Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 120 of 317

2381Mishkaat-al-Masabih

شرک سے بچنے والے کو بخشش کی بشارت

وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قرأ ( هو أهل التقوى وأهل المغفرة ) قال : قال ربكم أنا أهل أن أتقى فمن اتقاني فأنا أهل أن أغفر له . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی (هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ) 74۔ المدثر 56) وہی صاحب تقویٰ ہے اور صاحب بخشش ہے پھر آپ ﷺ نے اس کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا کہ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ میری شان کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ میرے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے پرہیز کریں لہٰذا جو شخص شرک سے بچتا ہے تو پھر میرے لائق یہی ہوتا ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی) مذکورہ بالا آیت کا مضمون اس آیت کے مضمون کی مانند ہے۔ آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَا ءُ ) 4۔ النساء 116)۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اس شرک کے علاوہ ہر گناہ کو جس کے لئے چاہے معاف کردیتا ہے۔

2382Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کا استغفار وتوبہ

وعن ابن عمر قال : إن كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه و سلم في المجلس يقول : رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور مائة مرة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم یہ شمار کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ ایک مجلس میں سو مرتبہ یہ کہا کرتے تھے۔ دعا (رب اغفر لی وتب علی انک انت التواب الغفور) میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما بلاشبہ تو ہی بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)

2383Mishkaat-al-Masabih

استغفار صدق دل سے کرو

وعن بلال بن يسار بن زيد مولى النبي صلى الله عليه و سلم قال : حدثني أبي عن جدي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قال : أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه غفر له وإن كان قد فر من الزحف . رواه الترمذي وأبو داود لكنه عند أبي داود هلال بن يسار وقال الترمذي : هذا حديث غريب

نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید ؓ کے پوتے حضرت بلال بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت یسار ؓ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی جسے انہوں نے میرے دادا حضرت زید ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے یعنی حضرت زید ؓ رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص یہ کہے دعا ( استغفر اللہ الذی لا الہ الاھوالحی القیوم واتوب الیہ) میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں وہ اللہ کہ نہیں کوئی معبود علاوہ اس کے جو زندہ ہے اور خبر گیری کرنے والا ہے تو اس کی بخشش کی جاتی ہے اگرچہ وہ جہاد سے بھاگا ہوا ہو (جو ایک بہت بڑا گناہ ہے) اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے لیکن ابوداؤد کے نزدیک بلال بن یسال کی بجائے ہلال بن یسار ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح کوئی بھی دعا ہو، کوئی بھی ذکر اور کوئی بھی عمل ہو جب نیت و مقصد کا اخلاص اور دل کی تڑپ و لگن زبان کی ہمنوا نہ ہو اس دعا کا اثر ہوتا ہے اور نہ اس کا ذکر و عمل، اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ جب بھی استغفار پڑھا جائے تو صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ گناہ سے استغفار کرنے والا درآنحالیکہ وہ اس گناہ پر قائم ہو اپنے پروردگار سے ٹھٹھول کرنے والا ہے۔ (نعوذباللہ)

2384Mishkaat-al-Masabih

اپنے مرحومین کے لئے استغفار کرو

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل ليرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة فيقول : يا رب أني لي هذه ؟ فيقول : باستغفار ولدك لك . رواه أحمد

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ عزوجل جنت میں اپنے نیک بخت و صالح کا درجہ بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے میرے پروردگار مجھے یہ درجہ کیسے حاصل ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتا تیرے لئے تیرے بیٹے کے استغفار کی وجہ سے۔ (احمد)

2385Mishkaat-al-Masabih

مردوں کے لئے بہترین ہدیہ استغفار

وعن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما الميت في القبر إلا كالغريق المتغوث ينتظر دعوة تلحقه من أب أو أم أو أخ أو صديق فإذا لحقته كان أحب إليه من الدنيا وما فيها وإن الله تعالى ليدخل على أهل القبور من دعاء أهل الأرض أمثال الجبال وإن هدية الأحياء إلى الأموات الاستغفار لهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قبر میں مردہ کی حالت ایسی ہے جیسا کہ کوئی شخص ڈوب رہا ہو اور کسی کو پکار رہا ہو کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر پانی سے باہر نکالے چناچہ وہ مردہ ہر وقت اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ اس کے باپ کی طرف سے یا اس کی ماں کی طرف سے یا اس کے بھائی کی طرف سے یا اس کے دوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے پس جب اسے کسی کی طرف سے دعا پہنچتی ہے تو یہ دعا کا پہنچنا اس کے لئے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قبر والوں کی طرف سے دعا کا ثواب پہاڑ کی مانند (یعنی بہت زیادہ ثواب اور رحمت و بخشش) پہنچاتا ہو اور زندوں کی طرف سے مردوں کے لئے بہترین ہدیہ استغفار ہے۔

2386Mishkaat-al-Masabih

استغفار کی فضیلت

وعن عبد الله بن يسر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى لمن وجد في صحيفته استغفارا كثيرا . رواه ابن ماجه وروى النسائي في عمل يوم وليلة

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خوش بختی ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے نامہ اعمال میں بہت استغفار کی یعنی مقبول استغفار پایا ابن ماجہ اور نسائی نے اس روایت کو اپنی کتاب عمل یوم ولیلۃ میں نقل فرمایا ہے۔ تشریح استغفار کی فضیلت کے سلسلہ میں یہ حدیث بھی بڑی ہی خوش کن ہے جسے بزاز نے حضرت انس ؓ سے بطریق مرفوع روایت کیا ہے کہ اعمال لکھنے والے دونوں فرشتے جب بندے کا اعمال نامہ لے کر اوپر جاتے ہیں تو حق تعالیٰ اس اعمال نامہ کے اول و آخر میں استغفار دیکھ کر فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندے کے وہ تمام گناہ بخش دئیے۔ جو اس نامہ اعمال کے دونوں کناروں کے درمیان ہیں۔ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص صبح وشام استغفار کرتا ہے اسے یہ فضیلت وسعادت حاصل ہوتی ہے۔

2387Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی ایک دعا

وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساؤوا استغفروا . رواه ابن ماجه والبيهقي في الدعوات الكبير

حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کریں تو خوش ہوں اور برائی کریں تو استغفار کریں۔ (ابن ماجہ، بیہقی)

2388Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے

وعن الحارث بن سويد قال : حدثنا عبد الله بن مسعود حديثين : أحدهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم والآخر عن نفسه قال : إن المؤمن يرى ذنوبه كأنه قاعد تحت جبل يخاف أن يقع عليه وإن الفاجر يرى ذنوبه كذباب مر على أنفه فقال به هكذا أي بيده فذبه عنه ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لله أفرح بتوبة عبده المؤمن من رجل نزل في أرض دوية مهلكة معه راحلته عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته فطلبها حتى إذا اشتد عليه الحر والعطش أو ما شاء الله قال : أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه فأنام حتى أموت فوضع رأسه على ساعده ليموت فاستيقظ فإذا راحلته عنده عليها زاده وشرابه فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من هذا براحلته وزاده . روى مسلم المرفوع إلى رسول صلى الله عليه و سلم منه فحسب وروى البخاري الموقوف على ابن مسعود أيضا

حضرت حارث بن سوید (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے مجھ سے دو حدیثیں بیان کیں ایک تو انہوں نے رسول کریم سے نقل کی اور دوسری اپنی طرف سے بیان کی چناچہ انہوں نے فرمایا مومن اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھاہو اور خوفزدہ ہو کہ پہاڑ اس کے اوپر نہ گرپڑے اور فاجر اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے اس مکھی کو جو اس کی ناک پر اڑے اور وہ اس کی طرف اس طرح یعنی اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے اور اسے اڑا دے حاصل یہ کہ مومن گناہ سے بہت ڈرتا ہے اور اسے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں میں اس گناہ کی پاداش میں پکڑا نہ جاؤں اس لئے اس کی نظر میں چھوٹے سے چھوٹے گناہ بھی وہی اہمیت رکھتے لیکن فاجر اپنے گناہوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اس کی نظر میں بڑے سے بڑے گناہ کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنے سفر کے دوران کسی ایسے ہولناک میدان میں اترے جہاں سبزہ و درخت کا نام و نشان تک نہ ہو اور اس کے ساتھ جو سواری ہو اس پر اس کے کھانے پینے کا سامان ہو پھر وہ استراحت کے لئے وہیں زمین پر سر رکھ کر ایک نیند سو گیا ہو اور جب جاگنے کے بعد اسے معلوم ہو کہ سامان سے لدی ہوئی اس کی سواری گم ہوگئی ہے تو وہ اس کی تلاش میں ہوگیا ہو یہاں تک کہ گرمی کی تپش اور پیاس کی شدت اور گرمی اور پیاس کے علاوہ دوسری تکلیف اور پریشانی کی ان چیزوں نے جو اللہ کو منظور تھیں اس پر غلبہ پا لیا ہو تو اس نے کہا ہو کہ میں اپنی جگہ لوٹ چلوں جہاں میں سر رکھ کر سویا تھا وہیں سو جاؤں تاکہ نیند کی حالت میں میرا خاتمہ ہوجائے چناچہ وہ اپنے بازو پر سر رکھ کر موت کے انتظار میں سو رہا ہو کہ اس کی آنکھ کھل جائے اور اچانک وہ دیکھے کہ اس کی سواری اس کے سامنے موجود ہو جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان موجود تھا پس اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کی توبہ کی وجہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری اور اپنے کھانے پینے کا سامان پا کر خوش ہوتا ہے۔ مسلم نے ان دونوں روایتوں میں سے صرف اس روایت کو نقل کیا ہے جسے ابن مسعود ؓ نے آنحضرت ﷺ سے نقل کیا (یعنی جس میں مومن بندہ کی توبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کا بیان ہے) اور اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے جسے ابن مسعود ؓ نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے اور جس میں گناہ کے بارے میں مومن اور فاجر کے فرق کو بیان کیا گیا ہے۔ اور بخاری نے اس روایت کو بھی نقل کیا ہے جسے ابن مسعود ؓ نے اپنی طرف سے بیان کیا ہے حاصل یہ کہ حدیث مرفوع کو تو بخاری ومسلم دونوں نے نقل کیا ہے لیکن حدیث موقوف کو صرف بخاری نے نقل کیا ہے۔ تشریح پہلی فصل میں بھی اس قسم کی حدیث گزر چکی ہے وہاں بھی بتایا گیا ہے کہ بندہ کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ خوش ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ سے راضی ہوتا ہے اور اس کی توبہ قبول کرتا ہے گویا اس حدیث سے اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔ آیت ( اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّ وَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ) 2۔ البقرۃ 222)۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ حضرت امام غزالی فرماتے ہیں کہ ایک بہت بڑے عالم با عمل حضرت استاد ابی اسحق اسفرائی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے مسلسل تیس برس تک یہ دعا کی کہ مجھے توبہ نصوح کی سعادت سے بہرہ مند فرمائے لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی میں نے اپنے دل میں بہت تعجب کیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی پاک اور مستغنی ہے کہ میں نے تیس برس تک اپنی ایک خواہش کی تکمیل کی دعا کی لیکن وہ بارگاہ الوہیت میں قبولیت سے نہیں نوازی گئی کہ جب ہی میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھ سے کہہ رہا ہے تمہیں اس بات پر تعجب ہے کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ تم مانگ کیا رہے ہو؟ تمہاری دعا کا حقیقی منشاء تو یہی ہے کہ اللہ تمہیں دوست اور محبوب نہ رکھے؟ تو کیا تم نے اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت نہیں سنی کہ آیت (ان اللہ یحب التوابین ویحت المتطہرین) لہٰذا اس خواہش کی تکمیل نہ صرف یہ کہ بہت ہی آسان ہے بلکہ اس کی بشارت بھی دی جا چکی ہے۔

2389Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے

وعن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يحب العبد المؤمن المفتن التواب

حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو بہت دوست رکھتا ہے جو گناہ میں مبتلا ہوتا ہے اور بہت زیادہ توبہ کرتا ہے۔ تشریح یہ منشاء نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسے دوست رکھتا ہے جی نہیں بلکہ گناہوں پر نادم وشرمندہ ہونے سے اور توبہ کرنے کی وجہ سے دوست رکھتا ہے۔

2390Mishkaat-al-Masabih

آیت لاتقنطوا من رحمۃ اللہ کی فضیلت

وعن ثوبان قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما أحب أن لي الدنيا بهذه الآية ( يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا ) الآية فقال رجل : فمن أشرك ؟ فسكت النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : ألا ومن أشرك ثلاث مرات

حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے میں اس آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ) 39۔ الزمر 53) کے مقابلہ میں اپنے لئے تمام دنیا کا حصول بھی پسند نہیں کرتا ایک شخص نے پوچھا کہ جس شخص نے شرک کیا کیا وہ بھی اس آیت کی بشارت کا مستحق ہے؟ نبی کریم ﷺ نے کچھ دیر خاموشی اختیار فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے کے بعد یا پھر غور و فکر کر کے جواب دیں پھر وحی آنے کے یا خود اپنے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا جان لو! جس شخص نے شرک کیا اور اپنی زندگی ہی میں اس سے توبہ کرلی اور پھر اس کی توبہ قبول بھی ہوئی تو وہ بھی اس آیت کی بشارت کا مستحق ہے یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ تشریح آپ ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ تھا کہ اگر اس آیت کریمہ کے مقابلہ میں مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزیں بھی دے دی جائیں اور میں دنیا کی ان تمام چیزوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں اور جن چیزوں سے لذت حاصل کی جاسکتی ہے ان سے لذت حاصل کروں تو بھی میں اسے پسند نہیں کروں گا کیونکہ اس آیت کریمہ میں گناہ سے مغفرت و بخشش کی سب سے عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے جو اسی ایک دنیا نہیں بلکہ اس جیسی سینکڑوں دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ گراں قدر ہے۔ پوری آیت کریمہ یہ ہے۔ (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ) 39۔ الزمر 53)۔ اے میرے وہ بندو جنہوں نے گناہوں کے ذریعہ اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید و مایوس نہ ہو بلاشک اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔ اسی مضمون کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان اشعار کے ذریعہ ادا کیا ہے۔ ایا صاحب الذنب لاتقنطن فان الالہ رؤوف رؤوف اے گنہگار شخص ناامید اور مایوس مت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے بڑا ہی مہربان۔ ولا ترحلن بلا عدۃ فان الطریق مخوف مخوف بغیر زاد راہ کے کوچ نہ کر۔ کیونکہ راستہ بڑا دہشناک ہے بڑا ہی دہشتناک اور پھر ایک شاعر نے اسی بات کو یوں کہا ہے غافل مرد کہ مرکب مردان مردرا درسنگ لاخ بادیہ پیمابرفیدہ اند نومید ہم مباش کہ رنداں بادہ نوش ناگہ بیک خردش بمنزل رسیدہ اند

2391Mishkaat-al-Masabih

شرک، اللہ کی رحمت اور بندہ کے درمیان پردہ ہے

وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى ليغفر لعبده ما لم يقع الحجاب . قالوا : يا رسول الله وما الحجاب ؟ قال : أن تموت النفس وهي مشركة روى الأحاديث الثلاثة أحمد وروى البيهقي الأخير في كتاب البعث والنشور

حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے گناہوں میں سے جنہیں چاہتا ہے ان کو بخشتا ہے جب تک بندہ اور رحمت حق کے درمیان پردہ حائل نہ ہو، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پردہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ آدمی شرک کرتا ہے (یعنی مشرک مرے) مذکورہ بالا تینوں روایتیں امام احمد نے نقل کی ہیں۔ نیز یہ آخری روایت کتاب البعث والنشور میں نقل کی ہے۔

2392Mishkaat-al-Masabih

بارگاہ حق میں شرک کے علاوہ ہر گناہ قبل عفو ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لقي الله لا يعدل به شيئا في الدنيا ثم كان عليه مثل جبال ذنوب غفر الله له . رواه البيهقي في كتاب البعث والنشور

حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے (یعنی اس حال میں مرے) کہ وہ دنیا میں اللہ کی مانند کسی کو نہ مانتا ہو (یعنی شرک میں مبتلا نہ ہو) تو اگر مرنے کے بعد اس کے اوپر پہاڑی کی مانند بھی گناہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو اس کے ان سب گناہوں کو بخش دے گا۔ (بیہقی)

2393Mishkaat-al-Masabih

توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے والے کی مانند ہے

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التائب من الذنب كمن لا ذنب له . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان وقال تفرد به النهراني وهو مجهول . وفي ( شرح السنة ) روي عنه موقوفا قال : الندم توبة والتائب كمن لا ذنب له

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا گناہوں سے صحیح اور پختہ توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ (بیہقی) بیہقی نے کہا ہے کہ اس روایت کو صرف نہروانی نے نقل کیا ہے سو وہ مجہول ہیں، نیز بغوی نے شرح السنۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت موقوف نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا گناہوں پر شرمندگی اور پشیمانی کا مطلب توبہ ہے اور توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ تشریح یہ بات جان لینی چاہئے کہ جب کوئی گنہگار شخص صدق دل کے ساتھ اپنے گناہ پر شرمندہ ونادم ہوتا ہے اور شرائط معتبرہ کے ساتھ توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ قبول ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں رہتا کیونکہ خود حق تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ۔ آیت (وھو الذی یقبل التبوۃ عن عبادہ)۔ اور اللہ ایسا ہے جو اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اور استغفار جو توبہ کے بغیر ہو اور جس کا تعلق اللہ کے سامنے اپنے عجز و انکساری اور کسر نفسی کے اظہار سے ہو کبھی تو گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور کبھی نہیں مٹاتا لیکن اس پر بہر صورت ملتا ہے گویا اس کا انحصار مشیت ایزدی پر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے استغفار کے ذریعہ گناہ کو دور کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے دور نہیں کرتا لیکن ثواب دونوں صورتوں میں دیتا ہے۔

2394Mishkaat-al-Masabih

رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان

مشکوۃ اکثر نسخوں میں اس موقع پر صرف باب لکھا ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس باب میں ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے جن کا تعلق گزشتہ ابواب سے ہے اور بعض نسخوں میں یہاں یہ عنوان قائم کیا گیا ہے باب فی سعۃ رحمۃ یعنی رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان۔

2395Mishkaat-al-Masabih

اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما قضى الله الخلق كتب كتابا فهو عنده فوق عرشه : إن رحمتي سبقت غضبي . وفي رواية غلبت غضبي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب میثاق کے دن مخلوقات کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا (یا یہ کہ جب مخلوقات کو پیدا کرنا شروع کیا) تو ایک کتاب لکھی (یعنی فرشتوں کو وہ کتاب لکھنے کا حکم دیا یا قلم کو لکھنے کا حکم فرمایا) وہ کتاب حق تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر ہے اس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ بلاشبہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح جس کتاب میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت عظمی لکھی ہوئی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس کتاب کی عظمت و بزرگ قدری کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کتاب کی اس عظیم و بزرگ قدری کے پیش نظر حق تعالیٰ نے اس کو اپنے پاس عرش کے اوپر رکھا ہے۔ رحمت الٰہی کی سبقت اور اس کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی بخشش و کرم اور اس کی نعمتوں کی نشانیاں اور اس کے مظاہرے غالب ہیں کہ وہ تمام مخلوقات کو گہیرے ہوئے ہیں اور بےانتہا ہیں اس کے مقابلہ میں اس کے غضب کی نشانیاں اور اس کے مظاہر کم ہیں جیسا کہ خود حق تعالیٰ کا ارشد ہے۔ آیت (وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے۔ نیز فرمایا۔ آیت (عذابی اصیب بہ من اشاء ورحمتی وسعت کل شیئ)۔ عذاب تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ کائنات کا کوئی فرد اس سے باہر نہیں ہے اور اس دنیاوی زندگی کا ایک ایک لمحہ کسی نہ کسی شکل میں رحمت الٰہی ہی کا مرہون منت ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں بندوں کی طرف سے خدائے رحیم وکریم کی نعمتوں اور رحمتوں کے شکر کی ادائیگی میں جتنی کوتاہی اور قصور ہوتا ہے اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (ولو یؤ اخذ اللہ الناس بظلمہم ماترک علی ظہرہا من دابۃ)۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کے سبب ان سے مواخذہ کرنے لگے تو اس کے نتیجہ میں ایک بھی جاندار روئے زمین پر نہ چھوڑے۔ چناچہ یہ بھی حق تعالیٰ کی رحمت کا ہی ظہور ہے کہ بندوں کی تمام کو تاہیوں اور خطاؤں کے باوجود اس دنیا میں ان کو باقی رکھتا ہے اور ان کو روزی دیتا ہے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کرتا ہے اور اس دنیا میں ان کو عذاب ومواخذہ میں مبتلا نہیں کرتا یہ تو اس دنیا کا معاملہ ہے کہ یہاں حق تعالیٰ کی رحمت کا ظہور کس کس طرح اور کن کن صورتوں میں سامنے آتا ہے لیکن آخرت میں رحمت کا ظہور تو اس دنیا کے ظہور سے کہیں زیادہ ہوگا جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا۔

2396Mishkaat-al-Masabih

رحمت خداوندی کی وسعت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله مائة رحمة أنزل منها رحمة واحدة بين الجن والإنس والبهائم والهوام فبها يتعاطفون وبها يتراحمون وبها تعطف الوحش على ولدها وأخر الله تسعا وتسعين رحمة يرحم بها عباده يوم القيامة

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک رحمت تو جنات، انسان چوپایوں اور زہریلے جانوروں میں اتاری ہے چناچہ اسی ایک رحمت کے سبب وہ آپس میں میل ملاپ رکھتے ہیں اور اسی کے سبب وہ آپس میں رحم کرتے ہیں اور اسی کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں سے الفت رکھتا ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ نے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے مومن بندوں پر رحم کرے گا۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم نے ایک روایت حضرت سلمان ؓ سے اس کے مانند نقل کی ہے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان ننانوے رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ جو دنیا میں اتاری گئی ہے پورا فرما دے گا۔ تشریح مسلم کی اس دوسری روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی بندوں کے شامل حال رہے گی جو دنیا میں اتاری گئی ہے اس طرح ایک رحمت تو یہ دنیا والی اور ننانوے رحمتیں وہ جو قیامت کے دن کے لئے حق تعالیٰ نے مخصوص کر رکھی ہیں یہ سب مل کر پوری سو ہوجائیں گی۔

2397Mishkaat-al-Masabih

بندہ کو بین الخوف والرجا رہنا چاہئے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع بجنته أحد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من جنته أحد

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر مومن یہ جان لے کہ اللہ کے ہاں کس قدر عذاب ہے تو پھر کوئی شخص اس کی جنت کی امید بھی نہ رکھے (یعنی عذاب کی فراوانی اسے جنت سے مایوس کر دے) اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر ہے تو پھر کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث کا منشاء درحقیقت اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب کی کثرت کو ظاہر کرنا ہے تاکہ مومن تو اس کی رحمت پہ اعتماد کر کے نہ بیٹھ جائے اور اس کے عذاب سے بالکل بےخوف و نڈر نہ ہوجائے اور کافر اس کی رحمت سے نا امیدی نہ اختیار کرلے اور توبہ کرنا نہ چھوڑے۔ اور حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ بندہ کو چاہئے کہ وہ بین الخوف والرجاء (خوف اور امید کے درمیان) رہے یعنی اللہ کی رحمت پر امید بھی رکھے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے، چناچہ حضرت عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ ایک شخص جنت میں داخل ہوگا تو میں امید رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہوں اور اسی طرح اگر یہ اعلان کیا جائے کہ ایک شخص دوزخ میں داخل کیا جائے تو میں گمان رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں۔

2398Mishkaat-al-Masabih

جنت ودوزخ ہر شخص کے بالکل قریب ہی ہے

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجنة أقرب إلى أحدكم من شراك نعله والنار مثل ذلك . رواه البخاري

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت تم میں سے ہر شخص کے جوتے کے تسمے کے برابر اس کے قریب ہے اور دوزخ بھی اسی طرح ہے۔ (بخاری) تشریح حاصل یہ کہ انسان اور جنت و دوزخ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو اچھے کام اور نیک اعمال سے آراستہ کرے وہ جنت کا امیدوار رہے نیز برے کاموں سے اجتناب کرے اور دوزخ سے ڈرتا رہے۔

2399Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ کی نکتہ نوازی

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال رجل لم يعمل خيرا قط لأهله وفي رواية أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه إذا مات فحرقوه ثم اذروا نصفه في البر ونصفه في البحر فو الله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فلما مات فعلوا ما أمرهم فأمر الله البحر فجمع ما فيه وأمر البر فجمع ما فيه ثم قال له : لم فعلت هذا ؟ قال : من خشيتك يا رب وأنت أعلم فغفر له

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص تھا جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اس نے اپنے نفس پر زیادتی کی تھی یعنی بہت ہی زیادہ گناہ کئے تھے جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ یعنی خود مرجائے تو اس کو یعنی مجھے جلا کر آدھی راکھ تو جنگل میں اڑا دینا اور آدھی راکھ دریا میں بہا دینا کیونکہ قسم اللہ کی اگر اللہ نے اس سے مواخذہ کرلیا اور حساب میں سختی کی تو وہ اس کو ایسا عذاب دے گا کہ آج تک عالم کے لوگوں میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا، چناچہ جب وہ شخص مرگیا تو اس کے بیٹوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا کہ اس کو جلا کر آدھی راکھ تو جنگل میں اڑا دی اور آدھی کو دریا میں بہا دیا اللہ تعالیٰ نے دریا کو اس کی راکھ جمع کرنے کا حکم دیا اور اس نے وہ راکھ جو اس کے اندر تھی جمع کی اور جنگل کو حکم دیا اور اس نے بھی جو راکھ اس کے اندر تھی جمع کی جب دریا اور جنگل نے اس کے اجزاء جمع کر لئے تو اس شخص کو ان اجزاء سے استوار کر کے حق تعالیٰ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حق تعالیٰ نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ پروردگار! تیرے خوف سے! تو حقیقت و حال کو خوب جانتا ہے اللہ نے یہ سن کر اسے بخش دیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح وہ شخص یہ سمجھا تھا کہ عذاب صرف اسی کو ہوتا ہے جو دفن کیا جاتا ہے چناچہ اپنی بد عمل زندگی اور گناہوں کی زیادتی کو دیکھتے ہوئے اس نے انتہائی خوف و ڈر کی وجہ سے یہ وصیت کردی کہ مجھے جلا کر میری راکھ کو بکھیر کر اڑا دینا، اللہ تعالیٰ بڑا ہی نکتہ نواز ہے۔ اس کو بس یہی بات پسند آگئی اس لئے اس نے بخش دیا۔ لئن قدر اللہ کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمہ میں بیان کئے گئے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اس سے مواخذہ کرلیا اور حساب میں سختی کی۔ اس صورت میں کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس شخص کی مراد اس کے لفظی معنی ہی تھے یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوگیا۔ تو پھر یہ اشکال پیدا ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک وشبہ کا اظہار کیا جو ظاہر ہے کہ بالکل کفر ہے۔ اس اشکال کے علماء نے کئی جواب دئیے ہیں ان ہی میں سے ایک جواب یہ ہے کہ زمانہ فترت کی بات ہے اس وقت چونکہ کوئی نبی نہیں تھا اور ایسے میں صرف توحید پر ایمان و اعتقاد ہی نجات کے لئے کافی تھا۔ اس لئے اس قسم کے شک وشبہ کے اظہار سے نہ کفر لازم آتا ہے اور نہ اس سے ابدی نجات پر کوئی اثر پڑتا تھا۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس شخص نے یہ بات دہشت وخوف کے غلبہ کی بنا پر کہہ دی اور ایسی صورت میں انسان مجنون اور مغلوب العقل کے حکم میں ہوتا ہے اور وہ ماخوذ قرار نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ گزشتہ باب ہی کی ایک حدیث میں اس شخص کے بارے میں نقل کیا گیا ہے جسے اپنی گمشدہ سواری مل گئی اور خوشی ومسرت کے غلبہ اور زیادتی کی وجہ سے اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے تھے۔ انت عبدی وانا ربک۔ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔

2400Mishkaat-al-Masabih

رحمت الٰہی کی وسعت

وعن عمر بن الخطاب قال : قدم على النبي صلى الله عليه و سلم سبي فإذا امرأة من السبي قد تحلب ثديها تسعى إذا وجدت صبيا في السبي أخذته فألصقته ببطنها وأرضعته فقال لنا النبي صلى الله عليه و سلم : أترون هذه طارحة ولدها في النار ؟ فقلنا : لا وهي تقدر على أن لا تطرحه فقال : لله أرحم بعباده من هذه بولدها

حضرت عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے جن میں ایک عورت بھی تھی اور دودھ کی کثرت کی وجہ سے اس کی چھاتیاں بہہ رہی تھیں کیونکہ اس کا بچہ نہیں تھا جو اس کا دودھ پیتا وہ اپنا دودھ پلانے کی خاطر اسی بچہ کی تلاش میں ادھ ادھ دوڑتی تھی چناچہ جب وہ قیدیوں میں سے کسی کے بچہ کو پا لیتی تو اپنے بچہ کی محبت میں اسے لے کر اپنے پیٹ سے لگاتی اسے دودھ پلانے لگتی یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ کیا تمہارے خیال میں یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈالے گی؟ (یعنی جب یہ غیر کے بچے کے ساتھ اتنی محبت کرتی ہے تو کیا اس بات کا خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ تو ہم نے کہا ہرگز نہیں ڈالے گی۔ بشرطیکہ وہ ڈالنے پر قدرت رکھتی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ عورت اپنے بچے پر جنتا رحم و پیار کرتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اس سے کہیں زیادہ تم سے پیار کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)