Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 121 of 317

2401Mishkaat-al-Masabih

میانہ روی اختیار کرنے کا حکم

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن ينجي أحدا منكم عمله قالوا : ولا أنت يا رسول الله ؟ قال : ولا أنا إلا أن يتغمدني الله منه برحمته فسددوا وقاربوا واغدوا وروحوا وشيء من الدلجة والقصد القصد تبلغوا

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کا عمل اسے آگ سے نجات نہیں دے گا یعنی صرف عمل ہی نافع نہیں ہوگا بلکہ جب حق تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت بھی شامل حال ہوگی تب ہی عمل بھی فائدہ دے گا صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ کو بھی! (آپ کا عمل باوجود کامل ہونے کے نجات نہیں دلائے گا) آپ ﷺ نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ لہٰذا تم لوگ اپنے اعمال کو تیر کی طرح راست و درست کرو، عمل میں میانہ روی اختیار کرو (یعنی کسی عمل کو کمی و زیادتی کے ساتھ نہ کرو۔ دن کے ابتدائی حصہ میں عبادت کرو دن کے آخری حصہ میں عبادت کرو اور رات میں بھی کچھ عبادت کرو یعنی نماز تہجد پڑھو اور عبادت میں میانہ روی اختیار کرو میانہ روی اختیار کرو، اپنی منزل کو پالو گے۔ (بخاری ومسلم)

2402Mishkaat-al-Masabih

رحمت الٰہی کے بغیر صرف عمل جنت کی سعادت کا ضامن نہیں

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل أحدا منكم عمله الجنة ولا يجيره من النار ولا أنا إلا برحمة الله . رواه مسلم

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کا عمل نہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور نہ اسے دوزخ سے بچائے گا اور نہ مجھے میرا عمل جنت میں داخل کرے گا ہاں وہ جو اللہ کی رحمت کے ساتھ ہو۔ (مسلم) تشریح حدیث کے آخری الفاظ ہیں ہاں جو اللہ کی رحمت کے ساتھ ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے اور دوزخ سے نجات کی سعادت کا باعث وعمل ہوگا جس کے ساتھ باری تعالیٰ کی رحمت بھی شامل ہو لہٰذا جنت میں داخل ہونا تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور اس کی رحمت ہی کی بنا پر ہوگا البتہ جنت میں جو درجات ملیں گے وہ اعمال کے مطابق ملیں گے یعنی جس کا عمل جس درجہ کا ہوگا اسے وہی درجہ ملے گا۔

2403Mishkaat-al-Masabih

جزاء اور سزا میں رحمت الٰہی کا ظہور

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أسلم العبد فحسن إسلامه يكفر الله عنه كل سيئة كان زلفها وكان بعد القصاص : الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها . رواه البخاري

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ اسلام قبول کرتا ہے اور اس کا اسلام اچھا ہوتا ہے (یعنی نفاق سے پاک صاف ہوتا ہے) کہ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے وہ تمام گناہ دور کردیتا ہے جو اس نے قبول اسلام سے پہلے کئے تھے اور اس کے بعد اسے بدلہ ملتا ہے جس کا حساب یہ ہے کہ ایک نیکی کے بدلہ میں دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں یعنی اسلام لانے کے بعد وہ بھی جو عمل کرتا ہے بلکہ سات سو سے بھی زیادہ اور برائی کا بدلہ اسی کے مانند ملتا ہے یعنی جتنی برائی کرتا ہے وہ اتنی ہی لکھی جاتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی درگزر کرتا ہے۔ (بخاری) تشریح یہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہے اور اس کے فضل و کرم کا اثر ہے کہ وہ ایک نیکی پر دس گنا سے سات سو گنا تک جزاء سے نوازا جاتا ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے اس کی مشقت ریاضت اور صدق و اخلاص کے موافق اس سے بھی زیادہ جزاء سے بہرہ مند فرماتا ہے۔ مگر بدی کی سزا اس بدی کے بقدر دیتا ہے چناچہ جو جتنی برائی کرتا ہے اسے صرف اتنی ہی سزا ملتی ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے اس کی اس برائی کو معاف کردیتا ہے۔ اور اسے اتنی سزا سے بھی بچا لیتا ہے۔

2404Mishkaat-al-Masabih

جزاء اور سزا میں رحمت الٰہی کا ظہور

وعن ابن عباس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله كتب الحسنات والسيئات : فمن هم بحسنة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة فإن هم بعملها كتبها الله له عنده عشر حسنات إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة ومن هم بسيئة فلم يعملها كتبها الله عنده حسنة كاملة فإن هو هم بعملها كتبها الله له سيئة واحدة

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھی یعنی فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ لوح محفوظ میں نیکیوں اور برائیوں کے بارے میں یہ تفصیل لکھ دیں کہ جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے اور وہ اس پر عمل نہ کرسکے (یعنی ارادہ کے باوجود وہ کسی عذر کی بناء پر اس نیکی کو کرنے پر قادر نہ ہو سکے) تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں اس ارادہ ہی کو ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور پھر اس نیکی کو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ لیتا ہے یعنی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے اللہ چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے بحسب اخلاص اور ادائیگی شرائط وآداب اس سے بھی زیادہ ثواب لکھتا ہے اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اللہ کے خوف کی وجہ سے اس برائی میں بھی مبتلا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا تو پھر اس برائی میں مبتلا بھی ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک ہی برائی لکھتا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح نیکیوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو کرنے سے ثواب ملتا ہے اور برائیوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو کرنے سے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ جو شخص کسی نیکی کا اردہ کرے اور وہ نیکی کسی وجہ سے نہ کرسکے تو اس کے لئے بھی ایک نیکی اس لئے لکھی جاتی ہے کہ کسی بھی عمل کا ثواب نیت پر موقوف ہے اور مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر اور افضل ہوتی ہے بلکہ یوں کہئے کہ اصل تو نیت ہی ہے عمل کا درجہ اس کے بعد ہے کیونکہ عمل کے بغیر صرف نیت پر تو ثواب دیا جاتا ہے مگر نیت کے بغیر صرف عمل پر ثواب نہیں دیا جاتا ہاں اتنا فرق ضرور ہوتا ہے کہ بغیر عمل کے نیت پر جو ثواب ملتا ہے وہ مضاعف نہیں ہوتا۔ نیکی پر ثواب کے مضاعف ہونے کی مقدار کو سات سو تک بیان کیا جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ثواب میں کتنا اضافہ کرتا ہے اس کی آخر حد اور مقدار کسی کو معلوم نہیں ہے کیونکہ سات سو کے بعد مقدار کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کی طرف رغبت دلانے کے لئے اس کو معین کر کے ذکر کرنے کی بجائے مبہم ذکر کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ آیت (فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین )۔

2405Mishkaat-al-Masabih

جزاء اور سزا میں رحمت الٰہی کا ظہور

عن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن مثل الذي يعمل السيئة ثم يعمل الحسنات كمثل رجل كانت عليه درع ضيقة قد خنقته ثم عمل حسنة فانفكت حلقة ثم عمل أخرى فانفكت أخرى حتى تخرج إلى الأرض رواه في شرح السنة

حضرت عقبہ بن عامر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص برائیاں کرتا ہو اور پھر نیکیاں کرنے لگے اس کی حالت اس شخص کی سی ہے جس کے جسم پر تنگ زرہ ہو اور اس زرہ کے حلقوں نے اس کے جسم کو بھینج رکھا ہو پھر وہ نیکی کرے اور اس کی زرہ کا ایک حلقہ کھل جائے پھر وہ دوسری نیکی کرے اور دوسرا حلقہ کھل جائے یہاں تک کہ اسی طرح اس کے حلقے کھلتے رہیں اور وہ ڈھیلی ہو کر زمین پر گرپڑے۔ (شرح السنہ) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ برائی کرنے سے سینہ تنگ و تاریک ہوجاتا ہے اور برائی کرنے والا نہ صرف یہ کہ اپنے تمام امور میں ضمیر کی صحیح رہنمائی سے محروم ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی تمام فکری اور عملی راہوں پر یقین و اعتماد اور سکون و استقلال کے نور کی بجائے تحیر و گھبراہٹ اور اضطراب عدم استقلال کے تاریک سایہ ہوتے ہیں بلکہ وہ لوگوں کی نظروں میں بےوقعت اور کمتر ہوجاتا ہے اور تمام ہی نیکی پسند انسان اسے غصہ اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کے برعکس نیکی کرنے سے سینہ کشادہ اور فراخ ہوتا ہے اور نیکی کرنے والا اپنے ہر کام میں آسانی و سہولت اور یقین و اعتماد کے سکون آمیز اثرات محسوس کرتا ہے نیز یہ کہ وہ لوگوں کی نظر میں محبوب و پسندیدہ اور باوقعت رہتا ہے۔ حدیث بالا میں اسی بات کو تنگ زرہ سے مشابہت دی گئی ہے کہ تنگ زرہ پہننے سے جسم تنگی اور بےچینی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کا زرہ کا بدن پر سے کھلنا فراخی اور خوش دلی کا باعث ہوتا ہے۔

2406Mishkaat-al-Masabih

قیامت کے دن اللہ سے ڈرنے والے کے لئے بشارت

وعن أبي الدرداء : أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقص على المنبر وهو يقول : ( ولمن خاف مقام ربه جنتان ) قلت : وإن زنى وإن سرق ؟ يا رسول الله فقال الثانية : ( ولمن خاف مقام ربه جنتان ) فقلت الثانية : وإن زنى وسرق ؟ يا رسول الله فقال الثالثة : ( ولمن خاف مقام ربه جنتان ) فقلت الثالثة : وإن زنى وسرق ؟ يا رسول الله قال : وإن رغم أنف أبي الدرداء . رواه أحمد

حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو منبر پر وعظ و نصیحت فرماتے ہوئے سنا چناچہ ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ جب آپ ﷺ نے یہ فرمایا (ولمن خاف مقام ربہ جنتان) یعنی اور جو شخص (قیامت کے دن حساب کے لئے) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ میں (یہ سن کر از راہ تعجب) پوچھا کہ یا رسول اللہ! اس ڈرنے والے نے زنا ہی کیا ہو اور چاہے اس نے چوری ہی کی ہو۔ تب بھی اسے دو جنتیں ملیں گی؟ آنحضرت ﷺ نے پھر دوسری مرتبہ یہی فرمایا آیت (ولمن خاف مقام ربہ جنتان) میں نے پھر دوسری مرتبہ پوچھا کہ یا رسول اللہ! چاہے اس نے زنا ہی کیا ہو اور چاہے اس نے چوری ہی کی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ ابودرداء ؓ کی ناک خاک آلودہ ہی کیوں نہ ہو۔ (احمد) تشریح اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔ دو جنتوں کے بارے میں بعض احادیث میں آیا ہے کہ ایک جنت تو ایسی ہے جس میں مکان، محل، برتن اور زیورات وغیرہ سب کے سب سونے کے ہیں اور ایک جنت ایسی ہے جس میں اسی طرح سب سامان چاندی کا ہے حضرت ابودرداء ؓ نے چونکہ بشارت پر تعجب کیا اور انہیں یہ بات بعید سی معلوم ہوئی اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگرچہ ابودرداء ؓ کی ناک خاک آلود ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی اگرچہ یہ بات ابودرداء کو کتنی ہی عجیب کیوں نہ معلوم ہو اور ابودرداء ؓ اسے کتنا ہی بعید کیوں نہ سمجھیں مگر بات یوں ہی ہے جس طرح میں نے کہی ہے۔

2407Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر رحم دل ماں سے زیادہ رحم کرتا ہے

وعن عامر الرام قال : بينا نحن عنده يعني عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ أقبل رجل عليه كساء وفي يده شيء قد التف عليه فقال : يا رسول الله مررت بغيضة شجر فسمعت فيها أصوات فراخ طائر فأخذتهن فوضعتهن في كسائي فجاءت أمهن فاستدارت على رأسي فكشفت لها عنهن فوقعت عليهن فلففتهن بكسائي فهن أولاء معي قال : ضعهن فوضعتهن وأبت أمهن إلا لزومهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتعجبون لرحم أم الفراخ فراخها ؟ فو الذي بعثني بالحق : لله أرحم بعباده من أم الفراخ بفراخها ارجع بهن حتى تضعهن من حيث أخذتهن وأمهن معهن . فرجع بهن . رواه أبو داود

حضرت عامر رامی ؓ (تیر انداز) کہتے ہیں کہ ایک دن جب کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک شخص آیا جس کے جسم پر ایک کملی تھی اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر اس نے اپنی کملی لپیٹ رکھی تھی اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ میں درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس سے گزر رہا تھا کہ میں نے اس جھنڈ میں سے پرندوں کے بچوں کی آوازیں سنیں، چناچہ میں نے انہیں پکڑ لیا اور اپنی کملی میں رکھ لیا اتنے میں بچوں کی ماں آگئی اور میرے سر پر پھرنے لگی میں نے اس کے سامنے بچوں کے اوپر سے کملی کھول دی تاکہ وہ انہیں دیکھ لے اور وہ اپنے بچوں کو دیکھتے ہی ان پر آ گری میں نے ماں اور بچوں کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور اب وہ سب میرے پاس ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان کو یہاں رکھو۔ میں نے ان کو وہاں رکھ دیا اور ان پر سے اپنی کملی ہٹا دی۔ ماں سب چیزوں کو چھوڑ کر بچوں سے چمٹ گئی ہم سب اپنے بچوں کے ساتھ اس ماں کی اس محبت کو نظر تعجب سے دیکھ ہی رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ اس پر تعجب کر رہے ہو کہ ان بچوں کی ماں اپنے بچوں پر کس قدر رحم دل واقع ہوئی ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا کہ ایک ماں اپنے بچوں پر رحم کرتی ہے اور جاؤ ان بچوں کو وہیں لے جا کر رکھ دو جہاں سے تم نے ان کو پکڑا تھا اور ان کی ماں کو ان کے ساتھ ہی چھوڑ دو چناچہ وہ ان سب کو لے گیا اور جہاں سے پکڑا تھا وہیں چھوڑ آیا۔ (ابوداؤد)

2408Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر رحم دل ماں سے زیادہ رحم کرتا ہے

عن عبد الله بن عمر قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في بعض غزواته فمر بقوم فقال : من القوم ؟ قالوا : نحن المسلمون وامرأة تحضب بقدرها ومعها ابن لها فإذا ارتفع وهج تنحت به فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أنت رسول الله ؟ قال : نعم قالت : بأبي أنت وأمي أليس الله أرحم الراحمين ؟ قال : بلى قالت : أليس الله أرحم بعباده من الأم على ولدها ؟ قال : بلى قالت : إن الأم لا تلقي ولدها في النار فأكب رسول الله صلى الله عليه و سلم يبكي ثم رفع رأسه إليها فقال : إن الله لا يعذب من عباده إلا المارد المتمرد الذي يتمرد على الله وأبى أن يقول : لا إله إلا الله . رواه ابن ماجه

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ کسی غزوہ میں چلے جا رہے تھے کہ آپ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم مسلمان ہیں ان میں ایک ایسی عورت بھی تھی جو اپنی ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہی تھی یعنی کچھ پکا رہی تھی اس کے پاس اس کا بچہ بھی تھا چناچہ جب آگ کی لپٹ اٹھتی تو وہ بچے کو ایک طرف ہٹا دیتی تاکہ آگ کی تپش سے اسے تکلیف نہ پہنچے پھر وہ عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ سے عرض کرنے لگی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اس عوت نے کہا کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس عورت نے کہا ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی (تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دوزخ کی آگ میں کیوں ڈالتا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر) روتے ہوئے اپنا سر نیچے کرلیا پھر (تھوڑی دیر کے بعد) اپنا سر مبارک اس عورت کی طرف اٹھایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہمیشہ عذاب نہیں کرتا ہاں صرف ان لوگوں کو عذاب دیتا ہے جو سرکش ہیں اور ایسے سرکش جو اللہ تعالیٰ سے سرکشی کرتے ہیں (یعنی اس کے احکام نہیں مانتے) اور لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کرتے ہیں۔ (ابن ماجہ)

2409Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہنے والے بندہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت

وعن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن العبد ليلتمس مرضاة الله فلا يزال بذلك فيقول الله عز و جل لجبريل : إن فلانا عبدي يتلمس أن يرضيني ألا وإن رحمتي عليه فيقول جبريل : رحمة الله على فلان ويقولها حملة العرش ويقولها من حولهم حتى يقولها أهل السماوات السبع ثم تهبط له إلى الأرض . رواه أحمد

حضرت ثوبان ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو نیک بندہ طاعات کی ادائیگی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو تلاش کرتا ہے اور پھر ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ میری رضا و خوشنودی کی تلاش میں ہے لہٰذ آگاہ رہو اس پر میری رحمت کاملہ ہے، چناچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ فلاں شخص پر اللہ کی رحمت ہو، یہی بات عرش کو اٹھانے والے فرشتے بھی کہتے ہیں، پھر یہی بات وہ فرشتے کہتے ہیں جو ان سب کے گرد ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس بات کو ساتوں آسمان کے فرشتے کہتے ہیں، چناچہ پھر اس شخص کے لئے زمین پر رحمت نازل فرمائی جاتی ہے۔ (احمد) تشریح اس شخص کے لئے زمین پر رحمت نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اپنا دوست اور پسندیدہ بناتا ہے اور روئے زمین پر اس کے لئے قبولیت عام کی فضا پیدا فرما دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا والے اس کو عزیز رکھتے ہیں اور ان کے قلوب میں اس کے لئے محبت و پیار اور عظمت و احترام کے پر خلوص جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ حدیث مفہوم و معنی کے اعتبار سے اس ارشاد گرامی کے مماثل ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو آگاہ فرماتا ہے کہ میں اپنے فلاں بندہ کو دوست رکھتا ہوں تم بھی اسے دوست رکھو چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) اس بندہ کو دوست رکھتے ہیں اور پھر وہ آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فلاں بندہ کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم سب بھی اس کو دوست رکھو پس آسمان والے اس کو دوست رکھتے ہیں پھر اس بندہ کے لئے روئے زمین پر قبولیت عام کی فضا پیدا کردی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی یبندہ کو اپنا دشمن رکھتا ہے اور پھر وہ آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو دشمن رکھتا ہے لہٰذا تم سب بھی اسے دشمن رکھو پس اسمان والے اس کو دشمن رکھتے ہیں پھر اس کے لئے روئے زمین پر عام دشمنی کی فضا پیدا کردی جاتی ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے دشمن رکھتے ہیں) اس ارشاد گرامی کو سامنے رکھئے تو واضح ہوجائے گا کہ اولیاء اللہ کی عام شہرت و قبولیت اور عوام کے قلوب میں ان کے لئے بےپناہ محبت وعقیدت کا واحد سبب یہ ہوتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ ان کو دوست رکھتا ہے اور پھر روئے زمین پر ان کے لئے عام قبولیت و محبت کی فضا پیدا کردیتا ہے جس کے نتیجے میں تمام لوگ ان کو دوست و عزیز رکھتے ہیں۔ ہاں جو لوگ مکر و فریب کے راستوں سے اپنا مال و زر خرچ کرے عوام کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں وہ اس زمرہ سے خرج ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کا اعتبار نہیں ہے۔

2410Mishkaat-al-Masabih

مومن بہرصورت جنتی ہے خواہ وہ نیکوکار ہو یا گنہگار ہو

وعن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه و سلم في قول الله عز و جل : ( فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات ) قال : كلهم في الجنة . رواه البيهقي في كتاب البعث والنشور

حضرت اسامہ بن زید ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ عزوجل کے اس ارشاد پس ان میں سے بعض اپنے نفس کے حق میں ظالم ہیں۔ ان میں سے بعض میانہ رو ہیں اور ان میں سے بعض نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا کہ یہ سب جنتی ہیں۔ ( بیہقی) تشریح اس حدیث میں جس آیت کریمہ کی تفسیر کے ضمن میں مذکورہ بالا بشارت ارشاد فرمائی گئی ہے وہ پوری یہ ہے کہ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِه وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَ يْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ) 35۔ فاطر 32) (ترجمہ) پھر ہم نے کتاب و شریعت دی ان لوگوں کو کہ جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں ایمان واسلام کے ذریعہ برگزیدہ کیا پس ان برگزیدہ لوگوں یعنی مسلمانوں میں سے بعض اپنے نفس کے حق میں ظالم ہیں (بایں طور کہ وہ ممنوع چیزوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہوں میں مبتلا کرتے ہیں) اور ان میں سے بعض میانہ رو ہیں (بایں طور کہ نیکیاں بھی کرتے ہیں) اور ان میں سے بعض نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں (بایں طور کہ وہ علم حاصل کرنے اور عمل کرنے میں بہت سعی اور جد و جہد کرتے ہیں اور اپنے علم و عمل کے ساتھ دوسروں کو بھی اپنے علم، تذکیر و نصیحت کے ذریعے رشد و ہدایت کے راستے پر لگاتے ہیں) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ سبقت کرنے والے سے وہ شخص مراد ہے جس کی نیکیاں برائیوں پر غالب ہوں۔ یعنی نیکیاں، زیادہ کرتا ہو اور برائیوں میں کم مبتلا ہوتا ہو! میانہ رو وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں اور ظالم سے مراد وہ شخص ہے جس کی زندگی میں برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں۔ پس حدیث بالا کا حاصل یہ ہے کہ ان تینوں اقسام کے لوگ برگزیدہ بندوں یعنی مومنین ہی میں سے ہیں اور یہ سب جنتی ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ ان کو جنت میں اپنے اپنے احوال و افعال کے اعتبار ہی سے درجات ملیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع اور عام ہے کہ جس طرح اس کے نیکو کار بندے اس کی رحمتوں سے نوازے جائیں گے اسی طرح کے گنہگار بندے بھی اسے کے سایہ رحمت میں ابدی سعادتوں سے ہمکنار ہوں گے۔

2411Mishkaat-al-Masabih

صبح، شام اور سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان

صبح سے مراد ہے آفتاب طلوع ہونے تک دن کا بالکل ابتدائی حصہ شام سے مراد ہے آفتاب کے غروب ہونے کے وقت سے شفق غروب ہونے کے وقت تک دن کا بالکل آخری حصہ لہٰذا جو دعائیں صبح کے وقت پڑھنے کے لئے منقول ہیں ان کو چاہے نماز فجر سے پہلے پڑھا جائے چاہے نماز فجر کے بعد دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے اسی طرح شام کے وقت جن دعاؤں کا پڑھنا منقول ہے ان کو بھی چاہے تو مغرب کی نماز سے پہلے پڑھا جائے چاہے مغرب کی نماز کے بعد۔

2412Mishkaat-al-Masabih

صبح وشام کے وقت آپ ﷺ کی دعا

عن عبد الله قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أمسى قال : أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم إني أسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم وسوء الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر وإذا أصبح قال أيضا : أصبحنا وأصبح الملك لله . وفي رواية : رب إني أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر . رواه مسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول کریم ﷺ کی لسان مقدس پر یہ الفاظ جاری ہوتے۔ دعا (امسینا وامسی الملک للہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر اللہم انی اسالک من خیر ہذہ اللیلۃ وخیر ما فیہا واعوذ بک من شرہا وشر ما فیہا اللہم انی اعوذبک من الکسل والہرم وسوء الکبر وفتنۃ الدنیا و عذاب القبر)۔ اور جب صبح ہوتی تو آپ ﷺ اسی طرح پڑھتے لیکن شروع میں امسینا وامسی الملک للہ کی بجائے اصبحنا واصبح الملک للہ یعنی ہم نے صبح کی اور ہر چیز نے صبح کی جو اللہ کی ملک میں ہے) پڑھتے۔ ایک دوسری روایت میں وسوء الکبر کے بعد یہ الفاظ ہیں رب انی اعوذ بک من عذاب فی النار و عذاب فی القبر۔ (یعنی اے میرے رب میں اس عذاب سے جو دوزخ میں ہے اور عذاب سے جو قبر میں ہے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (مسلم) تشریح جب یہ دعا صبح کے وقت پڑھی جائے گی تو اس میں اللیلۃ کی بجائے لیوم پڑھا جائے یعنی یوں پڑھیں گے اللہم انی اسألک من خیر ہذا الیوم نیز جہاں جہاں رات کی رعایت سے مونث کی ضمیریں استعمال ہوتی ہیں وہاں دن کی رعایت سے مذکر ضمیریں استعمال ہوں گی یعنی ہا کی جگہ ہ، پڑھا جائے گا بقیہ عبارت جوں کی توں رہے گی۔

2413Mishkaat-al-Masabih

سونے اور جاگنے کی دعا

وعن حذيفة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أخذ مضجعه من الليل وضع يده تحت خده ثم يقول : اللهم باسمك أموت وأحيا . وإذا استيقظ قال : الحمد الله الذي أحيانا بعدما ما أماتنا وإليه النشور . رواه البخاري

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات میں اپنے بستر پر تشریف لاتے اور سونے کے لئے لیٹتے تو اپنا ہاتھ یعنی اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھتے اور یہ فرماتے دعا (اللہم باسمک اموت واحیا) اے اللہ تیرے ہی نام پر مرتا (یعنی سوتا) ہوں اور تیرے ہی نام پر زندہ ہوتا یعنی جاگتا ہوں اور جب آپ ﷺ نیند سے بیدار ہوتے تو یہ فرماتے دعا (الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور)۔ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے لیکن مسلم نے حضرت حذیفہ ؓ کی بجائے حضرت براء ؓ سے روایت کیا ہے۔ تشریح اسی کی طرف رجوع ہے کا مطلب بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ آخر کار موت کے بعد حساب اور جزا و سزا کے لئے اسی ذات باری تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے گا کہ یہاں نشور (رجوع) سے مراد ہے سونے کے بعد اٹھ کر طلب معاش اور اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کے لئے زندگی کی ہماہمی میں شریک ہوجانا۔ رخسار کے نیچے ہاتھ رکھ کر سونے سے چونکہ غفلت بہت زیادہ طاری نہیں ہوتی اس لئے آپ ﷺ اپنے دائیں رخسار مبارک کے نیچے اپنی دائیں ہتھیلی رکھ کر سوتے تھے۔ اسی طرح سوتے وقت اور جاگنے کے بعد ذکر و دعا کرنے کی حکمت و وجہ یہ ہے کہ اعمال کا خاتمہ بھی عبادت وطاعت پر ہو، افعال کی ابتداء بھی عبادت ہی سے ہے۔

2414Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت بستر کو جھاڑ لینا چاہئے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفض فراشه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم يقول : باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمهما وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين . وفي رواية : ثم ليضطجع على شقه الأيمن ثم ليقل : باسمك وفي رواية : فلينفضه بصنفة ثوبه ثلاث مرات وإن أمسكت نفسي فاغفر لها

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں کوئی سونے کے لئے اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہئے کہ اپنے بستر کو اپنی لنگی کے اندر کے کونے سے جھاڑ لے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کے بستر پر کیا چیز (مثلاً کیڑا مکوڑا، یا گرد و غبار) گری پڑی ہو اور اس کے بعد وہ بستر پر لیٹے اور پھر کہے دعا (باسمک ربی وضعت جنبی وبک ارفعہ ان امسکت نفسی فارحمہا وان ارسلتہا فاحفظہا بما تحفظ بہ عبادک الصالحین)۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے اپنا بستر جھاڑے پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے اور پھر باسمک (یعنی مذکورہ بالا دعا) آخرت تک پڑھے) (مسلم اور بخاری) ایک روایت میں یہ ہے کہ اسے چاہئے کہ وہ اپنے بستر کو اپنے کپڑے کے کونے سے تین مرتبہ جھاڑے نیز اس روایت میں دعا (وان امسکت نفسی فاغفر لہا) یعنی مذکورہ بالا دعا میں فارحمہا کی بجائے فاغفر لہا ہے۔ تشریح لنگی کے کونے سے مراد کپڑے کا وہ حصہ یا کونہ ہے جو اندرونی طرف اور بدن سے لگا ہوا ہوتا ہے خواہ وہ لنگی ہو یا کوئی اور لباس! نیز لنگی کے کونے سے جھاڑنے کے لئے اس لئے فرمایا کہ باہر کے کونے جھاڑنے سے بستر کا کوئی حصہ کھلنے بھی نہیں پائے گا! حاصل یہ کہ جب کوئی شخص بستر پر آئے تو پہلئے وہ بستر کو کسی کپڑا وغیرہ سے جھاڑے تاکہ بستر اگر اذیت و نقصان پہنچانے والی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اس سے بستر صاف ہوجائے گا اگر بستر کو جھاڑنے کے لئے الگ سے کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو تو پھر اپنی لنگی یا کرتے وغیرہ کے کونے سے ہی اسے جھاڑ لیا جائے۔ جب انسان سوتا ہے تو وہ گویا مردے ہی کے حکم میں ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اس کی روح عارضی طور پر قبض کرلیتا ہے پھر اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں بھیج دیتا ہے یعنی اسے نیند سے بیدار کردیتا ہے یا اس کی روح کو چھوڑتا ہے یعنی مستقل طور پر قبض کرلیتا ہے اور اس شخص پر موت طاری کردیتا ہے چناچہ اسی چیز کے بارے میں مذکورہ بالا دعا میں درخواست ہے کہ پروردگار اگر تو سونے کی حالت میں میری روح کو رکھ چھوڑے اور مجھ پر موت طاری فرما دے تو اس صورت میں مجھے بخش دیجئے اور اگر میری روح کو واپس بھیج دے اور مجھے زندہ رکھے تو پھر اسی طرح میری نگہبانی فرمائیے جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی نگہبانی فرماتا ہے یعنی نیکی و بھلائی کی توفیق دیجئے اور میرے ہر کام و فعل میں میرا معین و مددگار بنئے۔ نیک بندوں سے مراد وہ بندے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اور عبادت وطاعت کے ذریعہ اللہ کا حق بھی ادا کرتے ہیں اور بندوں کے حقوق بھی جو ان کے ذمہ ہوتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ دائیں کروٹ سونے میں حکمت یہ ہے کہ دل چونکہ بائیں پہلو میں ہوتا ہے اس لئے دائیں کروٹ سونے کی سورت میں دل لٹکتا رہتا ہے جس کی وجہ سے نیند میں استراحت اور غفلت زیادہ نہیں ہوتی۔ اور نماز تہجد وغیرہ کے لئے جاگنا آسان ہوتا ہے جبکہ بائیں کروٹ سونے کی صورت میں دل اپنی جگہ ٹھہرا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیند میں غفلت اور استراحت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

2415Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت بستر کو جھاڑ لینا چاہئے

وعن البراء بن عازب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن ثم قال : اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت . وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قالهن ثم مات تحت ليلته مات على الفطرة وفي رواية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل : يا فلان إذا أويت إلى فراشك فتوضأ وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الأيمن ثم قل : اللهم أسلمت نفسي إليك إلى قوله : أرسلت وقال : فإن مت من ليلتك مت على الفطرة وإن أصبحت أصبت خيرا

حضرت براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر سوتے وقت دائیں کروٹ پر سوتے اور سونے سے پہلے یہ فرماتے دعا (اللہم اسلمت نفسی الیک وجہت وجہی الیک و فوضت امری الیک والجأت ظہری الیک رغبۃ ورہبۃ الیک لا ملجا ولا منجا منک الا الیک امنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت)۔ نیز آپ ﷺ فرماتے جس شخص نے ان کلمات کو سونے سے پہلے کہا اور پھر اسی رات میں مرگیا تو وہ دین اسلام پر مرا۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ حضرت براء ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا۔ اے فلاں شخص جب تم اپنے بستر پر آؤ تو پہلے تم نماز کے وضو جیسا وضو پورا کرو اور پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ کر (اللہم اسلمت نفسی سے ارسلت تک (یعنی مذکورہ بالا دعا) پڑھو پھر آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس رات میں تمہاری موت واقع ہوگئی تو تم دین اسلام پر مرو گے اور اگر تم نے صبح کرلی تو بھلائیوں کو بہت (یعنی بہت زیادہ بھلائیوں کو یا یہ کہ دارین کی بھلائیوں) کو پاؤ گے۔ (بخاری ومسلم)

2416Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت بستر کو جھاڑ لینا چاہئے

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أوى إلى فراشه قال : الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي . رواه مسلم

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ کہتے دعا (الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وکفانا واوانا ممن لاکافی لہ ولا مؤوی۔ (مسلم) تشریح دعا کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو روز مرہ کی تکلیف وپریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو تکالیف وپریشانیوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ وہ ان پر غالب رہتی ہیں چناچہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی روز مرہ کی ضروریات زندگی ہی میں رحمت الٰہی کے التفات سے محروم رہتے ہیں بلکہ قضا و قدر الٰہی کے تحت ان کو سر چھپانے کے لئے کوئی ٹھکانہ بھی میسر نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ کوچوں، بازاروں میں فٹ پاتھ اور سڑکوں پر اور جنگلات و ویرانوں میں اپنی سخت کوش زندگی کی گھڑیاں گزارتے ہیں نہ انہیں گرمی سے بچنے کی راحت نصیب ہوتی ہے اور نہ سردی کی ایذاء تکلیف سے نجات کی کوئی پناہ گاہ۔

2417Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت بستر کو جھاڑ لینا چاہئے

وعن علي : أن فاطمة أنت النبي صلى الله عليه و سلم تشكو إليه ما تلقى في يدها من الرحى وبلغها أنه جاءه رقيق فلم تصادفه فذكرت ذلك لعائشة فلما جاء أخبرته عائشة قال : فجاءنا وقد أخذنا مضاجعنا فذهبنا نقوم فقال : على مكانكما فجاء فقعد بيني وبينها حتى وجدت برد قدمه على بطني فقال : ألا أدلكما على خير مما سألتما ؟ إذا أخذتما مضجعكما فسبحا ثلاثا وثلاثين واحمدا ثلاثا وثلاثين وكبرا ثلاثا وثلاثين فهو خير لكما من خادم

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ (میری زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی) حضرت فاطمہ ؓ نبی کریم ﷺ کے ہاں اس غرض سے حاضر ہوئی کہ چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ جس زحمت و مشقت میں مبتلا تھے اس کی شکایت آنحضرت ﷺ سے کریں (اور کوئی خدمت گار مانگیں) کیونکہ حضرت فاطمہ ؓ کو معلوم ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں مگر اس وقت آپ ﷺ سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی، چناچہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا یعنی ان سے کہا کہ جب آنحضرت ﷺ تشریف لائیں تو کہہ دیجئے گا کہ فاطمہ ؓ اپنی مشقت و تکلیف کے پیش نظر ایک غلام مانگنے حاضر ہوئی تھیں۔ پھر جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہ ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ کا پیغام آپ ﷺ تک پہنچا دیا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ ہمارے ہاں اس وقت تشریف لائے جب کہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے (آپ ﷺ کو دیکھ کر ہم نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر لیٹے رہو، پھر آپ ﷺ ہمارے نزدیک تشریف لائے اور میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے اپنے پیٹ پر آپ ﷺ کے مبارک قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا (مجھے فاطمہ کا پیغام مل گیا ہے) کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتلا دوں جو اس چیز (یعنی غلام) سے بہتر ہے جو تم نے مانگی تھی اور وہ یہ ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو تمہارے لئے خادم سے یہ چیز بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح چونکہ آنحضرت ﷺ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ دونوں ہی سے بےانتہا محبت فرماتے تھے اور آپ ﷺ کی بےحد شفقت کسی تکلف کو گوارہ نہیں کرتی تھی اس لئے جب آپ ﷺ ان کے ہاں آئے تو کامل محبت و شفقت کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان تشریف فرما ہوگئے کیونکہ پیار و محبت اور شفقت و الفت کسی تکلف کی پابند نہیں ہوتی، اس لئے کہا گیا ہے کہ (اذا جاءت الالفۃ رفعت الکلفۃ (ترجمہ) جب الفت آئی تو تکلف اٹھا دی گئی۔ مذکورہ بالا کلمات کی ترتیب کے سلسلہ میں جزری نے شرح مصابیح میں کہا ہے کہ تکبیر پہلے ہے چناچہ ابن کثیر (رح) فرمایا کرتے تھے کہ نمازوں کے بعد تو پہلے سبحان اللہ پڑھنا چاہئے اس کے بعد الحمد للہ اور پھر اللہ اکبر لیکن سوتے وقت پہلے اللہ اکبر ہی پڑھ لینا چاہئے اس سلسلہ میں علماء لکھتے ہیں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ اکبر کو کبھی تو پہلے پڑھا جائے اور کبھی بعد میں تاکہ اس بارے میں منقول دونوں روایتوں ہی پر عمل ہو اور یہی اولی اور زیادہ بہتر ہے۔ ارشاد گرامی، تمہارے لئے یہ چیز خادم سے زیادہ بہتر ہے۔ کے ذریعہ حضرت فاطمہ ؓ کو دنیا کی مشقتوں اور تکالیف اور دنیاوی طور پر ناپائیدار چیزوں مثلاً مرض و فقر پر صبر کی ترغیب دلائی گئی ہے نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شکر کرنے والے مالدار کی بہ نسبت صبر کرنے والا مفلس زیادہ افضل ہے۔

2418Mishkaat-al-Masabih

سوتے وقت بستر کو جھاڑ لینا چاہئے

وعن أبي هريرة قال : جاءت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه و سلم تسأله خادما فقال : ألا أدلك على ما هو خير من خادم ؟ تسبحين الله ثلاثا وثلاثين وتحمدين الله ثلاثا وثلاثين وتكبرين الله أربعا وثلاثين عند كل صلاة وعند منامك . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرہ ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس مقصد سے حاضر ہوئیں کہ آپ ﷺ سے کوئی خادم مانگیں لیکن آپ ﷺ سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔ جب آنحضرت ﷺ کو یہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتادوں جو خادم سے بہتر ہے۔ (اور وہ یہ ہے) ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت سبحان اللہ تینتیس بار اور الحمدللہ تینتیس بار اور اللہ اکبر چونتیس بار پڑھ لیا کرو۔ (مسلم) تشریح سونے کے وقت ان تسبیحات کا پڑھنا دن بھر کی مشقت و محنت و کوفت اور ہر قسم کے رنج و غم کو دور کرتا ہے۔

2419Mishkaat-al-Masabih

صبح وشام کے وقت کی دعا

عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أصبح قال : اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير . وإذا أمسى قال : اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تو رسول کریم ﷺ کی زبان پر یہ دعائیہ کلمات جاری ہوتے دعا (اللہم بک اصبحنا وبک امسینا وبک نحیی وبک نموت والیک المصیر)۔ اور جب شام ہوتی تو آپ ﷺ یہ دعا فرماتے دعا (اللہم بک امسینا وبک اصبحنا وبک نحیی وبک نموت والیک النشور۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

2420Mishkaat-al-Masabih

صبح وشام کے وقت کی دعا

وعنه قال : قال أبو بكر : قلت يا رسول الله مرني بشيء أقوله إذا أصبحت وإذا أمسيت قال : قل اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السماوات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه قله إذا أصبحت وإذا أمسيت وإذا أخذت مضجعك . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا! یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا پڑھنے کا حکم دیجئے جسے میں صبح اور شام کے وقت (بطریق ورد) پڑھ لیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کرو دعا (اللہم عالم الغیب والشہادۃ فاطر السموات والارض رب کل شیء وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذبک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشرکہ۔ (نیز آپ ﷺ نے فرمایا) تم اس دعا کو صبح کے وقت پڑھ لیا کرو، شام کے وقت پڑھ لیا کرو اور سونے کے وقت بھی۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)