وعن ابن عمر قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ليلة القدر فقال : هي في كل رمضان . رواه أبو داود وقال : رواه سفيان وشعبة عن أبي إسحق موقوفا على ابن عمر
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے شب قدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہر رمضان میں آتی ہے۔ امام ابوداؤد (رح) نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کو سفیان اور شعبہ نے ابی اسحق سے اور انہوں نے ابن عمر ؓ سے موقوفاً نقل کیا ہے۔
تشریح
ہر رمضان کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کوئی رمضان شب قدر سے خالی نہیں جاتا یعنی ہر سال جب رمضان آتا ہے تو اس میں شب قدر بھی آتی ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ شب قدر رمضان کے پورے مہینہ میں کسی بھی رات آسکتی ہے آخری عشرہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے لیکن اس معنی کے پیش نظر یہ تاویل کی جائے گی کہ پہلے تو آنحضرت ﷺ کو یہی معلوم ہوا تھا کہ شب قدر پورے رمضان میں کسی بھی رات آسکتی ہے مگر بعد میں یہ ثابت ہوگیا کہ اس مقدس شب کا حامل صرف آخری عشرہ ہی ہے۔ آخری عشرہ کے علاوہ اور کسی حصہ میں شب قدر نہیں آتی۔
وعن عبد الله بن أنيس قال : قلت يا رسول الله إن لي بادية أكون فيها وأنا أصلي فيها بحمد الله فمرني بليلة أنزلها إلى هذا المسجد فقال : انزل ليلة ثلاث وعشرين . قيل لابنه : كيف كان أبوك يصنع ؟ قال : كان يدخل المسجد إذا صلى العصر فلا يخرج منه لحاجة حتى يصلي الصبح فإذا صلى الصبح وجد دابته على باب المسجد فجلس عليها ولحق بباديته . رواه أبو داود
حضرت عبداللہ بن انیس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا مکان جنگل میں ہے میں وہیں رہتا ہوں اور وہیں نماز پڑھتا ہوں اللہ کا شکر ہے لہٰذا آپ ﷺ مجھے اس رات کے بارے میں بتائیے جس میں میں اس مسجد میں آؤں (یعنی بتائیے کہ شب قدر کونسی ہے تاکہ میں اس رات میں مسجد نبوی آ کر عبادت کروں) آپ ﷺ نے فرمایا (رمضان کی) تئیسویں شب میں آؤ اس کے بعد حضرت عبداللہ کے صاحبزادے سے کہ جن کا نام صمرہ تھا پوچھا گیا کہ اس سلسلہ میں آپ کے والد مکرم کا کیا معمول تھا تو انہوں نے کہا کہ رمضان کی بائیسویں تاریخ کو میرے والد عصر کی نماز پڑھ کے مسجد نبوی میں داخل ہوتے اور صبح کی نماز تک کسی بھی کام سے جو اعتکاف کے منافی ہوتا مسجد سے باہر نہ نکلتے چناچہ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو مسجد کے دروازے پر اپنی سواری کا جانور موجود پاتے اس پر سوار ہوتے اور اپنے جنگل چلے جاتے۔ (ابو داؤد)
تشریح
اس موقع پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس روایت سے لیلۃ القدر کا تعین لازم آتا ہے جب کہ وہ متعین نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کو جس سال یہ بات بتائی تھی اس سال لیلۃ القدر تئیسویں شب میں آئی ہوگی جس کا علم آنحضرت ﷺ کو ہوگیا چناچہ آپ ﷺ نے ان سے فرما دیا کہ تئیسویں شب میں مسجد نبوی میں آجانا مگر حضرت عبداللہ ؓ اس سے یہ سمجھے کہ شب قدر ہر سال اسی تاریخ میں آتی ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بھی شب قدر متعین طور پر معلوم نہیں تھی تو اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ہر سال کی شب قدر کی تعیین معلوم نہیں تھی لہٰذا آپ کو کبھی کبھی شب قدر کا متعین طور پر معلوم ہوجانا اس کے منافی نہیں ہے۔
آنحضرت کو شب قدر کا علم اور اس کا نسیان
عن عبادة بن الصامت قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم ليخبرنا بليلة القدر فتلاحى رجلان من المسلمين فقال : خرجت لأخبركم بليلة القدر فتلاحى فلان وفلان فرفعت وعسى أن يكون خيرا لكم فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة . رواه البخاري
حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تاکہ ہمیں شب قدر کے بارے میں بتائیں کہ مسلمانوں میں سے دو شخص جھگڑنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا میں باہر آیا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے میں بتاؤں کہ وہ کون سی شب ہے مگر فلاں اور فلاں جھگڑنے لگے۔ چناچہ شب قدر کی تعیین اٹھا لی گئی اور شاید تمہارے لئے یہی بہتر ہو۔ لہٰذا تم شب قدر کو انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں میں تلاش کرو۔ (بخاری)
تشریح
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ وہ دو اشخاص جو اس موقع پر جھگڑنے لگے تھے ان میں سے ایک کا نام عبداللہ ابن ابی حذروا اور دوسرے کا نام کعب بن مالک تھا۔ شب قدر کی تعیین اٹھا لی گئی، کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں اشخاص کے جھگرنے کی وجہ سے شب قدر کے تعین کا علم میرے ذہن سے محو کردیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ آپس میں جھگڑنا اور منافرت و دشمنی اختیار کرنا بہت بری بات ہے اس کی وجہ سے آدمی برکات اور بھلائیوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ شاید تمہارے لئے یہی بہتر ہوگا، کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر کے بارے میں جو متعین طور پر مجھے بتادی گئی تھی اور اب وہ بھلا دی گئی ہے اگر میں تمہیں بتادیتا تو تم لوگ صرف اسی شب پر بھروسہ کر کے بیٹھ جاتے، اب اس کے تعین کا علم نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ تم لوگ اسے پانے میں بہت زیادہ سعی و کوشش کرو گے بلکہ عبادت وطاعت میں زیادتی بھی ہوگی جو ظاہر ہے کہ تمہارے حق میں بہتر ہی بہتر ہے۔
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان ليلة القدر نزل جبريل عليه السلام في كبكبة من الملائكة يصلون على كل عبد قائم أو قاعد يذكر الله عز و جل فإذا كان يوم عيدهم يعني يوم فطرهم باهى بهم ملائكته فقال : يا ملائكتي ما جزاء أجير وفى عمله ؟ قالوا : ربنا جزاؤه أن يوفى أجره . قال : ملائكتي عبيدي وإمائي قضوا فريضتي عليهم ثم خرجوا يعجون إلى الدعاء وعزتي وجلالي وكرمي وعلوي وارتفاع مكاني لأجيبنهم . فيقول : ارجعوا فقد غفرت لكم وبدلت سيئاتكم حسنات . قال : فيرجعون مغفورا لهم . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب شب قدر آتی ہے تو اس رات میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) فرشتوں کی جماعت کے جلو میں اترے ہیں اور ہر اس بندے کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو کھڑا ہوا (نماز پڑھتا، طواف کرتا یا اور کوئی عبادت کرتا) ہوتا ہے یا بیٹھا ہوا (اللہ عز و جل کی یاد اور اس کے ذکر میں مشغول) ہوتا ہے پھر جب ان (مسلمانوں کا عید (یعنی عید الفطر) کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کی وجہ سے اپنے ان فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے (جنہوں نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے وقت بنی آدم کو مطعون کیا تھا) اور فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! اس مزدور کے لئے کیا اجر ہے جس نے اپنا کام پورا کرلیا ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کا اجر یہ ہے کہ اسے اس کے کام کی پوری پوری اجرت دی جائے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرشتو! (تو سنو کہ) میرے بندے اور میری بندیوں نے میرا وہ فرض ادا کیا جو ان پر تھا (یعنی روزہ) پھر وہ (اپنے گھروں سے عید گاہ کی طرف) دعا کے لئے گڑ گڑاتے چلاتے نکلے، قسم ہے اپنی عزت اور اپنے جلال کی اپنے کرم اور اپنی بلند قدری کی اور اپنی بلند مرتبہ کی میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ بندوں سے فرماتا ہے کہ اپنے گھروں کو واپس ہوجاؤ میں نے تمہیں بخش دیا ہے اور میں نے تمہاری برائیاں نیکیوں میں بدل دی ہیں تمہارے نامہ اعمال میں ہر برائی کے بدلہ ایک نیکی لکھ دی گئی ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا چناچہ مسلمان عید گاہ سے اپنے گھروں کو اس حالت میں واپس ہوتے ہیں کہ ان کے گناہ بخشے جا چکے ہوتے ہیں۔ (بیہقی)
لغوی طور پر اعتکاف کے معنی ہیں ایک جگہ ٹھہرنا اور کسی مکان میں بند رہنا اور اصطلاح شریعت میں اعتکاف کا مفہوم ہے اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی کی خاطر اعتکاف کی نیت کے ساتھ کسی جماعت والی مسجد میں ٹھہرنا۔ اعتکاف کے لئے نیت اسی مسلمان کی معتبر ہے جو عاقل ہو اور جنابت اور حیض و نفاس سے پاک و صاف ہو، رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف سنت مؤ کدہ ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے درمختار میں لکھا ہے کہ سنت مؤ کدہ علی الکفایہ ہے یعنی اگر ایک شخص بھی اعتکاف کرلے تو سب کی طرف سے حکم ادا ہوجاتا ہے اور اس صورت میں اعتکاف نہ کرنے والوں پر کوئی ملامت نہیں۔ اعتکاف کے لئے زبان سے نذر ماننے سے اعتکاف واجب ہوجاتا ہے خواہ فی الحال ہو جیسے کہ کوئی کہے میں اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اوپر اتنے دنوں کا اعتکاف لازم کرتا ہوں اور خواہ معلق ہو جیسے کوئی کہے کہ میں یہ نذر مانتا ہوں کہ اگر میرا کام ہوجائے گا تو میں اتنے دنوں کا اعتکاف کروں گا۔ گویا اعتکاف کی یہ دو قسمیں ہوئیں یعنی ایک تو سنت مؤ کدہ جو رمضان کے آخری عشرہ میں ہے اور دوسرا واجب جس کا تعلق نذر سے ہے ان دو قسموں کے علاوہ تیسری قسم مستحب ہے یعنی رمضان کے آخری عشرہ کے سوا اور کسی زمانہ میں خواہ رمضان کا پہلا دوسرا عشرہ ہو یا اور کوئی مہینہ ہو اعتکاف کرنا مستحب ہے۔ اعتکاف مستحب کے لئے اکثر زیادہ سے زیادہ مدت کوئی مقدار متعین نہیں ہے اگر کوئی شخص تمام عمر کے اعتکاف کی بھی نیت کرلے تو جائز ہے البتہ اقل (کم سے کم) مدت کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں امام محمد کے نزدیک اعتکاف مستحب کے لئے کم سے کم مدت کی بھی کوئی مقدار متعین نہیں ہے دن و رات کے کسی بھی حصہ میں ایک منٹ بلکہ اس سے بھی کم مدت کے لئے اعتکاف کی نیت کی جاسکتی ہے امام اعظم ابوحنیفہ کی ظاہر روایت بھی یہی ہے اور حنفیہ کے یہاں اسی قول پر فتویٰ ہے لہٰذا ہر مسلمان کے لئے مناسب ہے کہ وہ جب بھی مسجد میں داخل ہو خواہ نماز کے لئے یا اور کسی مقصد کے لئے تو اس طرح اعتکاف کی نیت کرلے۔ کہ میں اعتکاف کی نیت کرتا ہوں جب تک کہ مسجد میں ہوں۔ اسی طرح بلا کسی مشقت و محنت کے دن میں کئی مرتبہ اعتکاف کی سعادت و فضیلت حاصل ہوجایا کرے گی حضرت امام ابویوسف کے نزدیک اقل مدت دن کا اکثر حصہ یعنی نصف دن سے زیادہ ہے نیز حضرت امام اعطم کا ایک اور قول یہ ہے کہ اعتکاف کی اقل مدت ایک دن ہے یہ قول حضرت امام اعظم کی مذکورہ بالا ظاہر روایت کے علاوہ ہے جس پر فتویٰ نہیں ہے۔
عورتیں اپنے گھروں میں اعتکاف کریں
وعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله ثم اعتكف أزواجه من بعده
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس دنیا سے اٹھایا پھر آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اپنے گھروں میں اعتکاف کیا کرتی تھیں اسی لئے فقہا نے لکھا ہے کہ عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ وہ مسجد البیت گھر کی مسجد میں اعتکاف کریں اگر مسجد البیت نہ ہو تو مکان کے کسی حصہ کو مسجد قرار دے کر اس میں اعتکاف کریں بلا ضرورت اس حصہ سے باہر نہ نکلیں مکان کا وہ حصہ ہی ان کے حق میں مسجد کے حکم میں ہوجائے گا چناچہ عورتوں کو مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے۔
رمضان میں خیر وبھلائی میں اضافہ فرماتے
وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أجود الناس بالخير وكان أجود ما يكون في رمضان وكان جبريل يلقاه كل ليلة في رمضان يعرض عليه النبي صلى الله عليه و سلم القرآن فإذا لقيه جبريل كان أجود بالخير من الريح المرسلة
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تمام لوگوں میں خیر و بھلائی کے معاملہ میں بہت سخی تھے اور خصوصا رمضان میں تو بہت سخاوت کرتے تھے رمضان کی ہر شب میں حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ کے پاس آتے اور آپ ﷺ ان کے سامنے تجوید کے ساتھ قرآن کریم پڑھتے چناچہ حضرت جبرائیل سے ملاقات کے وقت آپ ﷺ کی سخاوت ہوا کے جھونکوں سے بھی بڑھ جاتی تھی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اجود الناس بالخیر کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ مخلوق اللہ کو اوروں کی بہ نسب نہت زیادہ نفع پہنچاتے تھے اور لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ بھلائی کرتے تھے خاص طور پر رمضان کے مقدس ماہ آپ ﷺ کا یہ وصف معمول سے بھی زیادہ عروج پر ہوتا تھا کیونکہ یہ ماہ ایام برکت ہیں ان میں نیکی اور دنوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ اجر وثواب سے نوازی جاتی ہیں۔ ہوا کے جھونکوں، سے مراد وہ ہوا ہے جو بارش اور مینہ لے کر آتی ہے اس جملہ کا حاصل یہ ہے کہ بارش لانے والی ہوا کا نفع عام ہوتا ہے اور بہت ہوتا ہے مگر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ملاقات کے وقت دوسروں کو نفع پہنچانے اور دوسروں کو بھلائی کا آپ ﷺ کا جذبہ اور آپ کا عمل اس ہوا سے بھی بڑھ جاتا تھا گویا یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ بابرکت اور افضل اوقات میں نیز مقدس و نیک لوگوں کو صحبت کے وقت انسان کو خیر و بھلائی کرنے میں زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔ بظاہر یہ حدیث باب الاعتکاف سے متعلق نظر نہیں آتی لیکن اس باب میں اس حدیث کو اس لئے نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ رمضان میں اعتکاف بھی کرتے تھے جو ایک بڑے درجہ کی نیکی ہے اور اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ رمضان میں بہت زیادہ نیکی و بھلائی کرتے تھے۔
رمضان میں حضرت جبرئیل کے ساتھ آنحضرت کا دور
وعن أبي هريرة قال : كان يعرض على النبي صلى الله عليه و سلم القرآن كل عام مرة فعرض عليه مرتين في العام الذي قبض وكان يعتكف كل عام عشرا فاعتكف عشرين في العام الذي قبض . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہر سال ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا تھا یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) پڑھتے تھے لیکن جس سال کہ آنحضرت ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے آپ کے سامنے دو مرتبہ قرآن کریم پڑھا گیا، اسی طرح آنحضرت ﷺ ہر سال دس دن اعتکاف فرماتے تھے لیکن جس سال کہ آپ کا وصال ہوا آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس سے پہلے کی حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے سامنے قرآن پڑھا کرتے تھے اور یہ حدیث یہ بتارہی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے سامنے قرآن پڑھتے تھے مگر ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ ایک مرتبہ تو حضرت جبرائیل قرآن پڑھتے ہوں گے اور پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے سامنے تلاوت فرماتے ہوں گے جیسا کہ دو حافظ دور کرتے (آپس میں ایک دوسرے کو قرآن سناتے ہیں) گویا اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ دور کرنا بھی سنت ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری سال میں خلاف معمول دو مرتبہ قرآن کریم کا دور کیا اور بیس دن اعتکاف میں گزارے کیونکہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری کا وقت قریب تھا اور منزل شوق سامنے! پھر وہ عشق کی ساری بےتابیان اور وصال محبوب کا شوق کچھ اور فزوں کیوں نہ ہوجاتا سچ کہا ہے کہنے والے نے وعدہ وصل چوں شود نزدیک آتش شوق تیز ترگردد (محبوب سے ملاقات کا وعدہ جب پورا ہونے کو آتا ہے تو آتش شوق زیادہ سے زیادہ بھڑک اٹھتی ہے) آپ ﷺ کے اس عمل میں امت کے لئے ایک لطیف انتباہ ہے کہ وہ ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ اپنی زندگی کے آخری درجہ میں پہنچے تو نیکی و بھلائی کے راستہ پر معمول سے بھی زیادہ تیز گام ہوجائے اور اللہ رب العزت کی ملاقات اور اس کے سامنے اپنی پیشی کے لئے اطاعت و فرمانبرداری اور نیکو کاری کے ذریعہ پوری پوری تیاری کرے۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا اعتكف أدنى إلي رأسه وهو في المسجد فأرجله وكان لا يدخل البيت إلا لحاجة الإنسان
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اپنا سر مبارک میری طرف کردیتے اور میں آپ ﷺ کے بالوں میں کنگھی کردیتی نیز آپ ﷺ حاجت انسانی کے علاوہ گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر معتکف اپنا کوئی عضو مسجد سے باہر نکالے تو اس سے اعکاف باطل نہیں ہوتا نیز اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ معتکف کے لئے کنگھی کرنا جائز ہے۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگر معتکف اپنے جسم کا کوئی عضو مسجد کے اندر کسی برتن میں دھوئے تو کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ اس سے مسجد آلودہ نہ ہو۔ حاجت انسانی کے ضمن میں حضرت امام اعظم کا مسلک یہ ہے کہ اگر معتکف بغیر حاجت و ضرورت کے ایک منٹ کے لئے بھی معتکف سے نکلے گا تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ حاجت یا ضرورت کی دو قسمیں ہیں اول طبعی جیسے پاخانہ پیشاب اور غسل جنابت یعنی احتلام ہوجانے کی صورت میں غسل کرنا۔ البتہ جمعہ کے غسل کے بارے میں کوئی صریح روایت منقول نہیں ہے مگر شرح اوراد میں لکھا ہے کہ غسل کے لئے معتکف سے باہر نکلنا جائز ہے غسل خواہ واجب ہو (جیسے غسل جنابت) یا نفل ہو (جیسے غسل جمعہ وغیرہ۔ دوم شرعی جیسے نماز عیدین اور اذان یعنی اگر اذان کہنے کی جگہ مسجد سے باہر ہو تو وہاں جانا بھی حاجت کے ضمن میں آتا ہے ان سے اعتکاف باطل نہیں ہوگا پھر یہ کہ صحیح روایت کے بموجب اس حکم میں مؤذن اور غیر مؤذن دونوں شامل ہیں نماز جمعہ کے لئے باہر نکلنا بھی حاجت یا ضرورت کے تحت آتا ہے۔ لیکن اس بارے میں یہ بات ملحوظ رہے کہ نماز جمعہ کے لئے اپنے معتکف سے زوال آفتاب کے وقت نکلے یا اگر جامع مسجد دور ہو تو ایسے وقت نکلے کہ جامع مسجد پہنچ کر جمعہ کی نماز تحیۃ المسجد جمعہ کی سنت کے ساتھ پڑھ سکے، نماز کے بعد کی سنت پڑھنے کے جامع مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے اور اگر کوئی شخص نماز سے زیادہ وقت کے لئے جامع مسجد میں ٹھہرے گا تو اگرچہ اس کا اعتکاف باطل نہیں ہوگا مگر یہ مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح اگر کسی معتکف کے ہاں خادم و ملازم وغیرہ نہ ہو تو کھانا کھانے یا کھانا لانے کے لئے گھر جانا بھی ضرورت میں داخل ہے۔ اگر مسجد گرنے لگے، یا کوئی شخص زبردستی مسجد سے باہر نکالے اور معتکف اسی وقت اپنے معتکف سے نکل کر فورا ہی کسی دوسری مسجد میں داخل ہوجائے تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا استحساناً (بدائع) ایسے ہی اگر کوئی معتکف جان یا مال کے خوف سے کسی دوسری مسجد میں چلا جائے تو اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ کوئی معتکف پیشاب و پاخانہ یا اپنی کسی دوسری طبعی و شرعی ضرورت کے تحت معتکف سے باہر نکلا اور وہاں اس کو قرض خواہ مل گیا جس نے اسے ایک منٹ کے لئے بھی روک لیا تو حضرت امام اعظم کے نزدیک اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا جب کہ صاحبین حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد فرماتے ہیں کہ فاسد نہیں ہوگا۔ کوئی شخص پانی میں ڈوب رہا ہو یا کوئی آگ میں جل رہا ہو اور معتکف اسے بچانے کے لئے باہر نکلے یا جہاد کے لئے جب کہ نفیر عام ہو اور یا گواہی و شہادت دینے کے لئے اپنا معتکف چھوڑ کر باہر آجائے تو ان صورتوں میں اعتکاف فاسد ہوجائے گا غرضیکہ طبعی یا شرعی حاجت و ضرورت کے تحت مذکورہ بالا جو عذر بیان کئے گئے ہیں ان کے علاوہ اگر کوئی معتکف ایک منٹ کے لئے بھی باہر نکلے گا اگرچہ اس کا نکلنا سہوا ہی کیوں نہ ہو تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا البتہ صاحبین کے ہاں اتنی آسانی ہے کہ اس کا اعتکاف اسی وقت فاسد ہوگا جب کہ وہ دن کا اکثر حصہ باہر نکلا رہے۔ مذکورہ بالا حدیث سے ایک مسئلہ یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ معتکف کے لئے مسجد میں حجامت بنوانی جائز ہے بشرطیکہ بال وغیرہ مسجد میں نہ گریں۔
بحالت جاہلیت مانی گئی نذر کو پورا کرنے کا مسئلہ
وعن ابن عمر : أن عمر سأل النبي صلى الله عليه و سلم قال : كنت نذرت في الجاهلية أن أعتكف ليلة في المسجد الحرام ؟ قال : فأوف بنذرك
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ ایک رات (اور ایک دن جیسا کہ دوسری روایت میں وضاحت ہے) مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا (تو کیا وہ نذر پوری کرنی میرے لئے ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جاہلیت، اس حالت کو کہتے ہیں جس میں اہل عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے تھے بعض حضرات کہتے ہیں کہ جاہلیت سے مراد وہ حالت ہے جو اسلام کی تبلیغ عام اور اس کے ظہور سے پہلے تھی حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت اور اسلام کے ظہور سے قبل عرب میں جو معاشرہ تھا اسے جاہلیت اور اس وقت جو دور تھا اسے زمانہ جاہلیت کہا جاتا ہے۔ ارشاد گرامی اپنی نذر پوری کرو، میں یہ حکم بطور استحباب تھا اگر حضرت عمر ؓ نے اسلام قبول کرنے سے قبل نذر مانی تھی اور اگر اسلام قبول کرنے کے بعد یہ نذر مانی تھی تو پھر یہ حکم بطور وجوب تھا۔ علامہ طیبی کے مطابق یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بحالت جاہلیت مانی گئی نذر اسلام کے احکام کے موافق ہوگی تو اسلام قبول کرنے کے بعد اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا، چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک یہی ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ وہ نذر صحیح ہی نہیں ہوگی چہ جائیکہ اسلام کے بعد اس کا پورا کرنا ضروری ہو؟ امام اعظم کی دلیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے، اس حدیث کے وہ وہی معنی مراد لیتے ہیں جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں۔ اعتکاف واجب کے لئے روزہ شرط ہے علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اعتکاف کے صحیح ہونے کے لئے روزہ شرط نہیں ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی کا مسلک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک بروایت ظاہر یہ ہے کہ نفل اعتکاف کے لئے تو روزہ شرط نہیں ہے لیکن اعتکاف واجب کے لئے واجب ہے، صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور حنفیہ کے یہاں اسی پر فتویٰ ہے حضرت امام مالک اور ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت امام اعظم بھی یہ فرماتے ہیں کہ مطلقاً اعتکاف کے لئے روزہ شرط ہے خواہ واجب ہو یا نفل۔ حنفیہ کی طرف سے اس حدیث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اعتکاف کے سلسلہ میں اس کے علاوہ جو اور روایتیں منقول ہیں ان میں اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی ذکر ہے چناچہ ابوداؤد، نسائی اور دارقطنی نے جو روایت نقل کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے جاہلیت میں اپنے اوپر یہ لازم کیا کہ ایک رات اور ایک دن یا صرف ایک دن کعبہ کے اندر اعتکاف کریں گے پھر جب انہوں نے اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اعتکاف کرو اور روزہ رکھو۔ یہ تو گویا اس حدیث کا جواب تھا جہاں تک حنفیہ کی دلیل کا تعلق ہے تو ابھی آگے حضرت عائشہ ؓ کی ایک حدیث ولا اعتکاف الا بصوم آرہی ہے جس سے یہ بات وضاحت کے ساتھ ثابت ہوجائے گی کہ اعتکاف واجب بغیر روزہ کے صحیح نہیں ہوتا، چناچہ اگر کوئی شخص نذر مان کر صرف رات کے اعکاف کی نیت کرے تو وہ لغو سمجھی جائے گی کیونکہ رات روزے کا محل نہیں ہے ہاں اگر کسی نے یہ نذر مانی کہ میں رمضان میں اعتکاف کروں گا تو رمضان کے روزے اعتکاف کے صحیح ہونے کے لئے کافی ہوجائیں گے اسی طرح اگر کسی شخص نے نفل روزہ رکھا اور پھر اس دن اعتکاف کی نذر کی تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔ اگر کسی شخص نے نذر مانی کہ فلاں رمضان میں اعتکاف کروں گا مگر اس نے اس متعین رمضان میں اعتکاف نہیں کیا تو اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ بطور قضا دوسرے دنوں میں اعتکاف کرے اور مستقل طور پر اعتکاف کے لئے روزے رکھے، چناچہ یہ قضا نہ کسی دوسرے رمضان میں صحیح ہوگی اور نہ ایسے دنوں میں جس میں کوئی اور واجب روزہ رکھ رہا ہو خواہ وہ واجب روزے رمضان کے قضا روزے ہوں کسی اور طرح کے۔ اگر کوئی شخص کئی دنوں کے اعتکاف کی نیت کرے تو ان دنوں کی راتوں کا اعتکاف بھی لازم ہوجاتا ہے اسی طرح دو دنوں کے اعکاف کی نذر ماننے سے ان کی دو راتوں کا اعتکاف بھی لازم ہوجاتا ہے لیکن حضرت امام ابویوسف کے نزدیک اس صورت میں صرف ایک رات ہی کا اعتکاف لازم ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میں ایک مہینہ کا اعتکاف کروں گا تو اس پر ایک مہینہ کا اعتکاف علی الاتصال ہوگا، چاہے اس نے نذر مانتے وقت علی الاتصال نہ کہا ہو۔
عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعتكف في العشر الأواخر من رمضان فلم يعتكف عاما . فلما كان العام المقبل اعتكف عشرين . رواه الترمذيورواه أبو داود وابن ماجه عن أبي بن كعب
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک سال غالباً کسی عذر کی بناء پر آپ نے اعتکاف نہیں کیا جب دوسرا سال آیا تو آپ ﷺ نے اس رمضان میں بیس دن اعتکاف کیا (ترمذی، ابوداؤد) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو ابی بن کعب ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
غالباً یہ حدیث اس گزشتہ روایت کی وضاحت ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری سال میں بیس دن اعتکاف فرمایا علامہ طیبی کے مطابق یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر سنت مؤ کدہ فوت ہوجائیں تو ان کی بھی قضا کی جائے جیسا کہ فرائض کی قضا کی جاتی ہے لیکن اس بارے میں یہ بات ملحوظ رہے کہ تشبیہ صرف قضا کے بارے میں ہے ورنہ تو فرائض کی قضا بھی فرض ہے اور سنن مؤ کدہ کی قضا سنت ہے فرض یا واجب نہیں ہے۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يعتكف صلى الفجر ثم دخل في معتكفه . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھتے اس کے بعد اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوجاتے (ابوداؤد وابن ماجہ)
تشریح
امام اوزاعی اور امام ثوری نے اس حدیث کو اپنے مسلک کی دلیل قرار دیا ہے کہ اعتکاف کی ابتداء دن کے ابتدائی حصہ سے ہونی چاہئے جب کہ چاروں ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک مہینہ یا عشرہ وغیرہ کا اعتکاف کرے تو اعتکاف کی ابتداء دن کے آخر حصہ یعنی غروب آفتاب سے پہلے کرے اور اعتکاف کے آخری دن غروب آفتاب کے بعد اعتکاف سے باہر آئے اس لئے اس حدیث کی تاویل کی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اعتکاف کی نیت کے ساتھ غروب آفتاب سے پہلے مسجد میں آجاتے تھے رات بھر مسجد میں رہتے اس کے بعد جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو مسجد کے اس حصہ میں داخل ہوجاتے جو بوریے وغیرہ سے گھیر کر ایک حجرہ کی شکل میں بنادیا جاتا تھا تاکہ لوگوں سے الگ رہیں لہٰذا آپ ﷺ کے اعتکاف کی ابتداء تو مغرب کے وقت ہی سے ہوتی تھی اور معتکف میں صبح کو داخل ہوتے تھے۔
اعتکاف کی حالت میں مریض کی عیادت
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعود المريض وهو معتكف فيمر كما هو فلا يعرج يسأل عنه . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اعتکاف کی حالت میں جب حاجت کے لئے باہر نکلتے تو مریض کی عیادت فرماتے جو مسجد سے باہر کسی جگہ ہوتا چناچہ آپ ﷺ جس طرح ہوتے ویسے ہی گزرتے اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے (صرف) اس کو پوچھ لیتے تھے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
آپ ﷺ جس طرح ہوتے ویسے گزرتے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ جس ہیئت کذائی پر ہوتے اسی طرح مریض کے پاس سے گزر جاتے نہ تو آپ ﷺ کسی اور طرف میلان کرتے تھے اور نہ ٹھہرتے تھے بلکہ سیدھے پوچھتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ لفظ فلا یعرج ما قبل کے اجمال کی وضاحت ہے چناچہ اس لفظ کے معنی یہ ہیں کہ نہ تو آپ ﷺ مریض کے پاس ٹھہرتے اور نہ اپنے راستہ سے ہٹ کر کسی اور طرف متوجہ ہوتے۔ اسی طرح لفظ یسال بطریق استیناف بیان ہے لفظ یعود کا۔ حسن اور نخعی رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ نماز جمعہ اور کسی مریض کی عیادت کے لئے معتکف سے نکلنا جائز ہے مگر چاروں ائمہ کے یہاں اس سلسلہ میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی طبعی یا شرعی ضرورت کے لئے باہر نکلے اور اس درمیان میں خواہ ضرورت رفع ہونے سے پہلے یا اس کے بعد کسی مریض کی عیادت کرے یا نماز جنازہ میں شریک ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ ان امور کے وقت نہ تو اپنے راستہ سے جدا ہو اور نہ نماز سے زیادہ ٹھہرے، اگر ان امور کے لئے اپنا راستہ چھوڑ دے گا یا نماز سے زیادہ ٹھہرے گا تو اعتکاف باطل ہوجائے گا۔ اسی طرح بطور خاص صرف عیادت کے لئے یا نماز جنازہ کے لئے اپنے معتکف سے باہر نکلے گا تو اعتکاف ختم ہوجائے گا ہاں اگر کسی شخص نے اعتکاف کی نذر کو اس الزام کے ساتھ مشروط کیا ہو کہ میں اعتکاف کی حالت میں مریض کی عیادت، نماز جنازہ میں شرکت اور مجلس وعظ و نصیحت میں حاضری کے لئے اپنے معتکف سے نکلا کروں گا تو یہ جائز ہوگا۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : السنة على المعتكف أن لا يعود مريضا ولا يشهد جنازة ولا يمس المرأة ولا يباشرها ولا يخرج لحاجة إلا لما لابد منه ولا اعتكاف إلا بصوم ولا اعتكاف إلا في مسجد جامع . رواه أبو داود
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے یہ سنت (یعنی ضروری) ہے کہ وہ نہ تو (بالقصد اور ٹھہر کر) مریض کی عیادت کرے اور نہ مسجد سے باہر مطلقاً نماز جنازہ میں شریک ہو نیز نہ عورت سے صحبت کرے نہ عورت سے مباشرت کرے اور نہ علاوہ ضروریات کے مثلا پیشاب و پاخانہ کے علاوہ کسی دوسرے کام سے باہر نکلے اور روزہ اعتکاف کے لئے ضرور ہے اور اعتکاف مسجد جامع ہی میں صحیح ہوتا ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
مباشرت سے وہ چیزیں مراد ہیں جو جماع کا ذریعہ اور باعث بنتی ہیں جیسے بوسہ لینا بدن سے لپٹانا اور اسی قسم کی دوسری حرکات لہٰذا ہم بستری اور مباشرت معتکف کے لئے حرام ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ ہم بستری سے اعتکاف باطل بھی ہوجاتا ہے خواہ عمداً کی جائے یا سہوا اور خواہ دن میں ہو یا رات میں، جب کہ مباشرت سے اعتکاف اسی وقت باطل ہوگا جب کہ انزال ہوجائے گا اگر انزال نہیں ہوگا تو اعتکاف باطل نہیں ہوگا۔ معتکف کے لئے مسجد میں کھانا پینا اور سونا جائز ہے اسی طرح خریدو فروخت بھی جائز ہے بشرطیکہ اشیاء خریدو فروخت مسجد میں نہ لائی جائیں کیونکہ اشیاء خریدو فروخت کو مسجد میں لانا مکروہ تحریمی ہے نیز یہ کہ معتکف خریدو فروخت صرف اپنی ذات یا اپنے اہل و عیال کی صرورت کے لئے کرے گا تو جائز ہوگا اور اگر تجارت وغیرہ کے لئے کرے گا تو جائز نہیں ہوگا یہ بات ذہن نشین رہے کہ مسجد میں خریدو فروخت غیر معتکف کے لئے کسی بھی طرح جائز نہیں ہے حالت اعتکاف میں بالکل چپ بیٹھنا بھی مکروہ تحریمی ہے جب کہ معتکف مکمل خاموشی کو عبادت جانے ہاں بری باتیں زبان سے نہ نکالے جھوٹ نہ بولے غیبت نہ کرے بلکہ قرآن مجید کی تلاوت نیک کام، حدیث و تفسیر اور انبیاء صالحین کے سوانح پر مشتمل کتابیں یا دوسرے دینی لٹریچر کے مطالعہ، اللہ تعالیٰ کے ذکر یا کسی دینی علم کے پڑھنے پڑھانے اور تصنیف و تالیف میں اپنے اوقات صرف کر دے۔ حاصل یہ ہے کہ چپ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں ہے مباح کلام و گفتگو بھی بلا ضرورت مکروہ ہے اور اگر ضرورت کے تحت ہو تو وہ خیر میں داخل ہے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ مسجد میں بےضرورت کلام کرنا حسنات کو اس طرح کھا جاتا ہے (یعنی نیست و نابود کردیتا ہے) جیسے آگ خشک لکڑیوں کو۔ حدیث کے الفاظ اعتکاف کے لئے روزہ ضروری ہے، یہ بات وضاحت کے ساتھ ثابت ہوئی کہ اعتکاف بغیر روزہ کے صحیح نہیں ہوتا چناچہ اس بارے میں حنفیہ کے مسلک کی دلیل یہی حدیث ہے، مسجد جامع سے مراد وہ مسجد ہے جس میں لوگ باجماعت نماز پڑھتے ہوں چناچہ حضرت امام اعظم سے منقول ہے کہ اعتکاف اسی مسجد میں صحیح ہوتا ہے جس میں پانچوں وقت کی نمازیں جماعت سے پڑھی جاتی ہوں، امام احمد کا بھی یہی قول ہے حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور صاحبین کے نزدیک ہر مسجد میں اعتکاف درست ہے اگر مسجد جامع سے جمعہ مسجد مراد لی جائے تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اعتکاف جمعہ مسجد میں افضل ہے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ افضل اعتکاف وہ ہے جو مسجد حرام میں ہو پھر وہ مسجد نبوی میں ہو پھر وہ مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں ہو پھر وہ جامع مسجد میں ہو پھر وہ جو اس مسجد میں ہو جس میں نمازی بہت ہوں۔
عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا اعتكف طرح له فراشه أو يوضع له سريره وراء أسطوانه التوبة . رواه ابن ماجه
حضرت ابن عمر ؓ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اعتکاف فرماتے تو آپ ﷺ کے لئے مسجد نبوی میں ستون توبہ کے آگے یا پیچھے آپ کا بچھونا بچھایا جاتا تھا یا آپ ﷺ کی چارپائی رکھ دی جاتی تھی۔ (ابن ماجہ)
تشریح
مسجد نبوی کے ستونوں میں سے ایک ستون کا نام ہے ستون توبہ اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک صحابی حضرت ابولبابہ انصاری ؓ سے ایک تقصیر ہوگئی تھی جس کی بناء پر انہوں نے اپنے آپ کو اس ستون سے باندھ دیا اور کئی دن تک اسی طرح بندھے رہے اس کے بعد جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے ان کو اس ستون سے کھولا۔
وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في المعتكف : هو يعتكف الذنوب ويجري له من الحسنات كعامل الحسنات كلها . رواه ابن ماجه
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لئے نیکیوں کا سلسلہ تمام نیکی کرنے والوں کی مانند جاری رہتا ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، یعنی جو شخص اعلی اور نیک مقاصد (مثلا اعتکاف کی نیت) کے لئے مسجد میں ٹھہرا رہتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ اکثر گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ لفظ یجری راء مہملہ کے ساتھ مجہول کا صیغہ ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ صیغہ معروف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اعتکاف کی حالت میں ہوتا ہے اور وہ اس اعتکاف کی وجہ سے جن نیک اعمال مثلا عبادت اور نماز جنازہ وغیرہ سے باز رہتا ہے تو اس کے لئے ان نیک اعمال کے ثواب کا سلسلہ جاری کردیا جاتا ہے جس طرح ان نیکیوں کے کرنے والوں کے لئے۔ اور مشکوۃ کے ایک صحیح نسخہ میں یہ لفظ راء معجمہ کے ساتھ بصیغہ معروف یعنی یجری منقول ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اعتکاف کرنے والا اپنے اعتکاف کی وجہ سے جن نیک اعمال مثلا عیادت مریض، نماز جنازہ کے ساتھ جانا مسلمانوں کے ساتھ ملاقات نیک معاملات یا اسی قسم کے دوسرے امور تو اسے ان نیک اعمال کا اسی طرح ثواب دیا جاتا ہے جس طرح ان اعمال کے کرنے والوں کو۔ بہرکیف صرف الفاظ کا فرق ہے ورنہ تو جہاں تک معنی کا تعلق ہے مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔ اعتکاف کے فوائد و برکات یہ ہیں کہ معتکف کا دل امور دنیا کی غلاظت سے پاک رہتا ہے۔ وہ اپنا نفس اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے مسلسل عبادت اور خانہ اللہ میں رہتا ہے اللہ کا قرب اسے بہت زیادہ حاصل ہوتا ہے اور رحمت الٰہی اس پر نازل ہوتی رہتی ہے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قلعہ اور اس کی پناہ میں رہتا ہے کہ شیطان کے مکر و فریب سے بچا رہتا ہے۔ معتکف کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بادشاہ کے دروازے پر پڑجائے اور اپنی درخواست و حاجت پیش کرتا رہے اسی طرح معتکف بھی گویا زبان حال سے کہتا ہے کہ اے میرے مولیٰ، اے میرے پروردگار! میں تیرے دروازے پر پڑا رہوں گا یہاں سے اس وقت تک ٹلوں گا نہیں جب تک کہ تو میری بخشش نہیں کرے گا میرے مقاصد پورے نہیں کرے گا اور میرے دینی و دنیاوی غم و آلام دور نہیں کرے گا۔ الحمدللہ کتاب الصوم ختم ہوئی۔ آگے کتاب فضائل القرآن ہے۔
قران مجید پڑھنے کى فضیلت کا بیان
قرآن مجید کیا ہے؟ یہ وہ سب سے مقدس اور سب سے عظیم کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کاروان انسانیت کے سب سے آخری اور سب سے عظیم راہنما رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی جو ظلم و جہل کی تاریکیوں میں منارہ نور، کفر و شرک کے تابوت کی آخری کیل اور پوری انسانی برادری کے لئے اللہ کی طرف سے اتارا ہوا سب سے آخری اور سب سے جامع قانون ہے۔ اور جسے حبل متین کہا گیا ہے۔ قرآن مجید کی عظمت و بزرگی اور اس کی فضیلت و رفعت کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ وہ خداوند عالم، مالک ارض و سماء اور خلق لوح و قلم کا کلام ہے تمام عیوب اور تمام نقائس سے بری اور پاک ہے فصاحت و بلاغت کا وہ آخری نقطہ عروج کہ بڑے بڑے عرب فصیح وبلیغ اس کے سامنے طفل مکتب علوم و معارف اور فکر و دانش کا وہ کوہ ہمالہ کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکر، فلسفی، دانشور اور ارباب فکر و نظر اس سے سر ٹکرائیں۔ قرآن مجید کی تلاوت اور پڑھنے پڑھانے کا ثواب محتاج بیان نہیں تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ کوئی ذکر، تلاوت کلام مجید سے زیادہ ثواب نہیں رکھتا، خصوصا نماز میں اس کی قرأت کا ثواب اور اس کی فضیلت اتنی ہے کہ وہ دائرہ تحریر سے باہر ہے، قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اس کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں اور نماز میں اس کی قرأت کے وقت اس کے ہر حرف کے عوض پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ قرآن کا پڑھنا بندہ کو اللہ کا قرب بخشتا ہے، قلب کو عرفان الٰہی اور ذکر اللہ کے نور سے روشن کرتا ہے اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت کرے گا۔ تلاوت قرآن کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ وہ تفکر اور تذکر یعنی امور دین کو یاد دلانے اور آخرت کی طرف توجہ کا باعث ہو اور کثرت تلاوت کی وجہ سے احکام الٰہی یاد اور مستحضرت ہوں تاکہ احکام الٰہی پر عمل کیا جائے اور عبرت حاصل کی جائے تلاوت کا یہ مقصد نہیں کہ محض آواز و حروف کو آراستہ کیا جائے اور دل غفلت کے اندھیروں میں پڑا رہے چناچہ جو شخص قرآن پڑھے مگر اس پر عمل نہ کرے تو قرآن ایسے شخص کا دشمن ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو قرآن تو پڑھتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے کیونکہ قرآن صرف پڑھنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنا ہے اور جو شخص قرآن پڑھتا تو ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا وہ گویا قرآن کی اہانت کرتا ہے۔ لہٰذا قرآن پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اس کے حق میں آخرت کے نقصان و خسران کی دلیل ہوگا۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ تفکر و تذکر اور فہم معانی اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آہستگی، وقار، ترتیل اور حضور دل کے ساتھ قرآن پڑھا جائے اسی لئے قرآن کی تجوید لازم ہے اور قرآن کا کم پڑھنا مشروع ہوا ہے چناچہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ قرآن کے حق کی ادائیگی کے لئے یہ کافی ہے کہ چالیس دن میں ایک قرآن ختم کیا جائے بلکہ ایک سال میں قرآن ختم کرنا بھی کافی ہے، نیز عبادت مثلا تراویح وغیرہ میں بھی ایک قرآن کم سے کم سات دن میں ختم کرنا چاہئے اور جس قدر اس سے زیادہ عرصہ میں ختم کرے افضل ہے۔ جو شخص عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے قرآن کے معانی نہ جانتا ہو اس کو بھی چاہئے کہ وہ حضور دل کے ساتھ قرآن کی تلاوت شروع کرے اور اپنے ذہن میں یہ خیال جمائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے وہ احکام ہیں جو اس نے دنیا پر نازل فرمائے ہیں نیز وہ اس عاجز اور فروتنی کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرے گا کہ گویا وہ قرآن نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ احکم الحاکمین کا کلام براہ راست سن رہا ہے۔
قرآن کریم اللہ رب العزت کا براہ راست کلام اور بارگاہ الوہیت سے اترے ہوئے الفاظ کا مجموعہ ہے اس کلام کی نسبت جس ذات کی طرف ہے وہ حاکموں کا حاکم، بادشاہوں کا بادشاہ اور پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ لہٰذا اس کی تلاوت کے وقت وہی آداب ملحوظ ہونے چاہئیں جو کلام اور صاحب کلام کی عطمت شان کے مطابق ہوں اس لئے مناسب ہے کہ اس موقع پر آداب تلاوت کا ذکر وضاحت سے بیان کردیا جائے۔ سب سے پہلے مسواک کے ساتھ وضو کیجئے اس کے بعد کسی اچھی جگہ متواضع اور رو بقبلہ بیٹھے اپنے آپ کو کمتر و ذلیل اور عاجز جان کر اور قلب و دماغ کے حضور کے ساتھ بیٹھئے کہ گویا اللہ رب العزت کے سامنے بیٹھ کر عرض و نیاز اور التجا کر رہے ہیں پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت کیجئے دل میں یہ تصور جمائیے کہ میں اللہ کا کلام بغیر کسی واسطہ کے سن رہا ہوں قرآن کی آیتوں کو آہستہ آہستہ تدبر، تفکر اور ترتیل کے ساتھ پڑھئے۔ جہاں بندوں کے حق میں وعدہ و رحمت کی آیت آئے تو تسبیح کیجئے، جہاد و وعید و عذاب کے متعلق آیت آئے اللہ سے پناہ مانگئے۔ جب اللہ رب العزت کی تنزیہ اور تقدیس پر مشتمل آیت آئے تو تسبیح کیجئے، یعنی جس آیت میں اللہ کی پاکی اور اس کی بڑائی و بزرگی کا بیان ہو اسے پڑھ کر سبحان اللہ کہئے، تلاوت کے درمیان الحاح وزاری اختیار کیجئے اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بنا لیجئے۔ حاصل یہ کہ تلاوت قرآن گویا بارگاہ الوہیت میں حاضری کا وقت ہے اس لئے اس موقع پر اللہ رب العزت کی عظمت و رفعت کے احساس سے اپنے اوپر مکمل عاجزی، ذلت اور فروتنی طاری کیجئے، اس بات کی کوشش نہ کیجئے کہ قرآن جلد ختم ہو اور اس کی وجہ سے تیز تیز پڑھنا شروع کردیا جائے کیونکہ غور و فکر کے ساتھ کم پڑھنا آداب تلاوت کا لحاظ کئے بغیر زیادہ پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر یہ کہ زیادہ سے زیادہ پڑھنے سے ختم شماری کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ امر ممنوع ہے لہٰذا آج کل جو یہ رسم چل گئی ہے کہ لوگ پورا قرآن ایک دن میں ختم کرنے یا زیادہ تیز پڑھنے کو فخر یا کمال کی بات سمجھتے ہیں۔ یہ نہایت بری اور غفلت و نادانی کی بات ہے۔ خواجہ پندارد کہ طاعت می کند بے خبر کز معصیت جان می کند بعض بزرگوں سے جو زیادہ سے زیادہ پڑھنا ثابت ہے تو وہ ان کی کرامت ہے اس بارے میں ان کی پیروی نہ کیجئے حاصل یہ کہ تدبر، ذوق، حضور قلب اور آداب تلاوت کی رعایت کے ساتھ جس قدر بھی تلاوت کر پائیں اسی کو غنیمت سمجھئے۔ جس مجلس میں لوگ کسی دوسرے کام میں مشغول ہوں یا شور و غوغا ہو وہاں تلاوت نہ کیجئے ہاں اگر تلاوت ضروری ہی ہو اور کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو تو تلاوت کیجئے مگر آہستہ آواز کے ساتھ، البتہ اگر لوگ تلاوت سننے کے مشتاق ہوں اور خاموش و پر سکون ہوں تو بآواز بلند تلاوت افضل ہوگی کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تلاوت سننے والا اور تلاوت کرنے والا دونوں اجر وثواب میں یکساں شریک ہیں۔ اسی طرح مصحف (قرآن) میں دیکھ کر پڑھنا بغیر دیکھے پڑھنے سے افضل ہے کیونکہ اس طرح آنکھیں اور دوسرے اعصاب بھی عبادت میں شریک ہوتے ہیں اور حضور قلب بھی زیادہ میسر ہوتا ہے۔ قرآن کریم کو رحل یا کسی دوسری بلند چیز (مثلاً تکیہ) پر رکھئے تاکہ قرآن کی تعظیم و تکریم آشکارا ہو، تلاوت کے دوران دنیوی کلام و گفتگو، کھانے پینے اور دوسرے سب کاموں سے باز رہئے اگر کوئی ضرورت پیش آجائے تو قرآن کو بند کر کے کلام و گفتگو کیجئے اس کے بعد پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت شروع کیجئے، غلط پڑھنے سے احتراز کیجئے۔ ترتیل و تجوید کے ساتھ بےتکلف اور بےساخت پڑھئے۔ غلط طریقہ سے آواز و لہجہ بنانے کی ضرورت نہیں، تلاوت کے وقت کسی کی تعظیم نہ کیجئے۔ ہاں اگر عالم باعمل، استاد یا والدین کے لئے کھڑے ہوجانا اور ان کی تعظیم جائز ہے جب قرآن ختم ہونے کو ہو تو اپنے عزیز و اقا رب اور محبین و متعلقین کو جمع کیجئے ان کی مجلس میں قرآن ختم کیجئے اور ان سب کو دعا میں شامل کیجئے کیونکہ وہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ قرآن ختم کرنے کے بعد پھر سورت فاتحہ اور سورت بقرہ مفلحون تک پڑھ کر قرآن بند کیجئے کیونکہ یہ افضل ہے۔ تکیہ لگا کر یا لیٹ کر قرآن پڑھنا اگرچہ جائز ہے لیکن افضل یہی ہے کہ مؤدب بیٹھ کر پڑھا جائے اسی طرح راستہ چلتے قرآن پڑھنا جائز ہے اگر جنگل ہو تو بآواز بلند پڑھا جائے ورنہ بصورت دیگر بآواز آہستہ۔ نجس اور مکروہ جگہوں مثلا حمام اور کمیلے وغیرہ میں قرآن پڑھنا مکروہ ہے۔ قرآن کی تقطیع بہت چھوٹی نہ رکھی جائے اور نہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے متفرق کیا جائے تاکہ اس کے احترام و عظمت میں کچھ کمی واقع نہ ہو ہاں ضرورت کے تحت مثلا بچوں کے پڑھنے کے لئے یا کسی مناسب آسانی و سہولت کے پیش نظر پارہ پارہ یا ہفت سورت وغیرہ کی شکل میں کرنا جائز ہے۔ قرآن کو ایسے لشکر میں لے جانا جہاں امن پر اعتماد نہ ہو مناسب نہیں ہے اسی طرح دارالحرب میں بھی قرآن نہ لے جانا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کافروں کے ہاتھ میں پڑجائے اور وہ اس کی بےحرمتی کریں۔ قرآن کی اتنی آیتوں کا یاد کرنا کہ جن سے نماز ہوجائے ہر مسلمان پر عین فرض ہے اور پورا قرآن شریف یاد کرنا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایک شخص حفظ کرے تو سب کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ فقہا لکھتے ہیں کہ سورت فاتحہ اور کوئی ایک سورت یاد کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور باقی قرآن کا یاد کرنا اور اس کے احکام کو جاننا اور سیکھنا نفل نماز سے اولیٰ ہے۔ مصحف کی طرف پاؤں پھیلانے مکروہ نہیں بشرطیکہ وہ پاؤں کے برابر نہ ہو، اسی طرح مصحف اگر کھونٹی پر لٹکا ہوا ہو یا طاق میں رکھا ہوا ہو تو ادھر پاؤں پھیلانا مکروہ نہیں ہے۔ سفر میں حفاظ کی خاطر مصحف کو خرجی (بیگ زنبیل اور جھولا) میں رکھ کر اس پر سوار ہونا یا تکیہ کے نیچے رکھ کر سونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، جس مکان میں یا کمرہ میں مصحف رکھا ہو اس میں جماع کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جب قرآن شروع ہو تو پہلے یہ دعا پڑھئے۔ دعا (اللہم انی اشہد ان ھذا کتابک المنزل من عندک علی رسولک محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وا صحابہ واتباعہ اجمعین وکلامک الناطق علی لسان نبیک جعلتہ ہادیا منک لخلقک وحبلا متصلا فیما بینک وبین عبادک اللہم فاجعل نظری فیہ عبادۃ وقرائتی فکروفکری فیہ اعتبارا انک انت الرؤ ف الرحیم رب اعوذبک من ہمزات الشیاطین واعوذبک رب ان یحضرون)۔ اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیری یہ کتاب تیری طرف سے تیرے رسول پر اتاری گئی ہے جن کا نام نامی محمد بن عبداللہ ہے رحمت ہو اللہ کی ان پر، ان کی اولاد پر، ان کے اصحاب پر اور ان کے تمام تابعداروں پر اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا کلام ناطق ہے تیرے رسول کی زبان پر، اس کلام کو تو نے اپنی مخلوق کی ہدایت کرنے والا بنایا ہے اور اس کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطہ متصل بنایا ہے۔ لہٰذا اے اللہ! تو میری نظر کو اس میں عبادت گزار میری قرأت کو اس میں بافکر اور میرے بافکر کو اس میں عبرت پذیر بنا، بلاشبیہ تیری ذات بڑی مہربان ہے اور تو بڑا رحم کرنے والا ہے اور اے میرے رب میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ کا طلبگار نہیں کہ میرے پاس شیاطین آئیں۔ اس دعا کے بعدا یت (قل اعوذ برب الناس) پڑھئے اور پھر یہ دعا مانگئے۔ دعا (اللہم بالحق انزلتہ وبالحق نزل اللہم عطم رغبی جہ واجعلہ نورا لیبضری و شفاء لصدری وہ ذھابالھمی وحزنی وبیض بہ وجہی وارزقنی تلاوتہ وفہم معانیہ برحمتک یا ارحم الراحمین)۔ اے اللہ تو نے قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ حق کے ساتھ اترا۔۔ اے اللہ قرآن میں میری رغبت بڑی بنا اور اسے میری آنکھوں کو نور میرے سینے کے لئے شفاء اور میرے فکر و غم کے دور ہونے کا سبب بنا اس کے ذریعہ میرے چہرے کو روشن ومنور فرما اور اپنی رحمت کے صدقہ اے ارحم الراحمین اس کی تلاوت مجھے نصیب کر اور اس کے معنی کی سمجھ عطا فرما ہر روز تلاوت کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھئے۔ دعا (اللہم اجعل القرآن لنا فی الدنیا قرینا وفی الآخرۃ شافعا وہ فی القبر مونسا وفی القیامۃ صاحبا وعلی الصراط نورا وفی الجنۃ رفیقا ومن النار سترا)۔ اے اللہ قرآن پاک کو میرے لئے دنیا میں ہم نشین، آخرت میں شافع، قبر میں غم خوار، قیامت میں مونس، پل صراط پر نور، جنت میں رفیق اور آگے سے پردہ دینا۔ پھر آپ نے دینی اور دنیوی مقاصد و عزائم کے لئے جو بھی دعا چاہیں مانگیں انشاء اللہ آپ کی ہر درخواست مجیب الدعوات کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازری جائے گی۔ ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب قرآن ختم کرتے تو کھڑے ہو کر دعا مانگتے، اسی طرح بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ہی سے نقل کیا کہ رول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھے اللہ کی حمد و ثنا کرے محمد پر درود بھیجے اور پھر اپنے رب سے اپنی بخشش چاہے تو بلاشبہ اس نے بہترین طریقے سے خیر و بھلائی کی دعا مانگی۔ بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا کہ آنحضرت ﷺ جب قرآن ختم فرماتے تو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا کرتے چناچہ حمد و ثنا اور دعا کے کلمات یہ ہوتے۔ الحمد للہ رب العالیمن الحمد للہ الذی خلق السماوات والرض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربہم یعدلون۔ لا الہ الا اللہ وکذب العادلون باللہ وضلوا ضللا بعیدا لا الا اللہ وکذب المشر کون باللہ من العرب والمجوس والیہود النصاریٰ والصابئین ومن دعا للہ ولد وصاحبۃ او ندا او شبہا او مثلا او سمیا او عدلا فانت ربنا اعطم من ان نتخذ فیما خلقت والحمد للہ الذی لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لو ولی من الذل وکبری تکبیرا اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبھان اللہ بکرۃ واصیلا۔ والحمدللہ الذی انزل علی عبدہ الکتٰب ولم یجعل لہ عوفا قیما لتنذر بہ باسا شدیدا من لدنہ وبشر المومنین الذی یعمولن الصالحات ان لھم اجرا حسان ماکثین فیہ ابدا وینذر الذین قالوا اتخذا للہ ولدا مالھم بہ میں علم ولا لاباہ م کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ان یقولون الا کذبا۔ الحمد للہ الذی لہ مافی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الآخرۃ وہو الحکیم الخبیر۔ یعلم مایلج فی الارض وما یخرج من السماء وما یعرج فیہا وہو الرحیم الغفور۔ الحمدللہ فاطر السماوات والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث ارباع یزید فی الخق مایشاء ان اللہ علی کل چیز قدیر۔ مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک ہا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد وہو العزیز الحکم۔ الحمدللہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی آللہ خیر اما یشرکون۔ بل اللہ خیر وابقی وا حکم واکرم و اعظم ممایشرکون۔ فالحمدللہ بل اکثرھم لایعلمون۔ صدق اللہ وبلغت رسلہ الکرام وانا علی ذالکم من الشاہدین۔ اللہم صل علی جمیع الملائکۃ والمرسلین وارحم عبادک المومنین مب اہل السماوات والارض واختم لنا بخیر وافتح لنا بخیر وبارک لنا فی القرآن العظیم وانفسنا بالآیت والذکر الحکیم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو رب ہے تمام عالم کا، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیرا اور اجالا بنایا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر کردیتے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو برابر کردیتے ہیں دوسروں کو اللہ کے ساتھ اور گمراہ ہیں وہ لوگ اور بھٹک گئے ہیں وہ صحیح راستہ سے کامل بھٹک جانا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اہل عرب میں سے ہیں اور آتش پرست، یہود و نصاریٰ اور کو کب پرست وہ دوسروں کو اللہ کا شریک مان رہے ہیں جو شخص ثابت کرتا ہے اللہ کے لئے اولاد کو یا بیوی کو یا ہمسر کو یا مشابہ کو یا مثیل کو اس کے ہمنام کو یا اس کی ذات وصفات میں برابر کو، تو وہ کیا کرے کیونکہ وہ بھی جھوٹا ہے اور آپ تو اے ہمارے پروردگار! اس سے برتر و بلند ہیں کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا شریک و ساجھی بنائیں۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں بنایا اور نہ بنایا اپنے لئے بیوی کو اور نہ بیٹے کو اور نہیں ہے کوئی اس کا ساجھ سلطنت میں اور نہ کوئی اس کا مددگار ہے ذلت کے وقت پر اور اس کی بڑائی بیان کرو بڑا جان کر اللہ سب سے بڑا بہت بڑا اور بےانتہاء، بیشمار تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور تمام چیزیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندہ محمد پر کتاب اتاری جس میں کوئی کجی نہیں رکھی، بالکل ٹھیک ٹھیک اتاری تاکہ خوف دلائے ایک سخت آفت کا اللہ کی طرف سے اور خوشخبری دے ایمان لانے والوں کو جو نیکیاں کرتے ہیں اس بات کی کہ ان کے لئے اچھا بدلہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور ان کو متنبہ کر دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے لئے اولاد بنائی ہے کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی نہ ان کے باپ دادوں کو، کیا بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، سب کچھ جھوٹ ہے جس کو وہ کہہ رہے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس کی مملوک میں وہ تمام چیزیں ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تمام تعریفیں اس کے لئے ہیں عالم آخرت میں اور وہ بڑی حکمت والا اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے وہ جانتا ہے ان تمام چیزوں کو جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور اس سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمانوں سے اترتی ہیں اور اسمانوں پر چڑھتی ہیں وہ بڑا رحم کرنے والا اور بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو پیدا کرنے والا ہے تمام آسمانوں کو اور زمین کو اور بنانے والا ہے فرشتوں کو اپنا پیغام پہچانے والا جو بازوؤں والے ہیں کسی کے دو بازو ہیں کسی کے تین اور کسی کے چار، اپنی مخلوق میں وہ زیادتی کرتا ہے جتنا چاہتا ہے یقینا اللہ تمام چیزوں پر بڑی قدرت رکھنے والا ہے جو کچھ کھول دے، اللہ تعالیٰ لوگوں پر اپنی رحمت میں سے تو کوئی نہیں اس کو روکنے والا اور جو کچھ کہ روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اس کے سوا اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور سلامتی ہو اللہ کی اللہ کے ان بندوں پر جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے کیا اللہ سب سے بہتر ہے یا وہ (بت) جن کو وہ (کافر و مشرک) اللہ کا ساجھی ٹھہرا رہے ہیں (یہ بات نہیں ہے) بلکہ اللہ ہی سب سے بہتر اور وہی باقی رہنے والا ہے، وہی مضبوط حکم والا ہے اور وہی عزت والا ہے وہ ان تمام چیزوں سے جن کو یہ کافر شریک ٹھہرا رہے ہیں سب سے عظمت والا ہے، پس تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے، اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے کریم رسولوں نے اس کا پیغام (صحیح صحیح) پہنچایا ہے اور میں تمام باتوں پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں، اے اللہ! اپنی رحمت نازل فرما، تمام فرشتوں پر، تمام پیغمبروں پر اور رحم فرما اپنے مومن بندوں پر آسمان کے رہنے والوں اور زمین پر بسنے والوں سے، ہمارا خاتمہ کیجئے خیر کے ساتھ اور کھول دیجئے ہمارے لئے خیر کے دروازہ کو اور برکت دیجئے ہمارے لئے قرآن عظیم کے علوم میں اور نفع دیجئے ہم کو آیات قرآنی سے اور اپنے مستحکم ذکر سے، اے ہمارے رب! ہماری یہ دعا قبول فرما لے یقینا آپ ہماری دعاؤں کو سننے والے اور ہماری باتوں کو جاننے والے ہیں۔
قرآن سیکھنے اور سکھانے والا سب سے بہتر ہے
عن عثمان رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن وعلمه . رواه البخاري
حضرت عثمان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن سیکھے جیسا کہ سیکھنے کا حق ہے اور پھر دوسروں کو سکھائے تو وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ جس طرح قرآن اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور اعلیٰ وارفع ہیں اسی طرح قرآنی علوم کو جاننے والا بھی دنیا کے افراد میں سب سے ممتاز اور کسی بھی علم کے جاننے والے سے افضل اور اعلیٰ ہے۔ سیکھے کا حق، سے مراد یہ ہے کہ قرآنی علوم میں غور و فکر کرے اور اس کے احکام و معنی اور اس کے حقائق و دقائق کو پوری توجہ اور ذہنی و قلبی بیداری کے ساتھ سیکھے۔
وعن عقبة بن عامر قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن في الصفة فقال : أيكم يحب أن يغدو كل يوم إلى بطحان أو إلى العقيق فيأتي منه بناقتين كوماوين في غير إثم ولا قطع رحم فقلنا يا رسول الله نحب ذلك قال : أفلا يغدو أحدكم إلى المسجد فيعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله عز و جل خير له من ناقة أو ناقتين وثلاث خير له من ثلاث وأربع خير له من أربع ومن أعدادهن من الإبل . رواه مسلم
حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے۔ تو ہم صفہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے دو اونٹنیاں بڑے کوہان والی بغیر کسی گناہ کے اور بغیر انقطاع صلہ رحمی کے لائے؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سب پسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر سن لو کہ تم میں سے جو شخص مسجد میں جاتا ہے اور وہاں کتاب اللہ کی دو آیتیں کسی کو سکھاتا ہے یا خود پڑھتا ہے تو وہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے تین آیتیں اس کے لئے تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چار آیتیں اس کے لئے چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ حاصل یہ کہ آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے (یعنی پانچ آیتیں پانچ اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چھ آیتیں چھ اونٹنیوں سے بہتر ہیں اسی طرح آگے تک قیاس کیا جائے۔ (مسلم)
تشریح
صفہ وہ سایہ دار چبوترہ تھا جو مسجد نبوی کے سامنے بنا ہوا تھا اور وہ مہاجرین صحابہ جن کے نہ گھر بار تھا اور نہ بیوی بچے اور عبادت و زہد کے انتہائی بلند مقام پر تھے وہ اسی چبوترہ پر رہا کرتے اور ہمہ وقت ابرگاہ نبوت سے اکتساب فیض کرتے رہتے تھے گویا وہ اسلام کی سب سے پہلی اق امتی اور تربیتی درگاہ تھی جس کے معلم اول خود سرکار رسالت مآب ﷺ تھے اور طلباء کی جماعت صحابہ ؓ پر مشتمل تھی۔ بطحان مدینہ کے قریب ایک نالہ تھا اسی طرح عقیق بھی ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ کے مضافات میں تقریبا چار میل کے فاصلہ پر ہے ان دونوں جگہوں پر اس زمانہ میں بازار لگا کرتے تھے جس میں اونٹوں کی خریدو فروخت ہوا کرتی تھی اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اونٹ ایک متاع گرانمایہ کے درجہ کی چیز تھی خصوصا بڑے کوہان کے اونٹ کی قدر و قیمت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے بڑے بلیغ اسلوب میں صحابہ سے مذکورہ سوال کر کے اس چیز کی طرف رغبت دلائی جو باقی رہنے والی ہے اور اس چیز سے نفرت دلائی جو دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی قدر و قیمت کی کیوں نہ ہو لیکن مآل کار فانی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ آپ نے اونٹ کا ذکر ان کو سمجھانے کے لئے صرف بطریق تمثیل فرمایا ورنہ تو دنیا کی تمام چیزیں بھی ایک آیت کے مقابلہ پر کوئی حقیقت اور قدر و قیمت نہیں رکھتیں۔