد الأداء والناكح الذي يريد العفاف والمجاهد في سبيل الله . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایسے تین شخص ہیں جن کی مدد اللہ پر اس کے وعدہ کے مطابق واجب ہے ایک تو وہ مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو دوسرا وہ نکاح کرنیوالا شخص جو حرام کاری سے بچنے کی نیت رکھتا ہو اور تیسرا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنیوالا۔ تشریح مکاتب اس غلام کو کہتے تھے جس کا آقا اس سے یہ کہہ دیتا تھا کہ اگر تم مجھے اتنا روپیہ کما کر دیدو گے تو تم آزاد ہوجاؤ گے۔ اسی طرح روپیہ کی وہ مقدار جو اس غلام کا آقا آزادی کے لئے ضروری قرار دیتا تھا بدل کتابت کہلاتی تھی۔