Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 118 of 317

2341Mishkaat-al-Masabih

تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کا ثواب

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سبح الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حج مائة حجة ومن حمد الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن حمل على مائة فرس في سبيل الله ومن هلل الله مائة بالغداة ومائة بالعشي كان كمن أعتق مائة رقبة من ولد إسماعيل ومن كبر الله مائة بالغداة ومائة بالعشي لم يأت في ذلك اليوم أحد بأكثر مما أتى به إلا من قال مثل ذلك أو زاد على ما قال . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب

حضرت عمرو بن شعیب ؓ اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے جد محترم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سو مرتبہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور سو مرتبہ دن کے آخری حصہ میں سبحان اللہ کہے تو وہ از روئے ثواب اس شخص کی مانند ہے جس نے سو نفل حج کئے ہوں جو شخص سو مرتبہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور سو مرتبہ دن کے آخری حصہ میں الحمدللہ کہے تو اس شخص کی مانند ہے جس نے سو آدمیوں کو اللہ کی راہ میں سو گھوڑوں پر سوار کرایا ہو جو شخص سو مرتبہ دن کے ابتدائی حصہ میں اور سو مرتبہ دن کے آخری حصہ میں اللہ اکبر کہے تو اس دن یعنی قیامت کے دن کوئی شخص اس ثواب سے زائد ثواب لے کر نہیں آئے گا جو وہ لائے گا علاوہ اس شخص کے جس نے اس کی مانند یعنی اللہ اکبر مذکورہ تعداد میں کہا ہوگا تو یہ شخص درجہ ثواب کے اعتبار سے اس کے برابر ہوگا یا وہ شخص جس نے اس سے زائد کہا ہوگا (تو یہ اس سے بھی افضل ہوگا) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح اس شخص کی مانند ہے جس نے سو حج کئے ہوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسان وسہل ذکر بشرطیکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور کی کیفیت حاصل ہو ان عبادت شاقہ سے افضل ہے جس میں قلب حضور و اخلاص سے محروم اور غفلت میں گرفتار ہو! لیکن یہ بھی امکان ہے کہ جس طرح کسی کمتر درجہ کے عمل کی مانند قرار دیا جاتا ہے اسی طرح سبحان اللہ کی عظمت و فضیلت کو بطور مبالغہ بیان کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے کہ جو شخص صبح شام سو سو مرتبہ تسبیح پڑھتا ہے وہ نفل حج کرنے والے کی مانند ہوتا ہے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ تسبیح سبحان اللہ پڑھنے کی چونکہ بہت زیادہ فضیلت ہے اس لئے اس کا ثواب بڑھا کر نفل حج کے اصل ثواب کے برابر کردیا جاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں سو گھوڑوں پر سوار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جہاد کے لئے سو گھوڑے دے ڈالے ہوں یا عاریۃ دئیے ہوں! اس بات سے گو ذکر اللہ میں مشغول رہنے کی ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ کوئی شخص دنیا کی طرف التفات نہ کرے بلکہ وہ حضور مع اللہ کی سعادت عظمی کے حصول میں اپنی پوری کوششیں اور توجہات صرف کرے کیونکہ عبادت خواہ بدنیہ ہوں یا مالیہ یا دونوں کا مجموعہ، سب کا مقصد اور حاصل ذکر اللہ ہے اور پھر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ مطلوب بہر صورت وسیلہ سے اولیٰ ہوتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے سو غلام آزاد کئے ہوں۔ اس میں درحقیقت ان ذاکرین کے لئے تسلی اور ترغیب ہے جو محتاج اور کم استطاعت ہونے کی وجہ سے ان عبادت مالیہ سے عاجز ہوں جنہیں اہل ثروت اور مالدار ادا کرتے ہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے مراد اہل عرب ہیں جو نبی کریم ﷺ کے قرابتی ہونے کی وجہ سے افضل واعلیٰ ہیں حدیث کے آخری جز سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ اکبر ان تمام تسبیحات میں جو حدیث میں ذکر کی گئی ہیں سب سے افضل ہے حالانکہ بہت سی صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان تسبیحات میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ ہے۔ پھر الحمدللہ پھر اللہ اکبر، پھر سبحان اللہ لہٰذا اس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ اکبر ہر صبح وشام سو سو مرتبہ پڑھے گا قیامت کے دن لاالہ الا اللہ پڑھنے والے کے علاوہ کوئی شخص اس ثواب سے زیادہ ثواب لے نہیں آئے گا جو یہ شخص لائے گا۔

2342Mishkaat-al-Masabih

تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کا ثواب

وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التسبيح نصف الميزان والحمد لله يملؤه ولا إله إلا الله ليس لها حجاب دون الله حتى تخلص إليه . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ کہنا آدھی میزان اعمال کو یعنی (میزان اعمال کے اس پلڑے کو جو نیکیوں کو تولنے کے لئے مخصوص ہوگا) بھر دیتا ہے الحمد للہ کہنا پوری میزان عمل کو بھر دیتا ہے اور لا الہ الا اللہ کے لئے اللہ تک پہنچنے میں کوئی پردہ حائل نہیں، یہ سیدھا اللہ تک پہنچاتا ہے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد قوی نہیں ہے۔ تشریح الحمد للہ کہنا پوری میزان عمل کو بھر دیتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ صرف الحمد للہ کا ثواب ہی پوری میزان کو بھر دیتا ہے اور یہ کہ الحمد للہ، سبحان اللہ سے افضل ہے! یا پھر مراد یہ ہے کہ الحمد للہ، سبحان اللہ کے برابر ہے کہ آدھی میزان کو تو سبحان اللہ کا ثواب بھر دیتا ہے اور آدھی میزان کو الحمد للہ کا ثواب بھر دیتا ہے اس طرح دونوں مل کر پوری میزان کو بھر دیتے ہیں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ بارگاہ کبریائی میں بہت جلد قبول ہوتا ہے اور اس کو پڑھنے والا بہت ثواب پاتا ہے اس طرح حدیث کا یہ آخری جزء وضاحت کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ سبحان اللہ اور الحمدللہ سے لا الہ الا اللہ افضل ہے۔

2343Mishkaat-al-Masabih

تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کا ثواب

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما قال عبد لا إله إلا الله مخلصا قط إلا فتحت له أبواب السماء حتى يفضي إلى العرش ما اجتنب الكبائر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ خلوص قلب کے ساتھ یعنی بغیر ریا کے لا الہ الا للہ کہتا ہے تو اس کلمہ کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچتا ہے یعنی جلد قبول ہوتا ہے بشرطیکہ وہ کلمہ کہنے والا کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح کبیرہ گناہوں سے بچنا جلدی قبول ہونے کی شرط ہے اصل ثواب کی شرط نہیں یعنی یہ کلمہ بارگاہ حق جل مجدہ میں اس وقت جلدی قبول ہوتا ہے جب کہ یہ کلمہ کہنے والا کبیرہ گناہوں سے بچے اور اصل ثواب اسے بہر صورت ملتا ہے خواہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچے یا نہ بچے۔

2344Mishkaat-al-Masabih

تسبیحات جنت کے درخت ہیں

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقيت إبراهيم ليلة أسري بي فقال : يا محمد أقرئ أمتك مني السلام وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة عذبة الماء وأنها قيعان وأن غراسها سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث حسن غريب إسنادا

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے معراج کی سعادت نصیب ہوئی ہے اس رات میں ساتوں آسمانوں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی جو بیت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے انہوں نے مجھ سے کہا۔ محمد! اپنی امت کو میرا سلام کہئے گا اور انہیں بتا دیجئے گا کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے اور وہ مٹی کی بجائے مشک وزعفران ہے اس کا پانی شیریں ہے اس کا میدان پٹ پڑ (یعنی ہموار اور درختوں سے خالی ہے) اور اس کے درخت ہیں سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت باعتبار اسناد کے غریب ہے۔ تشریح اس امت مرحومہ کی شان محبوبی اور شان عظمت کے صدقے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کے واسطہ سے اسے سلام کہلایا اور اس طرح اس امت سے اپنے تعلق کا اظہار کیا اس لئے اس امت کے ایک ایک فرد کے لئے یہی لائق ہے کہ اس حدیث کے ذریعہ جب بھی حضرت ابراہیم کا سلام سنایا جائے یا پڑھاجائے تو یہ کہا جائے وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ وان غراسہا سبحان اللہ (اور اس کے درخت ہیں سبحان اللہ الخ) کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو آگاہ کر دیجئے گا کہ یہ کلمات اور انہیں کی طرح دوسرے کلمات ذکر پڑھنے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے اور چونکہ جنت میں بہت سے درخت لگائے جاتے ہیں بایں طور کہ ہر کلمے کے پڑھنے سے ایک درخت لگتا ہے اس لئے ان کلمات کو جو شخص جتنا زیادہ پڑھے گا اس کی طرف سے جنت میں اتنے ہی زیادہ درخت لگائے جائیں گے۔ یہ گویا اس طرف اشارہ ہے کہ ان کلمات کو پڑھنے والا جنت کی پر سکون اور پر راحت فضا اور وہاں کے سرور آمیز اطمینان وچین کا حقدار ہوگا اور وہاں یہ کلمات درخت کی شکل میں لازوال سکون آمیز حیات کے ضامن ہوں گے۔

2345Mishkaat-al-Masabih

اوراد واذکار کو انگلیوں پر پڑھنا افضل ہے

وعن يسيرة رضي الله عنها وكانت من المهاجرات قالت : قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس واعقدن بالأنامل فإنهن مسؤولات مستنطقات ولا تغفلن فتنسين الرحمة . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت یسیرہ ؓ جو مہاجرات میں سے ہیں فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہم عورتوں سے فرمایا کہ (سبحان اللہ لا الہ الا اللہ، سبحان الملک القدوس) یا سبوح القدوس رب الملائکۃ کو پڑھنا اپنے لئے ضروری قرار دو اور ان مذکورہ تسبیحات کو، اپنی انگلیوں پر شمار کرو کیونکہ ان انگلیوں سے پوچھا جائے گا اور ان کو گویائی دی جائے گی اور یاد رکھو، ذکر سے غافل مت ہونا یعنی ذکر کو ترک نہ کرنا، ورنہ رحمت سے تمہیں بھلایا جائے گا یعنی اگر ذکر کو چھوڑ کر بیٹھ جاؤ گی تو اس کے بیشمار ثواب سے محروم ہوگی۔ (ترمذی، ابوداؤد ) تشریح یہ تو سب جانتے ہیں کہ قیامت کے دن جسم انسانی کا ایک ایک عضو اپنے مالک کے اعمال کا گواہ اور شاہد بنے گا ارشاد ربانی ہے۔ آیت (یوم تشہد علیہم السنتہم وایدیہم وارجلہم بما کانوا یعملون)۔ یاد کرو اس دن کو جب کہ ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان چیزوں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے ہیں۔ ارشاد گرامی ان انگلیوں سے پوچھا جائے گا میں اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انگلیوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ تم نے دنیا میں کیا کیا ہے اور پھر جواب دینے کے لئے ان انگلیوں کو گویائی عطا فرمائے گا۔ چناچہ وہ انگلیاں اپنے مالک کے ان اچھے برے اعمال کی گواہی دیں گے۔ جو ان انگلیاں کے ذریعہ سرزد ہوئے تھے اس لئے آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ تسبیحات کو اپنی انگلیوں پر شمار کرو تاکہ وہ کل قیامت کے دن تمہارے اس نیک عمل کی گواہی دیں۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اوراد و اذکار اور تسبیحات کو انگلیوں پر شمار کرنا افضل ہے اگرچہ تسبیح پڑھنا بھی جائز ہے نیز اس میں اس بات کی ترغیب بھی ہے کہ بندہ کی عقل و شعور کا تقاضہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اعضاء جسمانی کو انہیں کاموں میں مشغول رکھے جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہوں اور اپنے ایک ایک عضو کو گناہ سے بچائے تاکہ قیامت کے دن کوئی بھی عضو گناہ کی گواہی دے کر عذاب الٰہی میں مبتلا نہ کرا دے۔

2346Mishkaat-al-Masabih

بہترین ورد اور بہترین دعا

عن سعد بن أبي وقاص قال : جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : علمني كلاما أقوله قال : قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة إلى بالله العزيز الحكيم . فقال فهؤلاء لربي فما لي ؟ فقال : قل اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني وعافني . شك الراوي في عافني . رواه مسلم

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت مجھے کوئی ایسا ذکر بتا دیجئے جسے میں کہتا رہوں (یعنی اس کو اپنا ورد بنا لوں) آپ ﷺ نے فرمایا یہ پڑھ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا و سبحان اللہ رب العالمین لا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ بہت بڑا ہے اور اللہ ہی کے لئے بہت تعریف ہے اور پاکی ہے اللہ کے لئے جو پالنہار ہے تمام عالم کا گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ ہی کی مدد سے جو غالب و حکمت والا ہے۔ اس دیہاتی نے عرض کیا یہ کلمات تو میرے پروردگار کے ذکر کے لئے ہیں میرے لئے وہ کون سے کلمات ہیں جن کے ذریعہ میں اپنے لئے دعا مانگوں آپ نے فرمایا اس طرح مانگو۔ دعا (اللہم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارزقنی وعافنی شک الراوی فی عافنی۔ اے میرے پروردگار مجھے بخش دے (تمام حرکات و سکنات میں طاعت ہی کی توفیق کے ذریعہ) مجھ پر رحم فرما (بہتر اعمال و احوال کی طرف) میری ہدایت کر مال حلال سے مجھے روزی دے اور مجھے عافیت بخش! راوی کو لفظ عافنی کے بارے میں شک ہے کہ آیا روایت میں یہ لفظ بھی ہے یا نہیں۔ (مسلم) تشریح بزاز کی روایت میں لاحول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم میں لفظ العزیز الحکیم کی بجائے العلی العظیم ہے اور عام طور پر لوگ العلی العظیم ہی پڑھتے بھی ہیں اگرچہ مسلم میں العزیز الحکیم منقول نہیں ہے۔

2347Mishkaat-al-Masabih

تسبیح وغیرہ سے گناہوں کا سقوط

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على شجرة يابسة الورق فضربها بعصاه فتناثر الورق فقال : إن الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر تساقط ذنوب العبد كما يتساقط ورق هذه الشجرة . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث غريب

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ خشک پتوں والے ایک درخت کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا عصا مبارک اس کی ٹہنیوں پر مارا جس کی وجہ سے پتے جھڑنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ الحمدللہ و سبحان اللہ لالہ الا اللہ اور و او اللہ اکبر پڑھنا بندوں کے گناہوں کو اسی طرح جھاڑتا ہے جس طرح اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث غریب ہے۔

2348Mishkaat-al-Masabih

لاحول ولاقوۃ کی فضیلت

وعن مكحول عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثر من قول : لا حول ولا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة . قال مكحول : فمن قال : لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجى من الله إلا إليه كشف الله عنه سبعين بابا من الضر أدناها الفقر . رواه الترمذي . وقال : هذا حديث ليس إسناده بمتصل ومكحول لم يسمع عن أبي هريرة

حضرت مکحول ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے! حضرت مکحول ؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ ولا منجأ من اللہ الا الیہ یعنی ضرر و نقصان کو (دفع کرنے کی) قوت اور نفع حاصل کرنے کی طاقت اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی قدرت کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات اسی (کی ورضا ورحمت کی توجہ) پر منحصر ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ضرر و نقصان کی ستر قسمیں دور کردیتا جس میں ادنیٰ قسم (فقر ومحتاجگی ہے) امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی سند متصل نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے حضرت مکحول ؓ کی سماعت ثابت نہیں ہے۔ تشریح ارشاد گرامی جنت کا خزانہ کا مطلب یہ ہے کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ جنت کا ایک ذخیرہ ہے جس سے کہ اس کو پڑھنے والا اس دن (یعنی قیامت کے دن) نفع و فائدہ حاصل کرے گا جس دن نہ دنیا کا کوئی خزانہ مال کا کام آئے گا اور نہ اولاد اور دوسرے عزیز واقا رب نفع پہنچائیں گے۔ فقر (محتاجگی) سے مراد دل کا فقر اور قلب کی تنگی ہے جس کے متعلق ایک حدیث یوں ہے فرمایا کہ کاد الفقر ان یکون کفرا۔ فقر کفر کے قریب پہنچا دیتا ہے۔ لہٰذا جو شخص ان کلمات کو پڑھتا ہے تو اس کی برکت سے دل کی محتاجگی دور ہوتی ہے کیونکہ جب وہ ان کلمات کو زبان سے ادا کرتا ہے اور پھر ان کلمات کے معنی و مفہوم کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین و اعتماد پیدا ہوا جاتا ہے کہ ہر امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت کے زیر اثر ہے کسی کو نفع و فائدہ آرام و راحت دنیا میں بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور کسی کو تکلیف ومصیب اور ضرر و نقصان میں مبتلا کردینا بھی اسی کی طرف سے ہے پس وہ شخص بلاء و مصیبت پر صبر کرتا ہے، نعمت و راحت پر شکر کرتا ہے اپنے تمام امور اللہ ہی کی طرف سونپ دیتا ہے اور اس طرح قضا وقدر الٰہی پر راضی ہو کر حق تعالیٰ کا محبوب بندہ اور دوست بن جاتا ہے۔ حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی (رح) فرماتے ہیں کہ اپنی ایک سیاحت کے دوران جن صاحب کی رفاقت و صحبت مجھے حاصل رہی انہوں نے مجھے نیکی و بھلائی کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ خوب اچھی طرح جان لو! اعمال نیک کے لئے اقوال و کلمات میں تو لاحول ولاقوۃ الا باللہ کے برابر کوئی قول وکلمہ اور افعال میں اللہ کی طرف جھکنے اور اس کے فضل کی راہ کو اختیار کرنے کے برابر کوئی فعل ممد و معاون نہیں۔ آیت (ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم) جس شخص نے اللہ کی راہ دکھائی ہوئی کو اختیار کیا تو بلاشبہ اسے مضبوط راہ کی ہدایت بخشی ہوگی۔ امام ترمذی کے قول کے مطابق اگرچہ اس حدیث کی سند متصل نہیں اور اس طرح یہ حدیث منقطع ہے لیکن اس حدیث کو حضرت موسیٰ کی یہ روایت صحیح ثابت کرتی ہے جو صحاح ستہ میں بطریق مرفوع منقول ہے کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ فانہا کنز من کنوز الجنۃ۔ اسی طرح حدیث کی توثیق حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت مرفوع سے بھی ہوتی ہے جسے نسائی اور بزاز نے نقل کیا ہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ اور اس میں لا منجا من اللہ الا الیہ کنز من کنوز الجنۃ بھی ہے لہٰذا حضرت مکحول ؓ کی یہ حدیث اگرچہ اسناد کے اعتبار سے منقطع ہے مگر مفہوم ومعنی کے اعتبار سے قابل اعتماد ہے۔

2349Mishkaat-al-Masabih

لاحول ولاقوۃ کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حول ولا قوة إلا بالله دواء من تسعة وتسعين داء أيسرها الهم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لاحول ولا قوۃ الا باللہ ننانوے (دنیاوی اور اخروی) بیماریوں کی دوا ہے جس میں سے ادنیٰ بیماری (دنیاوی و اخروی) غم ہے۔

2350Mishkaat-al-Masabih

لاحول ولاقوۃ کی فضیلت

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلك على كلمة من تحت العرش من كنز الجنة لا حول ولا قوة إلا بالله يقول الله تعالى : أسلم عبدي واستسلم . رواهما البيهقي في الدعوات الكبير

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے بہشت کے خزانے سے اترا ہے اور وہ یہ ہے لا حول ولاقوۃ الا باللہ جب کوئی بندہ یہ کلمہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ تابعدار اور بہت فرمانبردار ہوا۔ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کی ہیں۔

2351Mishkaat-al-Masabih

لاحول ولاقوۃ کی فضیلت

وعن ابن عمر أنه قال : سبحان الله هي صلاة الخلائق والحمد لله كلمة الشكر ولا إله إلا الله كلمة الإخلاص والله أكبر تملأ ما بين السماء والأرض وإذا قال العبد : لا حول ولا قوة إلا بالله قال الله تعالى : أسلم عبدي واستسلم . رواه رزين

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا سبحان اللہ مخلوقات کی عبادت ہے الحمد للہ شکر کا کلمہ ہے لا الہ الا اللہ اخلاص کا کلمہ ہے (یعنی کلمہ توحید ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کے لئے آگ سے نجات کا سبب ہے) اور اللہ اکبر کا ثواب آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیتا ہے۔ اور جب کوئی بندہ حضور قلب کے ساتھ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بندہ فرمانبردار ہوا اور بہت فرمانبردار ہوا۔ تشریح سبحان اللہ مخلوقات کی عبادت ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت (وان من شیء الا یسبح بحمدہ) اور مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی پاکی اس کی تعریف کے ساتھ بیان نہ کرتی ہو کے مطابق چونکہ تمام ہی مخلوقات اللہ رب العزت کی پاکی بیان کرتی ہے اس لئے یہ ان کی عبادت ہے۔

2352Mishkaat-al-Masabih

استغفار وتوبہ کا بیان

استغفار کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش چاہنا اور چونکہ استغفار کے ضمن میں جس طرح توبہ بھی آجاتی ہے اسی طرح کبھی توبہ استغفار کے ضمن میں نہیں بھی آتی اس لئے باب کا عنوان قائم کرتے ہوئے بطور خاص والتوبۃ کا ذکر کیا گیا ہے یا پھر والتوبہ کو الگ سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ استغفار تو زبان سے متعلق ہے کہ بندہ اپنی زبان کے ذریعہ اللہ سے بخشش و مغفرت مانگتا ہے جب کہ توبہ کا تعلق دل سے ہے کیونکہ کسی گناہ پر ندامت و شرمندگی اور پھر اللہ کی طرف رجوع اور آئندہ اس گناہ میں ملوث نہ ہونے کا عہد دل ہی سے ہوتا ہے۔ توبہ کے معنی ہیں رجوع کرنا گناہوں سے طاعت کی طرف، غفلت سے ذکر کی طرف اور غیبت سے حضور کی طرف۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی بخشش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کے گناہوں کو دنیا میں بھی ڈھانکے بایں طور کہ کسی کو اس کے گناہ کا علم نہ ہونے دے اور آخرت میں اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے بایں طور کہ اس کو ان گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی سے پوچھا گیا کہ توبہ کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ گناہ کو فراموش کردینا یعنی توبہ کرنے کے بعد گناہ کی لذت کا احساس بھی دل سے اس طرح ختم ہوجائے گویا وہ جانتا ہی نہیں کہ گناہ کیا ہوتا ہے!!۔ اور سہیل تستری سے پوچھا گیا کہ حضرت! توبہ کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تم گناہوں کو فراموش نہ کرو یعنی گناہ کو بھول مت جاؤ تاکہ عذاب الٰہی کے خوف سے آئندہ کسی گناہ کی جرات نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم آیت (توبوا الی اللہ جمیعا)۔ تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو۔ کے مطابق استغفار یعنی طلب بخشش و مغفرت اور توبہ کرنا ہر بندہ پر واجب ہے کیونکہ کوئی بندہ بحسب اپنے حال و مرتبہ کے گناہ یا بھول چوک سے خالی نہیں ہے لہٰذا ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام گزشتہ گناہوں سے توبہ کرے۔ طلب بخشش و مغفرت کرے آئندہ تمام گناہوں سے بچتا رہے اور صبح و شام توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنالے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا کفارہ ہوتا رہے خواہ وہ گناہ قصدا کئے ہوں یا خطاء و سہوا سرزد ہوئے ہوں اور گناہوں کی نحوست کی وجہ سے طاعت کی توفیق سے محروم نہ رہے نیز گناہوں پر اصرار کی ظلمت دل کو پوری طرح گھیر کر اللہ نخواستہ کفر و دوزخ تک نہ پہنچا دے۔ توبہ کے صحیح اور قبول ہونے کے لئے چار باتیں ضروری ہیں اور شرط کے درجہ میں ہیں ایک تو یہ کہ محض اللہ کے عذاب کے خوف سے اور اس کے حکم کی تعظیم کے پیش نظر ہی توبہ کی جائے، درمیان میں توبہ کی کوئی اور غرض نہ ہو مثلاً لوگوں کی تعریف و مدح کا حصول اور ضعف و فقر کی وجہ، توبہ کی غرض میں داخل نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ گزشتہ گناہوں پر واقعی شرمندگی و ندامت ہو۔ تیسرے یہ کہ آئندہ ہر ظاہری و باطنی گناہ سے اجتناب کرے۔ اور چوتھے یہ کہ پختہ عہد اور عزم بالجزم کرے کہ آئندہ ہرگز کوئی گناہ نہیں کروں گا۔ توبہ کی کیفیت اور اثر آئندہ گناہ کرنے کے عزم کا صحیح ہونا یہ ہے کہ توبہ کرنے والا اپنے بلوغ کی ابتداء سے توبہ کرنے کے وقت تک پورے عرصہ کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ اس سے کیا کیا گناہ سرزد ہوئے ہیں تاکہ ان میں سے ہر ایک گناہ کا تدارک کرے چناچہ اگر اس عرصہ میں وہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر فرائض ترک ہوئے ہوں تو ان کی قضاء کرے اور اپنے اوقات کو نفل یا فرض کفایہ عبادتوں میں مصروف رکھ کر ان فرائض کو قضا کرنے میں سستی نہ کرے۔ اسی طرح اس عرصہ میں اگر ممنوع حرام چیزوں کا ارتکاب کیا ہے مثلا شراب پی ہے یا اور کوئی ممنوع وقبیح فعل کیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ان سے توبہ و استغفار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نام پر غرباء و مساکین میں اپنا مال خرچ کرے اور صدقہ و خیرات کرتا رہے تاکہ اس کی توبہ باب قبولیت تک پہنچے اور حق تعالیٰ کی طرف سے اسے بخشش و مغفرت سے نوازا جائے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر یقین رکھے کہ انشاء اللہ توبہ قبول ہوگی اور مغفرت کی جائے گی، چناچہ خود حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ آیت (ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفوا عن السیأت)۔ وہ ایسا رحیم و کریم ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے۔ یہ تو اس توبہ کی بات تھی جو ان گناہوں سے کی جائے جو محض اللہ تعالیٰ کے گناہ ہوں یعنی جن کا تعلق صرف حق اللہ سے ہو اور اگر اپنے اوپر وہ گناہ ہوں جن کا تعلق حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی تلفی یا ان کے نقصان سے ہو تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ سے بھی اپنی بخشش و مغفرت چاہے کیونکہ اس کی نافرمانی کی اور ان بندوں سے بھی ان کا تدارک کرے جن کی حق تلفی ہوئی ہے۔ چناچہ اگر حق تلفی کا تعلق مال سے ہو تو یا صاحب حق کو وہ مال ادا کرے یا اس سے معاف کرائے اور اگر اس کا تعلق مال سے نہ ہو جیسے غیبت یا اور کوئی ذہنی و جسمانی تکلیف جو اسے پہنچی ہو تو اس سے معافی چاہے۔ اگر حق تلفی کا تعلق کسی ایسی کوتاہی یا قصور سے ہو کہ اگر معاف کراتے وقت اس کا تذکرہ کسی فتنہ و فساد کا سبب بنتا ہو تو ایسی صورت میں اس قصور کا ذکر کئے بغیر اس شخص سے مطلقاً قصور معاف کرائے مثلا اس سے یوں کہے کہ مجھ سے جو بھی قصور ہوگیا ہو اسے معاف کر دیجئے اور اگر اس طرح معاف کرانے میں بھی فتنہ و فساد کا خوف ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرے۔ اس کی بارگاہ میں تضرع وزاری کرے، اچھے کام کرے اور صدقہ و خیرات کرتا رہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو اور اس شخص کو جس کا قصور ہوا ہے آخرت میں اپنے فضل و کرم کے تحت اپنے پاس سے اجر دے کر اسے راضی کرائے، اگر صاحب حق مرچکا ہو تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہیں اس لئے مردہ کا حق ان سے معاف کرائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے نیز مردہ کی طرف سے بھی صدقہ خیرات کرے۔ ایک مومن مسلمان کی شان یہ ہونی چاہئے کہ اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے توبہ کرنے میں بالکل سستی اور تاخیر نہ کرے نیز نفس کے مکر اور شیطان کے وسوسہ میں مبتلا ہو کر یہ نہ سوچے کہ میں توبہ پر قائم تو رہ سکوں گا نہیں اس لئے توبہ کیسے کروں کیونکہ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اس لئے اگر بتقاضائے بشریت توبہ کرنے کے بعد پھر گناہ سرزد نہ ہوجائے تو پھر توبہ کرے چاہے دن میں کئی مرتبہ ایسا ہو بشرطیکہ توبہ کے وقت اس کے دل میں یہ خیال نہ ہو کہ میں پھر گناہ بھی کروں گا اور توبہ بھی کرلوں گا بلکہ توبہ کرتے وقت یہی احساس رہے کہ شاید پھر گناہ کرنے سے پہلے مرجاؤں اور یہ توبہ میری آخری توبہ ثابت ہو۔ جب کوئی شخص توبہ کرنا چاہے تو پہلے نہا دھو کر صاف کپڑے پہنے اور دو رکعت نماز حضور قلب کے ساتھ پڑھے اور سجدہ میں گر کر بہت ہی زیادہ تضرع وزاری کے ساتھ اپنے نفس کو ملامت کرے اور اپنے گزشتہ گناہوں کو یاد کر کے عذاب الٰہی کے خوف سے اپنے قلب کو لرزاں وترساں کرے اور شرمندگی و ندامت کے پورے احساس کے ساتھ توبہ و استغفار کرے اور پھر ہاتھ اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں یوں عرض رسا ہو۔ میرے پروردگار! تیرے در سے بھاگا ہوا یہ گنہگار غلام اپنے گناہوں کی پوٹ لئے پھر تیرے در پر حاضر ہوا ہے انتہائی ندامت و شرمندگی کے ساتھ اپنی لغزشوں اور اپنے گناہوں کی معذرت لے کر آیا ہے تیری ذات رحیم و کریم ہے تو ستار و غفار ہے اپنے کرم کے صدقے میرے گناہ بخش دے! اپنے فضل سے میری معذرت قبول فرما کر رحمت کی نظر سے میری طرف دیکھ نہ صرف یہ کہ میرے پچھلے گناہ بخش دے بلکہ آئندہ ہر گناہ ولغزش سے مجھے محفوظ رکھ کہ خیر و بھلائی تیرے ہی دست قدرت میں ہے اور اپنے گنہگار بندوں کو تو ہی بخشنے والا ہے اس کے بعد درود پڑھے اور تمام ہی مسلمانوں کے لئے بخشش و مغفرت چاہے۔ یہ تو عوام کی توبہ ہے کہ جن کی زندگی اور گناہ کے درمیان کوئی بڑی حد فاصل نہیں ہوتی اور وہ گناہ و معصیت میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں اور ان کی یہ توبہ انہیں اس بشارت کا مستحق قرار دیتی ہے کہ آیت (ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطہرین) لیکن خواص کہ جو اللہ کے اطاعت گزار بندے ہوتے ہیں جن کی زندگی معصیت و گناہ سے دور رہتی ہے اور اتباع شریعت کی حامل ہوتی ہے ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ ان برے اخلاق سے کہ جن سے قلب کو پاک رکھنا واجب ہے توبہ کریں، اسی طرح عاشقین اللہ کی توبہ یہ ہے کہ اگر بتقاضائے بشریت کسی وقت ان سے ذکر اللہ اور یاد الٰہی میں غفلت ہوجائے اور ماسوی اللہ میں مشغول ہوجائیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اپنی اس کوتاہی سے توبہ کریں۔ یہ بات جان لینی چاہئے کہ گناہ کبیرہ کا صدور ایمان سے خارج نہیں کرتا لیکن فاسق وعاصی کردیتا ہے گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ کے متعلق (باب الکبائر و علامات النفاق) مظاہر حق جدید جلد اول میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے اس موقع پر گناہ کی ان دونوں اقسام کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ جہاں تک صغیرہ گناہوں کا تعلق ہے تو وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ایک عام زندگی کے لئے ان سے اجتناب بھی دشوار ہے چناچہ مسلک مختار کے مطابق صغیرہ گناہ سے تقویٰ میں خلل نہیں پڑتا بشرطیکہ گناہ صغیرہ پر اصرار و دوام نہ ہو کیونکہ صغیرہ گناہ پر اصرار و دوام گناہ کبیرہ کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔ لہٰذا ہر مومن و مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں اور حتی المقدور صغیرہ گناہوں سے اجتناب بھی کرے اور جانے کہ اگرچہ گناہ ایمان سے خارج نہیں کردیتے لیکن اس بات کا خوف ہے کہ گناہ کی زندگی رفتہ رفتہ انجام کار کفر اور دوزخ کی حد تک پہنچا دے۔

2353Mishkaat-al-Masabih

گناہوں سے بچنے کا علاج

گناہوں سے بچنے کا ایک آسان علاج یہ ہے کہ ہر چیز میں ضرورت پر قناعت کی جائے یعنی جو ضروری اور حد ضرورت یہ ہے کہ اتنی غذا جو بھوک ختم کرنے کے لئے ضروری ہو اتنا کپڑا جس سے ستر پوشی ہو سکے، اتنا مکان جو گرمی سردی سے بچا سکے اور اتنے برتن باسن جو ضروری ہوں اور ایک بیوی۔ لہٰذا یہ جان لینا چاہئے کہ حد ضرورت سے تجاوز کرنے اور مباح میں وسعت اختیار کرنے کی وجہ سے انسان ان چیزوں میں مبتلا ہوتا ہے جو مشتبہ اور مکروہ ہوتی ہیں۔ اور جب وہ مکروہات میں مبتلا رہتا ہے تو پھر رفتہ رفتہ حرام چیزوں کا ارتکاب بھی ہونے لگتا ہے اور یہ وہ نکتہ ہوتا ہے جہاں اسلام کی حد تو ختم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد کفر و آگ کا میدان شروع ہوجاتا ہے نعوذ باللہ منہ۔

2354Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی توبہ و استغفار

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والله إني لأستغفر الله وأتوب إليه في اليوم أكثر من سبعين مرة . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اللہ کی میں دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ (بخاری) تشریح آنحضرت ﷺ اتنی کثرت سے استغفار و توبہ اس لئے نہیں کرتے تھے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ گناہ میں مبتلا ہوتے تھے کیونکہ آپ ﷺ معصوم تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ مقام عبدیت کے سب سے اونچے مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے اپنے طور پر یہ سمجھتے تھے کہ شاید مجھ سے اللہ کی بندگی و عبادت میں کوئی قصور ہوگیا ہو اور میں وہ بندگی نہ کرسکا ہوں جو رب ذوالجلال والاکرام کی شان کے لائق ہے۔ نیز اس سے مقصود امت کو استغفار و توبہ کی ترغیب دلانا تھا کہ آنحضرت ﷺ باوجودیکہ معصوم اور خیرالمخلوقات تھے جب آپ ﷺ نے دن میں ستر بار توبہ و استغفار کی تو گنہگاروں کو بطریق اولیٰ استغفار و توبہ بہت کثرت سے کرنی چاہئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے تھے کہ روئے زمین پر عذاب الٰہی سے امن کی دو ہی پناہ گاہیں تھیں ایک تو اٹھ گئی دوسری باقی ہے لہٰذا اس دوسری پناہ گاہ کو اختیار کرو، جو پناہ گاہ اٹھ گئی وہ تو نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی تھی اور جو باقی ہے وہ استغفار ہے اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے۔ آیت (وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وماکان اللہ معذبہم وھم یستغفرون)۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو اس وقت تک عذاب میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ آپ ﷺ ان میں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اس حالت میں عذاب میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے جب تک وہ استغفار کرتے ہوں۔

2355Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی توبہ و استغفار

وعن الأغر المزني رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه ليغان على قلبي وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة . رواه مسلم

حضرت اغر مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ بات ہے کہ میرے دل پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ (مسلم) تشریح اس حدیث کے معنی و مفہوم اور اس کی وضاحت کرنے کے سلسلہ میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ آپ کا قلب مبارک جناب باری تعالیٰ میں ہر وقت حاضر رہے کسی لمحہ بھی ادھر سے غافل نہ رہے لیکن جب آپ ﷺ مباح چیزوں مثلاً کھانے پینے اور اپنی ازواج کے ساتھ اختلاط یا اسی قسم کے ان امور میں مشغول ہوتے تھے جن کی وجہ سے فی الجملہ جناب باری تعالیٰ سے غفلت ہوتی تھی تو اس مشغولیت کو اپنے طور پر ایک پردہ اور گناہ سمجھ کر آپ ﷺ کا قلب مبارک لرزاں اور بےچین ہوجاتا تھا چناچہ آپ ﷺ اس کی وجہ سے استغفار کرتے تھے اس حدیث کے سلسہ میں سب سے اچھی بات وہی ہے جو بعض عارفین نے کہی ہے کہ یہ حدیث متشابہات میں سے ہے اس کے اصل معنی کا علم اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے اس کا کام تو صرف یہ ہے کہ اس حدیث پر ایمان رکھے اور اس کے معنی سمجھنے کے درپے نہ ہو۔

2356Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی توبہ و استغفار

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس توبوا إلى الله فإني أتوب إليه في اليوم مائة مرة . رواه مسلم

حضرت اغر مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگو! اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو، میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرتا ہوں (لہٰذا تمہیں تو بطریق اولیٰ چاہئے کہ ہر ساعت میں ہزار بار توبہ کرو) (مسلم)

2357Mishkaat-al-Masabih

رجوع الی اللہ کا حکم

وعن أبي ذر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما يروي عن الله تبارك وتعالى أنه قال : يا عبادي إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظالموا يا عبادي كلكم ضال إلا من هديته فاستهدوني أهدكم يا عبادي كلكم جائع إلا من أطعمته فاستطعموني أطعمكم يا عبادي كلكم عار إلا من كسوته فاستكسوني أكسكم يا عبادي إنكم تخطئون بالليل والنهار وأنا أغفر الذنوب جميعا فاستغفروني أغفر لكم يا عبادي إنكم لن تبلغوا ضري فتضروني ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني يا عبادي لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا أتقى قلب رجل واحد منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئا يا عبادي لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أفجر قلب واحد منكم ما نقص من ملكي شيئا يا عبادي لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم قاموا في صعيد واحد فسألوني فأعطيت كل إنسان مسألته ما نقص ذلك مما عندي إلا كما ينقص المخيط إذا أدخل البحر يا عبادي إنما هي أعمالكم أحصها عليكم ثم أوفيكم إياها فمن وجد خيرا فليحمد الله ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه . رواه مسلم

حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ان حدیثوں کے سلسلہ میں کہ جو آپ ﷺ اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے تھے فرمایا کہ ایک حدیث قدسی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے یعنی میں ظلم سے پاک ہوں اور چونکہ ظلم میرے حق میں بھی ایسا ہے جیسے کہ تمہارے حق میں اس لئے میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے پس تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو علاوہ اس شخص کے جس کو میں ہدایت بخشوں پس تم مجھ سے ہدایت چاہو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو (یعنی کھانے کے محتاج) علاوہ اس شخص کے جس کو میں کھلا دوں اور اسے رزق کی وسعت و فراخی بخشوں اور مستغنی بناؤں پس تم سب مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا اے میرے بندو! تم سب ننگے (یعنی ستر پوش کے لئے کپڑے کے محتاج ہو) علاوہ اس شخص کے جس کو میں نے پہننے کے لئے دیا پس تم سب مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم اکثر دن رات خطائیں کرتے ہو اور میں تمہاری خطائیں بخشتا ہوں پس تم سب مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخشوں گا۔ اے میرے بندو! تم ہرگز میرے ضرر کو نہیں پہنچ سکو گے تاکہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور ہرگز میرے نفع کو نہیں پہنچ سکو گے تاکہ مجھے فائدہ پہنچا سکو (یعنی گناہ کرنے سے بار گاہ صمدیت میں کوئی نقصان نہیں اور اطاعت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ دونوں کا نقصان و فائدہ صرف تمہیں ہی پہنچتا ہے چناچہ آگے اس کی تفصیل فرمائی کہ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے انسان اور جنات (غرض کہ سب کے سب مل کر بھی تم میں سے کسی ایک نہایت پرہیزگار دل کی مانند ہوجائیں تو اس سے میری مملکت میں کوئی زیادتی نہیں ہوگی (یعنی اگر تم سب کے سب اتنے ہی پرہیز گار اور اتنے ہی نیک بن جاؤ جتنا کہ کوئی شخص پرہیزگار بن سکتا ہے مثلاً تم سب محمد ﷺ ہی طرح پرہیزگار بن جاؤ کہ روئے زمین پر کوئی بھی ایسا شخص باقی نہ رہے جس کی زندگی پر فسق و فجور اور گناہ معصیت کا ہلکا سا اثر بھی ہو تو اس سے میری سلطنت و میری ادنیٰ سی بھی زیادتی نہیں ہوگی) اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے، تمہارے پچھلے انسان اور جنات (غرضیکہ سب کے سب) مل کر تم میں سے کسی ایک نہایت بدکار دل کی مانند ہوجائیں (یعنی تم سب ملک کر شیطان کی مانند ہوجاؤ) تو اس سے میری مملکت کی کسی ادنیٰ سی چیز کو بھی نہیں نقصان پہنچے گا، اے میرے بندو! اگر تمہارے پچھلے انسان اور جنات (غرض کہ سب کے سب مل کر تم میں سے نہایت بدکار دل کی مانند ہوجائیں یعنی تم سب ملک کر شیطان کی مانند ہوجاؤ تو اس سے مملکت کی کسی ادنیٰ سی چیز کو بھی نہیں نقصان پہنچے گا، اے میرے بندو! اگر تمہارے پچھلے انسان اور جنات (غرض کہ سب کے سب مل کر کسی جگہ کھڑے ہوں اور مجھ سے پھر مانگیں اور میں ہر ایک کو اس کے مانگنے کے مطابق (ایک ہی وقت میں اور ایک ہی جگہ) دوں تو میرا یہ دینا اس چیز سے جو میرے پاس ہے اتنا ہی کم کرتی ہے جتنا کہ ایک سوئی سمندر میں گر کر (اس کے پانی کو کم کرتی ہے) اے میرے بندو! جان لو میں تمہارے اعمال یاد رکھتا ہوں اور انہیں تمہارے لئے لکھتا ہوں، میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا، پس جو شخص بھلائی پائے (یعنی اسے اللہ تعالیٰ کی نیک توفیق حاصل ہو اور عمل خیر کرے) تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے اور جو شخص بھلائی کے علاوہ پائے یعنی اسے اللہ تعالیٰ کی نیک توفیق حاصل ہو اور عمل خیر کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے اور جو شخص بھلائی کے علاوہ پائے یعنی اس سے کوئی گناہ سرزد ہو تو وہ اپنے نفس کو ملامت کرے کیونکہ اس سے گناہ کا سرزد ہونا نفس ہی کے تقاضہ سے ہوا۔ (مسلم) تشریح کلکم ضال (تم سب گمراہ ہو) اس اعتبار سے فرمایا کہ دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ اس سے دنیا اور دین کا ہر کمال ہر سعادت اور تمام ہی بھلائیاں ہوں ہر شخص کے اندر کچھ نہ کچھ کمی اور کوتاہی ضرور ہوتی ہے اور اگر کوئی دینی اور اخروی اعتبار سے اپنے اندر کوئی کمی اور کوتاہی و گمراہی رکھتا ہے تو کسی کے اندر دنیاوی امور کے اعتبار سے کوئی نہ کوئی کمی اور کجی ہوتی ہے اس لئے فرمایا کہ تم سب گمراہ ہو یعنی دنیوی اور دینی دونوں اعتبار سے درجہ کمال سے ہٹے ہوئے ہوں۔ الا من ہدیتہ (علاوہ اس شخص کے جس کو میں ہدایت بخشوں) اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی مراد یہ ہے کہ اگر لوگوں کو ان کی اس حالت و کیفیت پر چھوڑ دیا جو ان کی طبیعت اور ان کے نفس کی بنیاد ہوتی ہے تو وہ خود رو درخت کی طرح جس طرح چاہیں بڑھیں اور جس سمت چاہیں چلیں، جس کا نتیجہ گمراہی اور بےراہ روی ہے اس لئے میں جس کو چاہتا ہوں اسے فکر وذہن کی سلامت اور اعمال نیک کی ہدایت بخشتا ہوں جس کا نتیجہ گمراہی اور بےراہ روی ہے اس لئے میں جس کو چاہتا ہوں اسے فکر وذہن کی سلامت اور اعمال نیک کی ہدایت بخشتا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا نفس صحیح راستہ پر چلتا ہے اور اس کی طبیعت نیکی ہی کی سمت بڑھتی ہے اس بات کو نبی کریم ﷺ نے اس طور پر بیان فرمایا ہے کہ ان اللہ خلق الخلق فی ظلمۃ ثم رش علیہم من نورہ۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنے نور کا چھینٹا دیا۔ اس موقع پر یہ خلجان پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ یہ بات اس حدیث (کل مولود یولد علی الفطرۃ)۔ ہر بچہ فطرت (اسلام کی فطرت) پر پیدا کیا جاتا ہے۔ کے منافی ہے کیونکہ فطرت سے مراد توحید ہے اور ضلالت یا عظمت سے مراد احکام ایمان کی تفصیل اور اسلام کے حدود و شرائط کا نہ جاننا ہے۔ وانا اغفرالذنوب جمیعا میں تمہاری ساری خطائیں بخشتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ تم دن رات لغزشوں اور گناہوں میں مبتلا رہتے ہو لیکن اگر اپنے ان گناہوں پر ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے تو میں تمہارے سب گناہ بخش دیتا یا پھر یہ مراد ہے کہ ایک تو صرف ایسا گناہ ہے جس سے توبہ کئے بغیر بخشش ممکن نہیں ہاں اس کے علاوہ اور سب گناہ اگر میں چاہتا ہوں تو بغیر توبہ و استغفار کے بھی اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت خاص کے پیش نظر بخش دیتا ہوں۔ جتنا کہ سوئی کم کردیتی ہے۔ کے بارے میں علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ سوئی کا سمندر میں گر کر اس کے پانی کو کم کردینا نہ محسوس چیز ہے اور نہ عقل و شعور کی رسائی میں آنے والی بات بلکہ وہ کالعدم ہے اس لئے اس کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے ورنہ تو اللہ کے خزانے میں کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کی کمی کا بھی کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ اس بارے میں یا پھر کہا جائے کہ یہ جملہ بالفرض والتقدیر کی قسم سے ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے خزانے میں کمی فرض بھی کی جائے تو وہ اس قدر ہوسکتی ہے۔

2358Mishkaat-al-Masabih

توبہ اور رحمت الٰہی کی وسعت

وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كان في بني إسرائيل رجل قتل تسعة وتسعين إنسانا ثم خرج يسأل فأتى راهبا فسأله فقال : أله توبة قال : لا فقتله وجعل يسأل فقال له رجل ائت قرية كذا وكذا فأدركه الموت فناء بصدره نحوها فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فأوحى الله إلى هذه أن تقربي وإلى هذه أن تباعدي فقال قيسوا ما بينهما فوجد إلى هذه أقرب بشبر فغفر له

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی قوم میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا پھر لوگوں سے یہ پوچھنے نکلا کہ اگر میں توبہ کرلوں تو وہ توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ چناچہ اسی سلسلہ میں وہ ایک عابد و زاہد کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ کیا اس اتنے بڑے گناہ سے یا اس اتنے بڑے گناہ کرنے والے ہی کے لئے توبہ ہے؟ یعنی کیا اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ اس عابد و زاہد نے کہا کہ نہیں! اس شخص نے یہ سنتے ہی اس عابد و زاہد کو بھی قتل کردیا اور پھر دوسرے لوگوں سے پوچھتا پھرنے لگا۔ ایک شخص نے اس سے کہا کہ تم فلاں بستی جاؤ وہ ایسی اور ایسی ہے (یعنی اس نے اس بستی کا نام لیا اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھی بستی ہے وہاں ایک عالم رہتا ہے جو تمہیں تمہاری توبہ کے قبول ہونے کا فتویٰ دے گا چناچہ وہ شخص اس بستی کی طرف چل کھڑا ہوا ابھی آدھے ہی راستے پر پہنچ پایا تھا کہ اچانک اسے موت نے آدبوچا (چنانچہ اسے موت کی علامت محسوس ہوئیں) تو اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا اور پھر اس کی روح قبض کرنے کے وقت رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے (ملک الموت سے جھگڑنے لگے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو جس کی طرف وہ توبہ کرنے جا رہا تھا حکم دیا کہ وہ میت کے قریب آجائے اور اس بستی کو جہاں سے وہ قتل کر کے آ رہا تھا حکم دیا کہ وہ میت سے دور ہوجائے پھر اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے فرمایا تم دونوں بستیوں کے درمیان پیمائش کرو اگر میت اس بستی کے قریب ہوگی جہاں وہ توبہ کے لئے جا رہا تھا تو اسے رحمت کے فرشتوں کے حوالہ کیا جائے گا اور اگر اس بستی کے قریب ہو جہاں سے وہ قتل کر کے آ رہا تھا تو عذاب کے فرشتوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ چناچہ جب فرشتوں نے پیمائش کی تو وہ توبہ کے لئے جس بستی کی طرف جا رہا تھا اس سے ایک بالشت قریب پایا گیا پس حق تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ (بخاری ومسلم) تشریح ابن ملک کہتے ہیں کہ جب ملک الموت نے اس شخص کی روح قبض کی تو رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں ملک الموت سے اس کی روح لینے کے لئے جھپٹنے لگے، رحمت کے فرشتے تو یہ کہتے تھے کہ چونکہ یہ شخص توبہ کے لئے اس بستی کی طرف متوجہ ہونے کی بنا پر تائب تھا اس لئے ہم اسے رحمت الٰہی کی طرف لے جائیں گے اور عذاب کے فرشتے یہ کہتے تھے کہ اس شخص نے چونکہ ایک سو آدمیوں کو ناحق قتل کیا ہے اور ابھی تک اس نے توبہ نہیں کی تھی اس لئے ہم اسے عذاب الٰہی کی طرف لے جائیں گے چناچہ حق تعالیٰ نے اس کا فیصلہ جس طرح فرمایا وہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طالب توبہ کے لئے حق تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کسی قید اور حد کی پابند نہیں ہے اس کی بےپایاں رحمت خلوص قلب کے ساتھ اپنی طرف متوجہ ہونے والے بڑے سے بڑے سرکش اور گنہگار کو بھی اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ قلب ونیت کے اخلاص کے ساتھ بارگاہ الوہیت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کو بھی اس سے راضی کردیتا ہے۔ یہ حدیث اس بات کی ترغیب دلا رہی ہے کہ توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے دامن کو گناہوں کی آلائش سے پاک وصاف رکھا جائے اور حق تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی اور نا امیدی کو اپنے پاس بھٹکنے بھی نہ دیا جائے۔

2359Mishkaat-al-Masabih

توبہ اور رحمت الٰہی کی وسعت

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم ولجاء بقوم يذنبون فيستغفرون الله فيغفر لهم . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اٹھا لے اور تمہاری جگہ ایسے لوگ پیدا کر دے جو گناہ کریں اور اللہ سے بخشش و مغفرت چاہیں اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخشے۔ (مسلم) تشریح اس ارشاد گرامی کا مقصد مغفرت اور رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کو بیان کرنا اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسم پاک غفور کی شان کو ظاہر کرنے کے لئے اتنا بخشش کرنے والا ہے اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ خدانخواستہ اس حدیث کے ذریعہ گناہ کی ترغیب مقصود ہی نہیں ہے کیونکہ گناہ سے بچنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور اپنے پیغمبر رسول مقبول ﷺ کو اس دنیا میں اس لئے بھیجا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو گناہ و معصیت کی زندگی سے نکال کر طاعت و عبادت کی راہ پر لگائیں۔

2360Mishkaat-al-Masabih

توبہ اور رحمت الٰہی کی وسعت

وعن أبي موسى رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها . رواه مسلم

حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرے یہاں تک کہ سورج مغرب کی سمت سے نکلے۔ (مسلم) تشریح ہاتھ پھیلانا دراصل کنایہ ہے طلب کرنے سے چناچہ جب کوئی شخص کسی سے کچھ مانگتا ہے تو اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ رات میں ہاتھ پھیلاتا ہے الخ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کو توبہ کی طرف بلاتا ہے! بعض حضرات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ پھیلانا اس کی رحمت و مغفرت سے کنایہ ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ یہاں تک کہ سورج مغرب کی سمت سے نکلے، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے طلب توبہ کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ قرب قیامت میں سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکلے کیونکہ جب آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اس کے بعد پھر کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی