Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 105 of 317

2081Mishkaat-al-Masabih

بدن کی زکوٰۃ روزہ رکھنا ہے

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل شيء زكاة وزكاة الجسد الصوم . رواه ابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر چیز کے لئے زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ رکھنا ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح چونکہ زکوٰۃ کا مفہوم ہے بڑھنا اور طہارت اس لئے ہر چیز کے لئے زکوٰۃ ہے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر چیز کے لئے بڑھوتی ہے جو اس چیز میں سے کچھ دے کر حاصل ہوتی ہے یا ہر چیز کے لئے پاکیزگی و طہارت کا ایک ذریعہ مقرر ہے جس کی وجہ سے وہ چیز پاکیزہ و طاہر ہوتی ہے۔ لہذا بدن کی زکوٰۃ یعنی بدن کی جسمانی صحت و تندرستی اور بدن کی روحانی پاکیزگی و طہارت کا ذریعہ روزہ ہے کہ روزہ کی وجہ سے اگرچہ بظاہر جسم کی طاقت و قوت کا کچھ حصہ گھلتا اور ناقص ہوتا ہے مگر حقیقت میں روزہ جسم کے نشو نما اور صحت و تندرستی میں برکت و اضافہ کا ایک ذریعہ بنتا ہے نیز اس کی وجہ سے بدن گناہوں سے پاک ہوتا ہے لہٰذا زکوٰۃ عبادت مالیہ ہے اور روزہ طاعت بدنیہ۔

2082Mishkaat-al-Masabih

پیر اور جمعرت کی فضیلت کیون؟

وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه و سلم : كان يصوم يوم الاثنين والخميس . فقيل : يا رسول الله إنك تصوم يوم الاثنين والخميس . فقال : إن يوم الاثنين والخميس يغفر الله فيهما لكل مسلم إلا ذا هاجرين يقول : دعهما حتى يصطلحا . رواه أحمد وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے چناچہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ پیر اور جمعرات کے دن اکثر روزہ رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا پیر اور جمعرات وہ دن ہیں جس میں اللہ رب العزت ہر مسلمان کی بخشش کرتا ہے علاوہ ان دو لوگوں کے جو ترک تعلقات کئے ہوئے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ (ان کے بارے میں ان فرشتوں سے جو آثار مغفرت ظاہر ہونے کے وقت برائیوں کو مٹانے پر مامور ہوتے ہیں) فرماتا ہے کہ انہیں چھوڑ دو تاوقتیکہ یہ آپس میں صلح کرلیں اس کے بعد ان کی مغفرت ہوگی۔ (احمد، ابن ماجہ) تشریح گویا آپ ﷺ نے سوال کے پیش نظر ان دونوں دنوں کی بزرگی و فضیلت ظاہر فرمائی کہ میں اس بزرگی و فضیلت کے پیش نظر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت عام اور اس کی طرف سے مغفرت و بخشش کے کی نعمت عظمی کے شکر کے طور پر ان دونوں دنوں میں روزہ رکھتا ہوں۔

2083Mishkaat-al-Masabih

اللہ کی خوشنودی کے پیش نظر روزہ رکھنے والے کی فضیلت

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام يوما ابتغاء وجه الله بعده الله من جهنم كبعد غراب طائر وهو فرخ حتى مات هرما . رواه أحمدوروى البيهقي في شعب الإيمان عن سلمة بن قيس

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ رب العزت کی رجا و خوشنودی کی خاطر ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے دوزخ سے اڑتے ہوئے کوے کی مسافت کے بقدر دور رکھتا ہے جو بچہ ہو اور بوڑھا ہو کر مرے۔ (احمد، بیہقی) تشریح کہا جاتا ہے کہ کوے کی عمر ہزار ہزار برس کی ہوتی ہے لہٰذا فرمایا کہ اگر کوا ابتداء عمر سے اپنی عمر کے آخری حصہ تک اڑتا رہے تو غور کرو وہ کتنی زیادہ مسافت طے کرے گا جتنی مسافت وہ طے کرے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ روزہ دار کو دوزخ سے دور رکھتا ہے۔ بیہقی سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا روزہ دار کا سونا عبادت اس کی خاموشی تسبیح ہے اس کا عمل مضاعف ہے اس کی دعا مقبول ہے اور اس کے گناہ بخشے ہوئے ہیں۔ بیہقی سے یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک نبی کے پاس یہ وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو خبر دو کہ جو بھی بندہ محض میری خوشنودی کے حصول کی خاطر کسی دن روزہ رکھتا ہے تو میں نہ صرف یہ کہ اس کے جسم و بدن کو تندرست و توانا کرتا ہوں بلکہ اسے بہت زیادہ ثواب بھی دیتا ہوں۔ خطیب سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اس طرح نفل روزے رکھتا ہے کہ کسی کو بھی اس کے روزہ کی خبر نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کے علاوہ اور کسی ثواب پر راضی نہیں ہوتا یعنی اس کا ثواب یہی ہے کہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے۔ عبرانی (رح) سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس طرح نفل روزے رکھتا ہے کہ کسی کو بھی اس کے روزہ کی خبر نہیں ہوتی تو اللہ رب العزت کے پاس ایک خوان ہے جس پر ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ ویسی نعمتیں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال بھی گزرتا ہے اس خوان پر صرف رزے دار بیٹھیں گے۔

2084Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ کی نیت دن میں کی جاسکت ہے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : دخل علي النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم فقال : هل عندكم شيء ؟ فقلنا : لا قال : فإني إذا صائم . ثم أتانا يوما آخر فقلنا : يا رسول الله أهدي لنا حيس فقال : أرينيه فلقد أصبحت صائما فأكل . رواه مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اب روزہ رکھ لیا ہے، پھر اس کے بعد ایک دن اور آپ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے لئے حیس ہدیہ میں آیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ لاؤ مجھے وہ دکھاؤ میں نے صبح روزہ رکھ لیا تھا پھر آپ ﷺ نے وہ حیس کھالیا۔ (مسلم) تشریح میں نے اب روزہ رکھ لیا ہے، کا مطلب یہ ہے کہ میں نے روزہ کی نیت کرلی ہے اس سے معلوم ہوا کہ نفل روزہ کی نیت دن میں کرنی چاہئے چناچہ اکثر ائمہ کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ روزہ کسی بھی قسم کا ہو خواہ فرض ہو یا نفل اس کی نیت رات ہی سے کرنی واجب ہے۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل گزشتہ صفحات میں بیان کی جا چکی ہے۔ حیس ایک کھانے کا نام ہے جو مالیدہ کی طرح ہوتا تھا اور کھجور، گھی اور قروت سے بنایا جاتا تھا بہرکیف حدیث کے آخری الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ نے روزہ کی حالت میں حضرت عائشہ ؓ سے حیس لے کر تناول فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر عذر کے بھی نفل روزہ توڑ ڈالنا جائز ہے چناچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین علماء رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ نفل روزہ شروع کردینے کے بعد اسے پورا کرنا واجب ہے اس کو توڑ ڈالنا جائز نہیں ہے ہاں کسی عذر کی بناء پر مثلا مہمانداری وغیرہ کے پیش نظر نفل روزہ توڑا جاسکتا ہے، تاہم اس صورت میں بھی قضا واجب ہوتی ہے، چونکہ یہ حدیث اس بارے میں حنفیہ کے مسلک کے خلاف ہے اس لئے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے بلا عذر روزہ نہیں توڑا تھا۔ بلکہ آپ ﷺ کو کوئی ایسا عذر لاحق تھا جس کی بناء پر آپ ﷺ نے روزہ توڑ ڈالا جس کو یہاں ذکر نہیں کیا گیا، اس مسئلہ میں حنفیہ کی دلیل آگے آرہی ہے۔

2085Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

وعن أنس قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم على أم سليم فأتته بتمر وسمن فقال : أعيدوا سمنكم في سقائه وتمركم في وعائه فإني صائم . ثم قام إلى ناحية من البيت فصلى غير المكتوبة فدعا لأم سليم وأهل بيتها . رواه البخاري

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت ام سلیم ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو وہ آپ ﷺ کے لئے گھی اور کھجور لائیں تاکہ آپ ﷺ تناول فرمائیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھی کو اس کی مشک میں اور کھجور کو اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں روزہ سے ہوں پھر آپ ﷺ گھر کے ایک کونہ میں کھڑے ہو کر فرض کے علاوہ نماز پڑھنے لگے اور ام سلیم ؓ اور ان کے گھر والوں کے لئے دعا فرمائی۔ (بخاری) تشریح بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ام سلیم ؓ کی ضیافت کے باوجود اس لئے روزہ نہیں توڑا کہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس سے ام سلیم ؓ رنجیدہ نہیں ہوں گی۔ اس بارے میں کہ آیا ضیافت نفل روزہ رکھنے والے کے لئے عذر ہے یا نہیں؟ اگرچہ مشائخ کے ہاں اختلاف ہے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ مہمان اور میزبان دونوں کے لئے ضیافت عذر ہے بشرطیکہ میزبان محض مہمان کے آنے اور اپنے ساتھ کھانا نہ کھانے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ خوش نہ ہو بلکہ ملول بھی ہو اسی طرح کھانے میں میزبان کی عدم شرکت سے مہمان کی دل شکنی اور اس کو ناگواری اور تنگی ہو حاصل یہ کہ اگر کھانے میں شرکت نہ کرنے سے دل شکنی ہوتی ہو تو ضیافت عذر ہے لہٰذا نفل روزہ توڑ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر بعد میں اس روزہ کی قضا ضروری ہوگی اور اگر یہ معلوم ہو کہ دل شکنی نہیں ہوگی تو روزہ نہ توڑنا چاہئے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روزہ دار مہمان کے لئے مستحب ہے کہ وہ میزبان اور اس کے اہل و عیال کے حق میں دعائے خیر کرے۔

2086Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعي أحدكم إلى طعام وهو صائم فليقل : إني صائم . وفي رواية قال : إذا دعي أحدكم فليجب فإن كان صائما فليصل وإن كان مفطرا فيطعم . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے پر بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو اسے چاہئے کہ یہ کہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا اگر تم میں سے کسی کی دعوت کی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ دعوت قبول کرلے اور اگر وہ روزہ دار ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھ لے اور اگر روزہ دار نہ ہو تو اسے چاہئے کہ کھانے میں شریک ہو۔ (مسلم) تشریح اگر روزہ دار مہمان کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے میزبان کسی تشویش و پریشانی میں مبتلا ہوجائے یا کھانا نہ کھانے کی وجہ سے دشمنی یا نفرت پیدا ہوجانے کا خوف ہو تو اس صورت میں نفل روزہ توڑ دینا ہی واجب ہے۔ اور اگر مہمان یہ جانے کہ میزبان کھانا کھانے کی وجہ سے خوش تو ہوگا اور کھانا کھانے کی صورت میں وہ کسی تشویش و پریشانی میں مبتلا بھی نہیں ہوگا۔ تو اس صورت میں نفل روزہ توڑنا مستحب ہے اور اگر اس کے نزدیک دونوں امر برابر ہوں تو اس کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ کہہ دے کہ انی صائم میں روزہ دار ہوں خواہ داعی کے یہاں جائے یا نہ جائے۔

2087Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

عن أم هانئ رضي الله عنها قالت : لما كان يوم الفتح فتح مكة جاءت فاطمة فجلست على يسار رسول الله صلى الله عليه و سلم وأم هانئ عن يمينه فجاءت الوليدة بإناء فيه شراب فناولته فشرب منه ثم ناوله أم هانئ فشربت منه فقالت : يا رسول الله لقد أفطرت وكنت صائمة فقال لها : أكنت تقضين شيئا ؟ قالت : لا . قال : فلا يضرك إن كان تطوعا . رواه أبو داود والترمذي والدارمي وفي رواية لأحمد والترمذي نحوه وفيه فقالت : يا رسول الله أما إني كنت صائمة فقال : الصائم أمير نفسه إن شاء صام وإن شاء أفطر

حضرت ام ہانی ؓ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو اس دن حضرت فاطمہ ؓ آئیں اور نبی کریم ﷺ کے بائیں طرف بیٹھ گئیں اور ام ہانی ؓ آپ ﷺ کے دائیں طرف بیٹھی ہوئی تھیں اتنے میں ایک لونڈی ایک برتن لے کر آئی جس میں پینے کی کوئی چیز تھی لونڈی نے وہ برتن آنحضرت ﷺ کو دیا آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ پی کر وہ برتن ام ہانی ؓ کو عنایت فرمایا۔ ام ہانی ؓ نے بھی اس میں سے پیا اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں نے افطار کرلیا کیونکہ میں روزے سے تھی آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم نے رمضان کا کوئی قضا یا نذر کا روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں! بلکہ نفل روزہ رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ نفل روزہ تھا تو کوئی حرج نہیں (ابو داؤد، ترمذی، دارمی) ایک اور روایت میں جو احمد اور ترمذی نے اسی کی مانند نقل کیا ہے یہ الفاظ بھی ہیں کہ ام ہانی ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں روزہ سے تھی آپ ﷺ نے فرمایا نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا مالک ہے چاہے روزہ رکھے چاہے افطار کرے۔ تشریح اپنے نفس کا مالک ہے کا مطلب یہ ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا خود مختار ہے کہ ابتدا چاہے تو روزہ رکھے یعنی روزہ کی نیت کرے، چاہے افطار کرے یعنی روزہ نہ رکھنے کو اختیار کرے، یا پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نفل روزہ رکھنے والا روزہ رکھنے کے بعد بھی مختار ہے کہ چاہے تو اپنا روزہ پورا کرے چاہے تو توڑ ڈالے، اس صورت میں اس کی تاویل یہ ہوگی کہ نفل روزہ دار کو اس بات کا اختیار ہے کہ اگر اس کے پیش نظر کوئی مصلحت ہو مثلا کوئی شخص اس کی ضیافت کرے یا کسی جماعت کے پاس جائے جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اگر روزہ توڑ کر ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک نہیں ہوگا تو لوگ وحشت و پریشانی میں مبتلا ہوجائیں گے تو اس صورت میں وہ روزہ توڑ سکتا ہے تاکہ آپس میں میل ملاپ اور محبت و الفت کی فضا برقرار رہے لہٰذا ان الفاظ و معانی سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ نفل روزہ توڑنے کے بعد اس کی قضا ضروری نہیں ہے جب کہ اس کے بعد آنے والی حدیث بڑی وضاحت کے ساتھ قضا کے ضروری ہونے کو ثابت کر رہی ہے۔ ام ہانی ؓ کی اس روایت کے بارے میں محدثین کے ہاں کلام ہے چناچہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد محل بحث ہے اور منذری (رح) نے کہا ہے کہ یہ ثابت نہیں ہے اور اس کی اسناد میں بہت اختلاف ہے۔

2088Mishkaat-al-Masabih

نفل روزہ توڑنے کے سلسلہ میں ضیافت عذر ہے یا نہیں ؟

وعن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : كنت أنا وحفصة صائمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فأكلنا منه فقالت حفصة : يا رسول الله إنا كنا صائمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فأكلنا منه . قال : أقضيا يوما آخر مكانه . رواه الترمذي وذكر جماعة من الحفاظ رووا عن الزهري عن عائشة مرسلا ولم يذكروا فيه عن عروة وهذا أصح ورواه أبو داود عن زميل مولى عروة عن عروة عن عائشة

حضرت زہری (رح) حضرت عروہ (رح) سے اور وہ حضرت عائشہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ایک دن میں اور حفصہ ؓ دونوں روزے سے تھیں کہ ہمارے سامنے کھانا لایا گیا ہمیں اس کو کھانے کی خواہش ہوئی چناچہ ہم نے کھالیا اب ہمارے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بدلہ بطور قضا ایک دن روزہ رکھو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور حفاظ حدیث کی ایک ایسی جماعت کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس روایت کو زہری سے اور زہری نے حضرت عائشہ ؓ سے بطریق ارسال نقل کیا ہے اس میں عروہ کا واسطہ مذکور نہیں ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ نیز اس روایت کو امام ابوداؤد نے زمیل (رح) سے نقل کیا ہے جو حضرت عروہ کے آزاد کردہ غلام تھے زمیل نے عروہ سے اور عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے۔ تشریح چونکہ حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا نفل روزہ توڑ دے تو اس کی قضا ضروری ہے اس لئے ان حضرات کی دلیل یہی حدیث ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ حکم کہ اس کے بدلہ بطور قضا ایک دن روزہ رکھو بطور وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن شوافع کے ہاں چونکہ نفل روزہ کی قضا واجب نہیں ہے اس لئے ان کے نزدیک یہ حکم بطور استحباب ہے۔ روایت کے آخری جزء زہری نے حضرت عائشہ ؓ سے بطریق ارسال نقل کیا ہے لفظ ارسال اسناد سے سقوط راوی کے معنی میں ہے جس کا مطلب ہے انقطاع واسطہ یعنی پہلی روایت کے سلسلہ اسناد میں زہری (رح) اور عائشہ ؓ کے درمیان عروہ کا جو واسطہ تھا وہ اس روایت میں نہیں ہے اگرچہ یہ اصطلاح اس معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے مگر مشہور یہی ہے کہ مرسل اس حدیث کو کہتے ہیں کہ جسے تابعی صحابی کا واسطہ ذکر کئے بغیر نقل کرے۔

2089Mishkaat-al-Masabih

روزہ دار کے سامنے کھانا

وعن أم عمارة بنت كعب أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها فدعت له بطعام فقال لها : كلي . فقالت : إني صائمة . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي

حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کے لئے کھانا منگوایا آپ ﷺ نے ام عمارہ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ انہوں نے عرض کیا کہ میں روزہ سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے (اور اس کا دل کھانے کی خواہش کرتا ہے جس کی بناء پر اس کے لئے روزہ بڑا سکت ہوجاتا ہے) تو جب تک کھانے والے کھانے سے فارغ نہیں ہوجاتے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)

2090Mishkaat-al-Masabih

روزہ دار کے سامنے کھانا

عن بريدة قال : دخل بلال على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يتغدى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغداء يا بلال . قال : إني صائم يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نأكل رزقنا وفضل رزق بلال في الجنة أشعرت يا بلال أن الصائم نسبح عظامه وتستغفر له الملائكة ما أكل عنده ؟ . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بلال ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ صبح کا کھانا کھا رہے تھے۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ بلال آؤ کھانا کھاؤ! حضرت بلال نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں روزہ سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا ہم تو اپنا رزق یہاں کھا رہے ہیں اور بلال ؓ کا بہترین رزق جنت میں ہے بلال کیا تم جانتے ہو کہ جب روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے تو روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں۔ اور فرشتے اس کے لئے بخشش چاہتے ہیں جب تک کہ اس کے سامنے کھایا جاتا ہے۔ (بیہقی)

2091Mishkaat-al-Masabih

لیلۃ القدر

اس باب میں لیلۃ القدر کی عظمت و فضیلت اور ان اوقات کا بیان ہوگا جن میں اس مقدس رات کے آنے کی قوی امید ہوتی ہے یہ شب لیلۃ القدر اس لئے کہلاتی ہے کہ بندوں کے رزق ان کی زندگی و موت اور وہ واقعات و امور جو پورے سال رونما ہونے والے ہوتے ہیں وہ اسی رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس شب کے عظیم القدر ہونے کی وجہ سے اس کا نام لیلۃ القدر ہے۔ اس شب کے تعین میں بہت زیادہ اقوال ہیں، اکثر احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ مقدس رات رمضان کے مبارک ماہ میں آتی ہے خصوصا رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات اور بالخصوص ستائیسویں شب لیلۃ القدر ہوتی ہے چناچہ اکثر علماء ستائیسویں شب ہی کو لیلۃ القدر مانتے ہیں۔ لیلۃ القدر کی سعادت خاص طور پر امت محمدیہ کے لئے مخصوص ہوئی ہے تاکہ اس امت کے لوگ اپنی چھوٹی عمروں کے باوجود بہت زیادہ پائیں چناچہ اس بارے میں ایک روایت بھی منقول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو پچھلی امتوں کے لوگوں کی عمروں کی زیادتی کے بارے میں معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے افسوس کا اظہار کیا کہ میری امت کے لوگ اپنی ان چھوٹی عمروں میں ان لوگوں کی طرح زیادہ نیک کام نہیں کرسکتے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے واسطہ سے پوری امت کو لیلۃ القدر کی عظیم سعادت عطا فرمائی جو ہزار مہینہ سے بہتر ہے۔ ایک اور روایت میں جو ابن ابی حاتم سے منقول ہے بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار اشخاص کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسی برس تک اللہ رب العزت کی عبادت کی اور ان کا ایک لمحہ بھی اللہ کی نافرمانی میں نہیں گزرا اور وہ اشخاص تھے۔ (١) حضرت ایوب (علیہ السلام) (٢) حضرت زکریا (علیہ السلام) (٣) حضرت حزقیل (علیہ السلام) (٤) حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام)۔ یہ سن کر صحابہ کرام بہت زیادہ تعجب کرنے لگے اور (متمنی ہوئے کہ کاش ہماری بھی اتنی ہی عمریں ہوتیں کہ ہم بھی اتنی طویل مدت تک اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے) پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اے محمد! آپ کی امت ان لوگوں کی اسی اسی برس کی عبادت پر متعجب ہوتی ہے (تو سنئے کہ اللہ تعالیٰ نے خیروبھلائی عطا فرمائی چناچہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے آیت (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر) پوری سورت پڑھی جس کے ذریعہ یہ عظیم بشارت عطا فرمائی گئی ہے کہ لیلۃ القدر جو آپ ﷺ کو اور آپ کی پوری امت کو عطا کی گئی ہے اس چیز سے بہتر ہے جس کے لئے آپ ﷺ اور آپ کی امت متعجب و متمنی ہیں اس عظیم سعادت و خوش بختی پر سرکار دو عالم ﷺ بہت زیادہ خوش ہوئے۔ اس موقع پر یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ ہزار مہینہ کے تراسی برس اور چار مہینے ہوتے ہیں اسی لئے فرمایا کہ آیت (لیلۃ القدر خیر من الف شہر) یعنی لیلۃ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے کہ جس سے تراسی برس اور چار مہینے ہوئے۔ لیلۃ القدر میں اللہ رب العزت کی رحمت خاص کی تجلی آسمان دنیا پر غروب آفتاب کے وقت سے صبح تک ہوتی ہے۔ اس شب میں ملائکہ اور ارواح طیبہ صلحاء اور عابدین سے ملاقات کے لئے اترتی ہیں اسی مقدس رات میں قرآن کریم کا نزول شروع ہوا، یہی وہ شب ہے جس میں ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ اسی شب میں آدم (علیہ السلام) کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا اسی شب میں جنت میں درخت لگائے گئے اس شب میں عبادت کا ثواب دوسرے اوقات کی عبادت سے کہیں زیاہ ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقدس شب ہے جس میں بندہ کی زبان و قلب سے نکلی ہوئی دعا بارگاہ رب العزت میں قبولیت سے نوازی جاتی ہے۔ شریعت نے واضح طور پر کسی شب کو متعین کر کے نہیں بتایا ہے کہ لیلۃ القدر فلاں شب ہے گویا اس شب کو پوشیدہ رکھا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر واضح طور پر اس شب کی نشان دہی کردی جاتی تو عبادات و طاعات کی طرف لوگوں کا میلان نہ رہتا بلکہ صرف اسی شب میں عبادت کر کے یہ سمجھ لیتے کہ ہم نے پورے سال کی عبادت سے بھی زیادہ ثواب حاصل کرلیا اس لئے اس شب کو متعین نہیں کیا گیا تاکہ لوگ عبادات و طاعات میں ہمہ وقت مصروف رہیں صرف اسی شب پر اعتماد کر کے نہ بیٹھ جائیں۔ علماء لکھتے ہیں کہ جو شخص پورے سال عبادت الٰہی کے لئے شب بیداری کو اختیار کرے گا تو انشاء اللہ اسے شب قدر کی سعادت ضرور حاصل ہوگی اسی لئے کہا گیا ہے من لم یعرف قدر اللیلۃ یعرف قدر لیلۃ القدر (جس شخص نے رات کی قدر نہ پہچانی یعنی عبادت الٰہی کے لئے شب بیداری نہیں کی وہ لیلۃ القدر کی عظمت وسعادت کو کیا پہچان پائیں گے؟ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس رات کی کچھ ایسی علامتیں ہیں جو احادیث و آثار سے منقول ہیں اور بعض علامتیں اہل کشف نے پہچانی ہیں چناچہ طبری نے ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ اس رات میں درخت بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور زمین پر گرپڑتے ہیں اور پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتے ہیں اسی طرح اس رات میں ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس شب کے تعین کے سلسلہ میں ان چیزوں کا دیکھنا شرط نہیں ہے کیونکہ اکثر لوگ اس مقدس شب کو پالیتے ہیں مگر نہ تو وہ درختوں کو سجدہ ریز دیکھتے ہیں اور نہ تمام چیزیں سجدہ کرتی نظر آتی ہیں اس لئے ہوسکتا ہے ایک ہی جگہ دو آدمی موجود ہوں دونوں شب قدر کو پالیں ان میں سے ایک کو علامتیں نظر آئیں مگر دوسرے کو ان میں سے کچھ بھی محسوس نہ ہو بہرکیف سب سے بڑی علامت تو یہ ہے کہ اس مقدس رات میں عبادت الٰہی و ذکر و مناجات خضوع و خشوع اور حضور و اخلاص کی توفیق حاصل ہوجائے تو جانے کہ یہ عظیم سعادت حاصل ہوگئی۔ اس رات میں شب بیداری کے سلسلہ میں صحیح مسئلہ یہ ہے کہ رات کے اکثر حصہ میں عبادت الٰہی کے لئے جاگتے رہنا معتبر ہے ہاں اگر کوئی شخص پوری شب جاگتا رہے تو افضل ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے کسی مرض و تکلیف میں مبتلا نہ ہوجائے یا فرائض و سنن مؤ کدہ میں نقص و خلل واقع ہوجانے کا خوف نہ ہو، ورنہ تو رات کے جس قدر حصے میں جاگنے اور عبادت و ذکر میں مشغول رہنے کی توفیق حاصل ہوجائے انشاء اللہ مقصد حاصل ہوجائے گا۔ (ولیس للانسان الا ماسعی وکان سعیہ مشکورا۔ رزقنا اللہ۔

2092Mishkaat-al-Masabih

شب قدر کب آتی ہے

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان . رواه البخاري

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری) تشریح رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں سے مراد ہیں اکیسویں وتئیسویں شب ستائیسویں شب اور انتیسویں شب۔

2093Mishkaat-al-Masabih

شب قدر کب آتی ہے

وعن ابن عمر قال : إن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أروا ليلة القدر في المنام في السبع الأواخر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الأواخر

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے کتنے ہی صحابہ کو خواب میں شب قدر (رمضان کی آخری سات راتوں میں دکھلائی گئی چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں یہ بات دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب آخری سات راتوں پر متفق ہیں لہٰذا جو شخص شب قدر پانا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے (بخاری ومسلم) تشریح احتمال ہے کہ آخری سات راتوں سے وہ راتیں مراد ہیں جو بیس کے فورا بعد ہیں یعنی اکیسویں شب سے ستائیسویں شب تک یا سب سے آخری سات راتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں یعنی تئیسویں شب سے انتیسویں شب تک اور چونکہ انتیسویں تاریخ یقینی ہوتی ہے اس لئے اسی کے مطابق حساب کیا جائے گا اس بارے میں آخری احتمال یعنی یہ کہ تئیسویں شب سے انتیسویں شب تک مراد ہو زیادہ صحیح ہے۔

2094Mishkaat-al-Masabih

شب قدر کب آتی ہے

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : التمسوها في العشر الأواخر من رمضان ليلة القدر : في تاسعة تبقى في سابعة تبقى في خامسة تبقى . رواه البخاري

حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو یعنی لیلۃ القدر کو تلاش کرو باقی ماندہ نویں شب میں (کہ وہ اکیسویں شب ہے) باقی ماندہ ساتویں شب میں (کہ وہ تئیسویں شب ہے) اور باقی ماندہ پانچویں شب میں (کہ وہ پچیسویں شب ہے۔ (بخاری) تشریح لیلۃ القدر کو پانے کے لئے رمضان کے آخری عشرہ کی کچھ راتوں کو یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ ان راتوں میں عبادت اور ذکر و تلاوت میں مشغولیت اختیار کی جائے تاکہ لیلۃ القدر ان میں سے جس شب بھی آئے اس کی سعادت حاصل ہوجائے۔ حدیث میں راتوں کی ترتیب کے سلسلہ میں جو اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے اس کی وضاحت ترجمہ میں بین القوسین کی گئی ہے کہ اس ترتیب سے مراد اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں شب ہے لیکن اس سلسلہ میں حدیث میں ذکر کردہ راتوں کو اس طرح آخر سے بھی شمار کیا جاسکتا ہے کہ لیلۃ القدر کو تلاش کرو بیسویں شب کے بعد نویں رات میں کہ وہ انتیسویں شب ہے اور بیسویں شب کے بعد ساتویں رات میں وہ ستائیسویں رات ہے اور بیسویں شب کے بعد پانچویں رات میں کہ وہ پچیسویں شب ہے، یہ وضاحت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے لیکن علامہ یحییٰ فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو راتیں ذکر کی گئی ہیں ان سے مراد ہے یا تئیسویں شب، چوبیسویں شب اور چھبیسویں شب۔

2095Mishkaat-al-Masabih

شب قدر کب آتی ہے

وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم اعتكف العشر الأول من رمضان ثم اعتكف العشر الأوسط في قبة تركية ثم أطلع رأسه . فقال : إني اعتكفت العشر الأول ألتمس هذه الليلة ثم اعتكفت العشر الأوسط ثم أتيت فقيل لي إنها في العشر الأواخر فمن أعتكف معي فليعتكف العشر الأواخر فقد أريت هذه الليلة ثم أنسيتها وقد رأيتني أسجد في ماء وطين من صبيحتها فالتمسوها في العشر الأواخر والتمسوها في كل وتر . قال : فمطرت السماء تلك الليلة وكان المسجد على عريش فوكف المسجد فبصرت عيناي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى جبهته أثر الماء والطين والماء من صبيحة إحدى وعشرين . متفق عليه في المعنى واللفظ لمسلم إلى قوله : فقيل لي : إنها في العشر الأواخر . والباقي للبخاريوفي رواية عبد الله بن أنيس قال : ليلة ثلاث وعشرين . رواه مسلم

حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا پھر آپ ﷺ نے ایک ترکی خیمہ کے اندر درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا اس کے بعد آپ نے اپنا سر مبارک خیمہ سے باہر نکال کر فرمایا کہ میں نے شب قدر کو تلاش کرنے کے لئے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا پھر میں نے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا، اس کے بعد میرے پاس فرشتہ آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرہ میں آتی ہے لہٰذا جو شخص میرے ساتھ اعتکاف کرنا چاہے اسے چاہئے کہ وہ آخری عشرہ میں اعتکاف کرے اور مجھے خواب میں شب قدر کو متعین کر کے بتایا گیا مگر بعد میں اسے میرے ذہن سے محو کردیا گیا یعنی حضرت جبرائیل نے مجھے بتایا کہ فلاں رات شب قدر ہے مگر پھر میں بھول گیا کہ انہوں نے کس رات کا تعین کیا تھا اور میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس کی صبح یعنی لیلۃ القدر کی صبح کو کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں اور چونکہ میں یہ بھول گیا ہوں کہ وہ کون سی رات تھی لہٰذا اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو نیز لیلۃ القدر کو طاق راتوں میں یعنی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ (جس رات کو آنحضرت ﷺ نے خواب دیکھا تھا) اس رات میں بارش ہوئی تھی اور چونکہ مسجد کی چھت کھجور کی شاخوں کی بنی ہوئی تھی اس لئے مسجد ٹپکی چناچہ میری آنکھوں نے دیکھا کہ اکیسویں شب کی صبح کو آنحضرت ﷺ کی پیشانی پر پانی اور مٹی کا نشان تھا۔ اس حدیث کے نقل کے سلسلہ میں معنوی طور پر بخاری و مسلم دونوں متفق ہیں البتہ فقیل لی انہا فی العشر الا واخر تک اس روایت کے الفاظ تو مسلم نے نقل کئے ہیں اور روایت کے باقی الفاظ بخاری نے نقل کئے ہیں نیز ایک دوسری روایت کے باقی الفاظ بخاری نے نقل کئے ہیں نیز ایک دوسری روایت میں جو عبداللہ بن انیس ؓ سے منقول ہے اکیسویں شب کی صبح کی بجائے تئیسویں شب کی صبح کے الفاظ ہیں اس روایت کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ تشریح ترکی خیمہ، خیمہ کی ایک قسم کا نام تھا جو نمدہ سے بنتا تھا اور سائز میں چھوٹا ہوتا تھا اس خیمہ کو فارسی میں خرگاہ کہتے ہیں روایت کے آخر میں لفظ من صبیحۃ من معنی کے اعتبار سے فی کی جگہ استعمال کیا گیا ہے اور بصرت کا متعلق ہے۔ بہرکیف روایت کے آخر میں راوی نے کچھ بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس رات میں لیلۃ القدر کو خواب میں دیکھا تھا تو آپ ﷺ نے خواب میں یہ بھی دیکھا تھا کہ میں لیلۃ القدر کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کرتا ہوں چناچہ اسی رات میں بارش ہوئی تھیں آپ ﷺ نے صبح کو جب مسجد میں نماز پڑھی تو اس حال میں سجدہ کیا کہ مسجد کی زمین پر چھت ٹپکنے کی وجہ سے پانی اور گارا تھا جس کا نشان آپ ﷺ کی پیشانی پر نمایا تھا گویا راوی نے اس بارش کو آپ ﷺ کے خواب کی رات کی علامت قرار دیا اور چونکہ یہ واقعہ اکیسویں یا تئیسویں شب کا تھا اس لئے راوی نے اس علامت کے ذریعہ معلوم کیا کہ لیلۃ القدر اکیسویں یا تئیسویں شب ہے کیونکہ اسی شب میں آپ ﷺ نے لیلۃ القدر کو دیکھا۔

2096Mishkaat-al-Masabih

شب قدر کی ایک علامت

وعن زر بن حبيش قال : سألت أبي بن كعب فقلت إن أخاك ابن مسعود يقول : من يقم الحول يصب ليلة القدر . فقال رحمه الله أراد أن لا يتكل الناس أما إنه قد علم أنها في رمضان وأنها في العشر الأواخر وأنها ليلة سبع وعشرين ثم حلف لا يستثني أنها ليلة سبع وعشرين . فقلت : بأي شيء تقول ذلك يا أبا المنذر ؟ قال : بالعلامة أو بالآية التي أخبرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أنها تطلع يومئذ لا شعاع لها . رواه مسلم

حضرت زر بن حبیش (رح) (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے (دینی) بھائی حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو شخص تمام سال عبادت کے لئے شب بیداری کرے تو وہ شب قدر کو پالے گا؟ حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ابن مسعود ؓ پر رحم کرے انہوں نے یہ بات اس بنا پر کہی ہے کہ لوگ بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں ورنہ تو جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے ابن مسعود ؓ جانتے تھے کہ شب قدر رمضان میں آتی ہے اور رمضان کے آخری عشرہ کی ایک رات شب قدر ہوتی ہے اور وہ رات ستائیسویں شب ہے پھر ابن مسعود ؓ نے ایسی قسم کھائی جس کے ساتھ انشاء اللہ نہ کہا کہ بلاشبہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب ہے میں نے عرض کیا ابومنذر! (یہ ابی بن کعب کی کنیت ہے) آپ یہ بات کس دلیل کی بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو ہمیں رسول کریم ﷺ نے بتائی ہے کہ اس رات کی صبح آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس میں روشنی نہیں ہوتی چناچہ میں نے دیکھا ہے کہ ستائیسویں شب کی صبح آفتاب طلوع ہوا تو اس میں روشنی نہیں تھی۔ (مسلم) تشریح ان لایتکل الناس (تاکہ لوگ بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں) کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ قول صحیح ہے کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب ہے اور ظن غالب کے اعتبار سے اس پر فتویٰ بھی ہے مگر ابن مسعود ؓ نے اس کو متعین اس لئے نہیں کیا کہ کہیں لوگ اس قول پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں اور یہ جان کر کہ لیلۃ القدر ستائیسویں شب ہی ہے صرف اسی رات میں عبادت کے لئے شب بیداری کریں اور بقیہ راتوں کی شب بیداری ترک کردیں چناچہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ راتوں میں لوگوں کو شب بیداری کی طرف راغب کرنے کے لئے کہا کہ لیلۃ القدر سال کی کسی بھی شب میں آسکتی ہے۔ ستائیسویں شب کو لیلۃ القدر قرار دینے کے سلسلہ میں ابی بن کعب ؓ کا قسم کھانا ظن غالب کی بنا پر تھا اسی لئے انہوں نے قسم کھاتے ہوئے انشاء اللہ نہیں کہا، کیونکہ اگر کوئی شخص قسم کھاتے ہوئے انشاء اللہ بھی کہہ دے تو نہ صرف یہ کہ قسم جزماً (یقینی) نہیں ہوتی بلکہ شرعی طور پر وہ منعقد نہیں ہوتی، لہٰذا حضرت ابی ابن کعب ؓ نے قسم کھائی اور انشاء اللہ نہیں کہا تاکہ قسم جزماً ہو۔ اس حدیث میں شب قدر کی ایک علامت بتائی گئی ہے اور وہ یہ کہ جس رات میں شب قدر ہوتی ہے اس کی صبح سورج جب طلوع ہوتا ہے تو کچھ دیر اس میں شعاعیں نہیں ہوتیں چناچہ بعض ارباب نظر فرماتے ہیں کہ یہ علامت ایسی ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

2097Mishkaat-al-Masabih

رمضان کے آخری عشرہ میں مجاہدہ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيره . رواه مسلم

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں جس قدر ریاضت و مجاہدہ کرتے اتنا مجاہدہ اور کسی مہینہ میں نہیں کرتے تھے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت بہت زیادہ کرتے تھے کیونکہ اسی عشرہ میں لیلۃ القدر کی عظیم سعادت حاصل ہوتی ہے۔

2098Mishkaat-al-Masabih

رمضان کے آخری عشرہ میں مجاہدہ

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل العشر شد مئزره وأحيا ليله وأيقظ أهله

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھتے اور رات کو زندہ کرتے اور اپنے اہل و عیال کو جگاتے۔ (بخاری ومسلم) تشریح تہبند مضبوط باندھتے، یہ دراصل اس بات سے کنایہ ہے کہ آپ ﷺ آخری عشرہ میں اپنی عادت اور اپنے معمول سے بھی بہت زیادہ عبادت و مجاہدہ کیا کرتے تھے اس بات سے بھی کنایہ ہوسکتا ہے کہ اس عشرہ میں آپ ﷺ اپنی عورتوں سے الگ رہتے تھے یعنی صحبت و مباشرت سے اجتناب فرماتے تھے۔ رات کو زندہ کرنے، کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ رات کے اکثر حصہ میں یا پوری رات نماز، ذکر اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے۔ اس موقع پر یہ بات ملحوظ رہے کہ ایک روایت میں جو یہ منقول ہے کہ انہ (علیہ السلام) ما سہر جمیع اللیل کلہ (آنحضرت ﷺ پوری رات شب بیداری نہیں فرماتے تھے) تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ اکثر پوری رات شب بیداری نہیں فرماتے تھے لہٰذا ایک دو رات یا دس راتیں پوری طرح شب بیداری میں گزار دینا اس روایت کے منافی نہیں ہے۔ اور اپنے اہل و عیال کو جگاتے، یعنی آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات صاحبزادیوں لونڈیوں اور غلاموں کو آخری عشرہ کی بعض راتوں میں شب بیداری کی تلقین فرماتے اور انہیں عبادت الٰہی میں مشغول رکھتے تاکہ لیلۃ القدر کی سعادت انہیں بھی حاصل ہوجائے۔

2099Mishkaat-al-Masabih

لیلۃ القدر کی دعا

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قلت : يا رسول الله أرأيت إن علمت أي ليلة القدر ما أقول فيها ؟ قال : قولي : اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني . رواه أحمد وابن ماجه والترمذي وصححه

حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اگر میں شب قدر کو پا لوں، تو اس میں کیا دعا مانگوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ دعا مانگو، اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لہٰذا تو مجھے معاف فرما دے۔ (احمد، ابن ماجہ، ترمذی) تشریح علماء لکھتے ہیں کہ یہ دعا دنیا اور آخرت کی تمام خیر و بھلائی کے لئے جامع ہے کیونکہ حق تعالیٰ کی طرف سے بندہ کے معاملہ میں عفو و درگزر اور مغفرت و بخشش ہی وہ سب سے عظیم سعادت ہے جو ہر خیر و بھلائی کا نقطہ عروج ہے چناچہ ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ بندہ کی طرف سے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی سوال طلب عافیت و بخشش سے افضل نہیں ہے۔

2100Mishkaat-al-Masabih

شب قدر کی راتیں

وعن أبي بكرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : التمسوها يعني ليلة القدر في تسع بقين أو في سبع بقين أو في خمس بقين أو ثلاث أو آخر ليلة . رواه الترمذي

حضرت ابوبکر ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو (رمضان کی) باقی ماندہ نویں (یعنی انتیسویں شب میں) تلاش کرو باقی ماندہ ساتویں رات (یعنی ستائیسویں شب) میں یا باقی ماندہ پانچویں رات (یعنی پچیسویں شب میں) یا باقی ماندہ تیسری رات (تئیسویں شب) میں اور یا آخری شب میں (ترمذی)