اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب بندہ (اپنے گناہ کا ندامت و شرمندگی کے ساتھ) اعتراف کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
توبہ اور رحمت الٰہی کی وسعت
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تاب قبل أن تطلع الشمس من مغربها تاب الله عليه . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مغرب کی سمت سے آفتاب طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (مسلم)
تشریح
علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ توبہ قبول ہونے کی حد ہے کہ مغرب کی سمت سے آفتاب نکلنے سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا لہٰذا اس وقت تک جو بھی توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی لیکن اس کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہیں ہوگی اسی طرح توبہ قبول ہونے کی ایک حد شخصی ہوتی ہے جس کا تعلق ہر فرد سے ہوتا ہے اور وہ حالت غرغرہ (نزع) سے پہلے پہلے کا وقت ہے یعنی جو شخص حالت غرغر سے توبہ کرلے گا اس کی توبہ قبول ہوگی۔ حالت غرغرہ میں کی جانے والی توبہ قبول نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لله أشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم كان راحلته بأرض فلاة فانفلتت منه وعليها طعامه وشرابه فأيس منها فأتى شجرة فاضطجع في ظلها قد أيس من راحلته فبينما هو كذلك إذ هو بها قائمة عنده فأخذ بخطامها ثم قال من شدة الفرح : اللهم أنت عبدي وأنا ربك أخطأ من شدة الفرح . رواه مسلم
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص سے جو اس کے سامنے توبہ کرتا ہے اتنا زیادہ خوش ہوتا ہے کہ جتنا تم میں وہ شخص بھی خوش نہیں ہوتا جس کی سواری بیچ جنگل بیابان میں ہو اور پھر وہ جاتی رہی ہو (یعنی گم ہوگئی ہو) اور اس سواری سے نا امیدی کی حالت میں انتہائی مغموم و پریشان لیٹ جائے اور پھر اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کو اپنے پاس کھڑے ہوئے دیکھ لے۔ چناچہ وہ اس سواری کی مہار پکڑ کر انتہائی خوشی میں جذبات سے مغلوب ہو کر یہ کہہ بیٹے اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ مارے خوشی کی زیادتی کے اس کی زبان سے یہ غلط الفاظ نکل جائیں۔ (مسلم)
تشریح
یعنی اس شخص کو اصل کہنا تو یہ تھا کہ اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ مگر انتہائی خوشی کی وجہ سے شدت جذبات سے مغلوب اور مدہوش ہو کر یہ کہنے کی بجائے یہ کہہ بیٹھا ہے کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ اس ارشاد کا مقصد اس بات کو بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول فرما کر اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس خوشی کو اس شخص کی خوشی کے ساتھ مشابہت دی جس کی سواری جنگل بیابان میں گم ہوجائے اور پھر اچانک اسے مل جائے۔
اللہ تعالیٰ باربار توبہ قبول کرتا ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن عبدا أذنب ذنبا فقال : رب أذنبت فاغفره فقال ربه أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به ؟ غفرت لعبدي ثم مكث ما شاء الله ثم أذنب ذنبا فقال : رب أذنبت ذنبا فاغفره فقال ربه : أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به ؟ غفرت لعبدي ثم مكث ما شاء الله ثم أذنب ذنبا قال : رب أذنبت ذنبا آخر فاغفر لي فقال : أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به ؟ غفرت لعبدي فليفعل ما شاء
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسی امت میں سے یا گزشتہ امتوں میں سے ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر کہنے لگا اے میرے پروردگار میں نے گناہ کیا ہے تو میرے اس گناہ کو بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کیا میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے جو جس کو چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کے گناہ بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کے گناہ پر مواخذہ کرتا ہے تو جان لو میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا۔ وہ بندہ اس مدت تک کہ اللہ نے چاہا گناہ کرنے سے باز رہا، اس کے بعد اس نے پھر گناہ کیا اور عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کیا ہے تو میرے اس گناہ کو بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کیا یہ میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ کرتا ہے؟ میں نے اس بندہ کو بخش دیا۔ وہ بندہ اس مدت تک کہ اللہ نے چاہا گناہ سے باز رہا اور اس کے بعد پھر اس نے گناہ کیا اور اس کے بعد پھر اس نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں نے گناہ کیا ہے تو میرے اس گناہ کو بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ کرتا ہے؟ میں نے اس بندہ کو بخش دیا پس جب تک وہ استغفار کرتا رہے جو چاہے کرے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ پس جو چاہے کرے۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بندہ جب تک گناہ کرتا رہے گا اور استغفار کرتا رہے گا اس کے گناہ بخشتا رہوں گا لہٰذا جملہ سے خدانخواستہ گناہ کی طرف رغبت دلانا مقصود نہیں ہے بلکہ استغفار کی فضیلت اور گناہوں کی بخشش میں استغفار کی تاثیر کو بیان کرنا مقصود ہے۔
کسی گناہ گار کو دوزخی نہ کہو
وعن جندب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدث : أن رجلا قال : والله لا يغفر الله لفلان وأن الله تعالى قال : من ذا الذي يتألى علي أني لا أغفر لفلان فإني قد غفرت لفلان وأحبطت عملك . أو كما قال . رواه مسلم
حضرت جندب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ بیان فرمایا اس امت میں سے یا گزشتہ امتوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کون شخص ہے جو میری قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا اور یہ جان لے کہ میں نے اس شخص کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع یعنی تیری قسم کو جھوٹا کیا۔ (مسلم)
تشریح
کوئی شخص بہت زیادہ گناہ کرتا تھا اس کے بارے میں ایک دوسرے شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اسے نہیں بخشے گا اس نے یہ بات از راہ تکبر اس کو بہت گنہگار اور اپنے کو اس سے اچھا جان کر کہی۔ جیسا کہ بعض جاہل صوفیاء گنہگاروں کے بارے میں اچھا گمان نہیں رکھتے حالانکہ ایسے لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع اور عام ہے اس کے گنہگار بندوں کو بھی اس کے دامن میں پناہ ملتی ہے اور وہی ان کو بخشتا ہے۔ حاصل یہ کہ اس قسم کے کھانے والے نے اس کے نہ بخشے جانے کا جو یقین کیا تھا اس پر عتاب ہوا بایں طور کہ اس کی قسم کو جھوٹا کیا گیا اور اس شخص کو بخش دیا گیا۔ لہٰذا کسی بھی شخص کے بارے میں قطعی طور پر یہ کہنا کہ وہ جنتی ہے! یا دوزخی ہے جائز نہیں ہے ہاں قرآن و حدیث نے وضاحت کے ساتھ جن لوگوں کو جنتی و دوزخی کہا ہے ان کو قطعی طور پر جنتی یا دوزخی کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
وعن شداد بن أوس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيد الاستغفار أن تقول : اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت . قال : ومن قالها من النهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة ومن قالها من الليل وهو موقن بها فمات قبل أن يصبح فهو من أهل الجنة . رواه البخاري
حضرت شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا افضل استغفار یہ ہے کہ تم یوں دعا مانگو اے اللہ تو ہی میرا پروردگار ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں میں تیرے عہد پر ہوں۔ (یعنی عہد میثاق پر قائم ہوں اور تیرے وعدے پر ہوں یعنی تو نے حشر وغیرہ کے بارے میں جو وعدہ کیا ہے اس پر یقین کامل رکھتا ہوں میں اپنی طاقت کے بقدر اس برائی یعنی گناہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس میں میں مبتلا ہوا۔ میں تیری نعمتوں کو جو تو نے مجھے عنایت فرمائی اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں پس تو مجھے بخش دے۔ کیونکہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں بخشتا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ان کلمات کو دن میں ان کے معنی پر یقین رکھ کر پڑھے اور پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہے اور جو شخص ان کلمات کو رات میں ان کے معنی پر یقین رکھ کر پڑھے اور اسی رات صبح ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہے۔ (بخاری)
اللہ تعالیٰ کی بخشش کی کوئی انتہاء نہیں
عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : يا ابن آدم إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان فيك ولا أبالي يا ابن آدم إنك لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي يا ابن آدم إنك لو لقيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرابها مغفرة . رواه الترمذي
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے گناہوں کی معافی مانگتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا میں تجھے بخشوں گا تو نے جو برا کام بھی کیا ہوگا اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی یعنی تو چاہے کتنا ہی بڑا گنہگار ہو تجھے بخشنا میرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں اور تو مجھ سے بخشش چاہے تو میں تجھ کو بخش دوں گا۔ اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی، اے ابن آدم! اگر تو مجھ سے اس حال میں ملے کہ تیرے ساتھ گناہوں سے بھری ہوئی زمین ہو تو میں تیرے پاس بخشش مغفرت سے بھری ہوئی زمین کو لے کر آؤں گا۔ بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ (یعنی شرک میں مبتلا نہ ہوا ہو) ترمذی اور احمد و دارمی نے اس روایت کو ابوذر ؓ سے نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قال الله تعالى : من علم أني ذو قدرة على مغفرة الذنوب غفرت له ولا أبالي ما لم تشرك بي شيئا . رواه في شرح السنة
اور حضرت ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کرتے ہوئے کہتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس شخص نے یہ جانا کہ میں گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں تو اسے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی بشرطیکہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۔ (شرح السنتہ)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بندہ کو اس بات کا جاننا کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت پر قادر ہے اس کی مغفرت و بخشش کا سبب ہے کیونکہ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی بخشش پر قدرت رکھتا ہے وہ اس سے امید رکھتا ہے اور جو شخص کریم سے امید رکھتا ہے کریم اسے محروم نہیں رکھتا لہٰذا یہ حدیث قدسی اس حدیث قدسی انا عند ظن عبدی بی میں اپنے بندہ کے گمان کے قریب ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے کے مانند ہے۔ منقول ہے کہ حضرت سفیان ثوری ؓ بیمار ہوئے تو حضرت حماد بن سلمہ ؓ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے حضرت سفیان ثوری ؓ نے حضرت حماد ؓ سے کہا کہ کیا آپ کو اس بات کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ جیسے کو بخش دے گا؟ حضرت حماد ؓ نے جواب دیا کہ اگر مجھے اس بات کا اختیار دے دیا جائے کہ حساب کتاب کے لئے چاہے تو میں اپنے باپ کے سامنے پیش ہوجاؤں چاہے اللہ تعالیٰ کے سامنے تو میں اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے پیش ہونے کو ترجیح دوں گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ باپ سے زیادہ مجھ پر رحم کرتا ہے۔ گویا حماد کے اس جواب کا مقصد یہ تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش کی امید رکھئے اس کی رحمت پر بھروسہ کیجئے کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہے۔
استغفار کی فضیلت اور اس کا اثر
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه من حيث لا يحتسب . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو استغفار کو اپنے اوپر لازم قرار دے لیتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ نکال دیتا ہے۔ اور اسے ہر رنج وغم سے نجات دیتا ہے نیز اس کو ایسی جگہ سے پاک و حلال روزی بہم پہنچاتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
استغفار کو اپنے اوپر لازم قرار دے لینا۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی گناہ سرزد ہوجائے یا کوئی آفت و مصیبت اور رنج وغم ظاہر ہو تو استغفار کرے! یا پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ استغفار پر مداومت وہمیشگی اختیار کرے کیونکہ زندگی کا کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں انسان استغفار کا محتاج نہ ہو اس لئے سرکار دو عالم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے۔ طوبی لمن وجد فی صحیفتہ استغفارا کثیرا۔ خوش بختی ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت پائی۔ حدیث میں مذکورہ بالا فضیلت کی بنیاد یہ ہے کہ جو شخص استغفار کو اپنے اوپر لازم قرار دے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے قلب کا تعلق اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس کا اعتماد مستحکم وقوی ہوتا ہے اور اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں اس کا شمار اللہ سے ڈرنے والوں اور اللہ کی ذات پر اعتماد کرنے والوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں حق تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے جو مذکورہ بالا حدیث کی بنیاد بھی ہے کہ۔ آیت ( ڛ وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّه مَخْرَجًا۔ وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُه) 65۔ الطلاق 3-2)۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کی راہ نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی بہم پہنچاتا ہے جہاں اس کو گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ پر اعتماد کرتا ہے اللہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ استغفار کی فضیلت اور اس کا فائدہ مند ہونا اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ آیت (فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اِنَّه كَانَ غَفَّارًا 10 يُّرْسِلِ السَّمَا ءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا 11 وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا 12) 71۔ النوح 12-11-10)۔ پس میں نے کہا کہ تم اپنے رب سے بخشش مانگو کیونکہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے وہ تم پر بکثرت بارش برسائے گا اور تمہیں مال اور اولاد دے گا اور تمہارے لئے باغ بنائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا۔ حضرت حسن بصری کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص نے ان سے قحط سالی کی شکایت کی تو انہوں نے اس سے کہا کہ اللہ سے استغفار کرو، پھر ایک اور شخص نے محتاجگی کا شکوہ کیا اور ایک اور نے اولاد نہ ہونے کی اور ایک اور نے زمین کی پیداوار میں کمی کی شکایت کی انہوں نے سب ہی سے کہا کہ استغفار کرو لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے پاس کئی شخص آئے اور سب نے اپنی الگ الگ پریشانی ظاہر کی۔ مگر آپ نے سب ہی کو استغفار کرنے کا حکم دیا اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے اس کے جواب میں مذکورہ بالا آیت۔ (فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اِنَّه كَانَ غَفَّارًا) 71۔ نوح 10) پڑھی اور اس طرح انہیں بتایا کہ میں نے جن جن باتوں کے لئے استغفار کا حکم دیا ہے اس آیت سے وہ سب ثابت ہیں۔
استغفار کی فضیلت اور اس کا اثر
وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أصر من استغفر وإن عاد في اليوم سبعين مرة . رواه الترمذي وأبو داود
حضرت ابوبکر صدیق ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے گناہ پر استغفار کیا اس نے اپنے گناہ پر اصرار نہیں کیا اگرچہ وہ دن میں ستر بار گناہ کرے۔ (ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
گناہ پر اصرار کا مطلب یہ ہے کہ گناہ پر دوام کرنا یعنی باربار اس گناہ کو کرنا، یوں تو خود گناہ کرنا کوئی کم بری بات نہیں ہے چہ جائیکہ اس پر اصرار کرنا تو یہ تو بہت ہی برا ہے کیونکہ صغیر گناہ پر اصرار کبیرہ گناہ کے ارتکاب پر پہنچا دیتا ہے اور کبیرہ گناہ پر اصرار کفر کی حد تک لے جاتا ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص اپنے کسی گناہ پر شرمندہ ہوتا ہے اور اس سے استغفار کرتا ہے خواہ وہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ تو وہ حد اصرار سے خارج ہوتا ہے چاہے اس سے اس گناہ کا ارتکاب کتنی ہی مرتبہ کیوں نہ ہو کیونکہ گناہ پر ارتکاب کرنے والا تو اسی کو کہیں گے جو باربار گناہ کرے مگر نہ تو وہ اس گناہ سے شرمندہ ونادم ہو اور نہ استغفار کرے۔
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر انسان خطا کار ہے (یعنی ہر انسان گناہ کرتا ہے علاوہ انبیاء کرام کے کیونکہ وہ معصوم عن الخطا ہیں) اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
گناہ کی زیادتی قلب کو زنگ آلود کردیتی ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه فإن تاب واستغفر صقل قلبه وإن زاد زادت حتى تعلو قلبه فذلكم الران الذي ذكر الله تعالى ( كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون ) رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ اس گناہ سے توبہ کرلیتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل اس نقطہ سیاہ سے صاف کردیا جاتا ہے اور اگر زیادہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے پس یہ ران یعنی زنگ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ۔ آیت (کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون)۔ یوں ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر یہ اس چیز یعنی گناہ کا زنگ ہے جو وہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے دلوں پر خیر و بھلائی بالکل باقی نہیں رہی۔ اس روایت کو احمد، ترمذی، ابن ماجہ نے نقل کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
یہاں تک کہ وہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے، کا مطلب یہ ہے کہ جوں جوں گناہ میں زیادتی ہوتی جاتی ہے توں توں وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے قلب پر حاوی ہوجاتا ہے اور قلب کے نور کو ڈھانپ لیتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ مومن دل کی بینائی سے محروم ہوجاتا ہے چناچہ نہ تو نفع دینے والے علوم اور نفع دینے والے نیک اعمال ہی کی کوئی اہمیت اس کی نظروں میں باقی رہتی ہے اور نہ فائدہ مند عقل و حکمت کی باتوں کا اس پر کوئی اثر ہوتا ہے اس طرح وہ شفقت و رحمت کے حیات آفرین وصف سے خالی ہوجاتا ہے کہ نہ اپنے اوپر رحم کرتا ہے اور نہ دوسروں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرتا ہے اور آخر کار اس کے قلب میں ظلم وجہل اور شر و فتنہ کی تاریکی اپنا تسلط جما لیتی ہے جس کا نتیجہ اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ گناہ پر اس کی جرات بڑھ جاتی ہے اور معصیت آمیز زندگی ہی اس پر چھا جاتی ہے۔
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ غرغرہ کی کیفیت نہ شروع ہوجائے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
غرغرہ، انسانی زندگی کا وہ آخری درجہ ہے جب جسم و روح کا تعلق اپنے انقطاع کے انتہائی نقطہ کے بالکل قریب ہوتا ہے جان پورے بدن سے کھنچ کر حلق میں آجاتی ہے سانس اکھڑ کر صرف غرغر کی سی آواز میں تبدیل ہوجاتا ہے اور زندگی کی بالکل آخری امید بھی یاس و نا امیدی کے درجہ یقین پر پہنچ جاتی ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں جب تک کہ غرغرہ کی کیفیت شروع نہ ہوجائے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک موت کا یقین نہیں ہوتا اس وقت تک تو توبہ قبولیت سے نوازی جاتی ہے مگر جب موت کا بالکل یقین ہوجائے یعنی مذکورہ بالا کیفیت شروع ہوجائے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اس حدیث کے ظاہری اور واضح مفہوم سے تو یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ مرنے کے وقت مطلقاً توبہ صحیح نہیں ہوتی خواہ کفر سے توبہ ہو یا گناہوں سے یعنی اس وقت نہ تو کافر کا ایمان لانا صحیح و درست ہوگا اور نہ مسلمان کی گناہوں سے توبہ صحیح ہوگی چناچہ قرآن کریم کی آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّ يِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْ ٰنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰ ى ِكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِ يْمًا) 4۔ النساء 18) سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے لیکن بعض علماء اس بات کے قائل ہیں کہ گناہوں سے توبہ تو صحیح ہوگی لیکن کفر سے توبہ صحیح نہیں ہوگی گویا ان حضرات کے نزدیک یاس و ناامید کا ایمان غیر مقبول ہے اور یاس کی توبہ مقبول ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حدیث مذکورہ بالا کے تحت جو حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق گناہوں سے توبہ کرنے سے ہے کہ حالت غرغرہ میں توبہ قبول نہیں ہوتی لیکن ایسی حالت میں اگر کسی سے اس کا کوئی حق معاف کرایا جائے اور وہ صاحب حق معاف کر دے یہ صحیح ہوگا۔
وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان قال : وعزتك يا رب لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم فقال الرب عز و جل : وعزتي وجلالي وارتفاع مكاني لا أزال أغفر لهم ما استغفروني رواه أحمد
حضرت ابوسعد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ قسم ہے تیری عزت کی اے میرے پروردگار! میں تیرے بندوں کو ہمیشہ گمراہ کرتا رہوں گا جب تک کہ ان کی روحیں ان کے جسم میں ہیں! پروردگار عزوجل نے فرمایا قسم ہے اپنی عزت اور بزرگی کی اور اپنے مرتبہ کی بلندی کی، میرے بندے جب تک مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی ہمیشہ ان کو بخشتا رہوں گا۔ (احمد)
وعن صفوان بن عسال رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى جعل بالمغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق ما لم تطلع عليه الشمس من قبله وذلك قول الله عز و جل : ( يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل ) رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت صفوان بن عسال ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جانب ایک دروازہ بنایا ہے جو توبہ کے لئے ہے اور جس کا عرض ستر سال کی مسافت کے بقدر ہے اور یہ دروازہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا جب تک کہ آفتاب مغرب کی سمت سے نکلے یعنی مغرب کی سمت سے آفتاب کا نکلنا قبولیت توبہ کا مانع ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کہ اس دن آویں گی بعض نشانیاں تیرے پروردگار کی نہیں نفع دے گا کسی ایسی جان کو ایمان لانا جو پہلے سے ایمان نہیں لائی تھی کا یہی مطلب ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
جو توبہ کے لئے ہے کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کرنے والون کے لئے کھلا ہوا ہے یا یہ کہ وہ توبہ کے صحیح ہونے اور توبہ کے قبول ہونے کی علامت ہے! حاصل یہ کہ جب آفتاب مغرب کی جانب سے نہیں نکلتا لوگوں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے جس کا جی چاہے اپنے شرک و کفر سے توبہ کرے اور جس کا جی چاہے اپنے گناہوں سے توبہ کر کے اس دروازہ کے ذریعہ آخرت کی ابدی راحتوں اور سعادتوں کا مستحق ہوجائے۔ جب مغرب کی سمت سے آفتاب نکلے گا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا حدیث میں جس آیت کریمہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ پوری یوں ہے۔۔ آیت (يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْ اِيْمَانِهَا خَيْرًا) 6۔ الانعام 158)۔ اس دن آویں گی بعض نشانیاں تیرے پروردگار کی (یعنی قرب قیامت پروردگار بعض نشانیاں ظاہر کرے گا ان ہی میں سے ایک نشائی یہ ہے کہ ایک دن آفتاب مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اس دن نہیں نفع دے گا کسی ایسی جان کو ایمان لانا جو پہلے سے (یعنی پروردگار کی نشانی ظاہر ہونے سے پہلے) ایمان لائی تھی اور اس جان کو کہ جس نے حالت ایمان بھلائی (یعنی توبہ) نہیں کی تھی (اس دن اس کی توبہ اس کو کوئی نفع نہیں دے گی)۔ اس آیت کا حاصل یہی ہے کہ جس دن آفتاب مغرب کی سمت سے طلوع ہوگا تو جو شخص اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا ایمان پر تو ہوگا مگر توبہ نہیں کی ہوگی اب نہ اس کا ایمان نفع پہنچائے گا نہ اس کی توبہ کوئی فائدہ پہنچائے گی۔
وعن معاوية قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تنقطع الهجرة حتى ينقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها . رواه أحمد وأبو داود والدارمي
حضرت معاویہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہجرت (یعنی گناہوں سے توبہ کی طرف رجوع) موقوف نہیں ہوگی تاوقتیکہ توبہ موقوف نہ ہو اور توبہ اس وقت تک موقوف نہیں ہوگی جب تک کہ آفتاب مغرب کی طرف سے نہ نکلے۔ (ابوداؤد، احمد، ترمذی)
تشریح
جب تک توبہ موقوف نہیں ہوتی یعنی جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی ہر شخص گناہوں سے پاک ہوسکتا ہے اور جب توبہ موقوف ہوجائے گی تو کوئی شخص گناہوں سے پاک نہیں ہو سکے گا اور توبہ موقوف اسی وقت ہوگی جب کہ آفتاب مغرب کی سمت سے طلوع ہوگا۔ حاصل یہ کہ جب تک آفتاب مغرب کی سمت سے طلوع نہیں ہوتا اس وقت تک ہر شخص توبہ کر کے اپنے گناہوں سے پاک ہوسکتا ہے پھر اس کے بعد کسی کی توبہ کار گر ثابت نہیں ہوگی۔
کسی گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرو
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجلين كانا في بني إسرائيل متحابين أحدهما مجتهد للعبادة والآخر يقول : مذنب فجعل يقول : أقصر عما أنت فيه فيقول خلني وربي حتى وجده يوما على ذنب استعظمه فقال : أقصر فقال : خلني وربي أبعثت علي رقيبا ؟ فقال : والله لا يغفر الله لك أبدا ولا يدخلك الجنة فبعث الله إليهما ملكا فقبض أرواحهما فاجتمعا عنده فقال للمذنب : أدخل الجنة برحمتي وقال للآخر : أتستطيع أن تحظر على عبدي رحمتي ؟ فقال : لا يا رب قال : اذهبوا به إلى النار . رواه أحمد
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل میں دو شخص تھے جو آپس میں دوست تھے ان میں سے ایک تو عبادت میں بہت ریاضت کرتا تھا اور دوسرا گناہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں گناہگار ہوں یعنی وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا تھا۔ چناچہ عبادت کرنے والے نے اس سے کہنا شروع کیا جس چیز میں تم مبتلا ہو یعنی گناہ میں اس سے باز آجاؤ گنہگار اس کے جواب میں کہتا کہ تم میرے پروردگا پر چھوڑ دو! کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے وہ مجھے معاف کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک دن اس عابد نے اس شخص کو ایسے گناہ میں مبتلا دیکھا جسے وہ بہت بڑا گناہ سمجھتا تھا اس نے اس سے کہا کہ تم اس گناہ سے باز آجاؤ گنہگار نے جواب دیا کہ تم مجھے میری پروردگار پر چھوڑ دو، کیا تم میرے داروغہ بنا کر بھیجے گئے ہو؟ (عابد نے یہ سن کر) کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ تمہیں کبھی نہیں بخشے گا اور نہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا اس کے بعد حق تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس فرشتہ بھیج کر ان کی روحیں قبض کرائیں اور پھر جب وہ دنوں یعنی ان کی روحیں حق تعالیٰ کے حضور برزخ میں یا عرش کے نیچے حاضر ہوئیں تو حق تعالیٰ نے گنہگار سے تو فرمایا کہ تو میری رحمت کے سبب جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا کہ کیا تو اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ میرے بندے کو میری رحمت سے محروم کر دے؟ اس نے کہا کہ نہیں پروردگار پھر اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو جو دوزخ پر مامور ہیں فرمایا کہ اس کو دوزخ کی طرف لے جاؤ۔ (احمد)
تشریح
چونکہ عبادت کرنے والے نے اپنی عبادت اور اپنے نیکی اعمال پر غرور وتکبر کا اعتماد کیا اور اس گنہگار کو اپنے سے حقیر جان کر اس سے یہ کہا کہ حق تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا اس لئے اسے مستحق عذاب قرار دیا گیا اسی لئے کسی بزرگ کا قول ہے کہ جو گناہ اپنے کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا باعث ہو وہ اس طاقت عبادت سے بہتر ہے جو غرور وتکبر اور نخوت میں مبتلا نہ کرے۔
گنہگار رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہوں
وعن أسماء بنت يزيد قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ : ( يا عبادي الذي أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا ) ولا يبالي رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث حسن غريب وفي شرح السنة يقول : بدل : يقرأ
حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ یہ آیت پڑھا کرتے تھے۔ آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّه هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ) 39۔ الزمر 53)۔ اے میرے وہ بندو جنہوں نے گناہ کرنے کے سبب اپنے نفس پر زیادتی کی ہے، رحمت الٰہی سے مایوس مت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہ بخشتا ہے (نیز آپ ﷺ فرماتے کہ) اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں کہ بندے کتنے ہی گناہ کرتے ہیں اور وہ سب کو بخش دیتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور شرح السنۃ میں لفظ یقرہأ کی بجائے لفظ یقول ہے۔
تشریح
اللہ تعالیٰ سب گناہ بخشتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو توبہ کے ساتھ بخشتا ہے کہ اگر کوئی کافر اپنے کفر و شرک سے توبہ کر کے ایمان کی دولت قبول کرلے تو اسے حق تعالیٰ ابدی نجات و بخشش کا مستحق قرار دیتا ہے اور مومنین کو توبہ کے ساتھ بھی بخشتا ہے اور اپنے بےپایا فضل و کرم کی بنا پر اگر چاہتا ہے تو بغیر توبہ کے بھی بخش دیتا ہے۔
گنہگار رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہوں
وعن ابن عباس : في قوله تعالى : ( إلا اللمم ) قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن تغفر اللهم تغفر جما وأي عبد لك لا ألما رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن صحيح غريب
حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول الا اللمم کی تفسیر کے ضمن میں روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ شعر پڑھا۔ ان تغفر اللہم تغفر جما وای عبدلک لا الما اگر بخشے تو اے الٰہی! تو بڑے سے گناہ بخش دے۔ اور تیرا کون سا بندہ ہے جس نے چھوٹے گناہ نہ کئے ہوں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
تشریح
الا اللمم ایک آیت کا ٹکڑا ہے اور پوری آیت یہ ہے۔ آیت (اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰ ى ِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ) 53۔ النجم 32)۔ اور (جن نیکو کاروں کا پیچھے ذکر ہوا) یہ وہ لوگ ہیں جو پرہیز کرتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے علاوہ چھوٹے گناہوں (کہ جن سے بچنا ممکن نہیں ہے) اور بیشک تیرا رب مغفرت کا وسیع کرنے والا ہے۔ پس آیت میں چھوٹے گناہوں کا جو استثناء کیا گیا ہے اسی کی دلیل کے طور پر آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا شعر پڑھا کہ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی مومن صغیرہ گناہوں سے خالی نہیں ہوتا۔ شعر کا حاصل یہ ہے کہ پروردگار تیری شان رحمت ایسی ہے اور تیرے فضل و کرم کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اگر تو چاہے تو کبیرہ گناہوں کو بھی بخش دے چھوٹے گناہوں کی تو حقیقت ہی کیا ہے اور پھر تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جو چھوٹے گناہ نہیں کرتا اور تو اسے نہیں بخشتا بلکہ تو ان چھوٹے گناہوں کو نیکیوں کے ذریعہ جھاڑتا رہتا ہے اور اس طرح ان بندوں کو چھوٹے گناہوں کے بوجھ سے بچاتا ہے۔ یہ شعر جسے آنحضرت ﷺ نے پڑھا امیہ بن صلت کا ہے جو ایام جاہلیت کے مشہور شعراء میں سے ہے امیہ اس وقت بھی بہت زیادہ عبادت کرتا تھا اور قیامت پر اعتقاد کرتا تھا اگرچہ اس نے اسلام کا زمانہ پایا ہے مگر مسلمان ہونے کی سعادت سے محروم رہا۔ امیہ چونکہ حکمت آمیز اشعار کہا کرتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نہ صرف یہ کہ اس کے اشعار سنتے ہی تھے بلکہ کبھی کبھی خود انہیں پڑھا کرتے تھے۔
بندہ کی عبادت اور معصیت سے اللہ کی خدائی میں کوئی اثر نہیں پڑتا
وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تعالى يا عبادي كلكم ضال إلا من هديت فاسألوني الهدي أهدكم وكلكم فقراء إلا من أغنيت فاسألوني أرزقكم وكلكم مذنب إلا من عافيت فمن علم منكم أني ذو قدرة على المغفرة فاستغفرني غفرت له ولا أبالي ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على أتقى قلب عبد من عبادي ما زاد في ملكي جناح بعوضةولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على أشقى قلب عبد من عبادي ما نقص ذلك من ملكي جناح بعوضة . ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا في صعيد واحد فسأل كل إنسان منكم ما بلغت أمنيته فأعطيت كل سائل منكم ما نقص ذلك من ملكي إلا كما لو أن أحدكم مر بالبحر فغمس فيه إبرة ثم رفعها ذلك بأني جواد ماجد أفعل ما أريد عطائي كلام وعذابي كلام إنما أمري لشيء إذا أردت أن أقول له ( كن فيكون ) رواه أحمد والترمذي وابن ماجه
حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! تم سب گم کردہ راہ علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے ہدایت بخشی پس تم سب مجھ سے ہدایت چاہو میں تمہیں ہدایت بخشوں گا۔ تم سب ظاہر و باطن میں محتاج ہو علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے غنی بنادیا پس تم سب مجھ سے روزی مانگو میں تمہیں (پاک و حلال) روزی دوں گا تم سب گنہگار ہو (یعنی سب ہی سے گناہ متصور ہے) علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے بچا لیا ہو (یعنی انبیاء کرام) پس تم میں سے جس شخص نے جانا کہ میں بخشنے پر قادر ہوں اور پھر اس نے مجھ سے بخشش مانگی تو میں اس کو (یعنی اس کے سب گناہ) بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی اور اگر تمہارے پچھلے اگلے، تمہارے زندے، تمہارے مردے، تمہارے تر اور تمہارے خشک (یعنی تمہارے جوان و بوڑھے یا تمہارے عالم و جاہل اور یا تمہارے فرمانبردار گنہگار غرضیکہ ساری مخلوقات) میرے بندوں میں سب سے زیادہ متقی دل بندہ محمد ﷺ کی طرح ہوجائیں تو اس سے یعنی تمام مخلوقات کے عابد و متقی ہوجانے سے میری خدائی میں ایک مچھر کے برابر بھی زیادتی نہیں ہوگی اور اگر تمہارے اگلے تمہارے پچھلے، تمہارے زندے تمہارے مردے، تمہارے تر اور تمہارے خشک (غرض کہ ساری مخلوقات) میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت (شیطان لعین) کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری خدائی میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہ ہوگی اور اگر تمہارے اگلے تمہارے پچھلے، تمہارے زندے، تمہارے مردے تمہارے تر اور تمہارے خشک ایک جگہ جمع ہوں اور تم میں سے ہر شخص اپنی انتہائی آرزو و خواہش کے مطابق مانگے (یعنی اس کے دل میں جو بھی آرزو اور خواہش ہو مجھ سے مانگے) اور پھر تم میں سے ہر شخص کو (اس کی خواہش کے مطابق دوں) تو اس سے میری خدائی میں کچھ بھی کمی نہیں ہوگی (ہاں اگر بفرض محال کمی ہو بھی تو) وہ اسی قدر ہوگا جتنا کہ ایک سوئی پر پانی لگ جاتا ہے ورنہ حقیقت میں اللہ کی خدائی میں کمی کے کسی بھی درجہ کا کیا سوال۔ وہ کتنا ہی دے اس کے ہاں ہرگز کمی نہیں ہوتی اور اس کا سبب یہ ہے کہ میں بہت سخی ہوں۔ بہت دینے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں کرتا ہوں (یعنی یہ تمام سخاوت اور کرم میرے ارادہ و اختیار کے ہی تحت ہے اس میں کسی بندے کے ارادے کو دخل نہیں ہے) میرا دینا صرف حکم کرنا ہے اور میرا عذاب دینا صرف حکم دینا ہے (یعنی یہ سب چیزیں صرف میرے ایک حکم سے ہوجاتی ہیں میں ذرائع اور اسباب کا محتاج نہیں ہوں اور میں کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہوں تو اس کے لئے میرا صرف اتنا ہی حکم ہے کہ میں کہہ دیتا ہوں ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)