وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تختصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمام دنوں میں صرف جمعہ کی رات کو عبادت الٰہی کے لئے مخصوص نہ کرو اسی طرح تمام دنوں میں صرف جمعہ کے دن کو روزہ رکھنے کے لئے مخصوص نہ کرو ہاں اگر تم میں سے کسی کے روزہ کے درمیان کہ جو وہ پہلے سے رکھتا چلا آ رہا ہے جمعہ پڑجائے تو پھر صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مسلم)
تشریح
یہود نے ہفتہ کے دن کو عبادت کے لئے مخصوص کرلیا اور وہ صرف اسی دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اسی طرح عیسائیوں نے اتوار کے دن کو عبادت کے لئے مخصوص کرلیا اور صرف اسی دن کی بےانتہا تعظیم کرتے ہیں اور اسی دن مشغول رہتے ہیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو اس غلط طریقہ سے روک دیا کہ تم بھی ان دونوں فرقوں کی طرح صرف جمعہ کی شب اور جمعہ کے دن کی جو اہمیت و فضیلت بیان کی ہے وہ تو برحق ہے اور اس دن کی اتنی ہی اہمیت و عظمت پیش نظر رہنی چاہئے اس میں کسی فرقہ کی مشابہت ہی کیوں نہ ہو مگر اپنی طرف سے اس کی تعظیم و تخصیص میں اضافہ نہ کرو یا پھر اس کی مخالفت کا مقصد یہ ہے کہ بندہ کو چاہئے کہ وہ تمام اوقات میں عبادات و طاعات میں مشغول رہے اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار رہے کسی خاص وقت کو عبادت کے لئے مخصوص کرلینا اور بقیہ اوقات میں معطل پڑے رہنا قطعا کار آمد نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ الا ان یکون فی صوم الخ کا مطلب یہ ہے کہ مثلا کسی شخص کا معمول تھا کہ وہ ہر دسویں گیارہویں روزہ رکھتا تھا اور اتفاق سے اسی دن جمعہ آپڑا یا کسی شخص نے نذر مانی کہ میں فلاں تاریخ کو روزہ رکھوں گا اور وہ تاریخ جمعہ کو پڑگئی تو ان اعذار کی وجہ سے صرف جمعہ کے روز روزہ رکھنا ممنوع نہیں ہوگا۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ نماز تہجد کے لئے جمعہ کی شب کو مخصوص کردینے کی اس حدیث میں صراحت کے ساتھ ممانعت ہے چناچہ اس مسئلہ پر تمام علماء کا اتفاق ہے، نیز علماء نے صلوۃ الرغائب کو بدعت اور مکروہ قرار دینے کے سلسلے میں اس حدیث کو بطور دلیل اختیار کیا ہے صلوۃ الرغائب وہ نماز کہلاتی تھی جو بطور خاص ماہ رجب کے پہلے جمعہ کی شب میں پڑھی جاتی تھی چناچہ علماء نے اس نماز کی بدعت و برائی اور اس نماز کو اختراع کرنے والے کی گمراہی و ضلالت کی وضاحت کے لئے مستقل طور پر بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ مولا نا اسحق (رح) فرمایا کرتے تھے کہ اس حدیث کے سلسلے میں شارحین نے جو مذکورہ بالا توجیہات بیان کی ہیں تو یہ ان حضرات کے مسلک کے مطابق ہیں جن کے نزدیک صرف جمعہ کا روزہ رکھنا مکروہ ہے مگر حنفی مسلک کے مطابق اس حدیث کی ان توجیہا کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حنفیہ کے ہاں صرف جمعہ کے روزہ رکھنا مکروہ نہیں ہے چناچہ فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ صرف جمعہ کے روز رکھنا جائز ہے بلکہ درمختار میں تو اسے مستحب بیان کیا گیا ہے اس سلسلہ میں حنفیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے اور دوسری فصل میں آئے گی لہٰذا ہوسکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث ان تمام احادیث کے لئے ناسخ ہو جن سے صرف جمعہ کے روز روزہ رکھنا ممنوع معلوم ہوتا ہے۔
خدا کی راہ میں ایک دن نفل روزہ رکھنے کا اجر
وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا
حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد کے وقت یا یہ کہ خالص اللہ رب العزت کے لئے) ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کا منہ یعنی اس کی ذات کو (دوزخ کی) آگ سے ستر برس کی مسافت کے بقدر دور کر دے گا۔ (بخاری ومسلم)
اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عبد الله ألم أخبر أنك تصوم النهار وتقوم الليل ؟ فقلت : بلى يا رسول الله . قال : فلا تفعل صم وأفطر وقم ونم فإن لجسدك عليك حقا وإن لعينك عليك حقا وإن لزوجك عليك حقا وإن لزورك عليك حقا . لا صام من صام الدهر . صوم ثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر كله . صم كل شهر ثلاثة أيام واقرأ القرآن في كل شهر . قلت : إني أطيق أكثر من ذلك . قال : صم أفضل الصوم صوم داود : صيام يوم وإفطار يوم . واقرأ في كل سبع ليال مرة ولا تزد على ذلك
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عبداللہ کیا مجھے یہ اطلاع نہیں ملی (یعنی مجھے یہ معلوم ہوا ہے) کہ تم (روزانہ) دن میں تو روزے رکھتے ہو اور (ہر رات میں) پوری شب اللہ کی عبادت اور ذکر و تلاوت میں مشغول رہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو (بلکہ) روزہ بھی رکھو اور بغیر روزہ بھی رہو، رات میں عبادت الٰہی بھی کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے (لہٰذا اپنے بدن کو زیادہ مشقت اور ریاضت میں مبتلا نہ کرو تاکہ بیماری یا ہلاکت میں نہ پڑجاؤ) تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے (اس لئے رات میں سویا بھی کرو تاکہ آنکھیں آرام و سکون پائیں) تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے (اس لئے اس کے شب باشی اور صحبت و مباشرت کرو) اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے، (لہٰذا ان کے ساتھ کلام و گفتگو کرو، ان کی خاطر و مہمانداری کرو اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک رہو) جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ نہیں رکھا (البتہ) ہر مہینہ میں تین دن کے روزے ہمیشہ کے روزہ کے برابر ہیں لہٰذا ہر مہینہ میں تین دن (یعنی ایام بیض کے یا مطلقاً کسی بھی تین دن کے) روزے رکھ لیا کرو اور اسی طرح ہر مہینہ میں قرآن پڑھا کرو (یعنی ایک مہینہ میں ایک قرآن ختم کرلیا کرو) میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی ہمت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا (تو پھر) بہترین روزہ جو روزہ داؤد ہے رکھ لیا کرو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) ایک دن تو روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرو اور اس میں اضافہ نہ کرو (یعنی نفل روزے رکھنے اور قرآن شریف ختم کرنے کی مذکورہ بالا تعداد و مقدار میں زیادتی نہ کرو) (بخاری ومسلم)
تشریح
شریعت نے اعمال میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے پر بڑا زور دیا ہے چناچہ نفل عبادات اور اعمال میں نہ اتنی کمی و کوتاہی کرنی چاہئے جس سے روحانی بالیدگی اور ترقی میں اضمحلال اور درجات عالیہ کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوجائے اور نہ اتنی زیادتی کرنی چاہئے جس سے جسمانی قوت و طاقت بالکل ہی پژمردہ ہوجائے اور دنیاوی مباح امور میں تعطل رونما ہوجائے اس لئے آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کو منع فرمایا کہ نہ تو اتنے زیادہ روزے رکھو اور نہ اتنی زیادہ شب بیداری کرو تاکہ اس کی وجہ سے دوسری ضروری اور فرض عبادتوں میں خلل واقع نہ ہو اور نہ دوسرے انسانی و معاشرتی حقوق پس پشت پڑجائیں ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے سے ہمیشہ کے روزے کا ثواب اس لئے لکھا جاتا ہے کہ ہر نیکی کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں جیسا کہ کئی موقعوں پر بتایا جا چکا ہے لہٰذا اس حساب سے تین روزے باعتبار ثواب اور اجزاء کے تیس روزے کے برابر ہوئے اور مہینہ میں تین روزے رکھنے والا گویا پورے مہینہ روزہ سے رہا۔
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم الاثنين والخميس . رواه الترمذي والنسائي
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ پیر اور جمعرات کے دن نفل روزے رکھا کرتے تھے۔ (ترمذی نسائی)
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم . رواه الترمذي
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عمل پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل پیش کئے جائیں تو میں روزہ سے ہوں۔ (ترمذی)
تشریح
بندوں کے جو بھی اعمال ہوتے ہیں ملائکہ ہر صبح و شام اوپر لے جاتے ہیں اور پھر وہ بارگاہ رب العزت میں ان دو دنوں میں پیش ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس وضاحت کے پیش نظر اس حدیث اور اس حدیث میں کوئی تعارض باقی نہیں رہا جس سے ثابت ہوا تھا کہ بندوں کے صبح کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے اور رات کے اعمال صبح کے اعمال سے پہلے (ہر روز) اوپر لے جائے جاتے ہیں یا پھر یہ کہا جائے گا کہ روزانہ ہر عمل تفصیلی طور پر پیش کیا جاتا ہے اور پھر ان دو دونوں میں تمام اعمال اجمالی طور پر پیش ہوتے ہیں۔
وعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر إذا صمت من الشهر ثلاثة أيام فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة . رواه الترمذي والنسائي
حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوذر اگر تم مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا چاہو تو تیرہویں، چودھوں اور پندرہویں کو روزہ رکھو۔ (ترمذی، نسائی)
تشریح
ہر مہینہ میں تین دن نفل روزے رکھنے کے سلسلے میں کئی طریقے منقول ہیں لیکن بہتر اور افضل یہی ہے کہ مذکورہ بالا تین تاریخوں میں کہ انہیں ایام بیض کہا جاتا ہے روزے رکھے جائیں۔
جمعہ کے دن نفل روزے رکھنا جائز ہے
وعن عبد الله بن مسعود قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من غرة كل شهر ثلاثة أيام وقلما كان يفطر يوم الجمعة . رواه الترمذي والنسائي ورواه أبو داود إلى ثلاثة أيام
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کبھی مہینہ کے شروع کے تین دنوں میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور ایسا کم ہوتا تھا کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن روزہ رکھتے ہوں۔ (ترمذی، نسائی) ابوداؤد نے اس روایت کو ثلثۃ ایام تک نقل کیا ہے۔
تشریح
پہلے کچھ احادیث گزری ہیں جن سے معلوم ہوا کہ صرف جمعہ کے روز نفل روزہ نہیں رکھنا چاہئے جب کہ یہ حدیث ان احادیث کے برعکس معلوم ہوتی ہے لہٰذا اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کے ساتھ ایک دن پہلے ایک دن بعد بھی روزہ رکھا کرتے تھے یا یہ کہ صرف جمعہ کے روز روزہ رکھنا آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ وصال کے روزے صرف آپ ﷺ کے لئے مخصوص تھے لیکن یہ تاویل ان حضرات کے مسلک کے پیش نظر ہے جو صرف جمعہ کے روز نفل روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں حنفی مسلک کے مطابق چونکہ جمعہ کے روز، روزہ رکھنا جائز ہے اس لئے حنفیہ کے ہاں اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ جمعہ کے دن روزہ کے جواز کو اسی حدیث سے ثابت کرتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ ہفتہ کے سب دنوں میں روزہ رکھتے تھے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من الشهر السبت والأحد والاثنين ومن الشهر الآخر الثلاثاء والأربعاء والخميس . رواه الترمذي
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کسی مہینہ میں ہفتہ، اتوار، پیر کے دن اور کسی مہینہ میں منگل، بدھ جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
پہلی حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا ذکر تھا اور اس حدیث میں ہفتہ کے بقیہ دنوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ہفتہ کے تمام دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے چونکہ تمام دن اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اس لئے آپ اسے مناسب نہیں سمجھتے تھے کہ بعض دنوں میں روزہ رکھیں اور بعض دنوں میں نہ رکھیں گویا اس بارے میں بھی آپ ﷺ نے عدل و اعتدال کی راہ اختیار کی ہوئی تھی۔
نفل روزوں کی ابتداء پیر یا جمعرات سے
وعن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمرني أن أصوم ثلاثة أيام من كل شهر أولها الاثنين والخميس . رواه أبو داود والنسائي
حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ مجھے حکم فرماتے تھے کہ میں ہر مہینہ میں تین دن نفل روزے رکھوں اور ان کی ابتداء پیر یا جمعرات سے کروں۔ (ابو داؤد، نسائی)
تشریح
لفظ والخمیس میں واؤ، او کے معنی میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھو اس طرح کہ پہلا روزہ تو پیر کے دن اور دوسرا تیسرا روزہ منگل اور بدھ کے دن ہو یا پہلا روزہ جمعرات کا ہو اور بقیہ دو روزے جمعہ اور ہفتہ کے ہوں چناچہ طبرانی میں او یعنی او الخمیس ہی مذکورہ ہے بہرکیف روزہ رکھنے والا اختیار رکھتا ہے کہ ابتداء چاہے پیر کے دن سے کرے یا جمعرات کے دن سے دنوں متبرک ہیں۔
ہمیشہ روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ
وعن مسلم القرشي قال : سألت أو سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيام الدهر فقال : إن لأهلك عليك حقا صم رمضان والذي يليه وكل أربعاء وخميس فإذا أنت قد صمت الدهر كله . رواه أبو داود والترمذي
حضرت مسلم قرشی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یا کسی اور شخص نے رسول کریم ﷺ سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اوپر تمہارے اہل و عیال کا بھی حق ہے اس لئے رمضان میں اور ان ایام میں جو رمضان سے متصل ہیں یعنی شش عید کے روزے رکھو نیز زیادہ سے زیادہ ہر بدھ اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو، اگر تم نے یہ روزے رکھ لئے تو سمجھ کہ ہمیشہ روزے رکھے۔ ( ابوداؤد، ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ روزے رکھنے کی وجہ سے چونکہ ضعف لاحق ہوجاتا ہے جس کی بناء پر نہ صرف یہ کہ ادائیگی حقوق میں تعطل پڑتا ہے بلکہ دوسری عبادات میں بھی نقصان اور حجر واقع ہوتا ہے لہٰذا اسی سبب سے ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے ہاں جس شخص کو اس کی وجہ سے ضعف لاحق ہو تو اس کے لئے ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ نہیں ہوگا بلکہ مستحب ہوگا اسی طرح دائمی روزے کی ممانعت کے سلسلہ میں منقول احادیث میں اور ان مشائخ وسلف کے عمل میں کہ جو ہمیشہ روزہ رکھتے تھے مذکورہ بالا وضاحت سے تطبیق بھی ہوجاتی ہے نیز ہوسکتا ہے کہ یہاں جو حدیث ذکر کی گئی ہے وہ آپ ﷺ نے اس حدیث سے پہلے ارشاد فرمائی ہوگی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے سے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ ایک اور بات سمجھ لیجئے گزشتہ صفحات میں تشریحات کے ضمن میں علامہ ابن ہمام وغیرہ کے وہ اقوال نقل کئے گئے تھے جن میں سے یہ بات ثابت ہوتی تھی کہ ہمیشہ کے روزے رکھنے مستقلاً مکروہ ہیں اور درمختار میں بھی یہی منقول ہے کہ دائمی طور پر روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے جب کہ یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ہمیشہ روزہ رکھنا اسی وقت مکروہ ہے جب کہ روزہ دار کے ضعف ونا تو انی میں مبتلا ہوجانے کا خوف ہو مگر ضعف کا خوف نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں ہوگا، لہٰذا ان تمام اقوال میں مطابقت پیدا کی جائے کہ جن اقوال سے دائمی روزوں کا مطلقاً مکروہ ہونا ثابت ہوتا ہے درحقیقت ان کا محمول بھی خوف ضعف ہے یعنی ان اقوال کا مطلب بھی یہی ہے کہ اگر ضعف کا خوف ہو تو دائمی روزے مکروہ ہوں گے ورنہ نہیں!۔
عرفات میں عرفہ کے دن روزہ مکروہ ہے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة . رواه أبو داود
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ ( ابوداؤد )
تشریح
حج کرنے والا اگر عرفہ کے دن روزہ رکھے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ضعف لاحق ہوجائے جس کی بناء پر عرفات میں دوسرے افعال وارکان میں نقصان وخلل واقع ہو اس لئے ایسے شخص کے لئے عرفہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی لیکن یہ ممانعت تحریمی کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ نہی تنزیہی ہے۔
صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت
وعن عبد الله بن بسر عن أخته الصماء أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تصوموا يوم السبت إلا فيما افترض عليكم فإن لم يجد أحدكم إلا لحاء عنبة أو عود شجرة فليمضغه . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي
حضرت عبداللہ بن بسر ؓ اپنی ہمشیرہ عزیزہ سے جن کا نام صماء ؓ تھا نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ تنہا ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو الاّ یہ کہ اس دن روزہ رکھنا ضروری ہی ہو، لہٰذا اگر تم میں سے کوئی شخص انگور کے درخت کی چھال یا درخت کی لکڑی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو وہی چبائے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
اس دن روزہ رکھنا ضروری ہو، کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ضروری روزہ ہو مثلا فرض یعنی رمضان کا روزہ ہو یا کفارہ یا نذر یا قضا کا ہو، ایسے ہی سنت موکدہ روزہ جیسے عرفہ اور عاشورہ کا روزہ ہو کہ یہ بھی ضروری روزہ ہی کے حکم میں ہیں یا اور کوئی مسنون ومستحب روزہ ہو تو اگر ان میں سے کوئی روزہ ہفتہ کے دن پڑجائے تو اس کو ہفتہ کے دن رکھنا ممنوع نہیں ہوگا۔ فان لم یجد احدکم الخ (اگر کوئی شخص تم میں سے الخ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ہفتہ کے دن روزہ رکھ لیا تو اسے چاہئے کہ اگر اسے کچھ نہ ملے تو انگور کے درخت کی چھال یا درخت کی لکڑی چبا کر افطار کردے اور روزہ توڑڈالے اور اگر اس قسم کی بھی کوئی چیز نہ ملے تو بھی کسی نہ کسی طرح روزہ توڑڈالے۔ ہفتہ کے دن روزہ رکھنا اس لئے منع ہے کہ اس طرح اس دن کی تعظیم لازم آتی ہے اور اس تعظیم میں یہود کی مشابہت ہوتی ہے اگرچہ یہود اس دن روزہ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے ہاں یہ یوم عید ہے تاہم وہ اس دن کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں لیکن اکثر علماء کے نزدیک ہفتہ کے دن کے روزہ کی ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔
خدا کی راہ میں ایک دن روزہ رکھنے کی فضیلت
وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والأرض . رواه الترمذي
حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کی آگ کے درمیان ایک ایسی خندق حائل کر دے گا جو آسمان و زمین کے درمیانی فاصلہ کی برابر ہوگی۔ (ترمذی)
تشریح
فی سبیل اللہ (خدا کی راہ میں) کا یہ مطلب ہے کہ جہاد میں یا حج کے راستہ میں یا عمرہ میں طلب علم کے عرصہ میں اور یا محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دن روزہ رکھے خندق سے مراد ہے بڑی زبردست رکاوٹ اور سخت پردہ و حصار۔
جاڑے میں روزہ رکھنا بلا مشقت ثواب حاصل کرنا ہے
وعن عامر بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغنيمة الباردة الشتاء . رواه أحمد والترمذي وقال : هذا حديث مرسلوذكر حديث أبي هريرة : ما من أيام أحب إلى الله في باب الأضحية
اور حضرت عامر بن مسعود راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ٹھنڈی غنیمت (یعنی بلا تعب و مشقت ثواب پانا) جاڑے میں روزہ رکھنا ہے (احمد ترمذی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ بعض حضرات کے نزدیک حضرت عامر بن مسعود صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ما من ایام احب الی اللہ قربانی کے باب میں ذکر کی جا چکی ہے۔
عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدم المدينة فوجد اليهود صياما يوم عاشوراء فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما هذا اليوم الذي تصومونه ؟ فقالوا : هذا يوم عظيم : أنجى الله فيه موسى وقومه وغرق فرعون وقومه فصامه موسى شكرا فنحن نصومه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فنحن أحق وأولى بموسى منكم فصامه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمر بصيامه
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟ یہودیوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی جماعت کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبویا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے مقابلے میں ہم موسیٰ سے زیادہ قریب اور (ان کی طرف سے بطور شکر روزہ رکھنے کے) زیادہ حقدار ہیں چناچہ آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کو خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ (بخاری ومسلم)
ہفتہ وا تو ار کے دن روزہ رکھنے میں یہود ونصاریٰ کی مخالفت
وعن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم يوم السبت ويوم الأحد أكثر ما يصوم من الأيام ويقول : إنهما يوما عيد للمشركين فأنا أحب أن أخالفهم . رواه أحمد
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ دوسرے دنوں میں روزہ رکھنے کی بہ نسبت ہفتہ و اتوار کے دن زیادہ روزہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ دو دن مشرکین کے لئے عید ہیں کہ جن میں وہ روزہ نہیں رکھتے لہٰذا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ میں ان دنوں میں روزہ رکھ کر ان کی مخالفت کروں۔ (احمد)
تشریح
مشرکین سے مراد یہود و نصاری ہیں اور انہیں مشرک اس لئے فرمایا کہ یہود تو حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے نصاریٰ (عیسائی) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کے لئے منع فرمایا گیا ہے جب کہ یہ حدیث اس کے بالکل برعکس ہے ان دونوں حدیثوں میں تطبیق یہ ہے کہ اس کا تعلق تو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے ہے یعنی یہ آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے اور گزشتہ حدیث کا تعلق صرف امت سے ہے۔ یعنی وہ ممانعت امت کی خصوصیات میں سے ہے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ روزہ سے منع کیا گیا ہے وہ روزہ وہ ہے جو اس دن کی تعظیم کے طور پر رکھا جائے اور پسندیدہ روزہ وہ ہے جو یہود و نصاریٰ کی مخالفت کے پیش نظر رکھا جائے۔
فرضیت رمضان سے قبل عاشوراء کے روزے کی زیادہ تاکید تھی
وعن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بصيام يوم عاشوراء ويحثنا عليه ويتعاهدنا عنده فلما فرض رمضان لم يأمرنا ولم ينهنا عنه ولم يتعاهدنا عنده . رواه مسلم
حضرت جابربن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پہلے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اس کی ترغیب دلاتے تھے اور اس دن کے آنے کے وقت ہماری خبر گیری کرتے تھے یعنی عاشورہ کا دن جب نزدیک آتا تو اس کے روزہ رکھنے کی نصیحت فرمایا کرتے تھے مگر جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نہ آپ ﷺ نے ہمیں اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اور نہ اس سے منع کیا اور نہ ہی اس دن کے آنے کے وقت ہماری خبر گیری کی۔ (مسلم)
تشریح
لفظ یا مرنا مشکوۃ کے اکثر نسخوں میں نا کے بغیر یعنی صرف یامر ہے مگر صحیح مسلم میں یا مرنا ہی منقول ہے۔
وعن حفصة قالت : أربع لم يكن يدعهن النبي صلى الله عليه و سلم : صيام عاشوراء والعشر وثلاثة أيام من كل شهر وركعتان قبل الفجر . رواه النسائي
حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جنہیں رسول کریم ﷺ ترک نہیں فرماتے تھے کیونکہ سنت مؤکدہ ہیں اول یوم عاشورہ کا روزہ، دوم عشرہ ذی الحجہ یعنی ذی الحجہ کے ابتدائی نو دونوں کے روزے، سوم ہر مہینہ میں تین دنوں کے روزے، چہارم فجر سے پہلے دو رکعتیں فجر کی دو سنتیں۔ (نسائی)
وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يفطر أيام البيض في حضر ولا في سفر . رواه النسائي
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ایام بیض میں بغیر روزہ نہیں رہا کرتے تھے نہ گھر میں اور نہ سفر میں۔ (نسائی)
تشریح
ایام بیض سے مراد چاندنی راتوں کے دن ہیں یعنی قمری مہینوں کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ لہٰذا ایام بیض میں بیض سفید روشن، لیالی یعنی ان راتوں کی صفت ہے جن کے دنوں کو ایام بیض کہا جاتا ہے ان راتوں کو بیض اس لئے کہتے ہیں کہ ان راتوں میں چاندی اول سے آخر تک رہتی ہے گویا پوری رات روشن و چمکدار رہتی ہے یا پھر کہا جائے گا کہ بیض ایام ہی یعنی دنوں کی صفت ہے اور ان دنوں کو بیض اس لئے کہتے ہیں کہ ان ایام کے روزے گناہوں کی تاریکی کو دور کرتے ہیں اور قلوب کو روشن و مجلیٰ کرتے ہیں یا یہ دن ایام بیض اس لئے کہلاتے ہیں کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تو ان کا تمام بدن سیاہ ہوگیا تھا جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان دنوں میں تین روزے رکھو چناچہ انہوں نے تیرہویں کو روزہ رکھا تو ان کا تہائی بدن سفید اور روشن ہوگیا، چودہویں کو روزہ رکھا تو دو تہائی بدن سفید و روشن ہوگیا اور جب پندرہویں کو روزہ رکھا تو تمام بدن سفید روشن ہوگیا۔
ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے کی ترتیب
اس موقع پر یہ بات جان لینی چاہئے کہ وہ تین روزے جو ہر مہینہ میں رکھنے مسنون ہیں بارہ طرح سے منقول ہیں ایک تو غیر معین کہ پورے مہینہ میں جب چاہے تین روزے رکھ لے، دوسرے یہ کہ مہینہ کے ابتدائی تین دنوں میں یعنی پہلی تاریخ سے تیسری تاریخ تک تیسرے یہ کہ مہینہ کے کسی بھی سنیچر، اتوار، پیر کے دن، چوتھے یہ کہ مہینہ کے کسی بھی منگل، بدھ، جمعرت کے دن، پانچویں یہ کہ ایام بیض یعنی تیرہیوں، چودہویں، پندرہویں تاریخ کو چھٹے یہ کہ ان روزوں میں پہلا روزہ پیر کے دن اور دو منگل اور بدھ کے دن، ساتویں یہ کہ ان روزوں میں پہلا روزہ جمعرات کے دن ہو اور دو روزے جمعہ اور ہفتہ کے دن آٹھویں یہ کہ پہلا روزہ نوچندا پیر کو اور دو روزے دو جمع راتوں کو، نویں ایک نو چندی جمعرات کو اور دو دو شن بےکو، دسویں پیر اور جمعرات اور پھر اگلے ہفتے کا پیر، گیارہویں ہر عشرہ میں ایک روزہ، بارہویں مہینہ کے آخری دنوں میں تین روزے۔ یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ بہتر اور اولیٰ یہی ہے کہ ایام بیض یعنی تیرہویں چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو یہ روزے رکھے جائیں ویسے اختیار ہے کہ جب بھی اور جس طرح بھی یہ روزے رکھے جائیں ثواب بہر صورت حاصل ہوگا۔ ایک بات اور پورے سال میں مسنون روزوں کی تعداد اکیاون ہے تینتیس روزے تو یہی ہیں یعنی بحساب تین روزے فی مہینہ نو روزے ذی الحجہ کے مہینہ میں پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک، ایک دن یوم عاشورہ کا ایک روزہ عاشورہ سے ایک دن پہلے ایک دن بعد کا ایک روزہ شعبان کی پندرہویں تاریخ کا اور چھ روزے شوال کے جو شش عید کے روزے کہلاتے ہیں۔